بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ سبأ — Surah Saba
آیت نمبر 4
کل آیات: 54
قرآن کریم سبأ آیت 4
آیت نمبر: 4 — سورۃ سبأ islamicurdubooks.com ↗
لِّیَجۡزِیَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۴﴾
اور یہ قیامت اس لئے آئے گی کہ جزا دے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزق کریم
تاکہ وه ایمان والوں اور نیکوکاروں کو بھلائی عطا فرمائے، یہی لوگ ہیں جن کے لئے مغفرت اور عزت کی روزی ہے
تاکہ صلہ دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے یہ ہیں جن کے لیے بخشش ہے اور عزت کی روزی
(اور قیامت اس لئے آئے گی) تاکہ خدا ان لوگوں کو جزا دے جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے یہی وہ (خوش قسمت) لوگ ہیں جن کیلئے بخشش اور باعزت رزق ہے۔
تاکہ وہ ان لوگوں کو بدلہ دے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے سراسر بخشش اور باعزت رزق ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قیامت آ کر رہے گی ٭٭

پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھا کر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورۃ یونس میں «وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ» ۱؎ [10-يونس:53] ‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہے؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقیناً حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کر سکتے ‘ دوسری آیت یہی۔ تیسری آیت سورۃ التغابن میں «زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] ‏‏‏‏ یعنی ’ کفار کا خیال ہے کہ وہ قیامت کے دن اٹھائے نہ جائیں گے۔ تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ‘

’ پھر اپنے اعمال کی خبر دیئے جاؤ گے اور یہ تو اللہ پر بالکل ہی آسان ہے۔ ‘ پس یہاں بھی کافروں کا انکار قیامت کا ذکر کر کے اپنے نبی کو ان کے بارے قسمیہ بتا کر پھر اس کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو عالم الغیب ہے جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں سب اس کے علم میں ہے۔ گو ہڈیاں سڑ گل جائیں ان کے ریزے متفرق ہو جائیں لیکن وہ کہاں ہیں؟ کتنے ہیں؟ سب وہ جانتا ہے وہ ان سب کو جمع کرنے پر قادر ہے۔ جیسے کہ پہلے انہیں پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اور تمام چیزیں اس کے پاس اس کی کتاب میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ پھر قیامت کے آنے کی حکمت بیان فرمائی کہ ایمان والوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ ملے گا۔ وہ مغفرت اور رزق کریم سے نوازے جائیں اور جنہوں نے اللہ کی باتوں سے ضد کی، رسولوں کی نہ مانی انہیں بدترین اور سخت سزائیں ہوں۔ نیک کار مومن جزا اور بدکار سزا پائیں گے۔ جیسے فرمایا جہنمی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی کامیاب اور مقصد پانے والے ہیں۔ ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ‏‏‏‏، یعنی ’ مومن اور مفسد متقی اور فاجر برابر نہیں۔ ‘

پھر قیامت کی ایک اور حکمت بیان فرمائی کہ ایماندار بھی قیامت کے دن جب نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو وہ علم الیقین سے عین الیقین حاصل کر لیں گے اور اس وقت کہہ اٹھیں گے کہ ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ اور اس وقت کہا جائے گا کہ یہ ہے جس کا وعدہ رحمان نے دیا تھا۔ اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا۔ اللہ نے تو لکھ دیا تھا کہ تم قیامت تک رہو گے تو اب قیامت کا دن آ چکا ہے۔ وہ اللہ عزیز ہے یعنی بلند جناب والا بڑی سرکار والا ہے۔ بہت عزت والا ہے پورے غلبے والا ہے نہ اس پر کسی کا بس نہ کسی کا زور۔ ہر چیز اس کے سامنے پست و عاجز۔ وہ قابل تعریف ہے اپنے اقوال و افعال شرع و فعل میں۔ ان تمام میں اس کی ساری مخلوق اس کی ثنا خواں ہے۔ «جل و علا» ۔

📖 احسن البیان

4۔ 1 یہ وقوع قیامت کی علت ہے یعنی اس لیے برپا ہوگی اور تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ اس لیے دوبارہ زندہ فرمائے گا کہ وہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا عطا فرمائے کیونکہ جزا کے لیے ہی اس نے یہ دن رکھا ہے اگر یہ یوم جزا نہ ہو تو پھر اس کا مطلب یہ ہوگا کہ نیک و بد دونوں یکساں ہیں اور یہ بات عدل وانصاف کے قطعا منافی اور بندوں بالخصوص نیکوں پر ظلم ہوگا (وَمَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّـلْعَبِيْدِ) 41۔ فصلت:46)

📖 القرآن الکریم

(آیت 4){ لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ …:} ان آیات میں قیامت کا مقصد اور اس کی حکمت بیان کی گئی ہے، یعنی قیامت اس لیے برپا ہو گی کہ اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح والوں کو ان کی جزا دے، کیونکہ دنیا کی محدود مدت میں نہ نیکوں کو ان کی پوری جزا ملتی ہے، نہ بدوں کو ان کی پوری سزا۔ اب اگر جزا و سزا کا کوئی دن ہی نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ نیک و بد یکساں ہیں، جب کہ یہ بات عقل کے خلاف ہے۔ دیکھیے سورۂ ص (۲۸)، سجدہ (۱۸ تا ۲۰) اور حشر (۲۰) اور اللہ تعالیٰ کے عدل کے بھی خلاف ہے۔ (دیکھیے انبیاء: ۴۷) بلکہ یہ ان لوگوں پر ظلم ہو گا جن پر دنیا میں ظلم ہوتا رہا، جب کہ اللہ تعالیٰ بندوں پر ذرہ برابر ظلم کا روا دار نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ }» [ حٰمٓ السجدۃ: ۴۶ ] ”اور تیرا رب اپنے بندوں پر ہرگز کوئی ظلم کرنے والا نہیں۔“ بھلا وہ کون سا مالک ہے جس کے غلاموں میں سے کوئی اس کا حکم مانے، کوئی نہ مانے اور وہ سب سے یکساں سلوک کرے، اور اس کے غلاموں میں سے بعض بعض پر ظلم کرتا رہے اور وہ ظالم سے باز پرس ہی نہ کرے، پھر جب انسان اپنے غلاموں میں یہ برداشت نہیں کرتا تو اس بادشاہوں کے بادشاہ، ملک الملوک کے متعلق یہ گمان کیسے کیا جا سکتا ہے؟ {” مَغْفِرَةٌ “} پر تنوین تعظیم کی ہے اور{ ” رِزْقٌ كَرِيْمٌ “} سے مراد جنت کی نعمتیں ہیں۔ دیکھیے سورۂ سجدہ (۱۷)۔
← پچھلی آیت (3) پوری سورۃ اگلی آیت (5) →