بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ سبأ — Surah Saba
آیت نمبر 39
کل آیات: 54
قرآن کریم سبأ آیت 39
آیت نمبر: 39 — سورۃ سبأ islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ اِنَّ رَبِّیۡ یَبۡسُطُ الرِّزۡقَ لِمَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ وَ یَقۡدِرُ لَہٗ ؕ وَ مَاۤ اَنۡفَقۡتُمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ فَہُوَ یُخۡلِفُہٗ ۚ وَ ہُوَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿۳۹﴾
اے نبیؐ، ان سے کہو، "میرا رب اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے جو کچھ تم خرچ کر دیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے
کہہ دیجیئے! کہ میرا رب اپنے بندوں میں جس کے لئے چاہے روزی کشاده کرتا ہے اور جس کے لئے چاہے تنگ کردیتا ہے، تم جو کچھ بھی اللہ کی راه میں خرچ کرو گے اللہ اس کا (پورا پورا) بدلہ دے گا اور وه سب سے بہتر روزی دینے واﻻ ہے
تم فرماؤ بیشک میرا رب رزق وسیع فرماتا ہے اپنے بندوں میں جس کے لیے چاہے اور تنگی فرماتا ہے جس کے لیے چاہے اور جو چیز تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو وہ اس کے بدلے اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا
آپ(ص) کہہ دیجئے! میرا پروردگار اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کر دیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے اور جو کچھ تم (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ عطا کرتا ہے اور وہ بہترین روزی دینے والا ہے۔
کہہ دے بے شک میرا رب رزق فراخ کرتاہے اپنے بندوں میں سے جس کے لیے چاہتا ہے اور اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے اور تم جو بھی چیز خرچ کرتے ہو تو وہ اس کی جگہ اور دیتا ہے اور وہ سب رزق دینے والوں سے بہتر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ روزی کشادہ و تنگ کرتا ہے ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کاملہ کے مطابق جسے چاہے بہت ساری دنیا دیتا ہے اور جسے چاہے بہت کم دیتا ہے کوئی سکھ چین میں ہے کوئی دکھ درد میں مبتلا ہے۔ رب کی حکمتوں کو کوئی نہیں جان سکتا اس کی مصلحتیں وہی خوب جانتا ہے۔ جیسے فرمایا «اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:21] ‏‏‏‏ ’ تو دیکھ لے کہ ہم نے کس طرح ایک کو دوسرے پر فضیلت دے رکھی ہے اور البتہ آخرت درجوں اور فضیلتوں میں بہت بڑی ہے۔ ‘ یعنی جس طرح فقر و غنا کے ساتھ درجوں کی اونچ نیچ یہاں ہے۔ اسی طرح آخرت میں بھی اعمال کے مطابق درجات و درکات ہوں گے۔ نیک لوگ تو جنتوں کے بلند و بالا خانوں میں اور بد لوگ جہنم کے نیچے کے طبقے کے جیل خانوں میں۔ { دنیا میں سب سے بہتر شخص رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق وہ ہے جو سچا مسلمان ہو اور بقدر کفایت روزی پاتا ہو اور اللہ کی طرف سے قناعت بھی دیا گیا ہو۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1054] ‏‏‏‏

اللہ کے حکم یا اس کی اباحت کے ماتحت تم جو کچھ خرچ کرو گے اس کا بدلہ وہ تمہیں دونوں جہان میں دے گا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { ہر صبح ایک فرشتہ دعا کرتا ہے کہ اللہ بخیل کے مال کو تلف اور برباد کر۔ دوسرا دعا کرتا ہے اللہ خرچ کرنے والے کو نیک بدلہ دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1442] ‏‏‏‏ { بلال رضی اللہ عنہ سے ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلال خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے تنگی کا خیال بھی نہ کر۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تمہارے اس زمانے کے بعد ایسا زمانہ آ رہا ہے جو کاٹ کھانے والا ہو گا۔ مال ہو گا لیکن مالدار نے گویا اپنے مال پر دانت گاڑے ہوئے ہوں گے کہ کہیں خرچ نہ ہو جائے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت میں «وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَةٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُهٗ وَمَا للظّٰلِمِيْنَ مِنْ اَنْصَارٍ» الخ، کی تلاوت فرمائی۔ } ۱؎ [المیزان:6983:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے بدترین لوگ وہ ہیں جو بے بس اور مضطر لوگوں کی چیزیں کم داموں خریدتے پھریں۔ یاد رکھو ایسی بیع حرام ہے، مضطر کی بیع حرام ہے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے رسوا کرے۔ اگر تجھ سے ہو سکے تو دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک اور بھلائی کر ورنہ اس کی ہلاکت کو تو نہ بڑھا (‏‏‏‏ابو یعلیٰ موصلی)‏‏‏‏‏‏‏‏ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور ضعیف بھی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہیں اس آیت کا غلط مطلب نہ لے لینا۔ اپنے مال کو خرچ کرنے میں میانہ روی کرنا۔ روزیاں بٹ چکی ہیں، رزق مقسوم ہے۔

📖 احسن البیان

39۔ 1 پس وہ کبھی کافر کو بھی خوب مال دیتا ہے، لیکن کس لئے؟ خلاف معمول کے طور پر، اور کبھی مومن کو تنگ دست رکھتا ہے، کس لئے؟ اس کے اجر وثواب میں اضافے کے لئے۔ اسلئے مال کی فروانی اس کی رضا کی اور اس کی کمی، اس کی نارضگی کی دلیل نہیں ہے۔ یہ تکرار بطور تاکید کے ہے۔ 39۔ 2 اخلاف کے معنی ہیں، عوض اور بدلہ دینا، یہ بدلہ دنیا میں بھی ممکن ہے اور آخرت میں تو یقینی ہے حدیث قدسی میں آتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انفق انفق علیک۔ تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ 39۔ 3 کیونکہ ایک بندہ اگر کسی کو دیتا ہے تو اس کا یہ دینا اللہ کی توفیق وتیسر اور اس کی تقدیر سے ہی ہے حقیقت میں دینے والا اس کار ازق نہیں ہے جس طرح بچوں کا باپ بچوں کا یا بادشاہ اپنے لشکر کا کفیل کہلاتا ہے حالانکہ امیر اور مامور بچے اور بڑے سب کا رازق حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے جو سب کا خالق ہے اس لیے جو شخص اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے کسی کو کچھ دیتا ہے تو وہ ایسے مال میں تصرف کرتا ہے جو اللہ ہی نے اسے دیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 39) ➊ {قُلْ اِنَّ رَبِّيْ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ يَقْدِرُ لَهٗ:} یہ الفاظ دوبارہ لانے کی وجہ یہ ہے کہ دونوں جگہ مقصد مختلف ہے۔ پہلی آیت میں کفار کی بات کا رد مقصود ہے اور یہاں اہلِ ایمان کو خرچ کرنے کی ترغیب مقصود ہے۔ اس کے علاوہ یہاں {” يَقْدِرُ “} کے ساتھ {” لَهٗ “} کا اضافہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے فراخ کر دیتا ہے اور اسی کا رزق جب چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ اس لیے کوئی شخص اگر یہ سمجھ کر بخل کرے اور اللہ کے راستے میں خرچ نہ کرے کہ خرچ کرنے سے میرا رزق تنگ ہو جائے گا تو یہ اس کی بھول ہے، رزق کی تنگی یا فراخی کا تعلق اس کے بخل یا سخاوت سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیّت سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: [ أَنْفِقْ بِلاَلُ! وَلاَ تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا] [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 160/6، ح: ۲۶۶۱۔ مسند البزار: 204/4، ح: ۱۳۶۶ ] ”بلال! خرچ کر اور عرش والے کی طرف سے فقیری سے مت ڈر۔“ ➋ { ” يَقْدِرُ لَهٗ “} (اس کے لیے تنگ کر دیتا ہے) میں {”عَلَيْهِ“} کے بجائے {” لَهٗ “} کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کا رزق تنگ بھی اس کے فائدے ہی کے لیے کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ پر قناعت کرنا اور اس پر راضی ہو جانا بہت بڑی سعادت ہے اور اس میں حساب بھی کم ہے۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَ رُزِقَ كَفَافًا وَ قَنَّعَهُ اللّٰهُ بِمَا آتَاهُ ] [ مسلم، الزکاۃ، باب في الکفاف والقناعۃ: ۱۰۵۴ ] ”یقینا وہ شخص کامیاب ہو گیا جو اسلام لایا اور اسے گزارے کے مطابق رزق دیا گیا اور اللہ نے اسے جو کچھ دیا اس پر قانع کر دیا۔“ ➌ {وَ مَاۤ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهٗ:} یعنی اللہ کی راہ میں اس کے حکم کے مطابق زیادہ سے زیادہ یا کم سے کم جو چیز بھی خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ دنیا میں اور عطا فرمائے گا اور آخرت کے اجر کا تو کوئی اندازہ نہیں کر سکتا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْ يَوْمٍ يُصْبِحُ الْعِبَادُ فِيْهِ إِلَّا مَلَكَانِ يَنْزِلَانِ فَيَقُوْلُ أَحَدُهُمَا اللّٰهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَ يَقُوْلُ الْآخَرُ اللّٰهُمَّ أَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا ] [ بخاري، الزکاۃ، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «فأما من أعطی …» : ۱۴۴۲ ] ”جس دن بھی بندے صبح کرتے ہیں، اس میں دو فرشتے اترتے ہیں، ان میں سے ایک کہتا ہے، اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ اور دے اور دوسرا کہتا ہے، اے اللہ! روک کر رکھنے والے کے مال کو تباہ کر۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: [ يَا ابْنَ آدَمَ! أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ، وَ قَالَ يَمِيْنُ اللّٰهِ مَلْأَی سَحَّاءُ لَا يَغِيْضُهَا شَيْءٌ، اللَّيْلَ وَ النَّهَارَ ] [ مسلم، الزکاۃ، باب الحث علی النفقۃ…: ۹۹۳۔ بخاري: ۴۶۸۴ ] ”اے آدم کے بیٹے! تو خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“ اور فرمایا: ”اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے، بہت برسنے والا ہے، دن رات خرچ کرنے سے اس میں کوئی چیز کمی نہیں لاتی۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَّالٍ وَ مَا زَادَ اللّٰهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلّٰهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللّٰهُ ] [ مسلم، البر و الصلۃ، باب استحباب العفو والتواضع: ۲۵۸۸ ] ”کوئی صدقہ مال میں کمی نہیں لاتا اور معاف کرنے سے اللہ تعالیٰ بندے کی عزت ہی میں اضافہ فرماتا ہے اور اللہ کے لیے کوئی نیچا نہیں ہوتا، مگر اللہ تعالیٰ اسے اونچا کر دیتا ہے۔“ ➍ { وَ هُوَ خَيْرُ الرّٰزِقِيْنَ:} اس لیے کہ دوسرے تمام دینے والے اسی کے دیے میں سے دیتے ہیں، وہ اکیلا ہے جو ہر چیز اپنے پاس سے دیتا ہے۔
← پچھلی آیت (38) پوری سورۃ اگلی آیت (40) →