بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ سبأ — Surah Saba
آیت نمبر 49
کل آیات: 54
قرآن کریم سبأ آیت 49
آیت نمبر: 49 — سورۃ سبأ islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ مَا یُبۡدِئُ الۡبَاطِلُ وَ مَا یُعِیۡدُ ﴿۴۹﴾
کہو "حق آگیا ہے اور اب باطل کے کیے کچھ نہیں ہو سکتا"
کہہ دیجیئے کہ حق آچکا باطل نہ تو پہلے کچھ کرسکا ہے اور نہ کرسکے گا
تم فرماؤ حق آیا اور باطل نہ پہل کرے اور نہ پھر کر آئے
آپ(ص) کہہ دیجئے! حق آگیا ہے اور باطل نہ کچھ ایجاد کر سکتا ہے اور نہ دوبارہ پلٹا سکتا ہے (بالکل مٹ گیا ہے)۔
کہہ دے حق آگیا اور باطل نہ پہلی دفعہ کچھ کرتا ہے اور نہ دوبارہ کرتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین کو دعوت اصلاح ٭٭

حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے۔ میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت «رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» ۱؎ [40-غافر:15] ‏‏‏‏ الخ، ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے جبرائیل علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے ‘ وہ حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آ چکی ہے۔ باطل پراگندہ بودار ہو کر برباد ہو گیا۔ جیسے فرمان ہے «بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:18] ‏‏‏‏ ’ ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ۱؎ [17-الإسراء:81] ‏‏‏‏ ’ حق آ گیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4720] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏بخاری، مسلم) باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہو گیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کر سکے نہ مردے کو زندہ کر سکے نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں وہی سراسر حق ہے اور ہدایت و بیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ سیدنا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب مجیب ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

49۔ 1 حق سے مراد قرآن اور باطل سے مراد کفر و شرک ہے۔ مطلب ہے اللہ کی طرف سے اللہ کا دین اور اس کا قرآن آگیا ہے۔ جس سے باطل ختم ہوگیا ہے، اب وہ سر اٹھانے کے قابل نہیں رہا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 49) ➊ { قُلْ جَآءَ الْحَقُّ:} یہ چوتھی تلقین ہے کہ انھیں واضح کر دیں کہ ان کا باطل بہت جلد ختم ہو جائے گا اور اس کا نام و نشان تک نہیں رہے گا۔ دوسری جگہ فرمایا: «وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا» [ بني إسرائیل: ۸۱ ] ”اور کہہ دے حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل ہمیشہ سے مٹنے والا تھا۔“ ➋ { وَ مَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا يُعِيْدُ: ”أَبْدَأَ يُبْدِءُ إِبْدَاءً“} (افعال) کوئی کام شروع میں کرنا اور اعادہ کا معنی ہے اسے دوبارہ کرنا۔ ہر زندہ شخص ان دونوں سے خالی نہیں ہوتا، یا وہ کوئی کام ابتداءً کرتا ہے یا دوبارہ، البتہ مُردہ ان میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ یہ ایک مقولہ ہے جو عرب کسی شخص یا قوم کے نیست و نابود ہونے پر استعمال کرتے ہیں: {”إِنَّهُ مَا يُبْدِئُ وَمَا يُعِيْدُ“} یعنی وہ بالکل مٹ گیا، اس کا نشان بھی باقی نہ رہا۔ ➌ اس آیت کے نزول کے تھوڑا عرصہ بعد ہی یہ پیش گوئی سچی ہو گئی۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، تو آپ ہر بت کو ایک لکڑی کے ساتھ، جو آپ کے ہاتھ میں تھی، ٹھوکر مارتے جاتے اور کہتے تھے: «جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا» ‏‏‏‏ اور «جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا يُعِيْدُ» ‏‏‏‏ [ بخاري، التفسیر، باب: «و قل جاء الحق و زھق الباطل» ‏‏‏‏: ۴۷۲۰ ]
← پچھلی آیت (48) پوری سورۃ اگلی آیت (50) →