بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ سبأ — Surah Saba
آیت نمبر 50
کل آیات: 54
قرآن کریم سبأ آیت 50
آیت نمبر: 50 — سورۃ سبأ islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ اِنۡ ضَلَلۡتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰی نَفۡسِیۡ ۚ وَ اِنِ اہۡتَدَیۡتُ فَبِمَا یُوۡحِیۡۤ اِلَیَّ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ قَرِیۡبٌ ﴿۵۰﴾
کہو "اگر میں گمراہ ہو گیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بنا پر ہوں جو میرا رب میرے اوپر نازل کرتا ہے، وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے"
کہہ دیجیئے کہ اگر میں بہک جاؤں تو میرے بہکنے (کا وبال) مجھ پر ہی ہے اور اگر میں راه ہدایت پر ہوں تو بہ سبب اس وحی کے جو میرا پروردگار مجھے کرتا ہے وه بڑا ہی سننے واﻻ اور بہت ہی قریب ہے
تم فرماؤ اگر میں بہکا تو اپنے ہی برے کو بہکا اور اگر میں نے راہ پائی تو اس کے سبب جو میرا رب میری طرف وحی فرماتا ہے بیشک وہ سننے والا نزدیک ہے
کہہ دیجئے! اگر (تمہارے خیال کے مطابق) میں گمراہ ہوگیا ہوں تو اس کا وِزر و وبال میری جان پر ہے اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں تو یہ اس وحی کا ثمرہ ہے جو میرا پروردگار میری طرف بھیجتا ہے بے شک وہ بڑا سننے والا بالکل قریب ہے۔
کہہ دے اگر میں گمراہ ہوا تو اپنی جان ہی پر گمراہ ہوں گا اور اگر میں نے ہدایت پائی تو اسی کی وجہ سے جو میرا رب میری طرف وحی بھیجتا ہے، یقینا وہ سب کچھ سننے والا، قریب ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین کو دعوت اصلاح ٭٭

حکم ہو رہا ہے کہ مشرکوں سے فرما دیجئے کہ میں جو تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں تمہیں احکام دینی پہنچتا رہا ہوں وعظ و نصیحت کرتا ہوں اس پر میں تم سے کسی بدلے کا طالب نہیں ہوں۔ بدلہ تو اللہ ہی دے گا جو تمام چیزوں کی حقیقت سے مطلع ہے۔ میری تمہاری حالت اس پر خوب روشن ہے۔ پھر جو فرمایا اسی طرح کی آیت «رَفِيْعُ الدَّرَجٰتِ ذو الْعَرْشِ يُلْقِي الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِهٖ عَلٰي مَنْ يَّشَاءُ مِنْ عِبَادِهٖ لِيُنْذِرَ يَوْمَ التَّلَاقِ» ۱؎ [40-غافر:15] ‏‏‏‏ الخ، ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ اپنے فرمان سے جبرائیل علیہ السلام کو جس پر چاہتا ہے اپنی وحی کے ساتھ بھیجتا ہے ‘ وہ حق کے ساتھ فرشتہ اتارتا ہے۔ وہ علام الغیوب ہے اس پر آسمان و زمین کی کوئی چیز مخفی نہیں۔ اللہ کی طرف سے حق اور مبارک شریعت آ چکی ہے۔ باطل پراگندہ بودار ہو کر برباد ہو گیا۔ جیسے فرمان ہے «بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَي الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهٗ فَاِذَا هُوَ زَاهِقٌ وَلَـكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:18] ‏‏‏‏ ’ ہم باطل پر حق کو نازل فرما کر باطل کے ٹکڑے اڑا دیتے ہیں اور وہ چکنا چور ہو جاتا ہے۔ ‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے دن جب بیت اللہ میں داخل ہوئے تو وہاں کے بتوں کو اپنی کمان کی لکڑی سے گراتے جاتے تھے اور زبان سے فرماتے جاتے تھے «وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» ۱؎ [17-الإسراء:81] ‏‏‏‏ ’ حق آ گیا باطل مٹ گیا وہ تھا ہی مٹنے والا۔ ‘ ۱؎ [صحیح بخاری:4720] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏بخاری، مسلم) باطل کا اور ناحق کا دباؤ سب ختم ہو گیا۔ بعض مفسرین سے مروی ہے کہ مراد یہاں باطل سے ابلیس ہے۔ یعنی نہ اس نے کسی کو پہلے پیدا کیا نہ آئندہ کر سکے نہ مردے کو زندہ کر سکے نہ اسے کوئی اور ایسی قدرت حاصل ہے بات تو یہ بھی سچی ہے لیکن یہاں یہ مراد نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر جو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ خیر سب کی سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اللہ کی بھیجی ہوئی وحی میں وہی سراسر حق ہے اور ہدایت و بیان و رشد ہے۔ گمراہ ہونے والے آپ ہی بگڑ رہے ہیں اور اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔ سیدنا سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے جب کہ مفوضہ کا مسئلہ دریافت کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا اسے میں اپنی رائے سے بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو اللہ کی طرف سے ہے۔ اور اگر غلط ہو تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہے۔ وہ اللہ اپنے بندوں کی باتوں کا سننے والا ہے اور قریب ہے۔ پکارنے والے کی ہر پکار کو ہر وقت سنتا اور قبول فرماتا ہے۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے فرمایا تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے۔ جسے تم پکار رہے ہو وہ سمیع و قریب مجیب ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2992] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

50۔ 1 یعنی بھلائی سب اللہ کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ نے جو وحی اور حق مبین نازل فرمایا، اس میں رشدو ہدایت ہے، صحیح راستہ لوگوں کو اس سے ملتا ہے۔ پس جو گمراہ ہوتا ہے، تو اس میں انسان کی اپنی ہی کوتاہی اور ہوائے نفس کا دخل ہوتا ہے۔ اسی لیے اس کا وبال بھی اسی پر ہوگا 50۔ 2 جس طرح حدیث میں فرمایا ' تم بہری اور غائب ذات کو نہیں پکار رہے ہو ' بلکہ اس کو پکار رہے ہو جو سننے والا، قریب اور قبول کرنے والا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 50) ➊ { قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِيْ:} یہ پانچویں تلقین ہے کہ آپ انھیں سمجھانے کے لیے کہیں کہ اگر تمھارے بتوں کو اور تمھارے آباء کے دین کو چھوڑنے کی وجہ سے میں گمراہ ہو گیا ہوں، جیسا کہ میرے بارے میں تم کہتے پھرتے ہو تو اس گمراہی کا وبال مجھی پر پڑے گا، تم پر اس کی ذمہ داری نہیں اور اگر میں ہدایت یافتہ ہوں، جیسا کہ حقیقت ہے، تو یہ میرا کمال یا خوبی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری راہ نمائی ہے اور میں تمھیں صاف بتا چکا ہوں کہ میں اپنے نفس کی یا کسی اور کی پیروی کرتا ہی نہیں، بلکہ صرف وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف کی جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا يُوْحٰۤى اِلَيَّ مِنْ رَّبِّيْ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۲۰۳ ] ”کہہ دے میں تو اسی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے رب کی جانب سے میری طرف وحی کی جاتی ہے۔“ اس آیت میں یہ ادب بھی سکھایا گیا کہ خامی اور غلطی کی نسبت اپنی طرف کرنی ہے اور ہدایت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف، کیونکہ ساری خیر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ہدایت اور بھلائی صرف اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی اور اس کے بیان کردہ حق میں ہے، پھر جو گمراہ ہوتا ہے وہ اپنے نفس کی وجہ سے گمراہ ہوتا ہے اور جسے ہدایت ملتی ہے اسے اللہ کی طرف سے ملتی ہے، جیساکہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایک مسئلہ پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: [ أَقُوْلُ فِيْهَا بِرَأْيِيْ، فَإِنْ يَّكُ خَطَأً فَمِنِّيْ وَ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَ إِنْ يَّكُ صَوَابًا، فَمِنَ اللّٰهِ ] [ مسند أحمد: 279/4، ح: ۱۸۴۸۹ ] ”میں اس کے بارے میں اپنی رائے سے کہتا ہوں، اگر وہ خطا ہوئی تو میری طرف سے اور شیطان کی طرف سے ہو گی اور اگر درست ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔“ ➋ {اِنَّهٗ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ:} ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، جب ہم کسی وادی کی بلندی پر پہنچتے تو ہم ”لاالٰہ الا اللہ“ اور ”اللہ اکبر“ کہتے اور ہماری آوازیں بلند ہو جاتیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ! ارْبَعُوْا عَلٰی أَنْفُسِكُمْ، فَإِنَّكُمْ لَا تَدْعُوْنَ أَصَمَّ وَ لَا غَائِبًا، إِنَّهُ مَعَكُمْ، إِنَّهُ سَمِيْعٌ قَرِيْبٌ، تَبَارَكَ اسْمُهُ وَ تَعَالٰی جَدُّهُ ] [ بخاري، الجہاد والسیر، باب ما یکرہ من رفع الصوت في التکبیر: ۲۹۹۲ ] ”لوگو! اپنی جانوں پر رحم کرو، کیونکہ تم نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو نہ غائب کو، وہ تو تمھارے ساتھ ہے، بے شک وہ سب کچھ سننے والا ہے، قریب ہے۔ اس کا نام بہت برکت والا اور اس کی شان بہت بلند ہے۔“
← پچھلی آیت (49) پوری سورۃ اگلی آیت (51) →