بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ سبأ — Surah Saba
آیت نمبر 6
کل آیات: 54
قرآن کریم سبأ آیت 6
آیت نمبر: 6 — سورۃ سبأ islamicurdubooks.com ↗
وَ یَرَی الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ہُوَ الۡحَقَّ ۙ وَ یَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطِ الۡعَزِیۡزِ الۡحَمِیۡدِ ﴿۶﴾
اے نبیؐ، علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اور خدائے عزیز و حمید کا راستہ دکھاتا ہے
اور جنہیں علم ہے وه دیکھ لیں گے کہ جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے وه (سراسر) حق ہے اور اللہ غالب خوبیوں والے کی راه کی رہبری کرتا ہے
اور جنہیں علم والا وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کے پاس سے اترا وہی حق ہے اور عزت والے سب خوبیوں سراہے کی راہ بتاتا ہے،
اور جنہیں علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں وہ کچھ (قرآن) آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے وہ حق ہے اور وہ غالب اور لائقِ ستائش (خدا) کے راستہ کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔
اور وہ لوگ جنھیں علم دیا گیا ہے، دیکھتے ہیں کہ جو تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے وہی حق ہے اور وہ اس کا راستہ دکھاتا ہے جو سب پر غالب ہے، تمام خوبیوں والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قیامت آ کر رہے گی ٭٭

پورے قرآن میں تین آیتیں ہیں جہاں قیامت کے آنے پر قسم کھا کر بیان فرمایا گیا ہے۔ ایک تو سورۃ یونس میں «وَيَسْتَنْۢبِـــُٔـوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ڼ قُلْ اِيْ وَرَبِّيْٓ اِنَّهٗ لَحَقٌّ ې وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ» ۱؎ [10-يونس:53] ‏‏‏‏ ’ لوگ تجھ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا قیامت کا آنا حق ہے؟ تو کہہ دے کہ ہاں ہاں میرے رب کی قسم وہ یقیناً حق ہی ہے اور تم اللہ کو مغلوب نہیں کر سکتے ‘ دوسری آیت یہی۔ تیسری آیت سورۃ التغابن میں «زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا ۭ قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ ۭ وَذٰلِكَ عَلَي اللّٰهِ يَسِيْرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] ‏‏‏‏ یعنی ’ کفار کا خیال ہے کہ وہ قیامت کے دن اٹھائے نہ جائیں گے۔ تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے ‘

’ پھر اپنے اعمال کی خبر دیئے جاؤ گے اور یہ تو اللہ پر بالکل ہی آسان ہے۔ ‘ پس یہاں بھی کافروں کا انکار قیامت کا ذکر کر کے اپنے نبی کو ان کے بارے قسمیہ بتا کر پھر اس کی مزید تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وہ اللہ جو عالم الغیب ہے جس سے کوئی ذرہ پوشیدہ نہیں سب اس کے علم میں ہے۔ گو ہڈیاں سڑ گل جائیں ان کے ریزے متفرق ہو جائیں لیکن وہ کہاں ہیں؟ کتنے ہیں؟ سب وہ جانتا ہے وہ ان سب کو جمع کرنے پر قادر ہے۔ جیسے کہ پہلے انہیں پیدا کیا۔ وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ اور تمام چیزیں اس کے پاس اس کی کتاب میں بھی لکھی ہوئی ہیں۔ پھر قیامت کے آنے کی حکمت بیان فرمائی کہ ایمان والوں کو ان کی نیکیوں کا بدلہ ملے گا۔ وہ مغفرت اور رزق کریم سے نوازے جائیں اور جنہوں نے اللہ کی باتوں سے ضد کی، رسولوں کی نہ مانی انہیں بدترین اور سخت سزائیں ہوں۔ نیک کار مومن جزا اور بدکار سزا پائیں گے۔ جیسے فرمایا جہنمی اور جنتی برابر نہیں۔ جنتی کامیاب اور مقصد پانے والے ہیں۔ ۱؎ [59-الحشر:20] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «اَمْ نَجْعَلُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِيْنَ فِي الْاَرْضِ ۡ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِيْنَ كَالْفُجَّارِ» ۱؎ [38-ص:28] ‏‏‏‏، یعنی ’ مومن اور مفسد متقی اور فاجر برابر نہیں۔ ‘

پھر قیامت کی ایک اور حکمت بیان فرمائی کہ ایماندار بھی قیامت کے دن جب نیکوں کو جزا اور بدوں کو سزا ہوتے ہوئے دیکھیں گے تو وہ علم الیقین سے عین الیقین حاصل کر لیں گے اور اس وقت کہہ اٹھیں گے کہ ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس حق لائے تھے۔ اور اس وقت کہا جائے گا کہ یہ ہے جس کا وعدہ رحمان نے دیا تھا۔ اور رسولوں نے سچ سچ کہہ دیا تھا۔ اللہ نے تو لکھ دیا تھا کہ تم قیامت تک رہو گے تو اب قیامت کا دن آ چکا ہے۔ وہ اللہ عزیز ہے یعنی بلند جناب والا بڑی سرکار والا ہے۔ بہت عزت والا ہے پورے غلبے والا ہے نہ اس پر کسی کا بس نہ کسی کا زور۔ ہر چیز اس کے سامنے پست و عاجز۔ وہ قابل تعریف ہے اپنے اقوال و افعال شرع و فعل میں۔ ان تمام میں اس کی ساری مخلوق اس کی ثنا خواں ہے۔ «جل و علا» ۔

📖 احسن البیان

6۔ 1 یہاں رؤیت سے مراد رؤیت قلبی یعنی علم یقینی ہے، محض رؤیت بصری (آنکھ کا دیکھنا) نہیں اہل علم سے مراد صحابہ کرام یا مومنین ہیں۔ یعنی اہل ایمان اس بات کو جانتے اور اس پر یقین رکھتے ہیں۔ 6 ۔ 2 یہ عطف ہے حق پر، یعنی وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اس راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو اس اللہ کا راستہ ہے جو کائنات میں سب پر غالب ہے اور اپنی مخلوق میں محمود (قابل تعریف) ہے اور وہ راستہ کیا ہے؟ توحید کا راستہ جس کی طرف تمام انبیا علیھم السلام اپنی اپنی قوموں کو دعوت دیتے رہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 6) ➊ {وَ يَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ …: ” يَرَى “} میں رُؤیت (دیکھنے) سے مراد یہاں دل کے ساتھ دیکھنا یعنی جاننا ہے۔{” يَرَى الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ “} کا پہلا مفعول {” الَّذِيْۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ “} ہے اور دوسرا مفعول {” الْحَقَّ “} ہے۔ {” هُوَ “} ضمیر فصل ہے۔ خبر {” الْحَقَّ “} پر الف لام کی وجہ سے اور ضمیر فصل کی وجہ سے کلام میں حصر اور تاکید پیدا ہو گئی، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”وہی حق ہے۔“ {” الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ “} سے مراد سب سے پہلے صحابہ کرام ہیں، پھر تمام مسلمان جو فکرو دانش اور علم نافع سے بہرہ مند ہوئے، یا اہلِ کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائے، جیسے عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ۔ اس آیت اور اس سے اگلی آیت میں رسول، وحی الٰہی اور قیامت کے متعلق اہل علم و دانش کا یقین و ایمان اور کفار کا عقیدہ و اعلان بیان فرمایا ہے۔ چنانچہ فرمایا، جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ تو جانتے اور یقین رکھتے ہیں کہ جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے وہی حق ہے اور وہ اس ذات پاک کا راستہ دکھاتا ہے جو سب پرغالب اور تمام خوبیوں کا مالک ہے۔ کفار اور شیطان لاکھ کوشش کر لیں، وہ اس کے سب پر غالب ہونے اور تمام خوبیوں کا مالک ہونے کے یقین کی وجہ سے اس کے راستے کے سوا کسی اور راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس لیے وہ اس کے بتانے کے مطابق قیامت قائم ہونے پر یقین رکھتے ہیں اور اس کی تیاری کرتے ہیں۔ ➋ بعض مفسرین نے {” وَ يَرَى الَّذِيْنَ “} کا عطف {” لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} پر بیان کیا ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ اسے نیا کلام قرار دیا جائے۔
← پچھلی آیت (5) پوری سورۃ اگلی آیت (7) →