بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ سبأ — Surah Saba
آیت نمبر 37
کل آیات: 54
قرآن کریم سبأ آیت 37
آیت نمبر: 37 — سورۃ سبأ islamicurdubooks.com ↗
وَ مَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُکُمۡ بِالَّتِیۡ تُقَرِّبُکُمۡ عِنۡدَنَا زُلۡفٰۤی اِلَّا مَنۡ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ۫ فَاُولٰٓئِکَ لَہُمۡ جَزَآءُ الضِّعۡفِ بِمَا عَمِلُوۡا وَ ہُمۡ فِی الۡغُرُفٰتِ اٰمِنُوۡنَ ﴿۳۷﴾
یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے عمل کی دہری جزا ہے، اور وہ بلند و بالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے
اور تمہارے مال اور اوﻻد ایسے نہیں کہ تمہیں ہمارے پاس (مرتبوں سے) قریب کردیں ہاں جو ایمان ﻻئیں اور نیک عمل کریں ان کے لئے ان کے اعمال کا دوہرا اجر ہے اور وه نڈر و بےخوف ہو کر باﻻ خانوں میں رہیں گے
اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد اس قابل نہیں کہ تمہیں ہمارے قریب تک پہنچائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیکی کی ان کے لیے دُونا دُوں (کئی گنا) صلہ ان کے عمل کا بدلہ اور وہ بالاخانوں میں امن و امان سے ہیں
اور تمہارے مال اور تمہاری اولاد (کوئی ایسی چیز نہیں ہیں) جو تمہیں ہمارا مقرب بارگاہ بنائیں مگر وہ جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے (اسے ہمارا قرب حاصل ہوگا) ایسے لوگوں کیلئے ان کے عمل کی دوگنی جزا ہے اور وہ بہشت کے اونچے اونچے درجوں میں امن و اطمینان سے رہیں گے۔
اور نہ تمھارے مال ایسے ہیں اور نہ تمھاری اولاد جو تمھیں ہمارے ہاں قرب میں نزدیک کر دیں، مگر جو شخص ایمان لایا اور اس نے نیک عمل کیا تو یہی لوگ ہیں جن کے لیے دو گنا بدلہ ہے، اس کے عوض جو انھوں نے عمل کیا اور وہ بالا خانوں میں بے خوف ہوں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تسلیاں ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور اگلے پیغمبروں کی سی سیرت رکھنے کو فرماتا ہے فرماتا ہے کہ جس بستی میں جو رسول گیا اس کا مقابلہ ہوا۔ بڑے لوگوں نے کفر کیا۔ ہاں غرباء نے تابعداری کی جیسے کہ قوم نوح نے اپنے نبی سے کہا تھا «قَالُـوْٓا اَنُؤْمِنُ لَكَ وَاتَّبَعَكَ الْاَرْذَلُوْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:111] ‏‏‏‏ الخ، ’ ہم تجھ پر کیسے ایمان لائیں؟ تیرے ماننے والے تو سب نیچے درجے کے لوگ ہیں۔ ‘ یہی مضمون دوسری آیت «وَمَا نَرٰىكَ اتَّبَعَكَ اِلَّا الَّذِيْنَ هُمْ اَرَاذِلُـنَا بَادِيَ الرَّاْيِ» ۱؎ [11-هود:27] ‏‏‏‏ الخ، میں ہے قوم صالح کے متکبر لوگ ضعیفوں سے کہتے تھے «اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ قَالُوْٓا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [7-الأعراف:75] ‏‏‏‏ الخ ’ کیا تمہیں صالح کے نبی ہونے کا یقین ہے؟ انہوں نے کہا ہاں ہم تو مومن ہیں۔ تو متکبرین نے صاف کہا کہ ہم نہیں مانتے۔ ‘ اور آیت میں ہے «وَكَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْٓا اَهٰٓؤُلَاءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنْ بَيْنِنَا اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بالشّٰكِرِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:53] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے سے فتنے میں ڈالا تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہم سب میں سے احسان کیا۔ کیا اللہ شکر گزاروں کو جاننے والا نہیں؟ ‘

اور فرمایا ہر بستی میں وہاں کے بڑے لوگ مجرم اور مکار ہوتے ہیں اور فرمان ہے «وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا فَفَسَقُوْا فِيْهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا» ۱؎ [17-الإسراء:16] ‏‏‏‏ الخ، ’ جب کسی بستی کی ہلاکت کا ہم ارادہ کرتے ہیں تو اس کے سرکش لوگوں کو کچھ احکام دیتے ہیں وہ نہیں مانتے پھر ہم انہیں ہلاک کر دیتے ہیں۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ہم نے جس بستی میں کوئی نبی اور رسول بھیجا ہے وہاں کے جاہ و حشمت، شان و شوکت والے رئیسوں، امیروں، سرداروں اور بڑے لوگوں نے جھٹ اپنے کفر کا اعلان کر دیا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { ابورزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دو شخص آپس میں شریک تھے ایک تو سمندر پار چلا گیا، ایک وہیں رہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تو اس نے اپنے ساتھی سے لکھ کر دریافت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا حال ہے؟ اس نے جواب میں لکھا کہ گرے پڑے لوگوں نے اس کی بات مانی ہے۔ شریف قریشیوں نے اس کی اطاعت نہیں کی۔ اس خط کو پڑھ کر وہ اپنی تجارت چھوڑ چھاڑ کر سفر کر کے اپنے شریک کے پاس پہنچا۔ یہ پڑھا لکھا آدمی تھا، کتابوں کا اسے علم حاصل تھا۔ اس سے پوچھا کہ بتاؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ معلوم کر کے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز کی طرف بلاتے ہیں؟

{ آپ نے اسلام کے ارکان اس کے سامنے بیان فرمائے۔ وہ اسے سنتے ہی ایمان لے آیا۔ آپ نے فرمایا تمہیں اس کی تصدیق کیونکر ہو گئی؟ اس نے کہا اس بات سے کہ تمام انبیاء کے ابتدائی ماننے والے ہمیشہ ضعیف مسکین لوگ ہی ہوتے ہیں۔ اس پر یہ آیتیں اتریں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی بھیج کر انہیں کہلوایا کہ تمہاری بات کی سچائی اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی۔ } ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ اسی طرح { ہرقل نے کہا تھا جب کہ اس نے ابوسفیان سے ان کی جاہلیت کی حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت دریافت کیا تھا کہ کیا شریف لوگوں نے ان کی تابعداری کی ہے یا ضعیفوں نے؟ تو ابوسفیان نے جواب دیا کہ ضعیفوں نے۔ اس پر ہرقل نے کہا کہ ہر رسول کی اولاً تابعداری کرنے والے یہی ضعیف لوگ ہوتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:7] ‏‏‏‏ پھر فرمایا یہ خوش حال لوگ مال و اولاد کی کثرت پر ہی فخر کرتے ہیں اور اسے اس بات کی دلیل بناتے ہیں کہ وہ پسندیدہ اللہ ہیں اگر اللہ کی خاص عنایت و مہربانی ان پر نہ ہوتی تو انہیں یہ نعمتیں نہ دیتا اور جب یہاں رب مہربان ہے تو آخرت میں بھی وہ مہربان ہی رہے گا۔ قرآن نے ہر جگہ اس کا رد کیا ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: «اَيَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّبَنِيْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:55-56] ‏‏‏‏ الخ، ’ کیا ان کا خیال ہے کہ مال و اولاد کی اکثریت ان کے لیے بہتر ہے؟ نہیں بلکہ برائی ہے لیکن یہ بےشعور ہیں۔ ‘ ایک اور آیت میں ہے «وَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَاَوْلَادُهُمْ اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ اَنْ يُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِي الدُّنْيَا وَتَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَهُمْ كٰفِرُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:85] ‏‏‏‏ الخ، ’ ان کی مال و اولاد تجھے دھوکے میں نہ ڈالے اس سے انہیں دنیا میں بھی سزا ہو گی اور مرتے دم تک یہ کفر پر ہی رہیں گے۔ ‘ اور آیت میں ہے «ذَرْنِيْ وَمَنْ خَلَقْتُ وَحِيْدًا» ۱؎ [74-المدثر:11-17] ‏‏‏‏ الخ، یعنی ’ مجھے اور اس شخص کو چھوڑ دے جسے بہت سے فرزند دے رکھے ہیں۔ اور ہر طرح کا عیش اس کے لیے مہیا کر دیا ہے۔ تاہم اسے طمع ہے کہ میں اور زیادہ دوں۔ ایسا نہیں یہ ہماری آیتوں کا مخالف ہے۔ زمانہ جانتا ہے کہ اسے میں دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھاؤں گا۔ ‘ اس شخص کا واقعہ بھی مذکور ہوا ہے جس کے دو باغ تھے، مال والا، پھلوں والا، اولاد والا تھا۔

لیکن کسی چیز نے کوئی فائدہ نہ دیا عذاب الٰہی سے سب چیزیں دنیا میں ہی تباہ اور خاک سیاہ ہو گئیں۔ اللہ جس کی روزی کشادہ کرنا چاہے، کشادہ کر دیتا ہے اور جس کی روزی تنگ کرنا چاہے، تنگ کر دیتا ہے دنیا میں تو وہ اپنے دوستوں دشمنوں سب کو دیتا ہے۔ غنی یا فقیر ہونا اس کی رضا مندی اور ناراضگی کی دلیل نہیں۔ بلکہ اس میں اور ہی حکمتیں ہوتی ہیں جنہیں اکثر لوگ جان نہیں سکتے، مال و اولاد کو ہماری عنایت کی دلیل بنانا غلطی ہے۔ یہ کوئی ہمارے پاس مرتبہ بڑھانے والی چیز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مالوں کو نہیں دیکھتا بلکہ دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2564ـ34] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏مسلم) ہاں اس کے پاس درجات دلانے والی چیز ایمان اور نیک اعمال ہیں۔ ان کی نیکیوں کے بدلے انہیں بہت بڑھا چڑھا کر دیئے جائیں گے۔ اور ایک ایک نیکی دس دس گنا بلکہ سات سات سو گنا کر کے دی جائے گی۔ جنت کی بلند ترین منزلوں میں ہر ڈر خوف سے، غم سے پر امن ہوں گے۔ کوئی دکھ درد نہ ہو گا۔ ایذا اور صدمہ نہ ہو گا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے۔ ایک اعرابی نے کہا یہ بالاخانے کس کے لیے ہیں؟ آپ نے فرمایا جو نرم کلامی کرے، کھانا کھلائے، بکثرت روزے رکھے اور لوگوں کی نیند کے وقت تہجد پڑھے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1984،قال الشيخ الألباني:۔حسن] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابن ابی حاتم) جو لوگ اللہ کی راہ سے اوروں کو روکتے ہیں، رسولوں کی تابعداری سے لوگوں کو باز رکھتے ہیں، اللہ کی آیتوں کی تصدیق نہیں کرتے، وہ جہنم کی سزا میں حاضر کئے جائیں گے اور برا بدلہ پائیں گے۔

📖 احسن البیان

37۔ 1 یعنی یہ مال اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ہمیں تم سے محبت ہے اور ہماری بارگاہ میں تمہیں خاص مقام حاصل ہے۔ 37۔ 2 یعنی ہماری محبت اور قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تو صرف ایمان اور عمل صالح ہے جس طرح حدیث میں فرمایا ' اللہ تعالیٰ تمہاری شکلیں اور تمہارے مال نہیں دیکھتا، وہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے (صحیح مسلم) 37۔ 3 بلکہ کئی کئی گنا، ایک نیکی کا اجرکم از کم دس گنا مزید سات سو گنا بلکہ اس سے زیادہ تک۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 37) ➊ { وَ مَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ …:} اس جملے کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ مال و اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکیں، بلکہ یہی چیزیں اکثر انسانوں کے لیے تقرب کے بجائے الٹا اس کے غضب اور غصے کا سبب بن جاتی ہیں اور اسے لے ڈوبتی ہیں۔ اس کے بجائے اللہ تعالیٰ کے ہاں تقرب کا معیار ایمان اور اعمالِ صالحہ ہیں۔ {” اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا “} کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان لائے اور اعمال صالحہ بھی لائے تو یہی مال اور اولاد اس کے لیے اللہ کے ہاں تقرب کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ وہ یوں کہ اپنے مال و دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا رہے اور اولاد کی صحیح تعلیم و تربیت کر کے اسے اللہ کا فرماں بردار بنا دے۔ (تیسیرالقرآن) ➋ { فَاُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ جَزَآءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا:الضِّعْفِ”نِصْفٌ“} کی ضد ہے، یعنی کسی چیز کی مثل اتنا ہی اور، پھر یہی لفظ کئی گنا کے معنوںمیں استعمال ہوتا ہے، جو دس گنا بھی ہو سکتا ہے، سات سو گنا بھی، بلکہ اس سے زیادہ بھی۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۶۱)۔ ➌{ وَ هُمْ فِي الْغُرُفٰتِ: ”اَلْغُرْفَةُ“} بلند و بالا عمارت، بالا خانہ۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ كَمَا يَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ فِي الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ، لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ، قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ، قَالَ بَلٰی، وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! رِجَالٌ آمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ صَدَّقُوا الْمُرْسَلِيْنَ ] [بخاري، بدء الخلق، باب ما جاء في صفۃ الجنۃ …: ۳۲۵۶ ] ”جنتی لوگ اپنے سے اوپر بالا خانوں میں رہنے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جیسے وہ اس ستارے کو دیکھتے ہیں جو آسمان کے کنارے پر مشرق یا مغرب میں گزر رہا ہوتا ہے، کیونکہ ان میں سے بعض بعض سے افضل ہو گا۔“ لوگوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! یہ تو انبیاء کے گھر ہوں گے، جہاں ان کے سوا کوئی نہیں پہنچ سکے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! وہ لوگ (وہاں پہنچیں گے) جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انھوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔“ ➍ { اٰمِنُوْنَ:} بے خوف اس لیے ہوں گے کہ جنت کی نعمتیں ابدی اور دائمی ہوں گی اور ان کا دنیا والا خوف دور ہو جائے گا۔
← پچھلی آیت (36) پوری سورۃ اگلی آیت (38) →