بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ سبأ — Surah Saba
آیت نمبر 9
کل آیات: 54
قرآن کریم سبأ آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ سبأ islamicurdubooks.com ↗
اَفَلَمۡ یَرَوۡا اِلٰی مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِہِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَیۡہِمۡ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّکُلِّ عَبۡدٍ مُّنِیۡبٍ ٪﴿۹﴾
کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو اِنہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے؟ ہم چاہیں تو اِنہیں زمین میں دھسا دیں، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے اِن پر گرا دیں در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہو
کیا پس وه اپنے آگے پیچھے آسمان وزمین کو دیکھ نہیں رہے ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے ٹکڑے گرادیں، یقیناً اس میں پوری دلیل ہے ہر اس بندے کے لئے جو (دل سے) متوجہ ہو
تو کیا انہوں نے نہ دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے ہے آسمان اور زمین ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسادیں یا ان پر آسمان کا ٹکڑا گرادیں، بیشک اس میں نشانی ہے ہر رجوع لانے والے بندے کے لیے
کیا انہوں نے اسے نہیں دیکھا جو ان کے آگے پیچھے ہے (ان کو محیط ہے) یعنی آسمان و زمین! اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کے کچھ ٹکڑے گرا دیں۔ بے شک اس میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے بندہ کیلئے ایک نشانی ہے۔
تو کیا انھوں نے اس کی طرف نہیں دیکھا جو آسمان و زمین میں سے ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے، اگر ہم چاہیں انھیں زمین میں دھنسا دیں، یا ان پر آسمان سے کچھ ٹکڑے گرا دیں۔ یقینا اس میں ہر رجوع کرنے والے بندے کے لیے ضرور ایک نشانی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کافروں کی جہالت ٭٭

کافر اور ملحد جو قیامت کے آنے کو محال جانتے تھے اور اس پر اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے ان کے کفریہ کلمات کا ذکر ہو رہا ہے کہ وہ آپس میں کہتے تھے ”لو اور سنو ہم میں ایک صاحب ہیں جو فرماتے ہیں کہ جب مر کر مٹی میں مل جائیں گے اور چورا چورا اور ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اس کے بعد بھی ہم زندہ کئے جائیں گے اس شخص کی نسبت دو ہی خیال ہو سکتے ہیں یا تو یہ کہ ہوش و حواس کی درستی میں وہ عمداً اللہ کے ذمے ایک جھوٹ بول رہا ہے اور جو اس نے نہیں فرمایا وہ اس کی طرف نسبت کر کے یہ کہہ رہا ہے اور اگر یہ نہیں تو اس کا دماغ خراب ہے، مجنون ہے، بے سوچے سمجھے جو جی میں آئے کہہ دیتا ہے“ اللہ تعالیٰ انہیں جواب دیتا ہے کہ یہ دونوں باتیں نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں، نیک ہیں، راہ یافتہ ہیں، دانا ہیں، باطنی اور ظاہری بصیرت والے ہیں۔ لیکن اسے کیا کیا جائے کہ منکر لوگ جہالت اور نادانی سے کام لے رہے ہیں۔ اور غور و فکر سے بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ جس کی وجہ سے حق بات اور سیدھی راہ ان سے چھوٹ جاتی ہے اور وہ بہت دور نکل جاتے ہیں۔

کیا اس کی قدرت میں تم کوئی کمی دیکھ رہے ہو۔ جس نے محیط آسمان اور بسیط زمین پیدا کر دی۔ جہاں جاؤ نہ آسمان کا سایہ ختم ہو نہ زمین کا فرش۔ جیسے فرمان ہے «وَالسَّمَاءَ بَنَيْنٰهَا بِاَيْىدٍ وَّاِنَّا لَمُوْسِعُوْنَ» ۱؎ [51-الذاريات:47-48] ‏‏‏‏ ’ ہم نے آسمان کو اپنے ہاتھوں بنایا اور ہم کشادگی والے ہیں۔ زمین کو ہم نے ہی بچھایا اور ہم بہت اچھے بچھانے والے ہیں۔ ‘

یہاں بھی فرمایا کہ آگے دیکھو پیچھے دیکھو اسی طرح دائیں دیکھو بائیں کی طرف التفات کرو تو وسیع آسمان اور بسیط زمین ہی نظر آئے گی۔ اتنی بڑی مخلوق کا خالق اتنی زبردست قدرتوں پر قادر کیا تم جیسی چھوٹی سی مخلوق کو فنا کر کے پھر پیدا کرنے پر قدرت کھو بیٹھے؟ وہ تو قادر ہے کہ اگر چاہے تمہیں زمین میں دھنسا دے۔ یا آسمان تم پر توڑ دے یقیناً تمہارے ظلم اور گناہ اسی قابل ہیں۔ لیکن اللہ کا حکم اور عفو ہے کہ وہ تمہیں مہلت دیئے ہوئے ہے۔ جس میں عقل ہے جس میں دور بینی کا مادہ ہو جس میں غور و فکر کی عادت ہو۔ جس کی اللہ کی طرف جھکنے والی طبیعت ہو۔ جس کے سینے میں دل، دل میں حکمت اور حکمت میں نور ہو وہ تو ان زبردست نشانات کو دیکھنے کے بعد اس قادر و خالق اللہ کی اس قدرت میں شک کر ہی نہیں سکتا کہ مرنے کے بعد پھر جینا ہے۔ آسمانوں جیسے شامیانے اور زمینوں جیسے فرش جس نے پیدا کر دئیے اس پر انسان کی پیدائش کیا مشکل ہے؟ جس نے ہڈیوں، گوشت، کھال کو ابتداً پیدا کیا۔ اسے ان کے سڑ گل جانے اور ریزہ ریزہ ہو کر جھڑ جانے کے بعد اکٹھا کر کے اٹھا بٹھانا کیا بھاری ہے؟ اسی کو اور آیت میں فرمایا «اَوَلَيْسَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ» ۱؎ [36-يس:81] ‏‏‏‏، یعنی ’ آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا کیا وہ ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ بے شک وہ قادر ہے ‘ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ یعنی ’ انسانوں کی پیدائش سے بہت زیادہ مشکل تو آسمان و زمین کی پیدائش ہے۔ لیکن اکثر لوگ بےعلمی برتتے ہیں۔ ‘

📖 احسن البیان

9۔ 1 یعنی اس پر غور نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ ان کی زجر و توبیخ کرتے ہوئے فرما رہا ہے کہ آخرت کا یہ انکار، آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور و فکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ جو ذات آسمان جیسی چیز، جس کی بلندی اور وسعت ناقابل بیان ہے اور زمین جیسی چیز، جس کا طول و عرض بھی ناقابل فہم ہے، پیدا کرسکتا ہے، اس کے لئے اپنی ہی پیدا کردہ چیز کا دوبارہ پیدا کردینا اور اسے دوبارہ اسی حالت میں لے آنا، جس میں وہ پہلے تھی، کیوں کر ناممکن ہے۔ 9۔ 1 یعنی یہ آیت دو باتوں پر مشتمل ہے ایک اللہ کے کمال قدرت کا بیان جو ابھی مذکور ہوا دوسری کفار کے لیے تنبیہ و تہدید کہ جو اللہ آسمان و زمین کی تخلیق پر اس طرح قادر ہے کہ ان پر اور ان کے مابین ہر چیز پر اس کا تصرف اور غلبہ ہے وہ جب چاہے ان پر اپنا عذاب بھیج کر ان کو تباہ کرسکتا ہے زمین میں دھنسا کر بھی، جس طرح قارون کو دھنسایا یا آسمان کے ٹکڑے گرا کر جس طرح اصحاب الایکہ کو ہلاک کیا گیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) ➊ { اَفَلَمْ يَرَوْا اِلٰى مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ …:} فرمایا، آخرت کا انکار زمین و آسمان کی پیدائش میں غوروفکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ اگر یہ اپنے آگے اور پیچھے چاروں طرف پھیلے ہوئے آسمان اور زمین کے پیدا کرنے پر غور کرتے، جن کی وسعت ان کے خیال سے بھی زیادہ ہے تو زمین وآسمان کو پیدا کرنے والے کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر نہ تعجب کرتے، نہ اس کا انکار کرتے، کیونکہ آسمان و زمین کی پیدائش کے مقابلے میں ان کی تخلیق تو کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی، جیسا کہ فرمایا: «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ بَنٰىهَا» ‏‏‏‏ [ النازعات: ۲۷ ] ”کیا پیدا کرنے میں تم زیادہ مشکل ہو یا آسمان؟ اس نے اسے بنایا۔“ اور فرمایا: «لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ المؤمن: ۵۷ ] ”یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے زیادہ بڑا (کام) ہے اور لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔“ ➋ { اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْاَرْضَ …: ” كِسَفًا”كِسْفَةٌ“} کی جمع ہے، ٹکڑے۔ اس میں کفار کو ڈرایا ہے کہ یہی آسمان و زمین جن کو تم اپنے لیے نفع بخش اور زندگی کا سبب سمجھتے ہو، اللہ تعالیٰ چاہے تو انھی چیزوں کو تمھاری ہلاکت کا موجب بنا سکتا ہے۔ پھر وہ چاہے تو تمھیں اس زمین میں دھنسا دے، جیسے اس نے قارون کو دھنسا دیا، یا آسمان سے عذاب کے کچھ ٹکڑے گرا دے، جیسے اس نے اصحاب الایکہ کے ساتھ کیا۔ ➌ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيْبٍ:} یعنی جو شخص کسی قسم کا تعصّب یا ہٹ دھرمی نہ رکھتا ہو، بلکہ اخلاص کے ساتھ اپنے رب سے ہدایت کا طالب ہو اور اس کی طرف رجوع رکھتا ہو، اس کے لیے تو آسمان و زمین کے اس عظیم الشّان نظام میں بہت بڑا سبق موجود ہے کہ جس نے اتنا بڑا حکمت سے بھرا ہوا نظام بنایا ہے، وہ دوبارہ زندہ بھی کر سکتا ہے اور یہ بھی سبق ہے کہ اس کی عنایت اور اس کے فضل ہی سے ہم بچے ہوئے ہیں، ورنہ وہ ایک ہی لمحہ میں ہمیں ہلاک کر سکتا ہے۔ یہ زمین اس کی ہے اور آسمان بھی اسی کا ہے، پھر ہم بھاگ کر کہاں جا سکتے ہیں؟ مگر جو اپنے رب کی طرف رجوع کے بجائے اس سے بغاوت اختیار کر چکا ہو، اس کے لیے یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود اس میں کوئی سبق نہیں۔
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →