اور انہیں ابراہیم(ع) کے مہمانوں کا واقعہ بھی سنا دو۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھیں ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں خبر دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے بصورت انسان ٭٭
لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت51){وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ: ” ضَيْفِ “} یہ {”ضَافَ يَضِيْفُ“} کا مصدر ہے، جو مائل ہونے کے معنی میں آتا ہے، مہمان چونکہ کسی کی طرف مائل ہو کر ہی آتا ہے، اس لیے اسے {”ضَيْفٌ“} کہتے ہیں، یہ واحد، تثنیہ اور جمع سبھی کے لیے {”ضَيْفٌ “} واحد ہی آتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں جمع کے لیے آیا ہے بعض لوگ اس کی جمع {”اَضْيَافٌ“} یا {”ضُيُوْفٌ“} بھی استعمال کرتے ہیں۔
جب وہ آئے اُس کے ہاں اور کہا "سلام ہو تم پر،" تو اُس نے کہا "ہمیں تم سے ڈر لگتا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ جب انہوں نے ان کے پاس آکر سلام کہا تو انہوں نے کہا کہ ہم کو تو تم سے ڈر لگتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
جب وہ اس کے پاس آئے تو بولے سلام کہا ہمیں تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جبکہ وہ ان کے پاس آئے اور سلام کیا اور انہوں نے (جوابِ سلام کے بعد) کہا ہم کو تم سے ڈر لگ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جب وہ اس کے پاس داخل ہوئے تو انھوں نے سلام کہا، اس نے کہا ہم تو تم سے ڈرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے بصورت انسان ٭٭
لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔“
52۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ کو ان فرشتوں سے ڈر اس لئے محسوس ہوا کہ انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کا تیار کردہ بھنا ہوا بچھڑا نہیں کھایا، جیسا کہ سورة ہود میں تفصیل گزری۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر کو بھی غیب کا علم نہیں ہوتا، اگر پیغمبر عالم الغیب ہوتے تو حضرت ابراہیم ؑ سمجھ جاتے کہ آنے والے مہمان فرشتے ہیں اور ان کے لئے کھانا تیار کرنے کی ضرورت نہیں، کیونکہ فرشتے انسانوں کی طرح کھانے پینے کے محتاج نہیں۔
(آیت52){ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ: ” وَ جِلُوْنَ “ ” وَجِلَ يَوْجَلُ} (س) سے{ ” وَجِلٌ “} (صفت مشبہ) کی جمع ہے، بمعنی ڈرنے والے۔ ڈرنے کی وجہ، مکمل واقعہ اور اس کے فوائد کے لیے دیکھیے سورۂ ہود (۶۹) سے واقعہ کے آخر تک۔
اُنہوں نے جواب دیا "ڈرو نہیں، ہم تمہیں ایک بڑے سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا ڈرو نہیں، ہم تجھے ایک صاحب علم فرزند کی بشارت دیتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
انہوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
(مہمانوں) نے کہا کہ ڈرئیے نہیں ہم آپ کو ایک صاحبِ علم بچہ کی (ولادت کی) بشارت دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا ڈر نہیں، بے شک ہم تجھے ایک بہت علم والے لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے بصورت انسان ٭٭
لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔“
ابراہیمؑ نے کہا "کیا تم اِس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دیتے ہو؟ ذرا سوچو تو سہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہا، کیا اس بڑھاپے کے آجانے کے بعد تم مجھے خوشخبری دیتے ہو! یہ خوشخبری تم کیسے دے رہے ہو؟
احمد رضا خان بریلوی
کہا کیا اس پر مجھے بشارت دیتے ہو کہ مجھے بڑھاپا پہنچ گیا اب کاہے پر بشارت دیتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
ابراہیم(ع) نے کہا تم مجھے اس حال میں بشارت دیتے ہو کہ مجھ پر بڑھاپا آچکا ہے یہ کس چیز کی بشارت ہے جو تم مجھے دیتے ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا کیا تم نے مجھے اس کے باوجودخوشخبری دی ہے کہ مجھے بڑھاپا آپہنچا ہے، تو تم کس بات کی خوشخبری دیتے ہو؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے بصورت انسان ٭٭
لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔“
اُنہوں نے جواب دیا "ہم تمہیں برحق بشارت دے رہے ہیں، تم مایوس نہ ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا ہم آپ کو بالکل سچی خوشخبری سناتے ہیں آپ مایوس لوگوں میں شامل نہ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
کہا ہم نے آپ کو سچی بشارت دی ہے آپ ناامید نہ ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا ہم آپ کو بالکل سچی بشارت دے رہے ہیں تو آپ ناامید ہونے والوں میں سے نہ ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا ہم نے تجھے حق کی خوشخبری دی ہے، سو تو نا امید ہونے والوں سے نہ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے بصورت انسان ٭٭
لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔“
55۔ 1 کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے جو خلاف نہیں ہوسکتا۔ علاوہ ازیں وہ ہر بات پر قادر ہے، کوئی بات اس کے لئے ناممکن نہیں۔
ابراہیمؑ نے کہا "اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہا اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراه اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کہا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے، ف۶۱)
علامہ محمد حسین نجفی
ابراہیم(ع) نے کہا اپنے پروردگار کی رحمت سے تو گمراہوں کے سوا کون مایوس ہوتا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اور گمراہوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرشتے بصورت انسان ٭٭
لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔“
56۔ 1 یعنی اولاد کے ہونے پر میں تعجب اور حیرت کا اظہار کر رہا ہوں تو صرف اپنے بڑھاپے کی وجہ سے کر رہا ہوں یہ بات نہیں ہے کہ میں اپنے رب کی رحمت سے ناامید ہوں۔ رب کی رحمت سے ناامید تو گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔
(آیت56){قَالَ وَ مَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ …:} یعنی میں نے دنیا کا عام دستور اور اپنا بڑھاپا دیکھ کر محض تعجب کا اظہار کیا ہے، ورنہ یہ مقصد نہیں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہوں۔
پھر ابراہیمؑ نے پوچھا "اے فرستادگان الٰہی، وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
پوچھا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے (فرشتو!) تمہارا ایسا کیا اہم کام ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
کہا پھر تمہارا کیا کام ہے اے فرشتو!
علامہ محمد حسین نجفی
(پھر) کہا اے اللہ کے فرستادو آخر تمہیں کیا مہم درپیش ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا تو اے بھیجے ہوؤ! تمھارا معاملہ کیا ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتلایا کہ لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لیے ہم آئے ہیں مگر لوط علیہ السلام کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی نہیں بچ سکتی۔ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔
57۔ 1 حضرت ابراہیم ؑ نے ان فرشتوں کی گفتگو سے اندازہ لگا لیا کہ یہ صرف اولاد کی بشارت دینے ہی نہیں آئے ہیں بلکہ ان کی آمد کا اصل مقصد کوئی اور ہے۔ چناچہ انہوں نے پوچھا۔
(آیت57){ قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ:} غالباً ابراہیم علیہ السلام قرائن سے سمجھ گئے کہ فرشتوں کے آنے کا مقصد محض مجھے خوش خبری دینا نہیں، کیونکہ عموماً فرشتے کسی بڑی مہم ہی کے لیے آیا کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ }» [ الحجر: ۸ ] ”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ۔“
انہوں نے جواب دیا کہ ہم مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بولے ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا بے شک ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتلایا کہ لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لیے ہم آئے ہیں مگر لوط علیہ السلام کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی نہیں بچ سکتی۔ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔
صرف لوطؑ کے گھر والے مستثنیٰ ہیں، ان سب کو ہم بچا لیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
مگر خاندان لوط کہ ہم ان سب کو تو ضرور بچا لیں گے
احمد رضا خان بریلوی
مگر لوط کے گھر والے، ان سب کو ہم بچالیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
سوا لوط(ع) کے گھر والوں کے کہ ہم ان سب کو بچا لیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
سوائے لوط کے گھر والوں کے کہ یقینا ہم ان سب کو ضرور بچا لینے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتلایا کہ لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لیے ہم آئے ہیں مگر لوط علیہ السلام کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی نہیں بچ سکتی۔ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔
سوائے اُس کی بیوی کے جس کے لیے (اللہ فرماتا ہے کہ) ہم نے مقدر کر دیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی"
مولانا محمد جوناگڑھی
سوائے اس (لوط) کی بیوی کے کہ ہم نے اسے رکنے اور باقی ره جانے والوں میں مقرر کر دیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر اس کی عورت ہم ٹھہراچکے ہیں کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہے، ف۶۵)
علامہ محمد حسین نجفی
بجز اس کی بیوی کے اس کی نسبت ہم نے یہ طے کیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
مگر اس کی عورت، ہم نے طے کر دیا ہے کہ بے شک وہ یقینا پیچھے رہنے والوں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت ابراھیم علیہ السلام کا جب ڈر خوف جاتا رہا بلکہ بشارت بھی مل گئی تو اب فرشتوں سے ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ انہوں نے بتلایا کہ لوطیوں کی بستیاں الٹنے کے لیے ہم آئے ہیں مگر لوط علیہ السلام کی آل نجات پالے گی۔ ہاں اس آل میں سے ان کی بیوی نہیں بچ سکتی۔ وہ قوم کے ساتھ رہ جائے گی اور ہلاکت میں ان کے ساتھ ہی ہلاک ہوگی۔
یہ فرشتے نو جوان حسین لڑکوں کی شکل میں حضور لوط علیہ السلام کے پاس گئے۔ تو لوط علیہ السلام نے کہا تم بالکل نا شناس اور انجان لوگ ہو۔ تو فرشتوں نے راز کھول دیا کہ ہم اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں جسے آپ علیہ السلام کی قوم نہیں مانتی اور جس کے آنے میں شک شبہ کر رہی تھی۔ ہم حق بات اور قطعی حکم لے کر آئے ہیں اور «مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ» ’ فرشتے حقانیت کے ساتھ ہی نازل ہوا کرتے ہیں ‘ ۱؎ [15-الحجر:8] اور ہم ہیں بھی سچے۔ جو خبر آپ کو دے رہے ہیں وہ ہو کر رہے گی کہ آپ نجات پائیں اور آپ علیہ السلام کی یہ کافر قوم ہلاک ہوگی۔
تو انہوں (لوط علیہ السلام) نے کہا تم لوگ تو کچھ انجان سے معلوم ہو رہے ہو
احمد رضا خان بریلوی
کہا تم تو کچھ بیگانہ لوگ ہو، ف۶۷)
علامہ محمد حسین نجفی
تو لوط نے کہا کہ تم تو اجنبی لوگ معلوم ہوتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس نے کہا تم تو ایسے لوگ ہو جن کی جان پہچان نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دو حسین لڑکے ٭٭
یہ فرشتے نو جوان حسین لڑکوں کی شکل میں حضور لوط علیہ السلام کے پاس گئے۔ تو لوط علیہ السلام نے کہا تم بالکل نا شناس اور انجان لوگ ہو۔ تو فرشتوں نے راز کھول دیا کہ ہم اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں جسے آپ علیہ السلام کی قوم نہیں مانتی اور جس کے آنے میں شک شبہ کر رہی تھی۔ ہم حق بات اور قطعی حکم لے کر آئے ہیں اور «مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ» ’ فرشتے حقانیت کے ساتھ ہی نازل ہوا کرتے ہیں ‘ ۱؎ [15-الحجر:8] اور ہم ہیں بھی سچے۔ جو خبر آپ کو دے رہے ہیں وہ ہو کر رہے گی کہ آپ نجات پائیں اور آپ علیہ السلام کی یہ کافر قوم ہلاک ہوگی۔
62۔ 1 یہ فرشتے حسین نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اور حضرت لوط ؑ کے لئے بالکل انجان تھے، اس لئے انہوں نے ان سے اجنبیت اور بیگانگی کا اظہار کیا۔
(آیت62){قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ:} جن کی جان پہچان نہ ہو، اجنبی، اُوپرے۔ ابراہیم علیہ السلام کی طرح لوط علیہ السلام بھی انھیں پہچان نہ سکے۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ دوسری ساری مخلوق کی طرح یہ دونوں جلیل القدر انبیاء بھی عالم الغیب نہ تھے، ورنہ وہ ان کے آنے سے پہلے ہی انھیں جانتے ہوتے اور ان کے آنے سے باخبر ہوتے، بلکہ ابراہیم علیہ السلام کو پہلے ہی معلوم ہوتا کہ مجھے اتنی عمر میں اسحاق عطا ہوں گے اور لوط علیہ السلام کو پہلے ہی اپنی قوم کا انجام معلوم ہوتا، مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ابراہیم علیہ السلام کا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے پر صبر، آگ میں ڈالے جانے پر بھی استقامت کا اظہار، جبار مصر کی زیادتی کی آزمائش پر صبر، ہاجر اور اسماعیل کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑنے پر صبر، غرض ان کی کوئی آزمائش، آزمائش نہیں رہے گی، کیونکہ اگر پہلے علم ہو کہ ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا تو ہر شخص آگ میں کود سکتا ہے اور بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ شیعہ حضرات نے تو انبیاء کے علاوہ اپنے بارہ اماموں کو ہر گزری ہوئی اور آنے والی بات جاننے والا قرار دیا۔ دیکھیے ان کی کتاب ”الکافی“ کی فہرست، جسے وہ اتنا معتبر سمجھتے ہیں جتنا اہل سنت صحیح بخاری کو۔
اُنہوں نے جواب دیا "نہیں، بلکہ ہم وہی چیز لے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا نہیں بلکہ ہم تیرے پاس وه چیز ﻻئے ہیں جس میں یہ لوگ شک شبہ کر رہے تھے
احمد رضا خان بریلوی
کہا بلکہ ہم تو آپ کے پاس وہ لائے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا (نہیں) بلکہ ہم تمہارے پاس وہ چیز (عذاب) لے کر آئے ہیں جس میں (یہ) لوگ شک کیا کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا بلکہ ہم تیرے پاس وہ چیز لے کر آئے ہیں جس میں و ہ شک کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دو حسین لڑکے ٭٭
یہ فرشتے نو جوان حسین لڑکوں کی شکل میں حضور لوط علیہ السلام کے پاس گئے۔ تو لوط علیہ السلام نے کہا تم بالکل نا شناس اور انجان لوگ ہو۔ تو فرشتوں نے راز کھول دیا کہ ہم اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں جسے آپ علیہ السلام کی قوم نہیں مانتی اور جس کے آنے میں شک شبہ کر رہی تھی۔ ہم حق بات اور قطعی حکم لے کر آئے ہیں اور «مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ» ’ فرشتے حقانیت کے ساتھ ہی نازل ہوا کرتے ہیں ‘ ۱؎ [15-الحجر:8] اور ہم ہیں بھی سچے۔ جو خبر آپ کو دے رہے ہیں وہ ہو کر رہے گی کہ آپ نجات پائیں اور آپ علیہ السلام کی یہ کافر قوم ہلاک ہوگی۔
63۔ 1 یعنی عذاب الٰہی، جس میں تیری قوم کو شک ہے کہ وہ آ بھی سکتا ہے؟
(آیت64،63){قَالُوْا بَلْ جِئْنٰكَ بِمَا كَانُوْا فِيْهِ يَمْتَرُوْنَ …: ” اِمْتِرَاءٌ “} سے مضارع معلوم ہے، ایسا شک جو انسان کو ایسی بات پر جھگڑنے کے لیے آمادہ کرے جس کی حقیقت کچھ نہ ہو، بلکہ وہ صرف وہم و گمان پر مبنی ہو۔ (طنطاوی) اس لیے اس میں جھگڑے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے۔ فرشتوں نے لوط علیہ السلام کو تسلی دینے کے لیے یہ بات کہی کہ ہم تمھیں پریشان کرنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ وہ عذاب لے کر آئے ہیں جس میں یہ لوگ شک کرتے اور جھگڑتے رہے ہیں اور واقعی ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ {” بِالْحَقِّ “} سے مراد عذاب ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِيْنَ }» [ الحجر: ۸ ] ”ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق (یعنی عذاب) کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔“
ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم تو تیرے پاس (صریح) حق ﻻئے ہیں اور ہیں بھی بالکل سچے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم آپ کے پاس سچا حکم لائے ہیں اور ہم بیشک سچے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم آپ کے پاس حق (عذاب) لے کر آئے ہیں اور بلاشبہ ہم بالکل سچے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم تیرے پاس حق لے کر آئے ہیں اور بلاشبہ ہم یقینا سچے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دو حسین لڑکے ٭٭
یہ فرشتے نو جوان حسین لڑکوں کی شکل میں حضور لوط علیہ السلام کے پاس گئے۔ تو لوط علیہ السلام نے کہا تم بالکل نا شناس اور انجان لوگ ہو۔ تو فرشتوں نے راز کھول دیا کہ ہم اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں جسے آپ علیہ السلام کی قوم نہیں مانتی اور جس کے آنے میں شک شبہ کر رہی تھی۔ ہم حق بات اور قطعی حکم لے کر آئے ہیں اور «مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ» ’ فرشتے حقانیت کے ساتھ ہی نازل ہوا کرتے ہیں ‘ ۱؎ [15-الحجر:8] اور ہم ہیں بھی سچے۔ جو خبر آپ کو دے رہے ہیں وہ ہو کر رہے گی کہ آپ نجات پائیں اور آپ علیہ السلام کی یہ کافر قوم ہلاک ہوگی۔
64۔ 1 اس صریح حق سے عذاب مراد ہے جس کے لئے وہ بھیجے گئے تھے، اس لئے انہوں نے کہا ہم ہیں بھی بالکل سچے۔ یعنی عذاب کی جو بات ہم کر رہے ہیں۔ اس میں سچے ہیں۔ اب اس قوم کی تباہی کا وقت بالکل قریب آپہنچا ہے۔
لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جاؤ اور خود ان کے پیچھے پیچھے چلو تم میں سے کوئی پلٹ کر نہ دیکھے بس سیدھے چلے جاؤ جدھر جانے کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اب تو اپنے خاندان سمیت اس رات کے کسی حصہ میں چل دے اور آپ ان کے پیچھے رہنا، اور (خبردار) تم میں سے کوئی (پیچھے) مڑکر بھی نہ دیکھے اور جہاں کا تمہیں حکم کیا جارہا ہے وہاں چلے جانا
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے کر باہر جایے اور آپ ان کے پیچھے چلئے اور تم میں کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے اور جہاں کو حکم ہے سیدھے چلے جایئے،
علامہ محمد حسین نجفی
تو آپ رات کے کسی حصہ میں اپنے اہل و عیال کو لے کر نکل جائیں اور خود آپ ان کے پیچھے پیچھے چلیں اور آپ میں سے کوئی پیچھے مڑ کر نہ دیکھے اور جدھر جانے کا آپ کو حکم دیا گیا ہے ادھر ہی چلے جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو اپنے گھر والوں کو رات کے کسی حصے میں لے چل اور خود ان کے پیچھے پیچھے چل اور تم میںسے کوئی مڑ کر نہ دیکھے اور چلے جائو جہاں تمھیں حکم دیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوط علیہ السلام کو ہدایات ٭٭
حضرت لوط علیہ السلام سے فرشتے کہہ رہے ہیں کہ ’ رات کا کچھ حصہ گزر تے ہی آپ اپنے والوں کو کر یہاں سے چلے جائیں۔ خود آپ علیہ السلام ان سب کے پیچھے رہیں تاکہ ان کی اچھی طرح نگرانی کر چکیں ‘۔ یہی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے آخر میں چلا کرتے تھے تاکہ کمزور اور گرے پڑے لوگوں کا خیال رہے۔ پھر فرما دیا کہ ’ جب قوم پر عذاب آئے اور ان کا شور و غل سنائی دے تو ہرگز ان کی طرف نظریں نہ اٹھانا ‘، انہیں اسی عذاب و سزا میں چھوڑ کر تمہیں جانے کا حکم ہے، چلے جاؤ گویا ان کے ساتھ کوئی تھا جو انہیں راستہ دکھاتا جائے۔ ’ ہم نے پہلے ہی سے لوط (علیہ السلام) سے فرما دیا تھا کہ صبح کے وقت یہ لوگ مٹا دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «نَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ» ۱؎ [11-ھود:81] ’ ان کے عذاب کا وقت صبح ہے جو بہت ہی قریب ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت65) ➊ { وَ اتَّبِعْ اَدْبَارَهُمْ:} لوط علیہ السلام کو ان کے پیچھے چلنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ ان کی اچھی طرح حفاظت کر سکیں، کوئی پیچھے نہ رہ جائے، سب مسلسل چلتے رہیں اور ٹھہر کر آنے والوں کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ بھی یہی تھا، چنانچہ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں پیچھے رہتے، کمزوروں کو آگے چلاتے اور سواری پر اپنے پیچھے بٹھاتے اور ان کے لیے دعا فرماتے۔ [ أبوداوٗد، الجہاد، باب لزوم الساقۃ: ۲۶۳۹ ] ➋ { وَ لَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ:} کیونکہ مڑ کر دیکھنے میں وہ تیزی باقی نہیں رہے گی جو اللہ کے عذاب کی جگہ سے بھاگنے میں ہونی چاہیے اور وطن چھوڑتے وقت حسرت سے اسے بار بار دیکھنے کے بجائے بس آگے بڑھتے جاؤ، تاکہ نہ دل کسی اور طرف متوجہ ہو اور نہ اللہ کے ذکر و شکر اور تمھاری رفتار میں کوئی کمی واقع ہو، نہ قوم کی بدترین بربادی دیکھتے ہوئے دل میں کوئی رقت پیدا ہو۔ ➌ {وَ امْضُوْا حَيْثُ تُؤْمَرُوْنَ:} وہ جگہ اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمائی، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ تعجب ہوتا ہے کہ بعض مفسرین اس کے بغیر ہی {”قِيْلَ“} (کہا گیا ہے) کہہ کر کبھی شام، کبھی اردن اور کبھی مصر کا نام لیتے ہیں، یہ اندھیرے میں تیر پھینکنے والی بات ہے۔
اور اُسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے اِن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے اسے اس حکم کا فیصلہ سنادیا کہ صبح ہوتے ان کافروں کی جڑ کٹ جائے گی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان (لوط(ع)) کو بذریعۂ وحی اس فیصلہ سے آگاہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان کی جڑ بالکل کاٹ دی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے اس کی طرف اس بات کی وحی کر دی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہی کاٹ دی جانے والی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
لوط علیہ السلام کو ہدایات ٭٭
حضرت لوط علیہ السلام سے فرشتے کہہ رہے ہیں کہ ’ رات کا کچھ حصہ گزر تے ہی آپ اپنے والوں کو کر یہاں سے چلے جائیں۔ خود آپ علیہ السلام ان سب کے پیچھے رہیں تاکہ ان کی اچھی طرح نگرانی کر چکیں ‘۔ یہی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے آخر میں چلا کرتے تھے تاکہ کمزور اور گرے پڑے لوگوں کا خیال رہے۔ پھر فرما دیا کہ ’ جب قوم پر عذاب آئے اور ان کا شور و غل سنائی دے تو ہرگز ان کی طرف نظریں نہ اٹھانا ‘، انہیں اسی عذاب و سزا میں چھوڑ کر تمہیں جانے کا حکم ہے، چلے جاؤ گویا ان کے ساتھ کوئی تھا جو انہیں راستہ دکھاتا جائے۔ ’ ہم نے پہلے ہی سے لوط (علیہ السلام) سے فرما دیا تھا کہ صبح کے وقت یہ لوگ مٹا دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «نَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ» ۱؎ [11-ھود:81] ’ ان کے عذاب کا وقت صبح ہے جو بہت ہی قریب ہے ‘۔
66۔ 1 یعنی لوط ؑ کو وحی کے ذریعے سے اس فیصلے سے آگاہ کردیا کہ صبح ہونے تک ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی، یا دابِرَ سے مراد وہ آخری آدمی ہے جو باقی رہ جائے گا، فرمایا، وہ بھی صبح ہونے تک ہلاک کردیا جائے گا۔
(آیت66) ➊ {وَ قَضَيْنَاۤ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ …: ” اِلَيْهِ “} کی و جہ سے {” قَضَيْنَاۤ “} کا معنی ”ہم نے وحی کی“ کیا جاتا ہے۔ {”دَابِرَ“} سب سے پیچھے رہ جانے والا، کسی چیز کا وہ حصہ جو سب کے بعد بچ گیا ہو۔ کسی درخت کو اکھاڑتے وقت آخری چیز جڑ ہوتی ہے، اسے بھی {” دَابِرَ “} کہہ لیتے ہیں۔ یعنی یہ سب لوگ ہلاک کر دیے جائیں گے، ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچے گا۔ ➋ {مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ: ”أَصْبَحَ“} کا معنی ہے {” دَخَلَ فِي الصُّبْحِ “} کہ وہ صبح کے وقت آیا۔ قوم لوط کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا تھا، جیسا کہ سورۂ ہود میں ہے: «{ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ }» [ ہود: ۸۱ ] ”بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں ہے۔“
اتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بے تاب ہو کر لوطؑ کے گھر چڑھ آئے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور شہر والے خوشیاں مناتے ہوئے آئے
احمد رضا خان بریلوی
اور شہر والے خوشیاں مناتے آئے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور شہر والے (نوجوان اور خوبصورت مہمانوں کو دیکھ کر) خوشیاں مناتے ہوئے آگئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس شہر کے رہنے والے اس حال میں آئے کہ بہت خوش ہو رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم لوط کی خرمستیاں ٭٭
قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود لوط علیہ السلام کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورۃ ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجانا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لیے ہوتا بھی نہیں اور خصوصاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ علیہ السلام ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہو جاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام کو یہ خیال تھا تو انہیں آپ علیہ السلام نے اپنا مہمان کیوں بنایا؟ ہم تو آپ علیہ السلام کو اس سے منع کر چکے ہیں۔ تب آپ علیہ السلام نے انہیں مزید سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ”تمہاری عورتیں جو میری لڑکیاں ہیں، وہ خواہش پوری کرنے کی چیزیں ہیں نہ کہ یہ۔“ اس کا پورا بیان نہایت وضاحت کے ساتھ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اس لیے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ بد لوگ اپنی خرمستی میں تھے اور جو قضاء اور عذاب ان کے سروں پر جھوم رہا تھا اس سے غافل تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر ان کی یہ حالت بیان فرما رہا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تکریم اور تعظیم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے اپنی جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں۔ اللہ نے آپ کی حیات کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہیں کھائی۔“ «سَکْرَۃ» سے مراد ضلالت و گمراہی ہے، اسی میں وہ کھیل رہے تھے اور تردد میں تھے۔
67۔ 1 ادھر تو حضرت لوط ؑ کے گھر میں قوم کی ہلاکت کا یہ فیصلہ ہو رہا تھا۔ ادھر قوم لوط کو پتہ چلا کہ لوط ؑ کے گھر میں خوش شکل نوجوان مہمان آئے ہیں تو اپنی امرد پرستی کی وجہ سے بڑے خوش ہوئے اور خوشی خوشی حضرت لوط ؑ کے پاس آئے اور مطالبہ کیا کہ ان نوجوانوں کو ان کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ ان سے بےحیائی کا ارتکاب کر کے اپنی تسکین کرسکیں۔
(آیت67) ➊ {وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ: ” الْمَدِيْنَةِ “} کا ترجمہ ”اس شہر “الف لام برائے عہد کی و جہ سے کیا ہے۔ مفسرین نے اس کا نام ”سدوم“ بتایا ہے۔ قوم لوط کا عمل کرنے والوں کو بہت سی زبانوں میں ”سدومی“ کہا جاتا ہے، اس لیے عربی یا اردو میں اس کے لیے ”لوطی“ کا جو لفظ استعمال کیا جاتا ہے وہ مناسب نہیں۔ اس میں لوط علیہ السلام کی ایک طرح سے توہین ہے۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ بروں کے ساتھ رہنے میں بھی بدنامی ہے، خواہ کتنا نیک ہو، اب لوط علیہ السلام کے اس بدبخت قوم کے پیغمبر ہونے کے باعث کتنے برے فعل کی نسبت ان کے مبارک نام کی طرف کی جاتی ہے۔ ➋ { يَسْتَبْشِرُوْنَ: ” بَشَرَ “} (ض، س)، {” أَبْشَرَ “} اور {” اِسْتَبْشَرَ “} تینوں کا معنی خوش ہونا ہے، صرف حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہوتا جائے گا، اس لیے معنی کیا گیا ہے ”بہت خوش ہو رہے تھے“ یعنی لوط علیہ السلام کے گھر نہایت خوبصورت لڑکوں کے آنے کی خبر سن کر نہایت خوش خوش بے اختیار دوڑتے ہوئے آئے۔ (دیکھیے ہود: ۷۸) اس سے ظاہر ہے کہ وہ لوگ شرم و حیا سے خالی ہو کر کتنی پستی میں گر چکے تھے۔ واضح رہے کہ {” وَ جَآءَ اَهْلُ الْمَدِيْنَةِ “} میں ”واؤ“ ترتیب کے لیے نہیں، بلکہ صرف واقعہ کے مختلف حصوں کو ملانے کے لیے ہے، کیونکہ اگر پہلے وحی آ چکی ہوتی اور لوط علیہ السلام مہمانوں کو جان چکے ہوتے کہ یہ فرشتے ہیں تو انھیں پریشان ہونے کی، قوم کی منتیں کرنے کی اور اپنی یعنی قوم کی بیٹیاں پیش کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ اس سے یہ بھی واضح ہو رہا ہے کہ انبیاء علیھم السلام غیب دان نہیں ہوتے، انھیں صرف وہی معلوم ہوتا ہے جو انھیں وحی کے ذریعے سے بتا دیا جائے۔ سورۂ ہود (۷۷ تا ۸۱) میں لوط علیہ السلام کی پریشانی کا نقشہ اور فرشتوں کا انھیں تسلی دینا ملاحظہ فرمائیں۔
لوطؑ نے کہا "بھائیو، یہ میرے مہمان ہیں، میری فضیحت نہ کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
(لوط علیہ السلام نے) کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم مجھے رسوا نہ کرو
احمد رضا خان بریلوی
لوط نے کہا یہ میرے مہمان ہیں مجھے فضیحت (رُسوا) نہ کرو، ف۷۵)
علامہ محمد حسین نجفی
(لوط(ع) نے) کہا یہ لوگ میرے مہمان ہیں تم میری فضیحت نہ کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا یہ لوگ تو میرے مہمان ہیں، سو مجھے ذلیل نہ کرو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم لوط کی خرمستیاں ٭٭
قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود لوط علیہ السلام کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورۃ ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجانا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لیے ہوتا بھی نہیں اور خصوصاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ علیہ السلام ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہو جاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام کو یہ خیال تھا تو انہیں آپ علیہ السلام نے اپنا مہمان کیوں بنایا؟ ہم تو آپ علیہ السلام کو اس سے منع کر چکے ہیں۔ تب آپ علیہ السلام نے انہیں مزید سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ”تمہاری عورتیں جو میری لڑکیاں ہیں، وہ خواہش پوری کرنے کی چیزیں ہیں نہ کہ یہ۔“ اس کا پورا بیان نہایت وضاحت کے ساتھ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اس لیے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ بد لوگ اپنی خرمستی میں تھے اور جو قضاء اور عذاب ان کے سروں پر جھوم رہا تھا اس سے غافل تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر ان کی یہ حالت بیان فرما رہا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تکریم اور تعظیم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے اپنی جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں۔ اللہ نے آپ کی حیات کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہیں کھائی۔“ «سَکْرَۃ» سے مراد ضلالت و گمراہی ہے، اسی میں وہ کھیل رہے تھے اور تردد میں تھے۔
68۔ 1 حضرت لوط ؑ نے انھیں سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ مہمان ہیں انھیں میں کس طرح تمہارے سپرد کرسکتا ہوں، اس میں میری رسوائی ہے۔
(آیت69،68){قَالَ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ ضَيْفِيْ …: ” ضَيْفٌ “} کی تشریح کے لیے دیکھیے اس سورت کی آیت(۵۱) {” فَلَا تَفْضَحُوْنِ “} اور {” وَ لَا تُخْزُوْنِ “} دونوں {” فَلاَ تَفْضَحُوْنِيْ“} اور {”اَ تُخْزُوْنِيْ“} تھے، آیات کے آخر کی مناسبت کے لیے یاء حذف کرکے نون وقایہ مکسور رکھا گیا، یعنی مہمان پر زیادتی اور اس کی بے عزتی درحقیقت میزبان کی ذلت و رسوائی ہوتی ہے، تو لوط علیہ السلام نے دو طریقوں سے انھیں اس فعل بد سے ہٹانے کی کوشش کی، پہلی کوشش ان کی مہمانی کا حق ذکر کرکے اور آخری کوشش {”وَ اتَّقُوا اللّٰهَ “} کہہ کراللہ تعالیٰ سے ڈرانے کے ذریعے سے، مگر بے سود۔
قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود لوط علیہ السلام کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورۃ ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجانا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لیے ہوتا بھی نہیں اور خصوصاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ علیہ السلام ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہو جاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام کو یہ خیال تھا تو انہیں آپ علیہ السلام نے اپنا مہمان کیوں بنایا؟ ہم تو آپ علیہ السلام کو اس سے منع کر چکے ہیں۔ تب آپ علیہ السلام نے انہیں مزید سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ”تمہاری عورتیں جو میری لڑکیاں ہیں، وہ خواہش پوری کرنے کی چیزیں ہیں نہ کہ یہ۔“ اس کا پورا بیان نہایت وضاحت کے ساتھ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اس لیے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ بد لوگ اپنی خرمستی میں تھے اور جو قضاء اور عذاب ان کے سروں پر جھوم رہا تھا اس سے غافل تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر ان کی یہ حالت بیان فرما رہا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تکریم اور تعظیم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے اپنی جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں۔ اللہ نے آپ کی حیات کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہیں کھائی۔“ «سَکْرَۃ» سے مراد ضلالت و گمراہی ہے، اسی میں وہ کھیل رہے تھے اور تردد میں تھے۔
وہ بولے "کیا ہم بارہا تمہیں منع نہیں کر چکے ہیں کہ دنیا بھر کے ٹھیکے دار نہ بنو؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه بولے کیا ہم نے تجھے دنیا بھر (کی ٹھیکیداری) سے منع نہیں کر رکھا؟
احمد رضا خان بریلوی
بولے کیا ہم نے تمہیں منع نہ کیا تھا کہ اوروں کے معاملہ میں دخل نہ دو،
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے کہا کہ کیا ہم نے آپ کو دنیا بھر کے لوگوں (کو مہمان کرنے) سے منع نہیں کر دیا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے کہا اور کیا ہم نے تجھے سارے جہانوں سے منع نہیں کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم لوط کی خرمستیاں ٭٭
قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود لوط علیہ السلام کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورۃ ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجانا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لیے ہوتا بھی نہیں اور خصوصاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ علیہ السلام ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہو جاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام کو یہ خیال تھا تو انہیں آپ علیہ السلام نے اپنا مہمان کیوں بنایا؟ ہم تو آپ علیہ السلام کو اس سے منع کر چکے ہیں۔ تب آپ علیہ السلام نے انہیں مزید سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ”تمہاری عورتیں جو میری لڑکیاں ہیں، وہ خواہش پوری کرنے کی چیزیں ہیں نہ کہ یہ۔“ اس کا پورا بیان نہایت وضاحت کے ساتھ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اس لیے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ بد لوگ اپنی خرمستی میں تھے اور جو قضاء اور عذاب ان کے سروں پر جھوم رہا تھا اس سے غافل تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر ان کی یہ حالت بیان فرما رہا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تکریم اور تعظیم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے اپنی جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں۔ اللہ نے آپ کی حیات کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہیں کھائی۔“ «سَکْرَۃ» سے مراد ضلالت و گمراہی ہے، اسی میں وہ کھیل رہے تھے اور تردد میں تھے۔
70۔ 1 انہوں نے بد اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا اے لوط! تو ان اجنبیوں کا کیا لگتا ہے؟ اور کیوں ان کی حمایت کرتا ہے؟ کیا ہم نے تجھے منع نہیں کیا ہے کہ اجنبیوں کی حمایت نہ کیا کر، یا ان کو اپنا مہمان نہ بنایا کر! یہ ساری گفتگو اس وقت ہوئی جب کہ حضرت لوط ؑ کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ اجنبی مہمان اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور وہ اسی قوم کو تباہ کرنے کے لئے آئے ہیں جو ان فرشتوں کے ساتھ بدفعلی کے لئے مصر تھی، جیسا کہ سورة ہود میں یہ تفصیل گزر چکی ہے۔ یہاں ان کے فرشتے ہونے کا ذکر پہلے آگیا ہے۔
(آیت70){قَالُوْۤا اَوَ لَمْ نَنْهَكَ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ: ” لَمْ نَنْهَكَ “ ” نَهَي يَنْهٰي“} سے جمع متکلم جحد معلوم ہے، {” نَنْهٰي“} کا الف {”لَمْ“} کی و جہ سے حذف ہو گیا، کاف ضمیر مفعول بہ ہے۔ یعنی تم سارے جہان کو مہمان بنا لیا کرو گے تو کیا ہم سب ہی کو چھوڑ دیں گے، کیا ہم نے تمھیں منع نہیں کیا کہ ہمارے ہوتے اجنبی مسافروں کو مہمان نہ بنایا کرو اور ہمارے مقابلے میں کسی کی حمایت نہ کرو۔ کیسے خبیث اور مسخ شدہ فطرت والے لوگ تھے، جو اپنے شہر میں آنے والے مہمان یا گزرنے والے کو بھی نہیں چھوڑتے تھے، نہ اس میں کوئی شرم محسوس کرتے تھے۔
لوطؑ نے عاجز ہو کر کہا "اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں!"
مولانا محمد جوناگڑھی
(لوط علیہ السلام نے) کہا اگر تمہیں کرنا ہی ہے تو یہ میری بچیاں موجود ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کہا یہ قوم کی عورتیں میری بیٹیاں ہیں اگر تمہیں کرنا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ نے کہا اگر تم نے کچھ کرنا ہے تو پھر یہ میری (قوم کی) بیٹیاں موجود ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا یہ میری بیٹیاں ہیں، اگر تم کرنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم لوط کی خرمستیاں ٭٭
قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود لوط علیہ السلام کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورۃ ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجانا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لیے ہوتا بھی نہیں اور خصوصاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ علیہ السلام ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہو جاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام کو یہ خیال تھا تو انہیں آپ علیہ السلام نے اپنا مہمان کیوں بنایا؟ ہم تو آپ علیہ السلام کو اس سے منع کر چکے ہیں۔ تب آپ علیہ السلام نے انہیں مزید سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ”تمہاری عورتیں جو میری لڑکیاں ہیں، وہ خواہش پوری کرنے کی چیزیں ہیں نہ کہ یہ۔“ اس کا پورا بیان نہایت وضاحت کے ساتھ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اس لیے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ بد لوگ اپنی خرمستی میں تھے اور جو قضاء اور عذاب ان کے سروں پر جھوم رہا تھا اس سے غافل تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر ان کی یہ حالت بیان فرما رہا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تکریم اور تعظیم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے اپنی جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں۔ اللہ نے آپ کی حیات کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہیں کھائی۔“ «سَکْرَۃ» سے مراد ضلالت و گمراہی ہے، اسی میں وہ کھیل رہے تھے اور تردد میں تھے۔
71۔ 1 یعنی ان سے تم نکاح کرلو یا پھر اپنی قوم کی عورتوں کو اپنی بیٹیاں کہا، تم عورتوں سے نکاح کرلو یا جن کے حبالہ عقد میں عورتیں ہیں، وہ ان سے اپنی خواہش پوری کریں۔
(آیت71){قَالَ هٰۤؤُلَآءِ بَنٰتِيْۤ:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ ہود کی آیت (۷۸) کی تفسیر۔
تیری جان کی قسم اے نبیؐ، اُس وقت اُن پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
تیری عمر کی قسم! وه تو اپنی بدمستی میں سرگرداں تھے
احمد رضا خان بریلوی
اے محبوب تمہاری جان کی قسم بیشک وہ اپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کی جان کی قسم! یہ لوگ اپنے نشہ میں بالکل اندھے ہو رہے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
تیری عمر کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مدہوشی میں بھٹکے پھرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قوم لوط کی خرمستیاں ٭٭
قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود لوط علیہ السلام کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورۃ ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجانا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لیے ہوتا بھی نہیں اور خصوصاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ علیہ السلام ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہو جاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام کو یہ خیال تھا تو انہیں آپ علیہ السلام نے اپنا مہمان کیوں بنایا؟ ہم تو آپ علیہ السلام کو اس سے منع کر چکے ہیں۔ تب آپ علیہ السلام نے انہیں مزید سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ”تمہاری عورتیں جو میری لڑکیاں ہیں، وہ خواہش پوری کرنے کی چیزیں ہیں نہ کہ یہ۔“ اس کا پورا بیان نہایت وضاحت کے ساتھ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اس لیے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ بد لوگ اپنی خرمستی میں تھے اور جو قضاء اور عذاب ان کے سروں پر جھوم رہا تھا اس سے غافل تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر ان کی یہ حالت بیان فرما رہا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تکریم اور تعظیم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے اپنی جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں۔ اللہ نے آپ کی حیات کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہیں کھائی۔“ «سَکْرَۃ» سے مراد ضلالت و گمراہی ہے، اسی میں وہ کھیل رہے تھے اور تردد میں تھے۔
72۔ 1 اللہ نبی سے خطاب فرما کر، ان کی زندگی کی قسم کھا رہا ہے، جس سے آپ کا شرف و فضل واضح ہے۔ تاہم کسی اور کے لئے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تو حاکم مطلق ہے، وہ جس کی چاہے قسم کھائے، اس سے کون پوچھنے والا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح شراب کے نشے میں دھت انسان کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے، اسی طرح یہ اپنی بد مستی اور گمراہی میں اتنے سرگرداں تھے کہ حضرت لوط ؑ کی اتنی معقول بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آ پائی۔
(آیت72){لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ …: ” عَمْرٌ “} عین کے فتحہ کے ساتھ {”عُمْرٌ“} ہی کی ایک لغت ہے، اس کا معنی دنیا میں زندگی کی مدت ہے۔ قسم کے وقت ”عین“ ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے۔ لام ابتدا کا ہے جو قسم کے معنی میں ہے۔ {”عَمْرٌ“} مبتدا ہے اور اس کی خبر {”قَسْمِيْ“ } یا {”يَمِيْنِيْ“} ہے جو لازماً حذف ہوتی ہے، یعنی مجھے تیری عمر کی قسم۔ {”سَكْرَةٌ“} نشے میں ہونا، مدہوش ہونا۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی قسم کھائی اور آپ کی اتنی تکریم فرمائی کہ آپ کے علاوہ کسی انسان کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔ لوط علیہ السلام کے قصے کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہے، جس سے ان کا گمراہی سے کسی صورت باز نہ آنا بیان کرنا مقصود ہے۔ قسم اور جوابِ قسم میں مناسبت یہ ہے کہ اے نبی! آپ کی پوری پاکیزہ زندگی اور عفت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ جو اس کے بالکل برعکس چلنے والے تھے وہ دراصل ہوش میں نہ تھے اور اسی مدہوشی میں ایسے بھٹکے پھرتے تھے کہ ان کے لیے راہِ راست پر آنا ممکن ہی نہ تھا۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہ فرشتوں کا کلام ہے اور انھوں نے لوط علیہ السلام کی زندگی کی قسم کھائی ہے۔ ہماری شریعت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا منع ہے، صحیح احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے۔ قسم کے متعلق مفصل بات ان شاء اللہ آگے کسی مقام پر ہو گی۔
آخرکار پو پھٹتے ہی اُن کو ایک زبردست دھماکے نے آ لیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک بڑے زور کی آواز نے پکڑ لیا
احمد رضا خان بریلوی
تو دن نکلتے انہیں چنگھاڑ نے آلیا
علامہ محمد حسین نجفی
آخرکار سورج نکلتے نکلتے انہیں ایک ہولناک آواز (چیخ) نے آلیا۔
عبدالسلام بن محمد
پس انھیں چیخ نے روشنی ہوتے ہی پکڑ لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ہود کا عبرتناک انجام ٭٭
سورج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کر دینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہو گیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورۃ ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لیے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں اور مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تامل اور غور و خوض کر کے اپنی حالت سنوار لیتے ہیں۔ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی عقلمندی اور دور بینی کا لحاظ رکھو وہ اللہ کے نور کے ساتھ دیکھتا ہے }۔ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { وہ اللہ کے نور اور اللہ کی توفیق سے دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21255:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { اللہ کے بندے لوگوں کو ان نشانات سے پہچان لیتے ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21252:حسن] یہ بستی شارع عام پر موجود ہے جس پر ظاہری اور باطنی عذاب آیا، الٹ گئی، پتھر کھائے، عذاب کا نشانہ بنی۔ اب ایک گندے اور بد مزہ کھائی کی جھیل سے بنی ہوئی ہے۔ «وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ وَبِاللَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ» ۱؎ [37-الصفات:137،138] ’ تم رات دن وہاں سے آتے جاتے ہو تعجب ہے کہ پھر بھی عقلمندی سے کام نہیں لیتے ‘۔ غرض صاف واضح اور آمد و رفت کے راستے پر یہ الٹی ہو بستی موجود ہے۔ یہ بھی معنی کئے ہیں کہ «وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [36-یس:12] ’ کتاب مبین میں ہے ‘ لیکن یہ معنی کچھ زیادہ بند نہیں بیٹھتے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے یہ ایک کھلی دلیل اور جاری نشانی ہے کہ کس طرح اللہ اپنے والوں کو نجات دیتا ہے اور اپنے دشمنوں کو غارت کرتا ہے۔
73۔ 1 ایک چنگھاڑ نے، جب کہ سورج طلوع ہوچکا تھا، ان کا خاتمہ کردیا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ زوردار آواز حضرت جبرائیل ؑ کی تھی۔
(آیت73){ فَاَخَذَتْهُمُ الصَّيْحَةُ مُشْرِقِيْنَ:” اَشْرَقَتِ الشَّمْسُ“} ”سورج طلوع ہوا“۔ اس سے پہلے آیت (۶۶) میں {”مُصْبِحِيْنَ “} کا لفظ ہے،یعنی صبح کے وقت۔ سورۂ قمر (۳۸) میں {” بُكْرَةً “} کا لفظ ہے، جس کا معنی دن کا پہلا حصہ ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ صبح کے وقت عذاب شروع ہوا اور سورج چڑھنے تک جاری رہا۔ ایک تطبیق یہ ہو سکتی ہے کہ صبح نمودار ہونے سے لے کر سورج چڑھنے کے کچھ بعد تک سارے وقت کو عرف میں صبح کہہ لیتے ہیں اور ایک تطبیق یہ بھی ہے کہ{” أَشْرَقَ يُشْرِقُ“} مطلقاً تاریکی میں روشنی ہونے کے معنی میں بھی آتا ہے، جو ظاہر ہے کہ صبح کے ساتھ ہی شروع ہو جاتی ہے اور سورج نکلنے کے ساتھ مکمل ہوتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُوْرِ رَبِّهَا }» [ الزمر: ۶۹ ] ” اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہو جائے گی۔“ میں نے ترجمہ میں یہی معنی اختیار کیا ہے، تاکہ {” مُصْبِحِيْنَ “} کے ساتھ مطابقت رہے۔
اور ہم نے اُس بستی کو تل پٹ کر کے رکھ دیا اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسا دی
مولانا محمد جوناگڑھی
بالﺂخر ہم نے اس شہر کو اوپر تلے کر دیا اور ان لوگوں پر کنکر والے پتھر برسائے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے اس بستی کا اوپر کا حصہ اس نے نیچے کا حصہ کردیا اور ان پر کنکر کے پتھر برسائے،
علامہ محمد حسین نجفی
پس ہم نے اس (بستی) کو تہہ و بالا کر دیا (اوپر کا طبقہ نیچے کر دیا)۔ اور ان پر پکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش کر دی۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے اس کے اوپر کا حصہ اس کا نیچے کا حصہ کر دیا اور ان پر کھنگر کے پتھروں کی بارش برسائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ہود کا عبرتناک انجام ٭٭
سورج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کر دینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہو گیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورۃ ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لیے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں اور مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تامل اور غور و خوض کر کے اپنی حالت سنوار لیتے ہیں۔ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی عقلمندی اور دور بینی کا لحاظ رکھو وہ اللہ کے نور کے ساتھ دیکھتا ہے }۔ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { وہ اللہ کے نور اور اللہ کی توفیق سے دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21255:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { اللہ کے بندے لوگوں کو ان نشانات سے پہچان لیتے ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21252:حسن] یہ بستی شارع عام پر موجود ہے جس پر ظاہری اور باطنی عذاب آیا، الٹ گئی، پتھر کھائے، عذاب کا نشانہ بنی۔ اب ایک گندے اور بد مزہ کھائی کی جھیل سے بنی ہوئی ہے۔ «وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ وَبِاللَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ» ۱؎ [37-الصفات:137،138] ’ تم رات دن وہاں سے آتے جاتے ہو تعجب ہے کہ پھر بھی عقلمندی سے کام نہیں لیتے ‘۔ غرض صاف واضح اور آمد و رفت کے راستے پر یہ الٹی ہو بستی موجود ہے۔ یہ بھی معنی کئے ہیں کہ «وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [36-یس:12] ’ کتاب مبین میں ہے ‘ لیکن یہ معنی کچھ زیادہ بند نہیں بیٹھتے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے یہ ایک کھلی دلیل اور جاری نشانی ہے کہ کس طرح اللہ اپنے والوں کو نجات دیتا ہے اور اپنے دشمنوں کو غارت کرتا ہے۔
74۔ 1 کہا جاتا ہے کہ ان کی بستیوں کو زمین سے اٹھا کر اوپر آسمان پر لے جایا گیا اور وہاں سے ان کو الٹا کر کے زمین پر پھینک دیا گیا۔ یوں اوپر حصہ نیچے اور نچلا حصہ اوپر کر کے تہ وبالا کردیا گیا، اور کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد محض اس بستی کا چھتوں سمیت زمین بوس ہوجانا ہے۔ 74۔ 2 اس کے بعد کھنگر قسم کے مخصوص پتھر برسائے گئے۔ اس طرح گویا تین قسم کے عذابوں سے انھیں دوچار کر کے نشان عبرت بنادیا گیا۔
(آیت74) اس آیت کی تفسیرسورۂ ہود(۸۲)میں دیکھیے۔قرآن مجید نے قوم لوط پر تین طرح کا عذاب ذکر فرمایاہے، پہلے ان پر {”صَيْحَةٌ“} (چیخ) کا عذاب آیا، پھر ان کی بستیوں کو الٹ دیاگیا اورآخرمیں ان پر پتھروں کی بارش برسائی گئی۔
اِس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو صاحب فراست ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بلاشبہ بصیرت والوں کے لیے اس میں بہت سی نشانیاں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اس میں نشانیاں ہیں فراست والوں کے لیے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اس (واقعہ) میں حقیقت کی پہچان رکھنے والوں کے لئے بڑی نشانیاں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اس میںگہری نظر سے دیکھنے والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ہود کا عبرتناک انجام ٭٭
سورج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کر دینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہو گیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورۃ ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لیے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں اور مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تامل اور غور و خوض کر کے اپنی حالت سنوار لیتے ہیں۔ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی عقلمندی اور دور بینی کا لحاظ رکھو وہ اللہ کے نور کے ساتھ دیکھتا ہے }۔ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { وہ اللہ کے نور اور اللہ کی توفیق سے دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21255:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { اللہ کے بندے لوگوں کو ان نشانات سے پہچان لیتے ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21252:حسن] یہ بستی شارع عام پر موجود ہے جس پر ظاہری اور باطنی عذاب آیا، الٹ گئی، پتھر کھائے، عذاب کا نشانہ بنی۔ اب ایک گندے اور بد مزہ کھائی کی جھیل سے بنی ہوئی ہے۔ «وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ وَبِاللَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ» ۱؎ [37-الصفات:137،138] ’ تم رات دن وہاں سے آتے جاتے ہو تعجب ہے کہ پھر بھی عقلمندی سے کام نہیں لیتے ‘۔ غرض صاف واضح اور آمد و رفت کے راستے پر یہ الٹی ہو بستی موجود ہے۔ یہ بھی معنی کئے ہیں کہ «وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [36-یس:12] ’ کتاب مبین میں ہے ‘ لیکن یہ معنی کچھ زیادہ بند نہیں بیٹھتے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے یہ ایک کھلی دلیل اور جاری نشانی ہے کہ کس طرح اللہ اپنے والوں کو نجات دیتا ہے اور اپنے دشمنوں کو غارت کرتا ہے۔
75۔ 1 گہری نظر سے جائزہ لینے اور غور وفکر کرنے والوں کو مُتَوَسِّمِیْنَ کہا جاتا ہے۔ مُتَوَسِّمِیْنَ کے لئے اس واقعے میں عبرت کے پہلو اور نشانیاں ہیں۔
(آیت75){اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ …: ” لِلْمُتَوَسِّمِيْنَ “ } یہ {” وَسْمٌ، سِمَةٌ “} سے باب تفعل کا اسم فاعل ہے۔ {” وَسْمٌ“} کامعنی نشان ہے، خصوصاً جوگرم لوہے کے ساتھ اونٹ یا گھوڑے پر لگایا جاتا ہے۔ {”مِيْسَمٌ“} گرم کرکے نشان لگانے کا آلہ۔ نشانات کو دیکھ کر بات کی تہ تک پہنچنا {”تَوَسُّمٌ“} کہلاتاہے، یعنی غور و فکر کرنے والوں اورگہری نظر والوں کے لیے ان بستیوں میں عبرت کے بہت سے نشان موجودہیں۔
اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ بستی ایسی راه پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گذرگاه) ہے۔
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک وہ بستی اس راہ پر ہے جو اب تک چلتی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (بستی) ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے جو اب تک قائم ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک وہ (بستی) یقینا ایک دائمی (آباد) راستے پر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ہود کا عبرتناک انجام ٭٭
سورج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کر دینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہو گیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورۃ ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لیے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں اور مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تامل اور غور و خوض کر کے اپنی حالت سنوار لیتے ہیں۔ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی عقلمندی اور دور بینی کا لحاظ رکھو وہ اللہ کے نور کے ساتھ دیکھتا ہے }۔ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { وہ اللہ کے نور اور اللہ کی توفیق سے دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21255:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { اللہ کے بندے لوگوں کو ان نشانات سے پہچان لیتے ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21252:حسن] یہ بستی شارع عام پر موجود ہے جس پر ظاہری اور باطنی عذاب آیا، الٹ گئی، پتھر کھائے، عذاب کا نشانہ بنی۔ اب ایک گندے اور بد مزہ کھائی کی جھیل سے بنی ہوئی ہے۔ «وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ وَبِاللَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ» ۱؎ [37-الصفات:137،138] ’ تم رات دن وہاں سے آتے جاتے ہو تعجب ہے کہ پھر بھی عقلمندی سے کام نہیں لیتے ‘۔ غرض صاف واضح اور آمد و رفت کے راستے پر یہ الٹی ہو بستی موجود ہے۔ یہ بھی معنی کئے ہیں کہ «وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [36-یس:12] ’ کتاب مبین میں ہے ‘ لیکن یہ معنی کچھ زیادہ بند نہیں بیٹھتے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے یہ ایک کھلی دلیل اور جاری نشانی ہے کہ کس طرح اللہ اپنے والوں کو نجات دیتا ہے اور اپنے دشمنوں کو غارت کرتا ہے۔
76۔ 1 مراد شاہراہ ہے، یعنی قوم لوط کی بستیاں مدینے سے شام کو جاتے ہوئے راستے میں پڑتی ہیں۔ ہر آنے جانے والے کو انہی بستیوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں یہ پانچ بستیاں تھیں، کہا جاتا ہے کہ جبرائیل ؑ نے اپنے بازو پر انھیں اٹھایا اور آسمان پر چڑھ گئے حتٰی کہ آسمان والوں نے ان کے کتوں کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں اور پھر ان کو زمین پردے مارا (ابن کثیر) مگر اس بات کی کوئی سند نہیں۔
(آیت76){وَ اِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ: ” مُقِيْمٍ “} ”ہمیشہ رہنے والا، دائمی“ یعنی جو قافلے حجاز سے شام یا عراق سے مصر جاتے ہیں یہ بستی ان کے راستے میں پڑتی ہے، مگر لوگ ہیں کہ اس میں تباہی کے آثار دیکھ کر کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ (137) وَ بِالَّيْلِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ }» [ الصافات: ۱۳۷، ۱۳۸ ] ”اور بلاشبہ تم یقینا صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو اور رات کو بھی، تو کیا تم سمجھتے نہیں؟“ جدید محققین کا خیال ہے کہ یہ بستی بحرمیت (جسے بحر لوط یا اردو میں بحر مردار بھی کہتے ہیں) کے جنوب مشرق میں واقع تھی، بلکہ اس زمانہ میں اردن کی حکومت بحرمیت کے جنوبی حصہ سے اس کے تباہ شدہ آثار برآمد کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
اُس میں سامان عبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو صاحب ایمان ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کو،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک اس (واقعہ) میں اہلِ ایمان کے لئے بڑی نشانی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اس میں ایمان والوں کے لیے یقینا بڑی نشانی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ہود کا عبرتناک انجام ٭٭
سورج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کر دینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہو گیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورۃ ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لیے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں اور مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تامل اور غور و خوض کر کے اپنی حالت سنوار لیتے ہیں۔ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی عقلمندی اور دور بینی کا لحاظ رکھو وہ اللہ کے نور کے ساتھ دیکھتا ہے }۔ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { وہ اللہ کے نور اور اللہ کی توفیق سے دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21255:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { اللہ کے بندے لوگوں کو ان نشانات سے پہچان لیتے ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21252:حسن] یہ بستی شارع عام پر موجود ہے جس پر ظاہری اور باطنی عذاب آیا، الٹ گئی، پتھر کھائے، عذاب کا نشانہ بنی۔ اب ایک گندے اور بد مزہ کھائی کی جھیل سے بنی ہوئی ہے۔ «وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ وَبِاللَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ» ۱؎ [37-الصفات:137،138] ’ تم رات دن وہاں سے آتے جاتے ہو تعجب ہے کہ پھر بھی عقلمندی سے کام نہیں لیتے ‘۔ غرض صاف واضح اور آمد و رفت کے راستے پر یہ الٹی ہو بستی موجود ہے۔ یہ بھی معنی کئے ہیں کہ «وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [36-یس:12] ’ کتاب مبین میں ہے ‘ لیکن یہ معنی کچھ زیادہ بند نہیں بیٹھتے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے یہ ایک کھلی دلیل اور جاری نشانی ہے کہ کس طرح اللہ اپنے والوں کو نجات دیتا ہے اور اپنے دشمنوں کو غارت کرتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت77){ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی ابراہیم اور لوط علیھما السلام کے قصے میں ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت اور عذاب الیم کی بہت بڑی نشانی ہے۔ {” لَاٰيَةً “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یہاں {” لَاٰيَةً “} واحد اس لیے ذکر فرمایا کہ ایمان والوں کے یقین کے لیے یہ ایک نشانی ہی کافی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مومنوں کی تعریف بھی ہے۔
اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے۔ ایکہ کہتے ہیں درختوں کے جھنڈ کو۔ ان کا ظلم علاوہ شرک و کفر کے غارت گری اور ناپ تول کی کمی بھی تھی۔ ان کی بستی لوطیوں کے قریب تھی اور ان کا زمانہ بھی ان سے بہت قریب تھا۔ ان پر بھی ان کی پہیم شراتوں کی وجہ سے عذاب الٰہی آیا۔ یہ دونوں بستیاں بر سر شارع عام تھیں۔ شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈراتے ہوئے فرمایا تھا کہ «وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ» ۱؎ [11-هود:89] ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔
78۔ 1 أیکَہ گھنے درخت کو کہتے ہیں۔ اس بستی میں گھنے درخت ہونگے۔ اس لئے انھیں (اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ) 15۔ الحجر:78) (بن یا جنگل والے) کہا گیا۔ مراد اس سے قوم شعیب ہے اور ان کا زمانہ حضرت لوط علیہ السلام کے بعد ہے اور ان کا علاقہ حجاز اور شام کے درمیان قوم لوط کی بستیوں کے قریب ہی تھا۔ اسے مدین کہا جاتا ہے جو حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے یا پوتے کا نام تھا اور اسی کے نام پر بستی کا نام پڑگیا تھا۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ اللہ کے ساتھ شرک کرتے تھے، رہزنی ان کا شیوہ اور کم تولنا اور کم ناپنا ان کا وطیرہ تھا، ان پر جب عذاب آیا ایک بادل ان پر سایہ فگن ہوگیا پھر چنگھاڑ اور بھو نچال نے مل کر ان کو ہلاک کردیا۔
(آیت78) ➊ {وَ اِنْ كَانَ اَصْحٰبُ الْاَيْكَةِ …:} یہ {” اِنْ “} اصل میں {”إِنَّ “} تھا، اس کا اسم ضمیر شان {”هٗ“} محذوف ہے، اس کی دلیل اور سبب وہ لام ہے جو{ ”ظَالِمِيْنَ“} پر آیا ہے، جو {” كَانَ “} کی خبر ہے۔ {”اَلْأَيْكُ“} اسم جنس ہے، درختوں کے جھنڈ، زیادہ ہوں یا ایک، جیسے {” تَمْرٌ “} اسم جنس ہے۔ تاء وحدۃ کے اظہار کے لیے ہے، اس لیے {” الْاَيْكَةِ “} کا معنی ہے ایک جھنڈ، جیسے {”تَمَرْةٌ“} ایک کھجور۔ ➋ بہت سے علماء کا کہنا ہے کہ اصحاب مدین اور اصحاب الایکہ ایک ہی قبیلہ تھا اور کئی مفسرین انھیں الگ الگ قوم شمار فرماتے ہیں۔ ان کا ظلم یہ تھا کہ وہ شرک میں گرفتار تھے، ناپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے، راہ چلتے مسافروں کو لوٹ لیتے تھے۔ ان دونوں کی طرف شعیب علیہ السلام کو بھیجا گیا، تا کہ وہ ظلم کی ان تمام صورتوں سے باز آ جائیں۔ مدین والوں کی تفصیل سورۂ ہود (۸۴ تا ۹۵) میں ہے اور اصحاب الایکہ کی تفصیل سورۂ شعراء (۱۷۶ تا ۱۹۱) میں ہے۔ بعض کے مطابق اصحاب مدین اسی قوم کے شہری لوگ تھے اور اصحاب الایکہ انھی کے باہر جنگل میں رہنے والے لوگ تھے۔
تو دیکھ لو کہ ہم نے بھی اُن سے انتقام لیا، اور اِن دونوں قوموں کے اجڑے ہوئے علاقے کھلے راستے پر واقع ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور بیشک دونوں بستیاں کھلے راستہ پر پڑتی ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہم نے ان سے انتقام لیا اور یہ دونوں (بستیاں) شارعِ عام پر واقع ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور بے شک وہ دونوں (بستیاں) یقینا ظاہر راستے پر موجود ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصحاب ایکہ کا المناک انجام ٭٭
اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے۔ ایکہ کہتے ہیں درختوں کے جھنڈ کو۔ ان کا ظلم علاوہ شرک و کفر کے غارت گری اور ناپ تول کی کمی بھی تھی۔ ان کی بستی لوطیوں کے قریب تھی اور ان کا زمانہ بھی ان سے بہت قریب تھا۔ ان پر بھی ان کی پہیم شراتوں کی وجہ سے عذاب الٰہی آیا۔ یہ دونوں بستیاں بر سر شارع عام تھیں۔ شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈراتے ہوئے فرمایا تھا کہ «وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ» ۱؎ [11-هود:89] ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔
79۔ 1 امام مُبِیْنٍ کے معنی بھی شاہراہ عام کے ہیں، جہاں سے شب و روز لوگ گزرتے ہیں۔ دونوں شہر سے مراد قوم لوط کا شہر اور قوم شعیب کا مسکن۔ مدین۔ مراد ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہی تھے۔
(آیت79){وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ: ”اِمَامٌ“} کے کئی معنی ہیں، یہاں مراد واضح راستہ ہے، جس طرح امام کے پیچھے چلا جاتا ہے، اسی طرح صاف واضح راستے پر چل کر مسافر منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ (طنطاوی) وہ دونوں سے مراد قوم لوط اور اصحاب الایکہ کی بستیاں ہیں کہ وہ ایک ہی راستے پر قریب قریب واقع ہیں۔ مدین اور ایکہ بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ (قرطبی)
اور بلاشبہ یقینا ’’حجر‘‘ والوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ثمود کی تباہیاں ٭٭
حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی صالح علیہ السلام کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ ’ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے صالح علیہ السلام کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت صالح علیہ السلام نے فرمایا «تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ» ۱؎ [11-ھود:65] ’ بس اب تین دن کے اندر اندر قہرِ الٰہی نازل ہو گا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ‘۔ ان لوگوں نے اللہ کی بتلائی ہوئی راہ پر بھی اپنے اندھاپے کو ترجیح دی۔ یہ لوگ صرف اپنی قوت جتانے اور ریاکاری ظاہر کرنے کے واسطے تکبر و تجبر کے طور پر پہاڑوں میں مکان تراشتے تھے۔ کسی خوف کے باعث یا ضرورتاً یہ چیز نہ تھی۔ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جاتے ہوئے ان کے مکانوں سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا ڈال لیا اور سواری کو تیز چلایا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ { جن پر عذاب الٰہی اترا ہے ان کی بستیوں سے روتے ہوئے گزرو۔ اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی شکل بنا کر چلو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں عذابوں کا شکار تم بھی بن جاؤ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4419] آخر ان پر ٹھیک چوتھے دن کی صبح عذاب الٰہی بصورت چنگھاڑ آیا۔ اس وقت ان کی کمائیاں کچھ کام نہ آئیں۔ جن کھیتوں اور پھولوں کی حفاظت کے لیے اور انہیں بڑھانے کے لیے ان لوگوں نے اونٹنی کا پانی پینا نہ پسند کر کے اسے قتل کر دیا وہ آج بے سود ثابت ہوئے اور امر رب اپنا کام کر گیا۔
80۔ 1 حضرت صالح ؑ کی قوم ثمود کی بستیوں کا نام تھا۔ انھیں (اَصْحٰبُ الْحِـجْرِ) 15۔ الحجر:80) (حجر والے) کہا گیا ہے۔ یہ بستی مدینہ اور تبوک کے درمیان تھی۔ انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ' انہوں نے پیغمبروں کو جھٹلایا، یہ اس لئے کہ ایک پیغمبر کی تکذیب ایسے ہی ہے جیسے سارے پیغمبروں کی تکذیب۔
(آیت80) ➊ {وَ لَقَدْ كَذَّبَ اَصْحٰبُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِيْنَ: ” الْحِجْرِ “} اصل میں اس جگہ کو کہتے ہیں جسے پتھروں سے گھیرا گیا ہو، جیسا کہ حطیم کو بھی حجر کہہ لیتے ہیں۔{ ”حَجَرَ يَحْجُرُ“} کا معنی روکنا بھی ہے، تو {” الْحِجْرِ “} وہ جگہ جہاں عام لوگوں کا آنا جانا ممنوع ہو۔ یہ اس سورت میں چوتھا قصہ ہے۔ {” الْحِجْرِ “} شام اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک مقام ہے، جو صالح علیہ السلام کی قوم ثمود کے لوگوں کا مرکز تھا، یہ جگہ خیبر سے تبوک جانے والی سڑک پر واقع ہے اور اب ”مدائن صالح“ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ علاقہ{ ”العُلاء“} سے چند میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ حجاز سے شام کو جو قافلے جاتے ہیں وہ لازماً یہاں سے گزر کر جاتے ہیں اور یہ اس ریلوے لائن کا ایک سٹیشن بھی ہے جو ترکوں کے زمانہ میں مدینہ سے دمشق کو جاتی تھی۔ اس قوم کے مفصل حالات سورۂ ہود (۶۵ تا ۶۸)، سورۂ اعراف، سورۂ قمر اور سورۂ شعراء میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➋ {الْمُرْسَلِيْنَ:} ایک رسول کو جھٹلانا چونکہ سب کو جھٹلانا ہے، اس لیے ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ انھوں نے رسولوں کو جھٹلا دیا۔ (روح المعانی)
ہم نے اپنی آیات اُن کے پاس بھیجیں، اپنی نشانیاں اُن کو دکھائیں، مگر وہ سب کو نظر انداز ہی کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں بھی عطا فرمائیں (لیکن) تاہم وه ان سے روگردانی ہی کرتے رہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان کو اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے منہ پھیرے رہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے انہیں نشانیاں عطا کیں مگر وہ ان سے روگردانی ہی کرتے رہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے انھیں اپنی نشانیاں دیں تو وہ ان سے منہ پھیرنے والے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ثمود کی تباہیاں ٭٭
حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی صالح علیہ السلام کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ ’ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے صالح علیہ السلام کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت صالح علیہ السلام نے فرمایا «تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ» ۱؎ [11-ھود:65] ’ بس اب تین دن کے اندر اندر قہرِ الٰہی نازل ہو گا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ‘۔ ان لوگوں نے اللہ کی بتلائی ہوئی راہ پر بھی اپنے اندھاپے کو ترجیح دی۔ یہ لوگ صرف اپنی قوت جتانے اور ریاکاری ظاہر کرنے کے واسطے تکبر و تجبر کے طور پر پہاڑوں میں مکان تراشتے تھے۔ کسی خوف کے باعث یا ضرورتاً یہ چیز نہ تھی۔ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جاتے ہوئے ان کے مکانوں سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا ڈال لیا اور سواری کو تیز چلایا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ { جن پر عذاب الٰہی اترا ہے ان کی بستیوں سے روتے ہوئے گزرو۔ اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی شکل بنا کر چلو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں عذابوں کا شکار تم بھی بن جاؤ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4419] آخر ان پر ٹھیک چوتھے دن کی صبح عذاب الٰہی بصورت چنگھاڑ آیا۔ اس وقت ان کی کمائیاں کچھ کام نہ آئیں۔ جن کھیتوں اور پھولوں کی حفاظت کے لیے اور انہیں بڑھانے کے لیے ان لوگوں نے اونٹنی کا پانی پینا نہ پسند کر کے اسے قتل کر دیا وہ آج بے سود ثابت ہوئے اور امر رب اپنا کام کر گیا۔
81۔ 1 ان نشانیوں میں وہ اونٹنی بھی تھی جو ان کے کہنے پر ایک چٹان سے بطور معجزہ ظاہر کی گئی تھی، لیکن ظالموں نے اسے قتل کر ڈالا۔
(آیت81) ➊ {وَ اٰتَيْنٰهُمْ اٰيٰتِنَا: ” اٰيٰتِنَا “ } ہماری نشانیاں، ان نشانیوں میں اونٹنی کا معجزہ ہی کئی معجزوں پر مشتمل تھا۔ پیغمبر پر نازل شدہ آیات بھی اور ان کی وادی میں زراعت کا عمدہ انتظام اور پہاڑ تراش کر مکان بنانے کا سلیقہ جن کا ذکر سورۂ شعراء میں ہے، سب شامل ہیں۔ وہ عقلی دلائل بھی ان نشانیوں میں شامل ہیں جو توحید کی طرف رہنمائی کا کام دیتے ہیں۔ ➋ { فَكَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ:} یعنی انھوں نے کوئی عبرت حاصل نہ کی، بلکہ اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور صالح علیہ السلام کو چیلنج دیا کہ جس عذاب کی دھمکی دے رہے ہو لے آؤ۔
وہ پہاڑ تراش تراش کر مکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے، بے خوف ہوکر
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ پہاڑوں میں گھر تراشتے تھے بے خوف
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے تاکہ امن و اطمینان سے رہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ پہاڑوں سے مکان تراشتے تھے، اس حال میں کہ بے خوف تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آل ثمود کی تباہیاں ٭٭
حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی صالح علیہ السلام کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ ’ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے صالح علیہ السلام کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت صالح علیہ السلام نے فرمایا «تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ» ۱؎ [11-ھود:65] ’ بس اب تین دن کے اندر اندر قہرِ الٰہی نازل ہو گا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ‘۔ ان لوگوں نے اللہ کی بتلائی ہوئی راہ پر بھی اپنے اندھاپے کو ترجیح دی۔ یہ لوگ صرف اپنی قوت جتانے اور ریاکاری ظاہر کرنے کے واسطے تکبر و تجبر کے طور پر پہاڑوں میں مکان تراشتے تھے۔ کسی خوف کے باعث یا ضرورتاً یہ چیز نہ تھی۔ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جاتے ہوئے ان کے مکانوں سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا ڈال لیا اور سواری کو تیز چلایا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ { جن پر عذاب الٰہی اترا ہے ان کی بستیوں سے روتے ہوئے گزرو۔ اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی شکل بنا کر چلو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں عذابوں کا شکار تم بھی بن جاؤ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4419] آخر ان پر ٹھیک چوتھے دن کی صبح عذاب الٰہی بصورت چنگھاڑ آیا۔ اس وقت ان کی کمائیاں کچھ کام نہ آئیں۔ جن کھیتوں اور پھولوں کی حفاظت کے لیے اور انہیں بڑھانے کے لیے ان لوگوں نے اونٹنی کا پانی پینا نہ پسند کر کے اسے قتل کر دیا وہ آج بے سود ثابت ہوئے اور امر رب اپنا کام کر گیا۔
82۔ 1 یعنی بغیر کسی خوف کے پہاڑ تراش لیا کرتے تھے۔ 9 ہجری میں تبوک جاتے ہوئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بستی سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا لپیٹ لیا اور اپنی سواری کو تیز کرلیا اور صحابہ سے فرمایا کہ روتے ہوئے اور اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہوئے اس بستی سے گزرو (ابن کثیر) صحیح بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے۔
(آیت82تا84){وَ كَانُوْا يَنْحِتُوْنَ مِنَ الْجِبَالِ بُيُوْتًا اٰمِنِيْنَ …:} یعنی اس سے پہلی قوم عاد آندھی سے برباد ہوئی تھی تو انھوں نے اپنے خیال میں پہاڑوں کو تراش کر محفوظ مکان بنا لیے، جن میں کوئی خوف و خطرہ نہ تھا، مگر صبح کے وقت ایسی چیخ آئی کہ سب کے کلیجے پھٹ گئے اور ایک حد سے بڑھی ہوئی خوفناک آواز ({اَلطَّاغِيَةُ}) کے ساتھ پیدا ہونے والے زلزلے نے باقی کسر نکال دی، پھر ان کی تعمیراتی اور زرعی ترقی اور مہارت ان کے کسی کام نہ آئی۔
حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی صالح علیہ السلام کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ ’ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے صالح علیہ السلام کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت صالح علیہ السلام نے فرمایا «تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ» ۱؎ [11-ھود:65] ’ بس اب تین دن کے اندر اندر قہرِ الٰہی نازل ہو گا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ‘۔ ان لوگوں نے اللہ کی بتلائی ہوئی راہ پر بھی اپنے اندھاپے کو ترجیح دی۔ یہ لوگ صرف اپنی قوت جتانے اور ریاکاری ظاہر کرنے کے واسطے تکبر و تجبر کے طور پر پہاڑوں میں مکان تراشتے تھے۔ کسی خوف کے باعث یا ضرورتاً یہ چیز نہ تھی۔ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جاتے ہوئے ان کے مکانوں سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا ڈال لیا اور سواری کو تیز چلایا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ { جن پر عذاب الٰہی اترا ہے ان کی بستیوں سے روتے ہوئے گزرو۔ اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی شکل بنا کر چلو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں عذابوں کا شکار تم بھی بن جاؤ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4419] آخر ان پر ٹھیک چوتھے دن کی صبح عذاب الٰہی بصورت چنگھاڑ آیا۔ اس وقت ان کی کمائیاں کچھ کام نہ آئیں۔ جن کھیتوں اور پھولوں کی حفاظت کے لیے اور انہیں بڑھانے کے لیے ان لوگوں نے اونٹنی کا پانی پینا نہ پسند کر کے اسے قتل کر دیا وہ آج بے سود ثابت ہوئے اور امر رب اپنا کام کر گیا۔
83۔ 1 حضرت صالح ؑ نے انھیں کہا کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آجائے گا، چناچہ چوتھے روز ان پر یہ عذاب آگیا۔
حجر والوں سے مراد ثمودی ہیں جنہوں نے اپنے نبی صالح علیہ السلام کو جھٹلایا تھا اور ظاہر ہے کہ ایک نبی علیہ السلام کا جھٹلانے والا گویا سب نبیوں کا انکار کرنے والا ہے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ ’ انہوں نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔ ان کے پاس ایسے معجزے پہنچے جن سے صالح علیہ السلام کی سچائی ان پر کھل گئی۔ جیسے کہ ایک سخت پتھر کی چٹان سے اونٹنی کا نکلنا جو ان کے شہروں میں چرتی چگتی تھی اور ایک دن وہ پانی پیتی تھی ایک دن شہروں کے جانور۔ مگر پھر بھی یہ لوگ گردن کش ہی رہے بلکہ اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت صالح علیہ السلام نے فرمایا «تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ذَٰلِكَ وَعْدٌ غَيْرُ مَكْذُوبٍ» ۱؎ [11-ھود:65] ’ بس اب تین دن کے اندر اندر قہرِ الٰہی نازل ہو گا۔ یہ بالکل سچا وعدہ ہے اور اٹل عذاب ہے ‘۔ ان لوگوں نے اللہ کی بتلائی ہوئی راہ پر بھی اپنے اندھاپے کو ترجیح دی۔ یہ لوگ صرف اپنی قوت جتانے اور ریاکاری ظاہر کرنے کے واسطے تکبر و تجبر کے طور پر پہاڑوں میں مکان تراشتے تھے۔ کسی خوف کے باعث یا ضرورتاً یہ چیز نہ تھی۔ { جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک جاتے ہوئے ان کے مکانوں سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر پر کپڑا ڈال لیا اور سواری کو تیز چلایا اور اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ { جن پر عذاب الٰہی اترا ہے ان کی بستیوں سے روتے ہوئے گزرو۔ اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسی شکل بنا کر چلو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ انہیں عذابوں کا شکار تم بھی بن جاؤ } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4419] آخر ان پر ٹھیک چوتھے دن کی صبح عذاب الٰہی بصورت چنگھاڑ آیا۔ اس وقت ان کی کمائیاں کچھ کام نہ آئیں۔ جن کھیتوں اور پھولوں کی حفاظت کے لیے اور انہیں بڑھانے کے لیے ان لوگوں نے اونٹنی کا پانی پینا نہ پسند کر کے اسے قتل کر دیا وہ آج بے سود ثابت ہوئے اور امر رب اپنا کام کر گیا۔
ہم نے زمین اور آسمان کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا ہے، اور فیصلے کی گھڑی یقیناً آنے والی ہے، پس اے محمدؐ، تم (اِن لوگوں کی بیہودگیوں پر) شریفانہ درگزر سے کام لو
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان کے درمیان کی سب چیزوں کو حق کے ساتھ ہی پیدا فرمایا ہے، اور قیامت ضرور ضرور آنے والی ہے۔ پس تو حسن وخوبی (اور اچھائی) سے درگزر کر لے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے عبث نہ بنایا، اور بیشک قیامت آنے والی ہے تو تم اچھی طرح درگزر کرو، ف۹۳)
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آسمانوں اور زمین کو نیز جو کچھ ان کے درمیان ہے اس کو پیدا نہیں کیا مگر حق و حکمت کے ساتھ اور قیامت یقینا آنے والی ہے پس (اے رسول) آپ شائستہ طریقہ سے درگزر کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی چیزوں کو پیدا نہیں کیا مگر حق کے ساتھ اور یقینا قیامت ضرور آنے والی ہے۔ پس درگزر کر، خوبصورت طریقے سے درگزر کرنا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیاں ٭٭
اللہ نے تمام مخلوق عدل کے ساتھ بنائی ہے، قیامت آنے والی ہے، «لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31] ’ بروں کو برے بدلے نیکوں کو نیک بدلے ملنے والے ہیں ‘۔ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ مخلوق باطل سے پیدا نہیں کی گئی۔ ایسا گمان کافروں کا ہوتا ہے اور کافروں کے لیے ویل دوزخ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ۱؎ [23-المؤمنون:115،116] ’ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟ بلندی والا ہے اللہ مالک حق جس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں عرش کریم کا مالک وہی ہے ‘۔ پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ مشرکوں سے چشم پوشی کیجئے، ان کی ایذأ اور جھٹلانا اور برا کہنا برداشت کر لیجئے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:89] ’ ان سے چشم پوشی کیجئے اور سلام کہہ دیجئیے انہیں ابھی معلوم ہو جائے گا ‘۔ یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے تھا یہ آیت مکیہ ہے اور جہاد بعد از ہجرت مقرر اور شروع ہوا ہے۔ ’ تیرا رب خالق ہے اور خالق مار ڈالنے کے بعد بھی پیدائش پر قادر ہے، اسے کسی چیز کی باربار کی پیدائش عاجز نہیں کرسکتی۔ ریزوں کو جب بکھر جائیں وہ جمع کر کے جان ڈال سکتا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» ۱؎ [36-يس:81-83] ، ’ آسمان و زمین کا خالق کیا ان جیسوں کی پیدائش کی قدرت نہیں رکھتا؟ بیشک وہ پیدا کرنے والا علم والا ہے وہ جب کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو اسے ہو جانے کو فرما دیتا ہے بس وہ ہو جاتی ہے۔ پاک ذات ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے ‘۔
85۔ 1 حق سے مراد وہ فوائد و صالح ہیں جو آسمان و زمین کی پیدائش سے مقصود ہیں۔ یا حق سے مراد محسن (نیکوکار) کو اس کی نیکی کا اور بدکار کو اس کی برائی کا بدلہ دینا ہے۔ جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا ' اللہ ہی کے لئے ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے تاکہ بروں کو ان کی برائیوں کا اور نیکوں کو ان کی نیکی کا بدلہ دے (النجم۔ 31)
(آیت85){وَ مَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ …: ” بِالْحَقِّ “} کا معنی صحیح، با مقصد کام جو ہو کر رہنے والا ہو، جو بے کار، بے مقصد نہ ہو اور جسے کوئی روک نہ سکے۔ اس کے بالمقابل باطل ہے، فرمایا: «{ بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ }» [ الأنبیاء: ۱۸] ”بلکہ ہم حق کو باطل پر پھینک مارتے ہیں۔“ چار انبیاء کے واقعات کے بعد اب اللہ تعالیٰ کی عظیم مخلوق آسمان و زمین اور ان کے درمیان بے شمار مخلوقات کی طرف توجہ دلائی، جن میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور عظمت و قدرت پر دلالت کرتی ہے۔ فرمایا کہ یہ سب ہم نے بے مقصد پیدا نہیں کیا، بلکہ یہ سب کچھ تمھاری ضروریات کے لیے ہے اور ان میں سے ہر چیز کے لیے اللہ کا حکم ماننا ہر حال میں لازم ہے، کسی کو اختیار ہی نہیں کہ وہ سرتابی کر سکے۔ صرف انسانوں اور جنوں کو آزمائش کے لیے کچھ اختیار دیا ہے، اگر اس کا صحیح استعمال کریں گے تو دنیا و آخرت میں اللہ کے انعامات کے مستحق ہوں گے، جیسے ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ذکر ہوا ہے، غلط استعمال کریں گے تو یا تو دنیا ہی میں اللہ کی گرفت میں آ جائیں گے، جیسے لوط، شعیب اور صالح علیھم السلام کی قومیں اللہ کے عذاب کی گرفت میں آئیں۔ اس کے بعد یقینا قیامت آنے والی ہے، اس میں نیکوں کو ان کی نیکی کا پورا بدلہ دیا جائے گا، اگر دنیا میں بدلہ نہیں ملا تو وہاں کسر نکال دی جائے گی، اسی طرح بروں کو ان کی بدی کا پورا بدلہ ملے گا اور اگر دنیا میں انھیں مہلت ملی رہی تو وہاں کسر پوری کر دی جائے گی۔ اس لیے آپ اور آپ کے ساتھی ان کفار کی زیادتی پر صبر کریں اور ان کی زبان درازی سے درگزر فرمائیں (دیکھیے آل عمران: ۱۸۶) اور درگزر بھی خوبصورت طریقے سے، تاکہ قطع تعلق سے دعوت کا راستہ بند نہ ہو جائے۔ یہ سارا بیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلی کے لیے ہے۔
یقیناً تمہارا رب سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تیرا پروردگار ہی پیدا کرنے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تمہارا رب ہی بہت پیدا کرنے والا جاننے والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک آپ کا پروردگار ہی بڑا پیدا کرنے والا (اور) بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک تیرا رب ہی کمال درجے کا پیدا کرنے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیاں ٭٭
اللہ نے تمام مخلوق عدل کے ساتھ بنائی ہے، قیامت آنے والی ہے، «لِيَجْزِيَ الَّذِينَ أَسَاءُوا بِمَا عَمِلُوا وَيَجْزِيَ الَّذِينَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَى» ۱؎ [53-النجم:31] ’ بروں کو برے بدلے نیکوں کو نیک بدلے ملنے والے ہیں ‘۔ «وَمَا خَلَقْنَا السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَاطِلًا ذَلِكَ ظَنُّ الَّذِينَ كَفَرُوا فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا مِنَ النَّارِ» ۱؎ [38-ص:27] ’ مخلوق باطل سے پیدا نہیں کی گئی۔ ایسا گمان کافروں کا ہوتا ہے اور کافروں کے لیے ویل دوزخ ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ فَتَعَالَى اللَّـهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ» ۱؎ [23-المؤمنون:115،116] ’ کیا تم سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار پیدا کیا ہے اور تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟ بلندی والا ہے اللہ مالک حق جس کے سوا کوئی قابل پرستش نہیں عرش کریم کا مالک وہی ہے ‘۔ پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ ’ مشرکوں سے چشم پوشی کیجئے، ان کی ایذأ اور جھٹلانا اور برا کہنا برداشت کر لیجئے ‘۔ جیسے اور آیت میں ہے «فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَقُلْ سَلَامٌ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:89] ’ ان سے چشم پوشی کیجئے اور سلام کہہ دیجئیے انہیں ابھی معلوم ہو جائے گا ‘۔ یہ حکم جہاد کے حکم سے پہلے تھا یہ آیت مکیہ ہے اور جہاد بعد از ہجرت مقرر اور شروع ہوا ہے۔ ’ تیرا رب خالق ہے اور خالق مار ڈالنے کے بعد بھی پیدائش پر قادر ہے، اسے کسی چیز کی باربار کی پیدائش عاجز نہیں کرسکتی۔ ریزوں کو جب بکھر جائیں وہ جمع کر کے جان ڈال سکتا ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ» ۱؎ [36-يس:81-83] ، ’ آسمان و زمین کا خالق کیا ان جیسوں کی پیدائش کی قدرت نہیں رکھتا؟ بیشک وہ پیدا کرنے والا علم والا ہے وہ جب کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو اسے ہو جانے کو فرما دیتا ہے بس وہ ہو جاتی ہے۔ پاک ذات ہے اس اللہ کی جس کے ہاتھ میں ہر چیز کی ملکیت ہے اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت86) {اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِيْمُ:} تو پھر اس کے لیے انھیں دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ [ديكهيے سورهٔ يٰس: ۸۱]
ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائی جانے کے لائق ہیں، اور تمہیں قرآن عظیم عطا کیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے آپ کو سات آیتیں دے رکھی ہیں کہ دہرائی جاتی ہیں اور عظیم قرآن بھی دے رکھا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے تم کو سات آیتیں دیں جو دہرائی جاتی ہیں اور عظمت والا قرآن،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بلاشبہ ہم نے آپ کو دہرائی جانے والی سات آیتیں عطا کی ہیں اور قرآنِ عظیم بھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھے بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں اور بہت عظمت والا قرآن عطا کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن عظیم سبع مثانی اور ایک لازوال دولت ٭٭
’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے جب قرآن عظیم جیسی لازوال دولت تجھے عنایت فرما رکھی ہے تو تجھے نہ چاہیئے کہ کافروں کے دنیوی مال و متاع اور ٹھاٹھ باٹھ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے۔ یہ تو سب فانی ہے اور صرف ان کی آزمائش کے لیے چند روزہ انہیں عطا ہوا ہے۔ ساتھ ہی تجھے ان کے ایمان نہ لانے پر صدمے اور افسوس کی بھی چنداں ضرورت نہیں ‘۔ «وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:215] ’ ہاں تجھے چاہیئے کہ نرمی، خوش خلقی، تواضع اور ملنساری کے ساتھ مومنوں سے پیش آتا رہے ‘۔ جیسے ارشاد ہے آیت «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:128] ، ’ لوگو تمہارے پاس تم میں سے ہی ایک رسول آ گئے ہیں جن پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے جو تمہاری بہبودی کے دل سے خواہاں ہیں جو مسلمانوں پر پرلے درجے کا شفیق و مہربان ہے ‘۔ سبع مثانی کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم کی ابتداء کی سات لمبی سورتیں ہیں سورۃ البقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انعام، اعراف اور یونس۔ اس لیے کہ ان سورتوں میں فرائض کا، حدود کا، قصوں کا اور احکام کا خاص طریق پر بیان ہے اسی طرح مثالیں، خبریں اور عبرتیں بھی زیادہ ہیں۔ بعض نے سورۃ الاعراف تک کی چھ سورتیں گنوا کر ساتویں سورت انفال اور براۃ کو بتلایا ہے ان کے نزدیک یہ دونوں سورتیں مل کر ایک ہی سورت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ صرف موسیٰ علیہ السلام کو چھ ملی تھیں لیکن جب آپ علیہ السلام نے تختیاں گرا دیں تو دو اٹھ گئیں اور چار رہ گئیں۔ ایک قول ہے قرآن عظیم سے مراد بھی یہی ہیں۔ زیادہ کہتے ہیں میں نے تجھے سات جز دیئے ہیں۔ حکم، منع، بشارت، ڈر اور مثالیں، نعمتوں کا شمار اور قرآنی خبریں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مراد سبع مثانی سے سورۃ فاتحہ ہے جس کی سات آیتیں ہیں۔ یہ سات آیتیں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سمیت ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ نے تمہیں مخصوص کیا ہے یہ کتاب کا شروع ہیں۔ اور ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں۔ خواہ فرض نماز ہو خواہ نفل نماز ہو۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اور اس بارے میں جو حدیثیں مروی ہیں ان سے اس پر استدلال کرتے ہیں ہم نے وہ تمام احادیث فضائل سورۃ فاتحہ کے بیان میں اپنی اس تفسیر کے اول میں لکھ دی ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس جگہ دو حدیثیں وارد فرمائی ہیں۔ ایک میں ہے { ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نماز پڑھ رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے مجھے بلایا لیکن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آیا نماز ختم کرکے پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ { اسی وقت کیوں نہ آئے؟ } میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ» ۱؎ [8-الانفال:24] یعنی ’ ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کی بات مان لو جب بھی وہ تمہیں پکاریں ‘۔ سن اب میں تجھے مسجد میں سے نکلنے سے پہلے ہی قرآن کریم کی بہت بڑی سورت بتلاؤں گا۔ تھوڑی دیر میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ یاد دلایا آپ نے فرمایا وہ سورۃ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کی ہے یہی سبع مثانی ہے اور یہی بڑا قرآن ہے جو میں دیا گیا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4803] دوسری حدیث میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ام القرآن یعنی سورۃ فاتحہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے } }۔ [صحیح بخاری:4804] پس صاف ثابت ہے کہ سبع مثانی اور قرآن عظیم سے مراد سورۃ فاتحہ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اس کے سوا اور بھی یہی ہے اس کے خلاف یہ حدیثیں نہیں۔ جب کہ ان میں بھی یہ حقیقت پائی جائے جیسے کہ پورے قرآن کریم کا وصف بھی اس کے مخالف نہیں۔ جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ» ۱؎ [39-الزمر:23] پس اس آیت میں سارے قرآن کو مثانی کہا گیا ہے، اور متشابہ بھی۔ پس وہ ایک طرح سے مثانی ہے اور دوسری وجہ سے متشابہ۔ اور قرآن عظیم بھی یہی ہے جیسے کہ اس روایت سے ثابت ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ تقویٰ پر جس مسجد کی بنا ہے وہ کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کی طرف اشارہ کیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1398] حالانکہ یہ بھی ثابت ہے کہ آیت مسجد قباء کے بارے میں اتری ہے۔ پس قاعدہ یہی ہے کہ کسی چیز کا ذکر دوسری چیز سے انکار نہیں ہوتا۔ جب کہ وہ بھی وہی صفت رکھتی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پس تجھے ان کی ظاہری ٹیپ ٹاپ سے بے نیاز رہنا چاہیئے اسی فرمان کی بنا پر امام ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک صحیح حدیث جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہم میں سے وہ نہیں جو قرآن کے ساتھ تغنی نہ کرے } } ۱؎ [صحیح بخاری:7527] کی تفسیر یہ لکھی ہے کہ قرآن کو لے کر اس کے ماسوا سے دست بردار اور بے پرواہ نہ ہو جائے وہ مسلمان نہیں۔ گو یہ تفسیر بالکل صحیح ہے لیکن اس حدیث سے یہ مقصود نہیں حدیث کا صحیح مقصد اس ہماری تفسیر کے شروع میں ہم نے بیان کر دیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک مرتبہ مہمان آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کچھ نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے رجب کے وعدے پر آٹا ادھار منگوایا لیکن اس نے کہا بغیر کسی چیز کو رھن رکھے میں نہیں دوں گا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { واللہ میں امین ہوں اور زمین والوں میں بھی اگر یہ مجھے ادھار دیتا یا میرے ہاتھ فروخت کر دیتا تو میں اسے ضرور ادا کرتا } پس آیت «لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ» الخ نازل ہوئی اور گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی کی گئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/16:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”انسان کا ممنوع ہے کہ کسی کے مال و متاع کو للچائی ہوئی نگاہوں سے تاکے۔ یہ جو فرمایا کہ ان کی جماعتوں کو جو فائدہ ہم نے دے رکھا ہے اس سے مراد کفار کے مالدار لوگ ہیں۔“
87۔ 1 سبع مثانی سے مراد کیا ہے اس میں مفسرین کا اختلاف ہے صحیح بات یہ ہے کہ اس سے مراد سورة فاتحہ ہے۔ یہ سات آیتیں ہیں اور جو ہر نماز میں بار بار پڑھی جاتی ہیں (مثانی کے معنی بار بار دہرانے کے کیئے گئے ہیں (حدیث میں بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ چناچہ ایک حدیث میں رسول اللہ نے فرمایا (اَ لْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ) یہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو میں دیا گیا ہوں (صحیح بخاری) ایک اور حدیث میں فرمایا (ام القرآنھی السبع المثانی والقرآن العظیم) سورة فاتحہ قرآن کا ایک جزء ہے اس لیے قرآن عظیم کا ذکر بھی ساتھ ہی کیا گیا ہے۔
(آیت87) ➊ {وَ لَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ:” الْمَثَانِيْ “ ” ثَنٰي يَثْنِيْ “} (ض) کے اسم مفعول{ ”مَثْنِيَّةٌ“} (بروزن {مَضْرُوْبَةٌ، مَرْمِيَّةٌ}) کی جمع ہے، معنی دوہرا کرنا، دوہرانا ہے، یعنی بار بار دہرائی جانے والی۔ ➋ کافروں کی زیادتی سے درگزر کی تلقین کے ساتھ اپنی ایک عظیم نعمت سبع مثانی اور قرآن عظیم یاد دلائی، تاکہ اتنی بڑی دولت کا مالک ہونے کے احساس سے کفار سے درگزر میں آسانی رہے۔ ➌ {سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ:} ”لام“ اور {”قَدْ“ } کی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ ہم نے آپ کو سات بار بار دہرائی جانے والی عطا فرمائیں۔ یہ آیت اس بات کی بھی بڑی واضح دلیل ہے کہ قرآن کے ساتھ حدیث پر بھی ایمان اور عمل واجب ہے، اس کے بغیر قرآن نہ صحیح سمجھا جا سکتا ہے نہ اس پر عمل ہو سکتا ہے۔ دیکھیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہیں نہیں بتایا کہ وہ سبع مثانی سات سورتیں ہیں یا سات آیتیں، نہ یہ بتایا کہ وہ سورتیں ہیں تو کون سی اور آیتیں ہیں تو کون سی؟ بلکہ ایک جگہ سارے قرآن ہی کو مثانی فرما دیا، فرمایا: «{ اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ }» [ الزمر: ۲۳ ] ”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، وہ کتاب جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی اور بار بار دہرائی جانے والی ہے۔“ اب لازم ہے کہ پورے قرآن میں سے جو سارا ہی مثانی ہے، یہ متعین کیا جائے کہ ان سبع مثانی سے مراد کیا ہے۔ اپنے پاس سے متعین کریں تو کبھی اتفاق نہیں ہو سکتا، اس لیے کسی مفسر نے سات سورتیں بتائیں، کسی نے سات آیتیں، تو کسی نے کچھ اور بتایا۔ یہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وضاحت کے بغیر قرآن کی اس آیت کا مفہوم متعین کرنا ممکن ہی نہیں، چنانچہ ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ كُنْتُ أُصَلِّيْ فَمَرَّبِيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَانِيْ، فَلَمْ آتِهِ حَتّٰی صَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْتِيَ؟ أَلَمْ يَقُلِ اللّٰهُ: «{ اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ }» [الأنفال: ۲۴] ؟ ثُمَّ قَالَ لِيْ لَأُعَلِّمَنَّكَ سُوْرَةً هِيَ أَعْظَمُ السُّوَرِ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ تَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِيْ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَّخْرُجَ قُلْتُ لَهٗ أَلَمْ تَقُلْ لَأُعَلِّمَنَّكَ سُوْرَةً هِيَ أَعْظَمُ سُوْرَةٍ فِي الْقُرْآنِ؟ قَالَ: «{ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ }» هِيَ السّبْعُ الْمَثانِيْ وَالقُرْآنُ الْعَظِيْمُ الَّذِيْ أُوْتِيْتُهُ ] [ بخاری، التفسیر، باب ما جاء في فاتحۃ الکتاب: ۴۴۷۴، ۴۶۴۷ ] ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں نماز پڑھ رہا تھا، تو آپ نے مجھے بلایا، میں آپ کے پاس نہیں آیا، یہاں تک کہ میں نے نماز پڑھ لی، پھر میں آیا تو آپ نے فرمایا: ”تمھیں میرے پاس آنے سے کس چیز نے روکے رکھا؟“ کیا اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا: «{ اسْتَجِيْبُوْا لِلّٰهِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاكُمْ }» [ الأنفال: ۲۴ ] اللہ کی اور رسول کی دعوت قبول کرو جب وہ تمھیں بلائیں۔“ پھر مجھے فرمایا: ”میں تمھارے مسجد سے نکلنے سے پہلے ضرور تمھیں ایک سورت سکھاؤں گا جو قرآن کی تمام سورتوں سے بڑی (اعظم) ہے۔“ پھر آپ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، جب آپ نے نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے آپ سے کہا: ”کیا آپ نے فرمایا نہیں تھا کہ میں تمھیں ایک سورت سکھاؤں گا جو قرآن کی تمام سورتوں سے بڑی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «{ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ }» یہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ سبع مثانی سے سورۂ فاتحہ کی سات آیتیں مراد ہیں، کیونکہ وہ ہر نماز کی ہر رکعت میں بار بار پڑھی جاتی ہیں۔ دوسری تفسیریں مثلاً یہ کہ سات لمبی سورتیں مراد ہیں وغیرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صراحت کے بعد کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔ اس لیے بھی کہ لمبی سات سورتوں کی اکثریت تو اتری ہی مدینہ میں ہے، جب کہ یہ آیت مکی ہے۔ ➍ {وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ: } بہت سے مفسرین نے سبع مثانی سے مراد فاتحہ اور قرآن عظیم سے مراد باقی قرآن لیا ہے، حالانکہ یہ بات درست نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت میں مذکور سبع مثانی بھی اور القرآن العظیم بھی سورۂ فاتحہ ہی کو کہا ہے۔ بخاری میں اس آیت کی تفسیر میں آپ کے الفاظ ہیں: [ اُمُّ الْقُرْآنِ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِيْ وَالْقُرْآنُ الْعَظِيْمُ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «و لقد اٰتینک سبعا من المثانی…» : ۴۷۰۴ ] ”ام القرآن ہی سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے۔“ کیونکہ قرآن ہونے کے لیے پورا قرآن ہونا ضروری نہیں، ایک آیت ہو تو وہ بھی قرآن ہے۔ آپ کا مطلب یہ ہے کہ سورۂ فاتحہ جب قرآن کی سب سے بڑی سورت ہے تو قرآن عظیم (بہت بڑا قرآن) یہی ہے۔ رہی ”واؤ“ تو وہ ایک ہی چیز کی دو مختلف صفات کے درمیان آ جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى (1) الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى (2) وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى (3) وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى }» [ الأعلٰی: ۱ تا ۴ ] ”اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے، وہ جس نے پیدا کیا، پس درست بنایا اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر ہدایت کی اور وہ جس نے چارا اگایا۔“ اور اس لحاظ سے بھی فاتحہ کو {” وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ “ } فرمایا کہ قرآن مجید کے تمام مضامین اس میں اجمالی طور پر موجود ہیں۔ ایک دفعہ گوجرانوالہ میں ایک منکر حدیث نے بہت اودھم مچایا اور بہت سے لوگوں کے عقیدے خراب کیے، مولانا محمد عبد اللہ رحمہ اللہ (دال بازار والے) کی اس سے گفتگو ہوئی تو مولانا نے سورۂ توبہ کی آیت پڑھی: «{ اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِيْ كِتٰبِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ }» [ التوبۃ: ۳۶ ] ”بے شک مہینوں کی گنتی، اللہ کے نزدیک، اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں“ اور فرمایا کہ جب حدیث کی ضرورت نہیں تو آپ قرآن سے بتائیں کہ حرمت والے وہ چار ماہ کون سے ہیں؟ اسے بالکل کوئی جواب نہ آیا اور حق بات بہت سے لوگوں کی سمجھ میں آ گئی۔
تم اُس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے، اور نہ اِن کے حال پر اپنا دل کڑھاؤ انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ ہر گز اپنی نظریں اس چیز کی طرف نہ دوڑائیں، جس سے ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو بہره مند کر رکھا ہے، نہ ان پر آپ افسوس کریں اور مومنوں کے لیے اپنے بازو جھکائے رہیں
احمد رضا خان بریلوی
اپنی آنکھ اٹھاکر اس چیز کو نہ دیکھو جو ہم نے ان کے جوڑوں کو برتنے کو دی اور ان کا کچھ غم نہ کھاؤ اور مسلمانوں کو اپنی رحمت کے پروں میں لے لو،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ اپنی آنکھ اٹھا کر بھی ان چیزوں کی طرف نہ دیکھیں جن سے ہم نے مختلف قسم کے لوگوں (کافروں) کو بہرہ مند کیا ہے اور نہ ہی ان کے بارے میں غمگین ہوں اور اہلِ ایمان کے لئے اپنے بازو پھیلا دیں (ان کے ساتھ شفقت سے پیش آئیں)۔
عبدالسلام بن محمد
اپنی آنکھیں اس چیز کی طرف ہرگز نہ اٹھا جس کے ساتھ ہم نے ان کے مختلف قسم کے لوگوں کو فائدہ دیا ہے اور نہ ان پر غم کر اور اپنا بازو مومنوں کے لیے جھکا دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن عظیم سبع مثانی اور ایک لازوال دولت ٭٭
’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے جب قرآن عظیم جیسی لازوال دولت تجھے عنایت فرما رکھی ہے تو تجھے نہ چاہیئے کہ کافروں کے دنیوی مال و متاع اور ٹھاٹھ باٹھ للچائی ہوئی نظروں سے دیکھے۔ یہ تو سب فانی ہے اور صرف ان کی آزمائش کے لیے چند روزہ انہیں عطا ہوا ہے۔ ساتھ ہی تجھے ان کے ایمان نہ لانے پر صدمے اور افسوس کی بھی چنداں ضرورت نہیں ‘۔ «وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:215] ’ ہاں تجھے چاہیئے کہ نرمی، خوش خلقی، تواضع اور ملنساری کے ساتھ مومنوں سے پیش آتا رہے ‘۔ جیسے ارشاد ہے آیت «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [9-التوبة:128] ، ’ لوگو تمہارے پاس تم میں سے ہی ایک رسول آ گئے ہیں جن پر تمہاری تکلیف شاق گزرتی ہے جو تمہاری بہبودی کے دل سے خواہاں ہیں جو مسلمانوں پر پرلے درجے کا شفیق و مہربان ہے ‘۔ سبع مثانی کی نسبت ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے مراد قرآن کریم کی ابتداء کی سات لمبی سورتیں ہیں سورۃ البقرہ، آل عمران، نساء، مائدہ، انعام، اعراف اور یونس۔ اس لیے کہ ان سورتوں میں فرائض کا، حدود کا، قصوں کا اور احکام کا خاص طریق پر بیان ہے اسی طرح مثالیں، خبریں اور عبرتیں بھی زیادہ ہیں۔ بعض نے سورۃ الاعراف تک کی چھ سورتیں گنوا کر ساتویں سورت انفال اور براۃ کو بتلایا ہے ان کے نزدیک یہ دونوں سورتیں مل کر ایک ہی سورت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ صرف موسیٰ علیہ السلام کو چھ ملی تھیں لیکن جب آپ علیہ السلام نے تختیاں گرا دیں تو دو اٹھ گئیں اور چار رہ گئیں۔ ایک قول ہے قرآن عظیم سے مراد بھی یہی ہیں۔ زیادہ کہتے ہیں میں نے تجھے سات جز دیئے ہیں۔ حکم، منع، بشارت، ڈر اور مثالیں، نعمتوں کا شمار اور قرآنی خبریں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ مراد سبع مثانی سے سورۃ فاتحہ ہے جس کی سات آیتیں ہیں۔ یہ سات آیتیں «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» سمیت ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ نے تمہیں مخصوص کیا ہے یہ کتاب کا شروع ہیں۔ اور ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں۔ خواہ فرض نماز ہو خواہ نفل نماز ہو۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ اسی قول کو پسند فرماتے ہیں اور اس بارے میں جو حدیثیں مروی ہیں ان سے اس پر استدلال کرتے ہیں ہم نے وہ تمام احادیث فضائل سورۃ فاتحہ کے بیان میں اپنی اس تفسیر کے اول میں لکھ دی ہیں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے اس جگہ دو حدیثیں وارد فرمائی ہیں۔ ایک میں ہے { ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نماز پڑھ رہا تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے مجھے بلایا لیکن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہ آیا نماز ختم کرکے پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ { اسی وقت کیوں نہ آئے؟ } میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ» ۱؎ [8-الانفال:24] یعنی ’ ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کی بات مان لو جب بھی وہ تمہیں پکاریں ‘۔ سن اب میں تجھے مسجد میں سے نکلنے سے پہلے ہی قرآن کریم کی بہت بڑی سورت بتلاؤں گا۔ تھوڑی دیر میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جانے لگے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وعدہ یاد دلایا آپ نے فرمایا وہ سورۃ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» کی ہے یہی سبع مثانی ہے اور یہی بڑا قرآن ہے جو میں دیا گیا ہوں } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4803] دوسری حدیث میں { آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { ام القرآن یعنی سورۃ فاتحہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے } }۔ [صحیح بخاری:4804] پس صاف ثابت ہے کہ سبع مثانی اور قرآن عظیم سے مراد سورۃ فاتحہ لیکن یہ بھی خیال رہے کہ اس کے سوا اور بھی یہی ہے اس کے خلاف یہ حدیثیں نہیں۔ جب کہ ان میں بھی یہ حقیقت پائی جائے جیسے کہ پورے قرآن کریم کا وصف بھی اس کے مخالف نہیں۔ جیسے فرمان الٰہی ہے آیت «اللَّـهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ» ۱؎ [39-الزمر:23] پس اس آیت میں سارے قرآن کو مثانی کہا گیا ہے، اور متشابہ بھی۔ پس وہ ایک طرح سے مثانی ہے اور دوسری وجہ سے متشابہ۔ اور قرآن عظیم بھی یہی ہے جیسے کہ اس روایت سے ثابت ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ تقویٰ پر جس مسجد کی بنا ہے وہ کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی مسجد کی طرف اشارہ کیا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1398] حالانکہ یہ بھی ثابت ہے کہ آیت مسجد قباء کے بارے میں اتری ہے۔ پس قاعدہ یہی ہے کہ کسی چیز کا ذکر دوسری چیز سے انکار نہیں ہوتا۔ جب کہ وہ بھی وہی صفت رکھتی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پس تجھے ان کی ظاہری ٹیپ ٹاپ سے بے نیاز رہنا چاہیئے اسی فرمان کی بنا پر امام ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ نے ایک صحیح حدیث جس میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہم میں سے وہ نہیں جو قرآن کے ساتھ تغنی نہ کرے } } ۱؎ [صحیح بخاری:7527] کی تفسیر یہ لکھی ہے کہ قرآن کو لے کر اس کے ماسوا سے دست بردار اور بے پرواہ نہ ہو جائے وہ مسلمان نہیں۔ گو یہ تفسیر بالکل صحیح ہے لیکن اس حدیث سے یہ مقصود نہیں حدیث کا صحیح مقصد اس ہماری تفسیر کے شروع میں ہم نے بیان کر دیا ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ایک مرتبہ مہمان آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کچھ نہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے رجب کے وعدے پر آٹا ادھار منگوایا لیکن اس نے کہا بغیر کسی چیز کو رھن رکھے میں نہیں دوں گا اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { واللہ میں امین ہوں اور زمین والوں میں بھی اگر یہ مجھے ادھار دیتا یا میرے ہاتھ فروخت کر دیتا تو میں اسے ضرور ادا کرتا } پس آیت «لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ» الخ نازل ہوئی اور گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دلجوئی کی گئی }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:235/16:ضعیف] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”انسان کا ممنوع ہے کہ کسی کے مال و متاع کو للچائی ہوئی نگاہوں سے تاکے۔ یہ جو فرمایا کہ ان کی جماعتوں کو جو فائدہ ہم نے دے رکھا ہے اس سے مراد کفار کے مالدار لوگ ہیں۔“
88۔ 1 یعنی ہم نے سورت فاتحہ اور قرآن عظیم جیسی نعمتیں آپ کو عطا کی ہیں، اس لئے دنیا اور اس کی زینتیں اور ان مختلف قسم کے اہل دنیا کی طرف نہ نظر دوڑائیں جن کو دنیا فانی کی عارضی چیزیں ہم نے دی ہیں اور وہ جو آپ کی تکذیب کرتے ہیں، اس پر غم نہ کھائیں اور مومنوں کے لئے اپنے بازو جھکائے رہیں، یعنی ان کے لئے نرمی اور محبت کا رویہ اپنائیں۔ اس محاورہ کی اصل یہ ہے کہ جب پرندہ اپنے بچوں کو اپنے سایہ شفقت میں لیتا ہے تو ان کو اپنے بازوؤں یعنی پروں میں لے لیتا ہے۔ یوں یہ ترکیب نرمی، پیار و محبت کا رویہ اپنانے کے مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔
(آیت88) ➊ {لَا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ:” مَتَّعْنَا “} متاع معمولی اور عارضی سازو سامان۔ {”اَزْوَاجًا “} زوج ایک قسم، مثلاً نر اور مادہ میں سے ہر ایک ایک زوج ہے، دونوں ہوں تو {” زَوْجَانِ “} (ایک جوڑا) ہے۔ ان ازواج کی بہت سی قسمیں ہیں، مثلاً سرمایہ دار، حاکم، فوجی، زمیندار، کارخانے دار، مذہبی پیشوا وغیرہم، یعنی سبع مثانی اور قرآن عظیم کی دولت رکھتے ہوئے آپ کفار کے مختلف قسم کی دنیاوی نعمتیں رکھنے والوں کی طرف ہرگز نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیے، خصوصاً جب وہ نعمتیں ان کے لیے فتنہ و عذاب ہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۵۵) اور سورۂ طٰہٰ (۱۳۰ تا ۱۳۲) کی تفسیر۔ ➋ {وَ لَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ:} ان کے بڑے بڑے سردار اور کفر کے ٹھیکیدار اور ان کے پیروکار اگر ایمان نہیں لاتے تو آپ ان کے ایمان نہ لانے اور جہنم میں جانے پر غمگین نہ ہوں، آپ نے بات پہنچا کر حق ادا کر دیا تو غم کی کیا ضرورت ہے۔ ➌ {وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠: ” جَنَاحٌ“} بازو، پر، پہلو۔ یہ دراصل ایک استعارہ ہے کہ پرندہ جس طرح اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے لے کر سمیٹ لیتا ہے اور انھیں سرد و گرم سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اسی طرح آپ بھی اہل ایمان کے لیے اپنا بازو یا پہلو جھکا دیں، مراد ان کے لیے نرمی، شفقت، محبت اور حفاظت ہے۔ یہی صفت اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی، فرمایا: «{ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَھُمْ}» [ الفتح: ۲۹ ] ”کافروں پربہت سخت ہیں، آپس میں نہایت رحم دل ہیں۔“
اور (نہ ماننے والوں سے) کہہ دو کہ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہہ دیجئے کہ میں تو کھلم کھلا ڈرانے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور فرماؤ کہ میں ہی ہوں صاف ڈر سنانے والا (اس عذاب سے)،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہہ دیجیے کہ میں تو عذاب سے کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کہہ دے بے شک میں تو کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے ‘۔ «الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» ۱؎ [27-النمل:49] ’ ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے ‘۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» ۱؎ [16-النحل:38] ’ وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں‘ الخ۔ اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» ۱؎ [7-الأعراف:49] ’ مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی ‘۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7283] ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4705] یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔ انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں بنتی لیکن کچھ کہنا ضرور ہے اچھا بھائی سب اسے جادوگر بتلائیں۔ اس امر پر یہ مجمع برخاست ہوا۔ اور اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
روزہ قیامت ایک ایک چیز کا سوال ہو گا ٭٭
ان کے اعمال کا سوال ان سے ان کا رب ضرور کرے گا یعنی کلمہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» سے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3126،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص قیامت کے دن تنہا تنہا اللہ کے سامنے پیش ہوگا جیسے ہر ایک شخص چودہویں رات کے چاند کو اکیلا اکیلا دیکھتا ہے۔ اللہ فرمائے گا ’ اے انسان تو مجھ سے مغرور کیوں ہو گیا؟ تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ تو نے میرے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ ‘۔“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو چیزوں کا سوال ہر ایک سے ہوگا معبود کسے بنا رکھا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانی یا نہیں؟ ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عمل اور مال کا سوال ہوگا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے حضور علیہ السلام نے فرمایا { اے معاذ! انسان سے قیامت کے دن ہر ایک عمل کا سوال ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کے آنکھ کے سرمے اور اس کے ہاتھ کی گندہی ہوئی مٹی کے بارے میں بھی اس سے سوال ہو گا، دیکھ معاذ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ کی نعمتوں کے بارے میں تو کمی والا رہ جائے }۔ ۱؎ [الدیلمی فی الزھر الفردوس:339/4:ضعیف] اس آیت میں تو ہے کہ ’ ہر ایک سے اس کے عمل کی بابت سوال ہوگا ‘۔ اور سورۃ رحمان کی آیت میں ہے کہ آیت «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ» ۱؎ [55-الرحمن:39] کہ ’ اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہوں کا سوال نہ ہوگا ‘۔ ان دونوں آیتوں میں بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما تطبیق یہ ہے کہ ”یہ سوال نہ ہوگا کہ تونے یہ عمل کیا؟ بلکہ یہ سوال ہوگا کہ کیوں کیا؟“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت89){وَ قُلْ اِنِّيْۤ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ:} یہاں صرف ڈرانے کا ذکر ہے، خوش خبری کا نہیں، اس لیے کہ بات منکروں کے متعلق ہو رہی ہے۔{ ” النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ “} (کھلم کھلا ڈرانے والا) کی تفسیر میں وہ حدیث عین حسب حال ہے جو ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرمائی: [ إِنَّمَا مَثَلِيْ وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِيَ اللّٰهُ بِهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَتَي قَوْمًا فَقَالَ يَا قَوْمِ! إِنِّيْ رَأَيْتُ الْجَيْشَ بِعَيْنَيَّ، وَإِنِّيْ أَنَا النَّذِيْرُ الْعُرْيَانُ، فَالنَّجَاءَ، فَأَطَاعَهُ طَائِفَةٌ مِنْ قَوْمِهِ فَأَدْلَجُوْا فَانْطَلَقُوْا عَلٰي مَهْلِهِمْ فَنَجَوْا، وَ كَذَّبَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَصْبَحُوْا مَكَانَهُمْ، فَصَبَّحَهُمُ الْجَيْشُ فَأَهْلَكَهُمْ وَاجْتَاحَهُمْ، فَذٰلِكَ مَثَلُ مَنْ أَطَاعَنِيْ فَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِهِ، وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِيْ وَكَذَّبَ بِمَا جِئْتُ بِهِ مِنَ الْحَقِّ ] [ بخاري، الاعتصام بالکتاب و السنۃ، باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ۷۲۸۳ ] ”میری مثال اور اللہ نے جو کچھ دے کر مجھے بھیجا اس کی مثال اس آدمی کی مثال جیسی ہے جو اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”اے میری قوم! میں نے اپنی آنکھوں سے لشکر دیکھا ہے اور میں ننگا ڈرانے والا ہوں (پہلے زمانے میں لوگ دشمن سے ڈرانے کے لیے چیخنے چلانے کے ساتھ کپڑے بھی اتار دیتے تھے، ان سے تشبیہ دی ہے) سو تم بچ جاؤ، بچ جاؤ، اس کی قوم میں سے ایک گروہ نے اس کا کہنا مان لیا، وہ راے کے پہلے حصے ہی میں چل پڑے اور آرام سے چلتے ہوئے بچ نکلے اور ایک گروہ نے اسے جھٹلا دیا اور صبح تک اسی جگہ رہے۔ صبح کے وقت لشکر نے ان پر حملہ کیا اور انھیں ہلاک اور نیست و نابود کر دیا، سو یہ مثال ہے اس شخص کی جس نے میری اطاعت کی اور جو کچھ میں لے کر آیا ہوں اس کی پیروی کی اور اس کی (مثال) جس نے میری نافرمانی کی اور اس حق کو جھٹلا دیا جو لے کر میں آیا ہوں۔“
یہ اُسی کی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے اُن تفرقہ پردازوں کی طرف بھیجی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
جیسے کہ ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا
احمد رضا خان بریلوی
جیسا ہم نے بانٹنے والوں پر اتارا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) جس طرح ہم نے تقسیم کرنے والوں پر اپنا کلام نازل کیا تھا۔ (اسی طرح) آپ پر بھی نازل کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
(ایسے عذاب سے) جیسا ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے ‘۔ «الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» ۱؎ [27-النمل:49] ’ ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے ‘۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» ۱؎ [16-النحل:38] ’ وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں‘ الخ۔ اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» ۱؎ [7-الأعراف:49] ’ مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی ‘۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7283] ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4705] یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔ انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں بنتی لیکن کچھ کہنا ضرور ہے اچھا بھائی سب اسے جادوگر بتلائیں۔ اس امر پر یہ مجمع برخاست ہوا۔ اور اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
روزہ قیامت ایک ایک چیز کا سوال ہو گا ٭٭
ان کے اعمال کا سوال ان سے ان کا رب ضرور کرے گا یعنی کلمہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» سے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3126،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص قیامت کے دن تنہا تنہا اللہ کے سامنے پیش ہوگا جیسے ہر ایک شخص چودہویں رات کے چاند کو اکیلا اکیلا دیکھتا ہے۔ اللہ فرمائے گا ’ اے انسان تو مجھ سے مغرور کیوں ہو گیا؟ تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ تو نے میرے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ ‘۔“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو چیزوں کا سوال ہر ایک سے ہوگا معبود کسے بنا رکھا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانی یا نہیں؟ ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عمل اور مال کا سوال ہوگا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے حضور علیہ السلام نے فرمایا { اے معاذ! انسان سے قیامت کے دن ہر ایک عمل کا سوال ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کے آنکھ کے سرمے اور اس کے ہاتھ کی گندہی ہوئی مٹی کے بارے میں بھی اس سے سوال ہو گا، دیکھ معاذ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ کی نعمتوں کے بارے میں تو کمی والا رہ جائے }۔ ۱؎ [الدیلمی فی الزھر الفردوس:339/4:ضعیف] اس آیت میں تو ہے کہ ’ ہر ایک سے اس کے عمل کی بابت سوال ہوگا ‘۔ اور سورۃ رحمان کی آیت میں ہے کہ آیت «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ» ۱؎ [55-الرحمن:39] کہ ’ اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہوں کا سوال نہ ہوگا ‘۔ ان دونوں آیتوں میں بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما تطبیق یہ ہے کہ ”یہ سوال نہ ہوگا کہ تونے یہ عمل کیا؟ بلکہ یہ سوال ہوگا کہ کیوں کیا؟“
90۔ 1 بعض مفسرین کے نزدیک انزلنا کا مفعول العذاب محذوف ہے۔ معنی یہ ہیں کہ میں تمہیں کھل کر ڈرانے والا ہوں عذاب سے، مثل اس عذاب کے، جنہوں نے کتاب الٰہی کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے، بعض کہتے ہیں کہ اس سے قریش قوم مراد ہے، جنہوں نے اللہ کی کتاب کو تقسیم کردیا، اس کے بعض حصے کے شعر، بعض کو سحر (جادو) بعض کو کہانت اور بعض کو اساطیر الأولین (پہلوں کی کہانیاں (قرار دیا، بعض کہتے ہیں کہ یہ حضرت صالح ؑ کی قوم ہے جنہوں نے آپس میں قسم کھائی تھی کہ صالح ؑ اور ان کے گھر والوں کو رات کے اندھیرے میں قتل کردیں گے (تَقَاسَمُوْا باللّٰهِ لَـنُبَيِّتَـنَّهٗ وَاَهْلَهٗ) 27۔ النمل:49) اور آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ عضین کے ایک معنی یہ بھی کیے گئے ہیں کہ اس کی بعض باتوں پر ایمان رکھنا اور بعض کے ساتھ کفر کرنا۔
(آیت91،90) ➊ {كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِيْنَ …: ” الْمُقْتَسِمِيْنَ “} یہ {”قَسْمٌ“} سے باب افتعال کا اسم فاعل ہے، ”تقسیم کرنے والے۔“ قرطبی نے فرمایا: {” عِضِيْنَ “ ”عِضَةٌ“} کی جمع ہے، جس کا معنی کسی چیز کا جز یا ٹکڑا ہے۔ {”عَضَا يَعْضُوْ عَضْوًا الشَّيْءَ“ } اور {”عَضّٰي يُعَضِّي الشَّيْءَ“} ” کسی چیز کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا۔“ ہر ٹکڑا {”عِضَةٌ“ } کہلاتا ہے، اس کے آخر سے واؤ حذف کرکے تاء لائی گئی ہے۔ {” الْقُرْاٰنَ “} قرآن مجید کا نام ہے، پہلے انبیاء کی کتابوں کو بھی ”قرآن“ کہہ لیتے ہیں، کیونکہ وہ بھی پڑھی جاتی تھیں، گویا کتاب اور قرآن کا لفظ سب کے لیے ہے۔ ہمارے قرآن کے لیے عموماً {”هٰذَا الْقُرْآنُ“ } یا{ ”ذٰلِكَ الْكِتَابُ“} وغیرہ کا اشارہ ساتھ موجود ہوتا ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ خُفِّفَ عَلٰی دَاوٗدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْقُرْآنُ فَكَانَ يَأْمُرُ بِدَوَابِّهِ فَتُسْرَجُ فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ قَبْلَ أَنْ تُسْرَجَ دَوَابُّهُ ] [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و آتینا داود زبورا» : ۳۴۱۷ ] ”داؤد علیہ السلام پر قرآن (پڑھنا) بہت ہلکا کر دیا گیا تھا، چنانچہ وہ اپنی سواریوں کے متعلق حکم دیتے تو ان پر زین ڈالی جاتی اور آپ سواریوں پر زین ڈالے جانے سے پہلے قرآن پڑھ لیتے تھے۔“ ➋ ان آیات کی مختلف تفسیریں کی گئی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جو امام المفسرین طبری رحمہ اللہ نے پسند فرمائی ہے۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ {” كَمَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِيْنَ “} (جیسا ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر اتارا) کا تعلق پچھلی کس آیت اور کس لفظ کے ساتھ ہے اور اس مشبہ بہ کا مشبہ کیا ہے اور {” اَنْزَلْنَا “} (ہم نے اتارا) سے کیا چیز اتارنا مراد ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ{” اَنْزَلْنَا “} کا مفعول محذوف ہے{ ”اَلْعَذَابَ“ } یعنی ہم نے عذاب اتارا اور {” كَمَاۤ اَنْزَلْنَا “} کا تعلق اس سے پہلی آیت: «{ وَ قُلْ اِنِّيْۤ اَنَا النَّذِيْرُ الْمُبِيْنُ }» کے ساتھ ہے اور معنی یہ ہے، اے نبی! کہہ دے کہ بے شک میں تو تمھیں کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں، اس قسم کے عذاب سے جیسا ہم نے ان تقسیم کرنے والوں پر نازل کیا تھا جنھوں نے (اپنی) کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تھا۔ یعنی اس کے بعض حصوں کو مان لیا اور بعض کو نہ مانا۔ سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرح کے بعض کاموں کا ذکر کرکے فرمایا: «{ اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْكِتٰبِ وَ تَكْفُرُوْنَ بِبَعْضٍ }» [ البقرۃ: ۸۵ ] ” پھر کیا تم کتاب کے بعض پر ایمان لاتے ہو اور بعض کے ساتھ کفر کرتے ہو؟“ اور اس کی جزا دنیا کی رسوائی اور آخرت میں سخت ترین عذاب بیان فرمائی۔ اب یہاں آپ کے زمانے کے اسرائیلیوں کو اس قسم کے عذاب سے ڈرایا جا رہا ہے جو ان سے پہلوں پر آیا تھا، کیونکہ وہ بھی تورات کے بعض حصوں کا صاف انکار کرتے تھے، مثلاً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی تاکید والی آیات۔ اور قریش کو بھی کہ کتاب اللہ کے بعض حصوں کو جھٹلانے والوں پر جس طرح عذاب آیا میں تمھیں بھی ویسے ہی عذاب سے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں، کیونکہ تم نے بھی جھٹلانے کی روش اختیار کر رکھی ہے اور تم قرآن کے بعض حصوں کو ماننے کے لیے بالکل تیار نہیں ہو، چنانچہ تم بھی بتوں کی مذمت کی آیات نکال دینے پر ایمان لانے کی پیش کش کرتے ہو، فرمایا: «{ وَدُّوْا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُوْنَ }» [ القلم: ۹ ] ”وہ چاہتے ہیں کاش! تو نرمی کرے تو وہ بھی نرمی کریں۔“ اسی طرح ان کا یہ مطالبہ بھی ذکر فرمایا کہ اس قرآن کے علاوہ اور قرآن لے آؤ، یا اس میں تبدیلی کر دو۔ (دیکھیے یونس: ۱۵) دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” كَمَاۤ اَنْزَلْنَا “} کا تعلق آیت (۸۷) «{ وَ لَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِيْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ }» سے ہے اور {” اَنْزَلْنَا “} کا مفعول محذوف {”اَلْكِتَابَ“ } ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے آپ کو سبع مثانی اور قرآن عظیم عطا فرمائے، جیسے ان لوگوں پر کتاب نازل کی تھی جنھوں نے اپنی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، کسی حصے کو مان لیا کسی کو نہ مانا، جب ہم ان پر کتاب نازل کر سکتے ہیں تو آپ پر، جن کی پاکیزہ زندگی کے یہ لوگ چالیس سالہ گواہ ہیں، ہم سبع مثانی اور قرآن عظیم کیوں نازل نہیں کر سکتے! یہ تفسیر بھی اچھی ہے۔
(لیکن یہ وہ لوگ تھے) جنہوں نے قرآن کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے۔
عبدالسلام بن محمد
جنھوں نے کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا (کوئی مان لیا، کوئی نہ مانا)۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے ‘۔ «الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» ۱؎ [27-النمل:49] ’ ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے ‘۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» ۱؎ [16-النحل:38] ’ وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں‘ الخ۔ اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» ۱؎ [7-الأعراف:49] ’ مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی ‘۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7283] ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4705] یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔ انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں بنتی لیکن کچھ کہنا ضرور ہے اچھا بھائی سب اسے جادوگر بتلائیں۔ اس امر پر یہ مجمع برخاست ہوا۔ اور اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
روزہ قیامت ایک ایک چیز کا سوال ہو گا ٭٭
ان کے اعمال کا سوال ان سے ان کا رب ضرور کرے گا یعنی کلمہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» سے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3126،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص قیامت کے دن تنہا تنہا اللہ کے سامنے پیش ہوگا جیسے ہر ایک شخص چودہویں رات کے چاند کو اکیلا اکیلا دیکھتا ہے۔ اللہ فرمائے گا ’ اے انسان تو مجھ سے مغرور کیوں ہو گیا؟ تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ تو نے میرے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ ‘۔“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو چیزوں کا سوال ہر ایک سے ہوگا معبود کسے بنا رکھا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانی یا نہیں؟ ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عمل اور مال کا سوال ہوگا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے حضور علیہ السلام نے فرمایا { اے معاذ! انسان سے قیامت کے دن ہر ایک عمل کا سوال ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کے آنکھ کے سرمے اور اس کے ہاتھ کی گندہی ہوئی مٹی کے بارے میں بھی اس سے سوال ہو گا، دیکھ معاذ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ کی نعمتوں کے بارے میں تو کمی والا رہ جائے }۔ ۱؎ [الدیلمی فی الزھر الفردوس:339/4:ضعیف] اس آیت میں تو ہے کہ ’ ہر ایک سے اس کے عمل کی بابت سوال ہوگا ‘۔ اور سورۃ رحمان کی آیت میں ہے کہ آیت «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ» ۱؎ [55-الرحمن:39] کہ ’ اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہوں کا سوال نہ ہوگا ‘۔ ان دونوں آیتوں میں بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما تطبیق یہ ہے کہ ”یہ سوال نہ ہوگا کہ تونے یہ عمل کیا؟ بلکہ یہ سوال ہوگا کہ کیوں کیا؟“
قسم ہے تیرے پالنے والے کی! ہم ان سب سے ضرور باز پرس کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
تو تمہارے رب کی قسم ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
آپ کے پروردگار کی قسم ہم ان سے اس کی بابت ضرور سوال کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
سو تیرے رب کی قسم ہے! یقینا ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
انبیاء کی تکذیب عذاب الٰہی کا سبب ہے ٭٭
حکم ہوتا ہے کہ ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے ‘۔ «الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» ۱؎ [27-النمل:49] ’ ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے ‘۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» ۱؎ [16-النحل:38] ’ وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں‘ الخ۔ اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» ۱؎ [7-الأعراف:49] ’ مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی ‘۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7283] ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4705] یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔ انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں بنتی لیکن کچھ کہنا ضرور ہے اچھا بھائی سب اسے جادوگر بتلائیں۔ اس امر پر یہ مجمع برخاست ہوا۔ اور اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
روزہ قیامت ایک ایک چیز کا سوال ہو گا ٭٭
ان کے اعمال کا سوال ان سے ان کا رب ضرور کرے گا یعنی کلمہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» سے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3126،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص قیامت کے دن تنہا تنہا اللہ کے سامنے پیش ہوگا جیسے ہر ایک شخص چودہویں رات کے چاند کو اکیلا اکیلا دیکھتا ہے۔ اللہ فرمائے گا ’ اے انسان تو مجھ سے مغرور کیوں ہو گیا؟ تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ تو نے میرے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ ‘۔“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو چیزوں کا سوال ہر ایک سے ہوگا معبود کسے بنا رکھا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانی یا نہیں؟ ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عمل اور مال کا سوال ہوگا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے حضور علیہ السلام نے فرمایا { اے معاذ! انسان سے قیامت کے دن ہر ایک عمل کا سوال ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کے آنکھ کے سرمے اور اس کے ہاتھ کی گندہی ہوئی مٹی کے بارے میں بھی اس سے سوال ہو گا، دیکھ معاذ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ کی نعمتوں کے بارے میں تو کمی والا رہ جائے }۔ ۱؎ [الدیلمی فی الزھر الفردوس:339/4:ضعیف] اس آیت میں تو ہے کہ ’ ہر ایک سے اس کے عمل کی بابت سوال ہوگا ‘۔ اور سورۃ رحمان کی آیت میں ہے کہ آیت «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ» ۱؎ [55-الرحمن:39] کہ ’ اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہوں کا سوال نہ ہوگا ‘۔ ان دونوں آیتوں میں بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما تطبیق یہ ہے کہ ”یہ سوال نہ ہوگا کہ تونے یہ عمل کیا؟ بلکہ یہ سوال ہوگا کہ کیوں کیا؟“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت93،92) ➊ {فَوَرَبِّكَ لَنَسْـَٔلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْنَ …: ” يَعْمَلُوْنَ “} میں دل، زبان اور جسم کے تمام حصوں کے افعال شامل ہیں۔ اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ {” وَ اِنَّ السَّاعَةَ لَاٰتِيَةٌ “} (بے شک قیامت آنے والی ہے)، اب اسی بات کو آگے بڑھایا کہ تیرے رب کی قسم! ہم ان سب سے سوال کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کا کسی سے سوال کرنا ہی نہایت خوفناک بات ہے، خصوصاً جب زبان، دل اور اعضا کے ہر ہر عمل کے متعلق ہو۔ آسان حساب صرف انھی کا ہو گا جن کا دفتر پیش ہونے پر کسی سوال و جواب کے بغیر نجات ہو جائے گی۔ دیکھیے سورہ ٔانشقاق(۷ تا ۹) کی تفسیر۔ قسم کھا کر تمام کفار سے باز پرس کا یقین دلانے سے مقصود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی دینا ہے۔ ➋ ان آیات میں ذکر ہے کہ قیامت کے دن تمام کفار سے سوال کیا جائے گا، جب کہ سورۂ رحمن میں ہے: «{ فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّ }» [ الرحمٰن: ۳۹ ] ”پھر اس دن نہ کسی انسان سے اس کے گناہ کے متعلق سوال کیا جائے گا اور نہ کسی جن سے۔ “ ایک آیت میں ہے سوال کیا جائے گا، دوسری میں ہے کہ نہیں کیا جائے گا، تو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے اس کا جواب یہ دیا کہ کسی سے یہ سوال نہیں ہو گا کہ تم نے کیا کیا، کیونکہ اللہ تعالیٰ تو بندوں سے بھی زیادہ یہ بات جانتا ہے۔ سوال یہ ہو گا کہ کیوں کیا؟ اور ظاہر ہے کہ یہ سزا کی تمہید ہے۔ (ابن کثیر)
حکم ہوتا ہے کہ ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ میں تمام لوگوں کو عذاب الٰہی سے صاف صاف ڈرا دینے والا ہوں۔ یاد رکھو میرے جھٹلانے والے بھی اگلے نبیوں کے جھٹلانے والوں کی طرح عذاب الٰہی کے شکار ہوں گے ‘۔ «الْمُقْتَسِمِينَ» سے مراد قسمیں کھانے والے ہیں جو انبیاء علیہ السلام کی تکذیب اور ان کی مخالفت اور ایذاء دہی پر آپس میں قسما قسمی کر لیتے تھے جیسے کہ قوم صالح کا بیان قرآن حکیم میں ہے کہ «قَالُوا تَقَاسَمُوا بِاللَّـهِ لَنُبَيِّتَنَّهُ» ۱؎ [27-النمل:49] ’ ان لوگوں نے اللہ کی قسمیں کھا کر عہد کیا کہ راتوں رات صالح علیہ السلام اور ان کے گھرانے کو ہم موت کے گھاٹ اتار دیں گے ‘۔ اسی طرح قرآن میں ہے کہ «وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَا يَبْعَثُ اللَّهُ مَنْ يَمُوتُ» ۱؎ [16-النحل:38] ’ وہ قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ مردے پھر جینے کے نہیں‘ الخ۔ اور جگہ ان کا اس بات پر قسمیں کھانے کا ذکر ہے کہ «أَهَـٰؤُلَاءِ الَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ اللَّـهُ بِرَحْمَةٍ» ۱؎ [7-الأعراف:49] ’ مسلمانوں کو کبھی کوئی رحمت نہیں مل سکتی ‘۔ الغرض جس چیز کو نہ ما نتے اس پر قسمیں کھانے کی انہیں عادت تھی اس لیے انہیں کہا گیا ہے۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { میری اور ان ہدایات کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے اس شخص کی سی ہے جو اپنی قوم کے پاس آ کر کہے کہ لوگو میں نے دشمن کا لشکر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے دیکھو ہوشیار ہو جاؤ بچنے اور ہلاک نہ ہونے کے سامان کر لو۔ اب کچھ لوگ اس کی بات مان لیتے ہیں اور اسی عرصہ میں چل پڑتے ہیں اور دشمن کے پنجے سے بچ جاتے ہیں لیکن بعض لوگ اسے جھوٹا سمجھتے ہیں اور وہیں بے فکری سے پڑے رہتے ہیں کہ ناگاہ دشمن کا لشکر آ پہنچتا ہے اور گھیر گھار کر انہیں قتل کر دیتا ہے پس یہ ہے مثال میرے ماننے والوں کی اور نا ماننے والوں کی } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7283] ان لوگوں نے اللہ کی ان کتابوں کو جو ان پر اتری تھیں پارہ پارہ کر دیا جس مسئلے کو جی چاہا مانا جس سے دل گھبرایا چھوڑ دیا۔ بخاری شریف میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اس سے مراد اہل کتاب ہیں کہ کتاب کے بعض حصے کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں مانتے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4705] یہ بھی مروی ہے کہ مراد اس سے کفار کا کتاب اللہ کی نسبت یہ کہنا ہے کہ یہ جادو ہے، یہ کہانت ہے، یہ اگلوں کی کہانی ہے، اس کا کہنے والا جادوگر ہے، مجنوں ہے، کاہن ہے وغیرہ۔
سیرت ابن اسحاق میں ہے کہ ولید بن مغیرہ کے پاس سرداران قریش جمع ہوئے حج کا موسم قریب تھا اور یہ شخص ان میں بڑا شریف اور ذی رائے سمجھا جاتا تھا اس نے ان سب سے کہا کہ دیکھو حج کے موقع پر دور دراز سے تمام عرب یہاں جمع ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ تمہارے اس ساتھی نے ایک اودھم مچا رکھا ہے لہٰذا اس کی نسبت ان بیرونی لوگوں سے کیا کہا جائے یہ بتاؤ اور کسی ایک بات پر اجماع کرلو کہ سب وہی کہیں۔ ایسا نہ ہو کوئی کچھ کہے کوئی کچھ کہے اس سے تو تمہارا اعتبار اٹھ جائے گا اور وہ پردیسی تمہیں جھوٹا خیال کریں گے۔ انہوں نے کہا ابو عبد شمس آپ ہی کوئی ایسی بات تجویز کر دیجئیے اس نے کہا پہلے تم اپنی تو کہو تاکہ مجھے بھی غور و خوض کا موقعہ ملے انہوں نے کہا پھر ہماری رائے میں تو ہر شخص اسے کاہن بتلائے۔ اس نے کہا یہ تو واقعہ کے خلاف ہے لوگوں نے کہا پھر مجنوں بالکل درست ہے۔ اس نے کہا یہ بھی غلط ہے کہا اچھا تو شاعر کہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ شعر جانتا ہی نہیں کہا اچھا پھر جادوگر کہیں؟ کہا اسے جادو سے مس بھی نہیں اس نے کہا سنو واللہ اس کے قول میں عجب مٹھاس ہے ان باتوں میں سے تم جو کہو گے دنیا سمجھ لے گی کہ محض غلط اور سفید جھوٹ ہے۔ گو کوئی بات نہیں بنتی لیکن کچھ کہنا ضرور ہے اچھا بھائی سب اسے جادوگر بتلائیں۔ اس امر پر یہ مجمع برخاست ہوا۔ اور اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔
روزہ قیامت ایک ایک چیز کا سوال ہو گا ٭٭
ان کے اعمال کا سوال ان سے ان کا رب ضرور کرے گا یعنی کلمہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» سے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3126،قال الشيخ الألباني:ضعیف] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں کہ تم میں سے ہر ایک شخص قیامت کے دن تنہا تنہا اللہ کے سامنے پیش ہوگا جیسے ہر ایک شخص چودہویں رات کے چاند کو اکیلا اکیلا دیکھتا ہے۔ اللہ فرمائے گا ’ اے انسان تو مجھ سے مغرور کیوں ہو گیا؟ تو نے اپنے علم پر کہاں تک عمل کیا؟ تو نے میرے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ ‘۔“ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دو چیزوں کا سوال ہر ایک سے ہوگا معبود کسے بنا رکھا تھا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مانی یا نہیں؟ ابن عیینہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں عمل اور مال کا سوال ہوگا۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے حضور علیہ السلام نے فرمایا { اے معاذ! انسان سے قیامت کے دن ہر ایک عمل کا سوال ہوگا۔ یہاں تک کہ اس کے آنکھ کے سرمے اور اس کے ہاتھ کی گندہی ہوئی مٹی کے بارے میں بھی اس سے سوال ہو گا، دیکھ معاذ ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن اللہ کی نعمتوں کے بارے میں تو کمی والا رہ جائے }۔ ۱؎ [الدیلمی فی الزھر الفردوس:339/4:ضعیف] اس آیت میں تو ہے کہ ’ ہر ایک سے اس کے عمل کی بابت سوال ہوگا ‘۔ اور سورۃ رحمان کی آیت میں ہے کہ آیت «فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُسْأَلُ عَن ذَنبِهِ إِنسٌ وَلَا جَانٌّ» ۱؎ [55-الرحمن:39] کہ ’ اس دن کسی انسان یا جن سے اس کے گناہوں کا سوال نہ ہوگا ‘۔ ان دونوں آیتوں میں بقول ابن عباس رضی اللہ عنہما تطبیق یہ ہے کہ ”یہ سوال نہ ہوگا کہ تونے یہ عمل کیا؟ بلکہ یہ سوال ہوگا کہ کیوں کیا؟“
پس اے نبیؐ، جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے، اُسے ہانکے پکارے کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروا نہ کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ اس حکم کو جو آپ کو کیا جارہا ہے کھول کر سنا دیجئے! اور مشرکوں سے منھ پھیر لیجئے
احمد رضا خان بریلوی
تو اعلانیہ کہہ دو جس بات کا تمہیں حکم ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لو، ف۱۰۳)
علامہ محمد حسین نجفی
پس جس چیز کا آپ کو حکم دیا گیا ہے اس کا واضح اعلان کر دیں اور مشرکوں سے اعراض کریں (ان کی کچھ پروا نہ کریں)۔
عبدالسلام بن محمد
پس اس کا صاف اعلان کر دے جس کا تجھے حکم دیا جاتا ہے اور مشرکوں سے منہ پھیر لے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ’ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے ‘۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔ «وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» ۱؎ [68-القلم:9] ’ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں ‘۔ ’ تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ‘۔
چنانچہ { ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2222:ضعیف] اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ { اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے }۔ بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔ کہتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ ’ انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو ‘۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا ‘ } }۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح] { حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» ۱؎ [74-المدثر:43-47] ’ جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: { تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ } انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔ اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1117] بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔ پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
94۔ 1 اَ صْدَعْ کے معنی ہیں کھول کر بیان کرنا، اس آیت کے نزول سے قبل آپ چھپ کر تبلیغ فرماتے تھے، اس کے بعد آپ نے کھلم کھلا تبلیغ شروع کردی۔ (فتح القدیر)
(آیت94) {فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ …: ” صَدَعَ يَصْدَعُ، الْأَمْرَ “} کسی معاملے کو خوب کھول کر بیان کرنا اور {”صَدَعَ بِالْحَقِّ“} کھلم کھلا بلند آواز سے حق کا اظہار کرنا۔ شروع میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم خفیہ اسلام کی دعوت دیتے تھے، اس کے بعد ان آیات میں چھپ کر دعوت دینے کے بجائے صاف اعلانیہ طور پر اللہ تعالیٰ کے احکام سنانے کا اور مشرکین کی پروا نہ کرتے ہوئے ان سے اعراض کرنے کا حکم ہوا اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے خود نمٹنے کا ذمہ اٹھایا جو آپ سے استہزا کرتے اور ٹھٹھا اڑاتے تھے۔ یہ حکم مکہ میں نازل ہوا، مدینہ گئے تو وہاں کفار اور اہل کتاب سے جنگ شروع ہوئی اور خطرے کے پیش نظر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم آپ کا پہرا دیتے تھے،جب سورۂ مائدہ کی آیت (۶۷) «{ يٰۤاَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ }» (اے رسول! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اگر تو نے نہ کیا تو تو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا) اتری تو آپ نے خیمہ سے سر نکال کر پہرے داروں سے فرمایا: [ يَا أَيُّهَا النَّاسُ! انْصَرِفُوْا، فَقَدْ عَصَمَنِيَ اللّٰهُ ] [ ترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورۃ المائدۃ: ۳۰۴۶۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: ۵ /۶۴۴، ح: ۲۴۸۹ ] ”لوگو! چلے جاؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ کر دیا ہے۔“
تمہاری طرف سے ہم اُن مذاق اڑانے والوں کی خبر لینے کے لیے کافی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ سے جو لوگ مسخراپن کرتے ہیں ان کی سزا کے لیے ہم کافی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ان ہنسنے والوں پر ہم تمہیں کفا یت کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو آپ کا مذاق اڑاتے ہیں ہم ان کے لئے کافی ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم تجھے مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں کافی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ’ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے ‘۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔ «وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» ۱؎ [68-القلم:9] ’ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں ‘۔ ’ تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ‘۔
چنانچہ { ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2222:ضعیف] اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ { اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے }۔ بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔ کہتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ ’ انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو ‘۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا ‘ } }۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح] { حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» ۱؎ [74-المدثر:43-47] ’ جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: { تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ } انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔ اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1117] بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔ پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت95){اِنَّا كَفَيْنٰكَ الْمُسْتَهْزِءِيْنَ:} ہم ان سے نبٹ لیں گے، آپ بے خوف و خطر دعوت و تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتے رہیے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے والے (بڑے بڑے یہ پانچ) آدمی تھے، ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث زہری، ابوزمعہ اسود بن مطلب، حارث بن عیطل سہمی اور عاص بن وائل۔ جبریل علیہ السلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے مذاق اڑانے والوں کی شکایت کی۔ حدیث لمبی ہے، خلاصہ یہ کہ جبریل علیہ السلام نے ان کے جسم کے کسی نہ کسی حصے کی طرف اشارہ کیا اور وہ پانچوں بری طرح فوت ہوئے۔ [ السنن الکبریٰ للبیہقی:8/9، ح: ۱۸۱۸۷ ] جو مذاق اڑانے والے باقی رہے ان کا انجام عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا: [ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّيْ عِنْدَ الْبَيْتِ، وَ أَبُوْجَهْلٍ وَأَصْحَابٌ لَهُ جُلُوْسٌ، إذْ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ أَيُّكُمْ يَجِيْئُ بِسَلَی جَزُوْرِ بَنِيْ فُلاَنٍ فَيَضَعُهُ عَلٰی ظَهْرِ مُحَمَّدٍ إِذَا سَجَدَ؟ فَانْبَعَثَ أَشْقَی الْقَوْمِ، فَجَاءَ بِهِ فَنَظَرَ حتّٰی إِذَا سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضَعَهُ عَلٰی ظَهْرِهِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ وَأَنَا أَنْظُرُ، لاَ أُغْنِيْ شَيْئًا، لَوْ كَانَتْ لِيْ مَنَعَةٌ، قَالَ فَجَعَلُوْا يَضْحَكُوْنَ وَيُحِيْلُ بَعْضُهُمْ عَلٰی بَعْضٍ، وَرَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ لاَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ حَتّٰی جَاءَتْهُ فَاطِمَةُ فَطَرَحَتْهُ عَنْ ظَهْرِهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ اَللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِقُرَيْشٍ، ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، فَشَقَّ عَلَيْهِمْ إِذْ دَعَا عَلَيْهِمْ، قَالَ وَكَانُوْا يَرَوْنَ أنَّ الدَّعْوَةَ فِيْ ذٰلِكَ الْبَلَدِ مُسْتَجَابَةٌ، ثُمَّ سَمَّی اَللّٰهُمَّ عَلَيْكَ بِأَبِيْ جَهْلٍ، وَعَلَيْكَ بِعُتْبَةَ بْنِ رَبِيْعَةَ، وَشَيْبَةَ بْنِ رَبِيْعَةَ، وَالْوَليْدِ بْنِ عُتْبَةَ، وَأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ، وَعُقَبَةَ بْنِ أَبِيْ مُعَيْطٍ، وَعَدَّ السَّابِعَ فَلَمْ نَحْفَظْهُ، قَالَ فَوَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الَّذِيْنَ عَدَّ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَرْعَی فِي الْقَلِيْبِ قَلِيْبِ بَدْرٍ ] [ بخاری، الوضوء، باب إذا ألقي علٰی ظہر المصلی قدر…: ۲۴۰ ] ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے اور ابوجہل اور اس کے کچھ ساتھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، انھوں نے آپس میں کہا کہ تم میں سے کون ہے جو بنو فلاں کی ذبح کردہ اونٹنی کے رحم میں بچے کے اوپر والی جھلی اٹھا کر لائے اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) جب سجدہ کرے تو اس کی پیٹھ پر رکھ دے۔ تو ان میں سے سب سے بدبخت شخص اٹھا اور اس نے وہ جھلی لا کر آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دی۔ میں دیکھ رہا تھا مگر کچھ نہ کر سکتا تھا، کاش! مجھ میں آپ کے دفاع کی طاقت ہوتی۔ تو وہ سب ہنستے ہنستے ایک دوسرے پر لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے ہی میں رہے، سر نہیں اٹھایا، یہاں تک کہ فاطمہ رضی اللہ عنھا آئیں اور اسے آپ کی کمر سے اتار پھینکا، تو آپ نے سراٹھایا اور کہا: ”یا اللہ! قریش کو پکڑ۔“ آپ کی یہ بددعا ان پر بڑی شاق گزری، وہ سمجھتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے۔ پھر آپ نے نام لے کر فرمایا: ”اے اللہ! ابوجہل کو پکڑ، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ولید بن عتبہ، امیہ بن خلف اور عقبہ بن ابی معیط کو پکڑ۔“ ایک ساتواں بھی گنا جو ہمیں یاد نہیں رہا۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے ان تمام آدمیوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گنے تھے، بدر کے کنویں میں ہلاک شدہ گرے ہوئے دیکھا۔“
جو اللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی خدا قرار دیتے ہیں عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبود مقرر کرتے ہیں انہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
جو ا لله کے ساتھ دوسرا معبود ٹھہراتے ہیں تو اب جان جائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو خدا کے ساتھ دوسرا الٰہ قرار دیتے ہیں انہیں عنقریب (اپنا انجام) معلوم ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
جو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بناتے ہیں، سو عنقریب جان لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ’ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے ‘۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔ «وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» ۱؎ [68-القلم:9] ’ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں ‘۔ ’ تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ‘۔
چنانچہ { ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2222:ضعیف] اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ { اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے }۔ بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔ کہتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ ’ انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو ‘۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا ‘ } }۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح] { حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» ۱؎ [74-المدثر:43-47] ’ جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: { تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ } انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔ اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1117] بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔ پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت96){ الَّذِيْنَ يَجْعَلُوْنَ مَعَ اللّٰهِ …:} نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استہزا کے ساتھ ساتھ ان کا سب سے بڑا جرم شرک ذکر کر کے فرمایا، یہ لوگ عنقریب انجام دیکھ لیں گے۔ دنیا میں ان کے انجام کا ذکر اوپر گزرا، آخرت کا معاملہ تو بیان ہی میں نہیں آ سکتا۔
ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہمیں خوب علم ہے کہ ان کی باتوں سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہمیں معلوم ہے کہ ان کی باتوں سے تم دل تنگ ہوتے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بے شک ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ (یہ لوگ) کہتے رہتے ہیں اس سے آپ کا دل تنگ ہوتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم جانتے ہیں کہ تیرا سینہ اس سے تنگ ہوتا ہے جو وہ کہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ’ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے ‘۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔ «وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» ۱؎ [68-القلم:9] ’ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں ‘۔ ’ تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ‘۔
چنانچہ { ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2222:ضعیف] اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ { اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے }۔ بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔ کہتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ ’ انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو ‘۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا ‘ } }۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح] { حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» ۱؎ [74-المدثر:43-47] ’ جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: { تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ } انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔ اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1117] بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔ پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت97){وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّكَ يَضِيْقُ …: } اللہ تعالیٰ نے کفار کے استہزا اورکفر و شرک پر اصرار سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت تاکید والے الفاظ میں تسلی دی۔چنانچہ لام تاکید اور {”قَدْ“} برائے تحقیق کے ساتھ اس بات کا اظہار فرمایا کہ ہم آپ کے حالات سے بے خبر نہیں، بلکہ ہر وقت ہماری توجہ آپ کی طرف ہے، اب بھی اور آئندہ بھی اور ہم جانتے ہیں کہ یقینا آپ کاسینہ ان کی باتوں سے تنگ پڑجاتاہے۔
اس کا علاج یہ ہے کہ اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجا لاؤ
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ اپنے پروردگار کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہیں اور سجده کرنے والوں میں شامل ہو جائیں
احمد رضا خان بریلوی
تو اپنے رب کو سراہتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور سجدہ والوں میں ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
تو اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر اور سجدہ کرنے والوں میں سے ہو جا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ’ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے ‘۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔ «وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» ۱؎ [68-القلم:9] ’ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں ‘۔ ’ تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ‘۔
چنانچہ { ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2222:ضعیف] اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ { اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے }۔ بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔ کہتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ ’ انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو ‘۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا ‘ } }۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح] { حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» ۱؎ [74-المدثر:43-47] ’ جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: { تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ } انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔ اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1117] بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔ پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت98) ➊ {فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ:} کفار کی زیادتیوں اور استہزا کی و جہ سے سینہ کی اس تنگی کا علاج بیان فرمایا کہ اگر آپ کا سینہ اس سے تنگ ہو تو آپ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور حمد کریں۔ تسبیح کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کو ہر عیب، نقص اور ایسی چیزوں سے پاک قرار دینا جو اس کے لائق نہیں اور حمد کا معنی اللہ کی ان تمام صفات کمال کے ساتھ تعریف کرنا جو اس کی شان کے لائق ہیں۔ اہل علم فرماتے ہیں کہ تسبیح اور حمد میں اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کمال آجاتی ہیں، کیونکہ تسبیح میں تمام صفات سلبیہ (یعنی ہر عیب اور کمی سے پاک ہونا) آ گئیں اور حمد میں تمام صفات ثبوتیہ (یعنی ہر خوبی کا مالک ہونا) آ گئیں، چنانچہ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر ہر مصیبت اور تنگی میں صبر اور تسبیح و حمد کا حکم دیا، جیسا کہ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۳۰)، فرقان (۵۸)، مومن (۵۵)، طور (۴۸) اور سورۂ نصر (۳) وغیرہ۔ ➋ { وَ كُنْ مِّنَ السّٰجِدِيْنَ:} یعنی نماز پڑھنے والوں میں سے ہو جا، جس طرح قیام اور {”رَكْعَةٌ“ } (رکوع) سے مراد پوری نماز لی جاتی ہے، حالانکہ قیام اور {”رَكْعَةٌ“} (رکوع) نماز کا جز ہیں، کل نہیں، مگر جز سے مراد کل ہے، اسی طرح یہاں سجدہ سے مراد نماز ہے، اسی لیے اس آیت پر سجدہ نہیں۔ سجدے کا ذکر خصوصاً اس لیے کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَقْرَبُ مَا يَكُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّهِ وَهُوَ سَاجِدٌ، فَأَكْثِرُوا الدُّعَاءَ] [ مسلم، الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع و السجود: ۴۸۲، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے تو (سجدے میں) دعا کثرت سے کیا کرو۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر پیش آنے والی مصیبت کا علاج اللہ کا ذکر، خصوصاً تسبیح و تحمید اور نماز ہے، ان کی برکت سے دل کو تسلی بھی ہو گی اور فکر و غم کے بادل بھی چھٹ جائیں گے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کے چکی پیسنے اور مشک میں پانی ڈھونے کی مشقت کی و جہ سے خادمہ کے لیے درخواست پر انھیں سوتے وقت تسبیحات فاطمہ کا حکم دیا اور ان تسبیحات کو خادمہ سے بہتر قرار دیا اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل تھا کہ جب آپ کو کوئی معاملہ پیش آتا تو نماز میں مصروف ہو جاتے۔ [ أبوداوٗد، التطوع، باب وقت قیام النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل: ۱۳۱۹۔ مسند أحمد: ۵ /۳۸۸، ح: ۲۳۳۶۱ ]
اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رب کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہیں یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے
احمد رضا خان بریلوی
اور مرتے دم تک اپنے رب کی عبادت میں رہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس وقت تک برابر اپنے پروردگار کی عبادت کرتے رہیں جب تک کہ تمہارے پاس موت نہ آجائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اپنے رب کی عبادت کر، یہاں تک کہ تیرے پاس یقین آجائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے مخالفین کا عبرتناک انجام ٭٭
حکم ہو رہا ہے کہ ’ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اللہ کی باتیں لوگوں کو صاف صاف بے جھجک پہنچا دیں نہ کسی کی رو رعایت کیجئے نہ کسی کا ڈر خوف کیجئے۔ مشرکوں کے سامنے توحید کھلم کھلا بیان کردیجئے۔ خود عمل کرکے دوسروں تک پہنچایئے۔ نماز میں قرآن با آواز بلند تلاوت کیجئے ‘۔ اس آیت کے اترنے سے پہلے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ تبلیغ فرماتے تھے لیکن اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم نے کھلے طور پر اشاعت دین شروع کر دی۔ «وَدُّوا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ» ۱؎ [68-القلم:9] ’ ان مذاق اڑانے والوں کو ہم پر چھوڑ دے ہم خود ان سے نمٹ لیں گے تو اپنی تبلیغ کے فریضے میں کوتاہی نہ کر یہ تو چاہتے ہیں کہ ذرا سی سستی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیکھیں تو خود بھی دست بردار ہو جائیں ‘۔ ’ تو ان سے مطلقاً خوف نہ کر اللہ تعالیٰ تیرا حافظ و ناصر ہے وہ تجھے ان کے شر سے بچا لے گا ‘۔ اور آیت میں ہے «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا، اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے ‘۔
چنانچہ { ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے جا رہے تھے کہ بعض مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھیڑا اسی وقت جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہیں نشتر مارا جس سے ان کے جسموں میں ایسا ہو گیا جیسے نیزے کے زخم ہوں اسی میں وہ مر گئے }۔ ۱؎ [مسند بزار:2222:ضعیف] اور یہ لوگ مشرکین کے بڑے بڑے رؤسا تھے۔ بڑی عمر کے تھے اور نہایت شریف گنے جاتے تھے۔ بنو اسد کے قبیلے میں سے تو اسود بن عبدالمطلب ابو زمعہ، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑا ہی دشمن تھا، ایذائیں دیا کرتا تھا اور مذاق اڑایا کرتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگ آ کر اس کے لیے بد دعا بھی کی تھی کہ { اے اللہ اسے اندھا کر دے بے اولاد کر دے }۔ بنی زہر میں سے اسود تھا اور بنی مخزوم میں سے ولید تھا اور بنی سہم میں سے عاص بن وائل تھا۔ اور خزاعہ میں سے حارث تھا۔ یہ لوگ برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذاء رسائی کے درپے لگے رہتے تھے اور لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ابھارا کرتے تھے اور جو تکلیف ان کے بس میں ہوتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچایا کرتے جب یہ اپنے مظالم میں حد سے گزر گئے اور بات بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے آیت «فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَلَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ» [15-الحجر:94-96] تک کی آیتیں نازل فرمائیں۔ کہتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم طواف کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام آئے بیت اللہ شریف میں آپ کے پاس کھڑے ہو گئے اتنے میں اسود بن عبد یغوث آپ کے پاس سے گزرا تو جبرائیل علیہ السلام نے اس کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا اسے پیٹ کی بیماری ہو گئی اور اسی میں وہ مرا۔ اتنے میں ولید بن مغیرہ گزرا اس کی ایڑی ایک خزاعی شخص کے تیر کے پھل سے کچھ یونہی سی چھل گئی تھی اور اسے بھی دو سال گزر چکے تھے جبرائیل علیہ السلام نے اسی کی طرف اشارہ کیا وہ پھول گئی، پکی اور اسی میں وہ مرا۔ پھر عاص بن وائل گزرا۔ اس کے تلوے کی طرف اشارہ کیا کچھ دنوں بعد یہ طائف جانے کے لیے اپنے گدھے پر سوار چلا۔ راستے میں گر پڑا اور تلوے میں کیل گھس گئی جس نے اس کی جان لی۔ حارث کے سر کی طرف اشارہ کیا اسے خون آنے لگا اور اسی میں مرا }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:550/7:اسناده فیه جهالته]
ان سب موذیوں کا سردار ولید بن مغیرہ تھا اسی نے انہیں جمع کیا تھا پس یہ پانچ یا سات شخص تھے جو جڑ تھے اور ان کے اشاروں سے اور ذلیل لوگ بھی کمینہ پن کی حرکتیں کرتے رہتے تھے۔ یہ لوگ اس لغو حرکت کے ساتھ ہی یہ بھی کرتے تھے کہ اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتے تھے۔ ’ انہیں اپنے کرتوت کا مزہ ابھی ابھی آ جائے گا۔ اور بھی جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اللہ کے ساتھ شرک کرے اس کا یہی حال ہے۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ان کی بکواس سے اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں تکلیف ہوتی ہے دل تنگ ہوتا ہے لیکن تم ان کا خیال بھی نہ کرو۔ اللہ تمہارا مدد گار ہے۔ تم اپنے رب کے ذکر اور اس کی تسبیح اور حمد میں لگے رہو۔ اس کی عبادت جی بھر کر کرو نماز کا خیال رکھو سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دو ‘۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’ اے ابن آدم شروع دن کی چار رکعت سے عاجز نہ ہو میں تجھے آخر دن تک کفایت کروں گا ‘ } }۔ [سنن ابوداود:1289،قال الشيخ الألباني:صحیح] { حضور علیہ السلام کی عادت مبارک تھی کہ جب کوئی گھبراہٹ کا معاملہ آ پڑتا تو آپ نماز شروع کر دیتے }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:1319،قال الشيخ الألباني:حسن]
یقین کا مفہوم ٭٭
یقین سے مراد اس آخری آیت میں موت ہے اس کی دلیل سورۃ المدثر کی وہ آیتیں ہیں جن میں بیان ہے کہ «قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ حَتَّىٰ أَتَانَا الْيَقِينُ» ۱؎ [74-المدثر:43-47] ’ جہنمی اپنی برائیاں کرتے ہوئے کہیں گے کہ ہم نمازی نہ تھے مسکینوں کو کھانا کھلاتے نہیں تھے باتیں بنایا کرتے تھے اور قیامت کو جھٹلاتے تھے یہاں تک کہ موت آ گئی ‘، یہاں بھی موت کی جگہ لفظ یقین ہے۔ ایک صحیح حدیث میں بھی ہے کہ { عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے انتقال کے بعد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو انصار کی ایک عورت ام العلاء نے کہا کہ اے ابو السائب اللہ کی تجھ پر رحمتیں ہوں بیشک اللہ تعالیٰ نے تیری تکریم و عزت کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: { تجھے کیسے یقین ہو گیا کہ اللہ نے اس کا اکرام کیا؟ } انہوں نے جواب دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ قربان ہوں پھر کون ہوگا جس کا اکرام ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو لَهُ الْخَيْرَ» سنو اسے موت آ چکی اور مجھے اس کے لئے بھلائی کی امید ہے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1243] اس حدیث میں بھی موت کی جگہ یقین کا لفظ ہے۔ اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ نماز وغیرہ عبادات انسان پر فرض ہیں جب تک کہ اس کی عقل باقی رہے اور ہوش حواس ثابت ہوں جیسی اس کی حالت ہو اسی کے مطابق نماز ادا کرلے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ { کھڑے ہو کر نماز ادا کر، نہ ہو سکے تو بیٹھ کر، نہ ہو سکے تو کروٹ پر لیٹ کر }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1117] بد مذہبوں نے اس سے اپنے مطلب کی ایک بات گھڑلی ہے کہ جب تک انسان درجہ کمال تک نہ پہنچے اس پر عبادات فرض رہتی ہیں لیکن جب معرفت کی منزلیں طے کر چکا تو عبادت کی تکلیف ساقط ہو جاتی ہے یہ سراسر کفر ضلالت اور جہالت ہے۔ یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ انبیاء اور حضور سرور انبیاء علیہم السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم معرفت کے تمام درجے طے کر چکے تھے اور دین کے علم و عرفان میں سب دنیا سے کامل تھے رب کی صفات اور ذات کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے باوجود اس کے سب سے زیادہ اللہ کی عبادت کرتے تھے اور رب کی اطاعت میں تمام دنیا سے زیادہ مشغول رہتے تھے اور دنیا کے آخری دم تک اسی میں لگے رہے۔ پس ثابت ہے کہ یہاں مراد یقین سے موت ہے تمام مفسرین صحابہ تابعین و غیرہ کا یہی مذہب ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» اللہ تعالیٰ کا شکرو احسان ہے اس نے جو ہمیں ہدایت عطا فرمائی ہے اس پر ہم اس کی تعریفیں کرتے ہیں اسی سے نیک کاموں میں مدد پاتے ہیں اسی کی پاک ذات پر ہمارا بھروسہ ہے ہم اس مالک حاکم سے دعا کرتے ہیں کہ وہ بہترین اور کامل اسلام ایمان اور نیکی پر موت دے وہ جواد ہے اور کریم ہے۔ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» سورۃ الحجر کی تفسیر ختم ہوئی اللہ تعالیٰ قبول فرمائے «وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى الْهِدَايَةِ» ۔
99۔ 1 مشرکین آپ کو ساحر، مجنون، کاہن وغیرہ کہتے جس سے بشری جبلت کی وجہ سے آپ کبیدہ خاطر ہوتے، اللہ تعالیٰ نے تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ حمد وثنا کریں، نماز پڑھیں اور اپنے رب کی عبادت کریں، اس سے آپ کو قلبی سکون بھی ملے گا اور اللہ کی مدد بھی حاصل ہوگی، سجدے سے یہاں نماز اور یقین سے مراد موت ہے۔
(آیت99){وَ اعْبُدْ رَبَّكَ حَتّٰى يَاْتِيَكَ الْيَقِيْنُ:} یعنی موت آنے تک اپنے رب کی عبادت پر قائم رہیں۔ موت کو ”یقین“ اس لیے فرمایا کہ ہر جان دار کے لیے اس کا آنا یقینی ہے۔ قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی ”یقین“ کا لفظ موت کے معنی میں آیا ہے، جیسے فرمایا: «{ حَتّٰۤى اَتٰىنَا الْيَقِيْنُ }» [ المدثر: ۴۷ ] ”یہاں تک کہ ہمیں یقین آ پہنچا (یعنی موت ا ٓگئی)۔“ اس لیے سب قابل ذکر مفسرین نے اس آیت میں یقین کو بمعنی موت مراد لیا ہے۔ تو جب تک ہوش رہے نماز اوردوسری عبادات زندگی کے آخری دم تک حسب طاقت کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر یا پہلو کے بل لیٹ کر ادا کرنا فرض ہے۔ بعض جاہل اور بے عمل پیر اس آیت کی رو سے کہتے ہیں کہ عبادت کرتے کرتے جب یقین حاصل ہو جائے تو پھر عبادت کی ضرورت نہیں ہے، اس لیے وہ اپنے آپ کو نماز، روزہ اور عبادات سے مستثنیٰ قرار دے لیتے ہیں۔ یہ تفسیر کتاب اللہ کے ساتھ کھیل ہے۔ کیا یہ جس یقین کا نام لیتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو حاصل نہ ہو سکا کہ وہ آخر وقت تک نماز، روزہ اور دوسری عبادات کی پابندی کرتے رہے۔ بہرحال آیت میں یقین سے مراد یقین قلبی لینا اور نماز روزہ چھوڑ دینا صریح بے دینی ہے۔