بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 76
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 76
آیت نمبر: 76 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّہَا لَبِسَبِیۡلٍ مُّقِیۡمٍ ﴿۷۶﴾
اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے
یہ بستی ایسی راه پر ہے جو برابر چلتی رہتی (عام گذرگاه) ہے۔
اور بیشک وہ بستی اس راہ پر ہے جو اب تک چلتی ہے،
اور وہ (بستی) ایک عام گزرگاہ پر واقع ہے جو اب تک قائم ہے۔
اور بے شک وہ (بستی) یقینا ایک دائمی (آباد) راستے پر ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آل ہود کا عبرتناک انجام ٭٭

سورج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کر دینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہو گیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورۃ ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لیے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں اور مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تامل اور غور و خوض کر کے اپنی حالت سنوار لیتے ہیں۔ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی عقلمندی اور دور بینی کا لحاظ رکھو وہ اللہ کے نور کے ساتھ دیکھتا ہے }۔ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { وہ اللہ کے نور اور اللہ کی توفیق سے دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21255:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { اللہ کے بندے لوگوں کو ان نشانات سے پہچان لیتے ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21252:حسن] ‏‏‏‏ یہ بستی شارع عام پر موجود ہے جس پر ظاہری اور باطنی عذاب آیا، الٹ گئی، پتھر کھائے، عذاب کا نشانہ بنی۔ اب ایک گندے اور بد مزہ کھائی کی جھیل سے بنی ہوئی ہے۔ «وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ وَبِاللَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ» ۱؎ [37-الصفات:137،138] ‏‏‏‏ ’ تم رات دن وہاں سے آتے جاتے ہو تعجب ہے کہ پھر بھی عقلمندی سے کام نہیں لیتے ‘۔ غرض صاف واضح اور آمد و رفت کے راستے پر یہ الٹی ہو بستی موجود ہے۔ یہ بھی معنی کئے ہیں کہ «وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [36-یس:12] ‏‏‏‏ ’ کتاب مبین میں ہے ‘ لیکن یہ معنی کچھ زیادہ بند نہیں بیٹھتے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے یہ ایک کھلی دلیل اور جاری نشانی ہے کہ کس طرح اللہ اپنے والوں کو نجات دیتا ہے اور اپنے دشمنوں کو غارت کرتا ہے۔

📖 احسن البیان

76۔ 1 مراد شاہراہ ہے، یعنی قوم لوط کی بستیاں مدینے سے شام کو جاتے ہوئے راستے میں پڑتی ہیں۔ ہر آنے جانے والے کو انہی بستیوں سے گزر کر جانا پڑتا ہے۔ کہتے ہیں یہ پانچ بستیاں تھیں، کہا جاتا ہے کہ جبرائیل ؑ نے اپنے بازو پر انھیں اٹھایا اور آسمان پر چڑھ گئے حتٰی کہ آسمان والوں نے ان کے کتوں کے بھونکنے اور مرغوں کے بولنے کی آوازیں سنیں اور پھر ان کو زمین پردے مارا (ابن کثیر) مگر اس بات کی کوئی سند نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت76){وَ اِنَّهَا لَبِسَبِيْلٍ مُّقِيْمٍ:مُقِيْمٍ “} ”ہمیشہ رہنے والا، دائمی“ یعنی جو قافلے حجاز سے شام یا عراق سے مصر جاتے ہیں یہ بستی ان کے راستے میں پڑتی ہے، مگر لوگ ہیں کہ اس میں تباہی کے آثار دیکھ کر کوئی عبرت حاصل نہیں کرتے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اِنَّكُمْ لَتَمُرُّوْنَ عَلَيْهِمْ مُّصْبِحِيْنَ (137) وَ بِالَّيْلِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ }» ‏‏‏‏ [ الصافات: ۱۳۷، ۱۳۸ ] ”اور بلاشبہ تم یقینا صبح جاتے ہوئے ان پر سے گزرتے ہو اور رات کو بھی، تو کیا تم سمجھتے نہیں؟“ جدید محققین کا خیال ہے کہ یہ بستی بحرمیت (جسے بحر لوط یا اردو میں بحر مردار بھی کہتے ہیں) کے جنوب مشرق میں واقع تھی، بلکہ اس زمانہ میں اردن کی حکومت بحرمیت کے جنوبی حصہ سے اس کے تباہ شدہ آثار برآمد کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔
← پچھلی آیت (75) پوری سورۃ اگلی آیت (77) →