بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 77
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 77
آیت نمبر: 77 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ؕ۷۷﴾
اُس میں سامان عبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو صاحب ایمان ہیں
اور اس میں ایمان والوں کے لیے بڑی نشانی ہے
بیشک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کو،
بے شک اس (واقعہ) میں اہلِ ایمان کے لئے بڑی نشانی ہے۔
بے شک اس میں ایمان والوں کے لیے یقینا بڑی نشانی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آل ہود کا عبرتناک انجام ٭٭

سورج نکلنے کے وقت آسمان سے ایک دل دہلانے والی اور جگر پاش پاش کر دینے والی چنگھاڑ کی آواز آئی۔ اور ساتھ ہی ان کی بستیاں اوپر کو اٹھیں اور آسمان کے قریب پہنچ گئیں اور وہاں سے الٹ دی گئیں اوپر کا حصہ نیچے اور نیچے کا حصہ اوپر ہو گیا ساتھ ہی ان پر آسمان سے پتھر برسے ایسے جیسے پکی مٹی کے کنکر آلود پتھر ہوں۔ سورۃ ھود میں اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے۔ جو بھی بصیرت و بصارت سے کام لے، دیکھے، سنے، سوچے، سمجھے اس کے لیے ان بستیوں کی بربادی میں بڑی بڑی نشانیاں موجود ہیں۔ ایسے پاکباز لوگ ذرا ذرا سی چیزوں سے بھی عبرت و نصیحت حاصل کرتے ہیں پند پکڑتے ہیں اور غور سے ان واقعات کو دیکھتے ہیں اور مقصد تک پہنچ جاتے ہیں۔ تامل اور غور و خوض کر کے اپنی حالت سنوار لیتے ہیں۔ ترمذی وغیرہ میں حدیث ہے { رسول اللہ صلی علیہ وسلم فرماتے ہیں { مومن کی عقلمندی اور دور بینی کا لحاظ رکھو وہ اللہ کے نور کے ساتھ دیکھتا ہے }۔ پھر آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3127،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { وہ اللہ کے نور اور اللہ کی توفیق سے دیکھتا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21255:ضعیف] ‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ { اللہ کے بندے لوگوں کو ان نشانات سے پہچان لیتے ہیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21252:حسن] ‏‏‏‏ یہ بستی شارع عام پر موجود ہے جس پر ظاہری اور باطنی عذاب آیا، الٹ گئی، پتھر کھائے، عذاب کا نشانہ بنی۔ اب ایک گندے اور بد مزہ کھائی کی جھیل سے بنی ہوئی ہے۔ «وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِم مُّصْبِحِينَ وَبِاللَّيْلِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ» ۱؎ [37-الصفات:137،138] ‏‏‏‏ ’ تم رات دن وہاں سے آتے جاتے ہو تعجب ہے کہ پھر بھی عقلمندی سے کام نہیں لیتے ‘۔ غرض صاف واضح اور آمد و رفت کے راستے پر یہ الٹی ہو بستی موجود ہے۔ یہ بھی معنی کئے ہیں کہ «وَكُلَّ شَيْءٍ أَحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُّبِينٍ» ۱؎ [36-یس:12] ‏‏‏‏ ’ کتاب مبین میں ہے ‘ لیکن یہ معنی کچھ زیادہ بند نہیں بیٹھتے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والوں کے لیے یہ ایک کھلی دلیل اور جاری نشانی ہے کہ کس طرح اللہ اپنے والوں کو نجات دیتا ہے اور اپنے دشمنوں کو غارت کرتا ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت77){ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً لِّلْمُؤْمِنِيْنَ:} یعنی ابراہیم اور لوط علیھما السلام کے قصے میں ایمان والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت اور عذاب الیم کی بہت بڑی نشانی ہے۔ {” لَاٰيَةً “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، یہاں {” لَاٰيَةً “} واحد اس لیے ذکر فرمایا کہ ایمان والوں کے یقین کے لیے یہ ایک نشانی ہی کافی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس میں مومنوں کی تعریف بھی ہے۔
← پچھلی آیت (76) پوری سورۃ اگلی آیت (78) →