الرٰ، یہ کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور کھلے اور روشن قرآن کی
احمد رضا خان بریلوی
یہ آیتیں ہیں کتاب اور روشن قرآن کی-
علامہ محمد حسین نجفی
الف، لام، را۔ یہ کتاب (الٰہی) یعنی روشن قرآن کی آیتیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
الر۔ یہ کامل کتاب اور واضح قرآن کی آیات ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۃ الحجر ٭٭
سورتوں کے اول جو حروف مقطعہ آئے ہیں ان کا بیان پہلے گزر چکا ہے۔ آیت میں قرآن کی آیتوں کے واضح اور ہر شخص کی سمجھ میں آنے کے قابل ہونے کا بیان فرمایا ہے۔
ا لر، یہ کتاب الٰہی کی آیتیں ہیں اور کھلی اور روشن قرآن کی (1)۔
(آیت 1){الٓرٰتِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ:” الْكِتٰبِ “} الف لام کی و جہ سے ”کامل کتاب“ ترجمہ کیا گیا ہے۔ {” الْكِتٰبِ “} اور {” قُرْاٰنٍ “} دونوں مبالغہ کے لیے مصدر ہیں (جن کا معنی ہے لکھنا اور پڑھنا) جو اسم مفعول کے معنی میں ہیں، یعنی یہ اس کلام کی آیات ہیں جو بے شمار بار لکھا ہوا اور بے حد و حساب پڑھا ہوا ہے، فرمایا: «{ اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ (77) فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ }» [ الواقعۃ: ۷۷، ۷۸ ] ”بلاشبہ یہ یقینا ایک باعزت پڑھی جانے والی چیز ہے، جو ایک ایسی کتاب میں ہے جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔“ لوحِ محفوظ میں لکھے جانے اور جبریل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر قیامت تک نہ اس کے لکھنے والوں کا شمار ہے نہ پڑھنے والوں کا۔ پھر خوبی یہ کہ یہ کتاب ہے تو کامل (الف لام کی و جہ سے) اور قرآن ہے تو ہر بات کو کھول کر بیان کرنے والا۔ قیامت تک کوئی اس جیسی ایک سورت بھی بنا کر نہیں لا سکتا۔
بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آ جائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے) انکار کر دیا ہے پچھتا پچھتا کر کہیں گے کہ کاش ہم نے سر تسلیم خم کر دیا ہوتا
مولانا محمد جوناگڑھی
وه بھی وقت ہوگا کہ کافر اپنے مسلمان ہونے کی آرزو کریں گے
احمد رضا خان بریلوی
بہت آرزوئیں کریں گے کافر کاش مسلمان ہوتے،
علامہ محمد حسین نجفی
جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ہے وہ بہت تمنا کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔
عبدالسلام بن محمد
بہت بار چاہیں گے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، کاش! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بعد ازمرگ پشیمانی ٭٭
کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہو گی۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ’ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں ‘۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ سیدنا ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا۔
اس وقت کافر تمنا کریں گے کا کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکوں کے اس طعنے پر اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ ’ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے آزاد کر دو ‘، الخ۔ طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہٰ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا }۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر قصداً جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔“ ۱؎ [طبرانی:7289:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا ہے }۔۱؎ [طبرانی کبیر:48/7:صحیح الاسناد]
اور روایت میں ہے کہ { ان مسلمان گنہگاروں سے مشرکین کہیں گے کہ تم تو دینا میں یہ خیال کرتے تھے کہ تم اولیاء اللہ ہو پھر ہمارے ساتھ یہاں کیسے؟ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ پس فرشتے اور نبی اور مومن شفاعت کریں گے اور اللہ انہیں جہنم سے چھوڑا جائے گا، اس وقت مشرک لوگ کہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے تو شفاعت سے محروم نہ رہتے اور ان کے ساتھ جہنم سے چھوٹ جاتے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8106:ضعیف] یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہو گی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہو گا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہو گا اور وہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر لے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت «رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ» ۱؎ [15-الحجر:2] میں ہے }۔ ۱؎ [ابن الجوزی فی العلل المتناهییة:1568/2:ضعیف] پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ’ انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے ‘۔ تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔
اتمام حجت کے بعد ٭٭
’ ہم کسی بستی کو دلیلیں پہنچانے اور ان کا مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتے۔ ہاں جب وقت مقررہ آ جاتا ہے پھر تقدیم تاخیر ناممکن ہے ‘۔ اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہو جائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہو جائیں گے۔
2۔ 1 یہ آرزو کب کریں گے؟ موت کے وقت، جب فرشتے انھیں جہنم کی آگ دکھاتے ہیں یا جب جہنم میں چلے جائیں گے یا اس وقت جب گنہگار ایمانداروں کو کچھ عرصہ بطور سزا، جہنم میں رکھنے کے بعد جہنم سے نکالا جائے گا یا میدان محشر میں، جہاں حساب کتاب ہو رہا ہوگا اور کافر دیکھیں گے کہ مسلمان جنت میں جا رہے ہیں تو آرزو کریں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے۔ رُبَمَا اصل میں تو تکثیر کے لئے ہے لیکن کبھی کمی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کی طرف سے یہ آرزو ہر موقعے پر ہوتی رہے گی لیکن اس کا انھیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
(آیت2) ➊ {رُبَمَا:”رُبَّ “ } حرف جر ہے، {”مَا“} بمعنی وقت۔ {”رُبَّ “} کا لفظ تقلیل کے لیے آتا ہے، یعنی کسی وقت، جیسے: {”رُبَّ أَخٍ لَمْ تَلِدْهُ اُمُّكَ“} ”کئی بھائی ہیں جنھیں تیری ماں نے نہیں جنا“ اور تکثیر کے لیے بھی، مثلاً {”رُبَّمَا يَنْجُو الذَّكِيُّ“} ”بہت دفعہ ذہین آدمی کامیاب ہو جاتا ہے۔“ فرق موقع کو ملحوظ رکھ کر ہوتا ہے، مثلاً یہی مثال اگر اس طرح ہو کہ{ ” رُبَّمَا يَنْجُ الْكَسُوْلُ “} تو معنی ہو گا ”کسی وقت سست آدمی بھی کامیاب ہو جاتا ہے۔“ اس آیت میں بعض علماء نے یہ لفظ تقلیل کے لیے قرار دیا ہے، یعنی ”کسی وقت “ اور بعض نے تکثیر کے لیے، یعنی بہت بار، صاحب مغنی اللبیب کے بقول یہاں یہی معنی راجح ہے، کیونکہ مرنے کے بعد کفار کا ہر لمحہ اسی حسرت میں گزرے گا۔ {” لَوْ “} تمنی کے لیے ہے۔ ایسی چیز کی خواہش جو ناممکن ہو تمنی کہلاتی ہے، ممکن کی خواہش ”ترجّی“ کہلاتی ہے۔ ➋ { يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا:} یہ سورت مکی ہے، جب مسلمان ہر طرح کمزور اور مغلوب تھے تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو تسلی دی کہ وہ وقت آ رہا ہے جب یہ کافر چاہیں گے کہ کاش! وہ مسلمان ہوتے، مگر وقت نکل جانے کے بعد کسی کام کی خواہش کا کوئی فائدہ نہیں۔ اس وقت سے مراد دنیا میں ایسے مواقع بھی ہیں جب مسلمانوں کو فتح و کامرانی اور کفار کو شکست و رسوائی حاصل ہو گی، جیسے بدر، خیبر اور فتح مکہ وغیرہ اور کفار چاہیں گے کہ اس وقت مسلمان ہوتے تو ہمیں بھی یہ عزت و غنیمت ملتی اور موت کے وقت بھی اس تمنا کا اظہار کریں گے، جیسا کہ فرمایا: «{ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ (99) لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا }» [ المؤمنون: ۹۹، ۱۰۰ ] ”یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آتی ہے تو کہتا ہے اے میرے رب! مجھے واپس بھیجو، تاکہ میں جو کچھ چھوڑ آیا ہوں اس میں کوئی نیک عمل کر لوں۔ ہر گز نہیں، یہ توایک بات ہے جسے وہ کہنے والاہے۔“ پھر موت کے بعد کی سختیوں میں، خصوصاً جب آگ میں داخل ہونے کو ہوں گے، فرمایا: «{ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ وُقِفُوْا عَلَى النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَ لَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ }» [الأنعام: ۲۷ ] ”اور کاش! تو دیکھے جب وہ آگ پر کھڑے کیے جائیں گے تو کہیں گے اے کاش! ہم واپس بھیجے جائیں اور اپنے رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والوں میں سے ہو جائیں۔“ اور سب سے زیادہ حسرت کے ساتھ یہ خواہش اس وقت کریں گے جب مسلمانوں میں سے جہنم میں جانے والے سب کے سب جہنم سے نکال لیے جائیں گے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اہل نار آگ میں جمع ہو جائیں گے اور ان کے ساتھ اہلِ قبلہ میں سے بھی وہ لوگ ہوں گے جنھیں اللہ چاہے گا تو کفار مسلمانوں سے کہیں گے: ”کیا تم مسلم نہیں تھے؟“ وہ کہیں گے: ”کیوں نہیں؟“ کفار کہیں گے: ”پھر تمھارے اسلام نے تمھیں کیا فائدہ دیا کہ تم بھی ہمارے ساتھ آگ میں پہنچ گئے؟“ وہ کہیں گے: ”ہمارے کچھ گناہ تھے جن کی و جہ سے ہم پکڑے گئے۔“ انھوں نے جو کچھ کہا اللہ تعالیٰ اسے سنے گا اور جو اہل قبلہ میں سے ہوں گے ان کے متعلق حکم دے گا اور وہ نکال لیے جائیں گے، تو جب جہنمی یہ دیکھیں گے تو کہیں گے: ”کاش! ہم بھی مسلم ہوتے اور ہم بھی اسی طرح نکل جاتے جیسے یہ نکلے ہیں۔“ (ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ الٓرٰ تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ وَ قُرْاٰنٍ مُّبِيْنٍ (1) رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَوْ كَانُوْا مُسْلِمِيْنَ }» [ السنۃ لابن أبي عاصم، باب ذکر من یخرج اللہ بتفضلہ من النار: ۸۴۳۔ مستدرک حاکم: ۲ / ۲۴۲، ح: ۲۹۵۴ ] شیخ البانی رحمہ اللہ نے ”ظلال السنۃ“ میں اسے صحیح کہا ہے اور اس مفہوم کی کئی احادیث بیان کی ہیں۔ ➌ {” مُسْلِمِيْنَ “} نکرہ ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے کہ ”کاش! وہ کسی طرح کے مسلمان ہوتے“ یعنی گناہ گار بھی ہوتے تو آخر جہنم سے نکل ہی جاتے۔
چھوڑو اِنہیں کھائیں، پییں، مزے کریں، اور بھلاوے میں ڈالے رکھے اِن کو جھوٹی امید عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ انہیں کھاتا، نفع اٹھاتا اور (جھوٹی) امیدوں میں مشغول ہوتا چھوڑ دیجئے یہ خود ابھی جان لیں گے
احمد رضا خان بریلوی
انہیں چھوڑو کہ کھائیں اور برتیں اور امید انہیں کھیل میں ڈالے تو اب جانا چاہتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) انہیں چھوڑ دو کہ وہ کھائیں (پئیں) اور عیش و آرام کریں اور (بے شک جھوٹی) امید انہیں غفلت میں رکھے عنقریب انہیں (سب کچھ) معلوم ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
انھیں چھوڑ دے، وہ کھائیں اور فائدہ اٹھائیں اور انھیں امید غافل رکھے، پھر جلدی جان لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بعد ازمرگ پشیمانی ٭٭
کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہو گی۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ’ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں ‘۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ سیدنا ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا۔
اس وقت کافر تمنا کریں گے کا کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکوں کے اس طعنے پر اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ ’ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے آزاد کر دو ‘، الخ۔ طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہٰ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا }۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر قصداً جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔“ ۱؎ [طبرانی:7289:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا ہے }۔۱؎ [طبرانی کبیر:48/7:صحیح الاسناد]
اور روایت میں ہے کہ { ان مسلمان گنہگاروں سے مشرکین کہیں گے کہ تم تو دینا میں یہ خیال کرتے تھے کہ تم اولیاء اللہ ہو پھر ہمارے ساتھ یہاں کیسے؟ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ پس فرشتے اور نبی اور مومن شفاعت کریں گے اور اللہ انہیں جہنم سے چھوڑا جائے گا، اس وقت مشرک لوگ کہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے تو شفاعت سے محروم نہ رہتے اور ان کے ساتھ جہنم سے چھوٹ جاتے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8106:ضعیف] یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہو گی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہو گا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہو گا اور وہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر لے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت «رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ» ۱؎ [15-الحجر:2] میں ہے }۔ ۱؎ [ابن الجوزی فی العلل المتناهییة:1568/2:ضعیف] پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ’ انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے ‘۔ تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔
اتمام حجت کے بعد ٭٭
’ ہم کسی بستی کو دلیلیں پہنچانے اور ان کا مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتے۔ ہاں جب وقت مقررہ آ جاتا ہے پھر تقدیم تاخیر ناممکن ہے ‘۔ اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہو جائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہو جائیں گے۔
3۔ 1 یہ تہدید و تو یخ ہے کہ کافر و مشرک اپنے کفر و شرک سے باز نہیں آ رہے ہیں تو انھیں چھوڑ دیجئے یہ دنیاوی لذتوں سے محفوظ ہولیں اور اپنی امیدیں برلائیں۔ عنقریب انھیں اپنے کفر و شرک کا انجام معلوم ہوجائے گا۔
(آیت3) ➊ {ذَرْهُمْ يَاْكُلُوْا وَ يَتَمَتَّعُوْا: ” ذَرْ “ } مثال واوی سے فعل امر ہے، اس کا صرف امر اور مضارع استعمال ہوتا ہے، اس کے باقی صیغوں کی جگہ {”تَرَكَ“} کے مشتقات استعمال ہوتے ہیں۔ {” يَتَمَتَّعُوْا “ ” لَهْوٌ “} سے باب افعال کا مضارع {” يُلْهِيْ “ } ہے جو {” ذَرْ “} کا جواب ہونے کی و جہ سے یا لام امر مقدر ہونے کی و جہ سے مجزوم ہے، اس کی ”یاء“ اور{ ” يَاْكُلُوْا “} اور {” يَتَمَتَّعُوْا “} کا نون بھی اسی و جہ سے گر گئے ہیں۔ یہ سارے امر انھیں ڈانٹنے کے لیے ہیں، یہ نہیں کہ انھیں اجازت دی جا رہی ہے۔ اس معنی کی آیات کے لیے دیکھیے سورۂ مرسلات (۴۶)، سورۂ زخرف (۸۳) اور سورۂ طور (۴۵) وغیرہ۔{” يَاْكُلُوْا وَ يَتَمَتَّعُوْا “} سے معلوم ہوا کہ کفار کی زندگی کا مقصد ہی بس یہ ہے۔ {” الْاَمَلُ “} امید، کسی چیز کے حصول کی آرزو، عموماً جس کا حصول بعید ہو۔ ➋ { وَ يُلْهِهِمُ الْاَمَلُ:} ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ غَرَزًا ثُمَّ غَرَزَ إِلٰی جَنْبِهِ آخَرَ ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثَ فَأَبْعَدَهُ، ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرُوْنَ مَا هٰذَا؟ قَالُوْا اَللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ أَعْلَمُ، قَالَ هٰذَا الْإِنْسَانُ وَهٰذَا أَجَلُهُ وَهٰذَا أَمَلُهُ يَتَعَاطَى الْأَمَلَ يَخْتَلِجُهُ دُوْنَ ذٰلِكَ ] [ مسند أحمد: 18/3، ح: ۱۱۱۳۸، إسنادہ جید ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آگے ایک لکڑی گاڑی، پھر ایک اس کے پہلو میں گاڑی، پھر تیسری اس سے دور گاڑی، پھر فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔“ فرمایا: ”یہ انسان ہے اور یہ اس کی اجل (موت) ہے اور وہ اس کی آرزو ہے۔ وہ آرزو حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اس کے حصول سے پہلے اس کے راستے میں اجل رکاوٹ بن جاتی ہے۔“ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں: [ صَلاَحُ أَوَّلِ هٰذِهِ الْأُمَّةِ بِالزُّهْدِ وَالْيَقِيْنِ وَيَهْلِكُ آخِرُهَا بِالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ ] [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 1263/7،ح: ۳۴۲۷ ] ”اس امت کے اول کی درستگی زہد اور یقین کے ساتھ ہے اور اس کا آخری حصہ بخل اور امل(امید) کے ساتھ ہلاک ہو گا۔“
ہم نے اِس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
کسی بستی کو ہم نے ہلاک نہیں کیا مگر یہ کہ اس کے لیے مقرره نوشتہ تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور جو بستی ہم نے ہلاک کی اس کا ایک جانا ہوا نوشتہ تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے کبھی کوئی بستی ہلاک نہیں کی مگر یہ کہ اس کے لئے وقتِ معلوم لکھا ہوا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس حال میں کہ اس کے لیے ایک مقرر لکھا ہوا وقت تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بعد ازمرگ پشیمانی ٭٭
کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہو گی۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ’ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں ‘۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ سیدنا ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا۔
اس وقت کافر تمنا کریں گے کا کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکوں کے اس طعنے پر اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ ’ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے آزاد کر دو ‘، الخ۔ طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہٰ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا }۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر قصداً جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔“ ۱؎ [طبرانی:7289:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا ہے }۔۱؎ [طبرانی کبیر:48/7:صحیح الاسناد]
اور روایت میں ہے کہ { ان مسلمان گنہگاروں سے مشرکین کہیں گے کہ تم تو دینا میں یہ خیال کرتے تھے کہ تم اولیاء اللہ ہو پھر ہمارے ساتھ یہاں کیسے؟ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ پس فرشتے اور نبی اور مومن شفاعت کریں گے اور اللہ انہیں جہنم سے چھوڑا جائے گا، اس وقت مشرک لوگ کہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے تو شفاعت سے محروم نہ رہتے اور ان کے ساتھ جہنم سے چھوٹ جاتے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8106:ضعیف] یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہو گی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہو گا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہو گا اور وہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر لے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت «رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ» ۱؎ [15-الحجر:2] میں ہے }۔ ۱؎ [ابن الجوزی فی العلل المتناهییة:1568/2:ضعیف] پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ’ انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے ‘۔ تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔
اتمام حجت کے بعد ٭٭
’ ہم کسی بستی کو دلیلیں پہنچانے اور ان کا مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتے۔ ہاں جب وقت مقررہ آ جاتا ہے پھر تقدیم تاخیر ناممکن ہے ‘۔ اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہو جائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہو جائیں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت4){ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ:} وہ مقرر لکھا ہوا وقت جب تک باقی رہا اللہ تعالیٰ نے انھیں مہلت دی، لیکن جوں ہی مدت پوری ہوئی فوراً انھیں پکڑ لیا گیا۔ اس سے مقصود کفار مکہ کو متنبہ کرنا ہے کہ تم نے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جھٹلانے اور ٹھٹھا اڑانے کی جو روش اختیار کر رکھی ہے اور اس پر ابھی تک ہم نے گرفت نہیں کی تو اس سے تم نے یہ کیوں سمجھ لیا کہ تمھاری گرفت ہو گی ہی نہیں؟
کوئی قوم نہ اپنے وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے، نہ اُس کے بعد چھوٹ سکتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کوئی گروه اپنی موت سے نہ آگے بڑھتا ہے نہ پیچھے رہتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
کو ئی گروہ اپنے وعدہ سے آگے نہ بڑھے نہ پیچھے ہٹے،
علامہ محمد حسین نجفی
کوئی قوم اپنے مقررہ وقت سے نہ آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے ہٹ سکتی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کوئی امت اپنے مقرر وقت سے نہ آگے بڑھتی ہے اور نہ وہ پیچھے رہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بعد ازمرگ پشیمانی ٭٭
کافر اپنے کفر پر عنقریب نادم و پشیمان ہوں گے اور مسلمان بن کر زندگی گزارنے کی تمنا کریں گے۔ یہ بھی مروی ہے کہ کفار بدر جب جہنم کے سامنے پیش کئے جائیں گے آرزو کریں گے کہ کاش کہ وہ دنیا میں مومن ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ ہر کافر اپنی موت کو دیکھ کر اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کرتا ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی ہر کافر کی یہی تمنا ہو گی۔ اور آیت میں ہے کہ «وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ وُقِفُوا عَلَى النَّارِ فَقَالُوا يَا لَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِآيَاتِ رَبِّنَا وَنَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:27] ’ جہنم کے پاس کھڑے ہو کر کہیں گے کہ کاش کہ اب ہم واپس دنیا میں بھیج دیئے جائیں تو نہ تو اللہ کی آیتوں کو جھٹلائیں گے نہ ترک ایمان کریں ‘۔ جہنمی لوگ اوروں کو جہنم سے نکلتے دیکھ کر بھی اپنے مسلمان ہونے کی تمنا کریں گے۔ سیدنا ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ گنہگار مسلمانوں کو جہنم میں مشرکوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ روک لے گا تو مشرک ان مسلمانوں سے کہیں گے کہ جس اللہ کی تم دنیا میں عبادت کرتے رہے اس نے تمہیں آج کیا فائدہ دیا؟ اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اور ان مسلمانوں کو جہنم سے نکال لے گا۔
اس وقت کافر تمنا کریں گے کا کاش وہ بھی دنیا میں مسلمان ہوتے۔ ایک روایت میں ہے کہ مشرکوں کے اس طعنے پر اللہ تعالیٰ حکم دے گا کہ ’ جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے آزاد کر دو ‘، الخ۔ طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کے کہنے والوں میں بعض لوگ بہ سبب اپنے گناہوں کے جہنم میں جائیں گے پس لات و عزیٰ کے پجاری ان سے کہیں گے کہ تمہارے «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہنے نے تمہیں کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ ہی جہنم میں جل رہے ہو اس پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جوش آئے گا اللہ ان سب کو وہاں سے نکال لے گا۔ اور نہر حیات میں غوطہٰ دے کر انہیں ایسا کر دے گا جیسے چاند گہن سے نکلا ہو۔ پھر یہ سب جنت میں جائیں گے وہاں انہیں جہنمی کہا جائے گا }۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سن کر کسی نے کہا کیا آپ رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنا ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”سنو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مجھ پر قصداً جھوٹ بولنے والا اپنی جگہ جہنم میں بنا لے۔ باوجود اس کے میں کہتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔“ ۱؎ [طبرانی:7289:ضعیف] اور روایت میں ہے کہ { مشرک لوگ اہل قبلہ سے کہیں گے کہ تم تو مسلمان تھے پھر تمہیں اسلام نے کیا نفع دیا؟ تم تو ہمارے ساتھ جہنم میں جل رہے ہو۔ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے گناہ تھے جن کی پاداش میں ہم پکڑے گئے الخ، اس میں یہ بھی ہے کہ ان کے چھٹکارے کے وقت کفار کہیں گے کہ کاش ہم مسلمان ہوتے اور ان کی طرح جہنم سے چھٹکارا پاتے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» پڑھ کر شروع سورت سے مسلمین تک تلاوت فرمائی۔ یہی روایت اور سند سے ہے اس میں اعوذ کے بدلے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» کا پڑھنا ہے }۔۱؎ [طبرانی کبیر:48/7:صحیح الاسناد]
اور روایت میں ہے کہ { ان مسلمان گنہگاروں سے مشرکین کہیں گے کہ تم تو دینا میں یہ خیال کرتے تھے کہ تم اولیاء اللہ ہو پھر ہمارے ساتھ یہاں کیسے؟ یہ سن کر اللہ تعالیٰ ان کی شفاعت کی اجازت دے گا۔ پس فرشتے اور نبی اور مومن شفاعت کریں گے اور اللہ انہیں جہنم سے چھوڑا جائے گا، اس وقت مشرک لوگ کہیں گے کہ کاش وہ بھی مسلمان ہوتے تو شفاعت سے محروم نہ رہتے اور ان کے ساتھ جہنم سے چھوٹ جاتے }۔ ۱؎ [طبرانی اوسط:8106:ضعیف] یہی معنی اس آیت کے ہیں یہ لوگ جب جنت میں جائیں گے تو ان کے چہروں پر قدرے سیاہی ہو گی اس وجہ سے انہیں جہنمی کہا جاتا ہو گا۔ پھر یہ دعا کریں گے کہ اے اللہ یہ لقب بھی ہم سے ہٹا دے پس انہیں جنت کی ایک نہر میں غسل کرنے کا حکم ہو گا اور وہ نام بھی ان سے دور کر دیا جائے گا۔ ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں بعض لوگوں کو آگ ان کے گھٹنوں تک پکڑ لے گی اور بعض کو زانوں تک اور بعض کو گردن تک جیسے جن کے گناہ اور جیسے جن کے اعمال ہوں گے۔ بعض ایک مہینے کی سزا بھگت کر نکل آئیں گے سب سے لمبی سزا والا وہ ہوگا جو جہنم میں اتنی مدت رہے گا جتنی مدت دنیا کی ہے یعنی دنیا کے پہلے دن سے دنیا کے آخری دن تک۔ جب ان کے نکالنے کا ارادہ اللہ تعالیٰ کر لے گا اس وقت یہود و نضاری اور دوسرے دین والے جہنمی ان اہل توحید سے کہیں گے کہ تم اللہ پر اس کی کتابوں پر اس کے رسولوں پر ایمان لائے تھے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم میں یکساں ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کو سخت غصہ آئے گا کہ ان کی اور کسی بات پر اتنا غصہ نہ آیا تھا پھر ان موحدوں کو جہنم سے نکال کر جنت کی نہر کے پاس لایا جائے گا۔ یہ ہے فرمان آیت «رُّبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ» ۱؎ [15-الحجر:2] میں ہے }۔ ۱؎ [ابن الجوزی فی العلل المتناهییة:1568/2:ضعیف] پھر بطور ڈانٹ کے فرماتا ہے کہ «قُلْ تَمَتَّعُوا فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ» ۱؎ [14-ابراھیم:30] ’ انہیں کھاتے پیتے اور مزے کرتے چھوڑ دے آخر تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے ‘۔ تم کھا پی لو، تمہارا مجرم ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ انہیں ان کی دور دراز کی خواہشیں توبہ کرنے سے، اللہ کی طرف جھکنے سے غافل رکھیں گی۔ عنقریب حقیقت کھل جائے گی۔
اتمام حجت کے بعد ٭٭
’ ہم کسی بستی کو دلیلیں پہنچانے اور ان کا مقرر وقت ختم ہونے سے پہلے ہلاک نہیں کرتے۔ ہاں جب وقت مقررہ آ جاتا ہے پھر تقدیم تاخیر ناممکن ہے ‘۔ اس میں اہل مکہ کی تنبیہ ہے کہ وہ شرک سے الحاد سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت سے باز آ جائیں ورنہ مستحق ہلاکت ہو جائیں گے اور اپنے وقت پر تباہ ہو جائیں گے۔
5۔ 1 جس بستی کو بھی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کرتے ہیں، تو فوراً ہلاک نہیں کر ڈالتے، بلکہ ہم ایک وقت مقرر کئے ہوئے ہیں، اس وقت تک اس بستی والوں کو مہلت دی جاتی ہے لیکن جب وہ مقررہ وقت آجاتا ہے تو انھیں ہلاک کردیا جاتا ہے پھر وہ اس سے آگے یا پیچھے نہیں ہوتے۔
(آیت5){وَ مَا يَسْتَاْخِرُوْنَ:} یعنی نہ وہ وقت مقرر سے پہلے ہلاک ہو سکتی ہے اور نہ وقت مقرر پر ہلاک ہونے سے بچ سکتی ہے۔ نیز دیکھیے سورۂ انعام (۲)۔
یہ لوگ کہتے ہیں "اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے، تو یقیناً دیوانہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے کہا کہ اے وه شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے یقیناً تو تو کوئی دیوانہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے کہ اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک مجنون ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (کفار) کہتے ہیں: اے وہ جس پر ذکر (قرآن) اتارا گیا ہے یقینا تم دیوانہ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا اے وہ شخص جس پر یہ نصیحت نازل کی گئی ہے! بے شک توُ تو دیوانہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے ٭٭
کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔ فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت «فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ اس کے ساتھ مل کر فرشتے کیوں نہیں آئے؟ ‘ رب کی ملاقات کے منکروں نے آواز اٹھائی کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:21،22] ’ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے؟ یا یہی ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے دراصل یہ گھمنڈ میں آ گئے اور بہت ہی سرکش ہو گئے۔ فرشتوں کو دیکھ لینے کا دن جب آ جائے گا اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں یعنی رسالت یا عذاب کے ساتھ اس وقت پھر کافروں کو مہلت نہیں ملے گی ‘۔
’ اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے ذمے دار بھی ہم ہی ہیں، ہمیشہ تغیر و تبدل سے بچا رہے گا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ «لَهُ» کی ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی قرآن اللہ ہی کا نازل کیا ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ وہی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے اللہ محفوظ رکھے گا ‘۔ لیکن پہلا معنی اولیٰ ہے اور عبارت کی ظاہر روانی بھی اسی کو ترجیح دیتی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت6) ➊ { وَ قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ:} وہ یہ بات بھی استہزا کے لیے کہہ رہے ہیں، یہ نہیں کہ وہ اسے مانتے تھے۔ {” الذِّكْرُ “} سے ہر وہ چیز مراد ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی، اس میں قرآن مجید بھی شامل ہے اور حدیث بھی۔ ➋ { اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ:} پچھلی آیات میں کفار کو کتاب اللہ کے جھٹلانے پر ڈانٹا گیا تھا، اب ان کی سرکشی کا بیان ہے اور ان کے رسول کے ساتھ استہزا اور آپ کو جھٹلانے کا بیان ہے۔ وہ لوگ مذاق کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پاگل اور دیوانہ کہتے تھے، حالانکہ آپ سب سے زیادہ عقل مند تھے۔یہ ان کے کفر و استہزا کی بدترین صورت تھی اور انھوں نے یہ بات اس قدر مشہو ر کر رکھی تھی کہ صحیح مسلم میں ضماد ازدی کا قصہ مذکور ہے کہ وہ ازد قبیلے کا ایک فرد تھا، مکہ آیا تو اس نے مکہ کے بے وقوفوں سے سنا کہ آپ مجنون ہیں، وہ آپ کے پاس آیا اور آپ کو آپ کا علاج کرنے کی پیش کش کی، آپ نے خطبہ مسنونہ پڑھا، اس نے درخواست کی کہ آپ اسے پھر پڑھیں، آپ نے تین دفعہ یہ خطبہ پڑھا، اس نے اس کی بے حد تعریف کی اور اسی پر مسلمان ہو گیا۔ [ مسلم، الجمعۃ،باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ: ۸۶۸ ] سبحان اللہ! علاج کے لیے آنے والے کا خود علاج ہو گیا۔
اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تو سچا ہی ہے تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں ﻻتا
احمد رضا خان بریلوی
ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے اگر تم سچے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
اگر تم سچے ہو تو پھر ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لے آتے؟
عبدالسلام بن محمد
تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لے آتا، اگر تو سچوں میں سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے ٭٭
کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔ فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت «فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ اس کے ساتھ مل کر فرشتے کیوں نہیں آئے؟ ‘ رب کی ملاقات کے منکروں نے آواز اٹھائی کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:21،22] ’ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے؟ یا یہی ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے دراصل یہ گھمنڈ میں آ گئے اور بہت ہی سرکش ہو گئے۔ فرشتوں کو دیکھ لینے کا دن جب آ جائے گا اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں یعنی رسالت یا عذاب کے ساتھ اس وقت پھر کافروں کو مہلت نہیں ملے گی ‘۔
’ اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے ذمے دار بھی ہم ہی ہیں، ہمیشہ تغیر و تبدل سے بچا رہے گا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ «لَهُ» کی ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی قرآن اللہ ہی کا نازل کیا ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ وہی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے اللہ محفوظ رکھے گا ‘۔ لیکن پہلا معنی اولیٰ ہے اور عبارت کی ظاہر روانی بھی اسی کو ترجیح دیتی ہے۔
7۔ 1 یہ کافروں کے کفر وعناد کا بیان ہے کہ وہ نبی کو دیوانہ کہتے اور کہتے کہ اگر تو (اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سچا ہے تو اپنے اللہ سے کہہ کہ وہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے تاکہ وہ تیری رسالت کی تصدیق کریں یا ہمیں ہلاک کردیں۔
(آیت7){لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بِالْمَلٰٓىِٕكَةِ: } کہ فرشتے سامنے آ کر گواہی دیں کہ یہ واقعی اللہ کا سچا پیغمبر ہے، اس کی پیروی اختیار کرو، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس مطالبے کا کئی جگہ ذکر کیا ہے، فرمایا: «{ وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ }» [ الأنعام: ۸ ] ”اور انھوں نے کہا اس پر کوئی فرشتہ کیوں نہ اتارا گیا؟“ اور دیکھیے سورۂ زخرف (۵۳) اورسورۂ فرقان(۲۱، ۲۲) اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو عذاب سے ڈراتے تو انھوں نے {” لَوْ مَا تَاْتِيْنَا بِالْمَلٰٓىِٕكَةِ “} کہہ کر عذاب کا مطالبہ کیا ہو۔ (کبیر)
ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اتار دیا کرتے وہ جب اترتے ہیں تو حق کے ساتھ اترتے ہیں، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں اور اس وقت وه مہلت دیئے گئے نہیں ہوتے
احمد رضا خان بریلوی
ہم فرشتے بیکار نہیں اتارتے اور وہ اتریں تو انہیں مہلت نہ ملے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر (صحیح موقع پر فیصلہ) حق کے ساتھ اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی۔
عبدالسلام بن محمد
ہم فرشتوں کو نہیں اتارتے مگر حق کے ساتھ اور اس وقت وہ مہلت دیے گئے نہیں ہوتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے ٭٭
کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔ فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت «فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ اس کے ساتھ مل کر فرشتے کیوں نہیں آئے؟ ‘ رب کی ملاقات کے منکروں نے آواز اٹھائی کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:21،22] ’ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے؟ یا یہی ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے دراصل یہ گھمنڈ میں آ گئے اور بہت ہی سرکش ہو گئے۔ فرشتوں کو دیکھ لینے کا دن جب آ جائے گا اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں یعنی رسالت یا عذاب کے ساتھ اس وقت پھر کافروں کو مہلت نہیں ملے گی ‘۔
’ اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے ذمے دار بھی ہم ہی ہیں، ہمیشہ تغیر و تبدل سے بچا رہے گا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ «لَهُ» کی ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی قرآن اللہ ہی کا نازل کیا ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ وہی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے اللہ محفوظ رکھے گا ‘۔ لیکن پہلا معنی اولیٰ ہے اور عبارت کی ظاہر روانی بھی اسی کو ترجیح دیتی ہے۔
8۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرشتے ہم حق کے ساتھ بھیجتے ہیں یعنی جب ہماری حکمت و مشیت عذاب بھیجنے کا تقاضا کرتی ہے تو پھر فرشتوں کا نزول ہوتا ہے اور پھر وہ مہلت نہیں دیئے جاتے، فوراً ہلاک کردیئے جاتے ہیں۔
(آیت8) {مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىِٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ …: } یعنی فرشتے تو عین اس وقت نازل ہوتے ہیں جب کسی شخص کی موت کا وقت آ گیا ہو، یا کسی قوم پر عذاب کا قطعی فیصلہ ہو چکا ہو، اس کے بعد انھیں مہلت نہیں دی جاتی۔
رہا یہ ذکر، تو اِس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے ہی اس قرآن کو نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافﻆ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک ہم نے ہی ذکر (قرآن) اتارا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے ہی یہ نصیحت نازل کی ہے اور بے شک ہم اس کی ضرور حفاظت کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے ٭٭
کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔ فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت «فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ اس کے ساتھ مل کر فرشتے کیوں نہیں آئے؟ ‘ رب کی ملاقات کے منکروں نے آواز اٹھائی کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:21،22] ’ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے؟ یا یہی ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے دراصل یہ گھمنڈ میں آ گئے اور بہت ہی سرکش ہو گئے۔ فرشتوں کو دیکھ لینے کا دن جب آ جائے گا اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں یعنی رسالت یا عذاب کے ساتھ اس وقت پھر کافروں کو مہلت نہیں ملے گی ‘۔
’ اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے ذمے دار بھی ہم ہی ہیں، ہمیشہ تغیر و تبدل سے بچا رہے گا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ «لَهُ» کی ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی قرآن اللہ ہی کا نازل کیا ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ وہی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ’ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے اللہ محفوظ رکھے گا ‘۔ لیکن پہلا معنی اولیٰ ہے اور عبارت کی ظاہر روانی بھی اسی کو ترجیح دیتی ہے۔
9۔ 1 یعنی اس کو دست برد زمانہ سے اور تغیر وتبدل سے بچانا ہمارا کام ہے۔ چناچہ قرآن آج تک اسی طرح محفوظ ہے جس طرح یہ اترا تھا، گمراہ فرقے اپنے اپنے گمراہانہ عقائد کے اثبات کے لئے اس کی آیات میں معنوی تحریف تو کرتے رہتے ہیں اور آج بھی کرتے ہیں لیکن پچھلی کتابوں کی طرح یہ لفظی تحریف اور تغیر سے محفوظ ہے۔ علاوہ ازیں اہل حق کی ایک جماعت بھی تحریفات معنوی کا پردہ چاک کرنے کے لئے ہر دور میں موجود رہی ہے، جو ان کے گمراہانہ عقائد اور غلط دلائل اور ثبوت بکھیرتی رہی ہے اور آج بھی وہ اس محاذ پر سرگرم عمل ہے۔ علاوہ ازیں قرآن کو یہاں ' ذکر ' (نصیحت) کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے اہل جہاں کے لئے ' ذکر ' (یاد دہانی اور نصیحت ہونے) کے پہلو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے تابندہ نقوش اور آپ کے فرمودات کو بھی محفوظ کر کے قیامت تک کے لئے باقی رکھا گیا ہے۔ گویا قرآن کریم اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کا راستہ ہمیشہ کے لئے کھلا ہوا ہے۔ یہ شرف اور محفوظیت کا مقام پچھلی کسی بھی کتاب اور رسول کو حاصل نہیں ہوا۔
(آیت9) ➊ {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ …:} یہاں اللہ تعالیٰ نے لفظ ”قرآن “ کے بجائے لفظ ”ذکر “ استعمال فرمایا، جس میں سب سے پہلے قرآن آتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّاۤ اَنْزَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ }» [ یوسف: ۲ ] ”بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنا کر نازل کیا ہے، تاکہ تم سمجھو۔“ اور اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال، افعال اور احوال یعنی حدیث بھی ذکر (نصیحت) ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا نازل کردہ ذکر قرار دیا، جیسا کہ فرمایا: «{ قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا (10) رَّسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْكُمْ اٰيٰتِ اللّٰهِ مُبَيِّنٰتٍ }» [ الطلاق: ۱۰، ۱۱ ] ”یقینا اللہ نے تمھاری طرف ایک ذکر (نصیحت) نازل کیا ہے، جو ایسا رسول ہے کہ تمھارے سامنے اللہ کی واضح بیان کرنے والی آیات پڑھتا ہے۔“ علاوہ ازیں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو کریں اسے کرنے کا اور جو کہیں اسے ماننے کا حکم دیا، پہلے کا نام اتباع ہے، دوسرے کا اطاعت ہے، چنانچہ فرمایا: «{ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ }» [ آل عمران: ۳۱ ] ”کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو۔“ اور فرمایا: «{ قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ }» [ آل عمران: ۳۲ ] ”کہہ دے اللہ اور رسول کا حکم مانو۔“ ➋ {اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا:} اس جملے میں اللہ تعالیٰ نے بے حد تاکید کے لیے لفظ ”ہم نے“ کو تین دفعہ دہرایا {” اِنَّا “} میں {” نَا “} (ہم نے)، دوسرا {” نَحْنُ “} (ہم نے) اور تیسرا {” نَزَّلْنَا “} میں {”نَا“} (ہم نے)۔ بہت کوشش سے بھی تینوں تاکیدوں کا ترجمہ فصیح اردو میں مشکل ہے۔ ➋ یعنی یہ ”ذکر“ جس کے لانے والے کو تم دیوانہ کہہ رہے ہو، یہ تو خود ہم ہی نے نازل کیا اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قاضی اسماعیل بصری سے پوچھا گیا کہ اس میں کیا راز ہے کہ پہلی کتابیں قرآن کی طرح محفوظ نہ رہ سکیں؟ انھوں نے فرمایا، اللہ تعالیٰ نے ان کی حفاظت انسانوں کے ذمے لگائی تھی، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ … بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ }» [ المائدۃ: ۴۴ ] ”بے شک ہم نے تورات اتاری… اس لیے کہ وہ اللہ کی کتاب کے محافظ بنائے گئے تھے“ جب کہ قرآن کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمے لی۔ (الوسیط) ایک حکمت یہ بھی ہے کہ قرآن وحدیث قیامت تک کے لیے تمام لوگوں کے لیے ہیں، جب کہ اس سے پہلے ہر کتاب ایک قوم اور ایک وقت تک کے لیے تھی۔ جس طرح قرآن اپنے الفاظ اور معانی کے اعتبار سے معجزہ ہے کہ جن و انس جمع ہو کر بھی اس جیسی ایک سورت نہیں بنا سکتے، اسی طرح یہ بھی اس کا معجزہ ہے کہ اس میں رد و بدل نہیں ہو سکے گا۔ قرآن کی حفاظت کا یہ وعدہ حیرت انگیز طور پر پورا ہو رہا ہے۔ قرآن کے سوا دنیا کی کوئی کتاب ایسی نہیں جو چودہ سو سال گزرنے کے باوجود اس طرح محفوظ ہو کہ اس کے کسی ایک حرف میں رد و بدل نہ ہوا ہو۔ دنیا بھر میں قرآن کے جتنے نسخے موجود ہیں ان میں معمولی سا بھی اختلاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کے سینوں میں محفوظ ہے۔ مسلمانوں پر زوال اور غلامی کے ایام بھی آئے، مگر قرآن کی حفاظت میں کوئی فرق نہیں آیا۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت جو کسی اور کتاب کو نصیب نہیں ہوئی اور قرآن کی اس طرح حفاظت کے غیر مسلم مخالف بھی معترف ہیں۔ ➍ منکرینِ حدیث عموماً حدیث سے انکار کے لیے کہتے ہیں کہ قرآن کی حفاظت کا تو اللہ نے وعدہ کیا، مگر حدیث کی حفاظت کا وعدہ نہیں فرمایا، اس لیے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ ان سے پوچھیے کہ اس کی کیا دلیل ہے؟ تو وہ یہ آیت پڑھیں گے، حالانکہ اس میں لفظ ”قرآن“ نہیں بلکہ {” الذِّكْرَ “} ہے، جس میں حدیث بھی شامل ہے اور اس کی حفاظت کا بھی اللہ تعالیٰ نے اتنا زبردست اور عجیب و غریب انتظام فرمایا کہ دنیا میں کسی شخص کے اقوال و افعال اور احوال اس طرح محفوظ نہیں جس طرح ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے محفوظ ہیں۔ اس کے لیے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم، تابعین اور محدثین نے اتنی محنت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی ہمارے لیے محفوظ فرما دی، جس کی پیروی اور اطاعت ہمارے لیے لازم تھی۔ اس حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں رجال اور اصول حدیث کے علوم کا الہام فرمایا اور انھوں نے ایک لاکھ سے زائد افراد کی زندگی کے حالات، ان کا قابل اعتماد ہونا یا نہ ہونا، ان کا سن پیدائش و وفات محفوظ فرما دیا، جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ روایت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے، صحیح ہے یا نہیں۔ کسی نبی کی زندگی کے حالات اور اقوال و افعال کے لیے نہ یہ اہتمام کسی امت کو نصیب ہوا اور نہ کسی نبی کے حالات اس کا ہزارواں حصہ بھی ملتے ہیں جس قدر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات بحفاظت دنیا تک پہنچے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر حدیث محفوظ نہ ہو تو قرآن پر عمل ناممکن ہے، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ غرض کوئی چیز بھی حدیث کی تفصیل کے بغیر ادا کرنا ناممکن ہے۔رہی یہ بات کہ احادیث میں ضعیف روایات کی آمیزش ہے تو جواب یہ ہے کہ جب اس کا حل موجود ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ محدثین نے صحیح و ضعیف کو الگ الگ کر دیا ہے۔ جس طرح شیعہ کے عقیدے سے کہ یہ قرآن وہ نہیں جو علی رضی اللہ عنہ یا اہل بیت کے پاس تھا، قرآن مجید کی صحت و عظمت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ بے دلیل دعویٰ کچھ وزن نہیں رکھتا اور آج تک ان کے مزعوم قرآن کا کہیں وجود نہیں ملا، اسی طرح منکرین حدیث کے اعتراض سے حدیثوں کی حفاظت پر کوئی حرف نہیں آتا، کیونکہ یہ سب اعتراض لاعلمی یا الحاد کا نتیجہ ہیں اور ان سب کا جواب علمائے اسلام نے بہترین طریقے سے دے دیا ہے۔
اے محمدؐ، ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی اپنے رسول (برابر) بھیجے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے اگلی امتوں میں رسول بھیجے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آپ سے پہلے مختلف جماعتوں میں رسول بھیجے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے اگلے لوگوں کے گروہوں میں رسول بھیجے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ’ جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے ‘۔ ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت11،10) {وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ …:” شِيَعِ “ ” شِيْعَةٌ “} کی جمع ہے، معنی ہے لوگوں کا ایسا گروہ جو ایک طریقے اور مذہب پر متفق ہو، خواہ نیک ہوں یا بد۔ یہاں یہ لفظ برے شیعہ یعنی بری جماعت کے معنی میں ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ }» [ الأنعام: ۱۵۹] ”بے شک وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر لیا اور کئی گروہ بن گئے، تو کسی چیز میں بھی ان سے نہیں۔“ البتہ صافات میں نیک معنی میں ہے: «{ وَ اِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ }» [ الصآفات: ۸۳ ] ”اور بے شک اس کے گروہ میں سے ابراہیم بھی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان کے جھٹلانے اور استہزا سے رنجیدہ نہ ہوں، ہر زمانے میں کفار نے انبیاء کی اسی طرح ہنسی اڑائی ہے۔
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کہ پاس کوئی رسول آیا ہو اور اُنہوں نے اُس کا مذاق نہ اڑایا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (لیکن) جو بھی رسول آتا وه اس کا مذاق اڑاتے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر اس سے ہنسی کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے پاس کوئی ایسا رسول نہیں آیا جس کے ساتھ انہوں نے مذاق نہ کیا ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا تھا مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کیا کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ’ جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے ‘۔ ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔
11۔ 1 یہ گویا نبی کو تسلی دی جا رہی ہے کہ صرف آپ ہی کی تکذیب نہیں کی گئی، ہر رسول کے ساتھ اس کی قوم نے یہی معاملہ کیا۔
مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اِسی طرح (سلاخ کے مانند) گزارتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
گناه گاروں کے دلوں میں ہم اسی طرح یہی رچا دیا کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ایسے ہی ہم اس ہنسی کو ان مجرموں کے دلوں میں راہ دیتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اسی طرح ہم اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اسی طرح ہم یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ’ جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے ‘۔ ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔
12۔ 1 یعنی کفر اور رسولوں کا استہزاء ہم مجرموں کے دلوں میں دیتے ہیں یا رچا دیتے ہیں، یہ نسبت نے اپنی طرف اس لئے کی کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے گو ان کا فعل ان کی مسلسل معصیت کے نتیجے میں اللہ کی مشیت سے رونما ہوا۔
(آیت13،12){كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ …: ” نَسْلُكُهٗ “} میں {” هٗ “} ضمیر کے متعلق مفسرین نے دو وجہیں بیان کی ہیں، بعض نے کہا کہ {”هٗ“} کی ضمیر {” الذِّكْرَ “} کی طرف جا رہی ہے، یعنی ہم مجرموں کے دلوں کے اندر ذکر کو داخل کر دیتے ہیں اور وہ اسے اچھی طرح سنتے اور سمجھتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ باوجود دل سے سمجھنے کے اس پر ایمان بالکل نہیں لاتے اور پہلے لوگوں میں بھی یہی طریقہ گزر چکا ہے اور وہ اسی کی پاداش میں تباہ کیے جاتے رہے ہیں۔ زمخشری، رازی اور سید طنطاوی کی تفسیر کے مطابق {” نَسْلُكُهٗ “} اور {” لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ “} میں ضمیر غائب کا مرجع ایک رہتا ہے۔ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے بھی یہی تفسیر ذکر فرمائی ہے۔ دوسری تفسیر امام المفسرین طبری رحمہ اللہ کی ہے کہ {” نَسْلُكُهٗ “} میں ضمیر{ ”هٗ “} ”استہزا و کفر“ کی طرف جاتی ہے، یعنی ہم مجرموں کے جرائم کی پاداش میں ان کے دلوں میں کفر و استہزا داخل کر دیتے ہیں، اس طرح کہ وہ اللہ کے نازل کردہ ذکر پر بالکل ایمان نہیں لاتے، بلکہ اس سے استہزا کرتے ہیں اور پہلے لوگوں کا طریقہ بھی یہی رہا ہے۔ دونوں تفسیروں کا نتیجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے۔
وہ اِس پر ایمان نہیں لایا کرتے قدیم سے اِس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلا آ رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه اس پر ایمان نہیں ﻻتے اور یقیناً اگلوں کا طریقہ گزرا ہوا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور اگلوں کی راہ پڑچکی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
(مگر) وہ اس (ذکر) پر ایمان نہیں لاتے اور جو پہلے گزر چکے ہیں ان کا طریقہ بھی یہی رہ چکا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ اس پر ایمان نہیں لاتے اور یقینا (یہی) پہلے لوگوں کا طریقہ گزرا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ’ جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے ‘۔ ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔
13۔ 1 یعنی ان کے ہلاک کرنے کا وہی طریقہ ہے جو اللہ نے پہلے مقرر کر رکھا ہے کہ تکذیب و استہزاء کے بعد وہ قوموں کو ہلاک کرتا ہے۔
اگر ہم اُن پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دہاڑے اُس میں چڑھنے بھی لگتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر ہم ان پر آسمان کا دروازه کھول بھی دیں اور یہ وہاں چڑھنے بھی لگ جائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم ان کے لیے آسمان میں کوئی دروازہ کھول دیں کہ دن کو اس میں چڑھتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر ہم ان پر آسمان کا ایک دروازہ کھول دیں جس سے وہ دن دہاڑے چڑھنے لگیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم ان پر آسمان سے کوئی دروازہ کھول دیں، پس وہ دن بھر اس میں چڑھتے رہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان کی سرکشی، ضد، ہٹ، خود بینی اور باطل پرستی کی تو یہ کیفیت ہے کہ بالفرض اگر ان کے لیے آسمان کا دروازہ کھول دیا جائے اور انہیں وہاں چڑھا دیا جائے تو بھی یہ حق کو حق کہہ کر نہ دیں گے بلکہ اس وقت بھی ہانک لگائیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے، آنکھیں بہکا دی گئی ہیں، جادو کر دیا گیا ہے، نگاہ چھین لی گئی ہے، دھوکہ ہو رہا ہے، بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت14){وَ لَوْ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ …: ” ظَلَّ“} اور {” بَاتَ “ } میں وقت بھی ملحوظ ہوتا ہے۔ {”ظَلَّ“ } دن کو ہونا، {”بَاتَ“} رات کو ہونا۔ اب ایک عجیب انداز میں ان کی ہٹ دھرمی اور ہر دلیل دیکھ کر بھی ایمان نہ لانے کا بیان ہوتا ہے، یعنی ان کا مطالبہ تو صرف فرشتے لانے کا ہے، اگر اس سے بڑھ کر عین دن کے بارہ بجے روشنی میں سب کے سامنے ہم آسمان کے دروازے کھول دیں اور یہ لوگ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھنے لگیں تو پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا ہے، بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تب بھی یہی کہیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے بلکہ ہم لوگوں پر جادو کر دیا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
جب بھی یہی کہتے کہ ہماری نگاہ باندھ دی گئی ہے بلکہ ہم پر جادو ہوا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
تو پھر بھی وہ یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھوں کو مدہوش کر دیا گیا ہے بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو یقینا کہیں گے کہ بات یہی ہے کہ ہماری آنکھیں سختی سے باندھ دی گئی ہیں، بلکہ ہم جادو کیے ہوئے لوگ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ان کی سرکشی، ضد، ہٹ، خود بینی اور باطل پرستی کی تو یہ کیفیت ہے کہ بالفرض اگر ان کے لیے آسمان کا دروازہ کھول دیا جائے اور انہیں وہاں چڑھا دیا جائے تو بھی یہ حق کو حق کہہ کر نہ دیں گے بلکہ اس وقت بھی ہانک لگائیں گے کہ ہماری نظر بندی کر دی گئی ہے، آنکھیں بہکا دی گئی ہیں، جادو کر دیا گیا ہے، نگاہ چھین لی گئی ہے، دھوکہ ہو رہا ہے، بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔
15۔ 1 یعنی ان کا کفر وعناد اس حد تک بڑھا ہوا ہے کہ فرشتوں کا نزول تو رہا ایک طرف، اگر خود ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جائیں اور یہ ان دروازوں سے آسمان پر آجائیں، تب بھی انھیں اپنی آنکھوں پر یقین نہ آئے اور رسولوں کی تصدیق نہ کریں بلکہ یہ کہیں کہ ہماری نظر بندی کردی گئی ہے یا ہم پر جادو کردیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہم ایسا محسوس کر رہے ہیں کہ ہم آسمان پر آ جا رہے ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں۔
(آیت15){ لَقَالُوْۤا اِنَّمَا سُكِّرَتْ اَبْصَارُنَا …: ” سَكَرَ يَسْكُرُ سَكْرًا “} باندھنا، روکنا اور بند کرنا، {”سَكَرْتُ الْبَابَ“} ”میں نے دروازہ بند کیا۔“ {” سُكِّرَتْ “} باب تفعیل مبالغہ کے لیے ہے، یعنی یہی کہیں گے کہ جادو کے زور سے ہماری آنکھیں بالکل بند کر دی گئی ہیں، اس لیے جادو زدہ ہونے کی و جہ سے ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں محض خیال ہے اور فی الواقع انھوں نے یہ کام کر بھی دکھایا، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ (1) وَ اِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَ يَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ}» [القمر: ۱، ۲ ] ”قیامت بالکل قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا اور اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ (یہ) ایک جادو ہے جو گزر جانے والا ہے (یا ہمیشہ سے چلا آنے والا ہے)۔“
یہ ہماری کار فرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے، اُن کو دیکھنے والوں کے لیے مزین کیا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور دیکھنے والوں کے لیے اسے سجا دیا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے آسمان میں برج بنائے اور اسے دیکھنے والو ں کے لیے آراستہ کیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور بے شک ہم نے آسمان میں بہت سے برج بنا دیئے اور اس (آسمان) کو دیکھنے والوں کے لئے آراستہ کر دیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آسمان میں کئی برج بنائے اور اسے دیکھنے والوں کے لیے مزین کر دیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ستارے اور شیطان ٭٭
اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لیے بہت سے پاسکتا ہے۔ بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں۔
عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں، اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پرھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے کو لپکتا ہے۔ کبھی تو نیچے والے کے کان میں بات ڈالنے سے پہلے ہی اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کی بابت فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر۔ پھر جب ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں تو دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا؟ وہ کہتے ہیں جو بھی فرمایا حق ہے اور وہی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لیے جنات اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور اس طرح ایک پر ایک ہوتا ہے۔ راوی حدیث صفوان نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح بتایا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک کو ایک پر رکھ لی۔ شعلہ اس سننے والے کا کام کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ اسی وقت وہ جل جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ اس سے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آ جائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہو جائیں پھر تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلا دیتا ہے۔ جب اس کی وہ ایک بات جو آسمان سے اسے اتفاقاً پہنچ گئی تھی صحیح نکلتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے فلاں دن یہ کہا تھا بالکل سچ نکلا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800]
پھر اللہ تعالیٰ زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اسے پیدا کیا، پھیلایا، اس میں پہاڑ بنائے، جنگل اور میدان قائم کئے، کھیت اور باغات اور تمام چیزیں اندازے، مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر ایک موسم، ہر ایک زمین، ہر ایک ملک کے لحاظ سے بالکل ٹھیک پیدا کیں جو بازار کی زینت اور لوگوں کے لیے خوشگوار ہیں۔ زمین میں قسم قسم کی معیشت اس نے پیدا کر دیں اور انہیں بھی پیدا کیا جن کے روزی رساں تم نہیں ہو ‘۔ یعنی چوپائے اور جانور لونڈی غلام وغیرہ۔ پس قسم قسم کی چیزیں، قسم قسم کے اسباب، قسم قسم کی راحت، ہر طرح کے آرام، اس نے تمہارے لیے مہیا کر دئیے۔ کمائی کے طریقے تمہیں سکھائے جانوروں کو تمہارے زیر دست کر دیا تاکہ کھاؤ بھی، سواریاں بھی کرو، لونڈی غلام دیئے کہ راحت و آرام حاصل کرو۔ ان کی روزیاں بھی کچھ تمہارے ذمہ نہیں بلکہ ان کا رزاق بھی اللہ ہے۔ نفع تم اٹھاؤ روزی وہ پہنچائے «فسبحانه اعظم شانه» ۔
16۔ 1 بروج برج کی جمع ہے جس کے معنی ظہور کے ہیں۔ اسی سے تبرج ہے جو عورت کے اظہار زینت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ یہاں آسمان کے ستاروں کو بُرُوْج، ُ کہا گیا ہے کیونکہ وہ بلند اور ظاہر ہوتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں بُرُوْج سے مراد شمس و قمر اور دیگر سیاروں کی منزلیں ہیں، جو ان کے لئے مقرر ہیں اور یہ 12 ہیں۔ حمل، ثور، جوزاء، سرطان، اسد، سنبلہ، میزان، عقرب، قوس، جدی، دلو، حوت۔ عرب ان سیاروں کی منزلوں اور ان کے ذریعے سے موسم کا حال معلوم کرتے تھے۔ اس میں کوئی قباحت نہیں البتہ ان سے تغیر پذیر ہونے والے واقعات و حوادث جاننے کا دعوی کرنا، جیسے آج کل بھی جاہلوں میں اس کا خاصا چرچہ۔ اور لوگوں کی قسمتوں کو ان کے ذریعے سے دیکھا اور سمجھا جاتا ہے۔ ان کا کوئی تعلق دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات و حوادث سے نہیں ہوتا، جو کچھ بھی ہوتا ہے، صرف مشیت الہی ہی سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں ان برجوں یا ستاروں کا ذکر اپنی قدرت اور بےمثال صنعت کے طور پر کیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ واضح کیا ہے کہ یہ آسمان کی زینت بھی ہیں۔
(آیت16) ➊ {وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوْجًا: ” بُرُوْجًا “ ” بُرْجٌ “} کی جمع ہے، جو اصل میں بڑے بلند و بالا اور مزین قلعہ یا محل کو کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ اَيْنَ مَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِيْ بُرُوْجٍ مُّشَيَّدَةٍ }» [ النساء: ۷۸ ] ”تم جہاں کہیں بھی ہو گے موت تمھیں پا لے گی، خواہ تم مضبوط قلعوں میں ہو۔“ اس کا اصل معنی نمایاں اور ظاہر ہونا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن سے فرمایا: «{ وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى }» [ الأحزاب: ۳۳ ] ”اور پہلی جاہلیت کے زینت لگا کر نمایاں ہونے کی طرح زینت لگا کر ظاہر نہ ہو۔“ مزید دیکھیے سورۂ بروج کی پہلی آیت۔ پچھلی آیاتِ رسالت کے بعد اب توحید کا بیان شروع ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل کے لیے پہلے عالم بالا کا ذکر فرمایا ہے، پھر زمین کا، پھر ان کے درمیان کی چیزوں کا اور اس کے بعد آدم و ابلیس کا تذکرہ ہے۔ چنانچہ فرمایا ہم نے آسمان میں عظیم الشان اور نمایاں برج بنائے ہیں، یعنی ستاروں کے نمایاں جھرمٹ، سورج اور چاند کی منازل جس سے رات کو ٹھنڈک والی روشنی اور دن کو تیز روشنی اور حرارت کے حصول کے علاوہ وقت، دنوں، مہینوں اور سالوں کا تعین ہوتا ہے۔ انسانوں، حیوانوں اور پودوں کی نشوونما، ان کی بقا اور بے انتہا ضرورتوں کا بندوبست ہوتا ہے، سمندر کا مدوجزر اور بے شمار فوائد جو تمھارے وہم و گمان میں بھی نہیں، انھی سے حاصل ہوتے ہیں۔ان سب کو بنانے والا، چلانے والا اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے؟ کسی کا دعویٰ ہے تو اسے سامنے لاؤ۔ بعض اہلِ علم نے {” بُرُوْجًا “} ان مقامات کو بھی بتایا ہے جہاں آسمان کے محافظ فرشتے رہتے ہیں۔ ➋ { وَ زَيَّنّٰهَا لِلنّٰظِرِيْنَ:} اللہ تعالیٰ کی قدرت و توحید کے دلائل میں سے ایک بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ اس نے آسمان کو چاند، ستاروں اور سورج سے مزین کر دیا ہے۔ رات کو ستاروں اور چاند کے ساتھ آسمان کی زینت کا نظارہ صحیح طرح وہاں ہوتا ہے جہاں مصنوعی روشنیاں نہ ہوں۔ یہ صرف ایک آسمان ہی پر موقوف نہیں، اس لامحدود قدرت والے نے جو چیز بھی پیدا کی خوب صورت پیدا کی اور اس میں زینت کا خاص اہتمام فرمایا، چھوٹے سے چھوٹے کیڑے سے لے کر بڑی سے بڑی مخلوق سب کچھ ہی کمال خوبصورت بنایا، فرمایا: «{ الَّذِيْۤ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَ بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ }» [ السجدۃ: ۷ ] ”جس نے اچھا بنایا ہر چیز کو جو اس نے پیدا کی اور انسان کی پیدائش تھوڑی سی مٹی سے شروع کی۔“ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صاف ستھرا اور بن سنور کر رہنے کو پسند کرتے تھے، فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ جَمِيْلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ ] [ مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱ ] ”بے شک اللہ خوبصورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔“ وہ سادھوؤں، جوگیوں یا راہبوں اور بے وقوف صوفیوں کی طرح گندے اور بدزیب ہو کر رہنے کو پسند نہیں کرتا۔ وہ دس چیزیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرت کا حصہ قرار دیا، مثلاً کلی، مسواک،زیر ناف کی صفائی وغیرہ، یہ اسی نظافت اور جمال کو کامل رکھتی ہیں۔
اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لیے بہت سے پاسکتا ہے۔ بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں۔
عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں، اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پرھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے کو لپکتا ہے۔ کبھی تو نیچے والے کے کان میں بات ڈالنے سے پہلے ہی اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کی بابت فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر۔ پھر جب ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں تو دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا؟ وہ کہتے ہیں جو بھی فرمایا حق ہے اور وہی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لیے جنات اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور اس طرح ایک پر ایک ہوتا ہے۔ راوی حدیث صفوان نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح بتایا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک کو ایک پر رکھ لی۔ شعلہ اس سننے والے کا کام کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ اسی وقت وہ جل جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ اس سے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آ جائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہو جائیں پھر تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلا دیتا ہے۔ جب اس کی وہ ایک بات جو آسمان سے اسے اتفاقاً پہنچ گئی تھی صحیح نکلتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے فلاں دن یہ کہا تھا بالکل سچ نکلا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800]
پھر اللہ تعالیٰ زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اسے پیدا کیا، پھیلایا، اس میں پہاڑ بنائے، جنگل اور میدان قائم کئے، کھیت اور باغات اور تمام چیزیں اندازے، مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر ایک موسم، ہر ایک زمین، ہر ایک ملک کے لحاظ سے بالکل ٹھیک پیدا کیں جو بازار کی زینت اور لوگوں کے لیے خوشگوار ہیں۔ زمین میں قسم قسم کی معیشت اس نے پیدا کر دیں اور انہیں بھی پیدا کیا جن کے روزی رساں تم نہیں ہو ‘۔ یعنی چوپائے اور جانور لونڈی غلام وغیرہ۔ پس قسم قسم کی چیزیں، قسم قسم کے اسباب، قسم قسم کی راحت، ہر طرح کے آرام، اس نے تمہارے لیے مہیا کر دئیے۔ کمائی کے طریقے تمہیں سکھائے جانوروں کو تمہارے زیر دست کر دیا تاکہ کھاؤ بھی، سواریاں بھی کرو، لونڈی غلام دیئے کہ راحت و آرام حاصل کرو۔ ان کی روزیاں بھی کچھ تمہارے ذمہ نہیں بلکہ ان کا رزاق بھی اللہ ہے۔ نفع تم اٹھاؤ روزی وہ پہنچائے «فسبحانه اعظم شانه» ۔
17۔ 1 رجیم مرجوم کے معنی میں ہے رَجْم کے معنی ہیں سنگسار کرنا یعنی پتھر مارنے کے ہیں۔ شیطان کو رجیم اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ سب آسمان کی طرف جانے کی کوشش کرتا ہے تو آسمان سے شہاب ثاقب اس پر ٹوٹ کر گرتے ہیں، پھر رجیم ملعون و مردود کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے، کیونکہ جسے سنگسار کیا جاتا ہے اسے ہر طرف سے لعنت ملامت بھی کی جاتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ ہم نے آسمانوں کی حفاظت فرمائی ہر شیطان رجیم سے۔ یعنی ان ستاروں کے ذریعے سے، کیونکہ یہ شیطان کو مار بھاگنے پر مجبور کردیتے ہیں۔
(آیت18،17) ➊ {وَ حَفِظْنٰهَا مِنْ كُلِّ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍ:} یعنی آسمان کو ہم نے ہر مردود شیطان سے محفوظ رکھنے کا زبردست انتظام کر رکھا ہے۔ ➋ {اِلَّا مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ …:} سرقہ چوری کو کہتے ہیں، باب افتعال سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی مگر جو نہایت کوشش سے، یا نہایت خفیہ رہ کر چوری کرے۔ {” السَّمْعَ “} مصدر بمعنی اسم مفعول ہے، یعنی سنی ہوئی چیز چرا لے۔ {” شِهَابٌ “} ہر روشنی کرنے والی چیز جو آگ سے پیدا ہو، عموماً ستارہ جو شعلے کی طرح پیچھا کرتا نظر آتا ہے۔ {” شِهَابٌ مُّبِيْنٌ “} روشن شعلہ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: [ إِذَا قَضَی اللّٰهُ الْأَمْرَ فِي السَّمَاءِ ضَرَبَتِ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا خُضْعَانًا لِقَوْلِهِ كَالسِّلْسِلَةِ عَلٰی صَفْوَانٍ، فَإِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ قَالُوْا لِلَّذِيْ قَالَ الْحَقَّ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ، فَيَسْمَعُهَا مُسْتَرِقُو السَّمْعِ وَمُسْتَرِقُو السَّمْعِ هٰكَذَا، وَاحِدٌ فَوْقَ آخَرَ ــ وَوَصَفَ سُفْيَانُ بِيَدِهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِ يَدِهِ الْيُمْنَی، نَصَبَهَا بَعْضَهَا فَوْقَ بَعْضٍ فَرُبَّمَا أَدْرَكَ الشِّهَابُ الْمُسْتَمِعَ قَبْلَ أَنْ يَرْمِيَ بِهَا إِلٰی صَاحِبِهِ فَيُحْرِقَهٗ، وَرُبَّمَا لَمْ يُدْرِكْهُ حَتّٰی يَرْمِیَ بِهَا إِلَی الَّذِيْ يَلِيْهِ، إِلَی الَّذِيْ هُوَ أَسْفَلُ مِنْهُ حَتّٰی يُلْقُوْهَا إِلَی الْأَرْضِ، فَتُلْقَی عَلٰی فَمِ السَّاحِرِ فَيَكْذِبُ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ، فَيُصَدَّقُ كَذَا وَ كَذَا؟ فَوَجَدْنَاهُ حَقًّا لِلْكَلِمَةِ الَّتِيْ سُمِعَتْ مِنَ السَّمَاءِ ] [ بخاری، التفسیر، باب قولہ: «إلا من استرق السمع …» : ۴۷۰۱ ] ”جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کوئی حکم صادر فرماتا ہے تو اس کا کلام سن کر فرشتے اظہار اطاعت و عجز کے لیے اپنے بازو (پر) پھڑ پھڑانے لگتے ہیں، (اس کلام کی آواز ایسی ہوتی ہے) جیسے کسی چٹان پر زنجیر کی آواز۔ پھر جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کر دی جاتی ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں کہ تمھارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں کہ اس نے جو فرمایا حق فرمایا اور وہ بلند اور بڑا ہے۔ (اس وقت) فرشتوں سے سنائی دینے والی بات کو چوری سننے والے شیطان سننے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ چوری چھپے سننے والے اس طرح ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں“ اور راوی حدیث سفیان نے دائیں ہاتھ کی انگلیاں کھول کر ایک دوسرے کے اوپر کر کے دکھائیں ”پھر بعض اوقات وہ شعلہ سننے والے کو اس سے پہلے جا پہنچتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کو جلدی سے بتائے اور اسے جلا دیتا ہے اور بعض اوقات اس وقت پہنچتا ہے جب وہ اپنے ساتھ والے کو جلدی سے بتا چکا ہوتا ہے، جو اس سے نیچے ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ اسے زمین تک پہنچا دیتے ہیں، تو وہ بات کاہن (نجومی) یا جادوگر کو پہنچا دی جاتی ہے، وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا لیتا ہے تو اس کی بات کو سچا سمجھا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں، کیا اس نے ہمیں فلاں فلاں دن ایسے ایسے نہیں بتایا تھا اور ہم نے دیکھا کہ وہ بالکل درست تھا، اس بات کے متعلق جو آسمان سے سنی گئی تھی۔“ مزید دیکھیے سورۂ صافات (6،5) اور سورۂ طارق (۱ تا ۴)۔ یاد رہے کہ شیطان صرف وہ بات چرا سکتے ہیں جس کا تعلق آئندہ ہونے والے ان کاموں سے ہوتا ہے، جن کے متعلق فرشتے آسمان کے نیچے آپس میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں، جیسا کہ صحیح بخاری میں ہے کہ فرشتے بادل میں گفتگو کر رہے ہوتے ہیں۔ [ بخاری: 3210 ] مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کی طرف جو وحی ہوتی ہے، اس کی حفاظت کا اتنا زبردست انتظام ہوتا ہے کہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شیطان اسے سن سکے یا چرا سکے، دیکھیے سورۂ جن کی ابتدائی اور آخری آیات کی تفسیر۔
کوئی شیطان ان میں راہ نہیں پا سکتا، الا یہ کہ کچھ سن گن لے لے اور جب وہ سن گن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلہ روشن اُس کا پیچھا کرتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں مگر جو چوری چھپے سننے کی کوشش کرے اس کے پیچھے دہکتا ہوا (کھلا شعلہ) لگتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
مگر جو چوری چھپے سننے جائے تو اس کے پیچھے پڑتا ہے روشن شعلہ
علامہ محمد حسین نجفی
مگر یہ کہ کوئی (شیطان) چوری چھپے کچھ سن لے تو (اس صورت میں) ایک چمکتا ہوا شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر جو سنی ہوئی بات چرا لے تو ایک روشن شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ستارے اور شیطان ٭٭
اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لیے بہت سے پاسکتا ہے۔ بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں۔
عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں، اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پرھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے کو لپکتا ہے۔ کبھی تو نیچے والے کے کان میں بات ڈالنے سے پہلے ہی اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کی بابت فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر۔ پھر جب ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں تو دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا؟ وہ کہتے ہیں جو بھی فرمایا حق ہے اور وہی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لیے جنات اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور اس طرح ایک پر ایک ہوتا ہے۔ راوی حدیث صفوان نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح بتایا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک کو ایک پر رکھ لی۔ شعلہ اس سننے والے کا کام کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ اسی وقت وہ جل جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ اس سے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آ جائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہو جائیں پھر تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلا دیتا ہے۔ جب اس کی وہ ایک بات جو آسمان سے اسے اتفاقاً پہنچ گئی تھی صحیح نکلتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے فلاں دن یہ کہا تھا بالکل سچ نکلا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800]
پھر اللہ تعالیٰ زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اسے پیدا کیا، پھیلایا، اس میں پہاڑ بنائے، جنگل اور میدان قائم کئے، کھیت اور باغات اور تمام چیزیں اندازے، مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر ایک موسم، ہر ایک زمین، ہر ایک ملک کے لحاظ سے بالکل ٹھیک پیدا کیں جو بازار کی زینت اور لوگوں کے لیے خوشگوار ہیں۔ زمین میں قسم قسم کی معیشت اس نے پیدا کر دیں اور انہیں بھی پیدا کیا جن کے روزی رساں تم نہیں ہو ‘۔ یعنی چوپائے اور جانور لونڈی غلام وغیرہ۔ پس قسم قسم کی چیزیں، قسم قسم کے اسباب، قسم قسم کی راحت، ہر طرح کے آرام، اس نے تمہارے لیے مہیا کر دئیے۔ کمائی کے طریقے تمہیں سکھائے جانوروں کو تمہارے زیر دست کر دیا تاکہ کھاؤ بھی، سواریاں بھی کرو، لونڈی غلام دیئے کہ راحت و آرام حاصل کرو۔ ان کی روزیاں بھی کچھ تمہارے ذمہ نہیں بلکہ ان کا رزاق بھی اللہ ہے۔ نفع تم اٹھاؤ روزی وہ پہنچائے «فسبحانه اعظم شانه» ۔
18۔ 1 اس کا مطلب یہ ہے کہ شیاطین آسمانوں پر باتیں سننے کے لئے جاتے ہیں، جن پر شہاب ثاقب ٹوٹ کر گرتے ہیں، جن سے کچھ تو مرجاتے ہیں اور کچھ بچ جاتے ہیں اور بعض سن آتے ہیں۔ حدیث میں اس کی تفسیر اس طرح آتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ' جب اللہ تعالیٰ آسمان پر کوئی فیصلہ فرماتا ہے، تو فرشتے اسے سن کر اپنے پر یا بازو پھڑ پھڑاتے ہیں گویا وہ کسی چٹان پر زنجیر کی آواز ہے۔ پھر جب فرشتوں کے دلوں سے اللہ کا خوف دور ہوجاتا ہے تو وہ ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں، تمہارے رب نے کیا کہا؟ وہ کہتے ہیں، اس نے کہا حق اور اور وہ بلند اور بڑا ہے (اس کے بعد اللہ کا وہ فیصلہ اوپر سے نیچے تک یکے بعد دیگرے سنایا جاتا ہے) اس موقع پر شیطان چوری چھپے بات سنتے ہیں۔ اور یہ چوری چھپے بات سننے والے شیطان، تھوڑے تھوڑے فاصلے سے ایک دوسرے کے اوپر ہوتے ہیں اور ایک آدھا حکم سن کر اپنے دوست نجومی یا کاہن کے کان پھونک دیتے ہیں، اور اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں کو بیان کرتا ہے (ملخصا۔ صحیح بخاری تفسیر سورة حجر)
ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑ جمائے، اس میں ہر نوع کی نباتات ٹھیک ٹھیک نپی تلی مقدار کے ساتھ اگائی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین کو ہم نے پھیلا دیا ہے اور اس پر (اٹل) پہاڑ ڈال دیئے ہیں، اور اس میں ہم نے ہر چیز ایک معین مقدار سے اگا دی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے زمین پھیلائی اور اس میں لنگر ڈالے اور اس میں ہر چیز اندازے سے اگائی،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے زمین کو پھیلا دیا اور اس میں پہاڑ گاڑ دیے اور اس میں ہر قسم کی چیزیں نپی تلی اگائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین، ہم نے اسے پھیلا دیا اور اس میں پہاڑ رکھے اور اس میں ہر نپی تلی چیز اگائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ستارے اور شیطان ٭٭
اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لیے بہت سے پاسکتا ہے۔ بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں۔
عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں، اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پرھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے کو لپکتا ہے۔ کبھی تو نیچے والے کے کان میں بات ڈالنے سے پہلے ہی اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کی بابت فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر۔ پھر جب ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں تو دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا؟ وہ کہتے ہیں جو بھی فرمایا حق ہے اور وہی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لیے جنات اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور اس طرح ایک پر ایک ہوتا ہے۔ راوی حدیث صفوان نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح بتایا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک کو ایک پر رکھ لی۔ شعلہ اس سننے والے کا کام کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ اسی وقت وہ جل جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ اس سے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آ جائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہو جائیں پھر تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلا دیتا ہے۔ جب اس کی وہ ایک بات جو آسمان سے اسے اتفاقاً پہنچ گئی تھی صحیح نکلتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے فلاں دن یہ کہا تھا بالکل سچ نکلا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800]
پھر اللہ تعالیٰ زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اسے پیدا کیا، پھیلایا، اس میں پہاڑ بنائے، جنگل اور میدان قائم کئے، کھیت اور باغات اور تمام چیزیں اندازے، مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر ایک موسم، ہر ایک زمین، ہر ایک ملک کے لحاظ سے بالکل ٹھیک پیدا کیں جو بازار کی زینت اور لوگوں کے لیے خوشگوار ہیں۔ زمین میں قسم قسم کی معیشت اس نے پیدا کر دیں اور انہیں بھی پیدا کیا جن کے روزی رساں تم نہیں ہو ‘۔ یعنی چوپائے اور جانور لونڈی غلام وغیرہ۔ پس قسم قسم کی چیزیں، قسم قسم کے اسباب، قسم قسم کی راحت، ہر طرح کے آرام، اس نے تمہارے لیے مہیا کر دئیے۔ کمائی کے طریقے تمہیں سکھائے جانوروں کو تمہارے زیر دست کر دیا تاکہ کھاؤ بھی، سواریاں بھی کرو، لونڈی غلام دیئے کہ راحت و آرام حاصل کرو۔ ان کی روزیاں بھی کچھ تمہارے ذمہ نہیں بلکہ ان کا رزاق بھی اللہ ہے۔ نفع تم اٹھاؤ روزی وہ پہنچائے «فسبحانه اعظم شانه» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت19) ➊ {وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا:} اب زمین اور اس پر پیدا کر دہ اشیاء کو توحید کی دلیل کے لیے بیان کیا جا رہا ہے۔ {”مَدَدْنٰهَا “ ”مَدَّ يَمُدُّ “} (ن) کا معنی ہے کھینچنا، پھیلانا۔ جب ہم زمین کی وسعت اور پھیلاؤ کو دیکھتے ہیں تو وہ اتنی ہے کہ اس پر چلنے پھرنے، رہنے، کاشت کرنے، مکان یا سڑکیں بنانے میں کوئی مشکل پیش نہیں آتی، مگر آنکھوں کو اس کی انتہا نظر نہیں آتی، خواہ کتنا سفر کر لیں۔ یہ پھیلاؤ اور مدّ دلیل ہے کہ زمین کو اللہ تعالیٰ نے گول بنایا ہے، ورنہ اگر یہ مربع یا کسی اور شکل کی ہوتی تو یہ پھیلاؤ کسی جگہ جا کر ختم ہو جاتا، اب تو گول زمین کی تصویریں بھی آ چکی ہیں اور تجربے سے بھی یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے، اس کے باوجود اس کا جھکاؤ ایسا عجیب ہے کہ نہ نظر آتا ہے اور نہ اس کلیے میں کوئی فرق پڑتا ہے کہ ”پانی اپنی سطح ہموار رکھتا ہے“ مگر سیکڑوں برس پہلے اس حقیقت کو وہی بیان کر سکتا تھا جس نے اسے پیدا کیا اور پھیلایا ہے۔ ➋ {وَ اَلْقَيْنَا فِيْهَا رَوَاسِيَ: ” رَوَاسِيَ “ ” رَاسِيَةٌ “} کی جمع ہے جو {” رَسَا يَرْسُوْ “} (ن) کا اسم فاعل ہے، جس کا معنی کسی بھاری چیز کا گڑا ہوا ہونا ہے۔ مراد پہاڑ ہیں جن کا اکثر حصہ زمین کے اندر اور باقی باہر ہوتا ہے۔ اس سے ایک دوسری حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ زمین کو متحرک بنایا گیا ہے، تبھی اس پر بھاری پہاڑ زمین کی گردش میں توازن رکھنے کے لیے گاڑ دیے گئے، تاکہ تیز رفتاری کے باوجود اس میں لرزش اور تھرتھراہٹ پیدا نہ ہو، جیسا کہ گاڑی کے پہیوں کا توازن برقرار رکھنے کے لیے ان کی مختلف جگہوں پر ضرورت کے مطابق لوہے وغیرہ کے ٹکڑے لگا دیے جاتے ہیں۔ ایک اور آیت میں بھی یہ اشارہ موجود ہے: «{وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ }» [ النمل: ۸۸] ”اور تو پہاڑوں کو دیکھے گا، انھیں گمان کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں،حالانکہ وہ بادلوں کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں گے۔“ ➋ {وَ اَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ:” فِيْهَا “} یعنی زمین میں ہر چیز اتنی اگائی اور پیدا کی جتنی اس کی ضرورت تھی، نہ کسی چیز کو بلاضرورت پیدا کیا اور نہ ایک خاص حد سے بڑھنے دیا۔ {” فِيْهَا “} میں ضمیر جبال (پہاڑوں) کے لیے بھی ہو سکتی ہے، یعنی پہاڑوں کے اندر ہر چیز یعنی معدنیات وغیرہ پورے اندازے سے پیدا کیں۔ (شوکانی)
اور اس میں معیشت کے اسباب فراہم کیے، تمہارے لیے بھی اور اُن بہت سی مخلوقات کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اسی میں ہم نے تمہاری روزیاں بنا دی ہیں اور جنہیں تم روزی دینے والے نہیں ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور تمہارے لیے اس میں روزیاں کردیں اور وہ کردیے جنہیں تم رزق نہیں دیتے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے اس میں تمہارے لئے بھی معاش کے وسائل بنائے اور ان کیلئے بھی جن کے روزی رساں تم نہیں ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے تمھارے لیے اس میں روزیاں بنائی ہیں اور ان کے لیے بھی جنھیں تم ہرگز روزی دینے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ستارے اور شیطان ٭٭
اس بلند آسمان کا جو ٹھہرے رہنے والے اور چلنے پھرنے والے ستاروں سے زینت دار ہے، پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ جو بھی اسے غور و فکر سے دیکھے وہ عجائبات قدرت اور نشانات عبرت اپنے لیے بہت سے پاسکتا ہے۔ بروج سے مراد یہاں پر ستارے ہیں۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت «تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا» ۱؎ [25-الفرقان:61] بعض کا قول ہے کہ مراد سورج چاند کی منزلیں ہیں۔
عطیہ کہتے ہیں وہ جگہیں جہاں چوکی پہرے ہیں، اور جہاں سے سرکش شیطانوں پر مار پڑتی ہے کہ وہ بلند و بالا فرشتوں کی گفتگو نہ سن سکیں۔ جو آگے پرھتا ہے، شعلہ اس کے جلانے کو لپکتا ہے۔ کبھی تو نیچے والے کے کان میں بات ڈالنے سے پہلے ہی اس کا کام ختم ہو جاتا ہے، کبھی اس کے برخلاف بھی ہوتا ہے۔ جیسے کہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں صراحتاً مروی ہے کہ { جب اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی امر کی بابت فیصلہ کرتا ہے تو فرشتے عاجزی کے ساتھ اپنے پر جھکا لیتے ہیں جیسے زنجیر پتھر پر۔ پھر جب ان کے دل مطمئن ہو جاتے ہیں تو دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے رب کا کیا ارشاد ہوا؟ وہ کہتے ہیں جو بھی فرمایا حق ہے اور وہی بلند و بالا اور بہت بڑا ہے۔ فرشتوں کی باتوں کو چوری چوری سننے کے لیے جنات اوپر کی طرف چڑھتے ہیں اور اس طرح ایک پر ایک ہوتا ہے۔ راوی حدیث صفوان نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس طرح بتایا کہ داہنے ہاتھ کی انگلیاں کشادہ کر کے ایک کو ایک پر رکھ لی۔ شعلہ اس سننے والے کا کام کبھی تو اس سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے کان میں کہہ دے۔ اسی وقت وہ جل جاتا ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ اس سے اور وہ اپنے سے نیچے والے کو اور اسی طرح مسلسل پہنچا دے اور وہ بات زمین تک آ جائے اور جادوگر یا کاہن کے کان اس سے آشنا ہو جائیں پھر تو وہ اس کے ساتھ سو جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلا دیتا ہے۔ جب اس کی وہ ایک بات جو آسمان سے اسے اتفاقاً پہنچ گئی تھی صحیح نکلتی ہے تو لوگوں میں اس کی دانشمندی کے چرچے ہونے لگتے ہیں کہ دیکھو فلاں نے فلاں دن یہ کہا تھا بالکل سچ نکلا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4800]
پھر اللہ تعالیٰ زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ ’ اسی نے اسے پیدا کیا، پھیلایا، اس میں پہاڑ بنائے، جنگل اور میدان قائم کئے، کھیت اور باغات اور تمام چیزیں اندازے، مناسبت اور موزونیت کے ساتھ ہر ایک موسم، ہر ایک زمین، ہر ایک ملک کے لحاظ سے بالکل ٹھیک پیدا کیں جو بازار کی زینت اور لوگوں کے لیے خوشگوار ہیں۔ زمین میں قسم قسم کی معیشت اس نے پیدا کر دیں اور انہیں بھی پیدا کیا جن کے روزی رساں تم نہیں ہو ‘۔ یعنی چوپائے اور جانور لونڈی غلام وغیرہ۔ پس قسم قسم کی چیزیں، قسم قسم کے اسباب، قسم قسم کی راحت، ہر طرح کے آرام، اس نے تمہارے لیے مہیا کر دئیے۔ کمائی کے طریقے تمہیں سکھائے جانوروں کو تمہارے زیر دست کر دیا تاکہ کھاؤ بھی، سواریاں بھی کرو، لونڈی غلام دیئے کہ راحت و آرام حاصل کرو۔ ان کی روزیاں بھی کچھ تمہارے ذمہ نہیں بلکہ ان کا رزاق بھی اللہ ہے۔ نفع تم اٹھاؤ روزی وہ پہنچائے «فسبحانه اعظم شانه» ۔
20۔ 1 معایش معیشۃ کی جمع ہے یعنی زمین میں تمہاری معیشت اور گزران کے لئے بیشمار اسباب و وسائل پیدا کردیئے۔ 20۔ 2 اس سے مراد نوکر چاکر، غلام اور جانور ہیں۔ یعنی جانوروں کو تمہارے تابع کردیا، جن پر تم سواری بھی کرتے ہو، سامان بھی لاد کرلے جاتے ہو اور انھیں ذبح کر کے کھا بھی لیتے ہو۔ غلام لونڈیاں ہیں، جن سے تم خدمت گزاری کا کام لیتے ہو۔ یہ اگرچہ سب تمہارے ماتحت ہیں اور تم ان کے چارے اور خوراک وغیرہ کا انتظام بھی کرتے ہو لیکن حقیقت میں ان کا رازق اللہ تعالیٰ ہے، تم نہیں ہو۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ تم ان کے رازق ہو، اگر تم انھیں کھانا نہیں دو گے تو بھوکے مرجائیں گے۔
(آیت20){ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ …: ” مَعَايِشَ “ ”مَعِيْشَةٌ“} کی جمع ہے، {”عَاشَ يَعِيْشُ عَيْشًا وَ مَعَاشًا وَمَعِيْشَةً“} کا معنی زندہ رہنا ہے، جیسے {”مَاتَ يَمُوْتُ مَوْتًا“} کا معنی مرنا ہے۔ پھر یہ لفظ زندگی کی ضرورتوں کے لیے استعمال ہونے لگا، یعنی تمھاری زندگی گزارنے کے لیے کھانے پینے، رہنے، علاج، راحت، سواری، الغرض ہر ضرورت کی چیز تمھارے لیے بھی پیدا کی اور ان کے لیے بھی جنھیں تم روزی دینے والے نہیں۔ اس سے دو قسم کی چیزیں مراد ہیں، ایک تو وہ جن کا تم سے تعلق ہی نہیں، سمندر کی گہرائیوں میں پہاڑوں کی بلندیوں میں، صحراؤں کی وسعتوں میں، زمین کی تہوں میں، آباد اور بے آباد زمین کی سطح پر اور فضاؤں میں بے شمار مخلوق ہے جنھیں تم ہرگز روزی دینے والے نہیں۔ {” لَسْتُمْ “} نفی کی تاکید {” بِرٰزِقِيْنَ “} کی باء کے ساتھ ہونے کی و جہ سے ترجمہ ”ہر گز“ کیا گیا ہے۔ دوسری وہ تمام چیزیں جو تمھاری خدمت کے لیے ہیں، مثلاً چوپائے، سواریاں، بیوی بچے اور نوکر چاکر وغیرہ، جن کے متعلق تم سمجھتے ہو کہ ہم انھیں کھانے کو دے رہے ہیں، خوب سمجھ لو کہ تم ہر گز انھیں روزی نہیں دے رہے،زمین میں ان کی معیشت بھی ہم ہی نے بنائی ہے اور ہم ہی انھیں رزق دے رہے ہیں، فرمایا: «{اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِيْنُ }» [ الذاریات: ۵۸ ] ”بے شک اللہ ہی بے حد رزق دینے والا، قوت والا، نہایت مضبوط ہے۔“ اور فرمایا: «{ وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا }» [ ہود: ۶ ] ”اور زمین میں کوئی چلنے والا (جاندار) نہیں مگر اس کا رزق اللہ ہی پر ہے۔“
کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں، اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جتنی بھی چیزیں ہیں ان سب کے خزانے ہمارے پاس ہیں، اور ہم ہر چیز کو اس کے مقرره انداز سے اتارتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کوئی چیز نہیں جس کے ہمارے پاس خزانے نہ ہوں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم انداز سے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معیّن مقدار میں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کوئی بھی چیز نہیں مگر ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں اور ہم اسے نہیں اتارتے مگر ایک معلوم اندازے سے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭
تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ { اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا }۔ ۱؎ [المیزان:1021:ضعیف جدا] اس کا ایک روای قوی نہیں۔ ’ ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں ‘، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔ بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔
ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ { جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ { ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو }۔ ۱؎ [مسند بزار:2088:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ ’ اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں ‘۔ جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:68-70] ’ جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» ۱؎ [16-النحل:10] ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو ‘۔ ’ تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں ‘۔ ’ یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے ‘۔ ’ زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے ‘۔ پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔
ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔ عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔“
21۔ 1 بعض نے خزائن سے مراد بارش لی ہے کیونکہ بارش ہی پیداوار کا ذریعہ ہے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے اس سے مراد تمام کائنات کے خزانے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ حسب مشیت و ارادہ عدم سے وجود میں لاتا رہتا ہے۔
(آیت21){وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا عِنْدَنَا …:} یعنی کوئی بھی چیز، قیمتی سے قیمتی ہو یا معمولی سے معمولی، ہمارے پاس اس کے کئی خزانے ہیں، مگر ہم اس کو معلوم اندازے کے مطابق ہی ظاہر کرتے ہیں، مثلاً جلانے اور روشنی کے لیے لکڑی استعمال ہوتی تھی، جب آبادی زیادہ ہوئی تو کوئلہ نکل آیا، مزید بڑھی تو پٹرولیم عطا ہوا،اس سے بھی بڑھی تو گیس نکل آئی، بجلی کے اوون ایجاد ہو گئے۔ توانائی اور سواری کے لیے جانور استعمال ہوتے تھے، پھر پہیہ ایجاد ہوا، پھر کوئلہ استعمال ہونے لگا، پھر پٹرولیم، گیس، بجلی اور ایٹم، الغرض! ایجادات بھی ضرورت کے مطابق اپنے اپنے وقت پر ہوئیں۔ اس سے ان ملحد لوگوں، خصوصاً حکمرانوں کی بات کا غلط ہونا صاف واضح ہوتا ہے جو کہتے ہیں کہ آبادی زیادہ بڑھ رہی ہے، جب کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں،ہم سب کی خوراک کا بندوبست نہیں کر سکتے، اس لیے آبادی کم کرو، ضبط ولادت کرو، ایک یا دو بچے پیدا ہونے دو۔ یہ لوگ درحقیقت اللہ پر ایمان نہیں رکھتے، جس نے فرمایا کہ ہمارے پاس ہر چیز کے بے شمار خزانے ہیں، مگر ہم مقرر اندازے کے ساتھ ہی اسے نازل کرتے ہیں۔ ان حکمرانوں نے کسی کو خوراک کیا دینی ہے، یہ تو خود عوام کی کمائی پر پلتے ہیں۔ اللہ کا کرم دیکھو، جو زمین پہلے دس من غلہ پیدا کرتی تھی اب سو من نکالتی ہے، بجلی اور دوسری ایجادات سے جو آسائشیں آج عام آدمی کو میسر ہیں وہ چند سو سال پہلے کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی میسر نہ تھیں، بلکہ ان کے خیال میں بھی نہ تھیں، الا یہ کہ وہ سلیمان علیہ السلام جیسا ہو، پیدل سفر اور اونٹوں، گھوڑوں کی جگہ گاڑیاں اور جہاز اور لق و دق صحراؤں کی جگہ آبادیاں اور نہایت صاف اور کشادہ سڑکیں اور ریلویز۔ اُون اور کپاس کی جگہ پٹرولیم کے کپڑے۔ الغرض! کس کس نئی نعمت اور خزانے کا ذکر کیا جائے۔ رہا آبادی اور وسائل کا تناسب، تو وہ اللہ تعالیٰ سے بہتر کون جانتا ہے، اگر آبادی کم کرنے کی ضرورت ہو تووہ اپنی غیبی تدبیر سے خود ہی کم کر لیتا ہے، کبھی طوفانوں سے، کبھی جنگوں سے، کبھی زلزلوں سے، کبھی وباؤں کے ذریعے سے۔ الغرض ہر جان دار کا رزق اللہ کے ذمے ہے اور ہر شخص کو اللہ تعالیٰ دنیا میں ایک منہ کھانے کے لیے اور دو ہاتھ کمانے کے لیے دے کر بھیجتا ہے اور ایک ایک شخص کئی کئی افراد کی ضروریات مہیا کرتا ہے۔ دراصل یہ حکمران اس بہانے سے بدکاری اور بے حیائی پھیلانا چاہتے ہیں اور بے حیائی پھیلانے کے خواہش مند لوگوں کی سزا اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور (۱۹) میں بیان کی ہوئی ہے۔ ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی حکم ہے کہ آبادی میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرو، دنیامیں غلبے کا یہ ایک مضبوط ذریعہ بھی ہے اور قیامت کے دن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دوسرے انبیاء سے اپنی امت کے زیادہ ہونے کی خوشی اور فخر کا باعث بھی، جیسا کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے: [ تَزَوَّجُوا الْوَدُوْدَ الْوَلُوْدَ فَإِنِّيْ مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ ] [ أبوداوٗد، النکاح، باب النھي عن تزویج من لم یلد من النسآء: ۲۰۵۰۔ نسائی:۳۲۲۹، و صححہ الألباني ] ”ایسی عورت سے نکاح کرو جو (خاوند سے) بہت محبت کرنے والی ہو اور بہت بچے جننے والی ہو، کیونکہ میں دوسری امتوں کے مقابلے میں تمھاری کثرت پر فخر کرنے والا ہوں گا۔“
بار آور ہواؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں، پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں، اور اُس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں اِس دولت کے خزانہ دار تم نہیں ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم بھیجتے ہیں بوجھل ہوائیں، پھر آسمان سے پانی برسا کر وه تمہیں پلاتے ہیں اور تم اس کا ذخیره کرنے والے نہیں ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ہوائیں بھیجیں بادلوں کو با رور کرنے والیاں تو ہم نے آسمان سے پانی اتارا پھر وہ تمہیں پینے کو دیا اور تم کچھ اس کے خزانچی نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم ہواؤں کو باردار بنا کر بھیجتے ہیں پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں پھر وہ پانی ہم تمہیں پلاتے ہیں حالانکہ تم اسکے خزانہ دار نہیں ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ہوائوں کو بار آور بناکر بھیجا، پھر ہم نے آسمان سے پانی اتارا، پس ہم نے تمھیں وہ پلانے کے لیے عطا فرمایا اور تم ہرگز اس کا ذخیرہ کرنے والے نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭
تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ { اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا }۔ ۱؎ [المیزان:1021:ضعیف جدا] اس کا ایک روای قوی نہیں۔ ’ ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں ‘، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔ بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔
ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ { جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ { ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو }۔ ۱؎ [مسند بزار:2088:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ ’ اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں ‘۔ جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:68-70] ’ جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» ۱؎ [16-النحل:10] ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو ‘۔ ’ تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں ‘۔ ’ یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے ‘۔ ’ زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے ‘۔ پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔
ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔ عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔“
22۔ 1 ہواؤں کو بوجھل، اس لئے کہا گیا کہ یہ ان بادلوں کو اٹھاتی ہیں جن میں پانی ہوتا ہے۔ جس طرح حاملہ اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو پیٹ میں بچہ اٹھائے ہوتی ہے۔ 22۔ 2 یعنی یہ پانی جو ہم اتارتے ہیں، اسے تم ذخیرہ رکھنے پر بھی قادر نہیں ہو۔ یہ ہماری ہی قدرت و رحمت ہے کہ ہم اس پانی کو چشموں، کنوؤں اور نہروں کے ذریعے سے محفوظ رکھتے ہیں، ورنہ اگر ہم چاہیں تو پانی کی سطح اتنی نیچی کردیں کہ چشموں اور کنوؤں سے پانی لینا تمہارے لئے ممکن نہ رہے، جس طرح بعض علاقوں میں اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھاتا ہے الَّھُمَّ اَحفظْنَا مِنْہُ۔
(آیت22) ➊ {وَ اَرْسَلْنَا الرِّيٰحَ لَوَاقِحَ …: ” لَوَاقِحَ “ ”لَاقِحٌ“} کی جمع بھی ہو سکتی ہے، یہ لفظ مذکر ہونے کے باوجود مؤنث ہے،جیسے {”حَائِضٌ“} اور {” حَامِلٌ “، ” لِقَاحٌ “} نر جانور کے مخصوص پانی کو کہتے ہیں۔ {”لَاقِحٌ“} وہ اونٹنی جس نے {”لِقَاحٌ“} کو قبول کر لیا ہو، یعنی حاملہ ہو چکی ہو اور اپنے پیٹ میں جنین اٹھائے پھرتی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ہواؤں کو حمل اٹھانے والی اس لیے قرار دیا کہ وہ اپنے اندر حاملہ اونٹنیوں کی طرح ایسے آبی بخارات اور بادلوں کا بوجھ اٹھا کر چلتی ہیں جو بارش برسانے کا ذریعہ بنتے ہیں اور یہ {”لَاقِحٌ“} بمعنی {”مُلْقِحٌ“} (باب افعال سے اسم فاعل، یعنی وہ نر جو حاملہ کرتا ہے) کی جمع بھی ہو سکتی ہے، یعنی یہ ہوائیں بادلوں پر اور مادہ درختوں پر، مثلاً کھجور وغیرہ، یا مادہ پھولوں پر عمل کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں کہ ہواؤں کے ذریعے سے بادل برسنے کے قابل ہوتے ہیں، ہواؤں ہی کے ذریعے سے نر درختوں اور نر پھولوں کا بور ان کے مادہ درختوں اور پھولوں تک پہنچتا ہے، جس سے ان کے پھل لانے کا عمل وجود میں آتا ہے۔ آیت کا کمالِ بلاغت یہ ہے کہ {” لَوَاقِحَ “} کا لفظ استعمال فرمایا جو حاملہ ہونے اور حاملہ کرنے کے دونوں مفہوم ادا کرتا ہے۔ ➋ {فَاَسْقَيْنٰكُمُوْهُ: ”سَقٰي يَسْقِيْ“} پلانا، {”أَسْقٰي يُسْقِيْ“} پلانے کے لیے دینا، مہیا کرنا، یعنی ہم نے آسمان سے پانی اتارا اور تمھیں ایک دوسرے کو پلانے اور اپنے جانوروں اور پودوں کو پلانے کے لیے عطا فرمایا۔ ➌ { وَ مَاۤ اَنْتُمْ لَهٗ بِخٰزِنِيْنَ:} یعنی نہ اوپر آسمان میں بارش کا خزانہ تمھارے قبضے میں ہے اور نہ نیچے زمین میں کنوؤں، چشموں، تالابوں کے خزانے پر تمھارا کوئی اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی پانی کو جس مقدار میں چاہتا ہے رکھتا ہے، وہ جب چاہے بارش برسائے تم اسے روک نہیں سکتے، یا جب چاہے روک لے تم اسے اپنی مرضی سے برسا نہیں سکتے۔ اسی طرح اگر وہ چاہے تو چشموں اور کنوؤں میں تمام جمع شدہ پانی زمین میں جذب ہو جائے اور تمھیں ایک قطرہ بھی پینے کو نہ ملے۔
زندگی اور موت ہم دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہونے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم ہی جلاتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی (بالﺂخر) وارث ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم ہی جِلائیں اور ہم ہی ماریں اور ہم ہی وارث ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور بلاشبہ ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہم ہی (سب کے) وارث ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک ہم، یقینا ہم ہی زندہ کرتے اور مارتے ہیں اور ہم ہی وارث ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭
تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ { اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا }۔ ۱؎ [المیزان:1021:ضعیف جدا] اس کا ایک روای قوی نہیں۔ ’ ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں ‘، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔ بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔
ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ { جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ { ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو }۔ ۱؎ [مسند بزار:2088:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ ’ اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں ‘۔ جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:68-70] ’ جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» ۱؎ [16-النحل:10] ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو ‘۔ ’ تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں ‘۔ ’ یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے ‘۔ ’ زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے ‘۔ پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔
ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔ عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت23){وَ اِنَّا لَنَحْنُ نُحْيٖ وَ نُمِيْتُ …:} اس آیت میں زندگی اور موت اور وراثت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہونے کی تاکید {” اِنَّ “}، لام تاکید، {” نَا “} ضمیر متکلم، {” نَحْنُ “} ضمیرمتکلم، {” نُحْيٖ “} اور {” نُمِيْتُ “} میں ضمیر متکلم کے ساتھ کی ہے اور آخر میں پھر {”نَحْنُ الْوٰرِثُوْنَ “ } میں {” نَحْنُ “} کے ساتھ اور {” الْوٰرِثُوْنَ “} خبر کو الف لام برائے حصر کے ساتھ لا کر تاکید کی انتہا کر دی ہے کہ زندگی اور موت کا مالک صرف اللہ ہے اور صرف وہی وارث ہے۔ عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں اتنی تاکید کا سامان ہی موجود نہیں اور اتنی تاکید کی ضرورت اس لیے ہے کہ کفار کا طرز عمل بتاتا ہے کہ وہ یہ تینوں باتیں نہیں مانتے، ورنہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے۔جتنا انکار سخت ہو گا اتنی ہی زیادہ تاکید کے ساتھ بات کی جائے گی۔ مطلب یہ ہے کہ سب فنا ہو جائیں گے، مال و متاع جو کچھ بچ رہے گا وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کا ہے۔
پہلے جو لوگ تم میں سے ہو گزرے ہیں اُن کو بھی ہم نے دیکھ رکھا ہے، اور بعد کے آنے والے بھی ہماری نگاہ میں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور تم میں سے آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے بھی ہمارے علم میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں آگے بڑھے اور بیشک ہمیں معلوم ہیں جو تم میں پیچھے رہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یقیناً ہم ان کو بھی جانتے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزرے اور ان کو بھی جانتے ہیں جو بعد میں آنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے ان لوگوں کو جان رکھا ہے جو تم میں سے بہت آگے جانے والے ہیں اور بلاشبہ ہم نے ان کو بھی جان رکھا ہے جو بہت پیچھے آنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭
تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ { اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا }۔ ۱؎ [المیزان:1021:ضعیف جدا] اس کا ایک روای قوی نہیں۔ ’ ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں ‘، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔ بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔
ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ { جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ { ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو }۔ ۱؎ [مسند بزار:2088:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ ’ اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں ‘۔ جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:68-70] ’ جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» ۱؎ [16-النحل:10] ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو ‘۔ ’ تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں ‘۔ ’ یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے ‘۔ ’ زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے ‘۔ پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔
ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔ عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت24){وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِيْنَ …:} اس میں بہت سی چیزیں آ جاتی ہیں: (1) وہ لوگ جو ہم سے پہلے گزر چکے اور جو ہمارے بعد آنے والے ہیں اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ اس کا علم ازلی اور ابدی ہے۔ (2) وہ لوگ جو اذان کا پہلا لفظ {”الله اكبر“} سنتے ہی اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑا سمجھتے ہوئے سب سے پہلے نماز کے لیے چل پڑتے ہیں اور جو پیچھے رہ جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے۔ (3) مستقدمین و مستاخرین، یعنی جہاد اور دوسری نیکیوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے رہنے والے سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔
یقیناً تمہارا رب ان سب کو اکٹھا کرے گا، وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کا رب سب لوگوں کو جمع کرے گا یقیناً وه بڑی حکمتوں واﻻ بڑے علم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک تمہارا رب ہی تمہیں قیامت میں اٹھائے گا بیشک وہی علم و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بے شک تمہارا پروردگار (بروزِ قیامت) سب کو جمع کرے گا وہ بڑا حکمت والا، بڑا علم والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک تیرا رب ہی انھیں اکٹھا کرے گا۔ یقینا وہ کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالٰی کے خزانے ٭٭
تمام چیزوں کا تنہا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ ہر کام اس پر آسان ہے۔ ہر قسم کی چیزوں کے خزانے اس کے پاس موجود ہیں۔ جتنا، جب اور جہاں چاہتا ہے، نازل فرماتا ہے۔ اپنی حکمتوں کا عالم وہی ہے۔ بندوں کی مصلحتوں سے بھی واقف ہے۔ یہ محض اس کی مہربانی ہے ورنہ کون ہے جو اس پر جبر کر سکے۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر سال بارش برابر ہی برستی ہے، ہاں تقسم اللہ کے ہاتھ ہے، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہی آیت تلاوت فرمائی۔ حکم بن عیینہ سے بھی یہی قول مروی ہے، کہتے ہیں کہ بارش کے ساتھ اس قدر فرشتے اترتے ہیں، جن کی گنتی کل انسانوں اور جنات سے زیادہ ہوتی ہے، ایک ایک قطرے کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ کہاں برسا اور اس سے کیا اگا۔ مسند بزار میں ہے کہ { اللہ کے پاس کے خزانے کیا ہیں؟ صرف کلام ہے جب کہا ہو جا ہو گیا }۔ ۱؎ [المیزان:1021:ضعیف جدا] اس کا ایک روای قوی نہیں۔ ’ ہوا چلا کر ہم بادلوں کو پانی سے بوجھل کر دیتے ہیں، اس میں پانی برسنے لگتا ہے۔ یہی ہوائیں چل کر درختوں کو بار دار کر دیتی ہیں کہ پتے اور کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں ‘، اس وصف کو بھی خیال میں رکھئے کہ یہاں جمع کا صیغہ لائے ہیں اور «الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ» میں وصف وحدت کے ساتھ کیا ہے تاکہ کثرت سے نتیجہ بر آمد ہو۔ بارداری کم از کم دو چیزوں کے بغیر ناممکن ہے۔ ہوا چلتی ہے وہ آسمان سے پانی اٹھاتی ہے اور بادلوں کو پر کر دیتی ہے۔ ایک ہوا ہوتی ہے جو زمین میں پیداوار کی قوت پیدا کرتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو بادلوں کو ادھر ادھر سے اٹھاتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں جمع کر کے تہ بہ تہ کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو انہیں پانی سے بوجھل کر دیتی ہے، ایک ہوا ہوتی ہے جو درختوں کو پھل دار ہونے کے قابل کردیتی ہے۔
ابن جریر میں بہ سند ضعیف ایک حدیث مروی ہے کہ { جنوبی ہوا جنتی ہے اس میں لوگوں کے منافع ہیں اور اسی کا ذکر کتاب اللہ میں ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21109:ضعیف] مسند حمیدی کی حدیث میں ہے کہ { ہواؤں کے سات سال بعد اللہ تعالیٰ نے جنت میں ایک ہوا پیدا کی ہے جو ایک دروازے سے رکی ہوئی ہے۔ اسی بند دروازے سے تمہیں ہوا پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ کھل جائے تو زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہوا سے الٹ پلٹ ہو جائیں۔ اللہ کے ہاں اس کا نام اذیب ہے، تم اسے جنوبی ہوا کہتے ہو }۔ ۱؎ [مسند بزار:2088:ضعیف] پھر فرماتا ہے کہ ’ اس کے بعد ہم تم پر میٹھا پانی برساتے ہیں کہ تم پیو اور کام میں لاؤ۔ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا اور کھاری کر دیں ‘۔ جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمان ہے کہ «أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنزِلُونَ لَوْ نَشَاءُ جَعَلْنَاهُ أُجَاجًا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:68-70] ’ جس میٹھے پانی کو تم پیا کرتے ہو اسے بادل سے برسانے والے بھی کیا تم ہی ہو؟ یا ہم ہیں؟ اگر ہم چاہیں تو اسے کڑوا کر دیں تعجب ہے کہ تم ہماری شکر گزاری نہیں کرتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً لَّكُم مِّنْهُ شَرَابٌ وَمِنْهُ شَجَرٌ فِيهِ تُسِيمُونَ» ۱؎ [16-النحل:10] ’ اسی اللہ نے تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو ‘۔ ’ تم اس کے خازن یعنی مانع اور حافظ نہیں ہو۔ ہم ہی برساتے ہیں ہم ہی جہاں چاہتے ہیں، پہنچاتے ہیں، جہاں چاہتے ہیں، محفوظ کردیتے ہیں۔ اگر ہم چاہیں زمین میں دھنسا دیں ‘۔ ’ یہ صرف ہماری رحمت ہے کہ اسے برسایا، بچایا، میٹھا کیا، ستھرا کیا تاکہ تم پیو، اپنے جانوروں کو پلاؤ۔ اپنی کھیتیاں اور باغات بساؤ،؟ اپنی ضرورتیں پوری کرو۔ ہم مخلوق کی ابتداء اور پھر اس کے اعادہ پر قادر ہیں۔ سب کو عدم سے وجود میں لائے۔ سب کو پھر معدوم ہم کریں گے۔ پھر قیامت کے دن سب کو اٹھا بٹھائیں گے ‘۔ ’ زمین کے اور زمین والوں کے وارث ہم ہی ہیں۔ سب کے سب ہماری طرف لوٹائے جائیں گے۔ ہمارے علم کی کوئی انتہا نہیں۔ اول آخر سب ہمارے علم میں ہے ‘۔ پس آگے والوں سے مراد تو اس زمانے سے پہلے کے لوگ ہیں آدم علیہ السلام تک کے۔ اور پچھلوں سے مراد اس زمانے کے اور آئندہ زمانے کے لوگ ہیں۔ مروان بن حکم سے مروی ہے کہ بعض لوگ بوجہ عورتوں کے پچھلی صفوں میں رہا کرتے تھے پس یہ آیت اتری۔ اس بارے میں ایک بہت ہی غریب حدیث بھی وارد ہوئی ہے۔
ابن جریر میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { ایک بہت ہی خوش شکل عورت نماز میں آیا کرتی تھی تو بعض مسلمان اس خیال سے کہ اس پر نگاہ نہ پڑے۔ آگے بڑھ جاتے تھے اور بعض ان کے خلاف اور پیچھے ہٹ آتے تھے اور سجدے کی حالت میں اپنے ہاتھوں تلے سے دیکھتے تھے پس یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:1046،قال الشيخ الألباني:صحیح] لیکن اس روایت میں سخت نکارت ہے۔ عبدالرزاق میں ابو الجواز کا قول اس آیت کے بارے میں مروی ہے کہ ”نماز کی صفوں میں آگے بڑھنے والے اور پیچھے ہٹنے والے۔“ یہ صرف ان کا قول ہے ابن عباس رضی اللہ عنہ کا اس میں ذکر نہیں۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ”یہی مشابہ ہے“ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ محمد بن کعب کے سامنے عون بن عبداللہ جب یہ کہتے ہیں تو آپ فرماتے ہیں ”یہ مطلب نہیں بلکہ اگلوں سے مراد وہ ہیں جو مر چکے اور پچھلوں سے مراد اب پیدا شدہ اور پیدا ہونے والے ہیں۔ تیرا رب سب کو جمع کرے گا وہ حکمت و علم والا ہے۔“ یہ سن کر عون رحمہ اللہ نے فرمایا ”اللہ آپ کو توفیق اور جزائے خیر دے۔“
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت25){ وَ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ يَحْشُرُهُمْ …:} کفار دوبارہ زندہ ہونے کے منکر تھے، توحید کے دلائل کے بعد نہایت تاکید کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا، کیونکہ یہ اللہ کے حکیم و علیم ہونے کا لازمی نتیجہ ہے اور اس کے بغیر بندہ نہ مومن ہوتا ہے، نہ باز پُرس کے یقین کے بغیر کوئی نیکی ہو سکتی ہے اورنہ گناہ سے بچا جا سکتا ہے۔
ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے بنایا
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے، پیدا فرمایا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے آدمی کو بجتی ہوئی مٹی سے بنایا جو اصل میں ایک سیاہ بودار گارا تھی، ف۳۳)
علامہ محمد حسین نجفی
اور بلاشبہ ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے تھی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خشک مٹی ٭٭
«صَلْصَالٍ» سے مراد خشک مٹی ہے۔ اسی جیسی آیت «خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ» ۱؎ [55-الرحمن:14-15] ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ بو دار مٹی کو «حَمَا» کہتے ہیں۔ چکنی مٹی کو «مَسْنُوْن» کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تر مٹی۔ اوروں سے مروی ہے بو دار مٹی اور گندھی ہوئی مٹی۔ انسان سے پہلے ہم نے جنات کو جلا دینے والی آگ سے بنایا ہے۔ «سَّمُوْم» کہتے ہیں آگ کی گرمی کو اور «حُرُور» کہتے ہیں دن کی گرمی کو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لوئیں اس گرمی کا سترہواں حصہ ہیں۔ جس سے جن پیدا کئے گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جن آگ کے شعلے سے بنائے گئے ہیں یعنی آگ سے بہت بہتر۔ عمرو کہتے ہیں سورج کی آگ سے۔ صحیح میں وارد ہے کہ { فرشتے نور سے پیدا کئے گئے اور جن شعلے والی آگ سے اور آدم علیہ السلام اس سے جو تمہارے سامنے بیان کر دیا گیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2996] اس آیت سے مراد آدم علیہ السلام کی فضیلت و شرافت اور ان کے عنصر کی پاکیزگی اور طہارت کا بیان ہے۔
26۔ 1 مٹی کی مختلف حالتوں کے اعتبار سے اس کے مختلف نام ہیں، خشک مٹی، بھیگی ہوئی، گوندھی ہوئی بدبودار خشک ہو کر کھن کھن بولنے لگے تو اور جب آگ سے پکا لیا جائے تو (ٹھیکری) کہلاتی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا جس طرح تذکرہ فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم خاکی کا پتلا مٹی سے بنایا گیا، جب وہ سوکھ کر کھن کھن کرنے لگا (صلصال) ہوگیا۔ تو اس میں روح پھونکی گئی، اسی طرح صلصالِ کو قرآن میں دوسری جگہ (فخار کی ماند کہا گیا ہے (خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ) 55۔ الرحمن:14) ' پیدا کیا انسان کو کھنکھناتی مٹی سے جیسے ٹھیکرا '
(آیت26) ➊ { وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ …:} اس سورت میں آیت (۱۶) «{ وَ لَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَآءِ بُرُوْجًا }» سے دلائلِ توحید کا بیان چلا آ رہا ہے، جب اوپر کی آیات میں مختلف چیزوں کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر کیا تو اب انسان کے پیدا کیے جانے کو بطور دلیل ذکر کیا جا رہا ہے، الغرض یہ دلائلِ توحید میں ساتویں قسم ہے۔ (کبیر) ➋ {مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ:} عربی زبان میں خشک مٹی کو {” تُرَابٌ “} کہتے ہیں، جب اسے بھگو دیا جائے تو وہ {”طِيْنٌ“} کہلاتی ہے، پھر جب مدت تک پڑی رہنے سے وہ سیاہ ہو جائے تو اسے {” حَمَاٍ “} کہتے ہیں،بدبو بھی آنے لگے تو {” حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ “} (بدبو دار کیچڑ) کہتے ہیں، پھر جب وہ خشک ہو کر کھن کھن بجنے لگے تو وہ{” صَلْصَالٍ “} کہلاتی ہے۔ {” مَسْنُوْنٍ “} کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ جس کی تصویر بنائی گئی ہو، جیسا کہ {” سُنَّةُ الْوَجْهِ“} کا معنی {”صُوْرَةُ الْوَجْهِ“} آتا ہے اور {”مَسْنُوْنٍ “} کا معنی ملائم و نرم بھی ہے۔ آیات و تفاسیر سے آدم علیہ السلام کی پیدائش کی ترتیب یہ معلوم ہوتی ہے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے پوری زمین سے خشک مٹی لی، جیسا کہ سورۂ آل عمران (۵۹) میں آدم علیہ السلام کو {” تُرَابٍ “} سے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور جیسا کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ خَلَقَ آدَمَ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ جَمِيْعِ الْأَرْضِ فَجَاءَ بَنُوْ آدَمَ عَلٰی قَدْرِ الْأَرْضِ جَاءَ مِنْهُمُ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْأَسْوَدُ وَبَيْنَ ذٰلِكَ وَالسَّهْلُ وَالْحَزْنُ وَالْخَبِيْثُ وَالطَّيِّبُ وَبَيْنَ ذٰلِكَ ] [ أبوداوٗد، السنۃ، باب في القدر: ۴۶۹۳۔ ترمذی: ۲۹۵۵۔ أحمد: ۴ /۴۰۰، ح: ۱۹۶۰۱، و صححہ الألباني ] ”اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی سے پیدا فرمایا، جو اس نے ساری زمین سے لی، تو بنی آدم اس زمین کے اندازے کے مطابق وجود میں آئے، ان میں سرخ، سفید، سیاہ اور اس کے مابین لوگ ہیں اور نرم، سخت خبیث، طیب اور اس کے مابین بھی ہیں۔“ پھر اس میں پانی ڈالا تو وہ {”طِيْنٌ“} ہو گئی، پھر اسے مدتوں پڑا رہنے دیا، جب وہ کالی سیاہ اور ملائم و نرم ہو گئی تو آدم علیہ السلام کا ڈھانچہ اور شکل و صورت بنائی، فرمایا: «{ وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ }» [ الأعراف: ۱۱ ] جب وہ سوکھ کر کھن کھن بجنے لگا تو اس میں اپنی خاص پیدا کردہ روح پھونکی، جیسا کہ اس جگہ {” صَلْصَالٍ “} کا ذکر ہے اور اس کے خوب خشک ہونے کا ذکر سورۂ رحمن (۱۴) میں ہے، فرمایا: «{مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ }» کہ وہ کھنکھنانے والی مٹی آگ میں پکی ہوئی مٹی کی طرح کھنکھنانے والی تھی۔
اور اُس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا
احمد رضا خان بریلوی
اور جِن کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس سے پہلے ہم نے جان کو بے دھواں تیز گرم آگ سے پیدا کیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور جانّ (یعنی جنوں) کو اس سے پہلے لُو کی آگ سے پیدا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خشک مٹی ٭٭
«صَلْصَالٍ» سے مراد خشک مٹی ہے۔ اسی جیسی آیت «خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ» ۱؎ [55-الرحمن:14-15] ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ بو دار مٹی کو «حَمَا» کہتے ہیں۔ چکنی مٹی کو «مَسْنُوْن» کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تر مٹی۔ اوروں سے مروی ہے بو دار مٹی اور گندھی ہوئی مٹی۔ انسان سے پہلے ہم نے جنات کو جلا دینے والی آگ سے بنایا ہے۔ «سَّمُوْم» کہتے ہیں آگ کی گرمی کو اور «حُرُور» کہتے ہیں دن کی گرمی کو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لوئیں اس گرمی کا سترہواں حصہ ہیں۔ جس سے جن پیدا کئے گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جن آگ کے شعلے سے بنائے گئے ہیں یعنی آگ سے بہت بہتر۔ عمرو کہتے ہیں سورج کی آگ سے۔ صحیح میں وارد ہے کہ { فرشتے نور سے پیدا کئے گئے اور جن شعلے والی آگ سے اور آدم علیہ السلام اس سے جو تمہارے سامنے بیان کر دیا گیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2996] اس آیت سے مراد آدم علیہ السلام کی فضیلت و شرافت اور ان کے عنصر کی پاکیزگی اور طہارت کا بیان ہے۔
27۔ 1 جِنّ کو جن اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ سورة رحمٰن میں جنات کی تخلیق (مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ) 55۔ الرحمن:15) سے بتلائی گئی ہے اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں یہ کہا گیا اس اعتبار سے لو والی آگ یا آگ کے شعلے کا ایک ہی مطلب ہوگا۔
(آیت27) ➊ {وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ:} یہاں {” الْجَآنَّ “ } سے مراد اکثر مفسرین نے جنوں کا باپ لیا ہے، بعض جنوں کی جنس مراد لیتے ہیں، بعض نے ابلیس مراد لیا ہے۔ اسے {” الْجَآنَّ “} یا جن ({جَنَّ يَجُنُّ }، بمعنی ڈھانپنا، چھپانا) انسان کی آنکھوں سے چھپنے کی وجہ سے کہتے ہیں، جیسا کہ جنین اور جنون وغیرہ سب میں ڈھانپنے کا مفہوم شامل ہے۔ جنوں کے بارے میں فرمایا: «{ اِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ }» [ الأعراف: ۲۷ ] ”بے شک وہ اور اس کا قبیلہ تمھیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔“ ➋ { مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ: ” السَّمُوْمِ “} دراصل سخت گرم ہوا (لو) کو کہتے ہیں، ایک تو اس کے زہریلے ہونے کی و جہ سے ({مِنَ السُّمِّ}) اور ایک اس لیے کہ وہ جسم کے مسامات کے اندر پہنچ جاتی ہے ({مِنَ الْمَسَامِّ})۔ مراد خالص آگ جو دھوئیں سے خالی اور اپنی تیزی کی و جہ سے لو کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
پھر یاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے کہا کہ "میں سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب تیرے پروردگار نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان کو کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کرنے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں آدمی کو بنانے والا ہوں بجتی مٹی سے جو بدبودار سیاہ گارے سے ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(وہ وقت یاد کرو) جب آپ کے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا بے شک میں ایک بشر ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کرنے والا ہوں، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہوگی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس لعین کا انکار ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ’ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا ‘۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ’ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ ‘ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:62] ’ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ’ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا ‘۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت28){وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ اِنِّيْ خَالِقٌۢ …:} اولاً انسان کی تخلیق کو بطور دلیل ذکر فرمایا، اب اس کے بعد اس کا قصہ ذکر فرمایا۔ (رازی) {” وَ اِذْ قَالَ “} سے پہلے {”اُذْكُرْ“} مقدر مانتے ہیں کہ اے مخاطب عاقل! وہ وقت یاد کر جب…۔
جب میں اُسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گر جانا"
مولانا محمد جوناگڑھی
تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح پھونک دوں تو تم سب اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا
احمد رضا خان بریلوی
تو جب میں اسے ٹھیک کرلوں اور اور میں اپنی طرف کی خاص معز ز ر وح پھونک دوں تو اس کے لیے سجدے میں گر پڑنا،
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب میں اسے مکمل کر لوں اور اس میں اپنی (خاص) روح پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ میں گر جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں تو تم اس کے سامنے سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس لعین کا انکار ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ’ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا ‘۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ’ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ ‘ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:62] ’ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ’ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا ‘۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
29۔ 1 سجدے کا یہ حکم بطور تعظیم کے تھا، عبادت کے طور پر نہیں، اور یہ چونکہ اللہ کا حکم تھا، اس لئے اس کے وجوب میں کوئی شک نہیں۔ تاہم شریعت محمدیہ میں بطور تعظیم بھی کسی کے لئے سجدہ کرنا جائز نہیں۔
(آیت29) ➊ {فَاِذَا سَوَّيْتُهٗ …:} یعنی جب میں اسے برابر کر لوں، مکمل بنا لوں۔ {” مِنْ رُّوْحِيْ “} اور اس میں اپنی روح سے پھونک دوں۔ یہاں {” رُوْحِيْ “} میں {”رُوْحٌ“} کی ”یاء“ کی طرف اضافت، اضافت تشریفی کہلاتی ہے، یعنی اس کا عزو شرف بڑھانے کے لیے اسے اپنی روح قرار دیا، یہاں ”میری روح“ سے مراد اللہ تعالیٰ کی مخلوق روح ہے، کیونکہ اس کی ذات کی مثل تو کوئی چیز نہیں، وہ {” لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُوْلَدْ “} ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کی ذاتی روح تو کسی صورت مراد نہیں ہو سکتی، صرف آدم ہی نہیں دوسری جگہ ہر انسان کی روح کو اللہ نے اپنی روح قرار دیا ہے، فرمایا: «{ ثُمَّ سَوّٰىهُ وَ نَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ }» [ دیکھیے السجدۃ: ۷ تا ۹ ] اور ظاہر ہے کہ انسان مخلوق ہے، یہ ایسے ہی ہے کہ ساری زمین اور اس کی ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی ہے، مگر مسجد حرام کو بیت اللہ (اللہ کا گھر) اور صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو اللہ کی اونٹنی قرار دیا ہے۔ ➋ اس آیت سے آیت (۳۹) تک کی مفصل تفسیر کے لیے سورۂ اعراف (۱۱ تا ۱۸) اور سورۂ بقرہ (۳۰ تا ۳۴) تک کے فوائد ملاحظہ فرمائیں۔
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ’ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا ‘۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ’ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ ‘ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:62] ’ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ’ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا ‘۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
مگر ابلیس کے۔ کہ اس نے سجده کرنے والوں میں شمولیت کرنے سے (صاف) انکار کر دیا
احمد رضا خان بریلوی
سوا ابلیس کے، اس نے سجدہ والوں کا ساتھ نہ مانا
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے ابلیس کے کہ اس نے سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکار کیا۔
عبدالسلام بن محمد
مگر ابلیس، اس نے انکار کر دیا کہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس لعین کا انکار ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ’ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا ‘۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ’ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ ‘ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:62] ’ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ’ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا ‘۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
رب نے پوچھا "اے ابلیس، تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ تو سجده کرنے والوں میں شامل نہ ہوا؟
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا اے ابلیس تجھے کیا ہوا کہ سجدہ کرنے والوں سے الگ رہا،
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا: اے ابلیس! تجھے کیا ہوا کہ تو نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا؟
عبدالسلام بن محمد
فرمایا اے ابلیس! تجھے کیا ہے کہ توسجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہوتا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس لعین کا انکار ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ’ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا ‘۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ’ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ ‘ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:62] ’ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ’ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا ‘۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس نے کہا "میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اِس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑی ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
وه بوﻻ کہ میں ایسا نہیں کہ اس انسان کو سجده کروں جسے تو نے کالی اور سڑی ہوئی کھنکھناتی مٹی سے پیدا کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بولا مجھے زیبا نہیں کہ بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے بجتی مٹی سے بنایا جو سیاہ بودار گارے سے تھی،
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے کہا میں ایسا نہیں ہوں کہ ایسے بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سڑے ہوئے گارے کی کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا میں کبھی ایسا نہیں کہ اس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے ایک بجنے والی مٹی سے پیدا کیا ہے، جو بدبودار، سیاہ کیچڑ سے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس لعین کا انکار ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرما رہا ہے کہ ’ آدم علیہ السلام کی پیدائش سے پہلے ان کی پیدائش کا ذکر اس نے فرشتوں میں کیا اور پیدائش کے بعد سجدہ کرایا۔ اس حکم کو سب نے تو مان لیا لیکن ابلیس لعین نے انکار کر دیا اور کفر و حسد انکار و تکبر فخر و غرور کیا ‘۔ «أَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ» [7-الأعراف:12] ’ صاف کہا کہ میں آگ کا بنایا ہوا یہ خاک کا بنایا ہوا۔ میں اس سے بہتر ہوں اس کے سامنے کیوں جھکوں؟ ‘ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:62] ’ تو نے اسے مجھ پر بزرگی دی لیکن میں انہیں گمراہ کر کے چھوڑوں گا ‘۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے یہاں پر ایک عجیب و غریب اثر وارد کیا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا ان سے فرمایا کہ ’ میں مٹی سے انسان بنانے والا ہوں، تم اسے سجدہ کرنا ‘۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے سنا اور تسلیم کیا۔ مگر ابلیس جو پہلے کے منکروں میں سے تھا۔ اپنے پر جما رہا۔“ لیکن اس کا ثبوت ان سے نہیں۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ اسرائیلی روایت ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
33۔ 1 شیطان نے انکار کی وجہ حضرت آدم ؑ کا خاکی اور بشر ہونا بتلایا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان اور بشر کو اس کی بشریت کی بنا پر حقیر اور کم تر سمجھنا یہ شیطان کا فلسفہ ہے، جو اہل حق انبیاء (علیہم السلام) کی بشریت کے منکر نہیں، اس لئے کہ ان کی بشریت کو خود قرآن کریم نے وضاحت سے بیان کیا ہے۔ علاوہ ازیں بشریت ان کی عظمت اور شان میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
رب نے فرمایا "اچھا تو نکل جا یہاں سے کیونکہ تو مردود ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
فرمایا اب تو بہشت سے نکل جا کیوں کہ تو رانده درگاه ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا تو جنت سے نکل جا کہ تو مردود ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوا (یہاں سے) نکل جا کہ تو مردود (راندہ ہوا) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا پھر اس سے نکل جا ، کیونکہ یقینا تو مردود ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابدی لعنت ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ’ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی ‘۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ’ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی ‘۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت35){وَ اِنَّ عَلَيْكَ اللَّعْنَةَ:} اس کا ترجمہ ”خاص لعنت“ الف لام کی و جہ سے کیا گیا ہے اور اس کی وضاحت سورۂ ص (۷۸) میں آئی ہے، فرمایا: «{ وَ اِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِيْۤ }» یعنی تجھ پر میری لعنت ہے۔
اُس نے عرض کیا "میرے رب، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس روز تک کے لیے مہلت دے جبکہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کہنے لگا کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک کی ڈھیل دے کہ لوگ دوباره اٹھا کھڑے کیے جائیں
احمد رضا خان بریلوی
بولا اے میرے رب تو مجھے مہلت دے اس دن تک کہ وہ اٹھائے جائیں
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے کہا کہ اے میرے رب! مجھے اس دن تک مہلت دے جب لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! پھر مجھے اس دن تک مہلت دے جب وہ اٹھائے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابدی لعنت ٭٭
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ’ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی ‘۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ’ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی ‘۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم کا ارادہ کیا جو نہ ٹلے، نہ ٹالا جا سکے کہ ’ تو اس بہترین اور اعلی جماعت سے دور ہو جا تو پھٹکارا ہوا ہے۔ قیامت تک تجھ پر ابدی اور دوامی لعنت برسا کرے گی ‘۔ کہتے ہیں کہ اسی وقت اس کی صورت بد گئی اور اس نے نوحہ خوانی شروع کی، دنیا میں تمام نوحے اسی ابتداء سے ہیں۔ مردود و مطرود ہو کر پھر آتش حسد سے جلتا ہوا آرزو کرتا ہے کہ قیامت تک کی اسے ڈھیل دی جائے اسی کو یوم البعث کہا گیا ہے۔ پس اس کی یہ درخواست منظور کی گئی اور مہلت مل گئی۔
وہ بولا "میرے رب، جیسا تو نے مجھے بہکایا اُسی طرح اب میں زمین میں اِن کے لیے دل فریبیاں پیدا کر کے اِن سب کو بہکا دوں گا
مولانا محمد جوناگڑھی
(شیطان نے) کہا کہ اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراه کیا ہے مجھے بھی قسم ہے کہ میں بھی زمین میں ان کے لئے معاصی کو مزین کروں گا اور ان سب کو بہکاؤں گا بھی
احمد رضا خان بریلوی
بولا اے رب میرے! قسم اس کی کہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں انہیں زمین میں بھلاوے دوں گا اور ضرور میں ان سب کو بے راہ کروں گا
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے کہا اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے تو میں بھی زمین میں ان (بندوں) کے لئے گناہوں کو خوشنما بناؤں گا اور سب کو گمراہ کروں گا۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اے میرے رب! چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں ضرور ہی ان کے لیے زمین میں مزین کروں گا اور ہر صورت میں ان سب کو گمراہ کردوں گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس کے سیاہ کارنامے ٭٭
ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لیے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آ سکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:62] ’ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑ جاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا ‘۔ اس پر جواب ملا کہ ’ تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ’ تیرا رب تاک میں ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ’ اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے ‘، غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ «عَلَيَّ» کی ایک قرأت «عَلِيٌّ» بھی ہے۔ جیسے آیت «وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:4] میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔
’ جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے ‘۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کرکے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی علیہ السلام کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی علیہ السلام نے تین بار کہا «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آ جاتا ہے؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتا دے، تو نبی اللہ نے کہا سن ”اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔“ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا ”اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ «وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:200] ’ جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے ‘۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔“ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔ نبی اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آ جاتا ہے؟“ اس نے کہا کہ ”میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے ‘۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت39){لَاُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ: } میں ان کے لیے زمین میں مزین کروں گا، کیا چیز، آیت کے سیاق و سباق سے عبارت یہ بنتی ہے کہ میں ان کے لیے زمین میں بھی خواہش نفس اور اللہ کی نافرمانی کو مزین اور خوش نما بنا کر پیش کروں گا، جیسا کہ آسمان میں ان کو ممنوعہ پودے کا کھانا خوش نما بنا کر پیش کیا اور گمراہ کر دیا تھا، فرمایا: «{ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى }» [ طہٰ: ۱۲۱ ] دوسرا معنی یہ ہے کہ میں انھیں تمام زینت زمین ہی میں دکھاؤں گا کہ جو کچھ ہے یہیں ہے، تاکہ وہ نہ آخرت کی طرف توجہ کریں اور نہ اس کا یقین کریں، سو اس طرح میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ }» [ الأعراف: ۱۷۶ ] ”اور لیکن وہ زمین ہی کی طرف چمٹ گیا اور اپنی خواہش کے پیچھے لگ گیا، سو اس کی مثال کتے کی سی ہے۔“
سوائے تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے اِن میں سے خالص کر لیا ہو"
مولانا محمد جوناگڑھی
سوائے تیرے ان بندوں کے جو منتخب کر لیے گئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔
عبدالسلام بن محمد
مگر ان میں سے تیرے وہ بندے جو خالص کیے ہوئے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس کے سیاہ کارنامے ٭٭
ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لیے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آ سکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:62] ’ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑ جاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا ‘۔ اس پر جواب ملا کہ ’ تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ’ تیرا رب تاک میں ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ’ اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے ‘، غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ «عَلَيَّ» کی ایک قرأت «عَلِيٌّ» بھی ہے۔ جیسے آیت «وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:4] میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔
’ جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے ‘۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کرکے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی علیہ السلام کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی علیہ السلام نے تین بار کہا «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آ جاتا ہے؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتا دے، تو نبی اللہ نے کہا سن ”اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔“ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا ”اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ «وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:200] ’ جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے ‘۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔“ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔ نبی اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آ جاتا ہے؟“ اس نے کہا کہ ”میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے ‘۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت40) {اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِيْنَ:} یعنی تیرے وہ بندے جو خالص تیرے لیے چن لیے گئے اور جنھیں تو نے خاص اپنا بنا لیا میں انھیں گمراہ نہیں کر سکوں گا۔
ارشاد ہوا کہ ہاں یہی مجھ تک پہنچنے کی سیدھی راه ہے
احمد رضا خان بریلوی
فرمایا یہ راستہ سیدھا میری طرف آتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
فرمایا یہ سیدھا راستہ ہے مجھ تک پہنچنے والا۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا یہ راستہ ہے جو مجھ تک سیدھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس کے سیاہ کارنامے ٭٭
ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لیے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آ سکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:62] ’ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑ جاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا ‘۔ اس پر جواب ملا کہ ’ تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ’ تیرا رب تاک میں ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ’ اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے ‘، غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ «عَلَيَّ» کی ایک قرأت «عَلِيٌّ» بھی ہے۔ جیسے آیت «وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:4] میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔
’ جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے ‘۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کرکے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی علیہ السلام کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی علیہ السلام نے تین بار کہا «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آ جاتا ہے؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتا دے، تو نبی اللہ نے کہا سن ”اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔“ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا ”اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ «وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:200] ’ جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے ‘۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔“ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔ نبی اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آ جاتا ہے؟“ اس نے کہا کہ ”میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے ‘۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔
41۔ 1 یعنی تم سب کو بالآخر میرے پاس ہی لوٹ آنا ہے، جنہوں نے میرا اور میرے رسولوں کا اتباع کیا ہوگا، میں انھیں اچھی جزا دوں گا اور جو شیطان کے پیچھے لگ کر گمراہی کے راستے پر چلتا رہا ہوگا اسے سخت سزا دوں گا جو جہنم کی صورت میں تیار ہے۔
(آیت41){قَالَ هٰذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيْمٌ:} یعنی یہی صراط مستقیم اور درست بات ہے جو مجھ پر لازم ہے کہ تو میرے مخلص بندوں کو گمراہ نہ کر سکے گا اور جو میرے لیے خالص ہو گا اس کی حفاظت میں خود کروں گا، جیسے بعد میں فرمایا: «{ اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ }» [ الحجر: ۴۲ ] اور ایک معنی یہ بھی ہے کہ {” هٰذَا “} سے اخلاص کی طرف اشارہ ہو، یعنی یہی اخلاص کی راہ مجھ تک سیدھی پہنچتی ہے اور میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہو گا۔ (روح المعانی) دوسرا معنی واضح ہے۔ (واللہ اعلم)
بے شک، جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پر چلے گا جو تیری پیروی کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
میرے بندوں پر تجھے کوئی غلبہ نہیں، لیکن ہاں جو گمراه لوگ تیری پیروی کریں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک میرے بندوں پر تیرا کچھ قابو نہیں سوا ان گمراہوں کے جو تیرا ساتھ دیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو میرے خاص بندے ہیں ان پر تیرا کوئی قابو نہ ہوگا سوائے ان گمراہوں کے جو تیری پیروی کریں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک میرے بندے، تیرا ان پر کوئی غلبہ نہیں، مگر جو گمراہوں میں سے تیرے پیچھے چلے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابلیس کے سیاہ کارنامے ٭٭
ابلیس کی سرکشی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اللہ کے گمراہ کرنے کی قسم کھا کر کہا، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھے گمراہ کیا میں بھی اولاد آدم کے لیے زمین میں تیری نافرمانیوں کو خوب زینت دار کر کے دکھاؤں گا۔ اور انہیں رغبت دلا دلا کر نافرمانیوں میں مبتلا کروں گا، جہاں تک ہو سکے گا کوشش کروں گا کہ سب کو ہی بہکا دوں۔ لیکن ہاں تیرے خالص بندے میرے ہاتھ نہیں آ سکتے۔ ایک اور آیت میں بھی ہے کہ «أَرَأَيْتَكَ هَـٰذَا الَّذِي كَرَّمْتَ عَلَيَّ لَئِنْ أَخَّرْتَنِ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَأَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهُ إِلَّا قَلِيلًا» ۱؎ [17-الاسراء:62] ’ گو تو نے اسے مجھ پر برتری دی ہے لیکن اب میں بھی اس کی اولاد کے پیچھے پڑ جاؤں گا، چاہے کچھ تھوڑے سے چھوٹ جائیں باقی سب کو ہی لے ڈوبوں گا ‘۔ اس پر جواب ملا کہ ’ تم سب کا لوٹنا تو میری ہی طرف ہے۔ اعمال کا بدلہ میں ضرور دوں گا نیک کو نیک بد کو بد ‘۔ جیسے فرمان ہے کہ «إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ» ۱؎ [89-الفجر:14] ’ تیرا رب تاک میں ہے ‘۔ اور آیت میں ہے «وَعَلَى اللَّـهِ قَصْدُ السَّبِيلِ» ۱؎ [16-النحل:9] ’ اور اللہ پر سیدھی راه کا بتا دینا ہے ‘، غرض لوٹنا اور اور لوٹنے کا راستہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ «عَلَيَّ» کی ایک قرأت «عَلِيٌّ» بھی ہے۔ جیسے آیت «وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:4] میں ہے یعنی بلند لیکن پہلی قرأت مشہور ہے۔
’ جن بندوں کو میں نے ہدایت پر لگا دیا ہے ان پر تیرا کوئی زور نہیں ہاں تیرا زور تیرے تابعداروں پر ہے ‘۔ یہ استثناء منقطع ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ بستیوں سے باہر نبیوں کی مسجدیں ہوتی تھیں۔ جب وہ اپنے رب سے کوئی خاص بات معلوم کرنا چاہتے تو وہاں جا کر جو نماز مقدر میں ہوتی ادا کرکے سوال کرتے۔ ایک دن ایک نبی علیہ السلام کے اور اس کے قبلہ کے درمیان شیطان بیٹھ گیا۔ اس نبی علیہ السلام نے تین بار کہا «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِِ» ۔ شیطان نے کہا اے اللہ کے نبی آخر آپ میرے داؤ سے کیسے بچ جاتے ہیں؟ نبی علیہ السلام نے کہا تو بتا کہ تو بنی آدم پر کس داؤ سے غالب آ جاتا ہے؟ آخر معاہدہ ہوا کہ ہر ایک صحیح چیز دوسرے کو بتا دے، تو نبی اللہ نے کہا سن ”اللہ کا فرمان ہے کہ میرے خاص بندوں پر تیرا کوئی اثر نہیں۔ صرف ان پر جو خود گمراہ ہوں اور تیری ماتحتی کریں۔“ اس اللہ کے دشمن نے کہا یہ آپ نے کیا فرمایا اسے تو میں آپ کی پیدائش سے بھی پہلے سے جانا ہوں، نبی نے کہا ”اور سن اللہ کا فرمان ہے کہ «وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ» ۱؎ [7-الأعراف:200] ’ جب شیطانی حرکت ہو تو اللہ سے پناہ طلب کر، وہ سننے جاننے والا ہے ‘۔ واللہ تیری آہٹ پاتے ہی میں اللہ سے پناہ چاہ لیتا ہوں۔“ اس نے کہا سچ ہے اسی سے آپ میرے پھندے میں نہیں پھنستے۔ نبی اللہ علیہ السلام نے فرمایا ”اب تو بتا کہ تو ابن آدم پر کسے غالب آ جاتا ہے؟“ اس نے کہا کہ ”میں اسے غصے اور خواہش کے وقت دبوچ لیتا ہوں۔“ پھر فرماتا ہے کہ ’ جو کوئی بھی ابلیس کی پیروی کرے، وہ جہنمی ہے ‘۔ یہی فرمان قرآن سے کفر کرنے والوں کی نسبت ہے۔
42۔ 1 یعنی میرے نیک بندوں پر تیرا داؤ نہیں چلے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے کوئی گناہ ہی سرزد نہیں ہوگا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ ایسا گناہ نہیں ہوگا کہ جس کے بعد نادم اور تائب نہ ہو کیونکہ وہی گناہ انسان کی ہلاکت کا باعث ہے کہ جس کے بعد انسان کے اندر ندامت کا احساس اور توبہ وانابت الی اللہ کا داعیہ پیدا نہ ہو۔ ایسے گناہ کے بعد ہی انسان گناہ پر گناہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اور بالآخر دائمی تباہی و ہلاکت اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اور اہل ایمان کی صفت یہ ہے کہ گناہ پر اصرار نہیں کرتے بلکہ فوراً توبہ کر کے آئندہ کے لئے اس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔
(آیت42){اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ …:} یہ پچھلی بات ہی کی وضاحت ہے اور مستثنیٰ منقطع ہے اور اگر {”عِبَادٌ“} سے مراد عام ہو تو مستثنیٰ متصل ہو گا، مطلب یہ کہ جو خود ہی بھٹکے ہوں اور جہالت کی بنا پر خود ہی تیری پیروی کرنا چاہیں۔
پھر ارشاد ہوا کہ ’ جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لیے دروازے تقسیم شدہ ہیں ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہو جائیں گے۔“ عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب ناامید ہو گئے ہیں۔ ترمذی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنم کے سات دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک ان کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار اٹھائے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3123،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ { بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہو گی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2845]
43۔ 1 یعنی جتنے بھی تیرے پیروکار ہوں گے، سب جہنم کا ایندھن بنیں گے۔
یہ جہنم (جس کی وعید پیروان ابلیس کے لیے کی گئی ہے) اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے اُن میں سے ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لیے ان کا ایک حصہ بٹا ہوا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس کے سات دروازے ہیں (اور) ہر دروازے کے لئے ان (لوگوں) میں سے ایک حصہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک تقسیم کیا ہوا حصہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر ارشاد ہوا کہ ’ جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لیے دروازے تقسیم شدہ ہیں ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہو جائیں گے۔“ عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب ناامید ہو گئے ہیں۔ ترمذی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنم کے سات دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک ان کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار اٹھائے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3123،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ { بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہو گی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2845]
44۔ 1 یعنی ہر دروازہ مخصوص قسم کے لوگوں کے لئے خاص ہوگا۔ مثلاً ایک دروازہ مشرکوں کے لئے، ایک دروازہ دھریوں کے لئے۔ ایک زندیقوں، ایک زانیوں کے لئے۔ سود خوروں، چوروں اور ڈاکوؤں کے لئے وغیرہ وغیرہ۔ یا سات دروازوں سے مراد سات طبق اور درجے ہیں۔ پہلا طبق یا درجہ جہنم ہے، دوسرا نطی۔ پھر حطمہ، پھر سعیر۔ پھر سقر، پھر حجیم، پھر ہاویہ، سب سے اوپر والا درجہ موحدین کے لئے ہوگا، جنہیں کچھ عرصہ سزا دینے کے بعد یا سفارش پر نکال لیا جائے گا، دوسرے میں یہودی، تیسرے میں عیسائی، چوتھے میں صابی، پانچویں میں مجوسی۔ چھٹے میں مشرکین اور ساتویں میں منافقین ہونگے، سب سے اوپر والے درجے کا نام جہنم ہے اس کے بعد اس ترتیب سے نام ہیں۔ (فتح القدیر)
(آیت44) ➊ { لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ:} یہ سات دروازے مختلف قسم کے گناہ گاروں کے لیے ہوں گے، جو جہنمیوں کو جہنم کے مختلف درجوں کی طرف پہنچائیں گے۔ قرآن مجید میں جہنم کے درجوں کو ”درکات“ کہا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ }» [ النساء: ۱۴۵ ] ”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ ابوطالب کے متعلق صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آگ اس کے ٹخنوں تک پہنچ رہی ہو گی۔ سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلٰی كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلٰی حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلٰی عُنُقِهِ ] [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جہنم أعاذنا اللہ منھا: ۲۸۴۵ ] ”ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنھیں آگ ٹخنوں تک پکڑے گی اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنھیں ان کی کمر تک پکڑے گی اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنھیں ان کی گردن تک پکڑے گی۔“ ➋ {لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ:} تقسیم کیے ہوئے حصے سے مراد بدکاروں کے سات حصوں میں تقسیم شدہ مجرموں کا ایک حصہ ہے، یعنی جس طرح ایک خاص عمل والے لوگ جنت میں ایک خاص دروازے سے داخل ہوں گے، اسی طرح برے عمل والے لوگ بھی اپنے اعمال کے مطابق جہنم کے مختلف دروازوں سے داخل ہوں گے، جیسے اوپر ذکر ہوا: «{ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ }» [ النساء: ۱۴۵ ] ”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”شاید بہشت کا ایک دروازہ زیادہ اس لیے ہے کہ بعض موحدین صرف اللہ کے فضل سے جنت میں جائیں گے، بغیر عمل کے۔“ (موضح)
دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے ‘۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہو گئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہو جائیں گے۔
45۔ 1 جہنم اور اہل جہنم کے بعد جنت اور اہل جنت کا تذکرہ کیا جا رہا ہے تاکہ جنت میں جانے کی ترغیب ہو۔ متقین سے مراد شرک سے بچنے والے موحدین ہیں اور بعض کے نزدیک وہ اہل ایمان جو معاصی سے بچتے رہے۔ جَنَّاتٍ سے مراد باغات اور عُیُونِ سے نہریں مراد ہیں۔ یہ باغات اور نہریں یا تو متقین کے لئے مشترکہ ہونگی، یا ہر ایک کے لئے الگ الگ باغات اور نہریں یا ایک ایک باغ اور نہر ہوگی۔
(آیت45) ➊ {” الْمُتَّقِيْنَ “ ”اِتَّقٰي“} باب افتعال سے اسم فاعل {”مُتَّقِيْ“} کی جمع ہے۔ مجرد {”وَقٰي يَقِیْ وَقَايَةً“} ہے، بمعنی بچانا اور نقصان دہ چیزوں سے محفوظ رکھنا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲)۔ ➋ {فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ:} گمراہ لوگوں کے برے انجام کے ساتھ ہی متقی لوگوں کے بہترین انجام کا ذکر ہے اور یہ قرآن مجید کا عام انداز ہے کہ وہ دونوں پہلوؤں کا ساتھ ساتھ ذکر کرتا ہے۔ {” جَنّٰتٍ “ ”جَنَّةٌ“} کی جمع ہے، گھنے درختوں کا باغ جو زمین کو چھپائے ہوئے ہو۔ {”جَنَّ يَجُنُّ“} کا معنی ہے چھپانا۔ {” عُيُوْنٍ “ } کا معنی ہے چشمے، مراد وہ چشمے ہیں جن سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں، یا الگ چشمے، کیونکہ چشموں کا حسن ایک الگ ہی چیز ہے۔ سورۂ دہر میں کافور اور زنجبیل کی آمیزش والے چشمے، سلسبیل نامی چشمے اور سورۂ مطففین میں تسنیم نامی چشمے کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں۔ یاد رہے کہ جنت سے مراد صرف باغ ہی نہیں، بلکہ سونے چاندی کی اینٹوں کے مکانات اور ایک ایک موتی یا لعل سے بنے ہوئے میلوں لمبے اور اونچے خیموں کے ساتھ ملے ہوئے باغات ہیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں جنت کے اوصاف میں مذکور ہے۔
اور اُن سے کہا جائے گا کہ داخل ہو جاؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر
مولانا محمد جوناگڑھی
(ان سے کہا جائے گا) سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
ان میں داخل ہو سلامتی کے ساتھ امان میں،
علامہ محمد حسین نجفی
(ان سے کہا جائے گا) کہ تم سلامتی اور امن و امان کے ساتھ ان میں داخل ہو جاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
اس میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہوکر داخل ہوجاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا ٭٭
دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے ‘۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہو گئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہو جائیں گے۔
46۔ 1 سلامتی ہر قسم کی آفات سے اور امن ہر قسم کے خوف سے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو یا فرشتے اہل جنت کو سلامتی کی دعا دیں گے۔ یا اللہ کی طرف سے ان کی سلامتی اور امن کا اعلان ہوگا۔
(آیت46){اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ …: } یعنی انھیں یہ کہا جائے گا۔ {” بِسَلٰمٍ “} یعنی ہر قسم کے آفات و مصائب سے سلامتی کے ساتھ، ایک دوسرے کو سلام کہتے ہوئے، فرشتوں کے سلام سنتے ہوئے اور پروردگار عالم کے {” سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ “} کے ساتھ۔ (دیکھیے یٰسٓ: ۵۸) اسی لیے جنت کا ایک نام ”دار السلام“ بھی ہے، فرمایا: «{ لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ }» [ الأنعام: ۱۲۷ ] {” اٰمِنِيْنَ “} ہر خوف خطرے سے محفوظ۔
اُن کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگی اسے ہم نکال دیں گے، وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے دلوں میں جو کچھ رنجش وکینہ تھا، ہم سب کچھ نکال دیں گے، وه بھائی بھائی بنے ہوئے ایک دوسرے کے آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان کے سینوں میں جو کچھ کینے تھے سب کھینچ لیے آپس میں بھائی ہیں تختوں پر روبرو بیٹھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم ان کے سینوں سے ہر قسم کی کدورت نکال دیں گے اور وہ بھائیوں کی طرح تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم ان کے سینوں میں جو بھی کینہ ہے نکال دیں گے، بھائی بھائی بن کر تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بے کینہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لیے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہو جائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6535] اشتر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے دیر سے اجازت دی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہوں تو بھی آپ مجھے اسی طرح روک دیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بیشک مجھے تو اللہ سے امید ہے کہ میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کر دی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ ”میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا۔“
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا ”اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے؟“ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور علی رضی اللہ عنہ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ رضی اللہ عنہ نے غصے ہو کر جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا جب دربار علی رضی اللہ عنہ میں آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی، اس نے آ کر زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ تو ان شاءاللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ”ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔“
کثیر کہتے ہیں ”میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے بری ہوں۔“ اس وقت ابو جعفر نے فرمایا ”اگر میں ایسا کروں تو یقیناً مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔“ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی، اور فرمایا کہ ”یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین، یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا { یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہو گی } }۔ ۱؎ [ضعیف]
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3820] حدیث میں ہے { ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2837] اور آیت میں ہے «خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا» ۱؎ [18-الكهف:108] ’ وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:118] ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندوں سے کہہ دیجئیے کہ میں «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں ‘۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ’ مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہیئے ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں { جنت دوزخ کی یاد کرو }، اس وقت یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:11107:ضعیف] یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر کہتے ہیں { میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں } یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ { ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دیدے ‘ } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21214:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کر لیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21213:مرسل]
47۔ 1 دنیا میں ان کے درمیان جو آپس میں حسد اور بغض و عداوت کے جذبات رہے ہوں گے، وہ ان کے سینوں سے نکال دیئے جائیں گے اور ایک دوسرے کے بارے میں ان کے آئینے کی طرح صاف اور شفاف ہوں گے۔
(آیت47){وَ نَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ …: ” نَزْعٌ“} کا معنی کھینچ کر، اکھاڑ کر نکالنا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کینہ اور دشمنی دل میں کتنی گہری جڑ پکڑتی ہے۔ {” غِلٍّ “} کینہ، کھوٹ، یعنی اللہ تعالیٰ دنیا میں اہل جنت کے دلوں میں ایک دوسرے کے متعلق ہر کینے کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دے گا، کیونکہ جس سینے میں کوئی کدورت ہو وہ مکمل خوشی سے ہم کنار نہیں ہو سکتا۔ دلوں کی صفائی کے بعد وہ بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے۔ محبت ہو تو خودبخود چہرے آپس میں مل جاتے ہیں، جب کہ دلوں میں کدورت ہو تو چہرے بھی ادھر ادھر ہو جاتے ہیں: دل بدلتے ہیں تو چہرے بھی بدل جاتے ہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اہل جنت کے متعلق) فرمایا: [ قُلُوْبُهُمْ عَلٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَّاحِدٍ لاَ اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ وَلَا تَبَاغُضَ ] [ بخاری، بدء الخلق، باب ما جاء فی صفۃ الجنۃ: ۳۲۴۶ ] ”ان کے دل ایک آدمی کے دل کی طرح ہوں گے، نہ ان میں کوئی اختلاف ہو گا، نہ آپس میں کوئی بغض۔“ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَخْلُصُ الْمُؤْمِنُوْنَ مِنَ النَّارِ فَيُحْبَسُوْنَ عَلٰی قَنْطَرَةٍ بَيْنَ الجَنَّةِ وَالنَّارِ، فَيُقْتَصُّ لِبَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ مَظَالِمُ كَانَتْ بَيْنَهُمْ فِي الدُّنْيَا، حَتّٰی إِذَا هُذِّبُوْا وَ نُقُّوْا أُذِنَ لَهُمْ فِيْ دُخُوْلِ الجَنَّةِ ] [ بخاری، الرقاق، باب القصاص یوم القیامۃ: ۶۵۳۵ ] ”مومن آگ سے بچ کر آئیں گے تو جنت اور جہنم کے درمیان ایک پل پر روک لیے جائیں گے، پھر دنیا میں ان کے ایک دوسرے پر مظالم کا قصاص ایک دوسرے کو دلوایا جائے گا، یہاں تک کہ جب ان کی پوری تراش خراش کر دی جائے گی اور خوب پاک صاف کر دیے جائیں گے تو انھیں جنت میں داخلے کی اجازت ملے گی۔“ اس آیت سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام اور صلحائے امت باہمی لڑائیوں اور رنجشوں کے باوجود جنت میں جائیں گے، مگر اس سے پہلے ان کے دلوں کی باہمی کدورتیں بالکل دور کر دی جائیں گی اور وہ صاف دل بھائی بھائی ہو کر جنت میں جائیں گے۔
اُنہیں نہ وہاں کسی مشقت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
نہ تو وہاں انہیں کوئی تکلیف چھو سکتی ہے اور نہ وه وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
نہ انہیں اس میں کچھ تکلیف پہنچے نہ وہ اس میں سے نکالے جائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کے اندر انہیں کوئی تکلیف و زحمت چھوئے گی بھی نہیں اور نہ ہی وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس میں انھیں نہ کوئی تھکاوٹ چھوئے گی اور نہ وہ اس سے کبھی نکالے جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بے کینہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لیے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہو جائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6535] اشتر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے دیر سے اجازت دی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہوں تو بھی آپ مجھے اسی طرح روک دیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بیشک مجھے تو اللہ سے امید ہے کہ میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کر دی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ ”میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا۔“
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا ”اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے؟“ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور علی رضی اللہ عنہ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ رضی اللہ عنہ نے غصے ہو کر جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا جب دربار علی رضی اللہ عنہ میں آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی، اس نے آ کر زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ تو ان شاءاللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ”ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔“
کثیر کہتے ہیں ”میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے بری ہوں۔“ اس وقت ابو جعفر نے فرمایا ”اگر میں ایسا کروں تو یقیناً مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔“ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی، اور فرمایا کہ ”یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین، یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا { یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہو گی } }۔ ۱؎ [ضعیف]
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3820] حدیث میں ہے { ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2837] اور آیت میں ہے «خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا» ۱؎ [18-الكهف:108] ’ وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:118] ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندوں سے کہہ دیجئیے کہ میں «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں ‘۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ’ مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہیئے ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں { جنت دوزخ کی یاد کرو }، اس وقت یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:11107:ضعیف] یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر کہتے ہیں { میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں } یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ { ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دیدے ‘ } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21214:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کر لیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21213:مرسل]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت48) ➊ { لَا يَمَسُّهُمْ فِيْهَا نَصَبٌ:} دنیا میں کوئی شخص دکھ، مصیبت، مشقت اور تھکن سے خالی نہیں، بلکہ یہ ساری زندگی ہی محنت اور مشقت کی ہے، یہاں زیادہ سے زیادہ خوشی اور لذت کے ساتھ بھی کوئی نہ کوئی مشقت، محنت، تھکن یا غم ضرور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بلد کے شروع میں کئی قسمیں کھا کر فرمایا: «{ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْ كَبَدٍ }» [ البلد: ۴ ] ”بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا ہے“ اور سورۂ انشقاق میں فرمایا: «{ يٰۤاَيُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِيْهِ }» [ الانشقاق: ۶ ] ”اے انسان! بے شک تو مشقت کرتے کرتے اپنے رب کی طرف جانے والا ہے، سخت مشقت، پھر اس سے ملنے والا ہے۔“ جب کہ جنت میں نہ کوئی دکھ ہو گا نہ تھکاوٹ۔ ابوسعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُنَادِيْ مُنَادٍ إِنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوْا فَلَا تَسْقَمُوْا أَبَدًا وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوْتُوا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوْا فَلَا تَهْرَمُوْا أَبَدًا، وَإِنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوْا فَلَا تَبْأَسُوْا أَبَدًا فَذٰلِكَ قَوْلُهٗ عَزَّوَجَلَّ: «{ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ }» ] [ الأعراف: ۴۳ ] ”ایک منادی ندا دے گا (اے جنت والو!) بے شک تمھارے لیے یہ ہو گا کہ تم تندرست رہو گے کبھی بیمار نہیں ہو گے اور تمھارے لیے یہ ہو گا کہ تم زندہ رہو گے کبھی تمھیں موت نہیں آئے گی اور تمھارے لیے یہ ہو گا کہ تم جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہیں ہو گے اور تمھارے لیے طے ہو چکا کہ تم خوش حال رہو گے کبھی تنگی اورتکلیف نہیں اٹھاؤ گے۔“ چنانچہ یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «{ وَ نُوْدُوْا اَنْ تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ اُوْرِثْتُمُوْھَابِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ }» ”اور انھیں آواز دی جائے گی کہ یہی وہ جنت ہے جس کے وارث تم اس کی وجہ سے بنائے گئے ہو جو تم کیا کرتے تھے۔“ [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب في دوام نعیم أہل الجنۃ…: ۲۲ /۲۸۳۷ ] ➋ {وَ مَا هُمْ مِّنْهَا بِمُخْرَجِيْنَ:} عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَی الْجَنَّةِ، وَصَارَ أَهْلُ النَّارِ إِلَی النَّارِ، أُتِيَ بِالْمَوْتِ حَتّٰی يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُذْبَحُ، ثُمَّ يُنَادِيْ مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! لَا مَوْتَ، يَا أَهْلَ النَّارِ! لَا مَوْتَ، فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلٰی فَرَحِهِمْ، وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلٰی حُزْنِهِمْ ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا، باب النار یدخلھا الجبارون…: ۴۳ /۲۸۵۰ ] ”جب جنتی جنت میں اور جہنمی جہنم میں پہنچ جائیں گے تو موت کو (ایک مینڈھے کی شکل میں) لایا جائے گا اور اسے جنت اور جہنم کے درمیان رکھ دیا جائے گا، پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر ایک منادی اعلان کرے گا اے جنت والو! اب موت نہیں اور اے آگ والو! اب موت نہیں، تو جنت والے اپنی خوشی کے ساتھ اور زیادہ خوش ہو جائیں گے اور آگ والے اپنے غم کے ساتھ اور زیادہ غم زدہ ہو جائیں گے۔“
اے نبیؐ، میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
میرے بندوں کو خبر دے دو کہ میں بہت ہی بخشنے واﻻ اور بڑا ہی مہربان ہوں
احمد رضا خان بریلوی
خبردو (۵۴) میرے بندوں کو کہ بیشک میں ہی ہوں بخشے والا مہربان،
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول) میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ میں بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
میرے بندوں کو خبر دے دے کہ بے شک میں ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بے کینہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لیے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہو جائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6535] اشتر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے دیر سے اجازت دی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہوں تو بھی آپ مجھے اسی طرح روک دیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بیشک مجھے تو اللہ سے امید ہے کہ میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کر دی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ ”میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا۔“
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا ”اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے؟“ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور علی رضی اللہ عنہ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ رضی اللہ عنہ نے غصے ہو کر جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا جب دربار علی رضی اللہ عنہ میں آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی، اس نے آ کر زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ تو ان شاءاللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ”ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔“
کثیر کہتے ہیں ”میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے بری ہوں۔“ اس وقت ابو جعفر نے فرمایا ”اگر میں ایسا کروں تو یقیناً مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔“ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی، اور فرمایا کہ ”یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین، یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا { یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہو گی } }۔ ۱؎ [ضعیف]
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3820] حدیث میں ہے { ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2837] اور آیت میں ہے «خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا» ۱؎ [18-الكهف:108] ’ وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:118] ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندوں سے کہہ دیجئیے کہ میں «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں ‘۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ’ مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہیئے ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں { جنت دوزخ کی یاد کرو }، اس وقت یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:11107:ضعیف] یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر کہتے ہیں { میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں } یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ { ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دیدے ‘ } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21214:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کر لیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21213:مرسل]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت50،49) ➊ {نَبِّئْ عِبَادِيْۤ اَنِّيْۤ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ …: ”نَبَأٌ“ } خاص اور اہمیت والی خبر کو کہتے ہیں۔ {” نَبِّئْ “} باب تفعیل سے امر ہے، یعنی یہ بات اچھی طرح بتا دو، تاکہ وہ امید بھی رکھیں اور خوف بھی، کیونکہ ایمان ان دونوں کے درمیان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللّٰهِ مِنَ الْعُقُوْبَةِ، مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ أَحَدٌ، وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللّٰهِ مِنَ الرَّحْمَةِ، مَا قَنِطَ مِنْ جَنَّتِهِ أَحَدٌ ] [ مسلم، التوبۃ، باب في سعۃ رحمۃ اللہ تعالٰی…: ۲۷۵۵ ] ”اگر مومن جان لے کہ اللہ کے پاس کتنی عقوبت ہے تو کوئی اس کی جنت کا طمع نہ رکھے اور اگر کافر جان لے کہ اللہ کے پاس کس قدر رحمت ہے تو کوئی اس کی جنت سے ناامید نہ ہو۔“ ان آیات میں رحمت و مغفرت کا بیان پہلے اور عذاب الیم کا ذکر بعد میں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اصل اور غالب صفت رحمت ہے، عذاب تو محض عدل کے نتیجے میں ظاہر ہوتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف کی آیت (۱۵۶) کی تفسیر۔ یہاں رحمت کے اظہار کے لیے پہلے {” عِبَادِيْۤ “} سے خطاب، پھر {”أَنَّ“، ” اَنَا “} ضمیر فصل اور {” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} کو الف لام کے ساتھ لا کر تاکید پر تاکید فرمائی، دوسری آیت میں {” هُوَ “} ضمیر فصل اور {” الْعَذَابُ “} کو معرف باللام لا کر تاکید فرمائی۔ پہلی آیت میں فرمایا کہ میری صفات رحمت یہ ہیں اور ان کا مالک میرے سوا کوئی نہیں، دوسری آیت میں فرمایا اور میرے عذاب کی صفت یہ ہے، یہ نہیں فرمایا: {” وَإِنِّيْ أَنَا الْمُعَذِّبُ… “} کہ میں ہی ایسا عذاب دینے والا ہوں، بلکہ اپنے عذاب کی صفت بیان فرمائی کہ میرا عذاب ہی ایسا ہے جو عذاب الیم ہے۔ ➋ یہ آیات تمہید ہیں ان واقعات کی جو آگے آ رہے ہیں، جن میں فرشتوں کی ایک جماعت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ظہور ہوا اور انھی کے ذریعے سے اس کے عذاب الیم کا ظہور ہوا۔
مگر اِس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ساتھ ہی میرے عذاب بھی نہایت دردناک ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور میرا ہی عذاب دردناک عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ بھی (بتا دو) کہ میرا عذاب بھی بڑا دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ بھی کہ بے شک میرا عذاب ہی دردناک عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حضرت ابوامامہ فرماتے ہیں جنت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سینے بے کینہ ہو جائیں گے۔ چنانچہ مرفوع حدیث میں بھی ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { مومن جہنم سے نجات پا کر جنت دوزخ کے درمیان کے پل پر روک لیے جائیں گے جو ناچاقیاں اور ظلم آپس میں تھے، ان کا ادلہ بدلہ ہو جائے گا اور پاک دل صاف سینہ ہو کر جنت میں جائیں گے } }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6535] اشتر نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی، اس وقت آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیٹھے تھے تو آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ دیر کے بعد اسے اندر بلایا اس نے کہا کہ شاید ان کی وجہ سے مجھے آپ رضی اللہ عنہ نے دیر سے اجازت دی؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا سچ ہے۔ کہا پھر تو اگر آپ رضی اللہ عنہ کے پاس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے ہوں تو بھی آپ مجھے اسی طرح روک دیں گے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”بیشک مجھے تو اللہ سے امید ہے کہ میں اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے ہوں گے، جن کی شان میں یہ ہے کہ ان کے دلوں میں جو کچھ خفگی تھی ہم نے دور کر دی، بھائی بھائی ہو کر آمنے سامنے تخت شاہی پر جلوہ فرما ہیں۔“ ایک اور روایت میں ہے کہ عمران بن طلحہ اصحاب جمل سے فارغ ہو کر علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں مرحبا کہا اور فرمایا کہ ”میں امید رکھتا ہوں کہ میں اور تمہارے والد ان میں سے ہیں جن کے دلوں کے غصے اللہ دور کر کے بھائی بھائی بنا کر جنت کے تختوں پر آمنے سامنے بٹھائے گا۔“
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ سن کر فرش کے کونے پر بیٹھے ہوئے دو شخصوں نے کہا، اللہ کا عہد اس سے بہت بڑھا ہوا ہے کہ جنہیں آپ قتل کریں ان کے بھائی بن جائیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے غصے سے فرمایا ”اگر اس آیت سے مراد میرے اور طلحہ جیسے لوگ نہیں تو اور کون ہوں گے؟“ اور روایت میں ہے کہ قبیلہ ہمدان کے ایک شخص نے یہ کہا تھا اور علی رضی اللہ عنہ نے اس دھمکی اور بلند آواز سے یہ جواب دیا تھا کہ محل ہل گیا۔ اور روایت میں ہے کہ کہنے والے کا نام حارث اعور تھا اور اس کی اس بات پر آپ رضی اللہ عنہ نے غصے ہو کر جو چیز آپ رضی اللہ عنہ کی ہاتھ میں تھی وہ اس کے سر پر مار کر یہ فرمایا تھا۔ این جرموز جو زبیر رضی اللہ عنہ کا قاتل تھا جب دربار علی رضی اللہ عنہ میں آیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے بڑی دیر بعد اسے داخلے کی اجازت دی، اس نے آ کر زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو بلوائی کہہ کر برائی سے یاد کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”تیرے منہ میں مٹی۔ میں اور طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہ تو ان شاءاللہ ان لوگوں میں ہیں جن کی بابت اللہ کا یہ فرمان ہے۔“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ قسم کہا کر فرماتے ہیں کہ ”ہم بدریوں کی بابت یہ آیت نازل ہوئی ہے۔“
کثیر کہتے ہیں ”میں ابو جعفر محمد بن علی کے پاس گیا اور کہا کہ میرے دوست آپ کے دوست ہیں اور مجھ سے مصالحت رکھنے والے آپ سے مصالحت رکھے والے ہیں، میرے دشمن آپ کے دشمن ہیں اور مجھ سے لڑائی رکھنے والے آپ سے لڑائی رکھنے والے ہیں۔ واللہ میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم سے بری ہوں۔“ اس وقت ابو جعفر نے فرمایا ”اگر میں ایسا کروں تو یقیناً مجھ سے بڑھ کر گمراہ کوئی نہیں۔ ناممکن کہ میں اس وقت ہدایت پر قائم رہ سکوں۔ ان دونوں بزرگوں یعنی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے تو اے کثیر محبت رکھ، اگر اس میں تجھے گناہ ہو تو میری گردن پر۔“ پھر آپ نے اسی آیت کے آخری حصہ کی تلاوت فرمائی، اور فرمایا کہ ”یہ ان دس شخصوں کے بارے میں ہے ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، عبدالرحمٰن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، سعید بن زید اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین، یہ آمنے سامنے ہوں گے تاکہ کسی کی طرف کسی کی پیٹھ نہ رہے۔“ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایک مجمع میں آ کر اسے تلاوت فرما کر فرمایا { یہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے۔ وہاں انہیں کوئی مشقت، تکلیف اور ایذاء نہ ہو گی } }۔ ۱؎ [ضعیف]
بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے اللہ کا حکم ہوا ہے کہ میں خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کے سونے کے محل کی خوشخبری سنا دوں جس میں نہ شور و غل ہے نہ تکلیف و مصیبت۔ یہ جنتی جنت سے کبھی نکالے نہ جائیں گے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3820] حدیث میں ہے { ان سے فرمایا جائے گا کہ اے جنتیو تم ہمیشہ تندرست رہو گے کبھی بیمار نہ پڑو گے اور ہمیشہ زندہ رہو گے کبھی نہ مروگے اور ہمیشہ جوان رہو گے کبھی بوڑھے نہ بنو گے اور ہمیشہ یہیں رہو گے کبھی نکالے نہ جاؤ گے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2837] اور آیت میں ہے «خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا» ۱؎ [18-الكهف:108] ’ وہ تبدیلی مکان کی خواہش ہی نہ کریں گے نہ ان کی جگہ ان سے چھنے گی ‘۔ اور آیت میں ہے کہ «وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ» ۱؎ [23-المؤمنون:118] ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بندوں سے کہہ دیجئیے کہ میں «أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ» ہوں۔ اور میرے عذاب بھی نہایت سخت ہیں ‘۔ اسی جیسی آیت اور بھی گزر چکی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ’ مومن کو امید کے ساتھ ڈر بھی رکھنا چاہیئے ‘۔
{ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے پاس آتے ہیں اور انہیں ہنستا ہوا دیکھ کر فرماتے ہیں { جنت دوزخ کی یاد کرو }، اس وقت یہ آیتیں اتریں }۔ ۱؎ [مجمع الزوائد:11107:ضعیف] یہ مرسل حدیث ابن ابی حاتم میں ہے { آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو شیبہ کے دروازے سے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس آ کر کہتے ہیں { میں تو تمہیں ہنستے ہوئے دیکھ رہا ہوں } یہ کہہ کر واپس مڑ گئے اور حطیم کے پاس سے ہی الٹے پاؤں پھرے ہمارے پاس آئے اور فرمایا کہ { ابھی میں جا ہی رہا تھا، جو جبرائیل علیہ السلام آئے اور فرمایا کہ ”جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ ’ تو میرے بندوں کو نامید کر رہا ہے؟ انہیں مرے غفور و رحیم ہونے کی اور میرے عذابوں کے المناک ہونے کی خبر دیدے ‘ } }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21214:ضعیف] اور حدیث میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بندے اللہ تعالیٰ کی معافی کو معلوم کرلیں تو حرام سے بچنا چھوڑ دیں اور اگر اللہ کے عذاب کو معلوم کر لیں تو اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:21213:مرسل]