بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 46
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 46
آیت نمبر: 46 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
اُدۡخُلُوۡہَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیۡنَ ﴿۴۶﴾
اور اُن سے کہا جائے گا کہ داخل ہو جاؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر
(ان سے کہا جائے گا) سلامتی اور امن کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ
ان میں داخل ہو سلامتی کے ساتھ امان میں،
(ان سے کہا جائے گا) کہ تم سلامتی اور امن و امان کے ساتھ ان میں داخل ہو جاؤ۔
اس میں سلامتی کے ساتھ بے خوف ہوکر داخل ہوجاؤ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جنت میں کوئی بغض و کینہ نہ رہے گا ٭٭

دوزخیوں کا ذکر کر کے اب جنتیوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ وہ باغات، نہروں اور چشموں میں ہوں گے ‘۔ ان کو بشارت سنائی جائے گی کہ اب تم ہر آفت سے بچ گئے ہر ڈر اور گھبراہٹ سے مطمئن ہو گئے نہ نعمتوں کے زوال کا ڈر، نہ یہاں سے نکالے جانے کا خطرہ نہ فنا نہ کمی۔ اہل جنت کے دلوں میں گو دنیوں رنجشیں باقی رہ گئی ہوں مگر جنت میں جاتے ہی ایک دوسرے سے مل کر تمام گلے شکوے ختم ہو جائیں گے۔

📖 احسن البیان

46۔ 1 سلامتی ہر قسم کی آفات سے اور امن ہر قسم کے خوف سے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو یا فرشتے اہل جنت کو سلامتی کی دعا دیں گے۔ یا اللہ کی طرف سے ان کی سلامتی اور امن کا اعلان ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت46){اُدْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ …: } یعنی انھیں یہ کہا جائے گا۔ {” بِسَلٰمٍ “} یعنی ہر قسم کے آفات و مصائب سے سلامتی کے ساتھ، ایک دوسرے کو سلام کہتے ہوئے، فرشتوں کے سلام سنتے ہوئے اور پروردگار عالم کے {” سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ “} کے ساتھ۔ (دیکھیے یٰسٓ: ۵۸) اسی لیے جنت کا ایک نام ”دار السلام“ بھی ہے، فرمایا: «{ لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ }» [ الأنعام: ۱۲۷ ] {” اٰمِنِيْنَ “} ہر خوف خطرے سے محفوظ۔
← پچھلی آیت (45) پوری سورۃ اگلی آیت (47) →