بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 6
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 6
آیت نمبر: 6 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
وَ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡ نُزِّلَ عَلَیۡہِ الذِّکۡرُ اِنَّکَ لَمَجۡنُوۡنٌ ؕ﴿۶﴾
یہ لوگ کہتے ہیں "اے وہ شخص جس پر ذکر نازل ہوا ہے، تو یقیناً دیوانہ ہے
انہوں نے کہا کہ اے وه شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے یقیناً تو تو کوئی دیوانہ ہے
اور بولے کہ اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک مجنون ہو
اور وہ (کفار) کہتے ہیں: اے وہ جس پر ذکر (قرآن) اتارا گیا ہے یقینا تم دیوانہ ہو۔
اور انھوں نے کہا اے وہ شخص جس پر یہ نصیحت نازل کی گئی ہے! بے شک توُ تو دیوانہ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سرکش و متکبر ہلاک ہوں گے ٭٭

کافروں کا کفر، ان کی سرکشی تکبر اور ضد کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ بطور مذاق اور ہنسی کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ اے وہ شخص جو اس بات کا مدعی ہے کہ تجھ پر قرآن اللہ کا کلام اتر رہا ہے ہم تو دیکھتے ہیں کہ تو سراسر پاگل ہے کہ اپنی تابعداری کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اور ہم سے کہہ رہا ہے کہ ہم اپنے باپ دادوں کے دین کو چھوڑ دیں۔ اگر سچا ہے تو تو ہمارے پاس فرشتوں کو کیوں نہیں لاتا جو تیری سچائی ہم سے بیان کریں۔ فرعون نے بھی ہی کہا تھا کہ آیت «فَلَوْلَا أُلْقِيَ عَلَيْهِ أَسْوِرَةٌ مِّن ذَهَبٍ أَوْ جَاءَ مَعَهُ الْمَلَائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:53] ‏‏‏‏ ’ اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے؟ اس کے ساتھ مل کر فرشتے کیوں نہیں آئے؟ ‘ رب کی ملاقات کے منکروں نے آواز اٹھائی کہ «وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَائِكَةُ أَوْ نَرَىٰ رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِي أَنفُسِهِمْ وَعَتَوْا عُتُوًّا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلَائِكَةَ لَا بُشْرَىٰ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا» ۱؎ [25-الفرقان:21،22] ‏‏‏‏ ’ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں کئے جاتے؟ یا یہی ہوتا کہ ہم خود اپنے پروردگار کو دیکھ لیتے دراصل یہ گھمنڈ میں آ گئے اور بہت ہی سرکش ہو گئے۔ فرشتوں کو دیکھ لینے کا دن جب آ جائے گا اس دن ان گنہگاروں کو کوئی خوشی نہ ہوگی ‘۔ یہاں بھی فرمان ہے کہ ’ ہم فرشتوں کو حق کے ساتھ ہی اتارتے ہیں یعنی رسالت یا عذاب کے ساتھ اس وقت پھر کافروں کو مہلت نہیں ملے گی ‘۔

’ اس ذکر یعنی قرآن کو ہم نے ہی اتارا ہے اور اس کی حفاظت کے ذمے دار بھی ہم ہی ہیں، ہمیشہ تغیر و تبدل سے بچا رہے گا ‘۔ بعض کہتے ہیں کہ «لَهُ» کی ضمیر کا مرجع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یعنی قرآن اللہ ہی کا نازل کیا ہوا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حافظ وہی ہے۔ جیسے فرمان ہے آیت «وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ» ۱؎ [5-المائدہ:67] ‏‏‏‏ ’ تجھے لوگوں کی ایذاء رسانی سے اللہ محفوظ رکھے گا ‘۔ لیکن پہلا معنی اولیٰ ہے اور عبارت کی ظاہر روانی بھی اسی کو ترجیح دیتی ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت6) ➊ { وَ قَالُوْا يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْ نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ:} وہ یہ بات بھی استہزا کے لیے کہہ رہے ہیں، یہ نہیں کہ وہ اسے مانتے تھے۔ {” الذِّكْرُ “} سے ہر وہ چیز مراد ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی، اس میں قرآن مجید بھی شامل ہے اور حدیث بھی۔ ➋ { اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌ:} پچھلی آیات میں کفار کو کتاب اللہ کے جھٹلانے پر ڈانٹا گیا تھا، اب ان کی سرکشی کا بیان ہے اور ان کے رسول کے ساتھ استہزا اور آپ کو جھٹلانے کا بیان ہے۔ وہ لوگ مذاق کے طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پاگل اور دیوانہ کہتے تھے، حالانکہ آپ سب سے زیادہ عقل مند تھے۔یہ ان کے کفر و استہزا کی بدترین صورت تھی اور انھوں نے یہ بات اس قدر مشہو ر کر رکھی تھی کہ صحیح مسلم میں ضماد ازدی کا قصہ مذکور ہے کہ وہ ازد قبیلے کا ایک فرد تھا، مکہ آیا تو اس نے مکہ کے بے وقوفوں سے سنا کہ آپ مجنون ہیں، وہ آپ کے پاس آیا اور آپ کو آپ کا علاج کرنے کی پیش کش کی، آپ نے خطبہ مسنونہ پڑھا، اس نے درخواست کی کہ آپ اسے پھر پڑھیں، آپ نے تین دفعہ یہ خطبہ پڑھا، اس نے اس کی بے حد تعریف کی اور اسی پر مسلمان ہو گیا۔ [ مسلم، الجمعۃ،باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ: ۸۶۸ ] سبحان اللہ! علاج کے لیے آنے والے کا خود علاج ہو گیا۔
← پچھلی آیت (5) پوری سورۃ اگلی آیت (7) →