بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 10
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 10
آیت نمبر: 10 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ فِیۡ شِیَعِ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۱۰﴾
اے محمدؐ، ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں
ہم نے آپ سے پہلے اگلی امتوں میں بھی اپنے رسول (برابر) بھیجے
اور بیشک ہم نے تم سے پہلے اگلی امتوں میں رسول بھیجے،
اور ہم نے آپ سے پہلے مختلف جماعتوں میں رسول بھیجے۔
اور بلاشبہ یقینا ہم نے تجھ سے پہلے اگلے لوگوں کے گروہوں میں رسول بھیجے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ’ جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے ‘۔ ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت11،10) {وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ …:” شِيَعِ “ ” شِيْعَةٌ “} کی جمع ہے، معنی ہے لوگوں کا ایسا گروہ جو ایک طریقے اور مذہب پر متفق ہو، خواہ نیک ہوں یا بد۔ یہاں یہ لفظ برے شیعہ یعنی بری جماعت کے معنی میں ہے، جیسا کہ اس آیت میں ہے: «{ اِنَّ الَّذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَهُمْ وَ كَانُوْا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِيْ شَيْءٍ }» [ الأنعام: ۱۵۹] ”بے شک وہ لوگ جنھوں نے اپنے دین کو جدا جدا کر لیا اور کئی گروہ بن گئے، تو کسی چیز میں بھی ان سے نہیں۔“ البتہ صافات میں نیک معنی میں ہے: «{ وَ اِنَّ مِنْ شِيْعَتِهٖ لَاِبْرٰهِيْمَ }» [ الصآفات: ۸۳ ] ”اور بے شک اس کے گروہ میں سے ابراہیم بھی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان کے جھٹلانے اور استہزا سے رنجیدہ نہ ہوں، ہر زمانے میں کفار نے انبیاء کی اسی طرح ہنسی اڑائی ہے۔
← پچھلی آیت (9) پوری سورۃ اگلی آیت (11) →