بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 12
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 12
آیت نمبر: 12 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
کَذٰلِکَ نَسۡلُکُہٗ فِیۡ قُلُوۡبِ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾
مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اِسی طرح (سلاخ کے مانند) گزارتے ہیں
گناه گاروں کے دلوں میں ہم اسی طرح یہی رچا دیا کرتے ہیں
ایسے ہی ہم اس ہنسی کو ان مجرموں کے دلوں میں راہ دیتے ہیں،
اسی طرح ہم اس (ذکر) کو مجرموں کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں۔
اسی طرح ہم یہ بات مجرموں کے دلوں میں داخل کر دیتے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسکین دیتا ہے کہ ’ جس طرح لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلا رہے ہیں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے نبیوں کو بھی وہ جھٹلا چکے ہیں۔ ہر امت کے رسول علیہ السلام کی تکذیب ہوئی ہے اور اسے مذاق میں اڑایا گیا ہے ‘۔ ضدی اور متکبر گروہ کے دلوں میں بہ سبب ان کے حد سے بڑھے ہوئے گناہوں کے تکذیب رسول سمو دی جاتی ہے یہاں مجرموں سے مراد مشرکین ہیں۔ وہ حق کو قبول کرتے ہی نہیں، نہ کریں۔ اگلوں کی عادت ان کے سامنے ہے جس طرح وہ ہلاک اور برباد ہوئے اور ان کے انبیاء علیہم السلام نجات پاگئے اور ایماندار عافیت حاصل کرگئے۔ وہی نتیجہ یہ بھی یاد رکھیں۔ دنیا آخرت کی بھلائی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت میں اور دونوں جہان کی رسوائی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں ہے۔

📖 احسن البیان

12۔ 1 یعنی کفر اور رسولوں کا استہزاء ہم مجرموں کے دلوں میں دیتے ہیں یا رچا دیتے ہیں، یہ نسبت نے اپنی طرف اس لئے کی کہ ہر چیز کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے گو ان کا فعل ان کی مسلسل معصیت کے نتیجے میں اللہ کی مشیت سے رونما ہوا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت13،12){كَذٰلِكَ نَسْلُكُهٗ فِيْ قُلُوْبِ الْمُجْرِمِيْنَ …: ” نَسْلُكُهٗ “} میں {” هٗ “} ضمیر کے متعلق مفسرین نے دو وجہیں بیان کی ہیں، بعض نے کہا کہ {”هٗ“} کی ضمیر {” الذِّكْرَ “} کی طرف جا رہی ہے، یعنی ہم مجرموں کے دلوں کے اندر ذکر کو داخل کر دیتے ہیں اور وہ اسے اچھی طرح سنتے اور سمجھتے ہیں، مگر اس طرح کہ وہ باوجود دل سے سمجھنے کے اس پر ایمان بالکل نہیں لاتے اور پہلے لوگوں میں بھی یہی طریقہ گزر چکا ہے اور وہ اسی کی پاداش میں تباہ کیے جاتے رہے ہیں۔ زمخشری، رازی اور سید طنطاوی کی تفسیر کے مطابق {” نَسْلُكُهٗ “} اور {” لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ “} میں ضمیر غائب کا مرجع ایک رہتا ہے۔ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ رحمہ اللہ نے بھی یہی تفسیر ذکر فرمائی ہے۔ دوسری تفسیر امام المفسرین طبری رحمہ اللہ کی ہے کہ {” نَسْلُكُهٗ “} میں ضمیر{ ”هٗ “} ”استہزا و کفر“ کی طرف جاتی ہے، یعنی ہم مجرموں کے جرائم کی پاداش میں ان کے دلوں میں کفر و استہزا داخل کر دیتے ہیں، اس طرح کہ وہ اللہ کے نازل کردہ ذکر پر بالکل ایمان نہیں لاتے، بلکہ اس سے استہزا کرتے ہیں اور پہلے لوگوں کا طریقہ بھی یہی رہا ہے۔ دونوں تفسیروں کا نتیجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے۔
← پچھلی آیت (11) پوری سورۃ اگلی آیت (13) →