بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 44
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
لَہَا سَبۡعَۃُ اَبۡوَابٍ ؕ لِکُلِّ بَابٍ مِّنۡہُمۡ جُزۡءٌ مَّقۡسُوۡمٌ ﴿٪۴۴﴾
یہ جہنم (جس کی وعید پیروان ابلیس کے لیے کی گئی ہے) اس کے سات دروازے ہیں ہر دروازے کے لیے اُن میں سے ایک حصہ مخصوص کر دیا گیا ہے
جس کے سات دروازے ہیں۔ ہر دروازے کے لیے ان کا ایک حصہ بٹا ہوا ہے
اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک حصہ بٹا ہوا ہے،
اس کے سات دروازے ہیں (اور) ہر دروازے کے لئے ان (لوگوں) میں سے ایک حصہ ہے۔
اس کے سات دروازے ہیں، ہر دروازے کے لیے ان میں سے ایک تقسیم کیا ہوا حصہ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر ارشاد ہوا کہ ’ جہنم کے کئی ایک دروازے ہیں ہر دروازے سے جانے والا ابلیسی گروہ مقرر ہے۔ اپنے اپنے اعمال کے مطابق ان کے لیے دروازے تقسیم شدہ ہیں ‘۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”جہنم کے دروازے اس طرح ہیں یعنی ایک پر ایک۔ اور وہ سات ہیں ایک کے بعد ایک کر کے ساتوں دروازے پر ہو جائیں گے۔‏‏‏‏“ عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سات طبقے ہیں۔ ابن جریر رحمہ اللہ سات دروازوں کے یہ نام بتلاتے ہیں۔ جہنم۔ نطی۔ حطمہ۔ سعیر۔ سقر۔ حجیم۔ ھاویہ۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں یہ باعتبار اعمال ان کی منزلیں ہیں۔ ضحاک رحمہ اللہ کہتے ہیں مثلا ایک دروازہ یہود کا، ایک نصاری کا، ایک صابیوں کا، ایک مجوسیوں کا، ایک مشرکوں کافروں کا، ایک منافقوں کا، ایک اہل توحید کا، لیکن توحید والوں کو چھٹکارے کی امید ہے باقی سب ناامید ہو گئے ہیں۔ ترمذی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنم کے سات دروازے ہیں۔ جن میں سے ایک ان کے لئے ہے جو میری امت پر تلوار اٹھائے } }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3123،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ { بعض دوزخیوں کے ٹخنوں تک آگ ہو گی، بعض کی کمر تک، بعض کی گردنوں تک، غرض گناہوں کی مقدار کے حساب سے } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2845] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

44۔ 1 یعنی ہر دروازہ مخصوص قسم کے لوگوں کے لئے خاص ہوگا۔ مثلاً ایک دروازہ مشرکوں کے لئے، ایک دروازہ دھریوں کے لئے۔ ایک زندیقوں، ایک زانیوں کے لئے۔ سود خوروں، چوروں اور ڈاکوؤں کے لئے وغیرہ وغیرہ۔ یا سات دروازوں سے مراد سات طبق اور درجے ہیں۔ پہلا طبق یا درجہ جہنم ہے، دوسرا نطی۔ پھر حطمہ، پھر سعیر۔ پھر سقر، پھر حجیم، پھر ہاویہ، سب سے اوپر والا درجہ موحدین کے لئے ہوگا، جنہیں کچھ عرصہ سزا دینے کے بعد یا سفارش پر نکال لیا جائے گا، دوسرے میں یہودی، تیسرے میں عیسائی، چوتھے میں صابی، پانچویں میں مجوسی۔ چھٹے میں مشرکین اور ساتویں میں منافقین ہونگے، سب سے اوپر والے درجے کا نام جہنم ہے اس کے بعد اس ترتیب سے نام ہیں۔ (فتح القدیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت44) ➊ { لَهَا سَبْعَةُ اَبْوَابٍ:} یہ سات دروازے مختلف قسم کے گناہ گاروں کے لیے ہوں گے، جو جہنمیوں کو جہنم کے مختلف درجوں کی طرف پہنچائیں گے۔ قرآن مجید میں جہنم کے درجوں کو ”درکات“ کہا گیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ }» [ النساء: ۱۴۵ ] ”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ ابوطالب کے متعلق صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آگ اس کے ٹخنوں تک پہنچ رہی ہو گی۔ سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرماتے تھے: [ إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ النَّارُ إِلٰی كَعْبَيْهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلٰی حُجْزَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ تَأْخُذُهُ إِلٰی عُنُقِهِ ] [ مسلم، الجنۃ وصفۃ نعیمھا، باب جہنم أعاذنا اللہ منھا: ۲۸۴۵ ] ”ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنھیں آگ ٹخنوں تک پکڑے گی اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہوں گے جنھیں ان کی کمر تک پکڑے گی اور ان میں سے کچھ ایسے ہوں گے جنھیں ان کی گردن تک پکڑے گی۔“ ➋ {لِكُلِّ بَابٍ مِّنْهُمْ جُزْءٌ مَّقْسُوْمٌ:} تقسیم کیے ہوئے حصے سے مراد بدکاروں کے سات حصوں میں تقسیم شدہ مجرموں کا ایک حصہ ہے، یعنی جس طرح ایک خاص عمل والے لوگ جنت میں ایک خاص دروازے سے داخل ہوں گے، اسی طرح برے عمل والے لوگ بھی اپنے اعمال کے مطابق جہنم کے مختلف دروازوں سے داخل ہوں گے، جیسے اوپر ذکر ہوا: «{ اِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ فِي الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ }» [ النساء: ۱۴۵ ] ”بے شک منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔“ شاہ عبدالقادر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”شاید بہشت کا ایک دروازہ زیادہ اس لیے ہے کہ بعض موحدین صرف اللہ کے فضل سے جنت میں جائیں گے، بغیر عمل کے۔“ (موضح)
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →