بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 27
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 27
آیت نمبر: 27 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
وَ الۡجَآنَّ خَلَقۡنٰہُ مِنۡ قَبۡلُ مِنۡ نَّارِ السَّمُوۡمِ ﴿۲۷﴾
اور اُس سے پہلے جنوں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کر چکے تھے
اور اس سے پہلے جنات کو ہم نے لو والی آگ سے پیدا کیا
اور جِن کو اس سے پہلے بنایا بے دھوئیں کی آگ سے،
اور اس سے پہلے ہم نے جان کو بے دھواں تیز گرم آگ سے پیدا کیا۔
اور جانّ (یعنی جنوں) کو اس سے پہلے لُو کی آگ سے پیدا کیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خشک مٹی ٭٭

«صَلْصَالٍ» سے مراد خشک مٹی ہے۔ اسی جیسی آیت «خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ» ۱؎ [55-الرحمن:14-15] ‏‏‏‏ ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ بو دار مٹی کو «حَمَا» کہتے ہیں۔ چکنی مٹی کو «مَسْنُوْن» کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں تر مٹی۔ اوروں سے مروی ہے بو دار مٹی اور گندھی ہوئی مٹی۔ انسان سے پہلے ہم نے جنات کو جلا دینے والی آگ سے بنایا ہے۔ «سَّمُوْم» کہتے ہیں آگ کی گرمی کو اور «حُرُور» کہتے ہیں دن کی گرمی کو۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس گرمی کی لوئیں اس گرمی کا سترہواں حصہ ہیں۔ جس سے جن پیدا کئے گئے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جن آگ کے شعلے سے بنائے گئے ہیں یعنی آگ سے بہت بہتر۔ عمرو کہتے ہیں سورج کی آگ سے۔ صحیح میں وارد ہے کہ { فرشتے نور سے پیدا کئے گئے اور جن شعلے والی آگ سے اور آدم علیہ السلام اس سے جو تمہارے سامنے بیان کر دیا گیا ہے }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2996] ‏‏‏‏ اس آیت سے مراد آدم علیہ السلام کی فضیلت و شرافت اور ان کے عنصر کی پاکیزگی اور طہارت کا بیان ہے۔

📖 احسن البیان

27۔ 1 جِنّ کو جن اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آنکھوں سے نظر نہیں آتا۔ سورة رحمٰن میں جنات کی تخلیق (مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ) 55۔ الرحمن:15) سے بتلائی گئی ہے اور صحیح مسلم کی ایک حدیث میں یہ کہا گیا اس اعتبار سے لو والی آگ یا آگ کے شعلے کا ایک ہی مطلب ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت27) ➊ {وَ الْجَآنَّ خَلَقْنٰهُ:} یہاں {” الْجَآنَّ “ } سے مراد اکثر مفسرین نے جنوں کا باپ لیا ہے، بعض جنوں کی جنس مراد لیتے ہیں، بعض نے ابلیس مراد لیا ہے۔ اسے {” الْجَآنَّ “} یا جن ({جَنَّ يَجُنُّ }، بمعنی ڈھانپنا، چھپانا) انسان کی آنکھوں سے چھپنے کی وجہ سے کہتے ہیں، جیسا کہ جنین اور جنون وغیرہ سب میں ڈھانپنے کا مفہوم شامل ہے۔ جنوں کے بارے میں فرمایا: «{ اِنَّهٗ يَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِيْلُهٗ مِنْ حَيْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ }» [ الأعراف: ۲۷ ] ”بے شک وہ اور اس کا قبیلہ تمھیں وہاں سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انھیں نہیں دیکھتے۔“ ➋ { مِنْ قَبْلُ مِنْ نَّارِ السَّمُوْمِ:السَّمُوْمِ “} دراصل سخت گرم ہوا (لو) کو کہتے ہیں، ایک تو اس کے زہریلے ہونے کی و جہ سے ({مِنَ السُّمِّ}) اور ایک اس لیے کہ وہ جسم کے مسامات کے اندر پہنچ جاتی ہے ({مِنَ الْمَسَامِّ})۔ مراد خالص آگ جو دھوئیں سے خالی اور اپنی تیزی کی و جہ سے لو کی شکل اختیار کر چکی ہے۔
← پچھلی آیت (26) پوری سورۃ اگلی آیت (28) →