بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 51
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 51
آیت نمبر: 51 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
وَ نَبِّئۡہُمۡ عَنۡ ضَیۡفِ اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۘ۵۱﴾
اور انہیں ذرا ابراہیمؑ کے مہمانوں کا قصہ سناؤ
انہیں ابراہیم کے مہمانوں کا (بھی) حال سنا دو
اور انہیں احوال سناؤ ابراہیم کے مہمانوں کا،
اور انہیں ابراہیم(ع) کے مہمانوں کا واقعہ بھی سنا دو۔
اور انھیں ابراہیم کے مہمانوں کے بارے میں خبر دے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرشتے بصورت انسان ٭٭

لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت51){وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ:ضَيْفِ “} یہ {”ضَافَ يَضِيْفُ“} کا مصدر ہے، جو مائل ہونے کے معنی میں آتا ہے، مہمان چونکہ کسی کی طرف مائل ہو کر ہی آتا ہے، اس لیے اسے {”ضَيْفٌ“} کہتے ہیں، یہ واحد، تثنیہ اور جمع سبھی کے لیے {”ضَيْفٌ “} واحد ہی آتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں جمع کے لیے آیا ہے بعض لوگ اس کی جمع {”اَضْيَافٌ“} یا {”ضُيُوْفٌ“} بھی استعمال کرتے ہیں۔
← پچھلی آیت (50) پوری سورۃ اگلی آیت (52) →