بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 72
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 72
آیت نمبر: 72 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
لَعَمۡرُکَ اِنَّہُمۡ لَفِیۡ سَکۡرَتِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۷۲﴾
تیری جان کی قسم اے نبیؐ، اُس وقت اُن پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے
تیری عمر کی قسم! وه تو اپنی بدمستی میں سرگرداں تھے
اے محبوب تمہاری جان کی قسم بیشک وہ اپنے نشہ میں بھٹک رہے ہیں،
آپ کی جان کی قسم! یہ لوگ اپنے نشہ میں بالکل اندھے ہو رہے تھے۔
تیری عمر کی قسم! بے شک وہ یقینا اپنی مدہوشی میں بھٹکے پھرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قوم لوط کی خرمستیاں ٭٭

قوم لوط کو جب معلوم ہوا کہ لوط علیہ السلام کے گھر نوجوان خوبصورت مہمان آئے ہیں تو وہ اپنے بد ارادے سے خوشیاں مناتے ہوئے چڑھ دوڑے۔ لوط علیہ السلام نے انہیں سمجھانا شروع کیا کہ اللہ سے ڈرو، میرے مہمانوں میں مجھے رسوا نہ کرو۔ اس وقت خود لوط علیہ السلام کو یہ معلوم نہ تھا کہ یہ فرشتے ہیں۔ جیسے کہ سورۃ ہود میں ہے۔ یہاں گو اس کا ذکر بعد میں ہے اور فرشتوں کا ظاہر ہوجانا پہلے ذکر ہوا ہے لیکن اس سے ترتیب مقصود نہیں۔ واؤ ترتیب کے لیے ہوتا بھی نہیں اور خصوصاً ایسی جگہ جہاں اس کے خلاف دلیل موجود ہو۔ آپ علیہ السلام ان سے کہتے ہیں کہ میری آبرو ریزی کے درپے ہو جاؤ۔ لیکن وہ جواب دیتے ہیں کہ جب آپ علیہ السلام کو یہ خیال تھا تو انہیں آپ علیہ السلام نے اپنا مہمان کیوں بنایا؟ ہم تو آپ علیہ السلام کو اس سے منع کر چکے ہیں۔ تب آپ علیہ السلام نے انہیں مزید سمجھاتے ہوئے فرمایا کہ ”تمہاری عورتیں جو میری لڑکیاں ہیں، وہ خواہش پوری کرنے کی چیزیں ہیں نہ کہ یہ۔‏‏‏‏“ اس کا پورا بیان نہایت وضاحت کے ساتھ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں اس لیے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ چونکہ یہ بد لوگ اپنی خرمستی میں تھے اور جو قضاء اور عذاب ان کے سروں پر جھوم رہا تھا اس سے غافل تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر ان کی یہ حالت بیان فرما رہا ہے اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تکریم اور تعظیم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”اللہ تعالیٰ نے اپنی جتنی مخلوق پیدا کی ہے ان میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں۔ اللہ نے آپ کی حیات کے سوا کسی کی حیات کی قسم نہیں کھائی۔‏‏‏‏“ «سَکْرَۃ» سے مراد ضلالت و گمراہی ہے، اسی میں وہ کھیل رہے تھے اور تردد میں تھے۔

📖 احسن البیان

72۔ 1 اللہ نبی سے خطاب فرما کر، ان کی زندگی کی قسم کھا رہا ہے، جس سے آپ کا شرف و فضل واضح ہے۔ تاہم کسی اور کے لئے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم کھانا جائز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ تو حاکم مطلق ہے، وہ جس کی چاہے قسم کھائے، اس سے کون پوچھنے والا ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح شراب کے نشے میں دھت انسان کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے، اسی طرح یہ اپنی بد مستی اور گمراہی میں اتنے سرگرداں تھے کہ حضرت لوط ؑ کی اتنی معقول بات بھی ان کی سمجھ میں نہیں آ پائی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت72){لَعَمْرُكَ اِنَّهُمْ لَفِيْ …: ” عَمْرٌ “} عین کے فتحہ کے ساتھ {”عُمْرٌ“} ہی کی ایک لغت ہے، اس کا معنی دنیا میں زندگی کی مدت ہے۔ قسم کے وقت ”عین“ ہمیشہ مفتوح ہوتا ہے۔ لام ابتدا کا ہے جو قسم کے معنی میں ہے۔ {”عَمْرٌ“} مبتدا ہے اور اس کی خبر {”قَسْمِيْ“ } یا {”يَمِيْنِيْ“} ہے جو لازماً حذف ہوتی ہے، یعنی مجھے تیری عمر کی قسم۔ {”سَكْرَةٌ“} نشے میں ہونا، مدہوش ہونا۔ اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی قسم کھائی اور آپ کی اتنی تکریم فرمائی کہ آپ کے علاوہ کسی انسان کی زندگی کی قسم نہیں کھائی۔ لوط علیہ السلام کے قصے کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہے، جس سے ان کا گمراہی سے کسی صورت باز نہ آنا بیان کرنا مقصود ہے۔ قسم اور جوابِ قسم میں مناسبت یہ ہے کہ اے نبی! آپ کی پوری پاکیزہ زندگی اور عفت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ جو اس کے بالکل برعکس چلنے والے تھے وہ دراصل ہوش میں نہ تھے اور اسی مدہوشی میں ایسے بھٹکے پھرتے تھے کہ ان کے لیے راہِ راست پر آنا ممکن ہی نہ تھا۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہ فرشتوں کا کلام ہے اور انھوں نے لوط علیہ السلام کی زندگی کی قسم کھائی ہے۔ ہماری شریعت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی قسم کھانا منع ہے، صحیح احادیث میں اس کی ممانعت آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ جس کی چاہے قسم کھا سکتا ہے۔ قسم کے متعلق مفصل بات ان شاء اللہ آگے کسی مقام پر ہو گی۔
← پچھلی آیت (71) پوری سورۃ اگلی آیت (73) →