بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 66
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 66
آیت نمبر: 66 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
وَ قَضَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ ذٰلِکَ الۡاَمۡرَ اَنَّ دَابِرَ ہٰۤؤُلَآءِ مَقۡطُوۡعٌ مُّصۡبِحِیۡنَ ﴿۶۶﴾
اور اُسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچا دیا کہ صبح ہوتے ہوتے اِن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی
اور ہم نے اس کی طرف اس بات کا فیصلہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی
اور ہم نے اسے اس حکم کا فیصلہ سنادیا کہ صبح ہوتے ان کافروں کی جڑ کٹ جائے گی،
اور ہم نے ان (لوط(ع)) کو بذریعۂ وحی اس فیصلہ سے آگاہ کر دیا کہ صبح ہوتے ہوتے ان کی جڑ بالکل کاٹ دی جائے گی۔
اور ہم نے اس کی طرف اس بات کی وحی کر دی کہ ان لوگوں کی جڑ صبح ہوتے ہی کاٹ دی جانے والی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

لوط علیہ السلام کو ہدایات ٭٭

حضرت لوط علیہ السلام سے فرشتے کہہ رہے ہیں کہ ’ رات کا کچھ حصہ گزر تے ہی آپ اپنے والوں کو کر یہاں سے چلے جائیں۔ خود آپ علیہ السلام ان سب کے پیچھے رہیں تاکہ ان کی اچھی طرح نگرانی کر چکیں ‘۔ یہی سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر کے آخر میں چلا کرتے تھے تاکہ کمزور اور گرے پڑے لوگوں کا خیال رہے۔ پھر فرما دیا کہ ’ جب قوم پر عذاب آئے اور ان کا شور و غل سنائی دے تو ہرگز ان کی طرف نظریں نہ اٹھانا ‘، انہیں اسی عذاب و سزا میں چھوڑ کر تمہیں جانے کا حکم ہے، چلے جاؤ گویا ان کے ساتھ کوئی تھا جو انہیں راستہ دکھاتا جائے۔ ’ ہم نے پہلے ہی سے لوط (‏‏‏‏علیہ السلام) سے فرما دیا تھا کہ صبح کے وقت یہ لوگ مٹا دئیے جائیں گے ‘۔ جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «نَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ» ۱؎ [11-ھود:81] ‏‏‏‏ ’ ان کے عذاب کا وقت صبح ہے جو بہت ہی قریب ہے ‘۔

📖 احسن البیان

66۔ 1 یعنی لوط ؑ کو وحی کے ذریعے سے اس فیصلے سے آگاہ کردیا کہ صبح ہونے تک ان لوگوں کی جڑیں کاٹ دی جائیں گی، یا دابِرَ سے مراد وہ آخری آدمی ہے جو باقی رہ جائے گا، فرمایا، وہ بھی صبح ہونے تک ہلاک کردیا جائے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت66) ➊ {وَ قَضَيْنَاۤ اِلَيْهِ ذٰلِكَ الْاَمْرَ …: ” اِلَيْهِ “} کی و جہ سے {” قَضَيْنَاۤ “} کا معنی ”ہم نے وحی کی“ کیا جاتا ہے۔ {”دَابِرَ“} سب سے پیچھے رہ جانے والا، کسی چیز کا وہ حصہ جو سب کے بعد بچ گیا ہو۔ کسی درخت کو اکھاڑتے وقت آخری چیز جڑ ہوتی ہے، اسے بھی {” دَابِرَ “} کہہ لیتے ہیں۔ یعنی یہ سب لوگ ہلاک کر دیے جائیں گے، ان میں سے کوئی زندہ نہیں بچے گا۔ ➋ {مَقْطُوْعٌ مُّصْبِحِيْنَ: ”أَصْبَحَ“} کا معنی ہے {” دَخَلَ فِي الصُّبْحِ “} کہ وہ صبح کے وقت آیا۔ قوم لوط کی ہلاکت کے لیے صبح کا وقت مقرر کیا گیا تھا، جیسا کہ سورۂ ہود میں ہے: «{ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ اَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيْبٍ }» [ ہود: ۸۱ ] ”بے شک ان کے وعدے کا وقت صبح ہے، کیا صبح واقعی قریب نہیں ہے۔“
← پچھلی آیت (65) پوری سورۃ اگلی آیت (67) →