بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 56
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 56
آیت نمبر: 56 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
قَالَ وَ مَنۡ یَّقۡنَطُ مِنۡ رَّحۡمَۃِ رَبِّہٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوۡنَ ﴿۵۶﴾
ابراہیمؑ نے کہا "اپنے رب کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں"
کہا اپنے رب تعالیٰ کی رحمت سے ناامید تو صرف گمراه اور بہکے ہوئے لوگ ہی ہوتے ہیں
کہا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے، ف۶۱)
ابراہیم(ع) نے کہا اپنے پروردگار کی رحمت سے تو گمراہوں کے سوا کون مایوس ہوتا ہے؟
اس نے کہا اور گمراہوں کے سوا اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہوتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرشتے بصورت انسان ٭٭

لفظ «ضَیْف» واحد اور جمع دونوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے «زور» اور «سفر» ۔ یہ فرشتے تھے جو بصورت انسان سلام کر کے خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس آئے تھے۔ آپ نے بچھڑا کاٹ کر اس کا گوشت بھون کر ان مہمانوں کے سامنے لا رکھا۔ جب دیکھا کہ وہ ہاتھ نہیں ڈالتے تو ڈر گئے اور کہا کہ ہمیں تو آپ سے ڈر لگنے لگا۔ فرشتوں نے اطمینان دلایا کہ ڈرو نہیں، پھر اسحاق علیہ السلام کے پیدا ہونے کی بشارت سنائی۔ جیسے کہ سورۃ ھود میں ہے۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے اور اپنی بیوی صاحبہ کے بڑھاپے کو سامنے رکھ کر اپنا تعجب دور کرنے اور وعدے کو ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ کیا اس حالت میں ہمارے ہاں بچہ ہو گا؟ فرشتوں نے دوبارہ زور دار الفاظ میں وعدے کو دہرایا اور ناامیدی سے دور رہنے کی تعلیم کی۔ تو آپ علیہ السلام نے اپنے عقیدے کا اظہار کر دیا کہ ”میں مایوس نہیں ہوں۔ ایمان رکھتا ہوں کہ میرا رب اس سے بھی بڑی باتوں پر قدرت کاملہ رکھتا ہے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

56۔ 1 یعنی اولاد کے ہونے پر میں تعجب اور حیرت کا اظہار کر رہا ہوں تو صرف اپنے بڑھاپے کی وجہ سے کر رہا ہوں یہ بات نہیں ہے کہ میں اپنے رب کی رحمت سے ناامید ہوں۔ رب کی رحمت سے ناامید تو گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت56){قَالَ وَ مَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ …:} یعنی میں نے دنیا کا عام دستور اور اپنا بڑھاپا دیکھ کر محض تعجب کا اظہار کیا ہے، ورنہ یہ مقصد نہیں ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی کا اظہار کر رہا ہوں۔
← پچھلی آیت (55) پوری سورۃ اگلی آیت (57) →