بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 62
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 62
آیت نمبر: 62 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ مُّنۡکَرُوۡنَ ﴿۶۲﴾
تو اُس نے کہا "آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں"
تو انہوں (لوط علیہ السلام) نے کہا تم لوگ تو کچھ انجان سے معلوم ہو رہے ہو
کہا تم تو کچھ بیگانہ لوگ ہو، ف۶۷)
تو لوط نے کہا کہ تم تو اجنبی لوگ معلوم ہوتے ہو۔
تو اس نے کہا تم تو ایسے لوگ ہو جن کی جان پہچان نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دو حسین لڑکے ٭٭

یہ فرشتے نو جوان حسین لڑکوں کی شکل میں حضور لوط علیہ السلام کے پاس گئے۔ تو لوط علیہ السلام نے کہا تم بالکل نا شناس اور انجان لوگ ہو۔ تو فرشتوں نے راز کھول دیا کہ ہم اللہ کا عذاب لے کر آئے ہیں جسے آپ علیہ السلام کی قوم نہیں مانتی اور جس کے آنے میں شک شبہ کر رہی تھی۔ ہم حق بات اور قطعی حکم لے کر آئے ہیں اور «مَا نُنَزِّلُ الْمَلَائِكَةَ إِلَّا بِالْحَقِّ» ’ فرشتے حقانیت کے ساتھ ہی نازل ہوا کرتے ہیں ‘ ۱؎ [15-الحجر:8] ‏‏‏‏ اور ہم ہیں بھی سچے۔ جو خبر آپ کو دے رہے ہیں وہ ہو کر رہے گی کہ آپ نجات پائیں اور آپ علیہ السلام کی یہ کافر قوم ہلاک ہوگی۔

📖 احسن البیان

62۔ 1 یہ فرشتے حسین نوجوانوں کی شکل میں آئے تھے اور حضرت لوط ؑ کے لئے بالکل انجان تھے، اس لئے انہوں نے ان سے اجنبیت اور بیگانگی کا اظہار کیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت62){قَالَ اِنَّكُمْ قَوْمٌ مُّنْكَرُوْنَ:} جن کی جان پہچان نہ ہو، اجنبی، اُوپرے۔ ابراہیم علیہ السلام کی طرح لوط علیہ السلام بھی انھیں پہچان نہ سکے۔ اس سے واضح طور پر ثابت ہوا کہ دوسری ساری مخلوق کی طرح یہ دونوں جلیل القدر انبیاء بھی عالم الغیب نہ تھے، ورنہ وہ ان کے آنے سے پہلے ہی انھیں جانتے ہوتے اور ان کے آنے سے باخبر ہوتے، بلکہ ابراہیم علیہ السلام کو پہلے ہی معلوم ہوتا کہ مجھے اتنی عمر میں اسحاق عطا ہوں گے اور لوط علیہ السلام کو پہلے ہی اپنی قوم کا انجام معلوم ہوتا، مگر اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ابراہیم علیہ السلام کا اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے پر صبر، آگ میں ڈالے جانے پر بھی استقامت کا اظہار، جبار مصر کی زیادتی کی آزمائش پر صبر، ہاجر اور اسماعیل کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑنے پر صبر، غرض ان کی کوئی آزمائش، آزمائش نہیں رہے گی، کیونکہ اگر پہلے علم ہو کہ ہمارا کچھ نہیں بگڑے گا تو ہر شخص آگ میں کود سکتا ہے اور بیٹے کی گردن پر چھری چلانے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ شیعہ حضرات نے تو انبیاء کے علاوہ اپنے بارہ اماموں کو ہر گزری ہوئی اور آنے والی بات جاننے والا قرار دیا۔ دیکھیے ان کی کتاب ”الکافی“ کی فہرست، جسے وہ اتنا معتبر سمجھتے ہیں جتنا اہل سنت صحیح بخاری کو۔
← پچھلی آیت (61) پوری سورۃ اگلی آیت (63) →