بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الحجر — Surah Hijr
آیت نمبر 79
کل آیات: 99
قرآن کریم الحجر آیت 79
آیت نمبر: 79 — سورۃ الحجر islamicurdubooks.com ↗
فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ ۘ وَ اِنَّہُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِیۡنٍ ﴿ؕ٪۷۹﴾
تو دیکھ لو کہ ہم نے بھی اُن سے انتقام لیا، اور اِن دونوں قوموں کے اجڑے ہوئے علاقے کھلے راستے پر واقع ہیں
جن سے (آخر) ہم نے انتقام لے ہی لیا۔ یہ دونوں شہر کھلے (عام) راستے پر ہیں
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور بیشک دونوں بستیاں کھلے راستہ پر پڑتی ہیں،
ہم نے ان سے انتقام لیا اور یہ دونوں (بستیاں) شارعِ عام پر واقع ہیں۔
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا اور بے شک وہ دونوں (بستیاں) یقینا ظاہر راستے پر موجود ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اصحاب ایکہ کا المناک انجام ٭٭

اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے۔ ایکہ کہتے ہیں درختوں کے جھنڈ کو۔ ان کا ظلم علاوہ شرک و کفر کے غارت گری اور ناپ تول کی کمی بھی تھی۔ ان کی بستی لوطیوں کے قریب تھی اور ان کا زمانہ بھی ان سے بہت قریب تھا۔ ان پر بھی ان کی پہیم شراتوں کی وجہ سے عذاب الٰہی آیا۔ یہ دونوں بستیاں بر سر شارع عام تھیں۔ شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو ڈراتے ہوئے فرمایا تھا کہ «وَمَا قَوْمُ لُوطٍ مِّنكُم بِبَعِيدٍ» ۱؎ [11-هود:89] ‏‏‏‏ ’ لوط کی قوم تم سے کچھ دور نہیں ‘۔

📖 احسن البیان

79۔ 1 امام مُبِیْنٍ کے معنی بھی شاہراہ عام کے ہیں، جہاں سے شب و روز لوگ گزرتے ہیں۔ دونوں شہر سے مراد قوم لوط کا شہر اور قوم شعیب کا مسکن۔ مدین۔ مراد ہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے قریب ہی تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت79){وَ اِنَّهُمَا لَبِاِمَامٍ مُّبِيْنٍ: ”اِمَامٌ“} کے کئی معنی ہیں، یہاں مراد واضح راستہ ہے، جس طرح امام کے پیچھے چلا جاتا ہے، اسی طرح صاف واضح راستے پر چل کر مسافر منزل پر پہنچ جاتا ہے۔ (طنطاوی) وہ دونوں سے مراد قوم لوط اور اصحاب الایکہ کی بستیاں ہیں کہ وہ ایک ہی راستے پر قریب قریب واقع ہیں۔ مدین اور ایکہ بھی مراد ہو سکتے ہیں۔ (قرطبی)
← پچھلی آیت (78) پوری سورۃ اگلی آیت (80) →