بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 287
صفحہ 8 از 15
حدیث نمبر: 21429 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةَ ، أَبِي مَسْعُودٍ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أَحَبَّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ" ، قَالَ حَجَّاجٌ: إِنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَحَبِّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ، أَوْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَبَّ الْكَلَامِ إِلَى اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا کلام سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہی جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے منتخب کیا ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21429]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2731
الحكم: إسناده صحيح، م: 2731
حدیث نمبر: 21430 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " يَقْطَعُ الصَّلَاةَ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْ الرَّجُلِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ" فَقُلْتُ مَا بَالُ الْأَسْوَدِ فِي الْأَحْمَرِ؟! فَقَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" إِنَّ الْأَسْوَدَ شَيْطَانٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلاحصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21430]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 510
الحكم: إسناده صحيح، م: 510
حدیث نمبر: 21431 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، الْمَعْرُورَ بْنَ سُوَيْدٍ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ الْمَعْرُورَ بْنَ سُوَيْدٍ ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ، وَعَلَى غُلَامِهِ ثَوْبٌ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، أَيْ مَعْنَى الْحَدِيثِ الَّذِي بَعْدَهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21431]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6050، م: 1661
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6050، م: 1661
حدیث نمبر: 21432 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، حَجَّاجٌ ، الْمَعْرُورَ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ حَجَّاجٌ ، سَمِعْتُ الْمَعْرُورَ ، قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ، قَالَ حَجَّاجٌ بِالرَّبَذَةِ، وَعَلَى غُلَامِهِ مِثْلُهُ، قَالَ حَجَّاجٌ مَرَّةً أُخْرَى فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ سَابَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَيَّرَهُ بِأُمِّهِ، قَالَ: فَأَتَى الرَّجُلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكَ امْرُؤٌ فِيكَ جَاهِلِيَّةٌ، إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمْ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ، فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيَكْسُهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ فَأَعِينُوهُمْ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معرور کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے (ربذہ میں) حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو دیکھا انہوں نے جو لباس پہن رکھا تھا ویسا ہی ان کے غلام نے پہن رکھا تھا میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ایک دن انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو سخت سست کہتے ہوئے اسے اس کی ماں کی جانب سے عار دلائی وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور اس بات کا ذکر کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں ابھی زمانہ جاہلیت کا کچھ اثر باقی ہے تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے تمہارے ماتحت کردیا ہے اس لئے جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو، اسے چاہئے کہ اسے وہی کھلائے جو خود کھائے اور وہی پہنائے جو خود پہنے اور تم انہیں ایسے کام پر مجبور نہ کرو جو ان سے نہ ہوسکے اگر ایسا کرنا پڑجائے تو تم بھی ان کی مدد کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21432]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6050، م: 1661
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6050، م: 1661
حدیث نمبر: 21433 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، الْمَعْرُورِ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ ، عَنِ الْمَعْرُورِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَبَشَّرَنِي" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا وہ بدکاری اور چوری کرتا رہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگرچہ وہ بدکاری اور چوری کرتا پھرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21433]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7487، م: 94
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7487، م: 94
حدیث نمبر: 21434 مسند احمد
شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
وَقَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" بَشَّرَنِي جِبْرِيلُ: أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ" قَالَ: قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1237، م: 94
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1237، م: 94
حدیث نمبر: 21435 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، وَاصِلٍ ، وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَبَهْزٌ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ وَاصِلٍ ، قَالَ بَهْزٌ: حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَقَالَ حَجَّاجٌ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ، وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ عَلَى عَدُوِّي، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ، وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا"، قَالَ حَجَّاجٌ:" مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں چنانچہ رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور ایک مہینے کی مسافت پر ہی دشمن مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے، روئے زمین کو میرے لئے سجدہ گاہ اور باعث طہارت قرار دے دیا گیا ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور مجھ سے کہا گیا کہ مانگیے آپ کو دیا جائے گا تو میں نے اپنا یہ حق اپنی امت کی سفارش کے لئے محفوظ کرلیا ہے اور یہ شفاعت تم میں سے ہر اس شخص کو مل کر رہے گی جو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21435]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، مجاهد لم يسمعه من أبى ذر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، مجاهد لم يسمعه من أبى ذر
حدیث نمبر: 21436 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، أَبِي زُرْعَةَ ، خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ وَلَا يُزَكِّيهِمْ"، قَالَ: فَقَرَأَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ مِرارٍ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: وَخَسِرُوا، وخَابُوا وَخَسِرُوا، وخَابُوا وَخَسِرُوا، قَالَ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی ایسے ہوں گے جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات کرے گا نہ انہیں دیکھا گا اور ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں؟ یہ تو نقصان اور خسارے میں پڑگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بات تین مرتبہ دہرا کر فرمایا تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتانے والا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21436]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 106
الحكم: إسناده صحيح، م: 106
حدیث نمبر: 21437 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، يَحْيَى بْنِ سَامٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَامٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صُمْتَ مِنْ شَهْرٍ ثَلَاثًا، فَصُمْ ثَلَاثَ عَشْرَةَ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص مہینے میں تین دن روزے رکھنا چاہتا ہو اسے ایام بیض کے روزے رکھنے چاہئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21437]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21438 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَى أَبِي يَعْلَى ، أَشْيَاخٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَى أَبِي يَعْلَى ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى شَاتَيْنِ تَنْتَطِحَانِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ تَدْرِي فِيمَ تَنْتَطِحَانِ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" لَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي، وَسَيَقْضِي بَيْنَهُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو بکریوں کو آپس میں ایک دوسرے سے سینگوں کے ساتھ ٹکراتے ہوئے دیکھا تو فرمایا ابوذر! کیا تم جانتے ہو کہ یہ کس وجہ سے ایک دوسرے کو سینگ مار رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لیکن اللہ جانتا ہے اور عنقریب ان کے درمیان بھی فیصلہ فرمائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21438]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الجهالة أشياخ منذر الثوري
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الجهالة أشياخ منذر الثوري
حدیث نمبر: 21439 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، الْمُنْذِرِ الثَّوْرِيِّ ، أَشْيَاخٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ الْمُنْذِرِ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُمْ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: " لَقَدْ تَرَكَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَتَقَلَّبُ فِي السَّمَاءِ طَائِرٌ إِلَّا ذَكَّرَنَا مِنْهُ عِلْمًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ہمیں چھوڑ کر گئے تو آسمان میں اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہ تھا جس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں کچھ بتایا نہ ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21439]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أشياخ منذر الثوري
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أشياخ منذر الثوري
حدیث نمبر: 21440 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، فِطْرٌ ، مُنْذِرِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، عَنِ مُنْذِرِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْمَعْنَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21440]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، منذر لم يدرك أبا ذر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، منذر لم يدرك أبا ذر
حدیث نمبر: 21441 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ، بِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ شُعْبَةُ أَخْبَرَنَا، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ مِنْ بَنِي تَيْمِ اللَّهِ مَوْلًى لَهُمْ، قَالَ: رَجَعْنَا مِنْ جَنَازَةٍ فَمَرَرْنَا بِزَيْدِ بْنِ وَهْبٍ فَحَدَّثَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدْ" ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْرِدْ" قَالَهَا: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قَالَ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جنازے سے واپس آرہے تھے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے مؤذن نے جب ظہر کی اذان دینا چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا ٹھنڈا کر کے اذان دینا دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا حتٰی کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21441]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 539، م: 616
الحكم: إسناده صحيح، خ: 539، م: 616
حدیث نمبر: 21442 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَهَاشِمٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، ابْنِ شِمَاسَةَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَهَاشِمٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ ابْنِ شِمَاسَةَ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ حُدَيْجٍ مَرَّ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَ فَرَسٍ لَهُ فَسَأَلَهُ مَا تُعَالِجُ مِنْ فَرَسِكَ هَذَا؟ فَقَالَ: إِنِّي أَظُنُّ أَنَّ هَذَا الْفَرَسَ قَدْ اسْتُجِيبَ لَهُ دَعْوَتُهُ، قَالَ: وَمَا دُعَاءُ لِبَهِيمَةِ مِنَ الْبَهَائِمِ؟ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا مِنْ فَرَسٍ إِلَّا وَهُوَ يَدْعُو كُلَّ سَحَرٍ، فَيَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ خَوَّلْتَنِي عَبْدًا مِنْ عِبَادِكَ، وَجَعَلْتَ رِزْقِي بِيَدِهِ، فَاجْعَلْنِي أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ وَوَلَدِهِ" ، قَالَ عَبْدُ الله بْنِ أَحْمَدُ: قَالَ أَبِي: وَوَافَقَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ شِمَاسَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاویہ بن حدیج ایک مرتبہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ آپ اپنے گھوڑے کی اتنی دیکھ بھال کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس گھوڑے کی دعاء قبول ہوگئی ہے انہوں نے ان سے پوچھا کہ جانور کی دعاء کا کیا مطلب؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کوئی گھوڑا ایسا نہیں ہے جو روزانہ سحری کے وقت یہ دعاء نہ کرتا ہو اے اللہ آپ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو میرا مالک بنایا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھا ہے لہٰذا مجھے اس کی نظروں میں اس کے اہل خانہ اور مال و اولاد سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21442]
حکم دارالسلام
إسناد هذا الأثر صحيح
الحكم: إسناد هذا الأثر صحيح
حدیث نمبر: 21443 مسند احمد
بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، أَيُّوبُ بْنُ بُشَيْرٍ ، فُلَانٍ الْعَنَزِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ بُشَيْرٍ ، عَنْ فُلَانٍ الْعَنَزِيِّ ، وَلَمْ يَقُلْ الْغُبَرِيّ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ ، فَلَمَّا رَجَعَ تَقَطَّعَ النَّاسُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ بَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ سِرًّا مِنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، قُلْتُ: لَيْسَ بِسِرٍّ، وَلَكِنْ" كَانَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ يَأْخُذُ بِيَدِهِ يُصَافِحُهُ؟" قَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، لَمْ يَلْقَنِي قَطُّ إِلَّا أَخَذَ بِيَدِي غَيْرَ مَرَّةٍ وَاحِدَةٍ، وَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَهُنَّ، أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَوَجَدْتُهُ مُضْطَجِعًا فَأَكْبَبْتُ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ يَدَهُ فَالْتَزَمَنِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فلان عنزی کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کہیں سے واپس آرہے تھے راستے میں ایک جگہ لوگ منتشر ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوذر! میں آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا اگر کوئی راز کی بات ہوئی تو وہ نہیں بتاؤں گا میں نے عرض کیا کہ راز کی بات نہیں ہے اگر کوئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا تم نے ایک باخبر آدمی سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جب بھی میری ملاقات ہوئی انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے مصافحہ فرمایا سوائے ایک مرتبہ کے اور وہ سب سے آخر میں واقعہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قاصد بھیج کر مجھے بلایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لیٹا ہوا دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھک گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور مجھے سینے سے لگالیا۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21443]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة العنزي وأيوب بن بشير
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة العنزي وأيوب بن بشير
حدیث نمبر: 21444 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو الْحُسَيْنِ ، أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، رَجُلٍ ، لِأَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ : حِينَ سُيِّرَ مِنَ الشَّامِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذَا لَقِيتُمُوهُ؟ فَقَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مدینہ منورہ کے کسی کنارے سے نکلے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے بوذر! نماز کو اس کے وقت مقررہ پر ادا کرنا اگر تم اس وقت آؤ جب لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز محفوظ کرچکے ہوگے اور اگر انہوں نے نماز نہ پڑھی ہو تو تم ان کے ساتھ شریک ہوجانا اور یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21444]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة العنزي وأيوب بن بشير
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة العنزي وأيوب بن بشير
حدیث نمبر: 21445 مسند احمد
عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجْنَا مِنْ حَاشِي الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَإِنْ جِئْتَ وَقَدْ صَلَّى الْإِمَامُ كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِنْ جِئْتَ وَلَمْ يُصَلِّ صَلَّيْتَ مَعَهُ، وَكَانَتْ صَلَاتُكَ لَكَ نَافِلَةً، وَكُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ جَاعُوا حَتَّى لَا تَبْلُغَ مَسْجِدَكَ مِنَ الْجَهْدِ، أَوْ لَا تَرْجِعَ إِلَى فِرَاشِكَ مِنَ الْجَهْدِ، فَكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ؟"، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! قَالَ:" تَصَبَّرْ"، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ مَاتُوا حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ فَكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! قَالَ:" تَعَفَّفْ"، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ قُتِلُوا حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مِنَ الدِّمَاءِ، كَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! قَالَ:" تَدْخُلُ بَيْتَكَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ أَنَا دُخِلَ عَلَيَّ؟ قَالَ:" تَأْتِي مَنْ أَنْتَ مِنْهُ"، قَالَ: قُلْتُ: وَأَحْمِلُ السِّلَاحَ؟ قَالَ:" إِذًا شَارَكْتَ"، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنْ خِفْتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَائِفَةً مِنْ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ، يَبُؤْ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے اپنا ردیف بنالیا اور فرمایا ابوذر! یہ بتاؤ کہ جب لوگ شدید قحط میں مبتلا ہوجائیں گے اور تم اپنے بستر سے اٹھ کر مسجد تک نہیں جاسکو گے تو اس وقت تم کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس وقت بھی اپنے آپ کو سوال کرنے سے بچانا پھر فرمایا ابوذر! یہ بتاؤ کہ جب لوگ شدت کے ساتھ بکثرت مرنے لگیں گے اور آدمی کا گھر قبر ہی ہوگی تو تم کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس وقت بھی صبر کرنا، پھر فرمایا ابوذر! یہ بتاؤ کہ جب لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے اور حجارۃ الزیت " خون میں ڈوب جائے گا تو تم کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اپنے گھر میں بیٹھ جانا اور اس کا دروازہ اندر سے بند کرلینا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر مجھے گھر میں رہنے ہی نہ دیا جائے تو کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تم ان لوگوں کے پاس چلے جانا جن میں سے تم ہو اور ان میں شامل ہوجانا انہوں نے عرض کیا میں تو اپنا اسلحہ پکڑ لوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو تم بھی ان کے شریک سمجھے جاؤ گے اس لئے اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی دھار سے تمہیں خطرہ ہے تو تم اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا تاکہ وہ اپنا اور تمہارا گناہ لے کر لوٹ جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21445]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 648
الحكم: إسناده صحيح، م: 648
حدیث نمبر: 21446 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عِيسَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي ذَرٍّ ، وَمُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَخِيهِ ، أَبِيهِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عِيسَى ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ . ح وَمُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَخِيهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى سَأَلْتُهُ عَنْ مَسْحِ الْحَصَى؟، فَقَالَ: " وَاحِدَةً أَوْ دَعْ"، قَالَ مُؤَمَّلٌ عَنْ تَسْوِيَةِ الْحَصَى، أَوْ مَسْحِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہر چیز کے متعلق سوال کیا ہے حتٰی کہ دوران نماز کنکریوں کو ہٹانے کے متعلق بھی پوچھا ہے جس کا جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیا ہے کہ صرف ایک مرتبہ برابر کرلو یا چھوڑ دو (اسی طرح رہنے دو) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21446]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا الإسناد ضعيف، مؤمل وابن أبى ليلي ضعيفان، لكنهما متابعان
الحكم: حديث صحيح، وهذا الإسناد ضعيف، مؤمل وابن أبى ليلي ضعيفان، لكنهما متابعان
حدیث نمبر: 21447 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُرَشِيِّ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ، فَلَمْ يَقُمْ بِنَا مِنَ الشَّهْرِ شَيْئًا حَتَّى بَقِيَ سَبْعٌ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ ثُلُثِ اللَّيْلِ، ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا اللَّيْلَةَ الرَّابِعَةَ، وَقَامَ بِنَا اللَّيْلَةَ الَّتِي تَلِيهَا حَتَّى ذَهَبَ نَحْوٌ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ! قَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ حُسِبَ لَهُ بَقِيَّةُ لَيْلَتِهِ ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا السَّادِسَةَ، وَقَامَ بِنَا السَّابِعَةَ، وَقَالَ: وَبَعَثَ إِلَى أَهْلِهِ وَاجْتَمَعَ النَّاسُ، فَقَامَ بِنَا حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَفُوتَنَا الْفَلَاحُ"، قَالَ: قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ: السُّحُورُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا جب ٢٤ ویں شب ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا حتی کہ تہائی رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی جب اگلی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر قیام نہیں فرمایا اور ٢٦ ویں شب کو ہمارے ساتھ اتنالمبا قیام فرمایا کہ نصف رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر رات کے باقی حصے میں بھی آپ ہمیں نوافل پڑھاتے رہتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا نہیں جب کوئی شخص امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور فراغت تک شامل رہتا ہے تو اسے ساری رات قیام میں ہی شمار کیا جائے گا۔ اگلی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا ٢٨ ویں شب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو جمع کیا لوگ بھی اکٹھے ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اتنی دیر تک نماز پڑھائی کہ ہمیں " فلاح " کے فوت ہونے کا اندیشہ ہونے لگا میں نے " فلاح " کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا معنی سحری بتایا پھر فرمایا اے بھتیجے! اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہینے کی کسی رات میں ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21447]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21448 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ . ح وَعَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَإِنَّ الرَّحْمَةَ تُوَاجِهُهُ، فَلَا تُحَرِّكُوا الْحَصَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21448]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين