بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 287
صفحہ 1 از 15
حدیث نمبر: 21289 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشَ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، حَبِيبِ بْنِ حِمَازٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حِمَازٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ، فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِتْنَا مَعَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ، فَقِيلَ تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ: " تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ! أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ"، ثُمَّ قَالَ:" لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ، تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر سے واپس آرہے تھے ہم نے ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کیا کچھ لوگ جلد بازی کر کے مدینہ منورہ چلے گئے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ رات وہیں گذاری ہم بھی ہمراہ تھے جب صبح ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں کے متعلق پوچھا، بتایا گیا کہ وہ جلدی مدینہ چلے گئے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابھی تو یہ مدینہ منورہ اور عورتوں کی طرف جلدی سے چلے گئے ہیں لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب یہ مدینہ منورہ کو بہترین حالت پر ہونے کے باوجود چھوڑ جائیں گے پھر فرمایا عنقریب یمن کے جبل وراق سے ایک آگ نکلے گی جس سے بصرے کے جوان اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی کی طرح روشن ہوجائیں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21289]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره لكن بلفظ: تخرج نار من الحجاز، وهذا إسناد ضعيف لأجل حبيب بن حماز
الحكم: صحيح لغيره لكن بلفظ: تخرج نار من الحجاز، وهذا إسناد ضعيف لأجل حبيب بن حماز
حدیث نمبر: 21290 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْبَكْرِيِّ ، حَبِيبِ بْنِ حَمَّازٍ ، أَبِي ذَرٍّ
.حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْبَكْرِيِّ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ حَمَّازٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21290]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل حبيب بن حماز
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لأجل حبيب بن حماز
حدیث نمبر: 21291 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ إِذَا أَنَا فَرَغْتُ مِنْ عَمَلِي، فَأَضْطَجِعُ فِيهِ، فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَأَنَا مُضْطَجِعٌ، فَغَمَزَنِي بِرِجْلِهِ، فَاسْتَوَيْتُ جَالِسًا فَقَالَ لِي:" يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا؟" فَقُلْتُ: أَرْجِعُ إِلَى مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى بَيْتِي، قَالَ:" فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا؟" فَقُلْتُ: إِذًا آخُذَ بِسَيْفِي، فَأَضْرِبَ بِهِ مَنْ يُخْرِجُنِي، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي، فَقَالَ:" غَفْرًا يَا أَبَا ذَرٍّ ثَلَاثًا، بَلْ تَنْقَادُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ، وَتَنْسَاقُ مَعَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ وَلَوْ عَبْدًا أَسْوَدَ"، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَلَمَّا نُفِيتُ إِلَى الرَّبَذَةِ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ أَسْوَدُ كَانَ فِيهَا عَلَى نَعَمْ الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا رَآنِي أَخَذَ لِيَرْجِعَ وَلِيُقَدِّمَنِي، فَقُلْتُ: كَمَا أَنْتَ، بَلْ أَنْقَادُ لِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت کرتا تھا جب اپنے کام سے فارغ ہوتا تو مسجد میں آکر لیٹ جاتا، ایک دن میں لیٹا ہوا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے اور مجھے اپنے مبارک پاؤں سے ہلایا، میں سیدھاہو کر اٹھ بیٹھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! تم اس وقت کیا کرو گے جب تم مدینہ سے نکال دیئے جاؤ گے؟ عرض کیا میں مسجد نبوی اور اپنے گھر لوٹ جاؤں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اور جب تمہیں یہاں سے بھی نکال دیا جائے گا تو کیا کرو گے؟ میں نے عرض کیا کہ اس وقت میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور جو مجھے نکالنے کی کوشش کرے گا اسے اپنی تلوار سے ماروں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور تین مرتبہ فرمایا ابوذر! درگذر سے کام لو وہ تمہیں جہاں لے جائیں وہاں چلے جانا اگرچہ تمہارا حکمران کوئی حبشی غلام ہی ہو، حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مجھے ربذہ کی طرف جلا وطن کیا گیا اور نماز کھڑی ہوئی تو ایک سیاہ فام آدمی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھا جو وہاں زکوٰۃ کے جانوروں پر مامور تھا اس نے مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹنا اور مجھے آگے کرنا چاہا تو میں نے اس سے کہا کہ تم اپنی جگہ ہی رہو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر عمل کروں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21291]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، إسماعيل بن عياش ضعيف فى روايته عن غير أهل بلده، وهذه منها ، وشهر بن حوشب ضعيف، وقد اختلف عليه فى إسناده
الحكم: إسناده ضعيف، إسماعيل بن عياش ضعيف فى روايته عن غير أهل بلده، وهذه منها ، وشهر بن حوشب ضعيف، وقد اختلف عليه فى إسناده
حدیث نمبر: 21292 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ ، أَبِي خَلَفٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ أَبِي خَلَفٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " الْإِسْلَامُ ذَلُولٌ، لَا يَرْكَبُ إِلَّا ذَلُولًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسلام طبعاً سہل دین ہے اور اس پر سہل آدمی ہی سواری کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21292]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، معان بن رفاعة لين، وأبو خلف متروك
الحكم: إسناده ضعيف جدا، معان بن رفاعة لين، وأبو خلف متروك
حدیث نمبر: 21293 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، الْبَخْتَرِيِّ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ سَلْمَانَ ، أَبِيهِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " اثْنَانِ خَيْرٌ مِنْ وَاحِدٍ، وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنَ اثْنَيْنِ، وَأَرْبَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ، فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ، فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يَجْمَعَ أُمَّتِي إِلَّا عَلَى هُدًى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دو آدمی ایک سے تین دو سے اور چار تین سے بہتر ہیں اس لئے تم پر جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ میری امت کو ہدایت کے علاوہ کسی اور نکتے پر کبھی متفق نہیں کرسکتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21293]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، البختري بن عبيد متروك الحديث وأبوه مجهول
الحكم: إسناده ضعيف جدا، البختري بن عبيد متروك الحديث وأبوه مجهول
حدیث نمبر: 21294 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ أَتَى إِلَى أَبِي أُمَيَّةَ فِي مَنْزِلِهِ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ، فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ، فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ، وَقَدْ جِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی ساتھی سے محبت کرتا ہو تو اسے چاہئے کہ اس کے گھر جائے اور اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہے اور اے ابوذر! میں اسی وجہ سے تمہارے گھر آیا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21294]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يزيد بن أبى حبيب إن كان ثقة لكنه قد كان يرسل، ولم يبين هنا عمن رواه، وابن الهيعة سيئ الحفظ، وقد تفرد فى هذا الحديث بقوله: فليأته فى منزله
الحكم: إسناده ضعيف، يزيد بن أبى حبيب إن كان ثقة لكنه قد كان يرسل، ولم يبين هنا عمن رواه، وابن الهيعة سيئ الحفظ، وقد تفرد فى هذا الحديث بقوله: فليأته فى منزله
حدیث نمبر: 21295 مسند احمد
يُونُسُ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، بُرْدٍ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَفَّانُ ، بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَعَفَّانُ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ بُرْدٍ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ عَفَّانُ : قَالَ: أَخْبَرَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَنَّهُ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: نِعْمَ الْفَتَى غُضَيْفٌ، فَلَقِيَهُ أَبُو ذَرٍّ ، فَقَالَ: أَيْ أُخَيَّ اسْتَغْفِرْ لِي، قَالَ: أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِي! فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَقُولُ: نِعْمَ الْفَتَى غُضَيْفٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ بِالْحَقِّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ"، قَالَ عَفَّانُ:" عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا غضیف بہترین نوجوان ہے پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بھائی! میرے لئے بخشش کی دعاء کرو غضیف نے کہا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے لئے بخشش کی دعاء کریں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ غضیف بہترین نوجوان ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کردیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21295]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21296 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، أَبُو تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيُّ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَغَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَى أُمَّتِي"، قَالَهَا: ثَلَاثًا، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا الَّذِي غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" أَئِمَّةً مُضِلِّينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ چہل قدمی کر رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دجال کے علاوہ ایک اور چیز ہے جس سے مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے جس سے آپ کو اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ دجال کے علاوہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گمراہ کن ائمہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21296]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 21297 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةُ ، ابْنِ هُبَيْرَةَ ، أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةُ ، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: كُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَنْزِلِهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِي مِنَ الدَّجَّالِ" فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ شَيْءٍ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِكَ مِنَ الدَّجَّالِ؟ قَالَ:" الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ چہل قدمی کر رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دجال کے علاوہ ایک اور چیز ہے جس سے مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا میں نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے جس سے آپ کو اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ دجال کے علاوہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا گمراہ کن ائمہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21297]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 21298 مسند احمد
عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟ قُلْ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر! کیا جنت میں کے ایک خزانے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں؟ لاحول ولاقوۃ الا باللہ کہا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21298]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21299 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِي الْحَجَّاجِ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُوتِيتُ خَمْسًا لَمْ يُؤْتَهُنَّ نَبِيٌّ كَانَ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ، فَيُرْعَبُ مِنِّي الْعَدُوُّ عَنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَبُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَقِيلَ لِي: سَلْ تُعْطَهْ، فَاخْتَبَأْتُهَا شَفَاعَةً لِأُمَّتِي، وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا"، قَالَ الْأَعْمَشُ فَكَانَ مُجَاهِدٌ يَرَى أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسُ، وَالْأَسْوَدَ الْجِنُّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں چنانچہ رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور ایک مہینے کی مسافت پر ہی دشمن مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے، روئے زمین کو میرے لئے سجدہ گاہ اور باعث طہارت قرار دے دیا گیا ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور مجھ سے کہا گیا کہ مانگیے آپ کو دیا جائے گا تو میں نے اپنا یہ حق اپنی امت کی سفارش کے لئے محفوظ کرلیا ہے اور یہ شفاعت تم میں سے ہر اس شخص کو مل کر رہے گی جو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21299]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21300 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، يُونُسُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَغِيبُ الشَّمْسُ تَحْتَ الْعَرْشِ، فَيُؤْذَنُ لَهَا فَتَرْجِعُ، فَإِذَا كَانَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الَّتِي تَطْلُعُ صَبِيحَتَهَا مِنَ الْمَغْرِبِ، لَمْ يُؤْذَنْ لَهَا، فَإِذَا أَصْبَحَتْ قِيلَ لَهَا: اطْلُعِي مِنْ مَكَانِكِ"، ثُمَّ قَرَأَ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلا أَنْ تَأْتِيَهُمُ الْمَلائِكَةُ أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ أَوْ يَأْتِيَ بَعْضُ آيَاتِ رَبِّكَ سورة الأنعام آية 158 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورج عرش کے نیچے غائب ہوتا ہے اسے اجازت ملتی ہے تو واپس آجاتا ہے جب وہ رات آجائے گی جس کی صبح کو سورج مغرب سے طلوع ہوگا تو اسے اجازت نہیں ملے گی اور جب صبح ہوگی تو اس سے کہا جائے گا کہ اسی جگہ سے طلوع ہو جہاں سے غروب ہوا تھا پھر یہ آیت تلاوت فرمائی " یہ لوگ کسی اور چیز کا انتظار نہیں کر رہے سوائے اس کے کہ ان کے پاس فرشتے آجائیں یا آپ کا رب آجائے یا آپ کے رب کی کوئی نشانی آجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21300]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3199، م: 159، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل، وقد خولف
الحكم: حديث صحيح، خ: 3199، م: 159، وهذا إسناد ضعيف لضعف مؤمل، وقد خولف
حدیث نمبر: 21301 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ہر مہینے تین روزے رکھ لے یہ ایسے ہے جیسے اس نے ہمیشہ روزے رکھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21301]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، أبو عثمان لم يسمعه من أبى ذر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف ، أبو عثمان لم يسمعه من أبى ذر
حدیث نمبر: 21302 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، دَيْلَمٌ ، وَهْبِ بْنِ أَبِي دُبَيٍّ ، أَبِي حَرْبٍ ، مِحْجَنٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا دَيْلَمٌ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ أَبِي دُبَيٍّ ، عَنْ أَبِي حَرْبٍ ، عَنْ مِحْجَنٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْعَيْنَ لَتُولِعُ بِالرَّجُلِ بِإِذْنِ اللَّهِ، حَتَّى يَصْعَدَ حَالِقًا ثُمَّ يَتَرَدَّى مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی مرضی سے انسان کو اس کی آنکھ کسی چیز کا اتنا گرویدہ بنا لیتی ہے کہ وہ مونڈنے والی چیز پر چڑھتا چلا جاتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ وہ اس سے نیچے گرپڑتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21302]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة محجن
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة محجن
حدیث نمبر: 21303 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، رَجُلٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ ، عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَتَدْرُونَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟" قَالَ قَائِلٌ الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ، وَقَالَ قَائِلٌ الْجِهَادُ، قَالَ:" إِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ الْحُبُّ فِي اللَّهِ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کو سب سے زیادہ کون سا عمل پسند ہے؟ کسی نے نماز اور زکوٰۃ کا نام لیا اور کسی نے جہاد کو بتایا لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اللہ کے لئے کسی سے محبت یا نفرت کرنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21303]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يزيد بن عطاء و يزيد بن أبى زياد ضعيفان ولإبهام الراوي عن أبى ذر
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، يزيد بن عطاء و يزيد بن أبى زياد ضعيفان ولإبهام الراوي عن أبى ذر
حدیث نمبر: 21304 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، رَجُلٍ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: كُنْتُ كَافِرًا، فَهَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ، وَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ، وَمَعِي أَهْلِي، فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ، فَوَقَعَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي، وَقَدْ نُعِتَ لِي أَبُو ذَرٍّ ، فَحَجَجْتُ فَدَخَلْتُ مَسْجِدَ مِنًى فَعَرَفْتُهُ بِالنَّعْتِ، فَإِذَا شَيْخٌ مَعْرُوفٌ آدَمُ، عَلَيْهِ حُلَّةٌ قِطْرِيٌّ، فَذَهَبْتُ حَتَّى قُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ وَهُوَ يُصَلِّي، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، ثُمَّ صَلَّى صَلَاةً أَتَمَّهَا وَأَحْسَنَهَا، وَأَطْوَلَهَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَدَّ عَلَيَّ، قُلْتُ: أَنْتَ أَبُو ذَرٍّ؟ قَالَ: إِنَّ أَهْلِي لَيَزْعُمُونَ ذَلِكَ! قَالَ كُنْتُ كَافِرًا فَهَدَانِي اللَّهُ لِلْإِسْلَامِ، وَأَهَمَّنِي دِينِي، وَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي، فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ، فَوَقَعَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي، قَالَ: هَلْ تَعْرِفُ أَبَا ذَرٍّ؟! قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ، قَالَ أَيُّوبُ أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ مِنْ إِبِلٍ وَغَنَمٍ، فَكُنْتُ أَكُونُ فِيهَا، فَكُنْتُ أَعْزُبُ مِنَ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنِّي قَدْ هَلَكْتُ، فَقَعَدْتُ عَلَى بَعِيرٍ مِنْهَا، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِصْفَ النَّهَارِ، وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَنَزَلْتُ عَنِ الْبَعِيرِ، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ، قَالَ:" وَمَا أَهْلَكَكَ؟" فَحَدَّثْتُهُ فَضَحِكَ، فَدَعَا إِنْسَانًا مِنْ أَهْلِهِ، فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ، مَا هُوَ بِمَلْآنَ، إِنَّهُ لَيَتَخَضْخَضُ، فَاسْتَتَرْتُ بِالْبَعِيرِ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ فَسَتَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ مَا لَمْ تَجِدْ الْمَاءَ، وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ، فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّ بَشَرَتَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنی عامر کے ایک صاحب کا کہنا ہے (وہ صاحب ابوالمہلب خرمی ہیں) کہ میں کافر تھا اللہ نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دے دی ہمارے علاقے میں پانی نہیں تھا اہلیہ میرے ساتھ تھی جس کی بناء پر بعض اوقات مجھے جنابت لاحق ہوجاتی، میرے دل میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کی اہمیت بیٹھ گئی کسی شخص نے مجھے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا پتہ بتادیا میں حج کے لئے روانہ ہوا اور مسجد منٰی میں داخل ہوا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو پہچان گیا وہ عمر رسیدہ تھے انہیں پسینہ آیا ہوا تھا اور انہوں نے اونی جوڑا پہن رکھا تھا میں جا کر ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا وہ نماز پڑھ رہے تھے میں نے انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا خوب اچھی طرح مکمل نماز پڑھنے کے بعد انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ہی ابوذر ہیں؟ انہوں نے فرمایا میرے گھر والے تو یہی سمجھتے ہیں پھر میں نے انہیں اپنا واقعہ سنایا انہوں نے فرمایا کیا تم ابوذر کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں! انہوں نے فرمایا مجھے مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی تھی یا فرمایا کہ مجھے پیٹ کا مرض لاحق ہوگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کچھ اونٹوں اور بکریوں کے دودھ پینے کا حکم فرمایا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں پانی (کے علاقے) سے دور رہتا تھا میرے ساتھ اہل و عیال بھی تھے جب مجھے غسل کی ضرورت پیش آتی تو میں بغیر پاکی حاصل کئے ہوئے نماز پڑھ لیا کرتا ایک مرتبہ جب میں خدمت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حاضر ہوا تو وہ دوپہر کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں ہلاک ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہوگئی؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت! میں پانی (کے علاقے سے) دور تھا میرے ہمراہ میری اہلیہ بھی تھی مجھے غسل کی جب ضرورت پیش آجاتی تو میں بغیر غسل کئے ہی نماز پڑھ لیا کرتا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لئے پانی منگوانے کا حکم فرمایا چنانچہ ایک کالے رنگ کی باندی میرے لئے بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی۔ پیالہ کا پانی ہل رہا تھا کیونکہ پیالہ بھرا ہوا نہیں تھا میں نے ایک اونٹ کی اڑ میں غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پاک مٹی بھی مطہر ہوتی ہے جب تک پانی نہ ملے اگرچہ تم کو دس سال تک بھی پانی میسر نہ آسکے البتہ جب پانی مل جائے تو اس کو بدن پر بہا لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21304]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21305 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، رَجُلٍ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي قُشَيْرٍ، قَالَ: كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ، فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ، فَلَا أَجِدُ الْمَاءَ، فَأَتَيَمَّمُ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ فِي مَنْزِلِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَأَتَيْتُ الْمَسْجِدَ وَقَدْ وُصِفَتْ لِي هَيْئَتُهُ، فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي فَعَرَفْتُهُ بِالنَّعْتِ، فَسَلَّمْتُ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ رَدَّ عَلَيَّ، فَقُلْتُ: أَنْتَ أَبُو ذَرٍّ؟ قَالَ: إِنَّ أَهْلِي يَزْعُمُونَ ذَاكَ! فَقُلْتُ: مَا كَانَ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ أَحَبَّ إِلَيَّ رُؤْيَتُهُ مِنْكَ، فَقَالَ: قَدْ رَأَيْتَنِي! فَقُلْتُ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ، فَلَبِثْتُ أَيَّامًا أَتَيَمَّمُ، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ، أَوْ أُشْكِلَ عَلَيَّ! فَقَالَ: أَتَعْرِفُ أَبَا ذَرٍّ؟! كُنْتُ بِالْمَدِينَةِ فَاجْتَوَيْتُهَا، فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغُنَيْمَةٍ، فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَتَيَمَّمْتُ بِالصَّعِيدِ، فَصَلَّيْتُ أَيَّامًا، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي هَالِكٌ، فَأَمَرْتُ بِنَاقَةٍ لِي أَوْ قَعُودٍ، فَشُدَّ عَلَيْهَا ثُمَّ رَكِبْتُ، قَالَ: حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، أَبُو ذَرٍّ؟!" فَقُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، فَتَيَمَّمْتُ أَيَّامًا، فَوَقَعَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي هَالِكٌ، فَدَعَا لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَجَاءَتْ بِهِ أَمَةٌ سَوْدَاءُ فِي عُسٍّ يَتَخَضْخَضُ، فَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَسَتَرَنِي فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ مَا لَمْ تَجِدْ الْمَاءَ وَلَوْ فِي عَشْرِ حِجَجٍ، فَإِذَا قَدَرْتَ عَلَى الْمَاءِ فَأَمِسَّهُ بَشَرَتَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنی عامر کے ایک صاحب کا کہنا ہے (وہ صاحب ابوالمہلب خرمی ہیں) کہ میں کافر تھا اللہ نے مجھے اسلام کی طرف ہدایت دے دی ہمارے علاقے میں پانی نہیں تھا اہلیہ میرے ساتھ تھی جس کی بناء پر بعض اوقات مجھے جنابت لاحق ہوجاتی، میرے دل میں یہ مسئلہ معلوم کرنے کی اہمیت بیٹھ گئی کسی شخص نے مجھے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کا پتہ بتادیا میں حج کے لئے روانہ ہوا اور مسجد منٰی میں داخل ہوا تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو پہچان گیا وہ عمر رسیدہ تھے انہیں پسینہ آیا ہوا تھا اور انہوں نے اونی جوڑا پہن رکھا تھا میں جا کر ان کے پہلو میں کھڑا ہوگیا وہ نماز پڑھ رہے تھے میں نے انہیں سلام کیا لیکن انہوں نے جواب نہ دیا خوب اچھی طرح مکمل نماز پڑھنے کے بعد انہوں نے میرے سلام کا جواب دیا میں نے ان سے پوچھا کہ آپ ہی ابوذر ہیں؟ انہوں نے فرمایا میرے گھر والے تو یہی سمجھتے ہیں پھر میں نے انہیں اپنا واقعہ سنایا انہوں نے فرمایا کیا تم ابوذر کو پہچانتے ہو؟ میں نے کہا جی ہاں! انہوں نے فرمایا مجھے مدینہ کی آب وہوا موافق نہ آئی تھی یا فرمایا کہ مجھے پیٹ کا مرض لاحق ہوگیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کچھ اونٹوں اور بکریوں کے دودھ پینے کا حکم فرمایا حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں پانی (کے علاقے) سے دور رہتا تھا میرے ساتھ اہل و عیال بھی تھے جب مجھے غسل کی ضرورت پیش آتی تو میں بغیر پاکی حاصل کئے ہوئے نماز پڑھ لیا کرتا ایک مرتبہ جب میں خدمت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حاضر ہوا تو وہ دوپہر کا وقت تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں ہلاک ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہوگئی؟ میں نے عرض کیا کہ حضرت! میں پانی (کے علاقے سے) دور تھا میرے ہمراہ میری اہلیہ بھی تھی مجھے غسل کی جب ضرورت پیش آجاتی تو میں بغیر غسل کئے ہی نماز پڑھ لیا کرتا تھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے لئے پانی منگوانے کا حکم فرمایا چنانچہ ایک کالے رنگ کی باندی میرے لئے بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی۔ پیالہ کا پانی ہل رہا تھا کیونکہ پیالہ بھرا ہوا نہیں تھا میں نے ایک اونٹ کی اڑ میں غسل کیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پاک مٹی بھی مطہر ہوتی ہے جب تک پانی نہ ملے اگرچہ تم کو دس سال تک بھی پانی میسر نہ آسکے البتہ جب پانی مل جائے تو اس کو بدن پر بہا لو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21305]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21306 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أَيُّوبَ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ ، قَالَ: أَخَّرَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ، فَسَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الصَّامِتِ فَضَرَبَ فَخِذِي، قَالَ: سَأَلَتُ خَلِيلِي أَبَا ذَرٍّ فَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: سَأَلْتُ خَلِيلِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " صَلِّ لِمِيقَاتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكْتَ فَصَلِّ مَعَهُمْ، وَلَا تَقُولَنَّ: إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد نے کسی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کردیا میں نے عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر کہا کہ یہی سوال میں نے اپنے دوست حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہی سوال میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز تو اپنے وقت پر پڑھ لیا کرو اگر ان لوگوں کے ساتھ شریک ہونا پڑے تو دوبارہ ان کے ساتھ (نفل کی نیت سے) نماز پڑھ لیا کرو یہ نہ کہا کرو کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا اب نہیں پڑھتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21306]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 648
الحكم: إسناده صحيح، م: 648
حدیث نمبر: 21307 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21307]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21308 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْمُخَارِقِ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْمُخَارِقِ ، قَالَ: خَرَجْنَا حُجَّاجًا، فَلَمَّا بَلَغْنَا الرَّبَذَةَ، قُلْتُ لِأَصْحَابِي: تَقَدَّمُوا وَتَخَلَّفْتُ، فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ وَهُوَ يُصَلِّي، فَرَأَيْتُهُ يُطِيلُ الْقِيَامَ، وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ رَكَعَ رَكْعَةً أَوْ سَجَدَ سَجْدَةً رُفِعَ بِهَا دَرَجَةً، وَحُطَّتْ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مخارق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج کے ارادے سے نکلے جب ہم مقام ربذہ میں پہنچے تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم آگے چلو اور میں خود پیچھے رہ گیا میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے میں نے طویل قیام اور کثرت رکوع و سجود کرتے ہوئے دیکھا میں نے ان سے اس چیز کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی طرف سے بہتر سے بہتر میں کوئی کمی نہیں کرتا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ایک رکوع یا ایک سجدہ کرتا ہے اس کا ایک درجہ بلند ہوتا ہے اور ایک گناہ معاف ہو کردیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21308]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة المخارق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة المخارق