بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 287
صفحہ 5 از 15
حدیث نمبر: 21369 مسند احمد
أَبُو ذَرٍّ
. 20790 وَقَالَ أَبُو ذَرٍّ " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ أَنَا عَافَيْتُهُ" فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" ذَلِكَ بِأَنِّي جَوَادٌ وَاجِدٌ مَاجِدٌ، إِنَّمَا عَطَائِي كَلَامٌ".
حکم دارالسلام
صحيح مرفوعا، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وهو هنا موقوف
الحكم: صحيح مرفوعا، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، وهو هنا موقوف
حدیث نمبر: 21370 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَامَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ يَعْنِي السَّنَةَ، قَالَ: " غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ لِي عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا إِذَا صُبَّتْ عَلَيْكُمْ صَبًّا، فَيَا لَيْتَ أُمَّتِي لَا يَلْبَسُونَ الذَّهَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک سخت طبیعت دیہاتی آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! ہمیں تو قحط سالی کھاجائے گی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ایک دوسری چیز کا اندیشہ ہے جب تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا کاش! اس وقت میری امت سونے کا زیور نہ پہنے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21370]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 21371 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، أيوَب السَّخْتِياني ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، وَأَيُّوبُ ، رَجُلٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أيوَب السَّخْتِياني ، وَخَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، كِلَاهُمَا ذَكَرَهُ خَالِدٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ ، وَأَيُّوبُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَجْنَبَ فَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَاسْتَتَرَ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: " إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ، وَإِذَا وَجَدَ الْمَاءَ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَتَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان پر غسل واجب ہوگیا وہ اسی حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے پانی منگوایا انہوں نے پردے کے پیچھے غسل کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا پاک مٹی مسلمان کے لئے وضو ہے اگرچہ اس دس سال تک پانی نہ ملے جب پانی مل جائے تو اسے جسم پر بہا لے کہ یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21371]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21372 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، حَجَّاجٌ الْأَسْوَدُ ، مُؤَمَّلٌ ، أَبَا الصِّدِّيقِ ، رَجُلٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ الْأَسْوَدُ ، قَالَ مُؤَمَّلٌ ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الصِّدِّيقِ يُحَدِّثُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ عُلَمَاؤُهُ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ، مَنْ تَرَكَ فِيهِ عُشَيْرَ مَا يَعْلَمُ هَوَى، أَوْ قَالَ هَلَكَ، وَسَيَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقِلُّ عُلَمَاؤُهُ وَيَكْثُرُ خُطَبَاؤُهُ، مَنْ تَمَسَّكَ فِيهِ بِعُشَيْرِ مَا يَعْلَمُ نَجَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تم لوگ ایک ایسے زمانے میں ہو جس میں علماء کثیر تعداد میں ہیں اور خطباء بہت کم ہیں جو شخص اس زمانے میں اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل چھوڑے گا وہ ہلاک ہوجائے گا اور عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں علماء کم اور خطباء زیادہ ہوجائیں گے اس زمانے میں جو شخص اپنے علم کے دسویں حصے پر بھی عمل کرلے گا وہ نجات پاجائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21372]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، والراوي عن أبى ذر مبهم
الحكم: إسناده ضعيف، مؤمل سيئ الحفظ، والراوي عن أبى ذر مبهم
حدیث نمبر: 21373 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، مُجَاهِدٍ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْأَشْتَرِ ، أَبِيهِ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْأَشْتَرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ ذَرٍّ، قَالَتْ: لَمَّا حَضَرَتْ أَبَا ذَرٍّ الْوَفَاةُ، قَالَتْ: بَكَيْتُ، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ؟ قَالَتْ: وَمَا لِي لَا أَبْكِي وَأَنْتَ تَمُوتُ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا يَدَ لِي بِدَفْنِكَ، وَلَيْسَ عِنْدِي ثَوْبٌ يَسَعُكَ فَأُكَفِّنَكَ فِيهِ، قَالَ: فَلَا تَبْكِي وَأَبْشِرِي، فإني سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَمُوتُ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ وَلَدَانِ، أَوْ ثَلَاثَةٌ فَيَصْبِرَانِ وَيَحْتَسِبَانِ فَيَرِدَانِ النَّارَ أَبَدًا"، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَيَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْكُمْ بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ يَشْهَدُهُ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" وَلَيْسَ مِنْ أُولَئِكَ النَّفَرِ أَحَدٌ إِلَّا وَقَدْ مَاتَ فِي قَرْيَةٍ أَوْ جَمَاعَةٍ، وَإِنِّي أَنَا الَّذِي أَمُوتُ بِفَلَاةٍ، وَاللَّهِ مَا كَذَبْتُ وَلَا كُذِبْتُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں رونے لگی انہوں نے پوچھا کہ کیوں روتی ہو؟ میں نے کہا روؤں کیوں نہ؟ جبکہ آپ ایک جنگل میں اس طرح جان دے رہے ہیں کہ میرے پاس آپ کو دفن کرنے کا بھی کوئی سبب نہیں ہے اور نہ ہی اتنا کپڑا ہے جس میں آپ کو کفن دے سکوں، انہوں نے فرمایا تم مت رو اور خوشخبری سنو کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو آدمی دو یا تین مسلمان بچوں کے درمیان فوت ہوتا ہے اور وہ ثواب کی نیت سے اپنے بچوں کی وفات پر صبر کرتا ہے تو وہ جہنم کی آگ کبھی نہیں دیکھے گا۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ایک آدمی ضرور کسی جنگل میں فوت ہوگا جس کے پاس مؤمنین کی ایک جماعت حاضر ہوگی اب ان لوگوں میں سے تو ہر ایک کا انتقال کسی نہ کسی شہر یا جماعت میں ہوا ہے اور میں ہی وہ آدمی ہوں جو جنگل میں فوت ہو رہا ہے واللہ نہ میں جھوٹ بول رہا ہوں اور نہ مجھ سے جھوٹ بولا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21373]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21374 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ ، أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ نُعَيْمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ بِالْفُسْطَاطِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ شِبْرًا، تَقَرَّبَ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَى اللَّهِ ذِرَاعًا، تَقَرَّبَ إِلَيْهِ بَاعًا، وَمَنْ أَقْبَلَ عَلَى اللَّهِ مَاشِيًا، أَقْبَلَ اللَّهُ إِلَيْهِ مُهَرْوِلًا، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ، وَاللَّهُ أَعْلَى وَأَجَلُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے میں ایک ہاتھ کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جو ایک ہاتھ کے برابر قریب آتا ہے میں ایک گز اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں اور اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21374]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21375 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، الْحِمْصِيِّ ، أَبِي طَالِبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ زَنَّى أَمَةً لَمْ يَرَهَا تَزْنِي، جَلَدَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَوْطٍ مِنْ نَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی باندی پر بدکاری کا الزام لگائے جسے اس نے خود بدکاری کرتے ہوئے نہ دیکھا ہو تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے آگ کے کوڑے مارے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21375]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحمصي وأبو طالب مجهولان
الحكم: إسناده ضعيف، الحمصي وأبو طالب مجهولان
حدیث نمبر: 21376 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ، زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، بِأَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي الْحَسَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ: جِئْنَا مِنْ جَنَازَةٍ، فَمَرَرْنَا بِأَبِي ذَرٍّ ، فَقَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَأَرَادَ الْمُؤَذِّنُ أَنْ يُؤَذِّنَ لِلظُّهْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدْ" ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُؤَذِّنَ، فَقَالَ لَهُ:" أَبْرِدْ" وَالثَّالِثَةَ، أَكْبَرُ عِلْمِي شُعْبَةُ، قَالَ لَهُ حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ، قَالَ:" قَالَ: إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جنازے سے واپس آرہے تھے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے مؤذن نے جب ظہر کی اذان دینا چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا ٹھنڈا کر کے اذان دینا دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا حتٰی کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21376]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 539، م: 616
الحكم: إسناده صحيح، خ: 539، م: 616
حدیث نمبر: 21377 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَاصِمٍ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ، يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْحَسَنَةُ عَشْرٌ أَوْ أَزِيدُ، وَالسَّيِّئَةُ وَاحِدَةٌ أَوْ أَغْفِرُهَا، فَمَنْ لَقِيَنِي، لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا، بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صادق و مصدوق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے جس میں میں اضافہ بھی کرسکتا ہوں اور ایک گناہ کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے اور میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں اور اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21377]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 2687
الحكم: إسناده حسن، م: 2687
حدیث نمبر: 21378 مسند احمد
بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: يَقْطَعُ صَلَاةَ الرَّجُلِ إِذَا لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ؟ قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: " الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21378]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 510
الحكم: إسناده صحيح، م: 510
حدیث نمبر: 21379 مسند احمد
بَهْزٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَعْمَلَ بِأَعْمَالِهِمْ؟ قَالَ: " أَنْتَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ"، قَالَ: قُلْتُ: فَإِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، يُعِيدُهَا مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان جیسے اعمال نہیں کرسکتا اس کا کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر رضی اللہ عنہ تم جس کے ساتھ محبت کرتے ہو اسی کے ساتھ ہوگے میں نے عرض کیا کہ پھر میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں یہ جملہ انہوں نے ایک دو مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21379]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21380 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ فَيَحْمَدُهُ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَيُثْنُونَ عَلَيْهِ بِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تِلْكَ عَاجِلُ بُشْرَى الْمُؤْمِنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کوئی اچھا کام کرتا ہے لوگ اس کی تعریف وثناء بیان کرنے لگے ہیں (اس کا کیا حکم ہے؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے فرمایا یہ تو مسلمان کے لئے فوری خوشخبری ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21380]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2642
الحكم: إسناده صحيح، م: 2642
حدیث نمبر: 21381 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبُو عِمْرَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: " أَوْصَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَبَخْتُ قِدْرًا أَنْ أُكْثِرَ مَرَقَتَهَا، فَإِنَّهُ أَوْسَعُ لِلْجِيرَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ ان سے فرمایا اے ابوذر! جب کھانا پکایا کرو تو شوربہ بڑھا لیا کرو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21381]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2625
الحكم: إسناده صحيح، م: 2625
حدیث نمبر: 21382 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ ، أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَمِّهِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ عَمِّهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا نَائِمٌ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَضَرَبَنِي بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: " أَلَا أَرَاكَ نَائِمًا فِيهِ؟" قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، غَلَبَتْنِي عَيْنِي، قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهُ؟" قَالَ: آتِي الشَّامَ الْأَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الْمُبَارَكَةَ، قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامَ؟" قَالَ: أَعُودُ إِلَيْهِ، قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخرِجْتَ مِنْهُ"، قَالَ: مَا أَصْنَعُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَضْرِبُ بِسَيْفِي؟! فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ وَأَقْرَبُ رُشْدًا؟ تَسْمَعُ وَتُطِيعُ، وَتَنْسَاقُ لَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں سو رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس آئے اور مجھے پاؤں سے ہلایا اور فرمایا کیا میں تمہیں یہاں سوتا ہوا نہیں دیکھ رہا؟ میں نے عرض کیا یا نبی اللہ! میری آنکھ لگ گئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں یہاں سے نکال دیا جائے گا؟ میں نے عرض کیا کہ میں ارض مقدس و مبارک شام چلا جاؤں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اور اگر تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا تو کیا کرو گے؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی کرنا کیا ہے میں اپنی تلوار کے ذریعے لڑوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہترین طریقہ نہ بتاؤں؟ تم ان کی بات سننا اور ماننا اور جہاں وہ تمہیں لے جائیں وہاں چلے جانا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21382]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عم أبى حرب بن أبى الأسود لايعرف
الحكم: إسناده ضعيف، عم أبى حرب بن أبى الأسود لايعرف
حدیث نمبر: 21383 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ أَعْرِضُ عَلَيْهِ وَيَعْرِضُ عَلَيَّ فِي السِّكَّةِ، فَيَمُرُّ بِالسَّجْدَةِ فَيَسْجُدُ، قَالَ: قُلْتُ: أَتَسْجُدُ فِي السِّكَّةِ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ:" الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ" قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى"، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ:" أَرْبَعُونَ سَنَةً" قَالَ:" ثُمَّ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَهُوَ مَسْجِدٌ"، وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ وَيَقْرَأُ عَلَيَّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلی مسجد کون سی بنائی گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد اقصیٰ میں نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتناوفقہ تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چالیس سال میں نے پوچھا پھر کون سی مسجد؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تمہیں جہاں بھی نماز مل جائے وہیں پڑھ لو کیونکہ روئے زمین مسجد ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21383]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
حدیث نمبر: 21384 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ، فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ، قَالَ: فَفَضَلَ مَعَهَا سَبْعٌ، قَالَ: فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهِ فُلُوسًا، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: لَوْ ادَّخَرْتَهُ لِحَاجَةٍ تَنُوبُكَ، أَوْ لِلضَّيْفِ يَنْزِلُ بِكَ، قَالَ: إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ، " أَنْ أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوكِيَ عَلَيْهِ، فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يُفْرِغَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ان کا وظیفہ آگیا ان کے ساتھ ایک باندی تھی جو ان پیسوں سے ان کی ضروریات کا انتظام کرنے لگی اس کے پاس سات سکے بچ گئے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ ان کے پیسے خرید لے (ریزگاری حاصل کرلے) میں نے ان سے عرض کیا کہ اگر آپ ان پیسوں کو بچا کر رکھ لیتے تو کسی ضرورت میں کام آجاتے یا کسی مہمان کے آنے پر کام آجاتے انہوں نے فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وصیت کی ہے کہ جو سونا چاندی مہر بند کر کے رکھا جائے وہ اس کے مالک کے حق میں آگ کی چنگاری ہے تاوقتیکہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کر دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21384]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21385 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى ، أَبُو صَالِحٍ ، رَجُلٍ ، وَيَعْلَى ، يَحْيَى ، ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، رَجُلٍ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَيَعْلَى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ذَكْوَانَ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ أَخْبَرَهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَشَدُّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَكُونُونَ أَوْ يَخْرُجُونَ بَعْدِي، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَأَنَّهُ رَآنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے لوگ وہ ہوں گے جو میرے بعد آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ اپنے اہل خانہ اور سارے مال و دولت کو دے کر کسی طرح وہ مجھے دیکھ لیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21385]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الأسدي
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الأسدي
حدیث نمبر: 21386 مسند احمد
يَحْيَى ، الْأَجْلَحِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ الْأَجْلَحِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21386]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات، الأجلح ضعيف، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات، الأجلح ضعيف، وقد توبع
حدیث نمبر: 21387 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ جنت کا ایک خزانہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21387]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21388 مسند احمد
وَكِيعٌ ، قُدَامةُ الْعَامِرِيُّ ، جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا قُدَامةُ الْعَامِرِيُّ ، عَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ فَرَدَّدَهَا حَتَّى أَصْبَحَ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز شروع کی اور ساری رات صبح تک ایک ہی آیت رکوع و سجود میں پڑھتے رہے کہ اے اللہ " اگر تو انہیں عذاب میں مبتلا کردے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کردے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21388]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن