بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 287
صفحہ 14 از 15
حدیث نمبر: 21549 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٌ ، يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، وَكَانَ وَاصِلٌ رُبَّمَا ذَكَرَ أَبَا الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيَّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فَوَجَدْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُمَاطُ عَنِ الطَّرِيقِ، وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے سامنے میری امت کے اچھے برے اعمال پیش کئے گئے تو اچھے اعمال کی فہرست میں مجھے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی نظر آیا اور برے اعمال کی فہرست میں مسجد کے اندر تھوک پھینکنا نظر آیا جسے مٹی میں نہ ملایا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21549]
حکم دارالسلام
إسناده قوي متصل بذكر أبى الأسود فيه، م: 553
الحكم: إسناده قوي متصل بذكر أبى الأسود فيه، م: 553
حدیث نمبر: 21550 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، وَاصِلٍ ، يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنَةٍ وَسَيِّئَةٍ، فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا إِمَاطَةَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے سامنے میری امت کے اچھے برے اعمال پیش کئے گئے تو اچھے اعمال کی فہرست میں مجھے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی نظر آیا اور برے اعمال کی فہرست میں مسجد کے اندر تھوک پھینکنا نظر آیا جسے مٹی میں نہ ملایا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21550]
حکم دارالسلام
حديث قوي، م: 553، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن يعمر لم يسمعه من ابي ذر
الحكم: حديث قوي، م: 553، وهذا إسناد منقطع، يحيى بن يعمر لم يسمعه من ابي ذر
حدیث نمبر: 21551 مسند احمد
يَزِيدُ ، كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، أَبُو السَّلِيلِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، حَدَّثَنَا أَبُو السَّلِيلِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْلُو عَلَيَّ هَذِهِ الْآيَةَ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا سورة الطلاق آية 2، حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ أَنَّ النَّاسَ كُلَّهُمْ أَخَذُوا بِهَا لَكَفَتْهُمْ"، قَالَ: فَجَعَلَ يَتْلُوِهَا، وَيُرَدِّدُهَا عَلَيَّ حَتَّى نَعَسْتُ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الْمَدِينَةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ، أَنْطَلِقُ حَتَّى أَكُونَ حَمَامَةً مِنْ حَمَامِ مَكَّةَ، قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنْ مَكَّةَ؟" قَالَ: قُلْتُ: إِلَى السَّعَةِ وَالدَّعَةِ، إِلَى الشَّامِ وَالْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ، قَالَ:" كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ أُخْرِجْتَ مِنَ الشَّامِ؟" قَالَ: قُلْتُ: إِذًا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعَ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، قَالَ:" أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟" قَالَ: قُلْتُ: أَوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟! قَالَ:" تَسْمَعُ وَتُطِيعُ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا حَبَشِيًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے سامنے یہ آیت تلاوت فرمانے لگے ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوگئے پھر فرمایا اے ابوذر رضی اللہ عنہ اگر ساری انسانیت بھی اس پر عمل کرنے لگے تو یہ آیت انہیں بھی کافی ہوجائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنی مرتبہ اسے میرے سامنے دہرایا کہ اس کے سحر سے مجھ پر اونگھ طاری ہونے لگی، پھر فرمایا اے ابوذر! جب تمہیں مدینہ منورہ سے نکال دیا جائے گا تو تم کیا کرو گے؟ میں نے عرض کیا کہ گنجائش کا پہلو اختیار کر کے میں اسے چھوڑ دوں گا اور جا کر حرم مکہ کا کبوتر بن جاؤں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا تو کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ پھر بھی وسعت کا پہلو اختیار کر کے اسے چھوڑ کر شام اور ارض مقدس چلا جاؤں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہیں شام سے بھی نکال دیا گیا تو کیا کرو گے؟ میں نے عرض کیا کہ پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر طریقہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کہ کیا اس سے بہتر طریقہ بھی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم بات سننا اور مانتے رہنا اگرچہ تمہارا حکمران کوئی حبشی غلام ہی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21551]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو السليل لم يدرك أبا ذر
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو السليل لم يدرك أبا ذر
حدیث نمبر: 21552 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، أَبِي عَمْرٍو الشَّامِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّامِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ لِي:" يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَصَلِّ"، قَالَ: فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، اسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ لِلْإِنْسِ مِنْ شَيَاطِينَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قَالَ:" قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" خَيْرٌ مَوْضُوعٌ، فَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ وَمَنْ شَاءَ أَقَلَّ"، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا الصِّيَامُ، يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" فَرْضٌ مُجْزِئٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الصَّدَقَةُ؟ قَالَ:" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ، وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ"، قَالَ: قُلْتُ: أَيُّهَا أَفْضَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ، أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ"، قُلْتُ: فَأَيُّ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255" حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ، قُلْتُ: فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ:" آدَمُ"، قُلْتُ: أَوَنَبِيٌّ كَانَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ"، قُلْتُ: فَكَمْ الْمُرْسَلُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" ثَلَاثُ مِئَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِيرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تھے میں بھی مجلس میں شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا اے ابوذر رضی اللہ عنہ کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو، چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آکر مجلس میں دوبارہ شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! انسانوں اور جنات میں سے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا یا رسول اللہ! نماز کا کیا حکم ہے؟ فرمایا بہترین موضوع ہے جو چاہے کم حاصل کرے اور جو چاہے زیادہ حاصل کرلے میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا ایک فرض ہے جسے ادا کیا جائے گا تو کافی ہوجاتا ہے اور اللہ کے یہاں اس کا اضافی ثواب ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! صدقہ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا اس کا بدلہ دوگنا چوگنا ملتا ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا کم مال والے کی محنت کا صدقہ یا کسی ضرورت مند کا راز، میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ فرمایا حضرت آدم علیہ السلام میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا وہ نبی تھے؟ فرمایا ہاں، بلکہ ایسے نبی جن سے باری تعالیٰ نے کلام فرمایا: میں نے پوچھا یا رسول اللہ! رسول کتنے آئے؟ فرمایا تین سو دس سے کچھ اوپر ایک عظیم گروہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی؟ فرمایا آیت الکرسی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21552]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا لجهالة عبيد بن الخشخاش، ولضعف أبى عمر
الحكم: إسناده ضعيف جدا لجهالة عبيد بن الخشخاش، ولضعف أبى عمر
حدیث نمبر: 21553 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ، اسْتَقْبَلَتْهُ الرَّحْمَةُ، فَلَا يَمَسَّ الْحَصَى وَلَا يُحَرِّكْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو رحمت الہٰیہ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے لہٰذا اسے کنکریوں سے نہیں کھیلنا چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21553]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 21554 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ ، ابْنِ شَدَّادٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ الْمُغِيرَةِ الطَّائِفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ ابْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ الْآخِرَ قَدْ زَنَى، فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ ثَلَّثَ ثُمَّ رَبَّعَ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ مَرَّةً: فَأَقَرَّ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَرَدَّدَهُ أَرْبَعًا، ثُمَّ نَزَلَ فَأَمَرَنَا فَحَفَرْنَا لَهُ حَفِيرَةً لَيْسَتْ بِالطَّوِيلَةِ، فَرُجِمَ فَارْتَحَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَئِيبًا حَزِينًا، فَسِرْنَا حَتَّى نَزَلَ مَنْزِلًا، فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَمْ تَرَ إِلَى صَاحِبِكُمْ، غُفِرَ لَهُ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھے کہ ایک آدمی حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ نیکیوں سے پیچھے رہنے والے (میں نے) بدکاری کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیرلیا جب چار مرتبہ اسی طرح ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری سے اتر پڑے اور ہمیں حکم دیا چنانچہ ہم نے اس کے لئے ایک گڑھا کھودا جو بہت زیادہ لمبا نہ تھا پھر اسے رجم کردیا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غم اور پریشانی کی حالت میں وہاں سے کوچ فرما دیا اور ہم روانہ ہوگئے جب اگلی منزل پر پڑاؤ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وہ کیفیت ختم ہوگئی اور مجھ سے فرمایا ابوذر! دیکھو تو سہی تمہارے ساتھی کی بخشش ہوگئی اور اسے جنت میں داخل کردیا گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21554]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، و عبدالله بن المقدام مجهول
الحكم: إسناده ضعيف، حجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعن، و عبدالله بن المقدام مجهول
حدیث نمبر: 21555 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَوْفٌ ، مُهَاجِرٍ أَبِي خَالِدٍ ، أَبُو الْعَالِيَةِ ، أَبُو مُسْلِمٍ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُهَاجِرٍ أَبِي خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ ، حَدَّثَنِي أَبُو مُسْلِمٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي ذَرٍّ: أَيُّ قِيَامِ اللَّيْلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَبُو ذَرٍّ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، شُكُّ عَوْفٌ، فَقَالَ: " جَوْفُ اللَّيْلِ الْغَابِرِ أَوْ نِصْفُ اللَّيْلِ، وَقَلِيلٌ فَاعِلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو مسلم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رات کے کس حصے میں قیام کرنا سب سے افضل ہے؟ انہوں نے فرمایا یہ سوال جس طرح تم نے مجھ سے پوچھا ہے میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا رات کے پچھلے نصف پہر میں لیکن ایسا کرنے والے بہت تھوڑے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21555]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، المهاجر أبو خالد فيه لين، وأبو مسلم مجهول
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، المهاجر أبو خالد فيه لين، وأبو مسلم مجهول
حدیث نمبر: 21556 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، عَبْدُ الْجَلِيلِ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ ، مُزَاحِمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الضَّبِّيُّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَلِيلِ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ ، حَدَّثَنَا مُزَاحِمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الضَّبِّيُّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ زَمَنَ الشِّتَاءِ وَالْوَرَقُ يَتَهَافَتُ، فَأَخَذَ بِغُصْنَيْنِ مِنْ شَجَرَةٍ، قَالَ: فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ، قَالَ: فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ"، قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ، فَتَهَافَتُ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا يَتَهَافَتُ هَذَا الْوَرَقُ عَنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سردی کے موسم میں باہر نکلے، اس وقت پت جھڑ لگا ہوا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک درخت کی دو ٹہنیاں پکڑیں تو اس سے پتے جھڑنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! میں نے " لبیک یا رسول اللہ " کہا فرمایا بندہ مسلم جب اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑجاتے ہیں جیسے اس درخت کے یہ پتے جھڑ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21556]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة مزاحم بن معاوية
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة مزاحم بن معاوية
حدیث نمبر: 21557 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّضْرِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ ، بَلَغَهُ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ النَّضْرِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اونٹوں میں گائے بکری میں اور گندم میں صدقہ (زکوٰۃ) ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21557]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الانقطاعه، ابن جريج لم يسمعه من عمران بن أبى أنس
الحكم: إسناده ضعيف الانقطاعه، ابن جريج لم يسمعه من عمران بن أبى أنس
حدیث نمبر: 21558 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زُهَيْرٌ ، مُطَرِّفٍ ، ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، مُطَرِّفٌ يَعْنِي الْحَارِثِيَّ ، أَبِي الْجَهْمِ ، ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ ، ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ يَعْنِي الْحَارِثِيَّ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ مَوْلَى الْبَرَاءِ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا، عَنْ خَالِدِ بْنِ وَهْبَانَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، أَوْ وُهْبَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَيْفَ أَنْتَ وَأَئِمَّةً مِنْ بَعْدِي يَسْتَأْثِرُونَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟!" قَالَ: قُلْتُ: إِذَنْ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ أَضَعَ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، ثُمَّ أَضْرِبَ بِهِ حَتَّى أَلْقَاكَ أَوْ أَلْحَقَ بِكَ، قَالَ:" أَوَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْ ذَلِكَ؟ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب میرے بعد آنے والے حکمران اس مال غنیمت میں تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا اور ان سے اتنا لڑوں گا کہ آپ سے آملوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر راستہ نہ دکھاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21558]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
حدیث نمبر: 21559 مسند احمد
أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، مُطَرِّفٍ ، أَبِي الْجَهْمِ ، خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، كَيْفَ أَنْتَ عِنْدَ وُلَاةٍ يَسْتَأْثِرُونَ عَلَيْكَ بِهَذَا الْفَيْءِ؟! قَالَ: قلت: إذا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، أَضَعُ سَيْفِي عَلَى عَاتِقِي، فَأَضْرِبُ بِهِ حَتَّى أَلْحَقَكَ، قَالَ:" أَفَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا هُوَ خَيْرٍ لَكَ مِنْ ذَلِكَ؟ تَصْبِرُ حَتَّى تَلْقَانِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب میرے بعد آنے والے حکمران اس مال غنیمت میں تم پر دوسروں کو ترجیح دیں گے؟ میں نے عرض کیا کہ پھر اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھ لوں گا اور ان سے اتنا لڑوں گا کہ آپ سے آملوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بہتر راستہ نہ دکھاؤں؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے آملو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21559]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
حدیث نمبر: 21560 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، مُطَرِّفٍ ، أَبِي الْجَهْمِ ، خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَالَفَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کے خلاف چلتا ہے وہ اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21560]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة خالد ابن وهبان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة خالد ابن وهبان
حدیث نمبر: 21561 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ ، أَبِي الْجَهْمِ ، خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، أَبِي ذَرٍّ ، أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، مُطَرِّفٍ ، أَبِي الْجَهْمِ ، خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ طَرِيفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ شِبْرًا، خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ" ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ مُطَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ایک بالشت کے برابر بھی جماعت کے خلاف چلتا ہے وہ اپنی گردن سے اسلام کی رسی نکال دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21561]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن وهبان
حدیث نمبر: 21562 مسند احمد
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي الْجَهْمِ عَنْ خَالِدِ بْنِ وُهْبَانَ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة
حدیث نمبر: 21563 مسند احمد
أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، لَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ، وَلَا تَأَمَّرَنَّ عَلَى اثْنَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر! کسی یتیم کے مال کے سرپرست نہ بننا اور کسی دو آدمیوں پر بھی امیر نہ بننا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21563]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1826
الحكم: إسناده صحيح، م: 1826
حدیث نمبر: 21564 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَيْبَانُ ، مَنْصُورٌ ، رِبْعِيٍّ ، خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، الْمَعْرُورِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ رِبْعِيٍّ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُعْطِيتُ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ وَلَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں مجھے عرش کے نیجے ایک کمرے کے خزانے سے دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21564]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وقد اختلف على خرشة بن الحر فى تسميته
الحكم: صحيح لغيره، وقد اختلف على خرشة بن الحر فى تسميته
حدیث نمبر: 21565 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ، رَفَعَ الْحَدِيثَ، قَالَ: " الْحَسَنَةُ عَشْرٌ أَوْ أَزِيدُ، وَالسَّيِّئَةُ وَاحِدَةٌ أَوْ أَغْفِرُهَا، وَمَنْ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صادق و مصدوق نے ہم سے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بیان کیا ہے کہ ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہے جس میں میں اضافہ بھی کرسکتا ہوں اور ایک گناہ کا بدلہ اس کے برابر ہی ہے اور میں اسے معاف بھی کرسکتا ہوں اور اے ابن آدم! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں زمین بھر کر بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21565]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، م: 2687
الحكم: إسناده حسن، م: 2687
حدیث نمبر: 21566 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: " لَا أَحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ"، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ:" لَا أُحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ" فَقُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى أَصْبَحَ وَسَكَتَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان کی ٢٣ ویں شب میں ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تہائی رات تک قیام کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا خیال ہے کہ جس چیز کو تم تلاش کر رہے ہو، وہ آگے ہے (شب قدر) اسی طرح ٢٥ ویں شب کو نصف رات تک قیام کیا پھر یہی فرمایا میرا خیال ہے کہ جس چیز کو تم تلاش کر رہے ہو وہ آگے ہے (شب قدر) اسی طرح ٢٧ ویں شب کو صبح تک قیام کیا لیکن اس مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سکوت فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21566]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21567 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، وَعَارِمٌ ، وَيُونُسُ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، عَارِمٌ ، وَاصِلٌ ، يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، وَعَارِمٌ ، وَيُونُسُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَارِمٌ : حَدَّثَنَا وَاصِلٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَتْ عَلَيَّ أَعْمَالُ أُمَّتِي حَسَنُهَا وَسَيِّئُهَا، فَوَجَدْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا إِمَاطَةَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَوَجَدْتُ فِي مَسَاوِئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ"، قَالَ عَارِمٌ:" تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ"، وَقَالَ يُونُسُ" النُّخَاعَةُ تَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میرے سامنے میری امت کے اچھے برے اعمال پیش کئے گئے تو اچھے اعمال کی فہرست میں مجھے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی نظر آیا اور برے اعمال کی فہرست میں مسجد کے اندر تھوک پھینکنا نظر آیا جسے مٹی میں نہ ملایا جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21567]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، م: 553
الحكم: إسناده قوي، م: 553
حدیث نمبر: 21568 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَمْرُو بْنِ بُجْدَانَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرُو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدَهُ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ ان پر غسل واجب ہوگیا وہ اسی حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے پانی منگوایا انہوں نے پردے کے پیچھے غسل کیا پھر) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا پاک مٹی مسلمان کے لئے وضو ہے اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے جب پانی مل جائے تو اسے جسم پر بہا لے کہ یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21568]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد حسن