بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 287
صفحہ 12 از 15
حدیث نمبر: 21509 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، صَفْوَانُ ، أَبِي الْيَمَانِ ، وَأَبِي الْمُثَنَّى ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ ، وَأَبِي الْمُثَنَّى ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ: بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا، وأَوْثَقَنِي سَبْعًا، وَأَشْهَدَ عَلَيَّ تِسْعًا، أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ"، قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى: قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ إِلَى بَيْعَةٍ، وَلَكَ الْجَنَّةُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، وَبَسَطْتُ يَدِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ:" أَنْ لَا تَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" وَلَا سَوْطَكَ إِنْ يَسْقُطَ مِنْكَ، حَتَّى تَنْزِلَ إِلَيْهِ فَتَأْخُذَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانچ چیزوں کی مجھ سے بیعت لی سات چیزوں کا مجھ سے میثاق لیا ہے اور نو چیزوں پر اللہ کو گواہ بنایا ہے کہ میں اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا کیا تم میری بیعت کرتے ہو؟ جس کے بدلے میں تمہیں جنت مل جائے میں نے اثبات میں جواب دے کر ہاتھ پھیلا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ شرط لگاتے ہوئے فرمایا کہ تم کسی سے کچھ نہیں مانگو گے میں نے اثبات میں جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہارا کوڑا گرجائے تو وہ بھی کسی سے نہ مانگنا بلکہ خود سواری سے اتر کر اسے پکڑ لینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21509]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى اليمان وأبي المثني
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى اليمان وأبي المثني
حدیث نمبر: 21510 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ الْحَضْرَمِيِّ ، يَرُدُّهُ إِلَى أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ الْعَشْرُ الْأَوَاخِرُ اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ اثْنَيْنِ وَعِشْرِينَ، قَالَ: " إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ وَهِيَ لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَصَلَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمَاعَةً بَعْدَ الْعَتَمَةِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ لَمْ يُصَلِّ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ قَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ يَوْمَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ: إِنَّا قَائِمُونَ اللَّيْلَةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَقُمْ" فَصَلَّى بِالنَّاسِ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ سِتٍّ وَعِشْرِينَ لَمْ يَقُلْ شَيْئًا وَلَمْ يَقُمْ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ يَوْمِ سِتٍّ وَعِشْرِينَ قَامَ فَقَالَ:" إِنَّا قَائِمُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَعْنِي لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَمَنْ شَاءَ أَنْ يَقُومَ فَلْيَقُمْ"، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَتَجَلَّدْنَا لِلْقِيَامِ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ذَهَبَ ثُلُثَا اللَّيْلِ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى قُبَّتِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنْ كُنَّا لَقَدْ طَمِعْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ تَقُومَ بِنَا حَتَّى تُصْبِحَ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّكَ إِذَا صَلَّيْتَ مَعَ إِمَامِكَ وَانْصَرَفْتَ إِذَا انْصَرَفَ، كُتِبَ لَكَ قُنُوتُ لَيْلَتِكَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا جب ٢٤ ویں شب ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا حتی کہ تہائی رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی جب اگلی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر قیام نہیں فرمایا اور ٢٦ ویں شب کو ہمارے ساتھ اتنا لمباقیام فرمایا کہ نصف رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر رات کے باقی حصے میں بھی آپ ہمیں نوافل پڑھاتے رہتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہیں جب کوئی شخص امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور فراغت تک شامل رہتا ہے تو اسے ساری رات قیام میں ہی شمار کیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21510]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، شريح بن عبيد لم يدرك أبا ذر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، شريح بن عبيد لم يدرك أبا ذر
حدیث نمبر: 21511 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، لَيْثٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، أَبِي ذَرٍّ
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَجَدتُ هَذَا الحَدِيثُ فِي كِتَابُ أُبَي بخط يَده حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَرْوَانَ ، عَنْ الْهُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا، وَشَاتَانِ تَعْتَلِفَان، فَنَطَحَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى، فَأَجْهَضَتْهَا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " عَجِبْتُ لَهَا، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُقَادَنَّ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دو بکریوں کو آپس میں ایک دوسرے سے سینگوں کے ساتھ ٹکراتے ہوئے دیکھا کہ ان میں سے ایک نے دوسری کو عاجز کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرانے لگے کسی نے وجہ پوچھی تو فرمایا مجھے اس بکری پر تعجب ہو رہا ہے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن اس سے اس کا بدلہ لیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21511]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث
حدیث نمبر: 21512 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا كَثِيرٍ ، أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَا كَثِيرٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " كَلِمَاتٌ مَنْ ذَكَرَهُنَّ مِئَةَ مَرَّةٍ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ اللَّهُ أَكْبَرُ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، ثُمَّ لَوْ كَانَتْ خَطَايَاهُ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ لَمَحَتْهُنَّ" ، قَالَ أَبُو عَبْدُ الرَّحْمَنُ، قَالَ أَبِي لَمْ يَرْفَعْهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کچھ کلمات ایسے ہیں جنہیں اگر کوئی شخص ہر نماز کے بعد سو مرتبہ کہہ لے یعنی اللہ اکبر سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ اور لہ حول ولاقوۃ الاباللہ پھر اگر اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر بھی ہوں تو یہ کلمات انہیں مٹا دیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21512]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وجهالة أبى كثير، وحيي فيه كلام
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وجهالة أبى كثير، وحيي فيه كلام
حدیث نمبر: 21513 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنَ حُجَيْرَةَ الشَّيْخَ ، مَنْ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ حُجَيْرَةَ الشَّيْخَ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مَنْ ، سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: نَاجَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً إِلَى الصُّبْحِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِّرْنِي، فَقَالَ: " إِنَّهَا أَمَانَةٌ، وَخِزْيٌ وَنَدَامَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّى الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات سے صبح تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سرگوشیوں میں گفتگو کی پھر عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کسی علاقے کا گورنر بنا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ تو ایک امانت ہے جو قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا سبب ہوگی سوائے اس شخص کے جو اسے اس کے حق کے ساتھ لے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21513]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1825، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
الحكم: حديث صحيح، م: 1825، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة
حدیث نمبر: 21514 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ أَتَى أَبَا أُمَيَّةَ فِي مَنْزِلِهِ، فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَقَدْ أَحْبَبْتُكَ فَجِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی ساتھی سے محبت کرتا ہو تو اسے چاہئے کہ اس کے گھر جائے اور اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہے اور اے ابو ذر! میں اسی وجہ سے تمہارے گھر آیا ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21514]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، يزيد بن أبى حبيب إن كان ثقة، لكنه قد كان يرسل، ولم يبين هنا عمن رواه، وابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد تفرد فى هذا الحديث بقوله: فليأته إلى منزله
الحكم: إسناده ضعيف، يزيد بن أبى حبيب إن كان ثقة، لكنه قد كان يرسل، ولم يبين هنا عمن رواه، وابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد تفرد فى هذا الحديث بقوله: فليأته إلى منزله
حدیث نمبر: 21515 مسند احمد
عَبْد الله بْنُ الْوَلِيدِ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْد الله بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ، وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ، وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ، فَبِيعُوا وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جس کا خادم اس کے موافق آجائے تو تم جو خود کھاتے ہو وہی اسے کھلاؤ اور جو خود پہنتے ہو وہی اسے بھی پہناؤ اور جو تمہارے موافق نہ آئے اسے بیچ دو اور اللہ کی مخلوق کو عذاب میں مبتلا نہ کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21515]
حکم دارالسلام
حسن لغيره بهذه السياقة، وهذا الإسناد منقطع، مورق العجلي لم يسمع من أبى ذر
الحكم: حسن لغيره بهذه السياقة، وهذا الإسناد منقطع، مورق العجلي لم يسمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21516 مسند احمد
أَسْوَدُ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، مُجَاهِدٍ ، مُوَرِّقٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ هُوَ ابْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أَرَى مَا لَا تَرَوْنَ، وَأَسْمَعُ مَا لَا تَسْمَعُونَ، أَطَّتْ السَّمَاءُ وَحَقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ، مَا فِيهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلَّا عَلَيْهِ مَلَكٌ سَاجِدٌ، لَوْ عَلِمْتُمْ مَا أَعْلَمُ، لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاءِ عَلَى الْفُرُشَاتِ، وَلَخَرَجْتُمْ عَلَى أَوْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ"، قَالَ: فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي شَجَرَةٌ تُعْضَدُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھ سکتے وہ کچھ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے، آسمان چرچرانے لگے اور ان کا حق بھی ہے کہ وہ چرچرائیں کیونکہ آسمان میں چار انگل کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں ہے جس پر کوئی فرشتہ سجدہ ریز نہ ہو اگر تمہیں وہ باتیں معلوم ہوتیں جو میں جانتا ہوں تو تم بہت کم ہنستے اور بہت زیادہ روتے اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لطف اندوز نہ ہوسکتے اور پہاڑوں کی طرف نکل جاتے تاکہ اللہ کی پناہ میں آجاؤ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کاش! میں کوئی درخت ہوتا جسے کاٹ دیا جاتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21516]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، مورق لم يسمع من أبى ذر
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، مورق لم يسمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21517 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ الْمَدَنِيُّ ، عُمَرُ مَوْلَى غُفْرَةَ ، ابْنِ كَعْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ الْمَدَنِيُّ ، أَخْبَرَنَا عُمَرُ مَوْلَى غُفْرَةَ ، عَنِ ابْنِ كَعْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَوْصَانِي حِبِّي بِخَمْسٍ أَرْحَمُ الْمَسَاكِينَ وَأُجَالِسُهُمْ، وَأَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ تَحْتِي، وَلَا أَنْظُرُ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ، وَأَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَنْ أَقُولَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ"، يَقُولُ مَوْلَى غُفْرَةَ لَا أَعْلَمُ بَقِيَ فِينَا مِنَ الْخَمْسِ إِلَّا هَذِهِ قَوْلُنَا لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنَ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى، وقَالَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانچ چیزوں کا حکم دیا ہے انہوں نے مجھے حکم دیا ہے مساکین سے محبت کرنے اور ان سے قریب رہنے کا اپنے سے نیچے والے کو دیکھنے اور اوپر والے کو نہ دیکھنے کا، صلہ رحمی کرنے کا گو کہ کوئی اسے توڑ ہی دے کسی سے کچھ نہ مانگنے کا، حق بات کہنے کا خواہ وہ تلخ ہی ہو، اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کا اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کی کثرت کا کیونکہ یہ کلمات عرش کے نیچے ایک خزانے سے آئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21517]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عمر مولي غفرة ضعيف كثير الارسال
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، عمر مولي غفرة ضعيف كثير الارسال
حدیث نمبر: 21518 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: " أَوْصَانِي حِبِّي بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَبَدًا أَوْصَانِي بِصَلَاةِ الضُّحَى، وَبِالْوِتْرِ قَبْلَ النَّوْمِ، وَبِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ہے جنہیں ان شاء اللہ میں کبھی نہیں چھوڑوں گا انہوں نے مجھے چاشت کی نماز، سونے سے پہلے وتر اور ہر مہینے تین روزے رکھنے کی وصیت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21518]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن كان عطاء بن يسار سمع من أبى ذر
الحكم: إسناده صحيح إن كان عطاء بن يسار سمع من أبى ذر
حدیث نمبر: 21519 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ، فَالْقَ أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بھی نیکی کو حقیر نہ سمجھو اگر کچھ اور نہ کرسکو تو اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے ہی مل لیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21519]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 2626، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، م: 2626، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21520 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، حَرْمَلَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَبِي بَصْرَةَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ حَرْمَلَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّكُمْ سَتَفْتَحُونَ مِصْرَ، وَهِيَ أَرْضٌ يُسَمَّى فِيهَا الْقِيرَاطُ، فَإِذَا فَتَحْتُمُوهَا، فَأَحْسِنُوا إِلَى أَهْلِهَا، فَإِنَّ لَهُمْ ذِمَّةً وَرَحِمًا أَوْ قَالَ: ذِمَّةً وَصِهْرًا فَإِذَا رَأَيْتَ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ فِيهَا فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ، فَاخْرُجْ مِنْهَا" ، قَالَ: فَرَأَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ وَأَخَاهُ رَبِيعَةَ يَخْتَصِمَانِ فِي مَوْضِعِ لَبِنَةٍ، فَخَرَجْتُ مِنْهَا..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عنقریب تم سر زمین مصر کو فتح کرلو گے، اس علاقے میں " قیراط " کا لفظ بولا جاتا ہے، جب تم اسے فتح کرلو وہاں کے باشندوں سے حسن سلوک کرنا کیونکہ ان کے ساتھ عہد اور رشتہ داری کا تعلق ہے، چنانچہ وہاں جب تم دو آدمیوں کو ایک اینٹ کی جگہ پر لڑتے ہوئے دیکھو تو وہاں سے نکل جانا پھر میں نے عبدالرحمن بن شرجیل اور ان کے بھائی ربیعہ کو ایک اینٹ کی جگہ میں ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے دیکھا تو میں وہاں سے نکل آیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21520]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2543
الحكم: إسناده صحيح، م: 2543
حدیث نمبر: 21521 مسند احمد
هَارُونُ ، ابْنُ وَهْبٍ ، حَرْمَلَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، أَبَا ذَرٍّ
وحَدَّثَنَاه هَارُونُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21521]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2543
الحكم: إسناده صحيح، م: 2543
حدیث نمبر: 21522 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، أَبِي ، مَكْحُولٍ ، ابْنَ نُعَيْمٍ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مَكْحُولٍ ، أَنَّ ابْنَ نُعَيْمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدِهِ، أَوْ يَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعْ الْحِجَابُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحِجَابُ؟ قَالَ:" أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت قبول کرتا رہتا ہے جب تک حجاب واقع نہ ہوجائے میں نے پوچھا کہ حجاب واقع ہونے سے کیا مراد ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کی روح اس حال میں نکلے کہ وہ مشرک ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21522]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة ابن نعيم، وقوله: أن أباذر حدثهم خطأ، والصواب: أن بينهما أسامة بن سلمان، وهو مجهول أيضا
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة ابن نعيم، وقوله: أن أباذر حدثهم خطأ، والصواب: أن بينهما أسامة بن سلمان، وهو مجهول أيضا
حدیث نمبر: 21523 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، أَبِيهِ ، مَكْحُولٍ ، عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ ، أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ لَيَغْفِرُ لِعَبْدِهِ مَا لَمْ يَقَعْ الْحِجَابُ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا وُقُوعُ الْحِجَابِ؟ قَالَ:" أَنْ تَمُوتَ النَّفْسُ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا رہتا ہے جب تک حجاب واقع نہ ہوجائے، میں نے پوچھا کہ حجاب واقع ہونے سے کیا مراد ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کی روح اس حال میں نکلے کہ وہ مشرک ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21523]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمر بن نعيم وشيخه أسامة ابن سلمان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمر بن نعيم وشيخه أسامة ابن سلمان
حدیث نمبر: 21524 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَعِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، أَبِيهِ ، مَكْحُولٍ ، عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ ، أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ ، عِصَامٌ ، عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَنْسِيِّ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَعِصَامُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ سَلْمَانَ ، وَقَالَ: عِصَامٌ ، عُمَرَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَنْسِيِّ ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ حَدَّثَهُمْ، وَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا وُقُوعُ الْحِجَابِ؟ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَيَغْفِرُ لِعَبْدِهِ" ، فَذَكَرَا مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا رہتا ہے جب تک حجاب واقع نہ ہو جائے، میں نے پوچھا کہ حجاب واقع ہونے سے کیا مراد ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان کی روح اس حال میں نکلے کہ وہ مشرک ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21524]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمر بن نعيم وشيخه أسامة بن سلمان
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمر بن نعيم وشيخه أسامة بن سلمان
حدیث نمبر: 21525 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ ، أَبُو ذَرٍّ ، أَبُو النَّضْرِ ، سُلَيْمَانُ ، عَفَّانُ ، بَهْزٌ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ، وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ، أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ، وَأُمُّنَا، فانطلقنا حتى نزلنا على خال لنا ذي مال وذي هيئة، فأكرمنا خالنا وأحسن إلينا، فحسدنا قومه، فقالوا له: إنك إذا خرجت عَنْ أَهْلِكَ، خَلَفَكَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ، فَجَاءَ خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَهُ، فَقُلْتُ: أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ، فَقَدْ كَدَّرْتَهُ، وَلَا جِمَاعَ لَنَا فِيمَا بَعْدُ، قَالَ: فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا، فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا، وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ وَجَعَلَ يَبْكِي، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ، قَالَ: فَنَافَرَ أُنَيْسٌ رَجُلًا عَنْ صِرْمَتِنَا، وَعَنْ مِثْلِهَا، فَأَتَيَا الْكَاهِنَ، فَخَيَّرَ أُنَيْسًا، فَأَتَانَا بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا، وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِمَنْ؟ قَالَ لِلَّهِ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَيْنَ تَوَجَّهُ؟ قَالَ: حَيْثُ وَجَّهَنِي اللَّهُ، قَالَ: وَأُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ، قَالَ: أَبِي، قَالَ أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ سُلَيْمَانُ كَأَنِّي خِفَاءٌ، قَالَ: يَعْنِي خَبِاءً، تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ، قَالَ: فَقَالَ أُنَيْسٌ: إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ، فَاكْفِنِي حَتَّى آتِيَكَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَرَاثَ عَلَيَّ، ثُمَّ أَتَانِي، فَقُلْتُ: مَا حَبَسَكَ؟ قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ عَلَى دِينِكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا يَقُولُ النَّاسُ لَهُ؟ قَالَ: يَقُولُونَ: إِنَّهُ شَاعِرٌ وَسَاحِرٌ وَكَاهِنٌ، وَكَانَ أُنَيْسٌ شَاعِرًا، قَالَ: فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكُهَّانِ، فَمَا يَقُولُ بِقَوْلِهِمْ، وَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ، فَوَاللَّهِ مَا يَلْتَئمُ لِسَانُ أَحَدٍ أَنَّهُ شِعْرٌ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ، وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: هَلْ أَنْتَ كَافِيَّ حَتَّى أَنْطَلِقَ فَأَنْظُرَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَكُنْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ عَلَى حَذَرٍ، فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا لَهُ، وَقَالَ عَفَّانُ : شِئفُوا لَهُ، وَقَالَ بَهْزٌ : سَبَقُوا لَهُ، وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ: شَفَوْا لَهُ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ، فَتَضَعَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ، فَقُلْتُ: أَيْنَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ إِلَيَّ، قَالَ: الصَّابِئُ، قَالَ: فَمَالَ أَهْلُ الْوَادِي عَلَيَّ بِكُلِّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ، فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ، فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا، وَغَسَلْتُ عَنِّي الدَّمَ، فَدَخَلْتُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا، فَلَبِثْتُ بِهِ يَا ابْنَ أَخِي ثَلَاثِينَ، مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، مَالِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي، وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سَخْفَةَ جُوعٍ، قَالَ: فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ أَضْحِيَانٍ، وَقَالَ عَفَّانُ إِصْخِيَانٍ، وَقَالَ بَهْزٌ إِضْحِيَانٍ، وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ، فَضَرَبَ اللَّهُ عَلَى أَصْمِخَةِ أَهْلِ مَكَّةَ، فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ غَيْرُ امْرَأَتَيْنِ، فَأَتَتَا عَلَيَّ وَهُمَا تَدْعُوَانِ إِسَافَ وَنَائِلَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَنْكِحُوا أَحَدَهُمَا الْآخَرَ، فَمَا ثَنَاهُمَا ذَلِكَ، قَالَ: فَأَتَتَا عَلَيَّ، فَقُلْتُ: وَهَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ، غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُكَنِّ، قَالَ: فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ، وَتَقُولَانِ: لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا! قَالَ: فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ مِنَ الْجَبَلِ، فَقَالَ:" مَا لَكُمَا"، فَقَالَتَا: الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا، قَالَا:" مَا قَالَ لَكُمَا؟" قَالَتَا: قَالَ: لَنَا كَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ، قَالَ: فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَصَاحِبُهُ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ، ثُمَّ صَلَّى، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ:" عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، مِمَّنْ أَنْتَ؟" قَالَ: قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ، قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ، فَوَضَعَهَا عَلَى جَبْهَتِهِ، قَالَ: فَقُلْتُ: فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَ بِيَدِهِ، فَقَذَفَنِي صَاحِبُهُ، وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي، قَالَ:" وَمَتَى كُنْتَ هَا هُنَا"، قَالَ: كُنْتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ، قَالَ:" فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ؟" قُلْتُ: مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ، قَالَ: فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَ عُكَنُ بَطْنِي، وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ، وَإِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ"، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ، وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، حَتَّى فَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا، فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ، قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا، فَلَبِثْتُ مَا لَبِثْتُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي قَدْ وُجِّهَتْ إِلَيَّ أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ، وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا يَثْرِبَ، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ؟"، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُنَيْسًا، قَالَ: فَقَالَ لِي: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي صَنَعْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، قَالَ: قَالَ: فَمَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، ثُمَّ أَتَيْنَا أُمَّنَا، فَقَالَتْ: فَمَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَتَحَمَّلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا، فَأَسْلَمَ بَعْضُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَالَ، يَعْنِي يَزِيدَ بِبَغْدَادَ، وَقَالَ: بَعْضُهُمْ إِذَا قَدِمَ، وَقَالَ بَهْزٌ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ، وَكَذَا قَالَ أَبُو النَّضْرِ: وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ خُفَافُ بْنُ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ، وَكَانَ سَيِّدَهُمْ يَوْمَئِذٍ، وَقَالَ: بَقِيَّتُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَسْلَمْنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَأَسْلَمَ بَقِيَّتُهُمْ، قَالَ: وَجَاءَتْ أَسْلَمُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ، فَأَسْلَمُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ"، وَقَالَ بَهْزٌ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ، فَقَالَ أَبُو النَّضْرِ إِيمَاءٌ ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے اور وہ حرمت والے مہینے کو بھی حلال جانتے تھے۔ پس میں اور میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ نکلے ہم ماموں کے ہاں اترے جو بڑے مالدار اور اچھی حالت میں تھے ہمارے ماموں نے ہمارا اعزازو اکرام کیا اور خوب خاطر مدارت کی جس کی وجہ سے ان کی قوم نے ہم پر حسد کیا اور انہوں نے کہا (ماموں سے) کہ جب تو اپنے اہل سے نکل کرجاتا ہے تو انیس ان سے بدکاری کرتا ہے ہمارے ماموں آئے اور ان سے جو کچھ کہا گیا تھا وہ الزام ہم پر لگایا، میں نے کہا کہ آپ نے ہمارے ساتھ جو احسان و نیکی کی تھی اسے اس الزام کی وجہ سے خراب کردیا ہے پس اب اس کے بعد ہمارا آپ سے تعلق اور نبھاؤ نہیں ہوسکتا چنانچہ ہم اپنے اونٹوں کے قریب آئے اور ان پر اپنا سامان سوار کیا اور ہمارے ماموں نے کپڑا ڈال کر رونا شروع کردیا اور ہم چل پڑے یہاں تک کہ مکہ کے قریب پہنچے پھر پس انیس ہمارے اونٹوں میں مزید اتنے ہی اور اونٹوں کو لے کر آیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات سے تین سال پہلے سے ہی اے بھتیجے نماز پڑھا کرتا تھا حضرت عبداللہ بن صامت کہتے ہیں میں نے کہا کس کی رضا کے لئے؟ انہوں نے کہا اللہ کی رضا کے لئے، میں نے کہا آپ اپنا رخ کس طرف کرتے تھے؟ انہوں نے کہ جہاں میرا رب میرا رخ کردیتا اسی طرف میں عشاء کی نماز ادا کرلیتا تھا یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں اپنے آپ کو اس طرح ڈال لیتا گویا کہ میں چادر ہی ہوں یہاں تک کہ سورج بلند ہوجاتا۔ انیس نے کہا مجھے مکہ میں ایک کام ہے تو میرے معاملات کی دیکھ بھال کرنا چنانچہ انیس چلا یہاں تک کہ مکہ آیا اور کچھ عرصہ کے بعد واپس آیا تو میں نے کہا تو نے کیا کیا اس نے کہا میں مکہ میں ایک آدمی سے ملا جو تیرے دین پر ہے اور دعوی کرتا ہے کہ اللہ نے اسے (رسول بنا کر) بھیجا ہے میں نے کہا لوگ کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا کہ لوگ اسے شاعر کاہن اور جادوگر کہتے ہیں اور انیس خود شاعروں میں سے تھا انیس نے کہا، میں کاہنوں کی باتیں سن چکا ہوں لیکن اس کا کلام کاہنوں جیسا نہیں ہے اور تحقیق میں نے اس کے اقوال کا شعراء کے اشعار سے بھی موازنہ کیا لیکن کسی شخص کی زبان پر ایسے شعر بھی نہیں ہیں، اللہ کی قسم! وہ سچا ہے اور دوسرے لوگ جھوٹے ہیں میں نے کہا تم میرے معاملات کی نگرانی کرو یہاں تک کہ میں جا کر دیکھ آؤں چنانچہ میں مکہ آیا اور ان میں سے ایک کمزور آدمی سے مل کر پوچھا وہ کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو؟ پس اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، یہ دین بدلنے والا ہے، وادی والوں میں سے ہر ایک یہ سنتے ہی مجھ پر ڈھیلوں اور ہڈیوں کے ساتھ ٹوٹ پڑا یہاں تک کہ میں بےہوش ہو کر گرپڑا، پس جب میں بیہوشی سے ہوش میں آکر اٹھا تو میں گویا سرخ بت (خون میں لت پت) تھا۔ میں زمزم کے پاس آیا اور اپنا خون دھویا پھر اس کا پانی پیا اور میں اے بھتیجے! تیس رات اور دن وہاں ٹھہرا رہا اور میرے پاس زمزم کے پانی کے سوا کوئی خوارک نہ تھی، پس میں موٹا ہوگیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں بھی ختم ہوگئیں اور نہ ہی میں نے اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی محسوس کی۔ اسی دوران ایک چاندنی رات میں جب اہل مکہ سوگئے اور اس وقت کوئی بھی بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا تھا صرف دو عورتیں اساف اور نائلہ (بتوں) کو پکار رہی تھیں جب وہ اپنے طواف کے دوران میرے قریب آئیں تو میں نے کہا اس میں سے ایک (بت) کا دوسرے کے ساتھ نکاح کردو (اساف مرد اور نائلہ عورت تھی اور باعتقاد مشرکین مکہ یہ دونوں زنا کرتے وقت مسخ ہو کر بت ہوگئے تھے) لیکن وہ اپنی بات سے باز نہ آئیں پس جب وہ میرے قریب آئیں تو میں نے بغیر کنایہ اور اشارہ کے یہ کہہ دیا کہ فلاں کے (فرج میں) لکڑی، پس وہ چلاتی ہوئی تیزی سے بھاگ گئیں کہ کاش اس وقت ہمارے لوگوں میں سے کوئی موجود ہوتا، راستہ میں انہیں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ پہاڑی سے اترتے ہوئے ملے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے کہا کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان ایک دین کو بدلنے والا ہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس نے کیا کہا ہے؟ انہوں نے کہا اس نے ہمیں ایسی بات کہی ہے جو منہ کو بھر دیتی ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھی کے ہمراہ آئے، حجر اسود کا استلام کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اور آپ کے ساتھی نے طواف کیا پھر نماز ادا کی، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں وہ پہلا آدمی تھا جس نے اسلام کے طریقہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تجھ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمتیں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا میں قبیلہ غف [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2473
الحكم: إسناده صحيح، م: 2473
حدیث نمبر: 21526 مسند احمد
هُدْبَةُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2473
الحكم: إسناده صحيح، م: 2473
حدیث نمبر: 21527 مسند احمد
يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَتَادَةُ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، لِأَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ هَارُونَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ: لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ أَدْرَكْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ، قَالَ: وَعَمَّا كُنْتَ تَسْأَلُهُ؟ قَالَ: سَأَلْتُهُ هَلْ رَأَى رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَدْ سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " نُورٌ أَنَّى أَرَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ کاش! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہوتا تو ان سے ایک سوال ہی پوچھ لیتا، انہوں نے فرمایا تم ان سے کیا سوال پوچھتے؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سوال تو میں ان سے پوچھ چکا ہوں جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے، میں اسے کہاں دیکھ سکتا ہوں؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21527]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 178
الحكم: إسناده صحيح، م: 178
حدیث نمبر: 21528 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي ذَرٍّ وَقَدْ خَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ، فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ، وَقَالَ: مَرَّةً نَقْضِي، قَالَ: فَفَضَلَ مَعَهُ فَضْلٌ، قَالَ: أَحْسِبُهُ، قَالَ: سَبْعٌ، قَالَ: فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهَا فُلُوسًا، قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، لَوْ ادَّخَرْتَهُ لِلْحَاجَةِ تَنُوبُكَ، وَلِلضَّيْفِ يَأْتِيكَ! فَقَالَ: إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنْ " أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوكِيَ عَلَيْهِ، فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُفْرِغَهُ إِفْرَاغًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن صامت کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ان کا وظیفہ آگیا ان کے ساتھ ایک باندی تھی جو ان پیسوں سے ان کی ضروریات کا انتظام کرنے لگی اس کے پاس سات سکے بچ گئے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے اسے حکم دیا کہ ان کے پیسے خرید لے (ریزگاری حاصل کرلے) میں نے ان سے عرض کیا کہ اگر آپ ان پیسوں کو بچا کر رکھ لیتے تو کسی ضرورت میں کام آجاتے یا کسی مہمان کے آنے پر کام آجاتے انہوں نے فرمایا کہ میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وصیت کی ہے کہ جو سونا چاندی مہر بند کر کے رکھا جائے وہ اس کے مالک کے حق میں آگ کی چنگاری ہے تاوقتیکہ اسے اللہ کے راستہ میں خرچ نہ کر دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21528]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح