بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 287
صفحہ 11 از 15
حدیث نمبر: 21489 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَجْلَحُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بالوں کی اس سفیدی کو بدلنے والی سب سے بہترین چیز مہندی اور وسمہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21489]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل الأجلح بن عبدالله
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات لأجل الأجلح بن عبدالله
حدیث نمبر: 21490 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، فَإِنْ أَنْتَ أَدْرَكْتَهُمْ فَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا وَرُبَّمَا قَالَ: فِي رَحْلِكَ ثُمَّ ائْتِهِمْ، فَإِنْ وَجَدْتَهُمْ قَدْ صَلَّوْا كُنْتَ قَدْ صَلَّيْتَ، وَإِنْ وَجَدْتَهُمْ لَمْ يُصَلُّوا، صَلَّيْتَ مَعَهُمْ، فَتَكُونُ لَكَ نَافِلَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! عنقریب کچھ حکمران آئیں گے جو نماز کو وقت مقررہ پر ادا نہ کریں گے تم نماز کو اس کے وقت مقررہ پر ادا کرنا اگر تم اس وقت آؤ جب لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز محفوظ کرچکے ہوگے اور اگر انہوں نے نماز نہ پڑھی ہو تو تم ان کے ساتھ شریک ہوجانا اور یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21490]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 648، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 648، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21491 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلًا، قَالَ: " هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" فَقُلْتُ: مَا لِي؟ لَعَلِّي أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ، مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ:" الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ: هَكَذَا" فَحَثَى بَيْنَ يَدَيْهِ، وَعَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يَمُوتُ أَحَدٌ مِنْكُمْ، فَيَدَعُ إِبِلًا وَبَقَرًا وَغَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا، إِلَّا جَاءَتْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ، تَطَؤُهُ بِأَخْفَافِهَا، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا، أُعِيدَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ خانہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا رب کعبہ کی قسم! وہ لوگ خسارے میں ہیں مجھے ایک شدید غم نے آگھیرا اور میں اپنا سانس درست کرتے ہوئے سوچنے لگا شاید میرے متعلق کوئی نئی بات ہوگئی ہے چنانچہ میں نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زیادہ مالدار، سوائے اس آدمی کے جو اللہ کے بندوں میں اس اس طرح تقسیم کرے لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں جو آدمی بھی مرتے وقت بکریاں اونٹ یا گائے چھوڑ کرجاتا ہے جس کی اس نے زکوٰۃ ادا نہ کی ہو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند ہو کر آئیں گے اور اسے اپنے کھروں سے روندیں گے اور اپنے سینگوں سے ماریں گے یہاں تک کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کردیا جائے پھر ایک کے بعد دوسرا جانور آتا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 990
الحكم: إسناده صحيح، م: 990
حدیث نمبر: 21492 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْرِفُ آخِرَ أَهْلِ النَّارِ خُرُوجًا مِنَ النَّارِ، وَآخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ، يُؤْتَى بِرَجُلٍ فَيَقُولُ نَحُّوا كِبَارَ ذُنُوبِهِ وَسَلُوهُ عَنْ صِغَارِهَا، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: عَمِلْتَ كَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، وَعَمِلْتَ كَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَقَدْ عَمِلْتُ أَشْيَاءَ لَمْ أَرَهَا هُنَا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، قَالَ: فَيُقَالُ لَهُ: فَإِنَّ لَكَ مَكَانَ كُلِّ سَيِّئَةٍ حَسَنَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور کہا جائے گا کہ اس کے سامنے اس کے چھوٹے چھوٹے گناہوں کو پیش کرو چنانچہ اس کے سامنے صغیرہ گناہ لائے جائیں گے اور کبیرہ گناہ چھپا لئے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا کہ تم نے فلاں فلاں دن ایسا ایسا کیا تھا؟ وہ ہر گناہ کا اقرار کرے گا کسی کا بھی انکار نہیں کرے گا اور کبیرہ گناہوں کے خوف سے ڈر رہا ہوگا اس وقت حکم ہوگا کہ ہر گناہ کے بدلے اس ایک نیکی دے دو وہ کہے گا کہ میرے بہت سے گناہ ایسے ہیں جنہیں ابھی تک میں نے دیکھا ہی نہیں ہے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس بات پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اتنا ہنستے ہوئے دیکھا کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21492]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 190
الحكم: إسناده صحيح، م: 190
حدیث نمبر: 21493 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ تَرَاهُ فِي الْمَسْجِدِ" قَالَ: فَنَظَرْتُ، فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: هَذَا، قَالَ: فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ،" ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ تَرَاهُ فِي الْمَسْجِدِ"، قَالَ: فَنَظَرْتُ، فَإِذَا رَجُلٌ ضَعِيفٌ عَلَيْهِ أَخْلَاقٌ، قَالَ: فَقُلْتُ: هَذَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَهَذَا أَفْضَلُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ قُرَابِ الْأَرْضِ مِثْلِ هَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوذر! مسجد میں نظر دوڑا کر دیکھو کہ سب سے بلند مرتبہ آدمی کون معلوم ہوتا ہے؟ میں نے نظر دوڑائی تو ایک آدمی کے جسم پر حلہ دکھائی دیا میں نے اس کی طرف اشارہ کردیا پھر فرمایا کہ اب یہ دیکھو سب سے پست مرتبہ آدمی کون معلوم ہوتا ہے؟ میں نے نظر دوڑائی تو ایک آدمی کے جسم پر پرانے کپڑے دکھائی دیئے میں نے اس کی طرف اشارہ کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ آدمی قیامت کے دن اللہ کے نزدیک اس پہلے والے آدمی سے اگر زمین بھی بھر جائے تب بھی بہتر ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21493]
حکم دارالسلام
اسناده صحيح
الحكم: اسناده صحيح
حدیث نمبر: 21494 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبُو صَالِحٍ ، رَجُلٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَشَدَّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَكُونُونَ أَوْ يَجِيئُونَ بَعْدِي، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَإِنَّهُ رَآنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے لوگ وہ ہوں کے جو میرے بعد آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ اپنے اہل خانہ اور سارے مال و دولت کو دے کر کسی طرح وہ مجھے دیکھ لیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21494]
حکم دارالسلام
إسناده حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الأسدي
الحكم: إسناده حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الأسدي
حدیث نمبر: 21495 مسند احمد
يَحْيَى ، قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَتْنِي جَسْرَةُ بِنْتُ دَجَاجَةَ ، أَنَّهَا انْطَلَقَتْ مُعْتَمِرَةً، فَانْتَهَتْ إِلَى الرَّبَذَةِ، فَسَمِعَتْ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: " قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَصَلَّى بِالْقَوْمِ، ثُمَّ تَخَلَّفَ أَصْحَابٌ لَهُ يُصَلُّونَ، فَلَمَّا رَأَى قِيَامَهُمْ وَتَخَلُّفَهُمْ انْصَرَفَ إِلَى رَحْلِهِ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ قَدْ أَخْلَوْا الْمَكَانَ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَصَلَّى، فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَمِينِهِ، فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ، ثُمَّ جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَامَ خَلْفِي وَخَلْفَهُ، فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِشِمَالِهِ، فَقَامَ عَنْ شِمَالِهِ، فَقُمْنَا ثَلَاثَتُنَا يُصَلِّي كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا بِنَفْسِهِ، وَيَتْلُو مِنَ الْقُرْآنِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتْلُوَ، فَقَامَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَلَّى الْغَدَاةَ، فَبَعْدَ أَنْ أَصْبَحْنَا أَوْمَأْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ سَلْهُ مَا أَرَادَ إِلَى مَا صَنَعَ الْبَارِحَةَ؟ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: بِيَدِهِ لَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى يُحَدِّثَ إِلَيَّ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، قُمْتَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَعَكَ الْقُرْآنُ؟! لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ! قَالَ: دَعَوْتُ لِأُمَّتِي، قَالَ: فَمَاذَا أُجِبْتَ، أَوْ مَاذَا رُدَّ عَلَيْكَ؟ قَالَ: أُجِبْتُ بِالَّذِي لَوْ اطَّلَعَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهُمْ طَلْعَةً تَرَكُوا الصَّلَاةَ، قَالَ: أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: بَلَى، فَانْطَلَقْتُ مُعْنِقًا قَرِيبًا مِنْ قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ، فَقَالَ: عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ إِنْ تَبْعَثْ إِلَى النَّاسِ بِهَذَا نَكَلُوا عَنِ الْعِبَادَةِ، فَنَادَى أَنْ ارْجَعْ فَرَجَعَ، وَتِلْكَ الْآيَةُ إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 118" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
جسرہ بنت دجاجہ کہتی ہیں کہ وہ ایک مرتبہ عمرہ کے لئے جا رہی تھیں مقام ربذہ میں پہنچیں تو حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عشاء کی نماز کے وقت لوگوں کو نماز پڑھائی نماز کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیچھے ہٹ کر نوافل پڑھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دیکھ کر اپنے خیمے میں واپس چلے گئے جب دیکھا کہ لوگ جا چکے ہیں تو اپنی جگہ پر واپس آکر نوافل پڑھنے شروع کردیئے میں پیچھے سے آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے کھڑا ہوگیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ سے مجھے اشارہ کیا اور میں ان کی دائیں جانب جا کر کھڑا ہوگیا تھوڑی دیر بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی آگئے وہ ہمارے پیچھے کھڑے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بائیں ہاتھ سے ان کی طرف اشارہ کیا اور وہ بائیں جانب جا کر کھڑے ہوگئے۔ اس طرح ہم تین آدمیوں نے قیام کیا اور ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی نماز پڑھ رہا تھا اور اس میں جتنا اللہ کو منظور ہوتا قرآن کریم کی تلاوت کرتا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے قیام میں ایک ہی آیت کو باربار دہراتے رہے یہاں تک کہ نماز فجر کا وقت ہوگیا صبح ہوئی تو میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کے عمل کے متعلق سوال کریں لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے جواب دیا کہ میں تو اس وقت تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کچھ نہیں پوچھوں گا جب تک وہ از خود بیان نہ فرمائیں۔ چنانچہ ہمت کر کے میں نے خود ہی عرض کیا کہ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ ساری رات قرآن کریم کی ایک ہی آیت پڑھتے رہے حالانکہ آپ کے پاس تو سارا قرآن ہے؟ اگر ہم میں سے کوئی شخص ایسا کرتا تو ہمیں اس پر غصہ آتا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے تو وہ نماز پڑھنا بھی چھوڑ دیں میں نے عرض کیا کہ کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں چنانچہ میں گردن موڑ کر جانے لگا ابھی اتنی دور ہی گیا تھا کہ جہاں تک پتھر پہنچ سکے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اگر آپ نے انہیں یہ پیغام دے کر لوگوں کے پاس بھیج دیا تو وہ عبادت سے بےپرواہ ہوجائیں گے اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں آواز دے کر واپس بلالیا اور وہ واپس آگئے اور وہ آیت یہ تھی (إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ) اے اللہ! اگر تو انہیں عذاب میں مبتلا کر دے تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف کر دے تو تو بڑا غالب حکمت والا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21495]
حکم دارالسلام
اسناده حسن
الحكم: اسناده حسن
حدیث نمبر: 21496 مسند احمد
مَرْوَانُ ، قُدَامَةُ الْبَكْرِيُّ
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، حَدَّثَنَا قُدَامَةُ الْبَكْرِيُّ ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: يَنْكُلُوا عَنِ الْعِبَادَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21496]
حکم دارالسلام
اسناده حسن
الحكم: اسناده حسن
حدیث نمبر: 21497 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ فَرَسٍ عَرَبِيٍّ إِلَّا يُؤْذَنُ لَهُ مَعَ كُلِّ فَجْرٍ يَدْعُو بِدَعْوَتَيْنِ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنَّكَ خَوَّلْتَنِي مَنْ خَوَّلْتَنِي مِنْ بَنِي آدَمَ، فَاجْعَلْنِي مِنْ أَحَبِّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ" أَوْ" أَحَبَّ أَهْلِهِ وَمَالِهِ إِلَيْهِ" ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ، قَالَ: أَبِي: خَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، فَقَالَ: عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شمَاسَةَ، وقَالَ لَيْثٌ، عَنِ ابْنُ شمَاسَةَ أَيْضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاویہ بن حدیج ایک مرتبہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جو اپنے گھوڑے کے پاس کھڑے ہوئے تھے انہوں نے پوچھا کہ آپ اپنے گھوڑے کی اتنی دیکھ بھال کیوں کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس گھوڑے کی دعاء قبول ہوگئی ہے انہوں نے ان سے پوچھا کہ جانور کی دعاء کا کیا مطلب؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے کوئی گھوڑا ایسا نہیں ہے جو روزانہ سحری کے وقت یہ دعاء نہ کرتا ہو اے اللہ آپ نے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کو میرا مالک بنایا ہے اور میرا رزق اس کے ہاتھ میں رکھا ہے لہٰذا مجھے اس کی نظروں میں اس کے اہل خانہ اور مال و اولاد سے بھی زیادہ محبوب بنا دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21497]
حکم دارالسلام
صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا
الحكم: صحيح موقوفا، ضعيف مرفوعا
حدیث نمبر: 21498 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَتَادَةُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، لِأَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ: لِأَبِي ذَرٍّ لَوْ كُنْتُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَسَأَلْتُهُ، قَالَ: عَنْ أَيِّ شَيْءٍ؟ قُلْتُ: أَسْأَلُهُ هَلْ رَأَى مُحَمَّدٌ رَبَّهُ؟ قَالَ: فَقَالَ: قَدْ سَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " نُورًا أَنَّى أَرَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا کہ کاش! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا ہوتا تو ان سے ایک سوال ہی پوچھ لیتا، انہوں نے فرمایا تم ان سے کیا سوال پوچھتے؟ انہوں نے کہا کہ میں یہ سوال پوچھتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی زیارت کی ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سوال تو میں ان سے پوچھ چکا ہوں جس کے جواب میں انہوں نے فرمایا تھا کہ میں نے ایک نور دیکھا ہے، میں اسے کہاں دیکھ سکتا ہوں؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21498]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 178
الحكم: إسناده صحيح، م: 178
حدیث نمبر: 21499 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، مَالِكُ بْنُ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزِّمَّانِيُّ ، مَرْثَدٌ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزِّمَّانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي مَرْثَدٌ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ: كُنْتَ سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ قَالَ: أَنَا كُنْتُ أَسْأَلَ النَّاسِ عَنْهَا! قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ هِيَ، أَوْ فِي غَيْرِهِ؟ قَالَ: " بَلْ هِيَ فِي رَمَضَانَ"، قَالَ: قُلْتُ: تَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا فَإِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ، أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: قُلْتُ: فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ؟ قَالَ:" الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ أَوْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ"، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ، ثُمَّ اهْتَبَلْتُ وَغَفَلْتُهُ قُلْتُ فِي أَيِّ الْعِشْرِينَ هِيَ؟ قَالَ:" ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا"، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ، ثُمَّ اهْتَبَلْتُ وَغَفَلْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي عَلَيْكَ لَمَا أَخْبَرْتَنِي فِي أَيِّ الْعَشْرِ هِيَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ مُنْذُ صَحِبْتُهُ أَوْ صَاحَبْتُهُ، كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ:" الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومرثد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے شب قدر کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تھا؟ انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے زیادہ میں نے ہی تو پوچھا تھا، میں نے پوچھا تھا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ شب قدر رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ماہ رمضان میں ہوتی ہے میں نے پوچھا کہ گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ وہ اس وقت تک رہتی تھی جب تک وہ نبی رہتے تھے جب ان کا وصال ہوجاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا تھا یا یہ قیامت تک رہے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں! قیامت تک رہے گی میں نے پوچھا رمضان کے کس حصے میں شب قدر ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے عشرہ اولی یا عشرہ اخیرہ میں تلاش کیا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیث بیان کرنے لگے اسی دوران مجھ پر اونگھ کا غلبہ ہوا جب میں ہوشیار ہوا تو پوچھا کہ وہ کون سے بیس دنوں میں ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اب مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوبارہ حدیث بیان کرنے لگے اور مجھ پر پھر غفلت طاری ہوگئی جب میں ہوشیار ہوا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آپ کو اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا آپ پر ہے مجھے یہ بتا دیجئے کہ وہ کون سے عشرے میں ہوتی ہے؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسا غصہ آیا کہ جب سے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت میسر آئی ایسا غصہ کبھی نہیں آیا تھا اور فرمایا آخری سات راتوں میں اسے تلاش کرو اور اب مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21499]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة مرثد بن عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة مرثد بن عبدالله
حدیث نمبر: 21500 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٌ ، أَبِي ، أَبَا مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيَّ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّ أَبَا مُرَاوِحٍ الْغِفَارِيَّ أخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا ذَرٍّ أخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" إِيمَانٌ بِاللَّهِ، وَجِهَادٌ فِي سَبِيلِهِ" قَالَ: فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" أَغْلَاهَا ثَمَنًا، وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا"، قَالَ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ:" تُعِينُ صَانِعًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ"، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ؟ قَالَ:" تُمْسِكُ عَنِ الشَّرِّ، فَإِنَّهُ صَدَقَةٌ تَصَّدَّقُ بِهَا عَلَى نَفْسِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کون سا غلام آزاد کرنا سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو اس کے مالک کے نزدیک سب سے نفیس اور گراں قیمت ہو عرض کیا کہ اگر مجھے ایسا غلام نہ ملے تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کسی ضرورت مند کی مدد کردو یا کسی محتاج کے لئے محنت مزدوری کرلو عرض کیا کہ اگر میں یہ بھی نہ کرسکوں تو؟ فرمایا لوگوں کو اپنی تکلیف سے محفوظ رکھو کیونکہ یہ بھی ایک صدقہ ہے جو تم اپنی طرف سے دیتے ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21500]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21501 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ أَبُو ذَرٍّ عَلَى عُثْمَانَ مِنَ الشَّامِ، فَقَالَ: أَمَرَنِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ " اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ عَبْدًا مُجَدَّعَ الْأَطْرَافِ، وَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَتِكَ فَأَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوفٍ، وَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ وَجَدْتَ الْإِمَامَ قَدْ صَلَّى فَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، وَإِلَّا فَهِيَ نَافِلَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے (١) بات سنو اور اطاعت کرو اگرچہ کٹے ہوئے اعضاء والے غلام حکمران کی ہو (٢) جب سالن بناؤ تو اس کا پانی بڑھا لیا کرو پھر اپنے ہمسائے میں رہنے والوں کو دیکھو اور بھلے طریقے سے ان تک بھی اسے پہنچاؤ (٣) اور نماز کو وقت مقررہ پر ادا کیا کرو اور جب تم امام کو نماز پڑھ کر فارغ دیکھو تو تم اپنی نماز پڑھ ہی چکے ہوگے ورنہ وہ نفلی نماز ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21501]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 648
الحكم: إسناده صحيح، م: 648
حدیث نمبر: 21502 مسند احمد
مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، ابْنِ عَمٍّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ ابْنِ عَمٍّ لِأَبِي ذَرٍّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ لَمْ يَقْبَلْ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَإِنْ تَابَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَادَ كَانَ مِثْلَ ذَلِكَ" فَمَا أَدْرِي أَفِي الثَّالِثَةِ أَمْ فِي الرَّابِعَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنْ عَادَ كَانَ حَتْمًا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ؟ قَالَ:" عُصَارَةُ أَهْلِ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص شراب نوشی کرتا ہے اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہیں ہوتی پھر اگر وہ توبہ کرلیتا ہے تو اللہ اس کی توبہ کو قبول کرلیتا ہے، دوبارہ پیتا ہے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے (تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا) کہ پھر اللہ تعالیٰ کے ذمے واجب ہے کہ اسے " طینۃ الخبال " کا پانی پلائے صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ! طینۃ الخبال کیا چیز ہے؟ فرمایا اہل جہنم کی پیپ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21502]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبيد الله بن أبى زياد وشهر فيهما ضعف، وابن عم أبى ذر مبهم
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبيد الله بن أبى زياد وشهر فيهما ضعف، وابن عم أبى ذر مبهم
حدیث نمبر: 21503 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، رِشْدِينُ ، سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ التُّجِيبِيِّ ، سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي عُثْمَانَ ، حَاتِمِ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ أَوْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي رِشْدِينُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ التُّجِيبِيِّ حَدَّثَهُ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ أَبِي عُثْمَانَ حَدَّثَهُ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ أَوْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبِيتَ عِنْدَكَ اللَّيْلَةَ، فَأُصَلِّيَ بِصَلَاتِكَ، قَالَ: " لَا تَسْتَطِيعُ صَلَاتِي" فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ، فَسُتِرَ بِثَوْبٍ وَأَنَا مُحَوَّلٌ عَنْهُ فَاغْتَسَلَ، ثُمَّ فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي وَقُمْتُ مَعَهُ حَتَّى جَعَلْتُ أَضْرِبُ بِرَأْسِي الْجُدْرَانَ مِنْ طُولِ صَلَاتِهِ، ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ لِلصَّلَاةِ، فَقَالَ:" أَفَعَلْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" يَا بِلَالُ، إِنَّكَ لَتُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ، وَلَيْسَ ذَلِكَ الصُّبْحَ، إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا ثُمَّ دَعَا بِسَحُورٍ فَتَسَحَّرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ آج رات میں آپ کے ساتھ گذارنا اور آپ کی نماز میں شریک ہونا چاہتا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں ایسا کرنے کی طاقت نہیں ہے بہرحال! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل کے لئے چلے گئے ایک کپڑے سے پردہ کردیا گیا اور میں رخ پھیر کر بیٹھ گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غسل کر کے آئے تو میں نے بھی اسی طرح کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوئے اور میں بھی ساتھ کھڑا ہوگیا حتی کہ طول نماز کی وجہ سے میں اپنا سر دیواروں سے ٹکرانے لگا پھر حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کے لئے آگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے ایسا کرلیا؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بلال! تم اس وقت اذان دیتے ہو جب آسمان پر طلوع فجر ہوجاتی ہے حالانکہ اصل صبح صادق وہ نہیں ہوتی صبح صادق تو چوڑائی کی حالت میں نمودار ہوتی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سحری منگوا کر اسے تناول فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21503]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لعدة علل
الحكم: إسناده ضعيف لعدة علل
حدیث نمبر: 21504 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ لَكَ فِي كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ؟" قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل رہا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں جنت کے ایک خزانے کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں فرمایا لاحول ولاقوۃ الا باللہ (جنت کا ایک خزانہ ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21504]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21505 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، مَعْدِي كَرِبَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي، عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ، أَنَّهُ قَالَ:" يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ مَا دَعَوْتَنِي وَرَجَوْتَنِي فَإِنِّي سَأَغْفِرُ لَكَ عَلَى مَا كَانَ فِيكَ، وَلَوْ لَقِيتَنِي بِقُرَابِ الْأَرْضِ خَطَايَا لَلَقِيتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً، وَلَوْ عَمِلْتَ مِنَ الْخَطَايَا حَتَّى تَبْلُغَ عَنَانَ السَّمَاءِ مَا لَمْ تُشْرِكْ بِي شَيْئًا ثُمَّ اسْتَغْفَرْتَنِي، لَغَفَرْتُ لَكَ، ثُمَّ لَا أُبَالِي" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندے! تو میری جتنی عبادت اور مجھ سے جتنی امید وابستہ کرے گا میں تیرے سارے گناہوں کو معاف کردوں گا میرے بندے! اگر تو زمین بھر کر گناہوں کے ساتھ مجھ سے ملے لیکن میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اتنی ہی بخشش کے ساتھ تجھ سے ملوں گا مجھے کوئی پرواہ نہ ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21505]
حکم دارالسلام
حديث حسن، م: 2687، وهذا إسناد ضعيف، شهر بن حوشب ضعيف، وقد اختلف عليه فى الحديث، ومعدي كرب مجهول
الحكم: حديث حسن، م: 2687، وهذا إسناد ضعيف، شهر بن حوشب ضعيف، وقد اختلف عليه فى الحديث، ومعدي كرب مجهول
حدیث نمبر: 21506 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، مَعْدِي كَرِبَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21506]
حکم دارالسلام
حديث حسن، م: 2687، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
الحكم: حديث حسن، م: 2687، وهذا إسناد ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 21507 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ ، سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ غَيْلَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ الْحِمْصِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِبِلَالٍ: " أَنْتَ يَا بِلَالُ تُؤَذِّنُ إِذَا كَانَ الصُّبْحُ سَاطِعًا فِي السَّمَاءِ، فَلَيْسَ ذَلِكَ بِالصُّبْحِ، إِنَّمَا الصُّبْحُ هَكَذَا مُعْتَرِضًا" ثُمَّ دَعَا بِسَحُورِهِ فَتَسَحَّرَ، وَكَانَ يَقُولُ:" لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا أَخَّرُوا السَّحُورَ، وَعَجَّلُوا الْفِطْرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بلال! تم اس وقت اذان دیتے ہو جب آسمان پر طلوع فجر ہوجاتی ہے حالانکہ اصل صبح صادق وہ نہیں ہوتی صبح صادق تو چوڑائی کی حالت میں نمودار ہوتی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سحری منگوا کر اسے تناول فرمایا: اور فرماتے تھے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک وہ سحری میں تاخیر اور افطاری میں تعجیل کرتی رہے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21507]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن لهيعة ضعيف، وسليمان وعدي مجهولان
الحكم: إسناده ضعيف، ابن لهيعة ضعيف، وسليمان وعدي مجهولان
حدیث نمبر: 21508 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبَا الْأَحْوَصِ مَوْلَى ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ مَوْلَى بَنِي لَيْثٍ يُحَدِّثُنَا فِي مَجْلِسِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ، وَابْنُ الْمُسَيَّبِ جَالِسٌ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا ذَرٍّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَزَالُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مُقْبِلًا عَلَى الْعَبْدِ فِي صَلَاتِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، فَإِذَا صَرَفَ وَجْهَهُ، انْصَرَفَ عَنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس وقت مسلسل اپنے بندے پر دوران نماز متوجہ رہتا ہے جب تک وہ دائیں بائیں نہ دیکھے لیکن جب وہ اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا چہرہ پھیر لیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21508]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين