يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، مَالِكُ بْنُ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزِّمَّانِيُّ ، مَرْثَدٌ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ سِمَاكٌ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الزِّمَّانِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي مَرْثَدٌ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قُلْتُ: كُنْتَ سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ؟ قَالَ: أَنَا كُنْتُ أَسْأَلَ النَّاسِ عَنْهَا! قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ أَفِي رَمَضَانَ هِيَ، أَوْ فِي غَيْرِهِ؟ قَالَ: " بَلْ هِيَ فِي رَمَضَانَ"، قَالَ: قُلْتُ: تَكُونُ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ مَا كَانُوا فَإِذَا قُبِضُوا رُفِعَتْ، أَمْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ:" بَلْ هِيَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ"، قَالَ: قُلْتُ: فِي أَيِّ رَمَضَانَ هِيَ؟ قَالَ:" الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأُوَلِ أَوْ الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ"، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ، ثُمَّ اهْتَبَلْتُ وَغَفَلْتُهُ قُلْتُ فِي أَيِّ الْعِشْرِينَ هِيَ؟ قَالَ:" ابْتَغُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا"، ثُمَّ حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ، ثُمَّ اهْتَبَلْتُ وَغَفَلْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ بِحَقِّي عَلَيْكَ لَمَا أَخْبَرْتَنِي فِي أَيِّ الْعَشْرِ هِيَ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلَيَّ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ مِثْلَهُ مُنْذُ صَحِبْتُهُ أَوْ صَاحَبْتُهُ، كَلِمَةً نَحْوَهَا، قَالَ:" الْتَمِسُوهَا فِي السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ، لَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومرثد کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ نے شب قدر کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تھا؟ انہوں نے فرمایا اس کے متعلق سب سے زیادہ میں نے ہی تو پوچھا تھا، میں نے پوچھا تھا یا رسول اللہ! یہ بتائیے کہ شب قدر رمضان کے مہینے میں ہوتی ہے یا کسی اور مہینے میں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ ماہ رمضان میں ہوتی ہے میں نے پوچھا کہ گزشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ وہ اس وقت تک رہتی تھی جب تک وہ نبی رہتے تھے جب ان کا وصال ہوجاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا تھا یا یہ قیامت تک رہے گی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں! قیامت تک رہے گی میں نے پوچھا رمضان کے کس حصے میں شب قدر ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے عشرہ اولی یا عشرہ اخیرہ میں تلاش کیا کرو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیث بیان کرنے لگے اسی دوران مجھ پر اونگھ کا غلبہ ہوا جب میں ہوشیار ہوا تو پوچھا کہ وہ کون سے بیس دنوں میں ہوتی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے آخری عشرے میں تلاش کرو اور اب مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوبارہ حدیث بیان کرنے لگے اور مجھ پر پھر غفلت طاری ہوگئی جب میں ہوشیار ہوا تو عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آپ کو اپنے اس حق کی قسم دیتا ہوں جو میرا آپ پر ہے مجھے یہ بتا دیجئے کہ وہ کون سے عشرے میں ہوتی ہے؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسا غصہ آیا کہ جب سے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صحبت میسر آئی ایسا غصہ کبھی نہیں آیا تھا اور فرمایا آخری سات راتوں میں اسے تلاش کرو اور اب مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21499]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة مرثد بن عبدالله
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة مرثد بن عبدالله