يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَبُو صَالِحٍ ، رَجُلٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَشَدَّ أُمَّتِي لِي حُبًّا قَوْمٌ يَكُونُونَ أَوْ يَجِيئُونَ بَعْدِي، يَوَدُّ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ أَعْطَى أَهْلَهُ وَمَالَهُ وَإِنَّهُ رَآنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرنے والے لوگ وہ ہوں کے جو میرے بعد آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کی خواہش ہوگی کہ اپنے اہل خانہ اور سارے مال و دولت کو دے کر کسی طرح وہ مجھے دیکھ لیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21494]
حکم دارالسلام
إسناده حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الأسدي
الحكم: إسناده حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الأسدي