بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 287
صفحہ 13 از 15
حدیث نمبر: 21529 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ أَبُو مَسْعُودٍ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ العَنَزي ، ابْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ أَبُو مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ العَنَزي ، عَنِ ابْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْكَلَامِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ: " مَا اصْطَفَاهُ لِمَلَائِكَتِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، ثَلَاثًا تَقُولُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا کلام سب سے افضل ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہی جو اللہ نے اپنے بندوں کے لئے منتخب کیا ہے یعنی تین مرتبہ یوں کہنا سبحان اللہ وبحمدہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21529]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2731
الحكم: إسناده صحيح، م: 2731
حدیث نمبر: 21530 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، يَزِيدَ أَبِي الْعَلَاءِ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ يَزِيدَ أَبِي الْعَلَاءِ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، قَالَ: بَلَغَنِي عَنْ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثٌ، فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاهُ فَلَقِيتُهُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا ذَرٍّ ، بَلَغَنِي عَنْكَ حَدِيثٌ فَكُنْتُ أُحِبُّ أَنْ أَلْقَاكَ فَأَسْأَلَكَ عَنْهُ، فَقَالَ: قَدْ لَقِيتَ فَاسْأَلْ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ، وَثَلَاثَةٌ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ"، قَالَ: نَعَمْ، فَمَا إِخَالُنِي أَكْذِبُ عَلَى خَلِيلِي مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا يَقُولُهَا، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُحِبُّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ؟ قَالَ:" رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَلَقِيَ الْعَدُوَّ مُجَاهِدًا مُحْتَسِبًا فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ، وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا سورة الصف آية 4، وَرَجُلٌ لَهُ جَارٌ يُؤْذِيهِ، فَيَصْبِرُ عَلَى أَذَاهُ وَيَحْتَسِبُهُ حَتَّى يَكْفِيَهُ اللَّهُ إِيَّاهُ بِمَوْتٍ أَوْ حَيَاةٍ، وَرَجُلٌ يَكُونُ مَعَ قَوْمٍ فَيَسِيرُونَ حَتَّى يَشُقَّ عَلَيْهِمْ الْكَرَى وَالنُّعَاسُ، فَيَنْزِلُونَ فِي آخِرِ اللَّيْلِ فَيَقُومُ إِلَى وُضُوئِهِ وَصَلَاتِهِ"، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ الثَّلَاثَةُ الَّذِينَ يُبْغِضُهُمْ اللَّهُ؟ قَالَ:" الْفَخُورُ الْمُخْتَالُ وَأَنْتُمْ تَجِدُونَ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ سورة لقمان آية 18، وَالْبَخِيلُ الْمَنَّانُ، وَالتَّاجِرُ أَوْ الْبَيَّاعُ الْحَلَّافُ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا الْمَالُ؟ قَالَ: فِرْقٌ لَنَا وَذَوْدٌ يَعْنِي بِالْفِرْقِ غَنَمًا يَسِيرَةً، قَالَ: قُلْتُ: لَسْتُ عَنْ هَذَا أَسْأَلُ، إِنَّمَا أَسْأَلُكَ عَنْ صَامِتِ الْمَالِ؟ قَالَ: مَا أَصْبَحَ لَا أَمْسَى، وَمَا أَمْسَى لَا أَصْبَحَ، قَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا لَكَ وَلِإِخْوَتِكَ قُرَيْشٍ؟ قَالَ:" وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهُمْ دُنْيَا وَلَا أَسْتَفْتِيهِمْ عَنْ دِينِ اللَّهِ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ثَلَاثًا يَقُولُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن احمس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا اور عرض کیا کہ مجھے آپ کے حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا تمہارے ذہن میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت کروں گا جبکہ میں نے وہ بات سنی بھی ہو وہ کون سی حدیث ہے جو تمہیں میرے حوالے سے معلوم ہوئی ہے؟ میں نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے آپ کہتے ہیں کہ تین قسم کے آدمی اللہ کو محبوب ہیں اور تین قسم کے آدمیوں سے اللہ کو نفرت ہے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! یہ بات میں نے کہی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی بھی ہے میں نے عرض کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ محبت کرتا ہے؟ انہوں نے فرمایا ایک تو وہ آدمی جو ایک جماعت کے ساتھ دشمن سے ملے اور ان کے سامنے سینہ سپر ہوجائے یہاں تک کہ شہید ہوجائے یا اس کے ساتھیوں کو فتح مل جائے دوسرے وہ لوگ جو سفر پر روانہ ہوں ان کا سفر طویل ہوجائے اور ان کی خواہش ہو کہ شام کے وقت کسی علاقے میں پڑاؤ کریں، چنانچہ وہ پڑاؤ کریں تو ان میں سے ایک آدمی ایک طرف کو ہو کر نماز پڑھنے لگے یہاں تک کہ کوچ کا وقت آنے پر انہیں جگا دے اور تیسرا وہ آدمی جس کا کوئی ایسا ہمسایہ ہو جس کے پڑوس سے اسے تکلیف ہوتی ہو لیکن وہ اس کی ایذاء رسانی پر صبر کرے تاآنکہ موت آکر انہیں جدا کردے میں نے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جن سے اللہ نفرت کرتا ہے؟ فرمایا وہ تاجر جو قسمیں کھاتا ہے وہ بخیل جوا حسان جتاتا ہے اور وہ فقیر جو تکبر کرتا ہے۔ میں نے پوچھا اے ابوذر! آپ کے پاس کون سا مال ہے؟ انہوں نے فرمایا تھوڑی سی بکریاں اور چند اونٹ ہیں میں نے عرض کیا کہ میں اس کے متعلق نہیں پوچھ رہا، سونا چاندی کے متعلق پوچھ رہا ہوں، انہوں نے فرمایا جو صبح ہوتا ہے وہ شام کو نہیں ہوتا اور جو شام کو ہوتا ہے وہ صبح نہیں ہوتا میں نے عرض کیا کہ آپ کا اپنے قریشی بھائیوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ انہوں نے فرمایا واللہ میں ان سے دنیا مانگتا ہوں اور نہ ہی دین کے متعلق پوچھتا ہوں اور میں ایسا ہی کروں گا یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول سے جاملوں، یہ جملہ انہوں نے تین مرتبہ دہرایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21530]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21531 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " إِنَّ أُنَاسًا مِنْ أُمَّتِي سِيمَاهُمْ التَّحْلِيقُ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حُلُوقَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میری امت کے کچھ لوگ " جن کی علامت سر منڈوانا ہوگی قرآن کریم تو پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، وہ بدترین مخلوق ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21531]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21532 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سُوَيْدَ بْنَ الْحَارِثِ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، أَدَعُ مِنْهُ يَوْمَ أَمُوتُ دِينَارًا أَوْ نِصْفَ دِينَارٍ إِلَّا لِغَرِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائے اور جس دن میں دنیا سے رخصت ہو کر جاؤں تو اس میں سے ایک یا آدھا دینار بھی میرے پاس بچ گیا ہو الاّ یہ کہ میں اسے کسی قرض خواہ کے کے لئے رکھ لوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21532]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سويد بن الحارث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سويد بن الحارث
حدیث نمبر: 21533 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُهَاجِرًا أَبَا الْحَسَنِ ، زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُهَاجِرًا أَبَا الْحَسَنِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَذَّنَ مُؤَذِّنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالظُّهْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَبْرِدْ أَبْرِدْ" أَوْ قَالَ:" انْتَظِرْ انْتَظِرْ"، وَقَالَ:" إِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ، فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ"، قَالَ أَبُو ذَرٍّ: حَتَّى رَأَيْنَا فَيْءَ التُّلُولِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زید بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جنازے سے واپس آرہے تھے کہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذر ہوا وہ کہنے لگے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے مؤذن نے جب ظہر کی اذان دینا چاہی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا ٹھنڈا کر کے اذان دینا دو تین مرتبہ اسی طرح ہوا حتٰی کہ ہمیں ٹیلوں کا سایہ نظر آنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا اثر ہوتی ہے اس لئے جب گرمی زیادہ ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21533]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 535، م: 616
الحكم: إسناده صحيح، خ: 535، م: 616
حدیث نمبر: 21534 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَقْنَعِ ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَقْنَعِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا فِي حَلْقَةٍ إِذْ جَاءَ أَبُو ذَرٍّ ، فَجَعَلُوا يَفِرُّونَ مِنْهُ، فَقُلْتُ: لِمَ يَفِرَّ مِنْكَ النَّاسُ؟ قَالَ: " إِنِّي أَنْهَاهُمْ عَنِ الْكَنْزِ الَّذِي كَانَ يَنْهَاهُمْ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
احنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جسے دیکھتے ہی لوگ اس سے کنی کترانے لگتے تھے میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا صحابی ابوذر رضی اللہ عنہ ہوں میں نے ان سے پوچھا کہ پھر یہ لوگ کیوں آپ سے کنی کترا رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا میں انہیں مال جمع کرنے سے اسی طرح روکتا ہوں جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روکتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21534]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 21535 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21535]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2473
الحكم: إسناده صحيح، م: 2473
حدیث نمبر: 21536 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبٌ ، مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ، وَإِذَا عَمِلْتَ سَيِّئَةً، فَاعْمَلْ حَسَنَةً تَمْحُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اللہ سے ڈرو خواہ کہیں بھی ہو، برائی ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21536]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يسمع من أبى ذر، وقد اختلف على سفيان الثوري فى إسناده
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يسمع من أبى ذر، وقد اختلف على سفيان الثوري فى إسناده
حدیث نمبر: 21537 مسند احمد
يَحْيَى ، فِطْرٍ ، يَحْيَى بْنُ سَامٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ فِطْرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَامٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَصُومَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ وَخَمْسَ عَشْرَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص مہینے میں تین روزے رکھنا چاہتا ہو اسے ایام بیض کے روزے رکھنے چاہئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21537]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21538 مسند احمد
يَحْيَى ، قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، جَسْرَةَ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ جَسْرَةَ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ أَبَا ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَامَ بِآيَةٍ لَيْلَةً يُرَدِّدُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز شروع کی اور ساری رات صبح تک ایک ہی آیت رکوع و سجود میں پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21538]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 21539 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ عَجْلَانَ ، سَعْيدٌ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي سَعْيدٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ اغْتَسَلَ أَوْ تَطَهَّرَ، فَأَحْسَنَ الطُّهُورَ، وَلَبِسَ مِنْ أَحْسَنِ ثِيَابِهِ، وَمَسَّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنْ طِيبِ أَوْ دُهْنِ أَهْلِهِ، ثُمَّ أَتَى الْجُمُعَةَ، فَلَمْ يَلْغُ وَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَ اثْنَيْنِ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص غسل کرے یا طہارت حاصل کرے اور خوب اچھی طرح کرے عمدہ کپڑے پہنے، خوشبو یا تیل لگائے، پھر جمعہ کے لئے آئے کوئی لغوحرکت نہ کرے کسی دو آدمیوں کے درمیان نہ گھسے اس کے اگلے جمعہ تک سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21539]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن عجلان قد خولف فى هذا الحديث
الحكم: حديث صحيح، ابن عجلان قد خولف فى هذا الحديث
حدیث نمبر: 21540 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُوسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ الثَّقَفِيَّ ، شَهْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ الْمُسَيَّبِ الثَّقَفِيَّ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ الْأَشْعَرِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: يَا عِبَادِي، كُلُّكُمْ مُذْنِبٌ إِلَّا مَنْ عَافَيْتُ، فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ، وَمَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَنِّي ذُو قُدْرَةٍ عَلَى الْمَغْفِرَةِ فَاسْتَغْفَرَنِي بِقُدْرَتِي، غَفَرْتُ لَهُ وَلَا أُبَالِي، وَكُلُّكُمْ ضَالٌّ إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ فَسَلُونِي الْهُدَى أَهْدِكُمْ، وَكُلُّكُمْ فَقِيرٌ إِلَّا مَنْ أَغْنَيْتُ فَسَلُونِي أَرْزُقْكُمْ، وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأُولَاكُمْ وَأُخْرَاكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا عَلَى قَلْبِ أَتْقَى عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي لَمْ يَزِيدُوا فِي مُلْكِي جَنَاحَ بَعُوضَةٍ، وَلَوْ أَنَّ حَيَّكُمْ وَمَيِّتَكُمْ وَأُولَاكُمْ وَأُخْرَاكُمْ وَرَطْبَكُمْ وَيَابِسَكُمْ اجْتَمَعُوا فَسَأَلَ كُلُّ سَائِلٍ مِنْهُمْ مَا بَلَغَتْ أُمْنِيَّتُهُ وَأَعْطَيْتُ كُلَّ سَائِلٍ مَا سَأَلَ لَمْ يَنْقُصْنِي إِلَّا كَمَا لَوْ مَرَّ أَحَدُكُمْ عَلَى شَفَةِ الْبَحْرِ فَغَمَسَ إِبْرَةً ثُمَّ انْتَزَعَهَا ذَلِكَ لِأَنِّي جَوَادٌ مَاجِدٌ وَاجِدٌ، أَفْعَلُ مَا أَشَاءُ، عَطَائِي كَلَامِي، وَعَذَابِي كَلَامِي، إِذَا أَرَدْتُ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے بندو! تم سب کے سب گنہگار ہو سوائے اس کے جسے میں عافیت عطاء کردوں، اس لئے مجھ سے معافی مانگا کرو میں تمہیں معاف کردوں گا اور جو شخص اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ مجھے معاف کرنے پر قدرت ہے اور وہ میری قدرت کے وسیلے سے مجھ سے معافی مانگتا ہے تو میں اسے معاف کردیتا ہوں اور کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ تم میں سے ہر ایک گمراہ ہے سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگا کرو میں تم کو ہدایت عطاء کروں گا تم میں سے ہر ایک فقیر ہے سوائے اس کے جسے میں غنی کردوں، لہٰذا مجھ سے غناء مانگا کرو میں تم کو غناء عطاء کروں گا۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب کے سب میرے سب سے زیادہ شقی بندے کے دل کی طرح ہوجائیں تو میری حکومت میں سے ایک مچھر کے پر کے برابر بھی کمی نہیں کرسکتے اور اگر وہ سب کے سب میرے سب سے زیادہ متقی بندے کے دل پر جمع ہوجائیں تو میری حکومت میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی اضافہ نہیں کرسکتے۔ اگر تمہارے پہلے اور پچھلے زندہ اور مردہ تر اور خشک سب جمع ہوجائیں اور ان میں سے ہر ایک مجھ سے اتنا مانگے جہاں تک اس کی تمنا پہنچتی ہو اور میں ہر ایک کو اس کے سوال کے مطابق مطلوبہ چیزیں دیتا جاؤں تو میرے خزانے میں اتنی بھی کمی واقع نہ ہوگی کہ اگر تم میں سے کوئی شخص ساحل سمندر سے گذرے اور اس میں ایک سوئی ڈبوئے اور پھر نکالے میری حکومت میں اتنی بھی کمی نہ آئیگی کیونکہ میں بےانتہا سخی، بزرگ اور بےنیاز ہوں میری عطاء بھی ایک کلام سے ہوتی ہے اور میرا عذاب بھی ایک کلام سے آجاتا ہے میں کسی چیز کا ارادہ کرتا ہوں تو " کن " کہتا ہوں اور وہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21540]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر
حدیث نمبر: 21541 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ حِينَ وَجَبَتْ الشَّمْسُ، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَيْنَ تَذْهَبُ الشَّمْسُ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" فَإِنَّهَا تَذْهَبُ حَتَّى تَسْجُدَ بَيْنَ يَدَيْ رَبِّهَا عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ تَسْتَأْذِنُ فَيُؤْذَنُ لَهَا وَكَأَنَّهَا قَدْ قِيلَ لَهَا: ارْجِعِي مِنْ حَيْثُ جِئْتِ، فَتَطْلُعُ مِنْ مَكَانِهَا، وَذَلِكَ مُسْتَقَرٌّ لَهَا"، قَالَ مُحَمَّدٌ، ثُمَّ قَرَأَ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا سورة يس آية 38 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غروب آفتاب کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ مسجد میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! تم جانتے ہو کہ یہ سورج کہاں جاتا ہے؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ جا کر بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوجاتا ہے پھر وہ واپس جانے کی اجازت مانگتا ہے جو اسے مل جاتی ہے جب اس سے کہا جائے کہ تو جہاں سے آیا ہے وہیں واپس چلا جا اور وہ اپنے مطلع کی طرف لوٹ جائے تو یہی اس کا مستقر ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " سورج اپنے مستقر کی طرف چلتا ہے۔ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21541]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3199، م: 159
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3199، م: 159
حدیث نمبر: 21542 مسند احمد
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، مَكْحُولٍ ، غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبُو ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ مَكْحُولٍ ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: مَرَرْتُ بِعُمَرَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ: يَا فَتَى، ادْعُ اللَّهَ لِي بِخَيْرٍ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ، قَالَ: قُلْتُ: وَمَنْ أَنْتَ رَحِمَكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَنَا أَبُو ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ، أَنْتَ أَحَقُّ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ، يَقُولُ: نِعْمَ الْغُلَامُ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا غضیف بہترین نوجوان ہے پھر حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بھائی! میرے لئے بخشش کی دعاء کرو غضیف نے کہا کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں اور آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے لئے بخشش کی دعاء کریں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ غضیف بہترین نوجوان ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کردیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21542]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21543 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَهَا سورة يس آية 38، قَالَ: " مُسْتَقَرُّهَا تَحْتَ الْعَرْشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس آیت " سورج اپنے مستقر کی طرف چلتا ہے " کا مطلب پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سورج کا مستقر عرش کے نیچے ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21543]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3199، م: 159
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3199، م: 159
حدیث نمبر: 21544 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ ، أَبِي ذَرٍّ ، الأعْمَشُ ، رَجُلٍ ، خَرَشةَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: وَحَدَّثَنَا الأعْمَشُ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ خَرَشةَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمْ اللَّهُ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ الْمُسْبِلُ، وَالْمَنَّانُ، وَالْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْفَاجِرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تین قسم کے آدمی ایسے ہوں گے جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات کرے گا نہ انہیں دیکھے اور ان کا تزکیہ کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا تہبند کو ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا جھوٹی قسم کھا کر اپنا سامان فروخت کرنے والا اور احسان جتانے والا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21544]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إسناداه صحيحان
الحكم: حديث صحيح، إسناداه صحيحان
حدیث نمبر: 21545 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، جَابِرٍ ، ثَابِتِ بْنِ سَعْدٍ أَوْ سَعِيدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ سَعْدٍ أَوْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَجَمَ امْرَأَةً، فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفِرَ لَهَا، فَحَفَرْتُ لَهَا إِلَى سُرَّتِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عورت پر رجم کی سزا جاری فرمائی تو مجھے اس کے لئے گڑھا کھودنے کا حکم دیا چنانچہ میں نے اس کے لئے ناف تک گڑھا کھودا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21545]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، و ثابت بن سعد لم يتبين لنا
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، و ثابت بن سعد لم يتبين لنا
حدیث نمبر: 21546 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيُّ ، أَبُو عُمَرَ الدِّمَشْقِيُّ ، عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، أَنْبَأَنِي أَبُو عُمَرَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْخَشْخَاشِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، هَلْ صَلَّيْتَ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" قُمْ فَصَلِّ"، قَالَ: فَقُمْتُ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ؟! قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الصَّلَاةُ؟ قَالَ:" خَيْرٌ مَوْضُوعٌ، مَنْ شَاءَ أَقَلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا الصَّوْمُ؟ قَالَ:" فَرْضٌ مُجْزِئٌ، وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَالصَّدَقَةُ؟ قَالَ:" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيُّهَا أَفْضَلُ؟ قَالَ:" جَهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ، أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلُ؟ قَالَ:" آدَمُ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ الْمُرْسَلُونَ؟ قَالَ:" ثَلَاثُ مِئَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِيرًا"، وَقَالَ: مَرَّةً" خَمْسَةَ عَشَرَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آدَمُ أَنَبِيٌّ كَانَ؟ قَالَ:" نَعَمْ، نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ؟ قَالَ:" آيَةُ الْكُرْسِيِّ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ سورة البقرة آية 255 .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تھے میں بھی مجلس میں شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا اے ابوذر رضی اللہ عنہ کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو، چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آکر مجلس میں دوبارہ شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! انسانوں اور جنات میں سے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا یارسول اللہ! نماز کا کیا حکم ہے؟ فرمایا بہترین موضوع ہے جو چا ہے کم حاصل کرے اور جو چاہے زیادہ حاصل کرلے میں نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کا کیا حکم ہے؟ فرمایا ایک فرض ہے جسے ادا کیا جائے گا تو کافی ہوجاتا ہے اور اللہ کے یہاں اس کا اضافی ثواب ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! صدقہ کا کیا حکم ہے؟ فرمایا اس کا بدلہ دوگنا چوگنا ملتا ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے افضل صدقہ کون سا ہے؟ فرمایا کم مال والے کی محنت کا صدقہ یا کسی ضرورت مند کا راز، میں نے پوچھا یا رسول اللہ! سب سے پہلے نبی کون تھے؟ فرمایا حضرت آدم علیہ السلام میں نے پوچھا یا رسول اللہ! کیا وہ نبی تھے؟ فرمایا ہاں، بلکہ ایسے نبی جن سے باری تعالیٰ نے کلام فرمایا: میں نے پوچھا یا رسول اللہ! رسول کتنے آئے؟ فرمایا تین سو دس سے کچھ اوپر ایک عظیم گروہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی؟ فرمایا آیت الکرسی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21546]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا الجهالة عبيد بن الخشخاش ولضعف أبى عمر
الحكم: إسناده ضعيف جدا الجهالة عبيد بن الخشخاش ولضعف أبى عمر
حدیث نمبر: 21547 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلَتْنَا الضَّبُعُ! قَالَ: " غَيْرُ ذَلِكَ أَخْوَفُ عِنْدِي عَلَيْكُمْ مِنْ ذَلِكَ، أَنْ تُصَبَّ عَلَيْكُمْ الدُّنْيَا صَبًّا، فَلَيْتَ أُمَّتِي لَا يَلْبَسُونَ الذَّهَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک سخت طبیعت دیہاتی آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ! ہمیں تو قحط سالی کھاجائے گی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ایک دوسری چیز کا اندیشہ ہے جب تم پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا کاش! اس وقت میری امت سونے کا زیور نہ پہنے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21547]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 21548 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، وَاصِلٍ ، يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُصْبِحُ كُلَّ يَوْمٍ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنَ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ"، ثُمَّ قَالَ:" إِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَتَسْلِيمُكَ عَلَى النَّاسِ صَدَقَةٌ، وَأَمْرُكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَمُبَاضَعَتُكَ أَهْلَكَ صَدَقَةٌ"، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَقْضِي الرَّجُلُ شَهْوَتَهُ، وَتَكُونُ لَهُ صَدَقَةٌ؟! قَالَ:" نَعَمْ، أَرَأَيْتَ لَوْ جَعَلَ تِلْكَ الشَّهْوَةَ فِيمَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ، أَلَمْ يَكُنْ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟" قُلْنَا: بَلَى، قَالَ:" فَإِنَّهُ إِذَا جَعَلَهَا فِيمَا أَحَلَّ اللَّهُ فَهِيَ صَدَقَةٌ"، قَالَ: وَذَكَرَ أَشْيَاءَ صَدَقَةً صَدَقَةً، قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" وَيُجْزِئُ مِنْ هَذَا كُلِّهِ رَكْعَتَا الضُّحَى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک کے ہر عضو پر صبح کے وقت صدقہ لازم ہوتا ہے اور ہر تسبیح کا کلمہ بھی صدقہ ہے تہلیل بھی صدقہ ہے تکبیر بھی صدقہ ہے تحمید بھی صدقہ ہے امر بالمعروف بھی صدقہ ہے اور نہی عن المنکر بھی صدقہ ہے اور اپنی بیوی سے مباشرت کرنا بھی صدقہ ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہمیں " خواہش " پوری کرنے پر بھی ثواب ملتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر یہ کام تم حرام طریقے سے کرتے تو تمہیں گناہ ہوتا یا نہیں؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم گناہ کو شمار کرتے ہو نیکی کو شمار نہیں کرتے اور ان سب کی کفایت وہ دو رکعتیں کردیتی ہیں جو تم میں سے کوئی شخص چاشت کے وقت پڑھتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21548]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 720، إسناده قوي
الحكم: حديث صحيح، م: 720، إسناده قوي