بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 287
صفحہ 7 از 15
حدیث نمبر: 21409 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، وَاصِلٍ ، الْمَعْرُورِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ وَاصِلٍ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمْ اللَّهُ فِتْنَةً تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ، فَلْيُطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِهِ، وَلْيَكْسُهُ مِنْ لِبَاسِهِ، وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ، فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے غلام تمہارے بھائی ہیں جنہیں اللہ نے آزمائشی طور پر تمہارے ماتحت کردیا ہے لہٰذا جس کا بھائی اس کی ماتحتی میں ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنے کھانے میں سے اسے کھلائے اپنے لباس میں سے اسے پہنائے اور اس سے ایساکام نہ لے جس سے وہ مغلوب ہوجائے اگر ایسا کام لینا ہو تو خود بھی اس کے ساتھ تعاون کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21409]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6050، م: 1661
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6050، م: 1661
حدیث نمبر: 21410 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، مُجَاهِدٌ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ مُجَاهِدٌ : عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَبْعَثْ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا بِلُغَةِ قَوْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس نبی کو مبعوث فرمایا اسے اس قوم کی زبان میں ہی مبعوث فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21410]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، مجاهد لم يسمع من أبى ذر، لكن متنه صحيح، فقد نص القرآن الكريم على ذلك
الحكم: إسناده ضعيف، مجاهد لم يسمع من أبى ذر، لكن متنه صحيح، فقد نص القرآن الكريم على ذلك
حدیث نمبر: 21411 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، قَالَ: قَال عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ أَبُوهُ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَبَقَنَا أَصْحَابُ الْأَمْوَالِ وَالدُّثُورِ سَبْقًا بَيِّنًا، يُصَلُّونَ وَيَصُومُونَ كَمَا نُصَلِّي وَنَصُومُ، وَعِنْدَهُمْ أَمْوَالٌ يَتَصَدَّقُونَ بِهَا، وَلَيْسَتْ عِنْدَنَا أَمْوَالٌ؟!، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلَا أُخْبِرُكَ بِعَمَلٍ إِنْ أَخَذْتَ بِهِ أَدْرَكْتَ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ، وَفُتَّ مَنْ يَكُونُ بَعْدَكَ؟ إِلَّا أَحَدًا أَخَذَ بِمِثْلِ عَمَلِكَ تُسَبِّحُ خِلَافَ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! مال و دولت والے واضح طور پر ہم سے سبقت لے گئے ہیں وہ ہماری طرح نماز روزہ بھی کرتے اور ان کے پاس مال بھی ہے جس سے صدقہ و خیرات کرتے ہیں جبکہ ہمارے پاس مال نہیں ہے جسے ہم صدقہ کرسکیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں ایسا عمل نہ بتادوں جس پر اگر تم عمل کرلو تو اپنے سے پہلے والوں کو پالو اور بعد والوں کو پیچھے چھوڑ دو؟ الاّ یہ کہ کوئی تم جیسا ہی عمل کرلے ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ، ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر اور ٣٤ مرتبہ الحمد اللہ کہہ لیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21411]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1006، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح لغيره، م: 1006، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21412 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: فَأَقْبَلْتُ فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ: " هُمْ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ" فَجَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ مَنْ هُمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي؟ قَالَ:" هُمْ الْأَكْثَرُونَ مَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ بِالْمَالِ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ خانہ کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا رب کعبہ کی قسم! وہ لوگ خسارے میں ہیں مجھے ایک شدید غم نے آگھیرا اور میں اپنا سانس درست کرتے ہوئے سوچنے لگا شاید میرے متعلق کوئی نئی بات ہوگئی ہے چنانچہ میں نے پوچھا وہ کون لوگ ہیں؟ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زیادہ مالدار، سوائے اس آدمی کے جو اللہ کے بندوں میں اس اس طرح تقسیم کرے لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21412]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1237، م: 94
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1237، م: 94
حدیث نمبر: 21413 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قُرَّةَ ، الْحَسَنُ ، صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، بِأَبِي ذَرٍّ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قُرَّةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنِي صَعْصَعَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ، فَإِذَا أَنَا بِأَبِي ذَرٍّ قَدْ تَلَقَّانِي بِرَوَاحِلَ قَدْ أَوْرَدَهَا، ثُمَّ أَصْدَرَهَا، وَقَدْ أَعْلَقَ قِرْبَةً فِي عُنُقِ بَعِيرٍ مِنْهَا لِيَشْرَبَ وَيَسْقِيَ أَصْحَابَهُ، وَكَانَ خُلُقًا مِنْ أَخْلَاقِ الْعَرَبِ، قُلْتُ: أيه يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا لَكَ؟ قَالَ لِي: عَمَلِي، قُلْتُ: إِيهٍ يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ مَالِهِ ابْتَدَرَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ"، قُلْنَا: مَا هَذَانِ الزَّوْجَانِ؟ قَالَ:" إِنْ كَانَتْ رِجَالًا فَرَجْلَانِ، وَإِنْ كَانَتْ خَيْلًا فَفَرَسَانِ، وَإِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَانِ حَتَّى عَدَّ أَصْنَافَ الْمَالِ كُلِّهِ" . قُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ إِيهِ، مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمْ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ لِلصِّبيَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں " ربذہ " میں پہنچا وہاں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی وہ کچھ سواریاں پانی کے گھاٹ پر لے گئے پھر وہاں سے انہیں لا رہے تھے اور ایک اونٹ کی گردن میں ایک مشکیزہ لٹکا رکھا تھا تاکہ خود بھی پی سکیں اور اپنے ساتھیوں کو بھی پلا سکیں جو کہ اہل عرب کی عادت تھی میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے پاس مال ہے؟ انہوں نے فرمایا میرے پاس میرے اعمال ہیں میں نے عرض کیا کہ اے ابوذر رضی اللہ عنہ آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جو فرماتے ہوئے سنا ہے اس میں سے کچھ سنائیے انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اپنے مال میں سے دو جوڑے " خرچ کرتا ہے جنت کے دربان اس کی مسابقت کرتے ہیں میں نے ان سے جوڑے کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا اگر غلام ہوں تو دو غلام، گھوڑے ہوں تو دو گھوڑے اور اونٹ ہوں تو دو اونٹ اور انہوں نے مال کی تمام اصناف شمار کروا دیں۔ صعصعہ بن معاویہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور میں نے ان سے کوئی حدیث بیان کرنے کی فرمائش کی تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کو اپنے فضل سے جنت میں داخل کر دے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21414 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ: فَبَشَّرَنِي، شَكَّ مَهْدِيٌّ، أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا وہ بدکاری اور چوری کرتا رہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگرچہ وہ بدکاری اور چوری کرتا پھرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21414]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1237، م: 94
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1237، م: 94
حدیث نمبر: 21415 مسند احمد
عَفَّانُ ، سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ، مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَمَرَنِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ " أَمَرَنِي بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ، وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا، وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ بِالْحَقِّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَخَافَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سات چیزوں کا حکم دیا ہے انہوں نے مجھے حکم دیا ہے کہ مساکین سے محبت کرنے اور ان سے قریب رہنے کا اپنے نیچے والے کو دیکھنے اور اوپر والے کو نہ دیکھنے کا صلہ رحمی کرنے کا گو کہ کوئی اسے توڑ ہی دے کسی سے کچھ نہ مانگنے کا حق بات کہنے کا خواہ وہ تلخ ہی ہو اللہ کے بارے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کرنے کا اور لاحول ولاقوۃ الا باللہ کی کثرت کا کیونکہ یہ کلمات عرش کے نیچے ایک خزانے سے آئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21415]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21416 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي أَسْمَاءَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ بِالرَّبَذَةِ وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ مشْبَعة لَيْسَ عَلَيْهَا أَثَرُ الْمَجَاسِدِ وَلَا الْخَلُوقِ، قَالَ: فَقَالَ: أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَا تَأْمُرُنِي بِهِ هَذِهِ السُّوَيْدَاءُ؟! تَأْمُرُنِي أَنْ آتِيَ الْعِرَاقَ، فَإِذَا أَتَيْتُ الْعِرَاقَ مَالُوا عَلَيَّ بِدُنْيَاهُمْ، وَإِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ" أَنَّ دُونَ جِسْرِ جَهَنَّمَ طَرِيقًا ذَا دَحْضٍ وَمَزِلَّةٍ، وَإِنَّا نَأْتِي عَلَيْهِ وَفِي أَحْمَالِنَا اقْتِدَارٌ"، وَحَدَّثَ مَطَرٌ أَيْضًا بِالْحَدِيثِ أَجْمَعَ فِي قَوْلِ أَحَدِهِمَا: أَنْ نَأْتِيَ عَلَيْهِ وَفِي أَحْمَالِنَا اقْتِدَارٌ، وَقَالَ الْآخَرُانْ: نَأْتِيَ عَلَيْهِ وَفِي أَحْمَالِنَا اضْطِمَارٌ أَحْرَى أَنْ نَنْجُوَ، مِنْ أَنْ نَأْتِيَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ مَوَاقِيرُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو اسماء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے جب کہ وہ مقام ربذہ میں تھے ان کے پاس ان کی سیاہ فام صحت مند بیوی بھی تھی لیکن اس پر بناؤ سنگھار یا خوشبو کے کوئی اثرات نہ تھے انہوں نے مجھ سے فرمایا اس حبشن کو دیکھو یہ مجھے کیا کہتی ہے؟ یہ کہتی ہے کہ میں عراق چلا جاؤں جب میں عراق جاؤں گا تو وہاں کے لوگ اپنی دنیا کے ساتھ میرے پاس آئیں گے اور میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وصیت کی ہے کہ جہنم کے پل پر ایک راستہ ہوگا جو لڑکھڑانے اور پھسلن والا ہوگا اس لئے جب ہم اس پل پر پہنچیں تو ہمارے سامان میں کوئی وزنی چیز نہ ہونا اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ ہم وہاں سامان کے بوجھ تلے دبے ہوئے پہنچیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21416]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21417 مسند احمد
هَاشِمٌ ، الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، أَبِي نَعَامَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ ، حُسَيْنٌ ، الْمُبَارَكُ ، أَبُو نَعَامَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، أَبَا ذَرّ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّهَا سَتَكُونُ عَلَيْكُمْ أَئِمَّةٌ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، فَإِنْ أَدْرَكْتُمُوهُمْ فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَوَاتِكُمْ مَعَهُمْ نَافِلَةً" ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، أَنَّ أَبَا ذَرّ ، قَالَ لَهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! عنقریب کچھ حکمران آئیں گے جو نماز کو وقت مقررہ پر ادا نہ کریں گے تم نماز کو اس کے وقت مقررہ پر ادا کرنا اگر تم اس وقت آؤ جب لوگ نماز پڑھ چکے ہوں تو تم اپنی نماز محفوظ کرچکے ہوگے اور اگر انہوں نے نماز نہ پڑھی ہو تو تم ان کے ساتھ شریک ہوجانا اور یہ نماز تمہارے لئے نفل ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21417]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 648، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 648، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21418 مسند احمد
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ أَنَّ أَبَا ذَرّ قَالَ لَهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 648، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، م: 648، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21419 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، دَاوُدَ ، الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: صُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَضَانَ فَلَمْ يَقُمْ بِنَا شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ، حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ، قَامَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَذْهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي تَلِيهَا، لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا كَانَتْ لَيْلَةُ سِتٍّ وَعِشْرِينَ، قَامَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَذْهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ نَفَّلْتَنَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِنَا هَذِهِ! قَالَ:" لَا، إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا قَامَ مَعَ الْإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ، حُسِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ" فَلَمَّا كَانَتْ اللَّيْلَةُ الَّتِي تَلِيهَا لَمْ يَقُمْ بِنَا، فَلَمَّا أَنْ كَانَتْ لَيْلَةُ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ وَاجْتَمَعَ لَهُ النَّاسُ، فَصَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَادَ يَفُوتُنَا الْفَلَاحُ، قُلْتُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ السُّحُورُ: ثُمَّ لَمْ يَقُمْ بِنَا يَا ابْنَ أَخِي شَيْئًا مِنَ الشَّهْرِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے روزے رکھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سارا مہینہ ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا جب ٢٤ ویں شب ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمارے ساتھ قیام فرمایا حتی کہ تہائی رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی جب اگلی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر قیام نہیں فرمایا اور ٢٦ ویں شب کو ہمارے ساتھ اتنا لمبا قیام فرمایا کہ نصف رات ختم ہونے کے قریب ہوگئی میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر رات کے باقی حصے میں بھی آپ ہمیں نوافل پڑھاتے رہتے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا جب کوئی شخص امام کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور فراغت تک شامل رہتا ہے تو اسے ساری رات قیام میں ہی شمار کیا جائے گا۔ اگلی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا ٢٨ ویں شب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اہل خانہ کو جمع کیا لوگ بھی اکٹھے ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اتنی دیر تک نماز پڑھائی کہ ہمیں " فلاح " کے فوت ہونے کا اندیشہ ہونے لگا میں نے " فلاح " کا معنی پوچھا تو انہوں نے اس کا معنی سحری بتایا پھر فرمایا اے بھتیجے! اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مہینے کی کسی رات میں ہمارے ساتھ قیام نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21419]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الضعف على بن عاصم، وقد خولف
الحكم: إسناده ضعيف الضعف على بن عاصم، وقد خولف
حدیث نمبر: 21420 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَتَادَةُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي أَسْمَاءَ ، عَبْدُ الصَّمَدِ الرَّحَبِيُّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، وَعَبْدُ الصَّمَدِ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، وَقَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الرَّحَبِيُّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ: " إِنِّي حَرَّمْتُ عَلَى نَفْسِي الظُّلْمَ، وَعَلَى عِبَادِي، أَلَا فَلَا تَظَالَمُوا، كُلُّ بَنِي آدَمَ يُخْطِئُ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ثُمَّ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرُ لَهُ وَلَا أُبَالِي، وَقَالَ: يَا بَنِي آدَمَ كُلُّكُمْ كَانَ ضَالًّا إِلَّا مَنْ هَدَيْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ عَارِيًا إِلَّا مَنْ كَسَوْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ جَائِعًا إِلَّا مَنْ أَطْعَمْتُ، وَكُلُّكُمْ كَانَ ظَمْآن إِلَّا مَنْ سَقَيْتُ، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ، وَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ، وَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ، وَاسْتَسْقُونِي أَسْقِكُمْ، يَا عِبَادِي لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَصَغِيرَكُمْ وَكَبِيرَكُمْ وَذَكَرَكُمْ وَأُنْثَاكُمْ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: وَعُيِيَّكُمْ وَبَنِيكُمْ، عَلَى قَلْبِ أَتْقَاكُمْ رَجُلًا وَاحِدًا لَمْ، تَزِيدُوا فِي مُلْكِي شَيْئًا، وَلَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَجِنَّكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَصَغِيرَكُمْ وَكَبِيرَكُمْ وَذَكَرَكُمْ وَأُنْثَاكُمْ عَلَى قَلْبِ أَكْفَرِكُمْ رَجُلًا، لَمْ تُنْقِصُوا مِنْ مُلْكِي شَيْئًا إِلَّا كَمَا يُنْقِصُ رَأْسُ الْمِخْيَطِ مِنَ الْبَحْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے آپ پر اور اپنے بندوں پر ظلم کو حرام قرار دے رکھا ہے اس لئے ایک دوسرے پر ظلم مت کیا کرو تمام بنی آدم دن رات گناہ کرتے رہتے ہیں پھر مجھ سے معافی مانگتے ہیں تو میں انہیں معاف کردیتا ہوں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں نیز ارشاد ربانی ہے اے بنی آدم تم سب کے سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دے دوں اور تم میں سے ہر ایک برہنہ ہے سوائے اس کے جسے میں لباس دے دوں تم میں سے ہر ایک بھوکا ہے سوائے اس کے جسے میں کھلا دوں اور تم میں سے ہر ایک پیاسا ہے سوائے اس کے جسے میں سیراب کر دوں لہٰذا مجھ سے ہدایت مانگو میں تمہیں ہدایت دوں گا مجھ سے طلب کرو میں تمہیں لباس دوں گا مجھ سے کھانا مانگو میں تمہیں کھانا دوں گا اور مجھ سے پانی مانگو میں تمہیں پلاؤں گا۔ اے میرے بندو! اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس چھوٹے بڑے اور مرد و عورت تم میں سب سے متقی آدمی کے دل پر ایک انسان کی طرح جمع ہوجائیں تو میری حکومت میں کچھ اضافہ نہ کرسکیں گے اور اگر تمہارے اگلے پچھلے جن و انس چھوٹے بڑے اور مرد و عورت سب ایک کافر آدمی کے دل پر جمع ہوجائیں تو میری حکومت میں اتنی کمی بھی نہیں کرسکیں گے جتنی کمی سوئی کا سرا سمندر میں ڈال کر نکالنے سے ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21420]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2577
الحكم: إسناده صحيح، م: 2577
حدیث نمبر: 21421 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، أَبِيهِ ، أَبِي ذَرٍّ ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلُ؟ قَالَ:" الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ:" ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى"، قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ، قَالَ: قُلْتُ: كَمْ بَيْنَهُمَا؟ قَالَ: " أَرْبَعُونَ سَنَةً، وَأَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ فَإِنَّهُ مَسْجِدٌ" ، وَابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلی مسجد کون سی بنائی گئی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسجد حرام، میں نے پوچھا پھر کون سی؟ فرمایا مسجد اقصیٰ میں نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وفقہ تھا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا چالیس سال میں نے پوچھا پھر کون سی مسجد؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تمہیں جہاں بھی نماز مل جائے وہیں پڑھ لو کیونکہ روئے زمین مسجد ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21421]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3366، م: 520
حدیث نمبر: 21422 مسند احمد
وَابْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيَّ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21423 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ ، قَالَ: أَخَّرَ ابْنُ زِيَادٍ الصَّلَاةَ، فَأَتَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ ، فَأَلْقَيْتُ لَهُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَذَكَرْتُ لَهُ صَنِيعَ ابْنِ زِيَادٍ، فَعَضَّ عَلَى شَفَتِهِ، وَضَرَبَ فَخِذِي، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذِكَ، وَقَالَ: إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ، فَقَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، فَإِنْ أَدْرَكَتْكَ مَعَهُمْ فَصَلِّ، وَلَا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالعالیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد نے کسی نماز کو اس کے وقت سے مؤخر کردیا میں نے عبداللہ بن صامت رحمہ اللہ سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر کہا کہ یہی سوال میں نے اپنے دوست حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا تو انہوں نے میری ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہی سوال میں نے اپنے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نماز تو اپنے وقت پر پڑھ لیا کرو اگر ان لوگوں کے ساتھ شریک ہونا پڑے تو دوبارہ ان کے ساتھ (نفل کی نیت سے) نماز پڑھ لیا کرو یہ نہ کہا کرو کہ میں تو نماز پڑھ چکا ہوں لہٰذا اب نہیں پڑھتا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21423]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 648
الحكم: إسناده صحيح، م: 648
حدیث نمبر: 21424 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَحَدُكُمْ قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّهُ يَسْتُرُهُ إِذَا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلُ آخِرَةِ الرَّحْلِ، فَإِنَّهُ يَقْطَعُ صَلَاتَهُ الْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ"، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، مَا بَالُ الْكَلْبِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَحْمَرِ مِنَ الْكَلْبِ الْأَصْفَرِ؟ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ:" الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ شَيْطَانٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر انسان کے سامنے کجاوے کا پچھلا حصہ بھی نہ ہو تو اس کی نماز عورت، گدھے یا کالے کتے کے اس کے آگے سے گذرنے پر ٹوٹ جائے گی، راوی نے پوچھا کہ کالے اور سرخ کتے میں کیا فرق ہے؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا بھیتجے! میں نے بھی اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا تھا جیسے تم نے مجھ سے پوچھا ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21424]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 510
الحكم: إسناده صحيح، م: 510
حدیث نمبر: 21425 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَبَيْنَا أَنَا فِي حَلَقَةٍ فِيهَا مَلَأٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَاتَّبَعْتُهُ حَتَّى جَلَسَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَا رَأَيْتُ هَؤُلَاءِ إِلَّا كَرِهُوا مَا قُلْتَ لَهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ خَلِيلِي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانِي، فَقَالَ: " يَا أَبَا ذَرٍّ" فَأَجَبْتُهُ، فَقَالَ:" هَلْ تَرَى أُحُدًا؟" فَنَظَرْتُ مَا عَلاَ مِنَ الشَّمْسِ وَأَنَا أَظُنُّهُ يَبْعَثُنِي فِي حَاجَةٍ، فَقُلْتُ: أَرَاهُ، قَالَ:" مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي مِثْلَهُ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ كُلَّهُ إِلَّا ثَلَاثَةَ الدَّنَانِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
احنف بن قیس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا میں ایک حلقے میں " جس میں قریش کے کچھ لوگ بھی بیٹھے ہوئے تھے " شریک تھا کہ ایک آدمی آیا (اس نے ان کے قریب آکر کہا کہ مال و دولت جمع کرنے والوں کو خوشخبری ہو اس داغ کی جو ان کی پشت کی طرف سے داغا جائے گا اور ان کے پیٹ سے نکل جائے گا اور گدی کی جانب سے ایک داغ کی جو ان کی پیشانی سے نکل جائے گا پھر وہ ایک طرف چلا گیا میں اس کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ وہ ایک ستون کے قریب جا کر بیٹھ گیا میں نے اس سے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ لوگ آپ کی بات سے خوش نہیں ہوئے؟ اس نے کہا کہ ایک مرتبہ میرے خلیل ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے ابوذر! میں نے لبیک کہا، انہوں نے فرمایا احد پہاڑ دیکھ رہے ہو؟ میں نے اوپر نگاہ اٹھا کر سورج کو دیکھا کیونکہ میرا خیال تھا کہ وہ مجھے کسی کام سے بھیجیں گے سو میں نے عرض کیا کہ دیکھ رہا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس پہاڑ کے برابر میرے پاس سونا ہو، میں اس سارے کو خرچ کردوں گا سوائے تین دنانیر کے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21425]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1408، م: 992
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1408، م: 992
حدیث نمبر: 21426 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، سُوَيْدَ بْنَ الْحَارِثِ ، أَبَا ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ الْحَارِثِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، قَالَ شُعْبَةُ، أَوْ قَالَ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا، أَدَعُ مِنْهُ يَوْمَ أَمُوتُ دِينَارًا أَوْ نِصْفَ دِينَارٍ إِلَّا لِغَرِيمٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ میرے لئے احد پہاڑ کو سونے کا بنادیا جائے اور جس دن میں دنیا سے رخصت ہو کر جاؤں تو اس میں سے ایک یا آدھا دینار بھی میرے پاس بچ گیا ہو الاّ یہ کہ میں اسے کسی قرض خواہ کے لئے رکھ لوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21426]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سويد بن الحارث
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سويد بن الحارث
حدیث نمبر: 21427 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَشْيَاءَ يُؤْجَرُ فِيهَا الرَّجُلُ حَتَّى ذَكَرَ لِي غَشَيَانَ أَهْلِهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُؤْجَرُ فِي شَهْوَتِهِ يُصِيبُهَا؟! قَالَ: " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ آثِمًا، أَلَيْسَ كَانَ يَكُونُ عَلَيْهِ الْوِزْرُ؟!" فَقَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَكَذَلِكَ يُؤْجَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ ایسی چیزوں کا تذکرہ فرمایا جن پر انسان کو ثواب ملتا ہے اور ان میں اپنی بیوی کے " پاس آنے " کو بھی ذکر فرمایا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا انسان کو اپنی خواہش کی تکمیل پر بھی ثواب ملتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ بتاؤ کہ اگر وہ گناہگار ہوتا تو اسے اس پر عذاب نہ ہوتا؟ لوگوں نے کہا جی ہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس طرح عذاب ہوتا ہے اس طرح ثواب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21427]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1006، وسنده منقطع، أبوالبختري لم يدرك أبا ذر
الحكم: حديث صحيح، م: 1006، وسنده منقطع، أبوالبختري لم يدرك أبا ذر
حدیث نمبر: 21428 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عِمْرَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثَةٍ " اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِعَبْدٍ مُجَدَّعِ الْأَطْرَافِ، وَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا، ثُمَّ انْظُرْ أَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ فَأَصِبْهُمْ مِنْهُ بِمَعْرُوفٍ، وَصَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، إِذَا وَجَدْتَ الْإِمَامَ قَدْ صَلَّى فَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، وَإِلَّا فَهِيَ نَافِلَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مجھے میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت فرمائی ہے (١) بات سنو اور اطاعت کرو اگرچہ کٹے ہوئے اعضاء والے غلام حکمران کی ہو (٢) جب سالن بناؤ تو اس کا پانی بڑھالیا کرو پھر اپنے ہمسائے میں رہنے والوں کو دیکھو اور بھلے طریقے سے ان تک بھی اسے پہنچاؤ (٣) اور نماز کو وقت مقررہ پر ادا کیا کرو اور جب تم امام کو نماز پڑھ کر فارغ دیکھو تو تم اپنی نماز پڑھ ہی چکے ہوگے ورنہ وہ نفلی نماز ہوجائے گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21428]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 648
الحكم: إسناده صحيح، م: 648