بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21416
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21416
حدیث نمبر: 21416 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي أَسْمَاءَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ وَهُوَ بِالرَّبَذَةِ وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ مشْبَعة لَيْسَ عَلَيْهَا أَثَرُ الْمَجَاسِدِ وَلَا الْخَلُوقِ، قَالَ: فَقَالَ: أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَا تَأْمُرُنِي بِهِ هَذِهِ السُّوَيْدَاءُ؟! تَأْمُرُنِي أَنْ آتِيَ الْعِرَاقَ، فَإِذَا أَتَيْتُ الْعِرَاقَ مَالُوا عَلَيَّ بِدُنْيَاهُمْ، وَإِنَّ خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ" أَنَّ دُونَ جِسْرِ جَهَنَّمَ طَرِيقًا ذَا دَحْضٍ وَمَزِلَّةٍ، وَإِنَّا نَأْتِي عَلَيْهِ وَفِي أَحْمَالِنَا اقْتِدَارٌ"، وَحَدَّثَ مَطَرٌ أَيْضًا بِالْحَدِيثِ أَجْمَعَ فِي قَوْلِ أَحَدِهِمَا: أَنْ نَأْتِيَ عَلَيْهِ وَفِي أَحْمَالِنَا اقْتِدَارٌ، وَقَالَ الْآخَرُانْ: نَأْتِيَ عَلَيْهِ وَفِي أَحْمَالِنَا اضْطِمَارٌ أَحْرَى أَنْ نَنْجُوَ، مِنْ أَنْ نَأْتِيَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ مَوَاقِيرُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو اسماء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے جب کہ وہ مقام ربذہ میں تھے ان کے پاس ان کی سیاہ فام صحت مند بیوی بھی تھی لیکن اس پر بناؤ سنگھار یا خوشبو کے کوئی اثرات نہ تھے انہوں نے مجھ سے فرمایا اس حبشن کو دیکھو یہ مجھے کیا کہتی ہے؟ یہ کہتی ہے کہ میں عراق چلا جاؤں جب میں عراق جاؤں گا تو وہاں کے لوگ اپنی دنیا کے ساتھ میرے پاس آئیں گے اور میرے خلیل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے وصیت کی ہے کہ جہنم کے پل پر ایک راستہ ہوگا جو لڑکھڑانے اور پھسلن والا ہوگا اس لئے جب ہم اس پل پر پہنچیں تو ہمارے سامان میں کوئی وزنی چیز نہ ہونا اس بات سے زیادہ بہتر ہے کہ ہم وہاں سامان کے بوجھ تلے دبے ہوئے پہنچیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21416]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (21415) باب پر واپس اگلی حدیث (21417) →