عَفَّانُ ، مَهْدِيٌّ ، وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا وَاصِلٌ الْأَحْدَبُ ، عَنْ مَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ، يَقُولُ: " أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَأَخْبَرَنِي أَوْ قَالَ: فَبَشَّرَنِي، شَكَّ مَهْدِيٌّ، أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ"، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ:" وَإِنْ زَنَى، وَإِنْ سَرَقَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے خوشخبری دی کہ میری امت میں سے جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا وہ بدکاری اور چوری کرتا رہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگرچہ وہ بدکاری اور چوری کرتا پھرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21414]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1237، م: 94
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1237، م: 94