أَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَمْرُو بْنِ بُجْدَانَ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَمْرُو بْنِ بُجْدَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَاءَ عَشْرَ سِنِينَ، فَإِذَا وَجَدَهُ فَلْيُمِسَّهُ بَشَرَهُ فَإِنَّ ذَلِكَ هُوَ خَيْرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (ایک مرتبہ ان پر غسل واجب ہوگیا وہ اسی حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے پانی منگوایا انہوں نے پردے کے پیچھے غسل کیا پھر) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا پاک مٹی مسلمان کے لئے وضو ہے اگرچہ اسے دس سال تک پانی نہ ملے جب پانی مل جائے تو اسے جسم پر بہا لے کہ یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21568]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد حسن