بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، أَيُّوبُ بْنُ بُشَيْرٍ ، فُلَانٍ الْعَنَزِيِّ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ ذَكْوَانَ ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ بْنُ بُشَيْرٍ ، عَنْ فُلَانٍ الْعَنَزِيِّ ، وَلَمْ يَقُلْ الْغُبَرِيّ، أَنَّهُ أَقْبَلَ مَعَ أَبِي ذَرٍّ ، فَلَمَّا رَجَعَ تَقَطَّعَ النَّاسُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا ذَرٍّ، إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ بَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ سِرًّا مِنْ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، قُلْتُ: لَيْسَ بِسِرٍّ، وَلَكِنْ" كَانَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ يَأْخُذُ بِيَدِهِ يُصَافِحُهُ؟" قَالَ: عَلَى الْخَبِيرِ سَقَطْتَ، لَمْ يَلْقَنِي قَطُّ إِلَّا أَخَذَ بِيَدِي غَيْرَ مَرَّةٍ وَاحِدَةٍ، وَكَانَتْ تِلْكَ آخِرَهُنَّ، أَرْسَلَ إِلَيَّ فَأَتَيْتُهُ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَوَجَدْتُهُ مُضْطَجِعًا فَأَكْبَبْتُ عَلَيْهِ، فَرَفَعَ يَدَهُ فَالْتَزَمَنِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
فلان عنزی کہتے ہیں کہ وہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ساتھ کہیں سے واپس آرہے تھے راستے میں ایک جگہ لوگ منتشر ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوذر! میں آپ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں انہوں نے فرمایا اگر کوئی راز کی بات ہوئی تو وہ نہیں بتاؤں گا میں نے عرض کیا کہ راز کی بات نہیں ہے اگر کوئی آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ فرماتے تھے؟ انہوں نے فرمایا تم نے ایک باخبر آدمی سے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جب بھی میری ملاقات ہوئی انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے مصافحہ فرمایا سوائے ایک مرتبہ کے اور وہ سب سے آخر میں واقعہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قاصد بھیج کر مجھے بلایا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں تھے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لیٹا ہوا دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھک گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور مجھے سینے سے لگالیا۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21443]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة العنزي وأيوب بن بشير
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة العنزي وأيوب بن بشير