بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 21445
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 21445
حدیث نمبر: 21445 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: كُنْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ خَرَجْنَا مِنْ حَاشِي الْمَدِينَةِ، فَقَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَإِنْ جِئْتَ وَقَدْ صَلَّى الْإِمَامُ كُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ قَبْلَ ذَلِكَ، وَإِنْ جِئْتَ وَلَمْ يُصَلِّ صَلَّيْتَ مَعَهُ، وَكَانَتْ صَلَاتُكَ لَكَ نَافِلَةً، وَكُنْتَ قَدْ أَحْرَزْتَ صَلَاتَكَ، يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ جَاعُوا حَتَّى لَا تَبْلُغَ مَسْجِدَكَ مِنَ الْجَهْدِ، أَوْ لَا تَرْجِعَ إِلَى فِرَاشِكَ مِنَ الْجَهْدِ، فَكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ؟"، قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! قَالَ:" تَصَبَّرْ"، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ مَاتُوا حَتَّى يَكُونَ الْبَيْتُ بِالْعَبْدِ فَكَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ؟" قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! قَالَ:" تَعَفَّفْ"، قَالَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَرَأَيْتَ إِنْ النَّاسُ قُتِلُوا حَتَّى تَغْرَقَ حِجَارَةُ الزَّيْتِ مِنَ الدِّمَاءِ، كَيْفَ أَنْتَ صَانِعٌ؟" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ! قَالَ:" تَدْخُلُ بَيْتَكَ" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ أَنَا دُخِلَ عَلَيَّ؟ قَالَ:" تَأْتِي مَنْ أَنْتَ مِنْهُ"، قَالَ: قُلْتُ: وَأَحْمِلُ السِّلَاحَ؟ قَالَ:" إِذًا شَارَكْتَ"، قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنْ خِفْتَ أَنْ يَبْهَرَكَ شُعَاعُ السَّيْفِ، فَأَلْقِ طَائِفَةً مِنْ رِدَائِكَ عَلَى وَجْهِكَ، يَبُؤْ بِإِثْمِكَ وَإِثْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے اور مجھے اپنا ردیف بنالیا اور فرمایا ابوذر! یہ بتاؤ کہ جب لوگ شدید قحط میں مبتلا ہوجائیں گے اور تم اپنے بستر سے اٹھ کر مسجد تک نہیں جاسکو گے تو اس وقت تم کیا کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس وقت بھی اپنے آپ کو سوال کرنے سے بچانا پھر فرمایا ابوذر! یہ بتاؤ کہ جب لوگ شدت کے ساتھ بکثرت مرنے لگیں گے اور آدمی کا گھر قبر ہی ہوگی تو تم کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس وقت بھی صبر کرنا، پھر فرمایا ابوذر! یہ بتاؤ کہ جب لوگ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے اور حجارۃ الزیت " خون میں ڈوب جائے گا تو تم کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اپنے گھر میں بیٹھ جانا اور اس کا دروازہ اندر سے بند کرلینا۔ انہوں نے پوچھا کہ اگر مجھے گھر میں رہنے ہی نہ دیا جائے تو کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر تم ان لوگوں کے پاس چلے جانا جن میں سے تم ہو اور ان میں شامل ہوجانا انہوں نے عرض کیا میں تو اپنا اسلحہ پکڑ لوں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تو تم بھی ان کے شریک سمجھے جاؤ گے اس لئے اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تلوار کی دھار سے تمہیں خطرہ ہے تو تم اپنی چادر اپنے چہرے پر ڈال لینا تاکہ وہ اپنا اور تمہارا گناہ لے کر لوٹ جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21445]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 648
الحكم: إسناده صحيح، م: 648
← پچھلی حدیث (21444) باب پر واپس اگلی حدیث (21446) →