بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الزخرف
سورۃ الزخرف — 89 آیات — صفحہ 1 از 2
قرآن کریم Surah 43
حٰمٓ ۚ﴿ۛ۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ح م
مولانا محمد جوناگڑھی
حٰم
احمد رضا خان بریلوی
حٰمٓ
علامہ محمد حسین نجفی
حا۔ میم۔
عبدالسلام بن محمد
حم۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن لوح محفوظ میں ہے ٭٭

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں۔ جس کے الفاظ نورانی ہیں، جو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ یہ اس لیے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں۔ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے ۱؎ «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏ ’ عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے۔ ‘ اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تا کہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کر لیں۔ فرمایا کہ ’ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ‘ «لَدَيْنَا» سے مراد ہمارے پاس۔ «لَعَلِيٌّ» سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ «حَكِيمٌ» سے مراد محکم، مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہو جانے سے پاک ہے۔

اور آیت میں اس پاک کلام کی بزرگی کا بیان ان الفاظ میں ہے آیت «‏‏‏‏اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ» ‏‏‏‏ الخ ۱؎ [56-الواقعة:77] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اسے بجز پاک فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ لگا نہیں پاتا یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [80-عبس:16-11] ‏‏‏‏، ’ قرآن نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے وہ ایسے صحیفوں میں سے ہے جو معزز ہیں بلند مرتبہ ہیں اور مقدس ہیں جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ذی عزت اور پاک ہیں۔ ‘ ان دونوں آیتوں سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے جیسے کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو جائے۔ اس لیے کہ عالم بالا میں فرشتے اس کتاب کی عزت و تعظیم کرتے ہیں جس میں یہ قرآن لکھا ہوا ہے۔ پس اس عالم میں ہمیں بطور اولیٰ اس کی بہت زیادہ تکریم و تعظیم کرنی چاہیئے کیونکہ یہ زمین والوں کی طرف ہی بھیجا گیا ہے اور اس کا خطاب انہی سے ہے تو انہیں اس کی بہت زیادہ تعظیم اور ادب کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اس کے احکام کو تسلیم کر کے ان پر عامل بن جانا چاہیئے کیونکہ رب کا فرمان ہے کہ یہ ہمارے ہاں ام الکتاب میں ہے اور بلند پایہ اور باحکمت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اطاعت گذاری اور فرمانبرداری نہ کرنے کے ہم تم کو چھوڑ دیں گے اور تمہیں عذاب نہ کریں گے؟ ‘ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’ اس امت کے پہلے گزرنے والوں نے جب اس قرآن کو جھٹلایا اسی وقت اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو تمام دنیا ہلاک کر دی جاتی۔ ‘ لیکن اللہ کی وسیع رحمت نے اسے پسند نہ فرمایا اور برابر بیس سال سے زیادہ تک یہ قرآن اترتا رہا اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی لطف و رحمت ہے کہ وہ نہ ماننے والوں کے انکار اور بد باطن لوگوں کی شرارت کی وجہ سے انہیں نصیحت و موعظت کرنی نہیں چھوڑتا تاکہ جو ان میں نیکی والے ہیں وہ درست ہو جائیں اور جو درست نہیں ہوتے ان پر حجت تمام ہو جائے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ آپ اپنی قوم کی تکذیب پر گھبرائیں نہیں۔ صبر و برداشت کیجئے۔ ان سے پہلے کی جو قومیں تھیں ان کے پاس بھی ہم نے اپنے رسول و نبی بھیجے تھے اور انہیں ہلاک کر دیا وہ آپ کے زمانے کے لوگوں سے زیادہ زور اور اور باہمت اور توانا ہاتھوں والے تھے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً» ۱؎ [40-غافر:82] ‏‏‏‏، ’ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں؟ کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے تعداد میں اور قوت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اگلوں کی مثالیں گزر چکیں ‘ یعنی عادتیں، سزائیں، عبرتیں۔ جیسے اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے «فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:56] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں گذرے ہوئے اور بعد والوں کے لیے عبرتیں بنا دیا۔‘ اور جیسے فرمان ہے آیت «سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا» ۱؎ [40-غافر:85] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ کا طریقہ جو اپنے بندوں میں پہلے سے چلا آیا ہے اور تو اسے بدلتا ہوا نہ پائے گا۔‘
تفسیر احسن البیان
(آیت 1){ حٰمٓ:} حروف مقطعات کی بحث کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت(۱) کی تفسیر۔
وَ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۙ﴿ۛ۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قسم ہے اِس واضح کتاب کی
مولانا محمد جوناگڑھی
قسم ہے اس واضح کتاب کی
احمد رضا خان بریلوی
روشن کتاب کی قسم
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے اس واضح کتاب کی۔
عبدالسلام بن محمد
اس کتاب کی قسم جو کھول کر بیان کرنے والی ہے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن لوح محفوظ میں ہے ٭٭

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں۔ جس کے الفاظ نورانی ہیں، جو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ یہ اس لیے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں۔ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے ۱؎ «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏ ’ عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے۔ ‘ اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تا کہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کر لیں۔ فرمایا کہ ’ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ‘ «لَدَيْنَا» سے مراد ہمارے پاس۔ «لَعَلِيٌّ» سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ «حَكِيمٌ» سے مراد محکم، مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہو جانے سے پاک ہے۔

اور آیت میں اس پاک کلام کی بزرگی کا بیان ان الفاظ میں ہے آیت «‏‏‏‏اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ» ‏‏‏‏ الخ ۱؎ [56-الواقعة:77] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اسے بجز پاک فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ لگا نہیں پاتا یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [80-عبس:16-11] ‏‏‏‏، ’ قرآن نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے وہ ایسے صحیفوں میں سے ہے جو معزز ہیں بلند مرتبہ ہیں اور مقدس ہیں جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ذی عزت اور پاک ہیں۔ ‘ ان دونوں آیتوں سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے جیسے کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو جائے۔ اس لیے کہ عالم بالا میں فرشتے اس کتاب کی عزت و تعظیم کرتے ہیں جس میں یہ قرآن لکھا ہوا ہے۔ پس اس عالم میں ہمیں بطور اولیٰ اس کی بہت زیادہ تکریم و تعظیم کرنی چاہیئے کیونکہ یہ زمین والوں کی طرف ہی بھیجا گیا ہے اور اس کا خطاب انہی سے ہے تو انہیں اس کی بہت زیادہ تعظیم اور ادب کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اس کے احکام کو تسلیم کر کے ان پر عامل بن جانا چاہیئے کیونکہ رب کا فرمان ہے کہ یہ ہمارے ہاں ام الکتاب میں ہے اور بلند پایہ اور باحکمت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اطاعت گذاری اور فرمانبرداری نہ کرنے کے ہم تم کو چھوڑ دیں گے اور تمہیں عذاب نہ کریں گے؟ ‘ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’ اس امت کے پہلے گزرنے والوں نے جب اس قرآن کو جھٹلایا اسی وقت اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو تمام دنیا ہلاک کر دی جاتی۔ ‘ لیکن اللہ کی وسیع رحمت نے اسے پسند نہ فرمایا اور برابر بیس سال سے زیادہ تک یہ قرآن اترتا رہا اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی لطف و رحمت ہے کہ وہ نہ ماننے والوں کے انکار اور بد باطن لوگوں کی شرارت کی وجہ سے انہیں نصیحت و موعظت کرنی نہیں چھوڑتا تاکہ جو ان میں نیکی والے ہیں وہ درست ہو جائیں اور جو درست نہیں ہوتے ان پر حجت تمام ہو جائے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ آپ اپنی قوم کی تکذیب پر گھبرائیں نہیں۔ صبر و برداشت کیجئے۔ ان سے پہلے کی جو قومیں تھیں ان کے پاس بھی ہم نے اپنے رسول و نبی بھیجے تھے اور انہیں ہلاک کر دیا وہ آپ کے زمانے کے لوگوں سے زیادہ زور اور اور باہمت اور توانا ہاتھوں والے تھے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً» ۱؎ [40-غافر:82] ‏‏‏‏، ’ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں؟ کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے تعداد میں اور قوت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اگلوں کی مثالیں گزر چکیں ‘ یعنی عادتیں، سزائیں، عبرتیں۔ جیسے اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے «فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:56] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں گذرے ہوئے اور بعد والوں کے لیے عبرتیں بنا دیا۔‘ اور جیسے فرمان ہے آیت «سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا» ۱؎ [40-غافر:85] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ کا طریقہ جو اپنے بندوں میں پہلے سے چلا آیا ہے اور تو اسے بدلتا ہوا نہ پائے گا۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 2){ وَ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ:} قسم اس بات کا یقین دلانے کے لیے اٹھائی جاتی ہے جو اس کے جواب میں کہی جاتی ہے، پھر بعض اوقات کسی چیز کی قسم اس کی عظمت کے پیشِ نظر کھائی جاتی ہے، تاکہ مخاطب کو بات کا یقین آ جائے، مثلاً اللہ تعالیٰ کی قسم اور بعض اوقات قسم جواب قسم کی دلیل ہوتی ہے۔ قرآن مجید کی اکثر قسمیں ایسی ہی ہیں۔ {” الْكِتٰبِ “} پر الف لام عہد کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ” اس کتاب کی قسم“ کیا گیا ہے۔ یہاں قرآن مجید کی صفت {” الْمُبِيْنِ “} کو اس بات کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا ہے کہ اسے عربی قرآن بنا کر نازل کرنے والے ہم ہیں۔ اس کا ہر بات کو اتنے عمدہ طریقے سے کھول کر بیان کرنا شاہد ہے کہ یہ کسی انسان یا دوسری مخلوق کا کلام نہیں بلکہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔
اِنَّا جَعَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ۚ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہ ہم نے اِسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اِسے سمجھو
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے کہ تم سمجھ لو
احمد رضا خان بریلوی
ہم نے اسے عربی قرآن اتارا کہ تم سمجھو
علامہ محمد حسین نجفی
کہ ہم نے اس کو عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم سمجھو۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم نے اسے عربی قرآن بنایا، تاکہ تم سمجھو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن لوح محفوظ میں ہے ٭٭

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں۔ جس کے الفاظ نورانی ہیں، جو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ یہ اس لیے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں۔ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے ۱؎ «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏ ’ عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے۔ ‘ اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تا کہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کر لیں۔ فرمایا کہ ’ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ‘ «لَدَيْنَا» سے مراد ہمارے پاس۔ «لَعَلِيٌّ» سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ «حَكِيمٌ» سے مراد محکم، مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہو جانے سے پاک ہے۔

اور آیت میں اس پاک کلام کی بزرگی کا بیان ان الفاظ میں ہے آیت «‏‏‏‏اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ» ‏‏‏‏ الخ ۱؎ [56-الواقعة:77] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اسے بجز پاک فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ لگا نہیں پاتا یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [80-عبس:16-11] ‏‏‏‏، ’ قرآن نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے وہ ایسے صحیفوں میں سے ہے جو معزز ہیں بلند مرتبہ ہیں اور مقدس ہیں جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ذی عزت اور پاک ہیں۔ ‘ ان دونوں آیتوں سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے جیسے کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو جائے۔ اس لیے کہ عالم بالا میں فرشتے اس کتاب کی عزت و تعظیم کرتے ہیں جس میں یہ قرآن لکھا ہوا ہے۔ پس اس عالم میں ہمیں بطور اولیٰ اس کی بہت زیادہ تکریم و تعظیم کرنی چاہیئے کیونکہ یہ زمین والوں کی طرف ہی بھیجا گیا ہے اور اس کا خطاب انہی سے ہے تو انہیں اس کی بہت زیادہ تعظیم اور ادب کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اس کے احکام کو تسلیم کر کے ان پر عامل بن جانا چاہیئے کیونکہ رب کا فرمان ہے کہ یہ ہمارے ہاں ام الکتاب میں ہے اور بلند پایہ اور باحکمت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اطاعت گذاری اور فرمانبرداری نہ کرنے کے ہم تم کو چھوڑ دیں گے اور تمہیں عذاب نہ کریں گے؟ ‘ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’ اس امت کے پہلے گزرنے والوں نے جب اس قرآن کو جھٹلایا اسی وقت اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو تمام دنیا ہلاک کر دی جاتی۔ ‘ لیکن اللہ کی وسیع رحمت نے اسے پسند نہ فرمایا اور برابر بیس سال سے زیادہ تک یہ قرآن اترتا رہا اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی لطف و رحمت ہے کہ وہ نہ ماننے والوں کے انکار اور بد باطن لوگوں کی شرارت کی وجہ سے انہیں نصیحت و موعظت کرنی نہیں چھوڑتا تاکہ جو ان میں نیکی والے ہیں وہ درست ہو جائیں اور جو درست نہیں ہوتے ان پر حجت تمام ہو جائے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ آپ اپنی قوم کی تکذیب پر گھبرائیں نہیں۔ صبر و برداشت کیجئے۔ ان سے پہلے کی جو قومیں تھیں ان کے پاس بھی ہم نے اپنے رسول و نبی بھیجے تھے اور انہیں ہلاک کر دیا وہ آپ کے زمانے کے لوگوں سے زیادہ زور اور اور باہمت اور توانا ہاتھوں والے تھے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً» ۱؎ [40-غافر:82] ‏‏‏‏، ’ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں؟ کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے تعداد میں اور قوت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اگلوں کی مثالیں گزر چکیں ‘ یعنی عادتیں، سزائیں، عبرتیں۔ جیسے اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے «فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:56] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں گذرے ہوئے اور بعد والوں کے لیے عبرتیں بنا دیا۔‘ اور جیسے فرمان ہے آیت «سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا» ۱؎ [40-غافر:85] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ کا طریقہ جو اپنے بندوں میں پہلے سے چلا آیا ہے اور تو اسے بدلتا ہوا نہ پائے گا۔‘
3۔ 1 جو دنیا کی فصیح ترین زبان ہے، دوسرے، اس کے اولین مخاطب بھی عرب تھے، انہی کی زبان میں قرآن اتارا تاکہ وہ سمجھنا چاہیں تو آسانی سے سمجھ سکیں۔
(آیت 3){ اِنَّا جَعَلْنٰهُ قُرْءٰنًا عَرَبِيًّا …:} اس آیت میں یہ یقین دلانے کے ساتھ کہ اس کتاب کو ہم نے ہی نازل کیا ہے، اسے عربی قرآن بنا کر نازل کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت (۲) کی تفسیر۔
وَ اِنَّہٗ فِیۡۤ اُمِّ الۡکِتٰبِ لَدَیۡنَا لَعَلِیٌّ حَکِیۡمٌ ؕ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور در حقیقت یہ ام الکتاب میں ثبت ہے، ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً یہ لوح محفوظ میں ہے اور ہمارے نزدیک بلند مرتبہ حکمت والی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک وہ اصل کتاب میں ہمارے پاس ضرور بلندی و حکمت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک وہ (قرآن) اصل کتاب (لوحِ محفوظ) میں جو ہمارے پاس ہے بلند مرتبہ (اور) حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک وہ ہمارے پاس اصل کتاب میں یقینا بہت بلند، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن لوح محفوظ میں ہے ٭٭

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں۔ جس کے الفاظ نورانی ہیں، جو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ یہ اس لیے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں۔ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے ۱؎ «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏ ’ عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے۔ ‘ اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تا کہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کر لیں۔ فرمایا کہ ’ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ‘ «لَدَيْنَا» سے مراد ہمارے پاس۔ «لَعَلِيٌّ» سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ «حَكِيمٌ» سے مراد محکم، مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہو جانے سے پاک ہے۔

اور آیت میں اس پاک کلام کی بزرگی کا بیان ان الفاظ میں ہے آیت «‏‏‏‏اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ» ‏‏‏‏ الخ ۱؎ [56-الواقعة:77] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اسے بجز پاک فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ لگا نہیں پاتا یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [80-عبس:16-11] ‏‏‏‏، ’ قرآن نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے وہ ایسے صحیفوں میں سے ہے جو معزز ہیں بلند مرتبہ ہیں اور مقدس ہیں جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ذی عزت اور پاک ہیں۔ ‘ ان دونوں آیتوں سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے جیسے کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو جائے۔ اس لیے کہ عالم بالا میں فرشتے اس کتاب کی عزت و تعظیم کرتے ہیں جس میں یہ قرآن لکھا ہوا ہے۔ پس اس عالم میں ہمیں بطور اولیٰ اس کی بہت زیادہ تکریم و تعظیم کرنی چاہیئے کیونکہ یہ زمین والوں کی طرف ہی بھیجا گیا ہے اور اس کا خطاب انہی سے ہے تو انہیں اس کی بہت زیادہ تعظیم اور ادب کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اس کے احکام کو تسلیم کر کے ان پر عامل بن جانا چاہیئے کیونکہ رب کا فرمان ہے کہ یہ ہمارے ہاں ام الکتاب میں ہے اور بلند پایہ اور باحکمت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اطاعت گذاری اور فرمانبرداری نہ کرنے کے ہم تم کو چھوڑ دیں گے اور تمہیں عذاب نہ کریں گے؟ ‘ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’ اس امت کے پہلے گزرنے والوں نے جب اس قرآن کو جھٹلایا اسی وقت اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو تمام دنیا ہلاک کر دی جاتی۔ ‘ لیکن اللہ کی وسیع رحمت نے اسے پسند نہ فرمایا اور برابر بیس سال سے زیادہ تک یہ قرآن اترتا رہا اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی لطف و رحمت ہے کہ وہ نہ ماننے والوں کے انکار اور بد باطن لوگوں کی شرارت کی وجہ سے انہیں نصیحت و موعظت کرنی نہیں چھوڑتا تاکہ جو ان میں نیکی والے ہیں وہ درست ہو جائیں اور جو درست نہیں ہوتے ان پر حجت تمام ہو جائے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ آپ اپنی قوم کی تکذیب پر گھبرائیں نہیں۔ صبر و برداشت کیجئے۔ ان سے پہلے کی جو قومیں تھیں ان کے پاس بھی ہم نے اپنے رسول و نبی بھیجے تھے اور انہیں ہلاک کر دیا وہ آپ کے زمانے کے لوگوں سے زیادہ زور اور اور باہمت اور توانا ہاتھوں والے تھے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً» ۱؎ [40-غافر:82] ‏‏‏‏، ’ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں؟ کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے تعداد میں اور قوت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اگلوں کی مثالیں گزر چکیں ‘ یعنی عادتیں، سزائیں، عبرتیں۔ جیسے اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے «فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:56] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں گذرے ہوئے اور بعد والوں کے لیے عبرتیں بنا دیا۔‘ اور جیسے فرمان ہے آیت «سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا» ۱؎ [40-غافر:85] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ کا طریقہ جو اپنے بندوں میں پہلے سے چلا آیا ہے اور تو اسے بدلتا ہوا نہ پائے گا۔‘
4۔ 1 اس میں قرآن کریم کی اس عظمت اور شرف کا بیان ہے جو ملاء اعلٰی میں اسے حاصل ہے تاکہ اہل زمین بھی اس کے شرف و عظمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کو قرار واقعی اہمیت دیں اور اس سے ہدایت کا وہ مقصد حاصل کریں جس کے لئے اسے دنیا میں اتارا گیا ہے اُمْ الْکِتَابِ سے مراد لوح محفوظ ہے۔
(آیت 4) ➊ {وَ اِنَّهٗ فِيْۤ اُمِّ الْكِتٰبِ:اُمِّ الْكِتٰبِ “} کا معنی ہے ” کتاب کا اصل۔“ اکثر مفسرین نے اس سے مراد لوح محفوظ لیا ہے، جہاں سے تمام آسمانی کتابیں نازل ہوئی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ (21) فِيْ لَوْحٍ مَّحْفُوْظٍ» [البروج: ۲۱، ۲۲ ] ”بلکہ وہ ایک بڑی شان والا قرآن ہے۔ اس تختی میں (لکھا ہوا) ہے جس کی حفاظت کی گئی ہے۔“ اور فرمایا: «اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ (77) فِيْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍ (78) لَّا يَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (79) تَنْزِيْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الواقعۃ: ۷۷ تا ۸۰ ] ”کہ بلاشبہ یہ یقینا ایک باعزت پڑھی جانے والی چیز ہے۔ ایک ایسی کتاب میں جو چھپا کر رکھی ہوئی ہے۔ اسے کوئی ہاتھ نہیں لگاتا مگر جو بہت پاک کیے ہوئے ہیں۔ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔“ بعض مفسرین نے فرمایا کہ {” اُمِّ الْكِتٰبِ “} سے مراد اللہ تعالیٰ کا علم ہے جو ہر آسمانی کتاب کا اصل ہے۔ لوح محفوظ کا اصل بھی وہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ» [ النمل: ۶ ] ”اور بلاشبہ یقینا تجھے یہ قرآن ایک کمال حکمت والے، سب کچھ جاننے والے کے پاس سے عطا کیا جاتا ہے۔“ ➋ {لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيْمٌ: ”لَدَيْ“} اور {”عِنْدَ“} دونوں کا معنی ”کسی کے پاس“ ہونا ہے، مگر {”لَدَيْ“} خاص قرب کے لیے ہے اور {”عِنْدَ“} عام کے لیے۔ چنانچہ {”اَلْمَالُ عِنْدَ زَيْدٍ“} (مال زید کے پاس ہے) اس مال کے لیے بھی آتا ہے جو اس کے پاس حاضر ہو اور اس مال کے لیے بھی جو اس کے خزانے میں ہو، جبکہ {”اَلْمَالُ لَدَيْ زَيْدٍ“} صرف اس مال کے لیے آتا ہے جو اس کے پاس حاضر ہو۔ (تفسیر ثنائی) {” لَعَلِيٌّ “} یعنی یہ قرآن ہمارے علم میں (یا لوحِ محفوظ میں) ہمارے پاس یعنی ہمارے خاص قرب میں بہت بلند مرتبے والا ہے، ملاءِاعلیٰ میں اس کا بہت اونچا مقام ہے، تمام کتابوں اور تمام علوم سے برتر اور بلند ہے۔ {” حَكِيْمٌ “} یعنی کمال حکمت اور دانائی کی باتوں سے بھرا ہوا ہے، اس کی ہر بات دانائی پر مشتمل اور صحیح عقل کے عین مطابق ہے۔ {” حَكِيْمٌ “} کا معنی محکم بھی ہے، یعنی یہ قرآن ایسا مضبوط و محکم ہے کہ نہ اس میں کسی طرح باطل کی آمیزش ہو سکتی ہے نہ باطل اس کے مقابلے میں ٹھہر سکتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ لَا مِنْ خَلْفِهٖ تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ» [ حٰمٓ السجدۃ: ۴۲ ] ”اس کے پاس باطل نہ اس کے آگے سے آتا ہے اور نہ اس کے پیچھے سے، ایک کمال حکمت والے، تمام خوبیوں والے کی طرف سے اتاری ہوئی ہے۔“ مزید دیکھیے سورۂ ہود (۱) مراد اس آیت سے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس قرآن کی قدر و منزلت ذہن نشین کروانا ہے، تاکہ کوئی شخص اسے معمولی سمجھ کر اس پر ایمان لانے اور اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم نہ رہے۔ اسی بلند مرتبے کا اظہار {” اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ “} اور {” بَلْ هُوَ قُرْاٰنٌ مَّجِيْدٌ “} کے الفاظ کے ساتھ فرمایا ہے۔ دیکھیے سورۂ واقعہ (۷۷) اور سورۂ بروج (۲۱)۔
اَفَنَضۡرِبُ عَنۡکُمُ الذِّکۡرَ صَفۡحًا اَنۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّسۡرِفِیۡنَ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا چھوڑ دیں صرف اِس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہم محض اس لئے نصیحت سے منہ پھیرلیں کہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا ہم تم سے اس نصیحت کو ہٹا لیں، اعراض کرتے ہوئے، اس وجہ سے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن لوح محفوظ میں ہے ٭٭

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں۔ جس کے الفاظ نورانی ہیں، جو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ یہ اس لیے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں۔ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے ۱؎ «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏ ’ عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے۔ ‘ اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تا کہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کر لیں۔ فرمایا کہ ’ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ‘ «لَدَيْنَا» سے مراد ہمارے پاس۔ «لَعَلِيٌّ» سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ «حَكِيمٌ» سے مراد محکم، مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہو جانے سے پاک ہے۔

اور آیت میں اس پاک کلام کی بزرگی کا بیان ان الفاظ میں ہے آیت «‏‏‏‏اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ» ‏‏‏‏ الخ ۱؎ [56-الواقعة:77] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اسے بجز پاک فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ لگا نہیں پاتا یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [80-عبس:16-11] ‏‏‏‏، ’ قرآن نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے وہ ایسے صحیفوں میں سے ہے جو معزز ہیں بلند مرتبہ ہیں اور مقدس ہیں جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ذی عزت اور پاک ہیں۔ ‘ ان دونوں آیتوں سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے جیسے کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو جائے۔ اس لیے کہ عالم بالا میں فرشتے اس کتاب کی عزت و تعظیم کرتے ہیں جس میں یہ قرآن لکھا ہوا ہے۔ پس اس عالم میں ہمیں بطور اولیٰ اس کی بہت زیادہ تکریم و تعظیم کرنی چاہیئے کیونکہ یہ زمین والوں کی طرف ہی بھیجا گیا ہے اور اس کا خطاب انہی سے ہے تو انہیں اس کی بہت زیادہ تعظیم اور ادب کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اس کے احکام کو تسلیم کر کے ان پر عامل بن جانا چاہیئے کیونکہ رب کا فرمان ہے کہ یہ ہمارے ہاں ام الکتاب میں ہے اور بلند پایہ اور باحکمت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اطاعت گذاری اور فرمانبرداری نہ کرنے کے ہم تم کو چھوڑ دیں گے اور تمہیں عذاب نہ کریں گے؟ ‘ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’ اس امت کے پہلے گزرنے والوں نے جب اس قرآن کو جھٹلایا اسی وقت اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو تمام دنیا ہلاک کر دی جاتی۔ ‘ لیکن اللہ کی وسیع رحمت نے اسے پسند نہ فرمایا اور برابر بیس سال سے زیادہ تک یہ قرآن اترتا رہا اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی لطف و رحمت ہے کہ وہ نہ ماننے والوں کے انکار اور بد باطن لوگوں کی شرارت کی وجہ سے انہیں نصیحت و موعظت کرنی نہیں چھوڑتا تاکہ جو ان میں نیکی والے ہیں وہ درست ہو جائیں اور جو درست نہیں ہوتے ان پر حجت تمام ہو جائے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ آپ اپنی قوم کی تکذیب پر گھبرائیں نہیں۔ صبر و برداشت کیجئے۔ ان سے پہلے کی جو قومیں تھیں ان کے پاس بھی ہم نے اپنے رسول و نبی بھیجے تھے اور انہیں ہلاک کر دیا وہ آپ کے زمانے کے لوگوں سے زیادہ زور اور اور باہمت اور توانا ہاتھوں والے تھے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً» ۱؎ [40-غافر:82] ‏‏‏‏، ’ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں؟ کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے تعداد میں اور قوت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اگلوں کی مثالیں گزر چکیں ‘ یعنی عادتیں، سزائیں، عبرتیں۔ جیسے اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے «فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:56] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں گذرے ہوئے اور بعد والوں کے لیے عبرتیں بنا دیا۔‘ اور جیسے فرمان ہے آیت «سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا» ۱؎ [40-غافر:85] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ کا طریقہ جو اپنے بندوں میں پہلے سے چلا آیا ہے اور تو اسے بدلتا ہوا نہ پائے گا۔‘
5۔ 1 اس کے مختلف معنی کئے گئے ہیں مثلاً 1۔ تم چونکہ گناہوں میں بہت بڑھ چکے ہو اور ان پر مصر ہو، اس لئے کہ یہ گمان کرتے ہو کہ ہم وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیں گے؟ 2۔ یا تمہارے کفر اور اسراف پر ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے اور تم سے درگزر کرلیں گے 3۔ یا تمہیں ہلاک کردیں گے اور کسی چیز کا تمہیں حکم دیں نہ منع کریں، 4۔ چونکہ تم قرآن پر ایمان لانے والے نہیں ہو۔
(آیت 5) ➊ {اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا: ”ضَرَبَ“} کا صلہ جب {”عَنْ“} آئے تو اس کا معنی {”صَرَفَ عَنْهُ“} (پھرنا، اعراض کرنا) آتا ہے۔ {” صَفْحًا”صَفَحَ عَنْهُ“} کا مصدر ہے، اس کا معنی بھی اعراض کرنا ہے۔ اب {” اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا “ } کی کئی ترکیبیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ مصدر مفعول مطلق ہے تاکید کے لیے، کیونکہ {” اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمْ “} کا معنی بھی اعراض کرنا ہے اور{ ” صَفْحًا “ } کا بھی یہی معنی ہے۔ گویا یہ مصدر مفعول مطلق فعل کے ہم معنی لفظ کے ساتھ ہے، جیسے {”قَعَدْتُ جُلُوْسًا“} ہے۔ معنی یہ ہو گا کہ ”کیا ہم یہ نصیحت تم سے ہٹا لیں، بالکل ہٹا لینا؟“ اور ایک یہ کہ {” صَفْحًا “} مفعول لہ یا حال ہے، یعنی ”کیا ہم تم سے یہ نصیحت اپنے اعراض کی وجہ سے یا اعراض کرتے ہوئے ہٹا لیں؟“ ➋ { اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِيْنَ:اَنْ “} سے پہلے لام جارہ محذوف ہے اور {” كُنْتُمْ “} میں استمرار ہے: {”أَيْ لِأَنْ كُنْتُمْ“} ”اس لیے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ چلے آئے ہو۔“ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اتنا بلند مرتبہ قرآن تمھاری زبان میں تمھارے سمجھانے کے لیے نازل کیا، مگر تم زیادتی اور اسراف پر ڈٹے رہے اور مسلسل انکار کرتے رہے، تو کیا تمھارے اس مسلسل اسراف و انکار کی وجہ سے ہم اعراض کرتے ہوئے تم سے اس نصیحت کو ہٹا لیں اور تمھیں سمجھانا چھوڑ دیں؟ یعنی ہم ایسا نہیں کریں گے اور نہ یہ ہماری رحمت کا تقاضا ہے، کیونکہ تمھارا اسراف اور گمراہی تو قرآن اتارے جانے کا اصل سبب ہے۔ چنانچہ ان کے انکار کے باوجود قرآن تیئیس برس تک اترتا رہا، بے شمار سعید روحیں اس پر ایمان لائیں اور جو کفر پر ڈٹے رہے ان پر حجت قائم ہو گئی اور ان کی پشتوں سے بھی لا تعداد لوگ اسلام کے حلقۂ گوش بنے۔
وَ کَمۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ نَّبِیٍّ فِی الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے اگلے لوگوں میں بھی کتنے ہی نبی بھیجے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے کتنے ہی غیب بتانے والے (نبی) اگلوں میں بھیجے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے پہلے لوگوں میں کتنے ہی نبی(ع) بھیجے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کتنے ہی نبی ہم نے پہلے لوگوں میں بھیجے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن لوح محفوظ میں ہے ٭٭

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں۔ جس کے الفاظ نورانی ہیں، جو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ یہ اس لیے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں۔ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے ۱؎ «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏ ’ عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے۔ ‘ اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تا کہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کر لیں۔ فرمایا کہ ’ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ‘ «لَدَيْنَا» سے مراد ہمارے پاس۔ «لَعَلِيٌّ» سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ «حَكِيمٌ» سے مراد محکم، مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہو جانے سے پاک ہے۔

اور آیت میں اس پاک کلام کی بزرگی کا بیان ان الفاظ میں ہے آیت «‏‏‏‏اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ» ‏‏‏‏ الخ ۱؎ [56-الواقعة:77] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اسے بجز پاک فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ لگا نہیں پاتا یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [80-عبس:16-11] ‏‏‏‏، ’ قرآن نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے وہ ایسے صحیفوں میں سے ہے جو معزز ہیں بلند مرتبہ ہیں اور مقدس ہیں جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ذی عزت اور پاک ہیں۔ ‘ ان دونوں آیتوں سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے جیسے کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو جائے۔ اس لیے کہ عالم بالا میں فرشتے اس کتاب کی عزت و تعظیم کرتے ہیں جس میں یہ قرآن لکھا ہوا ہے۔ پس اس عالم میں ہمیں بطور اولیٰ اس کی بہت زیادہ تکریم و تعظیم کرنی چاہیئے کیونکہ یہ زمین والوں کی طرف ہی بھیجا گیا ہے اور اس کا خطاب انہی سے ہے تو انہیں اس کی بہت زیادہ تعظیم اور ادب کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اس کے احکام کو تسلیم کر کے ان پر عامل بن جانا چاہیئے کیونکہ رب کا فرمان ہے کہ یہ ہمارے ہاں ام الکتاب میں ہے اور بلند پایہ اور باحکمت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اطاعت گذاری اور فرمانبرداری نہ کرنے کے ہم تم کو چھوڑ دیں گے اور تمہیں عذاب نہ کریں گے؟ ‘ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’ اس امت کے پہلے گزرنے والوں نے جب اس قرآن کو جھٹلایا اسی وقت اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو تمام دنیا ہلاک کر دی جاتی۔ ‘ لیکن اللہ کی وسیع رحمت نے اسے پسند نہ فرمایا اور برابر بیس سال سے زیادہ تک یہ قرآن اترتا رہا اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی لطف و رحمت ہے کہ وہ نہ ماننے والوں کے انکار اور بد باطن لوگوں کی شرارت کی وجہ سے انہیں نصیحت و موعظت کرنی نہیں چھوڑتا تاکہ جو ان میں نیکی والے ہیں وہ درست ہو جائیں اور جو درست نہیں ہوتے ان پر حجت تمام ہو جائے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ آپ اپنی قوم کی تکذیب پر گھبرائیں نہیں۔ صبر و برداشت کیجئے۔ ان سے پہلے کی جو قومیں تھیں ان کے پاس بھی ہم نے اپنے رسول و نبی بھیجے تھے اور انہیں ہلاک کر دیا وہ آپ کے زمانے کے لوگوں سے زیادہ زور اور اور باہمت اور توانا ہاتھوں والے تھے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً» ۱؎ [40-غافر:82] ‏‏‏‏، ’ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں؟ کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے تعداد میں اور قوت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اگلوں کی مثالیں گزر چکیں ‘ یعنی عادتیں، سزائیں، عبرتیں۔ جیسے اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے «فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:56] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں گذرے ہوئے اور بعد والوں کے لیے عبرتیں بنا دیا۔‘ اور جیسے فرمان ہے آیت «سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا» ۱؎ [40-غافر:85] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ کا طریقہ جو اپنے بندوں میں پہلے سے چلا آیا ہے اور تو اسے بدلتا ہوا نہ پائے گا۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 7،6) {وَ كَمْ اَرْسَلْنَا مِنْ نَّبِيٍّ فِي الْاَوَّلِيْنَ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے اور جھٹلانے والوں کے لیے تنبیہ۔ یعنی آپ پہلے نبی نہیں جسے جھٹلایا گیا ہو اور جس کا مذاق اڑایا گیا ہو اور نہ یہ پہلے مذاق اڑانے والے ہیں، بلکہ آپ سے پہلے لوگوں میں ہم نے کتنے ہی نبی بھیجے، ان کا حال بھی یہی تھا کہ ان کے پاس جو نبی آتا وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے، مگر نہ ہم نے نصیحت کا سلسلہ ترک کیا اور نہ پیغمبروں کا سلسلہ بند کیا، تو ان کے مسرف و منکر ہونے کی وجہ سے ہم انھیں نصیحت کرنا کیوں چھوڑیں گے؟
وَ مَا یَاۡتِیۡہِمۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ اِلَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی اُن کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اُس کا مذاق نہ اڑایا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
جو نبی ان کے پاس آیا انہوں نے اس کا مذاق اڑایا
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے پاس جو غیب بتانے والا (نبی) آیا اس کی ہنسی ہی بنایا کیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے پاس کوئی نبی(ع) نہیںایا مگریہ کہ وہ اس کامذاق اڑاتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے پاس کوئی نبی نہیں آتا تھا مگر وہ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن لوح محفوظ میں ہے ٭٭

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں۔ جس کے الفاظ نورانی ہیں، جو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ یہ اس لیے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں۔ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے ۱؎ «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏ ’ عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے۔ ‘ اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تا کہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کر لیں۔ فرمایا کہ ’ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ‘ «لَدَيْنَا» سے مراد ہمارے پاس۔ «لَعَلِيٌّ» سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ «حَكِيمٌ» سے مراد محکم، مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہو جانے سے پاک ہے۔

اور آیت میں اس پاک کلام کی بزرگی کا بیان ان الفاظ میں ہے آیت «‏‏‏‏اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ» ‏‏‏‏ الخ ۱؎ [56-الواقعة:77] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اسے بجز پاک فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ لگا نہیں پاتا یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [80-عبس:16-11] ‏‏‏‏، ’ قرآن نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے وہ ایسے صحیفوں میں سے ہے جو معزز ہیں بلند مرتبہ ہیں اور مقدس ہیں جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ذی عزت اور پاک ہیں۔ ‘ ان دونوں آیتوں سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے جیسے کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو جائے۔ اس لیے کہ عالم بالا میں فرشتے اس کتاب کی عزت و تعظیم کرتے ہیں جس میں یہ قرآن لکھا ہوا ہے۔ پس اس عالم میں ہمیں بطور اولیٰ اس کی بہت زیادہ تکریم و تعظیم کرنی چاہیئے کیونکہ یہ زمین والوں کی طرف ہی بھیجا گیا ہے اور اس کا خطاب انہی سے ہے تو انہیں اس کی بہت زیادہ تعظیم اور ادب کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اس کے احکام کو تسلیم کر کے ان پر عامل بن جانا چاہیئے کیونکہ رب کا فرمان ہے کہ یہ ہمارے ہاں ام الکتاب میں ہے اور بلند پایہ اور باحکمت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اطاعت گذاری اور فرمانبرداری نہ کرنے کے ہم تم کو چھوڑ دیں گے اور تمہیں عذاب نہ کریں گے؟ ‘ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’ اس امت کے پہلے گزرنے والوں نے جب اس قرآن کو جھٹلایا اسی وقت اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو تمام دنیا ہلاک کر دی جاتی۔ ‘ لیکن اللہ کی وسیع رحمت نے اسے پسند نہ فرمایا اور برابر بیس سال سے زیادہ تک یہ قرآن اترتا رہا اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی لطف و رحمت ہے کہ وہ نہ ماننے والوں کے انکار اور بد باطن لوگوں کی شرارت کی وجہ سے انہیں نصیحت و موعظت کرنی نہیں چھوڑتا تاکہ جو ان میں نیکی والے ہیں وہ درست ہو جائیں اور جو درست نہیں ہوتے ان پر حجت تمام ہو جائے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ آپ اپنی قوم کی تکذیب پر گھبرائیں نہیں۔ صبر و برداشت کیجئے۔ ان سے پہلے کی جو قومیں تھیں ان کے پاس بھی ہم نے اپنے رسول و نبی بھیجے تھے اور انہیں ہلاک کر دیا وہ آپ کے زمانے کے لوگوں سے زیادہ زور اور اور باہمت اور توانا ہاتھوں والے تھے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً» ۱؎ [40-غافر:82] ‏‏‏‏، ’ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں؟ کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے تعداد میں اور قوت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اگلوں کی مثالیں گزر چکیں ‘ یعنی عادتیں، سزائیں، عبرتیں۔ جیسے اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے «فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:56] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں گذرے ہوئے اور بعد والوں کے لیے عبرتیں بنا دیا۔‘ اور جیسے فرمان ہے آیت «سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا» ۱؎ [40-غافر:85] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ کا طریقہ جو اپنے بندوں میں پہلے سے چلا آیا ہے اور تو اسے بدلتا ہوا نہ پائے گا۔‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاَہۡلَکۡنَاۤ اَشَدَّ مِنۡہُمۡ بَطۡشًا وَّ مَضٰی مَثَلُ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جو لوگ اِن سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے اُنہیں ہم نے ہلاک کر دیا، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ہم نے ان سے زیاده زور آوروں کو تباه کر ڈاﻻ اور اگلوں کی مثال گزر چکی ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے وہ ہلاک کردیے جو ان سے بھی پکڑ میں سخت تھے اور اگلوں کا حال گزر چکا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر ہم نے ان لوگوں کو ہلاک کر دیا جو ان (موجودہ منکرین) سے زیادہ طاقتور تھے اور پہلے لوگوں کی مثال (حالت) گزر چکی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے ان سے زیادہ سخت پکڑ والوں کو ہلاک کر دیا اور پہلے لوگوں کی مثال گزر چکی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قرآن لوح محفوظ میں ہے ٭٭

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں۔ جس کے الفاظ نورانی ہیں، جو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ یہ اس لیے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں۔ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے ۱؎ «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏ ’ عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے۔ ‘ اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تا کہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کر لیں۔ فرمایا کہ ’ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ‘ «لَدَيْنَا» سے مراد ہمارے پاس۔ «لَعَلِيٌّ» سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ «حَكِيمٌ» سے مراد محکم، مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہو جانے سے پاک ہے۔

اور آیت میں اس پاک کلام کی بزرگی کا بیان ان الفاظ میں ہے آیت «‏‏‏‏اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ» ‏‏‏‏ الخ ۱؎ [56-الواقعة:77] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اسے بجز پاک فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ لگا نہیں پاتا یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [80-عبس:16-11] ‏‏‏‏، ’ قرآن نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے وہ ایسے صحیفوں میں سے ہے جو معزز ہیں بلند مرتبہ ہیں اور مقدس ہیں جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ذی عزت اور پاک ہیں۔ ‘ ان دونوں آیتوں سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے جیسے کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو جائے۔ اس لیے کہ عالم بالا میں فرشتے اس کتاب کی عزت و تعظیم کرتے ہیں جس میں یہ قرآن لکھا ہوا ہے۔ پس اس عالم میں ہمیں بطور اولیٰ اس کی بہت زیادہ تکریم و تعظیم کرنی چاہیئے کیونکہ یہ زمین والوں کی طرف ہی بھیجا گیا ہے اور اس کا خطاب انہی سے ہے تو انہیں اس کی بہت زیادہ تعظیم اور ادب کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اس کے احکام کو تسلیم کر کے ان پر عامل بن جانا چاہیئے کیونکہ رب کا فرمان ہے کہ یہ ہمارے ہاں ام الکتاب میں ہے اور بلند پایہ اور باحکمت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اطاعت گذاری اور فرمانبرداری نہ کرنے کے ہم تم کو چھوڑ دیں گے اور تمہیں عذاب نہ کریں گے؟ ‘ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’ اس امت کے پہلے گزرنے والوں نے جب اس قرآن کو جھٹلایا اسی وقت اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو تمام دنیا ہلاک کر دی جاتی۔ ‘ لیکن اللہ کی وسیع رحمت نے اسے پسند نہ فرمایا اور برابر بیس سال سے زیادہ تک یہ قرآن اترتا رہا اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی لطف و رحمت ہے کہ وہ نہ ماننے والوں کے انکار اور بد باطن لوگوں کی شرارت کی وجہ سے انہیں نصیحت و موعظت کرنی نہیں چھوڑتا تاکہ جو ان میں نیکی والے ہیں وہ درست ہو جائیں اور جو درست نہیں ہوتے ان پر حجت تمام ہو جائے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ آپ اپنی قوم کی تکذیب پر گھبرائیں نہیں۔ صبر و برداشت کیجئے۔ ان سے پہلے کی جو قومیں تھیں ان کے پاس بھی ہم نے اپنے رسول و نبی بھیجے تھے اور انہیں ہلاک کر دیا وہ آپ کے زمانے کے لوگوں سے زیادہ زور اور اور باہمت اور توانا ہاتھوں والے تھے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً» ۱؎ [40-غافر:82] ‏‏‏‏، ’ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں؟ کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے تعداد میں اور قوت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اگلوں کی مثالیں گزر چکیں ‘ یعنی عادتیں، سزائیں، عبرتیں۔ جیسے اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے «فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:56] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں گذرے ہوئے اور بعد والوں کے لیے عبرتیں بنا دیا۔‘ اور جیسے فرمان ہے آیت «سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا» ۱؎ [40-غافر:85] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ کا طریقہ جو اپنے بندوں میں پہلے سے چلا آیا ہے اور تو اسے بدلتا ہوا نہ پائے گا۔‘
8۔ 1 یعنی اہل مکہ سے زیادہ زور آور تھے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (ۭكَانُوْٓا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَاَشَدَّ قُوَّةً) 40۔ غافر:82) ' وہ ان سے تعداد اور قوت میں کہیں زیادہ تھے۔
(آیت 8) ➊ { فَاَهْلَكْنَاۤ اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا:} یعنی ان کفار مکہ کی کیا حیثیت ہے، جو لوگ قوت اور گرفت میں ان سے کہیں زیادہ تھے ہم نے انھیں ہلاک کر دیا۔ اگر یہ اپنی روش سے باز نہ آئے تو انھیں بھی اپنا انجام سوچ لینا چاہیے۔ {” اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِيْنَ “} میں جن قریشِ مکہ کو مخاطب کیا تھا اب {” اَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا “} میں ان کا ذکر غائب کے صیغے کے ساتھ ہے، یہ التفات ہے، مقصود ناراضی کا اظہار ہے۔ ➋ { وَ مَضٰى مَثَلُ الْاَوَّلِيْنَ:} یعنی قرآن میں ایسے پہلے لوگوں کی مثال گزر چکی ہے۔ {” مَثَلُ “} کا معنی صفت اور حال بھی ہوتا ہے، یعنی پہلے لوگوں کا حال گزر چکا ہے، جیسے قومِ نوح اور عاد و ثمود وغیرہ۔ {”مَضٰي يَمْضِيْ“} کا معنی ہے جاری ہونا، یعنی پہلے لوگوں کی مثال چل پڑی اور ان کے قصے مشہور ہو گئے، جنھیں لوگ نسل در نسل بیان کرتے چلے آئے۔
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ خَلَقَہُنَّ الۡعَزِیۡزُ الۡعَلِیۡمُ ﴿ۙ۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر تم اِن لوگوں سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اُسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں غالب و دانا (اللہ) نے ہی پیدا کیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم ان سے پوچھو کہ آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے انہیں بنایا اس عزت والے علم والے نے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ انہیں اس ہستی نے پیدا کیا ہے جو غالب ہے اور ہمہ دان۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ اگر تو ان سے پوچھے کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقینا ضرور کہیں گے کہ انھیں سب پر غالب، سب کچھ جاننے والے نے پیدا کیا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصلی زاد راہ تقویٰ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہری ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو، پھرو، رہو، سہو، اٹھو، بیٹھو، سوؤ، جاگو۔ ‘ ’ حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو۔ ‘
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 9) ➊ { وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ:} یہاں سے کفار کے قول و فعل کا تضاد واضح کیا جا رہا ہے کہ یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کرتے ہیں اور قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر پیش ہونے کو ناممکن قرار دیتے ہیں، حالانکہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو وہ یقینا کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ تو پھر یہ کیا ستم ہے کہ یہ لوگ اس ذات کے ساتھ جس نے آسمان و زمین اور پوری کائنات کو پیدا کیا، ایسی ہستیوں کو شریک کر رہے ہیں جنھوں نے ایک ذرہ بھی پیدا نہیں کیا۔ پھر ظاہر ہے کہ یہ بات کہ آسمانوں اور زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، پہلے رسولوں کے بتانے ہی سے لوگوں کو معلوم ہوئی۔ اہل عرب کو بھی اس بات کا علم ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام کے بتانے سے ہوا، کیونکہ عوام الناس اتنی اہلیت ہی نہیں رکھتے کہ کائنات کی حقیقتیں خود معلوم کر سکیں۔ تو جب یہ پہلے رسولوں کو مانتے ہیں تو انھی کی تعلیم لے کر آنے والے اس پیغمبر پر کیوں ایمان نہیں لاتے؟ ایک طرف تو یہ اللہ تعالیٰ کو اس وقت آسمان و زمین پیدا کرنے پر قادر مانتے ہیں جب ان کا وجود ہی نہیں تھا تو دوسری طرف اسے اتنا بے بس قرار دیتے ہیں کہ وہ اس چیز کو دوبارہ نہیں بنا سکتا جو اس نے پہلے بنائی تھی۔ ➋ { لَيَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ:} مشرکینِ عرب کی طرف سے اس سوال کا جواب کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا یہی تھا کہ انھیں ” اللہ“نے پیدا کیا ہے، جیسا کہ سورۂ لقمان (۲۵) اور سورۂ زمر (۳۸) میں فرمایا: «وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ» ‏‏‏‏ ”اور بلاشبہ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ ضرور ہی کہیں گے کہ اللہ نے۔“ یہاں اسی بات کو ان الفاظ میں ادا فرمایا کہ وہ کہیں گے کہ انھیں اسی عزیز و علیم نے پیدا کیا ہے۔ کیونکہ ان کے اس اعتراف کا کہ ”انھیں اللہ نے پیدا کیا“ لازمی تقاضا ہے کہ وہ یہ اعتراف بھی کریں کہ وہ عزیز و علیم ہے، کیونکہ کامل غلبے اور کمال علم کے بغیر آسمان و زمین کا پیدا کرنا ممکن نہیں۔
الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ مَہۡدًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ فِیۡہَا سُبُلًا لَّعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۚ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہی نا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنا دیے تاکہ تم اپنی منزل مقصود کی راہ پاسکو
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش (بچھونا) بنایا اور اس میں تمہارے لیے راستے کردیے تاکہ تم راه پالیا کرو
احمد رضا خان بریلوی
جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا کیا اورتمہارے لیے اس میں راستے کیے کہ تم راہ پاؤ
علامہ محمد حسین نجفی
وہی جس نے زمین کو تمہارے لئے گہوارہ بنایا اور اس میں تمہارے لئے راستے بنا دئیے تاکہ تم (منزل تک) راہ پاؤ۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا بنایا اور اس میں تمھارے لیے راستے بنائے، تاکہ تم راہ پاؤ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اصلی زاد راہ تقویٰ ہے ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر تم ان مشرکین سے دریافت کرو تو یہ اس بات کا اقرار کریں گے کہ زمین و آسمان کا خالق اللہ تعالیٰ ہے پھر یہی اس کی وحدانیت کو جان کر اور مان کر عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جس نے زمین کو فرش اور ٹھہری ہوئی قرار گاہ اور ثابت و مضبوط بنایا جس پر تم چلو، پھرو، رہو، سہو، اٹھو، بیٹھو، سوؤ، جاگو۔ ‘ ’ حالانکہ یہ زمین خود پانی پر ہے لیکن مضبوط پہاڑوں کے ساتھ اسے ہلنے جلنے سے روک دیا ہے اور اس میں راستے بنا دئیے ہیں تاکہ تم ایک شہر سے دوسرے شہر کو ایک ملک سے دوسرے ملک کو پہنچ سکو۔ ‘
10۔ 1 ایسا بچھونا، جس میں ثبات وقرار ہے، تم اس پر چلتے ہو، کھڑے ہوتے اور سوتے ہو اور جہاں چاہتے ہو، پھرتے ہو اس نے اس کو پہاڑوں کے ذریعے سے جما دیا تاکہ اس میں حرکت و جنبش نہ ہو۔ 10۔ 2 یعنی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں اور ایک ملک سے دوسرے ملک میں جانے کے لئے راستے بنا دیئے تاکہ کاروباری، تجارتی اور دیگر مقاصد کے لئے تم آجا سکو۔
(آیت 10) ➊ {الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا:} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے انھیں مخاطب کرتے ہوئے اپنے احسانات گنوانے شروع فرمائے۔ چنانچہ یہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، ان کا قول نہیں، ورنہ الفاظ یہ ہوتے: {” اَلَّذِيْ جَعَلَ لَنَا الْأَرْضَ مَهْدًا… “} ”وہ جس نے ہمارے لیے زمین کو بچھونا بنا دیا.......۔“ ➋ {” مَهْدًا “} کا معنی بچھونا بھی ہے اور بچے کا گہوارہ بھی، یعنی جس طرح آدمی بچھونے میں آرام سے لیٹا ہوتا ہے ایسے ہی تمھارے لیے اس عظیم الشان کُرے کو آرام کی جگہ بنا دیا، جو فضا میں معلق ہے، جو ایک طرف اپنے محور پر ایک ہزار (۱۰۰۰) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہا ہے اور دوسری طرف چھیاسٹھ ہزار چھ سو (۶۶۶۰۰) میل فی گھنٹہ کی رفتار سے رواں دواں ہے، جس کے پیٹ میں پتھروں تک کو پگھلا دینے والی اور شدید زلزلے پیدا کرنے والی آگ موجود ہے، جو کبھی کبھی آتش فشانوں کی شکل میں لاوا اگل کر تمھیں بھی اپنے وجود سے آگاہ کرتی ہے، مگر اس کے باوجود تمھارے مالک نے پہاڑوں کے ساتھ اسے ایسا متوازن اور پرسکون بنا دیا ہے کہ تم آرام سے اس پر چلتے پھرتے، سوتے اور آرام کرتے ہو۔ تمھیں معمولی جھٹکا بھی نہیں لگتا اور احساس تک نہیں ہوتا کہ تم بندوق کی گولی سے بھی تیز رفتار گاڑی پر سوار ہو۔ ہاں، کبھی کبھی اس کی کوئی ہلکی سی جھرجھری زلزلے کی شکل میں تمھیں آگاہ کرتی ہے کہ کتنی خوفناک بلا کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے تابع فرمان کر رکھا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ حجر (۱۹)، رعد (۳) اور سورۂ نحل (۱۵)۔ ➌ { وَ جَعَلَ لَكُمْ فِيْهَا سُبُلًا لَّعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ:} اللہ تعالیٰ نے یہاں زمین میں راستے بنانے کو اپنا احسان قرار دیا۔ پہاڑوں کے اندر درّے اور میدانوں اور پہاڑوں میں دریاؤں کے کنارے وہ قدرتی راستے ہیں جن کی مدد سے انسان ساری زمین پر پھیلا ہے اور ایک دوسرے کے پاس آمد و رفت رکھتا ہے۔ ان کے علاوہ صحراؤں اور میدانوں میں امتیازی نشانات آدمی کو راستے مقرر کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اگر پہاڑ ٹھوس دیوار کی شکل میں ہوتے یا میدانوں اور صحراؤں میں راستوں کی علامات نہ ہوتیں تو آدمی جہاں پیدا ہوا تھا وہیں مقید ہو کر رہ جاتا۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۱۵، ۱۶)۔
وَ الَّذِیۡ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ ۚ فَاَنۡشَرۡنَا بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا ۚ کَذٰلِکَ تُخۡرَجُوۡنَ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ سے مردہ زمین کو جلا اٹھایا، اِسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کیے جاؤ گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی نے آسمان سے ایک اندازے کے مطابق پانی نازل فرمایا، پس ہم نے اس سے مرده شہر کو زنده کردیا۔ اسی طرح تم نکالے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جس نے آسمان سے پانی اتارا ایک اندازے سے تو ہم نے اس سے ایک مردہ شہر زندہ فرمادیا، یونہی تم نکالے جاؤ گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس نے ایک خاص مقدارمیں آسمان سے پا نی اتارا پھر ہم نے اس سے مردہ (خشک) زمین کو زندہ کر دیا اسی طرح تم (قبروں سے) نکالے جاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جس نے آسمان سے ایک اندازے کے ساتھ پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ ایک مردہ شہر کو زندہ کر دیا، اسی طرح تم نکالے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آیات ۱۱ تا ۱۴

اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہو جائے کھیتیاں اور باغات سرسبز رہیں پھلیں پھولیں اور پانی تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے میں بھی آئے پھر اس مینہ سے مردہ زمین زندہ کر دی خشکی تری سے بدل گئی جنگل لہلہا اٹھے پھل پھول اگنے لگے اور طرح طرح کے خوشگوار میوے پیدا ہو گئے پھر اسی کو مردہ انسانوں کے جی اٹھنے کی دلیل بنایا۔ اور فرمایا ’ اسی طرح تم قبروں سے نکالے جاؤ گے اس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے کھیتیاں پھل پھول ترکاریاں اور میوے وغیرہ طرح طرح کی چیزیں اس نے پیدا کر دیں۔ ‘ مختلف قسم کے حیوانات تمہارے نفع کے لیے پیدا کئے کشتیاں سمندروں کے سفر کے لیے اور چوپائے جانور خشکی کے سفر کے لیے مہیا کر دئیے ان میں سے بہت سے جانوروں کے گوشت تم کھاتے ہو بہت سے تمہیں دودھ دیتے ہیں بہت سے تمہاری سواریوں کے کام آتے ہیں۔ تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں تم ان پر سواریاں لیتے ہو اور خوب مزے سے ان پر سوار ہوتے ہو۔ اب تمہیں چاہیئے کہ جم کر بیٹھ جانے کے بعد اپنے رب کی نعمت یاد کرو کہ اس نے کیسے کیسے طاقتور وجود تمہارے قابو میں کر دئیے۔ اور یوں کہو کہ وہ اللہ پاک ذات والا ہے جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا اگر وہ اسے ہمارا مطیع نہ کرتا تو ہم اس قابل نہ تھے نہ ہم میں اتنی طاقت تھی۔ اور ہم اپنی موت کے بعد اسی کی طرف جانے والے ہیں اس آمدورفت سے اور اس مختصر سفر سے سفر آخرت یاد کرو۔ جیسے کہ دنیا کے توشے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے توشے کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا ’ توشہ لے لیا کرو لیکن بہترین توشہ آخرت کا توشہ ہے ‘ اور دنیوی لباس کے ذکر کے موقعہ پر اخروی لباس کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا ’ لباس تقوٰی افضل و بہتر ہے ـ‘

سواری پر سوار ہوتے وقت دعاؤں کی حدیثیں ٭٭

”سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعاؤں کی حدیثیں:“ حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اپنی سواری پر سوار ہونے لگے تو رکاب پر پیر رکھتے ہی فرمایا «بِسْمِ اللَّـهِ» جب جم کر بیٹھ گئے تو فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» پھر تین مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» پھر فرمایا «سُبْحَانك لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْت نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي» پھر ہنس دئیے۔ میں نے پوچھا امیر المؤمنین آپ ہنسے کیوں؟ فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ کیا پھر ہنس دئیے تو میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { جب بندے کے منہ سے اللہ تعالیٰ سنتا ہے کہ وہ کہتا ہے «رَبّ اِغْفِرْ لِي» میرے رب مجھے بخش دے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔} ۱؎ [سنن ابوداود:2602،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابوداؤد ترمذی نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ٹھیک جب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» کہا تین مرتبہ «سُبْحَانَ الله» اور ایک مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہا پھر اس پر چت لیٹنے کی طرح ہو کر ہنس دئیے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے ”جو شخص کسی جانور پر سوار ہو کر اس طرح کرے جس طرح میں نے کیا تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی طرح ہنس دیتا ہے جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنسا۔ } ۱؎ [مسند احمد:330/1:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی اپنی سواری پر سوار ہوتے تین مرتبہ تکبیر کہہ کر ان دونوں آیات قرآنی کی تلاوت کرتے پھر یہ دعا مانگتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرّ وَالتَّقْوَى وَمِنْ الْعَمَل مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَر وَاطْوِ لَنَا الْبَعِيد اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِب فِي السَّفَر وَالْخَلِيفَة فِي الْأَهْل اللَّهُمَّ اِصْحَبْنَا فِي سَفَرنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلنَا» یا اللہ میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا طالب ہوں اور ان اعمال کا جن سے تو خوش ہو جائے اے اللہ ہم پر ہمارا سفر آسان کر دے اور ہمارے لیے دوری کو لپیٹ لے پروردگار تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا نگہبان ہے میرے معبود ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے گھروں میں ہماری جانشینی فرما۔ اور جب آپ سفر سے واپس گھر کی طرف لوٹتے تو فرماتے «آيِبُونَ تَائِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّه عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» یعنی واپس لوٹنے والے توبہ کرنے والے ان شاءاللہ عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1342] ‏‏‏‏

ابو لاس خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سواری کے لیے ہمیں عطا فرمایا کہ ہم اس پر سوار ہو کر حج کو جائیں ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نہیں دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس پر سوار کرائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو! ہر اونٹ کی کوہان میں شیطان ہوتا ہے تم جب اس پر سوار ہو تو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو پھر اسے اپنے لیے خادم بنا لو، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے۔}۱؎ [مسند احمد:221/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابولاس رضی اللہ عنہ کا نام محمد بن اسود بن خلف ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہے تو تم جب اس پر سواری کرو تو اللہ کا نام لیا کرو پھر اپنی حاجتوں میں کمی نہ کرو۔} ۱؎ [مسند احمد:494/3:حسن صحیح] ‏‏‏‏
11۔ 1 جس سے تمہاری ضرورت پوری ہو سکے، کیونکہ قدرت حاجت سے کم بارش ہوتی وہ تمہارے لئے مفید ثابت نہ ہوتی اور زیادہ ہوتی تو وہ طوفان بن جاتی، جس سے تمہارے ڈوبنے اور ہلاک ہونے کا خطرہ ہوتا۔ 11۔ 2 یعنی جس طرح بارش سے مردہ زمین شاداب ہوجاتی ہے۔ اسی طرح قیامت والے دن تمہیں بھی زندہ کر کے قبروں سے نکال لیا جائے گا۔
(آیت 11) ➊ {وَ الَّذِيْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مومنون کی آیت(۱۸) کی تفسیر۔ ➋ { فَاَنْشَرْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا:وَ الَّذِيْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءًۢ بِقَدَرٍ “} میں اپنا ذکر غائب کے صیغے سے کیا اور {” فَاَنْشَرْنَا بِهٖ “} میں جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ فرمایا، اس سے مقصود اپنی شہنشاہی اور عظمت کا اظہار ہے کہ ہم ہیں جو بارش کے ساتھ مردہ شہر کو زندہ کر دیتے ہیں، کسی دوسرے میں نہ یہ طاقت ہے اور نہ ہی کوئی دوسرا اس میں شریک ہے۔ ➌ { كَذٰلِكَ تُخْرَجُوْنَ:} بارش کے ساتھ مردہ زمین زندہ کر دینے کو قیامت کی دلیل کے طور پر پیش فرمایا کہ جس طرح ہم مردہ زمین کو بارش کے ساتھ زندہ اور آباد کر دیتے ہیں ایسے ہی تمھیں زندہ کر کے قبروں سے نکال کھڑا کریں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ نحل (۶۵)، حج (6،5)، روم (۵۰)، فاطر (۹) اور سورۂ یس (34،33)۔
وَ الَّذِیۡ خَلَقَ الۡاَزۡوَاجَ کُلَّہَا وَ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡفُلۡکِ وَ الۡاَنۡعَامِ مَا تَرۡکَبُوۡنَ ﴿ۙ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے، اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا تاکہ تم اُن کی پشت پر چڑھو
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے تمام چیزوں کے جوڑے بنائے اور تمہارے لیے کشتیاں بنائیں اور چوپائے جانور (پیدا کیے) جن پر تم سوار ہوتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور جس نے سب جوڑے بنائے اور تمہارے لیے کشتیوں اور چوپایوں سے سواریاں بنائیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جس نے تمام اِقسام کی چیزیں پیدا کیں اور تمہارے لئے کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ جس نے سب کے سب جوڑے پیدا کیے اور تمھارے لیے وہ کشتیاں اور چوپائے بنائے جن پر تم سوار ہوتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آیات ۱۱ تا ۱۴

اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہو جائے کھیتیاں اور باغات سرسبز رہیں پھلیں پھولیں اور پانی تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے میں بھی آئے پھر اس مینہ سے مردہ زمین زندہ کر دی خشکی تری سے بدل گئی جنگل لہلہا اٹھے پھل پھول اگنے لگے اور طرح طرح کے خوشگوار میوے پیدا ہو گئے پھر اسی کو مردہ انسانوں کے جی اٹھنے کی دلیل بنایا۔ اور فرمایا ’ اسی طرح تم قبروں سے نکالے جاؤ گے اس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے کھیتیاں پھل پھول ترکاریاں اور میوے وغیرہ طرح طرح کی چیزیں اس نے پیدا کر دیں۔ ‘ مختلف قسم کے حیوانات تمہارے نفع کے لیے پیدا کئے کشتیاں سمندروں کے سفر کے لیے اور چوپائے جانور خشکی کے سفر کے لیے مہیا کر دئیے ان میں سے بہت سے جانوروں کے گوشت تم کھاتے ہو بہت سے تمہیں دودھ دیتے ہیں بہت سے تمہاری سواریوں کے کام آتے ہیں۔ تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں تم ان پر سواریاں لیتے ہو اور خوب مزے سے ان پر سوار ہوتے ہو۔ اب تمہیں چاہیئے کہ جم کر بیٹھ جانے کے بعد اپنے رب کی نعمت یاد کرو کہ اس نے کیسے کیسے طاقتور وجود تمہارے قابو میں کر دئیے۔ اور یوں کہو کہ وہ اللہ پاک ذات والا ہے جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا اگر وہ اسے ہمارا مطیع نہ کرتا تو ہم اس قابل نہ تھے نہ ہم میں اتنی طاقت تھی۔ اور ہم اپنی موت کے بعد اسی کی طرف جانے والے ہیں اس آمدورفت سے اور اس مختصر سفر سے سفر آخرت یاد کرو۔ جیسے کہ دنیا کے توشے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے توشے کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا ’ توشہ لے لیا کرو لیکن بہترین توشہ آخرت کا توشہ ہے ‘ اور دنیوی لباس کے ذکر کے موقعہ پر اخروی لباس کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا ’ لباس تقوٰی افضل و بہتر ہے ـ‘

سواری پر سوار ہوتے وقت دعاؤں کی حدیثیں ٭٭

”سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعاؤں کی حدیثیں:“ حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اپنی سواری پر سوار ہونے لگے تو رکاب پر پیر رکھتے ہی فرمایا «بِسْمِ اللَّـهِ» جب جم کر بیٹھ گئے تو فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» پھر تین مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» پھر فرمایا «سُبْحَانك لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْت نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي» پھر ہنس دئیے۔ میں نے پوچھا امیر المؤمنین آپ ہنسے کیوں؟ فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ کیا پھر ہنس دئیے تو میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { جب بندے کے منہ سے اللہ تعالیٰ سنتا ہے کہ وہ کہتا ہے «رَبّ اِغْفِرْ لِي» میرے رب مجھے بخش دے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔} ۱؎ [سنن ابوداود:2602،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابوداؤد ترمذی نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ٹھیک جب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» کہا تین مرتبہ «سُبْحَانَ الله» اور ایک مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہا پھر اس پر چت لیٹنے کی طرح ہو کر ہنس دئیے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے ”جو شخص کسی جانور پر سوار ہو کر اس طرح کرے جس طرح میں نے کیا تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی طرح ہنس دیتا ہے جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنسا۔ } ۱؎ [مسند احمد:330/1:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی اپنی سواری پر سوار ہوتے تین مرتبہ تکبیر کہہ کر ان دونوں آیات قرآنی کی تلاوت کرتے پھر یہ دعا مانگتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرّ وَالتَّقْوَى وَمِنْ الْعَمَل مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَر وَاطْوِ لَنَا الْبَعِيد اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِب فِي السَّفَر وَالْخَلِيفَة فِي الْأَهْل اللَّهُمَّ اِصْحَبْنَا فِي سَفَرنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلنَا» یا اللہ میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا طالب ہوں اور ان اعمال کا جن سے تو خوش ہو جائے اے اللہ ہم پر ہمارا سفر آسان کر دے اور ہمارے لیے دوری کو لپیٹ لے پروردگار تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا نگہبان ہے میرے معبود ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے گھروں میں ہماری جانشینی فرما۔ اور جب آپ سفر سے واپس گھر کی طرف لوٹتے تو فرماتے «آيِبُونَ تَائِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّه عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» یعنی واپس لوٹنے والے توبہ کرنے والے ان شاءاللہ عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1342] ‏‏‏‏

ابو لاس خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سواری کے لیے ہمیں عطا فرمایا کہ ہم اس پر سوار ہو کر حج کو جائیں ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نہیں دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس پر سوار کرائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو! ہر اونٹ کی کوہان میں شیطان ہوتا ہے تم جب اس پر سوار ہو تو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو پھر اسے اپنے لیے خادم بنا لو، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے۔}۱؎ [مسند احمد:221/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابولاس رضی اللہ عنہ کا نام محمد بن اسود بن خلف ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہے تو تم جب اس پر سواری کرو تو اللہ کا نام لیا کرو پھر اپنی حاجتوں میں کمی نہ کرو۔} ۱؎ [مسند احمد:494/3:حسن صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12) ➊ { وَ الَّذِيْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا:} تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یس کی آیت (۳۶) کی تفسیر۔ ➋ {وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ:} اس سے پہلے زمین میں راستے بنانے کا ذکر فرمایا ہے جن کے ذریعے سے لوگ مختلف جگہوں کی طرف اپنی ضروریات کے لیے سفر کرتے ہیں، اب یہ نعمت یاد دلائی کہ شہروں، میدانوں، صحراؤں اور پہاڑوں میں سفر کے لیے اللہ تعالیٰ نے چوپائے پیدا فرمائے اور سمندروں میں قریب و دور سفروں کے لیے کشتیاں اور بڑے بڑے جہاز بنائے۔ بقاعی نے {” خَلَقَ الْاَزْوَاجَ كُلَّهَا “} کے ساتھ چوپاؤں اور کشتیوں کے ذکر کی بھی ایک مناسبت ذکر فرمائی ہے کہ {” الْاَزْوَاجَ “} سے ذہن مختلف جوڑوں کی طرف منتقل ہوتا ہے، مثلاً نر اور مادہ، اس لیے یہ واضح کرنے کے لیے کہ {” الْاَزْوَاجَ “} سے مراد صرف جوڑے ہی نہیں بلکہ وہ تمام اصناف ہیں جن کی ایک دوسرے سے مناسبت یا موافقت یا مخالفت ہوتی ہے، جیسے زمین و آسمان، شب و روز، نیک و بد اور جنت و جہنم وغیرہ، اللہ تعالیٰ نے چوپاؤں اور کشتیوں کا ذکر فرمایا کہ دونوں کی بناوٹ ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے، مگر مقصود دونوں سے ایک ہے {” مَا تَرْكَبُوْنَ “} یعنی انسان کے لیے بحر و بر میں سواری مہیا کرنا۔
لِتَسۡتَوٗا عَلٰی ظُہُوۡرِہٖ ثُمَّ تَذۡکُرُوۡا نِعۡمَۃَ رَبِّکُمۡ اِذَا اسۡتَوَیۡتُمۡ عَلَیۡہِ وَ تَقُوۡلُوۡا سُبۡحٰنَ الَّذِیۡ سَخَّرَ لَنَا ہٰذَا وَ مَا کُنَّا لَہٗ مُقۡرِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے رب کا احسان یاد کرو اور کہو کہ "پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اِن چیزوں کو مسخر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ تم ان کی پیٹھ پر جم کر سوار ہوا کرو پھر اپنے رب کی نعمت کو یاد کرو جب اس پر ٹھیک ٹھاک بیٹھ جاؤ، اور کہو پاک ذات ہے اس کی جس نے اسے ہمارے بس میں کردیا حاﻻنکہ ہمیں اسے قابو کرنے کی طاقت نہ تھی
احمد رضا خان بریلوی
کہ تم ان کی پیٹھوں پر ٹھیک بیٹھو پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو جب اس پر ٹھیک بیٹھ لو اور یوں کہو پاکی ہے اسے جس نے اس سواری کو ہمارے بس میں کردیا اور یہ ہمارے بوتے (قابو) کی نہ تھی،
علامہ محمد حسین نجفی
تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو اور پھر اپنے پروردگار کی نعمت کو یاد کرو اور کہو پاک ہے وہ ذات جس نے ان چیزوں کو ہمارے لئے مسخر کر دیا اور ہم ایسے نہ تھے کہ ان کو اپنے قابو میں کرتے۔
عبدالسلام بن محمد
تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھو، پھر اپنے رب کی نعمت یاد کرو، جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ اور کہو پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہیں تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آیات ۱۱ تا ۱۴

اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہو جائے کھیتیاں اور باغات سرسبز رہیں پھلیں پھولیں اور پانی تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے میں بھی آئے پھر اس مینہ سے مردہ زمین زندہ کر دی خشکی تری سے بدل گئی جنگل لہلہا اٹھے پھل پھول اگنے لگے اور طرح طرح کے خوشگوار میوے پیدا ہو گئے پھر اسی کو مردہ انسانوں کے جی اٹھنے کی دلیل بنایا۔ اور فرمایا ’ اسی طرح تم قبروں سے نکالے جاؤ گے اس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے کھیتیاں پھل پھول ترکاریاں اور میوے وغیرہ طرح طرح کی چیزیں اس نے پیدا کر دیں۔ ‘ مختلف قسم کے حیوانات تمہارے نفع کے لیے پیدا کئے کشتیاں سمندروں کے سفر کے لیے اور چوپائے جانور خشکی کے سفر کے لیے مہیا کر دئیے ان میں سے بہت سے جانوروں کے گوشت تم کھاتے ہو بہت سے تمہیں دودھ دیتے ہیں بہت سے تمہاری سواریوں کے کام آتے ہیں۔ تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں تم ان پر سواریاں لیتے ہو اور خوب مزے سے ان پر سوار ہوتے ہو۔ اب تمہیں چاہیئے کہ جم کر بیٹھ جانے کے بعد اپنے رب کی نعمت یاد کرو کہ اس نے کیسے کیسے طاقتور وجود تمہارے قابو میں کر دئیے۔ اور یوں کہو کہ وہ اللہ پاک ذات والا ہے جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا اگر وہ اسے ہمارا مطیع نہ کرتا تو ہم اس قابل نہ تھے نہ ہم میں اتنی طاقت تھی۔ اور ہم اپنی موت کے بعد اسی کی طرف جانے والے ہیں اس آمدورفت سے اور اس مختصر سفر سے سفر آخرت یاد کرو۔ جیسے کہ دنیا کے توشے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے توشے کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا ’ توشہ لے لیا کرو لیکن بہترین توشہ آخرت کا توشہ ہے ‘ اور دنیوی لباس کے ذکر کے موقعہ پر اخروی لباس کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا ’ لباس تقوٰی افضل و بہتر ہے ـ‘

سواری پر سوار ہوتے وقت دعاؤں کی حدیثیں ٭٭

”سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعاؤں کی حدیثیں:“ حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اپنی سواری پر سوار ہونے لگے تو رکاب پر پیر رکھتے ہی فرمایا «بِسْمِ اللَّـهِ» جب جم کر بیٹھ گئے تو فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» پھر تین مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» پھر فرمایا «سُبْحَانك لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْت نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي» پھر ہنس دئیے۔ میں نے پوچھا امیر المؤمنین آپ ہنسے کیوں؟ فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ کیا پھر ہنس دئیے تو میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { جب بندے کے منہ سے اللہ تعالیٰ سنتا ہے کہ وہ کہتا ہے «رَبّ اِغْفِرْ لِي» میرے رب مجھے بخش دے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔} ۱؎ [سنن ابوداود:2602،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابوداؤد ترمذی نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ٹھیک جب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» کہا تین مرتبہ «سُبْحَانَ الله» اور ایک مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہا پھر اس پر چت لیٹنے کی طرح ہو کر ہنس دئیے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے ”جو شخص کسی جانور پر سوار ہو کر اس طرح کرے جس طرح میں نے کیا تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی طرح ہنس دیتا ہے جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنسا۔ } ۱؎ [مسند احمد:330/1:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی اپنی سواری پر سوار ہوتے تین مرتبہ تکبیر کہہ کر ان دونوں آیات قرآنی کی تلاوت کرتے پھر یہ دعا مانگتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرّ وَالتَّقْوَى وَمِنْ الْعَمَل مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَر وَاطْوِ لَنَا الْبَعِيد اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِب فِي السَّفَر وَالْخَلِيفَة فِي الْأَهْل اللَّهُمَّ اِصْحَبْنَا فِي سَفَرنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلنَا» یا اللہ میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا طالب ہوں اور ان اعمال کا جن سے تو خوش ہو جائے اے اللہ ہم پر ہمارا سفر آسان کر دے اور ہمارے لیے دوری کو لپیٹ لے پروردگار تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا نگہبان ہے میرے معبود ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے گھروں میں ہماری جانشینی فرما۔ اور جب آپ سفر سے واپس گھر کی طرف لوٹتے تو فرماتے «آيِبُونَ تَائِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّه عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» یعنی واپس لوٹنے والے توبہ کرنے والے ان شاءاللہ عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1342] ‏‏‏‏

ابو لاس خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سواری کے لیے ہمیں عطا فرمایا کہ ہم اس پر سوار ہو کر حج کو جائیں ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نہیں دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس پر سوار کرائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو! ہر اونٹ کی کوہان میں شیطان ہوتا ہے تم جب اس پر سوار ہو تو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو پھر اسے اپنے لیے خادم بنا لو، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے۔}۱؎ [مسند احمد:221/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابولاس رضی اللہ عنہ کا نام محمد بن اسود بن خلف ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہے تو تم جب اس پر سواری کرو تو اللہ کا نام لیا کرو پھر اپنی حاجتوں میں کمی نہ کرو۔} ۱؎ [مسند احمد:494/3:حسن صحیح] ‏‏‏‏
13۔ 1 یعنی اگر ان جانوروں کو ہمارے تابع اور ہمارے بس میں نہ کرتا تو ہم انہیں اپنے قابو میں رکھ کر ان کی سواری، بار برداری اور دیگر مقاصد کے لئے استعمال نہیں کرسکتے تھے۔
(آیت 14،13) ➊ { لِتَسْتَوٗا عَلٰى ظُهُوْرِهٖ …:} انسان جب گھوڑوں، گدھوں، خچروں، اونٹوں یا کشتیوں پر سوار ہوتا ہے اور جم کر بیٹھ جاتا ہے تو عام عادت بن جانے کی وجہ سے اسے احساس ہی نہیں ہوتا کہ اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان سواریوں کو تابع کر دیے جانے کی کتنی بڑی نعمت عطا ہوئی ہے۔ ذرا کسی شیر یا چیتے یا کسی اور جنگلی جانور پر اس طرح جم کر بیٹھے، پھر اسے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کی قدر ہو گی۔ یہی حال سمندر میں پہاڑوں جیسی موجوں کے درمیان بحری جہازوں پر سکون و اطمینان کے ساتھ سواری کا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے کشتیوں اور چوپاؤں میں سے تمھارے لیے سواریاں بنائیں، تاکہ ان کی پشتوں پر جم کر بیٹھو، پھر جب ان پر جم کر بیٹھ جاؤ تو اپنے رب کی انھیں تمھارے لیے مسخر کرنے کی نعمت یاد کرو۔ ➋ { وَ تَقُوْلُوْا سُبْحٰنَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا …:} اور دل میں یاد کرنے کے ساتھ زبان سے بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح ان الفاظ میں بیان کرو، تاکہ تمھیں احساس رہے اور اقرار بھی ہوتا رہے کہ ان سواریوں کو قابو میں لانا کبھی ہمارے بس کی بات نہ تھی اور یہ بھی کہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے ان سواریوں کی محتاجی ہم مجبور بندوں کی ضرورت ہے۔ ہمارا مالک ہر قسم کے احتیاج اور مجبوری سے پاک ہے۔اگر انسان سوچے تو سواریوں سے پہلے زمین کی پشت بھی چوپاؤں اور کشتیوں کی پشت کی طرح ہے، جس پر سوار وہ زمانے کے حوادث اور تھپیڑوں کے درمیان جم کر محوِ سفر ہے۔ سو ہماری ابتدا ہمارے رب کی طرف سے ہوئی، اس نے زندگی بسر کرنے کے لیے زمین کی پشت کو ہمارے لیے بچھونا بنا دیا، پھر اس نے چوپاؤں اور کشتیوں کی پشت کو ہمارے لیے جائے سکون بنا دیا، اب ساری عمر ہم ان پر سکون و اطمینان کے ساتھ سوار ہوتے رہتے ہیں۔ ➌ { وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ:} اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم دنیا کی زندگی کا سفر پورا کرنے کے بعد اپنے رب کی طرف واپس پلٹنے والے ہیں۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس میں دنیا کے سفر سے آخرت کے سفر کی طرف تنبیہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دنیوی زاد سے آخرت کے زاد کی طرف تنبیہ فرمائی، فرمایا: «وَ تَزَوَّدُوْا فَاِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوٰى» [ البقرۃ: ۱۹۷ ] ”اور زادِ راہ لے لو کہ بے شک زاد راہ کی سب سے بہتر خوبی(سوال سے) بچنا ہے۔“ اور دنیوی لباس کے ساتھ آخرت کے لباس کی طرف تنبیہ فرمائی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ رِيْشًا وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْرٌ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۲۶ ] ”اور زینت بھی اور تقویٰ کا لباس! وہ سب سے بہتر ہے۔“ ➍ {” عَلٰى ظُهُوْرِهٖ “} میں {” هٖ “} ضمیر {” مَا تَرْكَبُوْنَ “} میں اسم موصول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اگرچہ اس کے معنی میں عموم ہے، مگر لفظ واحد ہونے کی وجہ سے ضمیر واحد لائی گئی ہے۔ ➎ یہ دعا سواری پر سوار ہونے کے بعد کی ہے، سوار ہوتے وقت {”بِسْمِ اللّٰهِ“} پڑھنا چاہیے، جیسا کہ نوح علیہ السلام نے اپنے ساتھ کشتی میں سوار ہونے والوں کو فرمایا تھا: «‏‏‏‏وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِيْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖىهَا وَ مُرْسٰىهَا اِنَّ رَبِّيْ لَغَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ» ‏‏‏‏ [ھود: ۴۱ ] ”اور اس نے کہا اس میں سوار ہو جاؤ، اس کا چلنا اور اس کا ٹھہرنا اللہ ہی کے نام کے ساتھ ہے، بے شک میرا رب یقینا بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ علی ازدی کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنھما نے انھیں سکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کی طرف نکلتے ہوئے سواری پر جم کر بیٹھ جاتے تو تین دفعہ{ ”اَللّٰهُ أَكْبَرُ“} کہتے، پھر کہتے: [ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلٰی رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ، اَللّٰهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِيْ سَفَرِنَا هٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی، اَللّٰهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اَللّٰهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ وَالْخَلِيْفَةُ فِي الْأَهْلِ، اَللّٰهُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ وَسُوْءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَ الْأَهْلِ ] ” پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔ اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی اور تقویٰ کا سوال کرتے ہیں اور عمل میں سے ایسے عمل کا جسے تو پسند فرمائے۔ اے اللہ! ہم پر ہمارا یہ سفر آسان کر دے اور اس کی دوری کو ہم سے لپیٹ دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ساتھی اور گھر والوں میں جانشین ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت اور غم ناک منظر دیکھنے سے اور مال اور اہل میں ناکام لوٹنے کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“ اور جب سفر سے واپس لوٹتے تو یہی الفاظ کہتے اور یہ الفاظ مزید کہتے: [ آئِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُوْنَ لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ ] [ مسلم، الحج، باب استحباب الذکر إذا رکب دابتہ …: ۱۳۴۲ ] ”ہم واپس لوٹنے والے، توبہ کرنے والے، عبادت کرنے والے، اپنے رب ہی کی حمد کرنے والے ہیں۔“ کتبِ احادیث میں سفر کی اور دعائیں بھی مذکور ہیں۔
وَ اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا لَمُنۡقَلِبُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ایک روز ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بالیقین ہم اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہمیں اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےشک ہم اپنے پروردگار کی طرف لو ٹنے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک ہم اپنے رب کی طرف ضرور لوٹ کر جانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آیات ۱۱ تا ۱۴

اسی نے آسمان سے ایسے انداز سے بارش برسائی جو کفایت ہو جائے کھیتیاں اور باغات سرسبز رہیں پھلیں پھولیں اور پانی تمہارے اور تمہارے جانوروں کے پینے میں بھی آئے پھر اس مینہ سے مردہ زمین زندہ کر دی خشکی تری سے بدل گئی جنگل لہلہا اٹھے پھل پھول اگنے لگے اور طرح طرح کے خوشگوار میوے پیدا ہو گئے پھر اسی کو مردہ انسانوں کے جی اٹھنے کی دلیل بنایا۔ اور فرمایا ’ اسی طرح تم قبروں سے نکالے جاؤ گے اس نے ہر قسم کے جوڑے پیدا کئے کھیتیاں پھل پھول ترکاریاں اور میوے وغیرہ طرح طرح کی چیزیں اس نے پیدا کر دیں۔ ‘ مختلف قسم کے حیوانات تمہارے نفع کے لیے پیدا کئے کشتیاں سمندروں کے سفر کے لیے اور چوپائے جانور خشکی کے سفر کے لیے مہیا کر دئیے ان میں سے بہت سے جانوروں کے گوشت تم کھاتے ہو بہت سے تمہیں دودھ دیتے ہیں بہت سے تمہاری سواریوں کے کام آتے ہیں۔ تمہارے بوجھ ڈھوتے ہیں تم ان پر سواریاں لیتے ہو اور خوب مزے سے ان پر سوار ہوتے ہو۔ اب تمہیں چاہیئے کہ جم کر بیٹھ جانے کے بعد اپنے رب کی نعمت یاد کرو کہ اس نے کیسے کیسے طاقتور وجود تمہارے قابو میں کر دئیے۔ اور یوں کہو کہ وہ اللہ پاک ذات والا ہے جس نے اسے ہمارے قابو میں کر دیا اگر وہ اسے ہمارا مطیع نہ کرتا تو ہم اس قابل نہ تھے نہ ہم میں اتنی طاقت تھی۔ اور ہم اپنی موت کے بعد اسی کی طرف جانے والے ہیں اس آمدورفت سے اور اس مختصر سفر سے سفر آخرت یاد کرو۔ جیسے کہ دنیا کے توشے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے آخرت کے توشے کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا ’ توشہ لے لیا کرو لیکن بہترین توشہ آخرت کا توشہ ہے ‘ اور دنیوی لباس کے ذکر کے موقعہ پر اخروی لباس کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا ’ لباس تقوٰی افضل و بہتر ہے ـ‘

سواری پر سوار ہوتے وقت دعاؤں کی حدیثیں ٭٭

”سواری پر سوار ہونے کے وقت کی دعاؤں کی حدیثیں:“ حضرت علی بن ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب اپنی سواری پر سوار ہونے لگے تو رکاب پر پیر رکھتے ہی فرمایا «بِسْمِ اللَّـهِ» جب جم کر بیٹھ گئے تو فرمایا «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ سُبْحَانَ الَّذِيْ سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِيْنَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ» پھر تین مرتبہ «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» اور تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» پھر فرمایا «سُبْحَانك لَا إِلَه إِلَّا أَنْتَ قَدْ ظَلَمْت نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي» پھر ہنس دئیے۔ میں نے پوچھا امیر المؤمنین آپ ہنسے کیوں؟ فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ کیا پھر ہنس دئیے تو میں نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی سوال کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ { جب بندے کے منہ سے اللہ تعالیٰ سنتا ہے کہ وہ کہتا ہے «رَبّ اِغْفِرْ لِي» میرے رب مجھے بخش دے تو وہ بہت ہی خوش ہوتا ہے اور فرماتا ہے میرا بندہ جانتا ہے کہ میرے سوا کوئی گناہوں کو بخش نہیں سکتا۔} ۱؎ [سنن ابوداود:2602،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یہ حدیث ابوداؤد ترمذی نسائی اور مسند احمد میں بھی ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح بتلاتے ہیں۔ اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ٹھیک جب بیٹھ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ «اﷲُ اَکْبَرُ» کہا تین مرتبہ «سُبْحَانَ الله» اور ایک مرتبہ «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہا پھر اس پر چت لیٹنے کی طرح ہو کر ہنس دئیے اور عبداللہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے ”جو شخص کسی جانور پر سوار ہو کر اس طرح کرے جس طرح میں نے کیا تو اللہ عزوجل اس کی طرف متوجہ ہو کر اسی طرح ہنس دیتا ہے جس طرح میں تیری طرف دیکھ کر ہنسا۔ } ۱؎ [مسند احمد:330/1:ضعیف] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی اپنی سواری پر سوار ہوتے تین مرتبہ تکبیر کہہ کر ان دونوں آیات قرآنی کی تلاوت کرتے پھر یہ دعا مانگتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلك فِي سَفَرِي هَذَا الْبِرّ وَالتَّقْوَى وَمِنْ الْعَمَل مَا تَرْضَى اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا السَّفَر وَاطْوِ لَنَا الْبَعِيد اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِب فِي السَّفَر وَالْخَلِيفَة فِي الْأَهْل اللَّهُمَّ اِصْحَبْنَا فِي سَفَرنَا وَاخْلُفْنَا فِي أَهْلنَا» یا اللہ میں تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری کا طالب ہوں اور ان اعمال کا جن سے تو خوش ہو جائے اے اللہ ہم پر ہمارا سفر آسان کر دے اور ہمارے لیے دوری کو لپیٹ لے پروردگار تو ہی سفر کا ساتھی اور اہل و عیال کا نگہبان ہے میرے معبود ہمارے سفر میں ہمارا ساتھ دے اور ہمارے گھروں میں ہماری جانشینی فرما۔ اور جب آپ سفر سے واپس گھر کی طرف لوٹتے تو فرماتے «آيِبُونَ تَائِبُونَ إِنْ شَاءَ اللَّه عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» یعنی واپس لوٹنے والے توبہ کرنے والے ان شاءاللہ عبادتیں کرنے والے اپنے رب کی تعریفیں کرنے والے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:1342] ‏‏‏‏

ابو لاس خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری سواری کے لیے ہمیں عطا فرمایا کہ ہم اس پر سوار ہو کر حج کو جائیں ہم نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نہیں دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس پر سوار کرائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { سنو! ہر اونٹ کی کوہان میں شیطان ہوتا ہے تم جب اس پر سوار ہو تو جس طرح میں تمہیں حکم دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کا نام یاد کرو پھر اسے اپنے لیے خادم بنا لو، یاد رکھو اللہ تعالیٰ ہی سوار کراتا ہے۔}۱؎ [مسند احمد:221/4:حسن] ‏‏‏‏ سیدنا ابولاس رضی اللہ عنہ کا نام محمد بن اسود بن خلف ہے۔ مسند کی ایک اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر اونٹ کی پیٹھ پر شیطان ہے تو تم جب اس پر سواری کرو تو اللہ کا نام لیا کرو پھر اپنی حاجتوں میں کمی نہ کرو۔} ۱؎ [مسند احمد:494/3:حسن صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنۡ عِبَادِہٖ جُزۡءًا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ؕ٪۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی) اِن لوگوں نے اُس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جز بنا ڈالا، حقیقت یہ ہے کہ انسان کھلا احسان فراموش ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہوں نے اللہ کے بعض بندوں کو اس کا جز ٹھہرا دیا یقیناً انسان کھلم کھلا ناشکرا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کے لیے اس کے بندوں میں سے ٹکڑا ٹھہرایا بیشک آدمی کھلا ناشکرا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان لوگوں نے خدا کے بندوں میں سے اس کا جزو قرار دیا ہے بیشک انسان کھلا ہوا ناشکراہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے اس کے لیے اس کے بعض بندوں کو جز بنا ڈالا، بے شک انسان یقینا صریح ناشکرا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا بدترین فعل ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورۃ الانعام کی آیت «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَ‌أَ مِنَ الْحَرْ‌ثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَ‌كَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَ‌كَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّـهِ وَمَا كَانَ لِلَّـهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَ‌كَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا اب جو ان کے معبودوں کے نام کا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو ہر چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کو پہنچ جاتی ہے ان کی یہ تجویز کیسی بری ہے؟ ‘ اسی طرح مشرکین نے لڑکے لڑکیوں کی تقسیم کر کے لڑکیاں تو اللہ سے متعلق کر دیں جو ان کے خیال میں ذلیل و خوار تھیں اور لڑکے اپنے لیے پسند کئے جیسے کہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے «اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» ۱؎ [53-النجم:22-21] ‏‏‏‏، ’ کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لیے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بےڈھنگی تقسیم ہے۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان مشرکین نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جزء قرار دے لیا ہے۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی اس بدتمیزی کو دیکھو کہ جب یہ لڑکیوں کو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے پسند کرتے ہیں؟ ان کی یہ حالت ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر پہنچتی ہے کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی تو منہ بسور لیتا ہے گویا ایک شرمناک اندوہ ناک خبر سنی۔ ‘ کسی سے ذکر تک نہیں کرتا اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے ذرا سا منہ نکل آتا ہے۔ لیکن پھر اپنی کامل حماقت کا مظاہرہ کرنے بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی لڑکیاں ہیں یہ خوب مزے کی بات ہے کہ خود جس چیز سے گھبرائیں اللہ کے لیے وہ ثابت کریں۔ پھر فرماتا ہے عورتیں ناقص سمجھی جاتی ہیں جن کے نقصانات کی تلافی زیورات اور آرائش سے کی جاتی ہے اور بچپن سے مرتے دم تک وہ بناؤ سنگھار کی محتاج سمجھی جاتی ہیں پھر بحث مباحثے اور لڑائی جھگڑے کے وقت ان کی زبان نہیں چلتی دلیل نہیں دے سکتیں عاجز رہ جاتی ہیں مغلوب ہو جاتی ہیں ایسی چیز کو جناب باری علی و عظیم کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ظاہری اور باطنی نقصان اپنے اندر رکھتی ہیں۔ جس کے ظاہری نقصان کو زینت اور زیورات سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی جیسے کہ بعض عرب شاعروں کے اشعار ہیں «وَمَا الْحُلِيّ إِلَّا زِينَة مِنْ نَقِيصَة» ‏‏‏‏ «يُتَمِّم مِنْ حُسْن إِذَا الْحُسْن قَصَّرَا» ‏‏‏‏ «وَأَمَّا إِذَا كَانَ الْجَمَال مُوَفَّرًا» ‏‏‏‏ «كَحُسْنِك لَمْ يَحْتَجْ إِلَى أَنْ يُزَوَّرَا» ‏‏‏‏ یعنی زیورات کمی حسن کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ بھرپور جمال کو زیورات کی کیا ضرورت؟ اور باطنی نقصان بھی ہیں جیسے بدلہ نہ لے سکنا نہ زبان سے نہ ہمت سے۔ ان مضمون کو بھی عربوں نے ادا کیا ہے جبکہ یہ صرف رونے دھونے سے ہی مدد کر سکتی ہے اور چوری چھپے کوئی بھلائی کر سکتی ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے فرشتوں کو عورتیں سمجھ رکھا ہے ان سے پوچھو کہ کیا جب وہ پیدا ہوئے تو تم وہاں موجود تھے؟ تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان باتوں سے بے خبر ہیں سب ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان کا سوال بھی ہو گا جس سے تمہیں ڈرنا چاہیئے اور ہوشیار رہنا چاہیئے۔ ‘ پھر ان کی مزید حماقت بیان فرماتا ہے کہ ’ کہتے ہیں ہم نے فرشتوں کو عورتیں سمجھا پھر ان کی مورتیں بنائیں اور پھر انہیں پوج رہے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم میں ان میں حائل ہو جاتا اور ہم انہیں نہ پوج سکتے۔ ‘ پس جبکہ ہم انہیں پوج رہے ہیں اور اللہ ہم میں اور ان میں حائل نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ ہماری یہ پوجا غلط نہیں بلکہ صحیح ہے۔

پس پہلی خطا تو ان کی یہ کہ اللہ کے لیے اولاد ثابت کی دوسری خطا یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں قرار دیں تیسری خطا یہ کہ کہ انہی کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ جس پر کوئی دلیل و حجت نہیں صرف اپنے بڑوں اور اگلوں اور باپ دادوں کی کورانہ تقلید ہے چوتھی خطا یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے مقدر مانا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر رب اس سے ناخوش ہوتا تو ہمیں اتنی طاقت ہی نہ دیتا کہ ہم ان کی پرستش کریں اور یہ ان کی صریح جہالت و خباثت ہے اللہ تعالیٰ اس سے سراسر ناخوش ہے۔ ایک ایک پیغمبر اس کی تردید کرتا رہا ایک ایک کتاب اس کی برائی بیان کرتی رہی جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسرے کی عبادت سے بچو۔ پھر بعض تو ایسے نکلے جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور بعض ایسے بھی نکلے جن پر گمراہی کی بات ثابت ہو چکی تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا برا حشر ہوا؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَسْـَٔـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ ۱؎، یعنی ’ تو ان رسولوں سے پوچھ لے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا کیا ہم نے اپنے سوا دوسروں کی پرستش کی انہیں اجازت دی تھی؟‘ پھر فرماتا ہے ’ یہ دلیل تو ان کی بڑی بودی ہے اور بودی یوں ہے کہ یہ بےعلم ہیں، باتیں بنا لیتے ہیں اور جھوٹ بول لیتے ہیں۔ ‘ یعنی یہ اللہ کی اس پر قدرت کو نہیں جانتے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:175/11] ‏‏‏‏
15۔ 1 عِبَاد سے مراد فرشتے اور جُزْء سے مراد بیٹیاں یعنی فرشتے، جن کو مشرکین اللہ کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی عبادت کرتے تھے۔ یوں وہ مخلوق کو اللہ کا شریک اور اس کا جزء مانتے تھے۔
(آیت 15) ➊ { وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا:} اس آیت کا تعلق آیت (۹): «‏‏‏‏وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ خَلَقَهُنَّ الْعَزِيْزُ الْعَلِيْمُ» کے ساتھ ہے، اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو مشرکین کی جہالت پر تعجب دلاتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ دیکھو یہ لوگ مانتے ہیں کہ آسمان و زمین کا خالق اور ان کی ہر چیز کا مدبر اللہ تعالیٰ ہے، جو مخلوق سے جدا ہے اور کسی طرح محتاج نہیں، پھر اس کے لیے شریک اور اس کی اولاد بناتے ہیں۔ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جو آسمان و زمین کو پیدا کرنے کی طاقت رکھتا ہے وہ مدد کے لیے یا دل لگانے کے لیے کسی کا محتاج نہیں، کیونکہ یہ دونوں نقص کی علامتیں ہیں۔ پھر ظلم دیکھو کہ عباد (غلاموں) کو اولاد قرار دے رہے ہیں، جب کہ اولاد غلام ہو ہی نہیں سکتی، کیونکہ وہ تو باپ کا جزو ہوتی ہے۔ جب کوئی اللہ کا جزو ثابت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ کا اس کا محتاج ہونا بھی ثابت ہو گیا۔ {” عِبَادِهٖ “} میں فرشتے، جن اور انسان سبھی داخل ہیں۔ یہود و نصاریٰ نے عزیر و مسیح کو ابن اللہ قرار دیا، تو کچھ نام نہاد مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے نور کا ٹکڑا قرار دیا اور بعض نے کہا کہ پنج تن اللہ کے نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ کی آیت (۳۰) کی تفسیر۔ مشرکین فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ انھوں نے ان کے بت عورتوں کی شکل میں بنا رکھے تھے۔ یہی دیویاں تھیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے۔ ➋ { اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِيْنٌ:} صریح نا شکرا اس لیے کہ جس پروردگار نے اسے پیدا کیا، زمین و آسمان اور کل کائنات پیدا فرمائی، اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کو ایک مان کر اس اکیلے کی بندگی کرنے کے بجائے اس نے اس کے بندوں کو اس کی اولاد قرار دے کر صفات ہی میں نہیں اس کی ذات میں بھی شریک ٹھہرا دیا۔
اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخۡلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصۡفٰکُمۡ بِالۡبَنِیۡنَ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں تو خود رکھ لیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا
احمد رضا خان بریلوی
کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں سے بیٹیاں لیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ خاص کیا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا خدا نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں منتخب کی ہیں اور تمہیں بیٹوں کے ساتھ مخصوص کر دیا؟
عبدالسلام بن محمد
یا اس نے اس (مخلوق) میںسے جسے وہ پید اکرتا ہے (خود) بیٹیاں رکھ لیں اور تمھیں بیٹوں کے لیے چن لیا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا بدترین فعل ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورۃ الانعام کی آیت «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَ‌أَ مِنَ الْحَرْ‌ثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَ‌كَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَ‌كَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّـهِ وَمَا كَانَ لِلَّـهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَ‌كَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا اب جو ان کے معبودوں کے نام کا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو ہر چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کو پہنچ جاتی ہے ان کی یہ تجویز کیسی بری ہے؟ ‘ اسی طرح مشرکین نے لڑکے لڑکیوں کی تقسیم کر کے لڑکیاں تو اللہ سے متعلق کر دیں جو ان کے خیال میں ذلیل و خوار تھیں اور لڑکے اپنے لیے پسند کئے جیسے کہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے «اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» ۱؎ [53-النجم:22-21] ‏‏‏‏، ’ کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لیے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بےڈھنگی تقسیم ہے۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان مشرکین نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جزء قرار دے لیا ہے۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی اس بدتمیزی کو دیکھو کہ جب یہ لڑکیوں کو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے پسند کرتے ہیں؟ ان کی یہ حالت ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر پہنچتی ہے کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی تو منہ بسور لیتا ہے گویا ایک شرمناک اندوہ ناک خبر سنی۔ ‘ کسی سے ذکر تک نہیں کرتا اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے ذرا سا منہ نکل آتا ہے۔ لیکن پھر اپنی کامل حماقت کا مظاہرہ کرنے بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی لڑکیاں ہیں یہ خوب مزے کی بات ہے کہ خود جس چیز سے گھبرائیں اللہ کے لیے وہ ثابت کریں۔ پھر فرماتا ہے عورتیں ناقص سمجھی جاتی ہیں جن کے نقصانات کی تلافی زیورات اور آرائش سے کی جاتی ہے اور بچپن سے مرتے دم تک وہ بناؤ سنگھار کی محتاج سمجھی جاتی ہیں پھر بحث مباحثے اور لڑائی جھگڑے کے وقت ان کی زبان نہیں چلتی دلیل نہیں دے سکتیں عاجز رہ جاتی ہیں مغلوب ہو جاتی ہیں ایسی چیز کو جناب باری علی و عظیم کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ظاہری اور باطنی نقصان اپنے اندر رکھتی ہیں۔ جس کے ظاہری نقصان کو زینت اور زیورات سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی جیسے کہ بعض عرب شاعروں کے اشعار ہیں «وَمَا الْحُلِيّ إِلَّا زِينَة مِنْ نَقِيصَة» ‏‏‏‏ «يُتَمِّم مِنْ حُسْن إِذَا الْحُسْن قَصَّرَا» ‏‏‏‏ «وَأَمَّا إِذَا كَانَ الْجَمَال مُوَفَّرًا» ‏‏‏‏ «كَحُسْنِك لَمْ يَحْتَجْ إِلَى أَنْ يُزَوَّرَا» ‏‏‏‏ یعنی زیورات کمی حسن کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ بھرپور جمال کو زیورات کی کیا ضرورت؟ اور باطنی نقصان بھی ہیں جیسے بدلہ نہ لے سکنا نہ زبان سے نہ ہمت سے۔ ان مضمون کو بھی عربوں نے ادا کیا ہے جبکہ یہ صرف رونے دھونے سے ہی مدد کر سکتی ہے اور چوری چھپے کوئی بھلائی کر سکتی ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے فرشتوں کو عورتیں سمجھ رکھا ہے ان سے پوچھو کہ کیا جب وہ پیدا ہوئے تو تم وہاں موجود تھے؟ تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان باتوں سے بے خبر ہیں سب ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان کا سوال بھی ہو گا جس سے تمہیں ڈرنا چاہیئے اور ہوشیار رہنا چاہیئے۔ ‘ پھر ان کی مزید حماقت بیان فرماتا ہے کہ ’ کہتے ہیں ہم نے فرشتوں کو عورتیں سمجھا پھر ان کی مورتیں بنائیں اور پھر انہیں پوج رہے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم میں ان میں حائل ہو جاتا اور ہم انہیں نہ پوج سکتے۔ ‘ پس جبکہ ہم انہیں پوج رہے ہیں اور اللہ ہم میں اور ان میں حائل نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ ہماری یہ پوجا غلط نہیں بلکہ صحیح ہے۔

پس پہلی خطا تو ان کی یہ کہ اللہ کے لیے اولاد ثابت کی دوسری خطا یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں قرار دیں تیسری خطا یہ کہ کہ انہی کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ جس پر کوئی دلیل و حجت نہیں صرف اپنے بڑوں اور اگلوں اور باپ دادوں کی کورانہ تقلید ہے چوتھی خطا یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے مقدر مانا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر رب اس سے ناخوش ہوتا تو ہمیں اتنی طاقت ہی نہ دیتا کہ ہم ان کی پرستش کریں اور یہ ان کی صریح جہالت و خباثت ہے اللہ تعالیٰ اس سے سراسر ناخوش ہے۔ ایک ایک پیغمبر اس کی تردید کرتا رہا ایک ایک کتاب اس کی برائی بیان کرتی رہی جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسرے کی عبادت سے بچو۔ پھر بعض تو ایسے نکلے جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور بعض ایسے بھی نکلے جن پر گمراہی کی بات ثابت ہو چکی تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا برا حشر ہوا؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَسْـَٔـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ ۱؎، یعنی ’ تو ان رسولوں سے پوچھ لے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا کیا ہم نے اپنے سوا دوسروں کی پرستش کی انہیں اجازت دی تھی؟‘ پھر فرماتا ہے ’ یہ دلیل تو ان کی بڑی بودی ہے اور بودی یوں ہے کہ یہ بےعلم ہیں، باتیں بنا لیتے ہیں اور جھوٹ بول لیتے ہیں۔ ‘ یعنی یہ اللہ کی اس پر قدرت کو نہیں جانتے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:175/11] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 16) {اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا يَخْلُقُ بَنٰتٍ …:} ان کی نا شکری کی انتہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ٹھہرائی تو بیٹیاں جو بیٹوں سے کم تر ہوتی ہیں، جب کہ اپنے لیے وہ بیٹوں کے خواہش مند ہیں۔ {” اَمْ “} (یا) سے پہلے ایک جملہ محذوف ہے، یعنی (کیا اسے زبردستی لڑکیاں دے دی گئی ہیں جنھیں وہ ہٹا نہیں سکا) یا خود ہی اپنی ساری قدرت و اختیار کے باوجود لڑکیاں لینے پر راضی ہو گیا اور تمھیں بیٹے دینے کے لیے چن لیا، حالانکہ کم تر چیز پر تو کوئی بے وقوف ہی راضی ہوتا ہے۔ سوچو! تم اللہ کی کتنی بڑی گستاخی کر رہے ہو۔
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمۡ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحۡمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجۡہُہٗ مُسۡوَدًّا وَّ ہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس خدائے رحمان کی طرف منسوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے منہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(حاﻻنکہ) ان میں سے کسی کو جب اس چیز کی خبر دی جائے جس کی مثال اس نے (اللہ) رحمٰن کے لیے بیان کی ہے تو اس کا چہره سیاه پڑ جاتا ہے اور وه غمگین ہو جاتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان میں کسی کو خوشخبری دی جائے اس چیز کی جس کا وصف رحمن کے لیے بتاچکا ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہے اور غم کھایا کرے
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان میں سے کسی کو اس (بیٹی) کی بشارت دی جاتی ہے جسے وہ خدا کی صفت قرار دیتا ہے تو اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور اس کا دل غم سے بھر جاتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جائے جس کی اس نے رحمان کے لیے مثال بیان کی ہے تو اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے اور وہ غم سے بھر ا ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا بدترین فعل ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورۃ الانعام کی آیت «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَ‌أَ مِنَ الْحَرْ‌ثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَ‌كَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَ‌كَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّـهِ وَمَا كَانَ لِلَّـهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَ‌كَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا اب جو ان کے معبودوں کے نام کا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو ہر چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کو پہنچ جاتی ہے ان کی یہ تجویز کیسی بری ہے؟ ‘ اسی طرح مشرکین نے لڑکے لڑکیوں کی تقسیم کر کے لڑکیاں تو اللہ سے متعلق کر دیں جو ان کے خیال میں ذلیل و خوار تھیں اور لڑکے اپنے لیے پسند کئے جیسے کہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے «اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» ۱؎ [53-النجم:22-21] ‏‏‏‏، ’ کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لیے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بےڈھنگی تقسیم ہے۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان مشرکین نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جزء قرار دے لیا ہے۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی اس بدتمیزی کو دیکھو کہ جب یہ لڑکیوں کو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے پسند کرتے ہیں؟ ان کی یہ حالت ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر پہنچتی ہے کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی تو منہ بسور لیتا ہے گویا ایک شرمناک اندوہ ناک خبر سنی۔ ‘ کسی سے ذکر تک نہیں کرتا اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے ذرا سا منہ نکل آتا ہے۔ لیکن پھر اپنی کامل حماقت کا مظاہرہ کرنے بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی لڑکیاں ہیں یہ خوب مزے کی بات ہے کہ خود جس چیز سے گھبرائیں اللہ کے لیے وہ ثابت کریں۔ پھر فرماتا ہے عورتیں ناقص سمجھی جاتی ہیں جن کے نقصانات کی تلافی زیورات اور آرائش سے کی جاتی ہے اور بچپن سے مرتے دم تک وہ بناؤ سنگھار کی محتاج سمجھی جاتی ہیں پھر بحث مباحثے اور لڑائی جھگڑے کے وقت ان کی زبان نہیں چلتی دلیل نہیں دے سکتیں عاجز رہ جاتی ہیں مغلوب ہو جاتی ہیں ایسی چیز کو جناب باری علی و عظیم کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ظاہری اور باطنی نقصان اپنے اندر رکھتی ہیں۔ جس کے ظاہری نقصان کو زینت اور زیورات سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی جیسے کہ بعض عرب شاعروں کے اشعار ہیں «وَمَا الْحُلِيّ إِلَّا زِينَة مِنْ نَقِيصَة» ‏‏‏‏ «يُتَمِّم مِنْ حُسْن إِذَا الْحُسْن قَصَّرَا» ‏‏‏‏ «وَأَمَّا إِذَا كَانَ الْجَمَال مُوَفَّرًا» ‏‏‏‏ «كَحُسْنِك لَمْ يَحْتَجْ إِلَى أَنْ يُزَوَّرَا» ‏‏‏‏ یعنی زیورات کمی حسن کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ بھرپور جمال کو زیورات کی کیا ضرورت؟ اور باطنی نقصان بھی ہیں جیسے بدلہ نہ لے سکنا نہ زبان سے نہ ہمت سے۔ ان مضمون کو بھی عربوں نے ادا کیا ہے جبکہ یہ صرف رونے دھونے سے ہی مدد کر سکتی ہے اور چوری چھپے کوئی بھلائی کر سکتی ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے فرشتوں کو عورتیں سمجھ رکھا ہے ان سے پوچھو کہ کیا جب وہ پیدا ہوئے تو تم وہاں موجود تھے؟ تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان باتوں سے بے خبر ہیں سب ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان کا سوال بھی ہو گا جس سے تمہیں ڈرنا چاہیئے اور ہوشیار رہنا چاہیئے۔ ‘ پھر ان کی مزید حماقت بیان فرماتا ہے کہ ’ کہتے ہیں ہم نے فرشتوں کو عورتیں سمجھا پھر ان کی مورتیں بنائیں اور پھر انہیں پوج رہے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم میں ان میں حائل ہو جاتا اور ہم انہیں نہ پوج سکتے۔ ‘ پس جبکہ ہم انہیں پوج رہے ہیں اور اللہ ہم میں اور ان میں حائل نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ ہماری یہ پوجا غلط نہیں بلکہ صحیح ہے۔

پس پہلی خطا تو ان کی یہ کہ اللہ کے لیے اولاد ثابت کی دوسری خطا یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں قرار دیں تیسری خطا یہ کہ کہ انہی کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ جس پر کوئی دلیل و حجت نہیں صرف اپنے بڑوں اور اگلوں اور باپ دادوں کی کورانہ تقلید ہے چوتھی خطا یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے مقدر مانا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر رب اس سے ناخوش ہوتا تو ہمیں اتنی طاقت ہی نہ دیتا کہ ہم ان کی پرستش کریں اور یہ ان کی صریح جہالت و خباثت ہے اللہ تعالیٰ اس سے سراسر ناخوش ہے۔ ایک ایک پیغمبر اس کی تردید کرتا رہا ایک ایک کتاب اس کی برائی بیان کرتی رہی جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسرے کی عبادت سے بچو۔ پھر بعض تو ایسے نکلے جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور بعض ایسے بھی نکلے جن پر گمراہی کی بات ثابت ہو چکی تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا برا حشر ہوا؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَسْـَٔـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ ۱؎، یعنی ’ تو ان رسولوں سے پوچھ لے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا کیا ہم نے اپنے سوا دوسروں کی پرستش کی انہیں اجازت دی تھی؟‘ پھر فرماتا ہے ’ یہ دلیل تو ان کی بڑی بودی ہے اور بودی یوں ہے کہ یہ بےعلم ہیں، باتیں بنا لیتے ہیں اور جھوٹ بول لیتے ہیں۔ ‘ یعنی یہ اللہ کی اس پر قدرت کو نہیں جانتے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:175/11] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17) {وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا …:} کتنی بڑی نا شکری ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمے وہ چیز لگا دی جس سے وہ خود شدید نفرت اور کراہت کرتے ہیں۔ بیٹیوں سے ان کی نفرت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نحل کی آیات (۵۸، ۵۹)کی تفسیر۔ {” ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا “} (اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے) اس لیے فرمایا کہ چہرے کی سیاہی دن کو نظر آتی ہے، ورنہ چہرہ تو رات کو بھی سیاہ رہتا ہے۔
اَوَ مَنۡ یُّنَشَّؤُا فِی الۡحِلۡیَۃِ وَ ہُوَ فِی الۡخِصَامِ غَیۡرُ مُبِیۡنٍ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کر سکتی؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا (اللہ کی اوﻻد لڑکیاں ہیں) جو زیورات میں پلیں اور جھگڑے میں (اپنی بات) واضح نہ کرسکیں؟
احمد رضا خان بریلوی
اور کیا وہ جو گہنے (زیور) میں پروان چڑھے اور بحث میں صاف بات نہ کرے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا (خدا کیلئے وہ ہے) جو زیوروں میں پرورش پائے اور بحث و تکرار میں اپنا مدعا واضح نہ کر سکے؟
عبدالسلام بن محمد
اور کیا (اس نے اسے رحمان کی اولاد قرار دیا ہے) جس کی پرورش زیور میں کی جاتی ہے اور وہ جھگڑے میں بات واضح کرنے والی نہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا بدترین فعل ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورۃ الانعام کی آیت «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَ‌أَ مِنَ الْحَرْ‌ثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَ‌كَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَ‌كَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّـهِ وَمَا كَانَ لِلَّـهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَ‌كَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا اب جو ان کے معبودوں کے نام کا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو ہر چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کو پہنچ جاتی ہے ان کی یہ تجویز کیسی بری ہے؟ ‘ اسی طرح مشرکین نے لڑکے لڑکیوں کی تقسیم کر کے لڑکیاں تو اللہ سے متعلق کر دیں جو ان کے خیال میں ذلیل و خوار تھیں اور لڑکے اپنے لیے پسند کئے جیسے کہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے «اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» ۱؎ [53-النجم:22-21] ‏‏‏‏، ’ کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لیے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بےڈھنگی تقسیم ہے۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان مشرکین نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جزء قرار دے لیا ہے۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی اس بدتمیزی کو دیکھو کہ جب یہ لڑکیوں کو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے پسند کرتے ہیں؟ ان کی یہ حالت ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر پہنچتی ہے کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی تو منہ بسور لیتا ہے گویا ایک شرمناک اندوہ ناک خبر سنی۔ ‘ کسی سے ذکر تک نہیں کرتا اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے ذرا سا منہ نکل آتا ہے۔ لیکن پھر اپنی کامل حماقت کا مظاہرہ کرنے بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی لڑکیاں ہیں یہ خوب مزے کی بات ہے کہ خود جس چیز سے گھبرائیں اللہ کے لیے وہ ثابت کریں۔ پھر فرماتا ہے عورتیں ناقص سمجھی جاتی ہیں جن کے نقصانات کی تلافی زیورات اور آرائش سے کی جاتی ہے اور بچپن سے مرتے دم تک وہ بناؤ سنگھار کی محتاج سمجھی جاتی ہیں پھر بحث مباحثے اور لڑائی جھگڑے کے وقت ان کی زبان نہیں چلتی دلیل نہیں دے سکتیں عاجز رہ جاتی ہیں مغلوب ہو جاتی ہیں ایسی چیز کو جناب باری علی و عظیم کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ظاہری اور باطنی نقصان اپنے اندر رکھتی ہیں۔ جس کے ظاہری نقصان کو زینت اور زیورات سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی جیسے کہ بعض عرب شاعروں کے اشعار ہیں «وَمَا الْحُلِيّ إِلَّا زِينَة مِنْ نَقِيصَة» ‏‏‏‏ «يُتَمِّم مِنْ حُسْن إِذَا الْحُسْن قَصَّرَا» ‏‏‏‏ «وَأَمَّا إِذَا كَانَ الْجَمَال مُوَفَّرًا» ‏‏‏‏ «كَحُسْنِك لَمْ يَحْتَجْ إِلَى أَنْ يُزَوَّرَا» ‏‏‏‏ یعنی زیورات کمی حسن کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ بھرپور جمال کو زیورات کی کیا ضرورت؟ اور باطنی نقصان بھی ہیں جیسے بدلہ نہ لے سکنا نہ زبان سے نہ ہمت سے۔ ان مضمون کو بھی عربوں نے ادا کیا ہے جبکہ یہ صرف رونے دھونے سے ہی مدد کر سکتی ہے اور چوری چھپے کوئی بھلائی کر سکتی ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے فرشتوں کو عورتیں سمجھ رکھا ہے ان سے پوچھو کہ کیا جب وہ پیدا ہوئے تو تم وہاں موجود تھے؟ تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان باتوں سے بے خبر ہیں سب ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان کا سوال بھی ہو گا جس سے تمہیں ڈرنا چاہیئے اور ہوشیار رہنا چاہیئے۔ ‘ پھر ان کی مزید حماقت بیان فرماتا ہے کہ ’ کہتے ہیں ہم نے فرشتوں کو عورتیں سمجھا پھر ان کی مورتیں بنائیں اور پھر انہیں پوج رہے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم میں ان میں حائل ہو جاتا اور ہم انہیں نہ پوج سکتے۔ ‘ پس جبکہ ہم انہیں پوج رہے ہیں اور اللہ ہم میں اور ان میں حائل نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ ہماری یہ پوجا غلط نہیں بلکہ صحیح ہے۔

پس پہلی خطا تو ان کی یہ کہ اللہ کے لیے اولاد ثابت کی دوسری خطا یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں قرار دیں تیسری خطا یہ کہ کہ انہی کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ جس پر کوئی دلیل و حجت نہیں صرف اپنے بڑوں اور اگلوں اور باپ دادوں کی کورانہ تقلید ہے چوتھی خطا یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے مقدر مانا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر رب اس سے ناخوش ہوتا تو ہمیں اتنی طاقت ہی نہ دیتا کہ ہم ان کی پرستش کریں اور یہ ان کی صریح جہالت و خباثت ہے اللہ تعالیٰ اس سے سراسر ناخوش ہے۔ ایک ایک پیغمبر اس کی تردید کرتا رہا ایک ایک کتاب اس کی برائی بیان کرتی رہی جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسرے کی عبادت سے بچو۔ پھر بعض تو ایسے نکلے جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور بعض ایسے بھی نکلے جن پر گمراہی کی بات ثابت ہو چکی تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا برا حشر ہوا؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَسْـَٔـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ ۱؎، یعنی ’ تو ان رسولوں سے پوچھ لے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا کیا ہم نے اپنے سوا دوسروں کی پرستش کی انہیں اجازت دی تھی؟‘ پھر فرماتا ہے ’ یہ دلیل تو ان کی بڑی بودی ہے اور بودی یوں ہے کہ یہ بےعلم ہیں، باتیں بنا لیتے ہیں اور جھوٹ بول لیتے ہیں۔ ‘ یعنی یہ اللہ کی اس پر قدرت کو نہیں جانتے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:175/11] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18) ➊ { اَوَ مَنْ يُّنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ …:} اس آیت میں دو وجہوں سے لڑکیوں کا لڑکوں سے کم تر ہونا بیان فرمایا ہے، ایک یہ کہ عورتوں کا حسن زیور وغیرہ کی زینت کا محتاج ہے، اس لیے بچپن ہی سے ان کی پرورش زیور میں کی جاتی ہے، جب کہ مرد کو اس کی ضرورت نہیں، اس کا حسن ویسے ہی کامل ہے۔ دوسری یہ کہ مرد مضبوط، دلیر اور شجاع ہوتا ہے جو خم ٹھونک کر دشمن کے مقابلے میں اترتا ہے، جب کہ عورت نرم و نازک اور کمزور ہوتی ہے جس کی بہادری یہ ہے کہ جب بس نہ چلے تو رو کر دکھا دے۔ فرمایا ایسی کمزور جنس کو اللہ تعالیٰ کی اولاد قرار دیتے ہو اور لڑکے جو مردِ میدان اور صاحبِ عزم و ہمت ہوتے ہیں اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ ➋ اس آیت سے عورتوں کے لیے زیور کا جواز ثابت ہوتا ہے، اس لیے ان کے لیے سونا اور ریشم پہننا حلال کر دیا گیا جو مردوں کے لیے حرام ہے اور یہ بھی کہ مردوں کو نسوانی آرائش اختیار کرنے سے اجتناب لازم ہے۔ دونوں مسئلوں کی احادیث معروف ہیں۔
وَ جَعَلُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عِبٰدُ الرَّحۡمٰنِ اِنَاثًا ؕ اَشَہِدُوۡا خَلۡقَہُمۡ ؕ سَتُکۡتَبُ شَہَادَتُہُمۡ وَ یُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
انہوں نے فرشتوں کو، جو خدائے رحمان کے خاص بندے ہیں، عورتیں قرار دے لیا کیا اُن کے جسم کی ساخت اِنہوں نے دیکھی ہے؟ اِن کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے (اس چیز کی) باز پرس کی جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور انہوں نے فرشتوں کو، کہ رحمٰن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے اب لکھ لی جائے گی ان کی گواہی اور ان سے جواب طلب ہوگا
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے کیا وہ ان کی پیدائش (اور جسمانی ساخت) کے وقت موجود تھے ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس کی جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو رحمان کے بندے ہیں، عورتیں بنا دیا، کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے؟ ان کی گواہی ضرور لکھی جائے گی اور وہ پوچھے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا بدترین فعل ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورۃ الانعام کی آیت «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَ‌أَ مِنَ الْحَرْ‌ثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَ‌كَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَ‌كَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّـهِ وَمَا كَانَ لِلَّـهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَ‌كَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا اب جو ان کے معبودوں کے نام کا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو ہر چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کو پہنچ جاتی ہے ان کی یہ تجویز کیسی بری ہے؟ ‘ اسی طرح مشرکین نے لڑکے لڑکیوں کی تقسیم کر کے لڑکیاں تو اللہ سے متعلق کر دیں جو ان کے خیال میں ذلیل و خوار تھیں اور لڑکے اپنے لیے پسند کئے جیسے کہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے «اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» ۱؎ [53-النجم:22-21] ‏‏‏‏، ’ کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لیے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بےڈھنگی تقسیم ہے۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان مشرکین نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جزء قرار دے لیا ہے۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی اس بدتمیزی کو دیکھو کہ جب یہ لڑکیوں کو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے پسند کرتے ہیں؟ ان کی یہ حالت ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر پہنچتی ہے کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی تو منہ بسور لیتا ہے گویا ایک شرمناک اندوہ ناک خبر سنی۔ ‘ کسی سے ذکر تک نہیں کرتا اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے ذرا سا منہ نکل آتا ہے۔ لیکن پھر اپنی کامل حماقت کا مظاہرہ کرنے بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی لڑکیاں ہیں یہ خوب مزے کی بات ہے کہ خود جس چیز سے گھبرائیں اللہ کے لیے وہ ثابت کریں۔ پھر فرماتا ہے عورتیں ناقص سمجھی جاتی ہیں جن کے نقصانات کی تلافی زیورات اور آرائش سے کی جاتی ہے اور بچپن سے مرتے دم تک وہ بناؤ سنگھار کی محتاج سمجھی جاتی ہیں پھر بحث مباحثے اور لڑائی جھگڑے کے وقت ان کی زبان نہیں چلتی دلیل نہیں دے سکتیں عاجز رہ جاتی ہیں مغلوب ہو جاتی ہیں ایسی چیز کو جناب باری علی و عظیم کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ظاہری اور باطنی نقصان اپنے اندر رکھتی ہیں۔ جس کے ظاہری نقصان کو زینت اور زیورات سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی جیسے کہ بعض عرب شاعروں کے اشعار ہیں «وَمَا الْحُلِيّ إِلَّا زِينَة مِنْ نَقِيصَة» ‏‏‏‏ «يُتَمِّم مِنْ حُسْن إِذَا الْحُسْن قَصَّرَا» ‏‏‏‏ «وَأَمَّا إِذَا كَانَ الْجَمَال مُوَفَّرًا» ‏‏‏‏ «كَحُسْنِك لَمْ يَحْتَجْ إِلَى أَنْ يُزَوَّرَا» ‏‏‏‏ یعنی زیورات کمی حسن کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ بھرپور جمال کو زیورات کی کیا ضرورت؟ اور باطنی نقصان بھی ہیں جیسے بدلہ نہ لے سکنا نہ زبان سے نہ ہمت سے۔ ان مضمون کو بھی عربوں نے ادا کیا ہے جبکہ یہ صرف رونے دھونے سے ہی مدد کر سکتی ہے اور چوری چھپے کوئی بھلائی کر سکتی ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے فرشتوں کو عورتیں سمجھ رکھا ہے ان سے پوچھو کہ کیا جب وہ پیدا ہوئے تو تم وہاں موجود تھے؟ تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان باتوں سے بے خبر ہیں سب ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان کا سوال بھی ہو گا جس سے تمہیں ڈرنا چاہیئے اور ہوشیار رہنا چاہیئے۔ ‘ پھر ان کی مزید حماقت بیان فرماتا ہے کہ ’ کہتے ہیں ہم نے فرشتوں کو عورتیں سمجھا پھر ان کی مورتیں بنائیں اور پھر انہیں پوج رہے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم میں ان میں حائل ہو جاتا اور ہم انہیں نہ پوج سکتے۔ ‘ پس جبکہ ہم انہیں پوج رہے ہیں اور اللہ ہم میں اور ان میں حائل نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ ہماری یہ پوجا غلط نہیں بلکہ صحیح ہے۔

پس پہلی خطا تو ان کی یہ کہ اللہ کے لیے اولاد ثابت کی دوسری خطا یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں قرار دیں تیسری خطا یہ کہ کہ انہی کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ جس پر کوئی دلیل و حجت نہیں صرف اپنے بڑوں اور اگلوں اور باپ دادوں کی کورانہ تقلید ہے چوتھی خطا یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے مقدر مانا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر رب اس سے ناخوش ہوتا تو ہمیں اتنی طاقت ہی نہ دیتا کہ ہم ان کی پرستش کریں اور یہ ان کی صریح جہالت و خباثت ہے اللہ تعالیٰ اس سے سراسر ناخوش ہے۔ ایک ایک پیغمبر اس کی تردید کرتا رہا ایک ایک کتاب اس کی برائی بیان کرتی رہی جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسرے کی عبادت سے بچو۔ پھر بعض تو ایسے نکلے جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور بعض ایسے بھی نکلے جن پر گمراہی کی بات ثابت ہو چکی تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا برا حشر ہوا؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَسْـَٔـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ ۱؎، یعنی ’ تو ان رسولوں سے پوچھ لے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا کیا ہم نے اپنے سوا دوسروں کی پرستش کی انہیں اجازت دی تھی؟‘ پھر فرماتا ہے ’ یہ دلیل تو ان کی بڑی بودی ہے اور بودی یوں ہے کہ یہ بےعلم ہیں، باتیں بنا لیتے ہیں اور جھوٹ بول لیتے ہیں۔ ‘ یعنی یہ اللہ کی اس پر قدرت کو نہیں جانتے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:175/11] ‏‏‏‏
19۔ 1 یعنی جزا کے لئے۔ کیونکہ فرشتوں کے اللہ کی بیٹیاں ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوگی۔
(آیت 19) ➊ { وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا:} فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینے میں انھوں نے دو ظلم کیے، ایک یہ کہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں انھیں ان کے مرتبے سے بڑھا کر اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دیا جو صریح شرک ہے اور عبودیت اور ولدیت کسی صورت جمع نہیں ہو سکتیں۔ دوسرا ظلم یہ کہ فرشتے جو تذکیر و تانیث سے بلند و برتر ہیں اور جن کی پیدائش ہی انسانوں سے مختلف ہے، انھیں اتنا گرایا کہ ان کے لیے برتر جنس مرد کے بجائے کمزور جنس عورت ہونا تجویز کیا۔ جھوٹے اور بہتان باز لوگوں کا جھوٹ ایسے ہی تناقض سے ظاہر ہوا کرتا ہے۔ ➋ {اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ:} اس کے دو معانی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا، کیا اس وقت یہ لوگ حاضر تھے کہ انھیں ان کا مؤنث ہونا معلوم ہو گیا۔ دوسرا یہ کہ کیا انھوں نے ان کے جسم کی ساخت کو دیکھا ہے کہ انھیں عورت قرار دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تو پھر ان کے پاس اس دعویٰ کی کیا دلیل ہے؟ ➌ { سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ يُسْـَٔلُوْنَ:} یعنی یہ جو فرشتوں کے عورت ذات ہونے کی جھوٹی شہادت دے رہے ہیں اسے ان کے نامۂ اعمال میں لکھ لیا جائے گا اور قیامت کے دن ان سے ان کی جھوٹی شہادت کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔ ➍ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”یہ جو فرمایا کہ بندے رحمان کے ہیں یعنی بیٹیاں نہیں اور معلوم ہوا کہ فرشتے اگرچہ نہ مرد نہ عورت مگر ان کے لیے الفاظ مردوں والے بولنے چاہییں۔“ (موضح)
وَ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰہُمۡ ؕ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ٭ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ کہتے ہیں "اگر خدائے رحمٰن چاہتا (کہ ہم اُن کی عبادت نہ کریں) تو ہم کبھی اُن کو نہ پوجتے" یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے، محض تیر تکے لڑاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں اس کی کچھ خبر نہیں، یہ تو صرف اٹکل پچو (جھوٹ باتیں) کہتے ہیں۔
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے اگر رحمٰن چاہتا ہم انہیں نہ پوجتے انہیں اس کی حقیقت کچھ معلوم نہیں یونہی اٹکلیں دوڑاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان (بتوں) کی عبادت نہ کرتے انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ وہ محض اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انھیں اس کے بارے میںکچھ علم نہیں، وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کا بدترین فعل ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورۃ الانعام کی آیت «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَ‌أَ مِنَ الْحَرْ‌ثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَ‌كَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَ‌كَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّـهِ وَمَا كَانَ لِلَّـهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَ‌كَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا اب جو ان کے معبودوں کے نام کا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو ہر چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کو پہنچ جاتی ہے ان کی یہ تجویز کیسی بری ہے؟ ‘ اسی طرح مشرکین نے لڑکے لڑکیوں کی تقسیم کر کے لڑکیاں تو اللہ سے متعلق کر دیں جو ان کے خیال میں ذلیل و خوار تھیں اور لڑکے اپنے لیے پسند کئے جیسے کہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے «اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» ۱؎ [53-النجم:22-21] ‏‏‏‏، ’ کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لیے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بےڈھنگی تقسیم ہے۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان مشرکین نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جزء قرار دے لیا ہے۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی اس بدتمیزی کو دیکھو کہ جب یہ لڑکیوں کو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے پسند کرتے ہیں؟ ان کی یہ حالت ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر پہنچتی ہے کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی تو منہ بسور لیتا ہے گویا ایک شرمناک اندوہ ناک خبر سنی۔ ‘ کسی سے ذکر تک نہیں کرتا اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے ذرا سا منہ نکل آتا ہے۔ لیکن پھر اپنی کامل حماقت کا مظاہرہ کرنے بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی لڑکیاں ہیں یہ خوب مزے کی بات ہے کہ خود جس چیز سے گھبرائیں اللہ کے لیے وہ ثابت کریں۔ پھر فرماتا ہے عورتیں ناقص سمجھی جاتی ہیں جن کے نقصانات کی تلافی زیورات اور آرائش سے کی جاتی ہے اور بچپن سے مرتے دم تک وہ بناؤ سنگھار کی محتاج سمجھی جاتی ہیں پھر بحث مباحثے اور لڑائی جھگڑے کے وقت ان کی زبان نہیں چلتی دلیل نہیں دے سکتیں عاجز رہ جاتی ہیں مغلوب ہو جاتی ہیں ایسی چیز کو جناب باری علی و عظیم کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ظاہری اور باطنی نقصان اپنے اندر رکھتی ہیں۔ جس کے ظاہری نقصان کو زینت اور زیورات سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی جیسے کہ بعض عرب شاعروں کے اشعار ہیں «وَمَا الْحُلِيّ إِلَّا زِينَة مِنْ نَقِيصَة» ‏‏‏‏ «يُتَمِّم مِنْ حُسْن إِذَا الْحُسْن قَصَّرَا» ‏‏‏‏ «وَأَمَّا إِذَا كَانَ الْجَمَال مُوَفَّرًا» ‏‏‏‏ «كَحُسْنِك لَمْ يَحْتَجْ إِلَى أَنْ يُزَوَّرَا» ‏‏‏‏ یعنی زیورات کمی حسن کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ بھرپور جمال کو زیورات کی کیا ضرورت؟ اور باطنی نقصان بھی ہیں جیسے بدلہ نہ لے سکنا نہ زبان سے نہ ہمت سے۔ ان مضمون کو بھی عربوں نے ادا کیا ہے جبکہ یہ صرف رونے دھونے سے ہی مدد کر سکتی ہے اور چوری چھپے کوئی بھلائی کر سکتی ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے فرشتوں کو عورتیں سمجھ رکھا ہے ان سے پوچھو کہ کیا جب وہ پیدا ہوئے تو تم وہاں موجود تھے؟ تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان باتوں سے بے خبر ہیں سب ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان کا سوال بھی ہو گا جس سے تمہیں ڈرنا چاہیئے اور ہوشیار رہنا چاہیئے۔ ‘ پھر ان کی مزید حماقت بیان فرماتا ہے کہ ’ کہتے ہیں ہم نے فرشتوں کو عورتیں سمجھا پھر ان کی مورتیں بنائیں اور پھر انہیں پوج رہے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم میں ان میں حائل ہو جاتا اور ہم انہیں نہ پوج سکتے۔ ‘ پس جبکہ ہم انہیں پوج رہے ہیں اور اللہ ہم میں اور ان میں حائل نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ ہماری یہ پوجا غلط نہیں بلکہ صحیح ہے۔

پس پہلی خطا تو ان کی یہ کہ اللہ کے لیے اولاد ثابت کی دوسری خطا یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں قرار دیں تیسری خطا یہ کہ کہ انہی کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ جس پر کوئی دلیل و حجت نہیں صرف اپنے بڑوں اور اگلوں اور باپ دادوں کی کورانہ تقلید ہے چوتھی خطا یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے مقدر مانا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر رب اس سے ناخوش ہوتا تو ہمیں اتنی طاقت ہی نہ دیتا کہ ہم ان کی پرستش کریں اور یہ ان کی صریح جہالت و خباثت ہے اللہ تعالیٰ اس سے سراسر ناخوش ہے۔ ایک ایک پیغمبر اس کی تردید کرتا رہا ایک ایک کتاب اس کی برائی بیان کرتی رہی جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسرے کی عبادت سے بچو۔ پھر بعض تو ایسے نکلے جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور بعض ایسے بھی نکلے جن پر گمراہی کی بات ثابت ہو چکی تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا برا حشر ہوا؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَسْـَٔـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ ۱؎، یعنی ’ تو ان رسولوں سے پوچھ لے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا کیا ہم نے اپنے سوا دوسروں کی پرستش کی انہیں اجازت دی تھی؟‘ پھر فرماتا ہے ’ یہ دلیل تو ان کی بڑی بودی ہے اور بودی یوں ہے کہ یہ بےعلم ہیں، باتیں بنا لیتے ہیں اور جھوٹ بول لیتے ہیں۔ ‘ یعنی یہ اللہ کی اس پر قدرت کو نہیں جانتے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:175/11] ‏‏‏‏
20۔ 1 یعنی اپنے طور پر اللہ کی مشیت کا سہارا، یہ ان کی ایک بڑی دلیل ہے کیونکہ ظاہراً یہ بات صحیح ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا نہ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ اس بات سے بیخبر ہیں کہ اس کی مشیت، اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔ ہر کام یقینا اس کی مشیت ہی سے ہوتا ہے لیکن راضی وہ انہی کاموں سے ہوتا ہے جن کا اس نے حکم دیا ہے نہ کہ ہر اس کام سے جو انسان اللہ کی مشیت سے کرتا ہے، انسان چوری، بدکاری، ظلم اور بڑے بڑے گناہ کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی کو یہ گناہ کرنے کی قدرت ہی نہ دے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لے، اور اس کے قدموں کو روک دے اس کی نظر سلب کرلے۔ لیکن یہ جبر کی صورتیں ہیں جب کہ اس نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اسے آزمایا جائے، تاہم یہ اختیار اللہ دنیا میں اس سے واپس نہیں لے گا، البتہ اس کی سزا قیامت والے دن دے گا۔
(آیت 20) ➊ { وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ:} یہ اپنی گمراہی اور مشرکانہ گستاخی پر کفارِ مکہ کا ایک اور استدلال تھا، یعنی وہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے کے بجائے سارا الزام تقدیر الٰہی پر دھرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ مشیت تھی اور اس نے ہماری قسمت میں لکھ دیا تھا کہ ہم فرشتوں کو دیویاں سمجھ کر ان کی پرستش کریں۔ تقدیر الٰہی سے اس قسم کا غلط استدلال باطل پرستوں کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی پسند دوسری چیز ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا جیسے یہ مشرک کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر شرک سے روکنے کی کیا ضرورت تھی۔ (ابن کثیر) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۸) اور سورۂ نحل (۳۵) کی تفسیر۔ ➋ { مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ:} یعنی وہ تقدیر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کو غلط معنی پہناتے ہیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ” یعنی یہ تو سچ ہے کہ بن چاہے خدا کے کوئی چیز نہیں، پر اس کا بہتر ہونا نہیں نکلتا۔ اس نے قُوت (خوراک) بھی پیدا کی اور زہر بھی، پر زہر کون کھاتا ہے۔“ (موضح) ➌ {اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ:} یعنی جہالت کی وجہ سے ایسی باتیں بناتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔
اَمۡ اٰتَیۡنٰہُمۡ کِتٰبًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ فَہُمۡ بِہٖ مُسۡتَمۡسِکُوۡنَ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا ہم نے اِس سے پہلے کوئی کتاب اِن کو دی تھی جس کی سند (اپنی اِس ملائکہ پرستی کے لیے) یہ اپنے پاس رکھتے ہوں؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی (اور) کتاب دی ہے جسے یہ مضبوط تھامے ہوئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا اس سے قبل ہم نے انہیں کوئی کتاب دی ہے جسے وہ تھامے ہوئے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہم نے انہیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے جسے وہ مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا کیاہم نے انھیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے؟ پس وہ اسے مضبوطی سے تھامنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں۔ ‘ یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا «‏‏‏‏اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:35] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے؟ ‘ یعنی ایسا نہیں ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ تو نہیں، بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے۔ ‘ امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت «‏‏‏‏إِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:92] ‏‏‏‏، میں بھی امت سے مراد دین ہی ہے ساتھ ہی کہا کہ ہم انہی کی راہوں پر چل رہے ہیں پس ان کے بے دلیل دعوے کو سنا کر اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہی روش ان سے اگلوں کی بھی رہی۔ ان کا جواب بھی نبیوں کی تعلیم کے مقابلہ میں یہی تقلید کو پیش کرنا تھا۔‘ اور جگہ ہے آیت «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ [51-الذاريات:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے اگلوں کے پاس بھی جو رسول آئے ان کی امتوں نے انہیں بھی جادوگر اور دیوانہ بتایا۔‘ پس گویا کہ اگلے پچھلوں کے منہ میں یہ الفاظ بھر گئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ سرکشی میں یہ سب یکساں ہیں پھر ارشاد ہے کہ ’ گو یہ معلوم کر لیں اور جان لیں کہ نبیوں کی تعلیم باپ دادوں کی تقلید سے بدرجہا بہتر ہے تاہم ان کا برا قصد اور ضد اور ہٹ دھرمی انہیں حق کی قبولیت کی طرف نہیں آنے دیتی۔ ‘ پس ایسے اڑیل لوگوں سے ہم بھی ان کی باطل پرستی کا انتقام نہیں چھوڑتے مختلف صورتوں سے انہیں تہ و بالا کر دیا کرتے ہیں ان کا قصہ مذکور و مشہور ہے غور و تامل کے ساتھ دیکھ پڑھ لو اور سوچ سمجھ لو کہ کس طرح کفار برباد کئے جاتے ہیں اور کس طرح مومن نجات پاتے ہیں۔
21۔ 1 یعنی قرآن سے پہلے کوئی کتاب، جس میں ان کو غیر اللہ کی عبادت کرنے کا اختیار دیا ہے جسے انہوں نے مضبوطی سے تھام رکھا ہے؟ یعنی ایسا نہیں ہے بلکہ اپنے آباو اجداد کی پیروی کے سوا ان کے پاس کوئی دلیل نہیں۔
(آیت 21){ اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ …: ” اَمْ “} سے پہلے ہمزہ استفہام پر مشتمل کوئی جملہ ہوتا ہے جو بعض اوقات مذکور اور بعض اوقات محذوف ہوتا ہے۔ یہاں ذکر یہ ہو رہا ہے کہ مشرکین نے فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دے کر انھیں اللہ تعالیٰ کا شریک بنا لیا، اللہ تعالیٰ نے ان کی اس بات کا ردّ فرمایا۔ ظاہر ہے فرشتوں کے مؤنث ہونے کا علم یا تو مشاہدے سے ہو سکتا ہے یا اللہ تعالیٰ کے بتانے سے، جو اس کی نازل کردہ کسی کتاب میں موجود ہو۔ {” اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ “} (کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے) میں پہلی صورت کا ردّ اور ان کے مشاہدے کی نفی ہے، یعنی انھوں نے ان کی پیدائش کو نہیں دیکھا کہ وہ مذکر ہیں یا مؤنث اور {” اَمْ اٰتَيْنٰهُمْ كِتٰبًا مِّنْ قَبْلِهٖ “} (یا کیا ہم نے انھیں اس سے پہلے کوئی کتاب دی ہے) میں دوسری صورت کا ردّ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کے پاس فرشتوں کے مؤنث ہونے کی اور ان کی پرستش کی کوئی نقلی دلیل بھی نہیں ہے۔ کسی آسمانی کتاب میں انھیں یہ لکھا ہوا نہیں ملے گا کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں یا اس کی بادشاہت میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر دہرائی ہے۔ دیکھیے سورۂ روم (۳۵)، فاطر(۴۰)، صافات (۱۵۶، ۱۵۷)، احقاف (۴)، نمل (۶۴)، حج (۸) اور انعام (۴۸)۔
بَلۡ قَالُوۡۤا اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(نہیں نہیں) بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک مذہب پر پایا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چل کر راه یافتہ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ بولے ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر پر چل رہے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر دیکھا ہے اور ہم انہی کے نقشِ قدم پر راہ یاب ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ انھوں نے کہا کہ بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں۔ ‘ یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا «‏‏‏‏اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:35] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے؟ ‘ یعنی ایسا نہیں ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ تو نہیں، بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے۔ ‘ امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت «‏‏‏‏إِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:92] ‏‏‏‏، میں بھی امت سے مراد دین ہی ہے ساتھ ہی کہا کہ ہم انہی کی راہوں پر چل رہے ہیں پس ان کے بے دلیل دعوے کو سنا کر اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہی روش ان سے اگلوں کی بھی رہی۔ ان کا جواب بھی نبیوں کی تعلیم کے مقابلہ میں یہی تقلید کو پیش کرنا تھا۔‘ اور جگہ ہے آیت «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ [51-الذاريات:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے اگلوں کے پاس بھی جو رسول آئے ان کی امتوں نے انہیں بھی جادوگر اور دیوانہ بتایا۔‘ پس گویا کہ اگلے پچھلوں کے منہ میں یہ الفاظ بھر گئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ سرکشی میں یہ سب یکساں ہیں پھر ارشاد ہے کہ ’ گو یہ معلوم کر لیں اور جان لیں کہ نبیوں کی تعلیم باپ دادوں کی تقلید سے بدرجہا بہتر ہے تاہم ان کا برا قصد اور ضد اور ہٹ دھرمی انہیں حق کی قبولیت کی طرف نہیں آنے دیتی۔ ‘ پس ایسے اڑیل لوگوں سے ہم بھی ان کی باطل پرستی کا انتقام نہیں چھوڑتے مختلف صورتوں سے انہیں تہ و بالا کر دیا کرتے ہیں ان کا قصہ مذکور و مشہور ہے غور و تامل کے ساتھ دیکھ پڑھ لو اور سوچ سمجھ لو کہ کس طرح کفار برباد کئے جاتے ہیں اور کس طرح مومن نجات پاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22) {بَلْ قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ …:} یعنی ایسا نہیں کہ ان کے پاس اپنی گمراہی کے لیے اللہ تعالیٰ کی کسی کتاب کی کوئی دلیل یا سند موجود ہے، بلکہ ان کی دلیل اور سند یہی ہے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی راہ پر پایا ہے اور ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔ اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورۂ ذاریات (۵۲، ۵۳)۔ باطل اور ناحق باتوں (شرک و بدعت اور رسوم) میں بڑوں اور بزرگوں کی پیروی کو دلیل بنانا وہ گمراہی ہے جو قدیم زمانے سے چلی آئی ہے اور کفار کا شیوہ رہا ہے کہ وہ انبیاء کے مقابلے میں اس کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں، قرآن نے متعدد آیات میں ان کی مذمت فرمائی ہے۔ معلوم ہوا کہ جس بات میں اللہ اور رسول کی کوئی سند نہ ہو اس میں باپ دادا یا کسی امام، مرشد یا بزرگ کی تقلید کرنا اور یہ کہنا کہ ہمارے بزرگ چونکہ ایسے ہی کرتے چلے آئے ہیں، لہٰذا ہم بھی اسی راہ پر چلیں گے، سراسر باطل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مقلدین کی یہ تقلید صرف دین کے معاملے میں ہوتی ہے، اگر انھیں اپنے باپ دادا کے کسی دنیوی کاروبار میں روپے پیسے کا نقصان نظر آئے تو کبھی ان کی پیروی نہیں کریں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک دین اور آخرت کا خسارہ کچھ خسارہ ہی نہیں، ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کریں۔
وَ کَذٰلِکَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ فِیۡ قَرۡیَۃٍ مِّنۡ نَّذِیۡرٍ اِلَّا قَالَ مُتۡرَفُوۡہَاۤ ۙ اِنَّا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤی اُمَّۃٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤی اٰثٰرِہِمۡ مُّقۡتَدُوۡنَ ﴿۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا، اُس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقش قدم کی پیروی کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی طرح آپ سے پہلے بھی ہم نے جس بستی میں کوئی ڈرانے واﻻ بھیجا وہاں کے آسوده حال لوگوں نے یہی جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو (ایک راه پر اور) ایک دین پر پایا اور ہم تو انہی کے نقش پا کی پیروی کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ایسے ہی ہم نے تم سے پہلے جب کسی شہر میں ڈر سنانے والا بھیجا وہاں کے آسُودوں (امیروں) نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کی لکیر کے پیچھے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی طرح ہم نے آپ(ص) سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرا نے والا (پیغمبر(ع)) نہیں بھیجا مگر یہ کہ وہاں آسودہ حال لوگوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقہ پر پایا اور ہم تو انہی کے نقوشِ پاکی پیروی کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اسی طرح ہم نے تجھ سے پہلے کسی بستی میں کوئی ڈرانے والا نہیں بھیجا مگر اس کے خوش حال لوگوں نے کہا کہ بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں کے پیچھے چلنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں۔ ‘ یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا «‏‏‏‏اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:35] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے؟ ‘ یعنی ایسا نہیں ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ تو نہیں، بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے۔ ‘ امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت «‏‏‏‏إِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:92] ‏‏‏‏، میں بھی امت سے مراد دین ہی ہے ساتھ ہی کہا کہ ہم انہی کی راہوں پر چل رہے ہیں پس ان کے بے دلیل دعوے کو سنا کر اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہی روش ان سے اگلوں کی بھی رہی۔ ان کا جواب بھی نبیوں کی تعلیم کے مقابلہ میں یہی تقلید کو پیش کرنا تھا۔‘ اور جگہ ہے آیت «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ [51-الذاريات:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے اگلوں کے پاس بھی جو رسول آئے ان کی امتوں نے انہیں بھی جادوگر اور دیوانہ بتایا۔‘ پس گویا کہ اگلے پچھلوں کے منہ میں یہ الفاظ بھر گئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ سرکشی میں یہ سب یکساں ہیں پھر ارشاد ہے کہ ’ گو یہ معلوم کر لیں اور جان لیں کہ نبیوں کی تعلیم باپ دادوں کی تقلید سے بدرجہا بہتر ہے تاہم ان کا برا قصد اور ضد اور ہٹ دھرمی انہیں حق کی قبولیت کی طرف نہیں آنے دیتی۔ ‘ پس ایسے اڑیل لوگوں سے ہم بھی ان کی باطل پرستی کا انتقام نہیں چھوڑتے مختلف صورتوں سے انہیں تہ و بالا کر دیا کرتے ہیں ان کا قصہ مذکور و مشہور ہے غور و تامل کے ساتھ دیکھ پڑھ لو اور سوچ سمجھ لو کہ کس طرح کفار برباد کئے جاتے ہیں اور کس طرح مومن نجات پاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23) ➊ {وَ كَذٰلِكَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ فِيْ قَرْيَةٍ …:} اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ اس سفاہت و حماقت میں یہی لوگ مبتلا نہیں، بلکہ ان سے پہلے لوگ بھی اپنے رسولوں کو یہی کہتے چلے آئے ہیں، اس لیے آپ ان کی باتوں پر صبر کریں۔ ➋ مفسر کیلانی لکھتے ہیں: ”اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تقلیدِ آباء کے سب سے زیادہ مؤید اور اس پر اصرار کرنے والے کھاتے پیتے یعنی آسودہ حال اور چودھری قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اگر وہ رسول کی بات مان لیں تو انھیں اپنی اس چودھراہٹ کے منصب سے نیچے اتر کر عام لوگوں کی صف میں شامل ہونا اور رسول کا مطیع بن کر رہنا پڑتا ہے اور اس کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ رسول ان کے کسبِ معاش کے طریقوں پر بھی کئی طرح کی پابندیاں لگاتا ہے، مال و دولت کمانے پر بھی اور اس کے خرچ کرنے پر بھی۔ اگر وہ یہ پابندیاں قبول کر لیں تو ان کی آسودہ حالی ہی خطرے میں پڑ جاتی ہے، لہٰذا وہ اپنی عاقبت اس میں سمجھتے ہیں کہ تقلید آباء پر ڈٹ جائیں اور عوام کو اپنے ساتھ ملائے رکھیں۔“ (تیسیر القرآن)
قٰلَ اَوَ لَوۡ جِئۡتُکُمۡ بِاَہۡدٰی مِمَّا وَجَدۡتُّمۡ عَلَیۡہِ اٰبَآءَکُمۡ ؕ قَالُوۡۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرۡسِلۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہر نبی نے ان سے پوچھا، کیا تم اُسی ڈگر پر چلے جاؤ گے خواہ میں اُس راستے سے زیادہ صحیح راستہ تمہیں بتاؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لیے تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کے کافر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
(نبی نے) کہا بھی کہ اگرچہ میں تمہارے پاس اس سے بہت بہتر (مقصود تک پہنچانے واﻻ) طریقہ لے آیا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادوں کو پایا، تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم اس کے منکر ہیں جسے دے کر تمہیں بھیجا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
نبی نے فرمایا اور کیا جب بھی کہ میں تمہارے پاس وہ لاؤں جو سیدھی راہ ہو اس سے جس پر تمہارے باپ دادا تھے بولے جو کچھ تم لے کر بھیجے گئے ہم اسے نہیں مانتے
علامہ محمد حسین نجفی
اس (نذیر) نے کہا گرچہ میں تمہارے پاس اس سے زیادہ ہدایت بخش طریقہلے کرایا ہوں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ ان لوگوں نے کہا کہ تم جس(دین) کے ساتھ بھیجے گئے ہو ہم اس کے منکر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے کہا اور کیا اگر میں تمھارے پاس اس سے زیادہ سیدھا راستہ لے آؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا؟انھوں نے کہا بے شک ہم اس سے جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، منکر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں۔ ‘ یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا «‏‏‏‏اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:35] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے؟ ‘ یعنی ایسا نہیں ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ تو نہیں، بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے۔ ‘ امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت «‏‏‏‏إِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:92] ‏‏‏‏، میں بھی امت سے مراد دین ہی ہے ساتھ ہی کہا کہ ہم انہی کی راہوں پر چل رہے ہیں پس ان کے بے دلیل دعوے کو سنا کر اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہی روش ان سے اگلوں کی بھی رہی۔ ان کا جواب بھی نبیوں کی تعلیم کے مقابلہ میں یہی تقلید کو پیش کرنا تھا۔‘ اور جگہ ہے آیت «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ [51-الذاريات:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے اگلوں کے پاس بھی جو رسول آئے ان کی امتوں نے انہیں بھی جادوگر اور دیوانہ بتایا۔‘ پس گویا کہ اگلے پچھلوں کے منہ میں یہ الفاظ بھر گئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ سرکشی میں یہ سب یکساں ہیں پھر ارشاد ہے کہ ’ گو یہ معلوم کر لیں اور جان لیں کہ نبیوں کی تعلیم باپ دادوں کی تقلید سے بدرجہا بہتر ہے تاہم ان کا برا قصد اور ضد اور ہٹ دھرمی انہیں حق کی قبولیت کی طرف نہیں آنے دیتی۔ ‘ پس ایسے اڑیل لوگوں سے ہم بھی ان کی باطل پرستی کا انتقام نہیں چھوڑتے مختلف صورتوں سے انہیں تہ و بالا کر دیا کرتے ہیں ان کا قصہ مذکور و مشہور ہے غور و تامل کے ساتھ دیکھ پڑھ لو اور سوچ سمجھ لو کہ کس طرح کفار برباد کئے جاتے ہیں اور کس طرح مومن نجات پاتے ہیں۔
24۔ 1 یعنی اپنے آبا کی تقلید میں اتنے پختہ تھے کہ پیغمبر کی وضاحت اور دلیل بھی انہیں اس سے نہیں پھیر سکی۔ یہ آیت اندھی تقلید کے بطلان اور اس کی قباحت پر بہت بڑی دلیل ہے (تفصیل کے لئے دیکھئے فتح القدیر، للشوکافی)
(آیت 24) ➊ {قٰلَ اَوَ لَوْ جِئْتُكُمْ بِاَهْدٰى مِمَّا وَجَدْتُّمْ عَلَيْهِ اٰبَآءَكُمْ:} یعنی پہلے آنے والے رسول نے کہا کہ کیا اگر میں تمھارے پاس اس سے زیادہ سیدھا راستہ لے آؤں تو پھر بھی تم میری بات نہ مانو گے اور اسی ڈگر پر چلتے رہو گے؟ ➋ { قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ:} یعنی انھوں نے کہا کہ اگر تم ہمارے آباء سے زیادہ سیدھا راستہ لے آؤ تب بھی یقینا ہم اس سے منکر ہیں جو دے کر تم بھیجے گئے ہو، تمھارے لائے ہوئے حق کو بھی ہم نہیں مانتے۔
فَانۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُکَذِّبِیۡنَ ﴿٪۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار ہم نے اُن کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ہم نے ان سے انتقام لیا اور دیکھ لے جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا؟
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو دیکھو جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہوا،
علامہ محمد حسین نجفی
سو ہم نے ان سے انتقام لیا تو دیکھو کہ جھٹلا نے والوں کا کیا انجام ہوا؟
عبدالسلام بن محمد
تو ہم نے ان سے بدلہ لیا، سو دیکھ جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے ہیں ان کا بے دلیل ہونا بیان فرمایا جا رہا ہے کہ ’ کیا ہم نے ان کے اس شرک سے پہلے انہیں کوئی کتاب دے رکھی ہے؟ جس سے وہ سند لاتے ہوں۔ ‘ یعنی حقیقت میں ایسا نہیں جیسے فرمایا «‏‏‏‏اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطٰنًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوْا بِهٖ يُشْرِكُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:35] ‏‏‏‏، یعنی ’ کیا ہم نے ان پر ایسی دلیل اتاری ہے جو ان سے شرک کو کہے؟ ‘ یعنی ایسا نہیں ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ تو نہیں، بلکہ شرک کی سند ان کے پاس ایک اور صرف ایک ہے اور وہ اپنے باپ دادوں کی تقلید کہ وہ جس دین پر تھے ہم اسی پر ہیں اور رہیں گے۔ ‘ امت سے مراد یہاں دین ہے اور آیت «‏‏‏‏إِنَّ هَـٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَ‌بُّكُمْ فَاعْبُدُونِ» ۱؎ [21-الأنبياء:92] ‏‏‏‏، میں بھی امت سے مراد دین ہی ہے ساتھ ہی کہا کہ ہم انہی کی راہوں پر چل رہے ہیں پس ان کے بے دلیل دعوے کو سنا کر اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ یہی روش ان سے اگلوں کی بھی رہی۔ ان کا جواب بھی نبیوں کی تعلیم کے مقابلہ میں یہی تقلید کو پیش کرنا تھا۔‘ اور جگہ ہے آیت «كَذٰلِكَ مَآ اَتَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ» ۱؎ [51-الذاريات:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان سے اگلوں کے پاس بھی جو رسول آئے ان کی امتوں نے انہیں بھی جادوگر اور دیوانہ بتایا۔‘ پس گویا کہ اگلے پچھلوں کے منہ میں یہ الفاظ بھر گئے ہیں حقیقت یہ ہے کہ سرکشی میں یہ سب یکساں ہیں پھر ارشاد ہے کہ ’ گو یہ معلوم کر لیں اور جان لیں کہ نبیوں کی تعلیم باپ دادوں کی تقلید سے بدرجہا بہتر ہے تاہم ان کا برا قصد اور ضد اور ہٹ دھرمی انہیں حق کی قبولیت کی طرف نہیں آنے دیتی۔ ‘ پس ایسے اڑیل لوگوں سے ہم بھی ان کی باطل پرستی کا انتقام نہیں چھوڑتے مختلف صورتوں سے انہیں تہ و بالا کر دیا کرتے ہیں ان کا قصہ مذکور و مشہور ہے غور و تامل کے ساتھ دیکھ پڑھ لو اور سوچ سمجھ لو کہ کس طرح کفار برباد کئے جاتے ہیں اور کس طرح مومن نجات پاتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 25) {فَانْتَقَمْنَا مِنْهُمْ فَانْظُرْ كَيْفَ …:} یعنی جب وہ ضد اور عناد میں اس حد تک پہنچ گئے کہ رسولوں کی بات حق بھی ہے تو ہم ماننے والے نہیں، تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پھر دیکھو ان جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔
وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖۤ اِنَّنِیۡ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ "تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا اُن سے کوئی تعق نہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا میں بیزار ہوں تمہارے معبودو ں سے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم(ع) نے اپنے باپ (تایا) اور اپنی قوم سے کہا میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ابراہیم نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا بے شک میں ان چیزوں سے بالکل بری ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت ٭٭

قریشی کفار نسب اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفاء سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ، اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم میں کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بے تعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرأت ‘ حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھ لیا۔ ناممکن ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں۔ انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا۔

پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے جھٹلانا شروع کر دیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء علیہم السلام جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں۔ سرکشی اور ضد میں آ کر کفر کر بیٹھے۔ عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکے اور طائف کے کسی رئیس پر ‘ کسی بڑے آدمی پر‘ کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا؟ اور بڑے آدمی سے ان کی مراد ولید بن مغیرہ، عروہ بن مسعود، عمیر بن عمرو، عتبہ بن ربیعہ، حبیب بن عمرو ابن عبد یا لیل، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی۔ غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیئے تھا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 27،26) ➊ {وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ لِاَبِيْهِ وَ قَوْمِهٖۤ …:} یہاں ابراہیم علیہ السلام کے قصے کی مناسبت یہ ہے کہ قریش اور قومِ عرب سے کہا جا رہا ہے کہ تمھارے پیشوا اور جد امجد نے باپ کی راہ غلط دیکھ کر چھوڑ دی تھی، تم بھی ایسا ہی کرو۔ ➋ {اِنَّنِيْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ …: ” بَرَآءٌ “} مصدر ہے، واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث کے لیے یہی لفظ استعمال ہوتا ہے، جو {” بَرِيْءٌ“} کے معنی میں ہے، مگر اس میں مبالغہ ہے، جیسے {” زَيْدٌ عَادِلٌ “} میں وہ زور نہیں جو {” زَيْدٌ عَدْلٌ “} (زید اتنا عادل ہے کہ سراپا عدل ہے) میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں تمھارے تمام معبودوں سے سراپا براء ت ہوں، دل، زبان اور عمل کے ساتھ۔ غرض ہر طرح سے ان سے براء ت کا اعلان کرتا ہوں، سوائے اس معبود کے جس نے مجھے پیدا کیا۔ ➌ {اِلَّا الَّذِيْ فَطَرَنِيْ:} اپنے اس کلام میں ابراہیم علیہ السلام نے صرف اللہ واحد کی عبادت کی دلیل بھی بیان فرمائی ہے۔ وہ ہے: «‏‏‏‏اِلَّا الَّذِيْ فَطَرَنِيْ» ”جس نے مجھے پیدا کیا۔“ یعنی عبادت اسی کا حق ہے جو پیدا کرنے والا ہے۔ یہاں ابراہیم علیہ السلام کے اللہ کے سوا تمام معبودوں سے اعلانِ براء ت کا ذکر ہے، دوسرے مقامات پر براء ت کے علاوہ ان سے عداوت کا بھی اعلان ہے اور تقریباً ہر جگہ اللہ تعالیٰ کے خالق ہونے کی صفت کا خاص طور پر ذکر فرمایا ہے۔ (دیکھیے شعراء: ۷۵ تا ۷۸۔ انعام: ۷۸، ۷۹) سورۂ ممتحنہ (۴) میں باطل معبودوں کے ساتھ ان کے پجاریوں سے بھی براء ت و انکار کے علاوہ کھلم کھلا بغض و عداوت کا اعلان ہے، جب تک وہ اکیلے اللہ پر ایمان نہ لائیں۔ ➍ { فَاِنَّهٗ سَيَهْدِيْنِ:} سورۂ شعراء میں ابراہیم علیہ السلام کا قول ہے: «‏‏‏‏الَّذِيْ خَلَقَنِيْ فَهُوَ يَهْدِيْنِ» [ الشعراء: ۷۸ ] ”وہ جس نے مجھے پیدا کیا، پھر وہی مجھے راستہ دکھاتا (اور اس پر چلاتا) ہے۔“ یہاں فرمایا: «فَاِنَّهٗ سَيَهْدِيْنِ» ‏‏‏‏ یعنی جس نے مجھے پیدا کیا آئندہ بھی وہی مجھے سیدھی راہ پر چلاتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچائے گا۔ یعنی ہدایت بھی اسی کے ہاتھ میں ہے جس کے ہاتھ میں خلق ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۷۷)، شعراء (۷۸) اور صافات (۹۹)۔
اِلَّا الَّذِیۡ فَطَرَنِیۡ فَاِنَّہٗ سَیَہۡدِیۡنِ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میرا تعلق صرف اُس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہنمائی کرے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
بجز اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور وہی مجھے ہدایت بھی کرے گا
احمد رضا خان بریلوی
سوا اس کے جس نے مجھے پیدا کیا کہ ضرور وہ بہت جلد مجھے راہ دے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
مگر وہ جس نے مجھے پیدا کیا اور وہی میری راہنمائی کرے گا (میں صرف اسی کی عبادت کرتا ہوں)۔
عبدالسلام بن محمد
سوائے اس کے جس نے مجھے پیدا کیا، پس بے شک وہ مجھے ضرور راستہ دکھائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت ٭٭

قریشی کفار نسب اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفاء سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ، اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم میں کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بے تعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرأت ‘ حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھ لیا۔ ناممکن ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں۔ انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا۔

پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے جھٹلانا شروع کر دیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء علیہم السلام جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں۔ سرکشی اور ضد میں آ کر کفر کر بیٹھے۔ عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکے اور طائف کے کسی رئیس پر ‘ کسی بڑے آدمی پر‘ کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا؟ اور بڑے آدمی سے ان کی مراد ولید بن مغیرہ، عروہ بن مسعود، عمیر بن عمرو، عتبہ بن ربیعہ، حبیب بن عمرو ابن عبد یا لیل، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی۔ غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیئے تھا۔
27۔ 1 یعنی جس نے مجھے پیدا کیا وہ مجھے اپنے دین کی سمجھ بھی دے اور اس پر ثابت قدم بھی رکھے گا، میں صرف اسی کی عبادت کروں گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ جَعَلَہَا کَلِمَۃًۢ بَاقِیَۃً فِیۡ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ابراہیمؑ یہی کلمہ اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اِس کی طرف رجوع کریں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور (ابراہیم علیہ السلام) اسی کو اپنی اوﻻد میں بھی باقی رہنے والی بات قائم کر گئے تاکہ لوگ (شرک سے) باز آتے رہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور اسے اپنی نسل میں باقی کلام رکھا کہ کہیں وہ باز آئیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (ابراہیم(ع)) اسی (عقیدۂ توحید) کو اپنی اولاد میں باقی رہنے والا کلمہ قرار دے گئے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس نے اس (توحید کی بات) کو اپنے پچھلوں میں باقی رہنے والی بات بنا دیا، تاکہ وہ رجوع کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت ٭٭

قریشی کفار نسب اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفاء سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ، اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم میں کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بے تعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرأت ‘ حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھ لیا۔ ناممکن ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں۔ انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا۔

پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے جھٹلانا شروع کر دیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء علیہم السلام جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں۔ سرکشی اور ضد میں آ کر کفر کر بیٹھے۔ عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکے اور طائف کے کسی رئیس پر ‘ کسی بڑے آدمی پر‘ کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا؟ اور بڑے آدمی سے ان کی مراد ولید بن مغیرہ، عروہ بن مسعود، عمیر بن عمرو، عتبہ بن ربیعہ، حبیب بن عمرو ابن عبد یا لیل، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی۔ غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیئے تھا۔
28۔ 1 یعنی اس کا کلمہ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی وصیت اپنی اولاد کو کر گئے جیسے فرمایا ' یعنی اللہ نے اس کلمہ کو ابراہیم ؑ کے بعد ان کی اولاد میں باقی رکھا اور وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے رہے۔ 28۔ 2 یعنی اولاد ابراہیم میں یہ موحدین اس لئے پیدا کئے تاکہ ان کی توحید کے وعظ سے لوگ شرک سے باز آتے رہیں، حضرت ابراہیم ؑ کا دین تھا جو خالص توحید پر مبنی تھا نہ کہ شرک پر۔
(آیت 28) ➊ {وَ جَعَلَهَا كَلِمَةً:جَعَلَهَا “} میں ضمیر {”هَا“} سے مراد کلمۂ توحید {” لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ “} ہے، کیونکہ {” اِنَّنِيْ بَرَآءٌ مِّمَّا تَعْبُدُوْنَ “} کا خلاصہ {” لَا إِلٰهَ “} ہے اور {” اِلَّا الَّذِيْ فَطَرَنِيْ “} کا خلاصہ {” إِلَّا اللّٰهُ “} ہے۔ ➋ { بَاقِيَةً فِيْ عَقِبِهٖ:جَعَلَهَا “} میں ضمیر فاعل سے مراد ابراہیم علیہ السلام بھی ہو سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اس کلمہ کو اپنی اولاد میں باقی رہنے والا بنا دیا۔ دو طرح سے، ایک تو انھوں نے اپنی اولاد کو اور ان کی اولاد نے اپنی اولاد کو اس کی وصیت کی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ وَصّٰى بِهَاۤ اِبْرٰهٖمُ بَنِيْهِ وَ يَعْقُوْبُ يٰبَنِيَّ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰى لَكُمُ الدِّيْنَ فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ» [ البقرۃ: ۱۳۲ ] ”اور اسی کی وصیت ابراہیم نے اپنے بیٹوں کو کی اور یعقوب نے بھی کہ اے میرے بیٹو! بے شک اللہ نے تمھارے لیے یہ دین چن لیا ہے، تو تم ہرگز فوت نہ ہونا مگر اس حال میں کہ تم فرماں بردار ہو۔“ دوسرے انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اس بات کی دعا کی کہ یہ کلمہ ان کی اولاد میں باقی رہے، ان کی اولاد میں سے ایک امت مسلم یعنی اللہ کی فرماں بردار رہے، وہ بت پرستی سے بچے رہیں، ایمان اور عمل صالح پر قائم رہیں اور ان میں انبیاء و رسل اور اس کلمے کی دعوت دینے والے موجود رہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّ قَالَ اِنِّيْ جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا قَالَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ قَالَ لَا يَنَالُ عَهْدِي الظّٰلِمِيْنَ» [ البقرۃ: ۱۲۴ ] ”اور جب ابراہیم کو اس کے رب نے چند باتوں کے ساتھ آزمایا تو اس نے انھیں پورا کر دیا۔ فرمایا بے شک میں تجھے لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ کہا اور میری اولاد میں سے بھی؟ فرمایا میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔“ اور ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی: «وَ اجْنُبْنِيْ وَ بَنِيَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ» ‏‏‏‏ [ إبراہیم: ۳۵ ] ”اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں۔“ اور دعا کی: «‏‏‏‏رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ» [ إبراھیم: ۴۰ ] ”اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی۔“ اور ابراہیم اور اسماعیل علیھما السلام نے دعا کی: «رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَاۤ اُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۲۸ ] ”اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا۔“ اور یہ دعا بھی کی: «‏‏‏‏رَبَّنَا وَ ابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِكَ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ يُزَكِّيْهِمْ» ‏‏‏‏ [ البقرۃ: ۱۲۹ ] ”اے ہمارے رب! اور ان میں انھی میں سے ایک رسول بھیج جو ان پر تیری آیتیں پڑھے اور انھیں کتاب و حکمت سکھائے اور انھیں پاک کرے۔“ اور اگر {” جَعَلَهَا “} میں ضمیر فاعل سے مراد اللہ تعالیٰ ہو تو مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کلمے کو ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں باقی رہنے والا بنا دیا اور ان میں ہمیشہ اس کلمے پر ایمان رکھنے والے اور اس کی دعوت دینے والے موجود رہے اور رہیں گے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام کی دعا قبول فرما کر مکہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنَا دَعْوَةُ أَبِيْ إِبْرَاهِيْمَ ] [ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ، ح: ۱۵۴۶ ] ”میں اپنے باپ ابراہیم کی دعا ہوں۔“ اسی طرح ان کی اولاد میں اسحاق، یعقوب اور بہت سے انبیاء علیھم السلام مبعوث فرمائے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ يَعْقُوْبَ وَ جَعَلْنَا فِيْ ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ» ‏‏‏‏ [ العنکبوت: ۲۷ ] ”اور ہم نے اسے اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور اس کی اولاد میں نبوت اور کتاب رکھ دی۔“ ➌ { لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ:} یعنی اگر ان میں سے کچھ لوگ گمراہ ہو کر شرک کرنے لگیں تو توحید پرستوں کی دعوت پر اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آئیں۔ اس میں مکہ والوں کو تنبیہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہی کلمہ لے کر آئے ہیں جو ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں باقی چھوڑا تھا، اس لیے تم ان کی دعوت قبول کر لو اور شرک سے باز آ جاؤ۔ قرآن مجید نے بتایا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی ساری اولاد ایمان والی نہیں ہوئی بلکہ ان میں نیک و بد ہر قسم کے لوگ رہے ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۲۴)، صافات (۱۱۳)، نساء (55،54) اور سورۂ حدید (۲۶) اگلی آیت میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔
بَلۡ مَتَّعۡتُ ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡحَقُّ وَ رَسُوۡلٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اس کے باوجود جب یہ لوگ دوسروں کی بندگی کرنے لگے تو میں نے ان کو مٹا نہیں دیا) بلکہ میں اِنہیں اور اِن کے باپ دادا کو متاع حیات دیتا رہا یہاں تک کہ اِن کے پاس حق، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ میں نے ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادوں کو سامان (اور اسباب) دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف صاف سنانے واﻻ رسول آگیا
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ میں نے انہیں اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے فائدے دیے یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور صاف بتانے والا رسول تشریف لایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور (باوجود ان کی خلاف ورزی کرنے کے) میں ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا کے ساز و سامان سے بہرہ مندہ کرتا رہا یہاں تک کہ انکے پاس حق اور کھول کر بیان کرنے والا رسول آگیا۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ میں نے انھیں اور ان کے باپ داداکو برتنے کا سامان دیا، یہاں تک کہ ان کے پاس حق آگیا اور وہ رسول جو کھول کر بیان کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت ٭٭

قریشی کفار نسب اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفاء سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ، اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم میں کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بے تعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرأت ‘ حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھ لیا۔ ناممکن ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں۔ انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا۔

پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے جھٹلانا شروع کر دیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء علیہم السلام جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں۔ سرکشی اور ضد میں آ کر کفر کر بیٹھے۔ عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکے اور طائف کے کسی رئیس پر ‘ کسی بڑے آدمی پر‘ کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا؟ اور بڑے آدمی سے ان کی مراد ولید بن مغیرہ، عروہ بن مسعود، عمیر بن عمرو، عتبہ بن ربیعہ، حبیب بن عمرو ابن عبد یا لیل، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی۔ غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیئے تھا۔
29۔ 1 یہاں سے پھر ان نعمتوں کا ذکر ہو رہا ہے جو اللہ نے انہیں عطا کی تھیں اور نعمتوں کے بعد عذاب میں جلدی نہیں کی بلکہ انہیں پوری مہلت دی، جس سے وہ دھوکے میں مبتلا ہوگئے اور خواہش کے بندے بن گئے۔ 29۔ 2 حق سے قرآن اور رسول سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔ مُبِیْن رسول کی صفت ہے، کھول کر بیان کرنے والا بیان کی رسالت واضح اور ظاہر ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔
(آیت 29) {بَلْ مَتَّعْتُ هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ …:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں جو کلمہ اس لیے چھوڑا تھا کہ شرک میں گرفتار واپس پلٹ آئیں تو کیا وہ واپس پلٹے؟ فرمایا نہیں، وہ سب لوگ واپس نہیں پلٹے، بلکہ ان لوگوں یعنی قریش اور ان کے آباء کو ان کے کفر و شرک پر فوراً پکڑنے کے بجائے میں نے واپس پلٹنے کے لیے مہلت دی اور دنیا کا سازو سامان اور مال و متاع کچھ وقت تک رہنے اور فائدہ اٹھانے کے لیے دیا، مگر وہ ان دنیوی لذتوں ہی کو اپنا مقصد سمجھ بیٹھے اور ان میں ایسے بد مست ہوئے کہ ابراہیم علیہ السلام کی راہ کو بھول گئے، حتیٰ کہ ان کے پاس یہ حق اور رسول مبین آ گیا۔ {” الْحَقُّ “} سے مراد قرآن ہے اور {” رَسُوْلٌ مُّبِيْنٌ “} کا معنی کھول کر بیان کرنے والا رسول بھی ہے اور واضح رسول بھی، یعنی جس کا رسول برحق ہونا بالکل واضح ہے۔
وَ لَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ وَّ اِنَّا بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر جب وہ حق اِن کے پاس آیا تو اِنہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور حق کے پہنچتے ہی یہ بول پڑے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان کے پاس حق آیا بولے یہ جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان کے پاس حق آگیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ جادو ہے اور بے شک ہم اس سے منکر ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت ٭٭

قریشی کفار نسب اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفاء سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ، اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم میں کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بے تعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرأت ‘ حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھ لیا۔ ناممکن ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں۔ انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا۔

پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے جھٹلانا شروع کر دیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء علیہم السلام جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں۔ سرکشی اور ضد میں آ کر کفر کر بیٹھے۔ عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکے اور طائف کے کسی رئیس پر ‘ کسی بڑے آدمی پر‘ کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا؟ اور بڑے آدمی سے ان کی مراد ولید بن مغیرہ، عروہ بن مسعود، عمیر بن عمرو، عتبہ بن ربیعہ، حبیب بن عمرو ابن عبد یا لیل، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی۔ غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیئے تھا۔
30۔ 1 قرآن کو جادو قرار دے کر اس کا انکار کردیا اور اگلے الفاظ میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر و تنقیص کی۔
(آیت 30) {وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ …:} جب ان کے پاس حق یعنی قرآن آیا تو کہنے لگے، یہ جادو ہے اور ہم اسے نہیں مانتے۔ قرآن مجید کی دلوں پر زبردست تاثیر کا جب وہ کوئی توڑ نہ کر سکے، جس کی وجہ سے اس پر ایمان لانے والا اپنے رشتہ داروں کو تو چھوڑ سکتا تھا مگر ایمان سے کبھی پیچھے نہ ہٹتا تھا اور نہ ہی وہ اس پر ایمان لانے والوں کو روک سکے، تو بجائے اس کے کہ اس پر ایمان لے آتے اسے جادو کہہ کر جھٹلا دیا کہ یہ سب اثر جادو کا ہے۔ حالانکہ ظالم جانتے تھے کہ کہاں جادو جیسی پلید چیز اور جادوگروں جیسے خبیث لوگ اور کہاں اللہ کا پاکیزہ کلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاکیزہ اور بلند اخلاق والا شخص۔ محض عناد اور ضد کی وجہ سے انھوں نے یہ بات کہی۔
وَ قَالُوۡا لَوۡ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الۡقَرۡیَتَیۡنِ عَظِیۡمٍ ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہتے ہیں، یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نہ نازل کیا گیا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہنے لگے، یہ قرآن ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہ نازل کیا گیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے کیوں نہ اتارا گیا یہ قرآن ان دو شہروں کے کسی بڑے آدمی پر
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن دو (مشہور) بستیوں (مکہ و طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا؟
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت ٭٭

قریشی کفار نسب اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفاء سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ، اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم میں کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بے تعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرأت ‘ حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھ لیا۔ ناممکن ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں۔ انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا۔

پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے جھٹلانا شروع کر دیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء علیہم السلام جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں۔ سرکشی اور ضد میں آ کر کفر کر بیٹھے۔ عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکے اور طائف کے کسی رئیس پر ‘ کسی بڑے آدمی پر‘ کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا؟ اور بڑے آدمی سے ان کی مراد ولید بن مغیرہ، عروہ بن مسعود، عمیر بن عمرو، عتبہ بن ربیعہ، حبیب بن عمرو ابن عبد یا لیل، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی۔ غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیئے تھا۔
31۔ 1 دونوں بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہے اور بڑے آدمی سے مراد اکثر مفسرین کے نزدیک مکہ کا ولید بن مغیرہ اور طائف کا عروہ بن ثقفی ہے۔
(آیت 31) {وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ …:} پچھلی آیت میں ان کے قرآن پر طعن کا ذکر تھا تو اس آیت میں قرآن لانے والے پر اعتراض کا ذکر ہے۔ کفار پہلے تو کسی بشر کا رسول ہونا ہی ماننے کے لیے تیار نہ تھے، ان کا مطالبہ تھا کہ رسول فرشتہ ہونا چاہیے۔ جب ناقابل تردید دلائل سے انھیں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام رسول بشر ہی بھیجے ہیں، تمھارے جد امجد ابراہیم و اسماعیل علیھما السلام اور دوسرے پیغمبر، مثلاً موسیٰ علیہ السلام، سب بشر ہی تھے، تو فرشتہ رسول کا مطالبہ چھوڑ کر یہ مطالبہ داغ دیا کہ یہ قرآن دو بستیوںمیں سے کسی عظیم آدمی پر کیوں نازل نہیں کیا گیا۔ دو بستیوں سے مراد مکہ اور طائف ہیں، کیونکہ ان کی مرکزی بستیاں یہ دو ہی تھیں۔ {” عَظِيْمٍ “} سے مراد دنیاوی مال و دولت اور جاہ و مرتبہ کے لحاظ سے عظیم ہے۔ مفسرین مکہ کے ان عظیم آدمیوں میں سے ولید بن مغیرہ یا عتبہ بن ربیعہ کا اور طائف کے عظماء میں سے عروہ بن مسعود، حبیب بن عمرو یا کنانہ بن عبد یا لیل یا اس قبیل کے دوسرے لوگوں کا ذکر کرتے ہیں۔ کفار کے خیال میں مال کی کثرت اور قوم کے سردار ہونے کی وجہ سے یہ لوگ نبوت کے حق دار تھے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم مال و جاہ کی کمی کی وجہ سے اس کے اہل نہیں تھے، کیونکہ آپ کے پاس دولت کی کثرت تھی نہ کسی قبیلے کی سرداری۔ یہ کفار کی جہالت اور سخت نادانی تھی کہ انھوں نے نبوت کے منصب کے لیے مال و جاہ کو شرط قرار دیا۔
اَہُمۡ یَقۡسِمُوۡنَ رَحۡمَتَ رَبِّکَ ؕ نَحۡنُ قَسَمۡنَا بَیۡنَہُمۡ مَّعِیۡشَتَہُمۡ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ رَفَعۡنَا بَعۡضَہُمۡ فَوۡقَ بَعۡضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَتَّخِذَ بَعۡضُہُمۡ بَعۡضًا سُخۡرِیًّا ؕ وَ رَحۡمَتُ رَبِّکَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تیرے رب کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کیے ہیں، اور اِن میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دوسرے لوگوں پر ہم نے بدرجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں اور تیرے رب کی رحمت اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (اِن کے رئیس) سمیٹ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ کے رب کی رحمت کو یہ تقسیم کرتے ہیں؟ ہم نے ہی ان کی زندگانیٴ دنیا کی روزی ان میں تقسیم کی ہے اور ایک کو دوسرے سے بلند کیا ہے تاکہ ایک دوسرے کو ماتحت کر لے جسے یہ لوگ سمیٹتے پھرتے ہیں اس سے آپ کے رب کی رحمت بہت ہی بہتر ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں ہم نے ان میں ان کی زیست کا سامان دنیا کی زندگی میں بانٹا اور ان میں ایک دوسرے پر درجوں بلندی دی کہ ان میں ایک دوسرے کی ہنسی بنائے اور تمہارے رب کی رحمت ان کی جمع جتھا سے بہتر
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ آپ کے پروردگار کی رحمت تقسیم کرتے ہیں؟ (حالانکہ) دنیاوی زندگی میں ان کے درمیان ان کی روزی ہم نے تقسیم کر دی ہے اور ہم نے بعض کو بعض پر کئی درجے فوقیت دی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے سے خد متلے سکیں اور آپ کے پروردگار کی رحمت اس مال و دولت سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا وہ تیرے رب کی رحمت تقسیم کرتے ہیں؟ ہم نے خود ان کے درمیان ان کی معیشت دنیا کی زندگی میں تقسیم کی اور ان میں سے بعض کو بعض پر درجوں میں بلند کیا، تاکہ ان کا بعض، بعض کو تابع بنالے اور تیرے رب کی رحمت ان چیزوں سے بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الٰہی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہارا علم؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو۔ دنیا کی قدر و قیمت: پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہو گئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم، قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں۔ ‘ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے۔ ایک ایک کے ماتحت رہے۔

پھر ارشاد ہوا کہ ’ تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے‘، زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضا مندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیا اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی۔ میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں۔ کھانے، پینے، رہنے، سہنے، برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے۔ ایک نیکی باقی نہ ہو گی جو اللہ سے کچھ حاصل کر سکیں ‘۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے { اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں ان کے لیے جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے۔ وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے { اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کیا تو شک میں ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2468] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت }۔۱؎ [صحیح بخاری:4913] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیو یہ دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں۔ اور دنیا میں یہ ان کے لیے یوں ہیں کہ رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5426] ‏‏‏‏ ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا }۔۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
32۔ 1 اس رحمت سے مراد آخرت کی وہ نعمتیں ہیں جو اللہ نے اپنے نیک بندوں کے لئے تیار کر رکھی ہیں۔
(آیت 32) ➊ {اَهُمْ يَقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ:} یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے۔ {” رَحْمَتَ “} کا لفظ اگرچہ عام ہے، جس میں ہر رحمت شامل ہے، مگر یہاں اس سے مراد نبوت و رسالت ہے، کیوں کہ ان کا اعتراض اسی پر تھا۔ {” رَحْمَتَ رَبِّكَ “} (تیرے رب کی رحمت) کے الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرنے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کی بلندی کا اظہار ہو رہا ہے۔ یعنی کیا تیرے رب کی رحمت نبوت و رسالت کی تقسیم ان کے ہاتھوں میں ہے کہ جسے چاہیں دیں اور جسے چاہیں نہ دیں؟ نہیں، یہ اختیار اللہ ہی کے پاس ہے اور وہی جانتا ہے کہ یہ رحمت کسے عطا کرنی ہے۔ یہ جاہل اپنی حیثیت کو بھول کر اس قدر دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں کہ ان کا ہر شخص چاہتا ہے کہ اللہ کی کتاب اسی کو دی جائے، فرمایا: «‏‏‏‏بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ اَنْ يُّؤْتٰى صُحُفًا مُّنَشَّرَةً» ‏‏‏‏ [ المدثر: ۵۲ ] ”بلکہ ان میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیے جائیں۔“ حتیٰ کہ انھوں نے ایمان لانے کی شرط ہی نبوت دیا جانا ٹھہرائی، فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ سَيُصِيْبُ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِيْدٌۢ بِمَا كَانُوْا يَمْكُرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنعام: ۱۲۴ ] ”اور جب ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے تو کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے، یہاں تک کہ ہمیں اس جیسا دیا جائے جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا۔ اللہ زیادہ جاننے والا ہے جہاں وہ اپنی رسالت رکھتا ہے۔ عنقریب ان لوگوں کو جنھوں نے جرم کیے، اللہ کے ہاں بڑی ذلت پہنچے گی اور بہت سخت عذاب، اس وجہ سے کہ وہ فریب کیا کرتے تھے۔“ خلاصہ یہ کہ تیرے رب کی رحمت کی تقسیم اسی کے پاس ہے اور وہی جانتا ہے کہ کون اس کے قابل ہے۔ یہ کافر دنیا کے مال و جاہ کی وجہ سے ان لوگوں کو رسالت کے قابل سمجھ رہے ہیں جو اللہ کے ہاں ایک تنکے کا وزن نہیں رکھتے اور مال نہ ہونے کی وجہ سے اس شخص کو نبوت کے لیے نااہل قرار دے رہے ہیں جو سب سے زیادہ پاکیزہ قلب و نفس والا، خاندانی شرافت میں سب سے بلند اور انسانی خوبیوں میں سب سے ممتاز ہے۔ ➋ { نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَّعِيْشَتَهُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} یعنی نبوت و رسالت تو بہت ہی بلند چیز ہے، ہم نے تو دنیا میں ان کی روزی کی تقسیم کا اختیار بھی ان کو یا کسی دوسرے کو نہیں دیا، بلکہ اسے خود تقسیم کیا ہے، حالانکہ وہ ہمارے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، تو قرآن نازل کرنے کا اختیار انھیں کیسے دے سکتے ہیں!؟ ➌ { وَ رَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ:} اس مختصر سے جملے میں اللہ تعالیٰ نے کئی حقیقتیں بیان فرما دی ہیں۔ پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے صلاحیتوں اور روزیوں کی تقسیم میں برابری نہیں رکھی، بلکہ ان میں درجات رکھے ہیں۔ کسی کو غنی بنا دیا کسی کو فقیر، کوئی ذہین ہے کوئی کند ذہن، کوئی بے وقوف ہے کوئی عقل مند اور کوئی اس سے بڑھ کر عقل مند، کوئی طاقتور ہے کوئی کمزور، کوئی خادم ہے کوئی مخدوم، کوئی مالک ہے کوئی مملوک، کوئی اندھا ہے کوئی بینا، کوئی باعزت ہے کوئی ذلیل اور کوئی حاکم کوئی محکوم۔ کمیونسٹوں کا نعرہ کہ ہم تمام لوگوں میں دولت کی مساوات پیدا کریں گے، سخت دھوکا تھا۔ یہ اللہ کے فیصلے کے خلاف ہے، نہ ایسا ہو سکتا ہے نہ کمیونسٹوں سے ہو سکا۔ رزق اور اللہ تعالیٰ کی دوسری عنایتوں کی عطا میں یکسانیت کے بجائے درجات کی کمی بیشی ناقابل تردید حقیقت ہے۔ دنیا میں اس کا مقصد آزمائش ہے۔ (دیکھیے انعام: ۱۶۵) درجات کا یہ فرق آخرت میں اس سے بھی زیادہ ہو گا۔ دیکھیے سورۂ نحل (۷۱)، بنی اسرائیل (۲۱) اور سورۂ روم (۲۸)۔ دوسری حقیقت یہ کہ یہ کمی بیشی اللہ تعالیٰ نے رکھی ہے، کسی دوسرے کا اس میں کوئی دخل نہیں اور اللہ تعالیٰ نے جسے جس درجے میں رکھا ہے اس پر قناعت کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں۔ کسی کو خوبصورت بنایا یا بدصورت، قوی بنایا یا ضعیف، عقل مند بنایا یا بے وقوف، آنکھیں عطا کر دیں یا نابینا کر دیا، ہر ایک کو اسی طرح رہنا پڑے گا جس طرح خلاّقِ عالم نے اس کے لیے طے کر دیا ہے۔ ➍ { لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا: ”اِتَّخَذَ فُلَانٌ فُلَانًا سُخْرِيًّا“} یعنی فلاں نے فلاں کو اپنا تابع بنا لیا، یا اپنے کام یا خدمت میں لگا لیا۔ یہ تیسری حقیقت ہے، کسی مال دار کا مال یا دنیوی عز و جاہ اس بات کی دلیل نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر خوش ہے اور نہ ہی کسی فقیر کا فقر اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہے، بلکہ درجات کا یہ تفاوت اللہ تعالیٰ نے اس لیے رکھا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کی ضرورت رہے اور وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں، کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو دنیا کا نظام معطل ہو جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے ایک شخص کو مال نہیں دیا، مگر اسے کسی کام کی صلاحیت اور قوت بخش دی، دوسرے کو کمزور بنا دیا جو خود نہ کام کر سکتا ہے نہ محنت، مگر اسے دولت بخش دی جس کے ساتھ وہ ان لوگوں کو مزدور رکھ سکتا ہے جن کے پاس مال نہیں۔ اسی طرح کسی کے پاس ایک ہنر ہے دوسرے کے پاس دوسرا، دونوں ایک دوسرے سے کام لیتے ہیں۔ اس میں ضروری نہیں کہ کام لینے والا مرتبے میں بھی اس سے اونچا ہو جس سے کام لے رہا ہے۔ کتنے ہی ڈاکٹر، انجینئر اور دوسرے کمالات کے مالک ان لوگوں کے پاس ملازمت کر رہے ہیں جو مطلق جاہل ہیں۔ یہاں کوئی بڑے سے بڑا ایسا نہیں جو چھوٹے سے چھوٹے کا محتاج نہ ہو، حتیٰ کہ بادشاہ بھی حجام، باورچی اور دوسرے خدمت گاروں کا محتاج ہے اور خدمت گار اس کے محتاج ہیں، اسی سے نظامِ عالم چل رہا ہے۔ اگر سب برابر ہو جائیں تو وہ ایک قدم نہیں چل سکتا۔ ➎ { وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ:رَحْمَتُ رَبِّكَ “} کے متعلق دو قول ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد نبوت ہے، یعنی نبوت و رسالت کا شرف تو دنیوی مال و جاہ اور ساز و سامان سے کہیں اعلیٰ ہے۔ جب دنیا کی دولت اس نے ان کی تقسیم پر نہیں رکھی تو رسالت ان کی تجویز پر کیسے دے گا!؟ دوسرا یہ کہ اس سے مراد آخرت کی وہ نعمتیں ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے تیار کر رکھی ہیں، یعنی یہ لوگ دنیا کے جس فانی مال و متاع اور عز و جاہ کو سمیٹنے کی تگ و دو میں دن رات لگے ہوئے ہیں، تیرے رب کی رحمت یعنی آخرت کی دائمی نعمتیں ان سے بدرجہا بہتر ہیں۔
وَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ یَّکُوۡنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلۡنَا لِمَنۡ یَّکۡفُرُ بِالرَّحۡمٰنِ لِبُیُوۡتِہِمۡ سُقُفًا مِّنۡ فِضَّۃٍ وَّ مَعَارِجَ عَلَیۡہَا یَظۡہَرُوۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے تو خدائے رحمان سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں، اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقہ پر ہو جائیں گے تو رحمٰن کے ساتھ کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتوں کو ہم چاندی کی بنادیتے۔ اور زینوں کو (بھی) جن پر چڑھا کرتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک دین پر ہوجائیں تو ہم ضرور رحمٰن کے منکروں کے لیے چاندی کی چھتیں اور سیڑھیاں بناتے جن پر چڑھتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن کا انکار کرنے والوں کے مکانوں کی چھتیں اور سیڑھیاں جن پر وہ چڑھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر یہ نہ ہوتا کہ سب لوگ ایک ہی امت ہو جائیں گے تو یقینا ہم ان لوگوں کے لیے جو رحمان کے ساتھ کفر کرتے ہیں، ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی، جن پر وہ چڑھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الٰہی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہارا علم؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو۔ دنیا کی قدر و قیمت: پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہو گئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم، قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں۔ ‘ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے۔ ایک ایک کے ماتحت رہے۔

پھر ارشاد ہوا کہ ’ تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے‘، زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضا مندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیا اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی۔ میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں۔ کھانے، پینے، رہنے، سہنے، برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے۔ ایک نیکی باقی نہ ہو گی جو اللہ سے کچھ حاصل کر سکیں ‘۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے { اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں ان کے لیے جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے۔ وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے { اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کیا تو شک میں ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2468] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت }۔۱؎ [صحیح بخاری:4913] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیو یہ دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں۔ اور دنیا میں یہ ان کے لیے یوں ہیں کہ رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5426] ‏‏‏‏ ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا }۔۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
33۔ 1 یعنی دنیا کے مال و اسباب میں رغبت کرنے کی وجہ سے طالب دنیا ہی ہوجائیں گے اور رضائے الٰہی اور آخرت کی طلب سب فراموش کردیں گے۔
(آیت 33تا35) ➊ {وَ لَوْ لَاۤ اَنْ يَّكُوْنَ النَّاسُ اُمَّةً وَّاحِدَةً …: ” سُقُفًا”سَقْفٌ“} کی جمع ہے، چھتیں۔ {” مَعَارِجَ “} (سیڑھیاں) {”مِعْرَجٌ“} یا {”مِعْرَاجٌ“} کی جمع ہے، جیسے {”مَفَاتِحُ“} اور {”مَفَاتِيْحُ“ ”مِفْتَاحٌ“} کی جمع ہیں۔ {” سُرُرًا”سَرِيْرٌ“} کی جمع ہے، چارپائیاں، تخت۔ {” زُخْرُفًا “} کا معنی سونا ہے، جیسا کہ کفار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا: «‏‏‏‏اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ» [ بني إسرائیل: ۹۳ ] ”یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر ہو۔“ اس کا معنی زینت و آرائش بھی ہے، جیسا کہ فرمایا: «حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذَتِ الْاَرْضُ زُخْرُفَهَا وَ ازَّيَّنَتْ» ‏‏‏‏ [ یونس: ۲۴ ] ”یہاں تک کہ جب زمین نے اپنی آرائش حاصل کر لی اور خوب مزین ہو گئی۔“ {” زُخْرُفًا “} منصوب ہونے کی دو وجہیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ اصل میں {”سُقُفًا مِنْ فِضَّةٍ وَ مِنْ زُخْرُفٍ“} ہے، حرف جار حذف ہونے کی وجہ سے منصوب ہو گیا، یعنی ”ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سونے کی۔“ دوسری وجہ یہ کہ یہ {” لَجَعَلْنَا “} کے مفعول {” سُقُفًا “} پر عطف ہے، یعنی {”لَجَعَلْنَا لِبُيُوْتِهِمْ سُقُفًا مِنْ فِضَّةٍ وَ لَجَعَلْنَا لَهُمْ زُخْرُفًا“} کہ ”ہم ان کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور ہم ان کے لیے سونا مہیا کر دیتے۔“ {” وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا “} میں {” اِنْ “} نافیہ ہے اور {” لَمَّا “} بمعنی {”إِلَّا“} ہے، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ» [ الطارق: ۴ ] ”نہیں کوئی جان مگر اس کے اوپر ایک حفاظت کرنے والا ہے۔“ ➋ آیات کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب {” وَ رَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِّمَّا يَجْمَعُوْنَ “} (اورتیرے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کر رہے ہیں) میں آخرت کی عظمت و شان اور دنیا کی حقارت بیان فرمائی تو ساتھ ہی بیان فرمایا کہ اس کے نزدیک دنیا بالکل ہی حقیر اور بے قدر و قیمت ہے، اس کے ہاں کوئی قیمت ہے تو صرف آخرت کی، اس لیے اس نے آخرت کی نعمتیں صرف مسلمانوں کے لیے خاص کر رکھی ہیں، کفار کا ان میں کوئی حصہ نہیں۔ دنیا کی نعمتوں میں اس نے مومن و کافر سب کو شریک رکھا ہے اور دونوں کو ان نعمتوں میں شریک رکھنے کی حکمت بیان فرمائی کہ اگر ہمیں یہ بات ناپسند نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی امت یعنی سبھی کافر ہو جائیں گے تو ہم دنیا کی زیب و زینت کی تمام اشیاء کفار کو دے دیتے، لیکن چونکہ ہمیں معلوم ہے کہ لوگوں کے دلوں میں دنیوی زیب و زینت کی شدید رغبت اور محبت موجود ہے، اگر ہم نے یہ سبھی کچھ کفار کو دے دیا تو دنیا کی رغبت کے نتیجے میں سبھی لوگ کافر ہو جائیں گے، (جب کہ یہ بات ہماری رحمت کو منظور نہیں) اس لیے ہم نے کافر و مومن دونوں میں غنی بھی رکھے ہیں، فقیر بھی اور دنیا کی زندگی کے سازو سامان میں دونوں کو شریک رکھا ہے۔ آیت کے آخری جملوں: «وَ اِنْ كُلُّ ذٰلِكَ لَمَّا مَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ» ‏‏‏‏ (اور یہ سب کچھ دنیا کی زندگی کے سامان کے سوا کچھ نہیں اور آخرت تیرے رب کے ہاں متقی لوگوں کے لیے ہے) میں بیان فرمایا کہ آخرت صرف ایمان والوں کے لیے ہے۔ یہی مضمون سورۂ اعراف (۳۲) میں بیان ہوا ہے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰهِ جَنَاحَ بَعُوْضَةٍ مَا سَقٰی كَافِرًا مِنْهَا شَرْبَةَ مَاءٍ] [ ترمذي، الزھد، باب ما جاء في ھوان الدنیا علی اللّٰہ عز و جل: ۲۳۲۰ ] ”اگر دنیا اللہ کے ہاں مچھر کے ایک پر کے برابر ہوتی تو وہ اس میں سے کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ پینے کو نہ دیتا۔“
وَ لِبُیُوۡتِہِمۡ اَبۡوَابًا وَّ سُرُرًا عَلَیۡہَا یَتَّکِـُٔوۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اُن کے دروازے، اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی جن پر وه تکیہ لگا لگا کر بیٹھتے
احمد رضا خان بریلوی
اور ان کے گھروں کے لیے چاندی کے دروازے اور چاندی کے تخت جن پر تکیہ لگاتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت جن پر وہ تکیہ لگاتے ہیں سب چا ندی اور سونے کے بنوا دیتے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان کے گھروں کے دروازے اور تخت بھی، جن پر وہ تکیہ لگاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الٰہی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہارا علم؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو۔ دنیا کی قدر و قیمت: پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہو گئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم، قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں۔ ‘ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے۔ ایک ایک کے ماتحت رہے۔

پھر ارشاد ہوا کہ ’ تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے‘، زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضا مندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیا اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی۔ میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں۔ کھانے، پینے، رہنے، سہنے، برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے۔ ایک نیکی باقی نہ ہو گی جو اللہ سے کچھ حاصل کر سکیں ‘۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے { اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں ان کے لیے جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے۔ وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے { اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کیا تو شک میں ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2468] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت }۔۱؎ [صحیح بخاری:4913] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیو یہ دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں۔ اور دنیا میں یہ ان کے لیے یوں ہیں کہ رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5426] ‏‏‏‏ ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا }۔۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ زُخۡرُفًا ؕ وَ اِنۡ کُلُّ ذٰلِکَ لَمَّا مَتَاعُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ الۡاٰخِرَۃُ عِنۡدَ رَبِّکَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
سب چاندی اور سونے کے بنوا دیتے یہ تو محض حیات دنیا کی متاع ہے، اور آخرت تیرے رب کے ہا ں صرف متقین کے لیے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سونے کے بھی، اور یہ سب کچھ یونہی سا دنیا کی زندگی کا فائده ہے اور آخرت تو آپ کے رب کے نزدیک (صرف) پرہیزگاروں کے لیے (ہی) ہے۔
احمد رضا خان بریلوی
اور طرح طرح کی آرائش اور یہ جو کچھ ہے جیتی دنیا ہی کا اسباب ہے، اور آخرت تمہارے رب کے پاس پرہیزگاروں کے لیے ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ سب کچھ دنیاوی زندگی کا ساز و سامان ہے اور تمہارے پروردگار کے ہاں آخرت تو متقیوں کے لئے ہے۔
عبدالسلام بن محمد
(چاندی کے بنا دیتے) اور سونے کے اور یہ سب کچھ دنیا کی زندگی کے سامان کے سوا کچھ نہیں اور آخرت تیرے رب کے ہاں متقی لوگوں کے لیے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس اعتراض کے جواب میں فرمان باری سرزد ہوتا ہے کہ کیا رحمت الٰہی کے یہ مالک ہے جو یہ اسے تقسیم کرنے بیٹھے ہیں؟ اللہ کی چیز اللہ کی ملکیت وہ جسے چاہے دے پھر کہاں اس کا علم اور کہاں تمہارا علم؟ اسے بخوبی معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رسالت کا حقدار صحیح معنی میں کون ہے؟ یہ نعمت اسی کو دی جاتی ہے جو تمام مخلوق سے زیادہ پاک دل ہو۔ سب سے زیادہ پاک نفس ہو سب سے بڑھ کر اشرف گھر کا ہو اور سب سے زیادہ پاک اصل کا ہو۔ دنیا کی قدر و قیمت: پھر فرماتا ہے کہ ’ یہ رحمت اللہ کے تقسیم کرنے والے کہاں سے ہو گئے؟ اپنی روزیاں بھی ان کے اپنے قبضے کی نہیں وہ بھی ان میں ہم بانٹتے ہیں اور فرق وتفاوت کے ساتھ جسے جب جتنا چاہیں دیں۔ جس سے جب جو چاہیں چھین لیں عقل و فہم، قوت طاقت وغیرہ بھی ہماری ہی دی ہوئی ہے اور اس میں بھی مراتب جداگانہ ہیں۔ ‘ اس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے سے کام لے کیونکہ اس کی اسے اور اس کی اسے ضرورت اور حاجت رہتی ہے۔ ایک ایک کے ماتحت رہے۔

پھر ارشاد ہوا کہ ’ تم جو کچھ دنیا جمع کر رہے ہو اس کے مقابلہ میں رب کی رحمت بہت ہی بہتر اور افضل ہے‘، زاں بعد اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ مال کو میرا فضل اور میری رضا مندی کی دلیل جان کر مالداروں کے مثل بن جائیں تو میں تو کفار کو یہ دنیا اتنی دیتا کہ ان کے گھر کی چھتیں بلکہ ان کے کوٹھوں کی سیڑھیاں بھی چاندی کی ہوتیں جن کے ذریعے یہ اپنے بالا خانوں پر پہنچتے۔ اور ان کے گھروں کے دروازے ان کے بیٹھنے کے تخت بھی چاندی کے ہوتے اور سونے کے بھی۔ میرے نزدیک دنیا کوئی قدر کی چیز نہیں یہ فانی ہے زائل ہونے والی ہے اور ساری مل بھی جائے جب بھی آخرت کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ ان لوگوں کی اچھائیوں کے بدلے انہیں یہیں مل جاتے ہیں۔ کھانے، پینے، رہنے، سہنے، برتنے برتانے میں کچھ سہولتیں بہم پہنچ جاتی ہیں۔ آخرت میں تو محض خالی ہاتھ ہوں گے۔ ایک نیکی باقی نہ ہو گی جو اللہ سے کچھ حاصل کر سکیں ‘۔ جیسے کہ صحیح حدیث میں وارد ہوا ہے اور حدیث میں ہے { اگر دنیا کی قدر اللہ کے نزدیک ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو کسی کافر کو یہاں پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ پلاتا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرمایا آخرت کی بھلائیاں ان کے لیے جو دنیا میں پھونک پھونک کے قدم رکھتے رہے ڈر ڈر کر زندگی گزارتے رہے۔ وہاں رب کی خاص نعمتیں اور مخصوص رحمتیں جو انہیں ملیں گی ان میں کوئی اور ان کا شریک نہ ہو گا۔ چنانچہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالا خانہ میں گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہما سے ایلا کر رکھا تھا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک چٹائی کے ٹکڑے پر لیٹے ہوئے ہیں جس کے نشان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر نمایاں ہیں تو رو دئیے اور کہا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیصر و کسرٰی کس آن بان اور کس شان و شوکت سے زندگی گزار رہے ہیں اور آپ اللہ کی برگذیدہ پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو کر کس حال میں ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا تو تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوئے تھے یا فوراً تکیہ چھوڑ دیا اور فرمانے لگے { اے ابن خطاب رضی اللہ عنہ کیا تو شک میں ہے؟ یہ تو وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں جلدی سے یہیں انہیں مل گئیں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:2468] ‏‏‏‏ ایک اور روایت میں ہے کہ { کیا تو اس سے خوش نہیں کہ انہیں دنیا ملے اور ہمیں آخرت }۔۱؎ [صحیح بخاری:4913] ‏‏‏‏

بخاری و مسلم وغیرہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سونے چاندی کے برتنوں میں نہیں کھاؤ پیو یہ دنیا میں ان کے لیے ہیں اور آخرت میں ہمارے لیے ہیں۔ اور دنیا میں یہ ان کے لیے یوں ہیں کہ رب کی نظروں میں دنیا ذلیل و خوار ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5426] ‏‏‏‏ ترمذی وغیرہ کی ایک حسن صحیح حدیث میں ہے کہ حضور سلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو کسی کافر کو کبھی بھی اللہ تعالیٰ ایک گھونٹ پانی کا نہ پلاتا }۔۱؎ [سنن ترمذي:2320،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏
35۔ 1 جو شرک و معاصی سے اجتناب اور اللہ کی اطاعت کرتے رہے، ان کے لئے آخرت اور جنت کی نعمتیں ہیں جن کو زوال و فنا نہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ مَنۡ یَّعۡشُ عَنۡ ذِکۡرِ الرَّحۡمٰنِ نُقَیِّضۡ لَہٗ شَیۡطٰنًا فَہُوَ لَہٗ قَرِیۡنٌ ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو شخص رحمان کے ذکر سے تغافل برتتا ہے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت کرے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جسے رند تو آئے (شب کوری ہو) رحمن کے ذکر سے ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جوشخص خدا کی یاد سے اندھا بنتا ہے تو ہم اس کیلئے ایک شیطان مقرر کر دیتے ہیں جو اس کا ساتھی ہوتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو شخص رحمن کی نصیحت سے اندھا بن جائے ہم اس کے لیے ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں، پھر وہ اس کے ساتھ رہنے والا ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان سے بچو ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے ‘۔ آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:115] ‏‏‏‏، یعنی ’ جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے ‘۔ اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» ۱؎ [61-الصف:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «‏‏‏‏وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَ‌نَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِ‌ينَ» ۱؎ [41-فصلت:25] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں ‘، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ ‘ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔

ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ’ شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے ‘۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں ‘، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے ‘۔ یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔
36۔ 1 عَشَا یَعْشُوْ کے معنی ہیں آنکھوں کی بیماری اس کی وجہ سے جو اندھا پن ہوتا ہے۔ یعنی جو اللہ کے ذکر سے اندھا ہوجائے۔ 36۔ 2 وہ شیطان، اللہ کی یاد سے غافل رہنے والے کا ساتھی بن جاتا ہے جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے اور نیکیوں سے روکتا ہے۔
(آیت 36) ➊ {وَ مَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ:} زمخشری نے فرمایا، {”عَشِيَ يَعْشٰي“} (ع) جب نظر میں خرابی آ جائے اور {”عَشَا يَعْشُوْ“ } (ن) جب اس شخص کی طرح دیکھے جس کی نظر خراب ہے، حالانکہ اس میں کوئی خرابی نہ ہو۔ دونوں میں وہی فرق ہے جو {”عَمِيَ“} (اندھا ہو گیا) اور {”تَعَامٰي“} (اندھا بن گیا) میں ہے۔ {” ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ “} کا معنی رحمان کی یاد بھی ہے، اس کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت بھی اور یہ قرآن بھی۔ دنیا کی زیب و زینت میں ہمہ تن مشغول ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اللہ کے ذکر سے غافل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے فرشتے اس سے نفرت کرتے ہیں اور شیطان اس سے چمٹ جاتے ہیں، جو اسے ہر برائی میں مبتلا کرنے کی سر توڑ کوشش کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ المنافقون: ۹ ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھارے مال اور تمھاری اولاد تمھیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔“ اور جو شخص خواہشِ نفس پر قابو رکھ کر دنیا کے فتنوں سے بچے اور اللہ کے ذکر پر دوام کرے تو شیطان اس سے دور ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ فرشتہ مقرر کر دیتے ہیں جو اس کی مدد کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر سے جان بوجھ کر غفلت کے لیے اندھا بننے کا لفظ استعمال فرمایا اور لفظ {” الرَّحْمٰنِ “} اس لیے ذکر فرمایا کہ انسان کے لائق نہیں کہ اس بے حد رحم والے کے ذکر سے غفلت کرے۔ ➋ { نُقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۲۵)۔ {” شَيْطٰنًا “} نکرہ ہے، کوئی نہ کوئی شیطان، وہ انسانوں میں سے ہو یا ابلیس کی اولاد میں سے۔ شیطان مقرر کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف فرمائی، حالانکہ یہ انسان کے اللہ کے ذکر سے غافل ہونے کا نتیجہ ہوتا ہے، کیونکہ ہر کام کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور تمام امور اسی کی طرف لوٹتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ» [ البقرۃ: ۲۱۰ ] ”اور سب کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔“
وَ اِنَّہُمۡ لَیَصُدُّوۡنَہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ شیاطین ایسے لوگو ں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه انہیں راه سے روکتے ہیں اور یہ اسی خیال میں رہتے ہیں کہ یہ ہدایت یافتہ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک وہ شیاطین ان کو راہ سے روکتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ راہ پر ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ (شیاطین) ان (اندھوں) کو راہ (راست) سے روکتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بے شک وہ ضرور انھیں اصل راستے سے روکتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ بے شک وہ سیدھی راہ پر چلنے والے ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان سے بچو ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے ‘۔ آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:115] ‏‏‏‏، یعنی ’ جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے ‘۔ اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» ۱؎ [61-الصف:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «‏‏‏‏وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَ‌نَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِ‌ينَ» ۱؎ [41-فصلت:25] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں ‘، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ ‘ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔

ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ’ شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے ‘۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں ‘، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے ‘۔ یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔
37۔ 1 یعنی وہ شیطان ان کے حق کے راستے کے درمیان حائل ہوجاتے ہیں اور اس سے انہیں روکتے ہیں اور انہیں برابر سمجھاتے رہتے ہیں کہ تم حق پر ہو، حتٰی کہ وہ واقعی اپنے بارے میں یہی گمان کرنے لگ جاتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں یا کافر شیطانوں کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ یہ ٹھیک ہیں اور ان کی اطاعت کرتے رہتے ہیں (ابن کثیر)۔
(آیت 37) ➊ {وَ اِنَّهُمْ لَيَصُدُّوْنَهُمْ عَنِ السَّبِيْلِ:اِنَّهُمْ “} میں ضمیر شیاطین کی طرف اور {” لَيَصُدُّوْنَهُمْ “} میں ضمیر {”هُمْ“} رحمان کے ذکر سے غفلت کرنے والوں کی طرف جا رہی ہے، حالانکہ پچھلی آیت میں دونوں کا ذکر واحد کی ضمیر کے ساتھ آیا ہے، لیکن وہاں بھی لفظ {” مَنْ “} واحد ہونے کے باوجود معنی کے لحاظ سے جمع ہے۔ یعنی اس کی یاد سے جان بوجھ کر غفلت کرنے والوں کو کوئی نہ کوئی شیطان چمٹ جاتے ہیں، خواہ انسانی شیطان ہوں یا ابلیس کی اولاد، وہ ان کے لیے گناہوں کو خوبصورت کرکے دکھاتے ہیں، ان کی نفسانی خواہشات کو ابھارتے اور انھیں اللہ کی نافرمانی میں مشغول کر دیتے ہیں، حتیٰ کہ انھیں صراطِ مستقیم سے بالکل روک دیتے ہیں اور جہنم میں پہنچا کر چھوڑتے ہیں۔ ➋ { وَ يَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ:} یعنی راہِ راست سے رک جانے والے وہ غافل سراسر گمراہ ہونے کے باوجود اپنے بارے میں سمجھتے ہیں کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں۔ یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے گمراہ کرنے والے شیاطین کے متعلق سمجھتے ہیں کہ وہ سیدھے راستے پر ہیں، اس لیے آنکھیں بند کرکے ان کے پیچھے چلتے چلے جاتے ہیں۔
حَتّٰۤی اِذَا جَآءَنَا قَالَ یٰلَیۡتَ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَکَ بُعۡدَ الۡمَشۡرِقَیۡنِ فَبِئۡسَ الۡقَرِیۡنُ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا، "کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بُعد ہوتا، تُو تو بد ترین ساتھی نکلا"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہاں تک کہ جب وه ہمارے پاس آئے گا کہے گا کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی (تو) بڑا برا ساتھی ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہاں تک کہ جب کافر ہمارے پاس آئے گا اپنے شیطان سے کہے گا ہائے کسی طرح مجھ میں تجھ میں پورب پچھم کا فاصلہ ہوتا تو کیا ہی برا ساتھی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئیگا تو (اپنے شیطان سے) کہے گا اے کاش! میرے اور تیرے درمیان مشرقومغرب کی دوری ہوتی تو بہت برا ساتھی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہاں تک کہ جب وہ ہمارے پاس آئے گا تو کہے گا اے کاش! میرے درمیان اور تیرے درمیا ن دو مشرقوں کا فاصلہ ہوتا، پس وہ برا ساتھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان سے بچو ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے ‘۔ آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:115] ‏‏‏‏، یعنی ’ جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے ‘۔ اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» ۱؎ [61-الصف:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «‏‏‏‏وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَ‌نَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِ‌ينَ» ۱؎ [41-فصلت:25] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں ‘، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ ‘ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔

ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ’ شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے ‘۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں ‘، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے ‘۔ یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔
38۔ 1 مراد مشرق اور مغرب کی دوری ہے، یہ کافر قیامت والے دن کہے گا لیکن اس دن اس اعتراف کا کیا فائدہ؟
(آیت 38) ➊ { حَتّٰۤى اِذَا جَآءَنَا قَالَ …:} دنیا میں ہر وقت شیطان کے ساتھ رہنے کے بعد قیامت کے دن اللہ کے ذکر سے اندھا بننے والا انسان جب اپنے قرین کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہو گا تو حسرت و افسوس کے ساتھ اس سے کہے گا، کاش! میرے اور تیرے درمیان دو مشرقوں کی دوری ہوتی۔ دو مشرقوں سے مراد مشرق و مغرب ہیں۔ دونوں کو ”مشرقین “ کہہ دیا ہے، جیسے ابوبکر و عمر(رضی اللہ عنھما) کو ”عمرین “کہہ دیتے ہیں اور کھجور اور پانی کو ”اسودین “کہہ دیتے ہیں۔ دو مشرق بھی مراد ہو سکتے ہیں، کیونکہ سردیوں میں سورج طلوع ہونے کی جگہ اور گرمیوں میں طلوع ہونے کی جگہ کے درمیان بہت فاصلہ ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَ رَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ» ‏‏‏‏ [ الرحمان: ۱۷ ] ”(وہ) دونوں مشرقوں کا رب ہے اور دونوں مغربوں کا رب۔“ ➋ { فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ: ”أَيْ بِئْسَ الْقَرِيْنُ أَنْتَ“} یعنی تو برا ساتھی ہے، جس نے دوست بن کر مجھے خراب و برباد کیا اور ہمیشہ کے عذاب میں پھنسا دیا۔ بعض مفسرین نے اسے اللہ تعالیٰ کا کلام قرار دے کر معنی کیا ہے: {” فَبِئْسَ الْقَرِيْنُ هُوَ “} یعنی پس وہ برا ساتھی ہے۔
وَ لَنۡ یَّنۡفَعَکُمُ الۡیَوۡمَ اِذۡ ظَّلَمۡتُمۡ اَنَّکُمۡ فِی الۡعَذَابِ مُشۡتَرِکُوۡنَ ﴿۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت اِن لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کر چکے تو آج یہ بات تمہارے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیاطین عذاب میں مشترک ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب کہ تم ﻇالم ٹھہر چکے تو تمہیں آج ہرگز تم سب کا عذاب میں شریک ہونا کوئی نفع نہ دے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور ہرگز تمہارا اس سے بھلا نہ ہوگا آج جبکہ تم نے ظلم کیا کہ تم سب عذاب میں شریک ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(ان سے کہا جائے گا کہ) جب تم (دنیا میں) ظلم کر چکے تو (آج) یہ بات تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی تم سب عذاب میں ایک دوسرے کے شریک ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور آج یہ بات تمھیں ہرگز نفع نہ دے گی، جب کہ تم نے ظلم کیا کہ بے شک تم (سب) عذاب میں شریک ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان سے بچو ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے ‘۔ آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:115] ‏‏‏‏، یعنی ’ جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے ‘۔ اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» ۱؎ [61-الصف:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «‏‏‏‏وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَ‌نَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِ‌ينَ» ۱؎ [41-فصلت:25] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں ‘، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ ‘ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔

ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ’ شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے ‘۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں ‘، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے ‘۔ یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 39){ وَ لَنْ يَّنْفَعَكُمُ الْيَوْمَ …:} دنیا میں اگر کوئی شخص کسی مصیبت میں گرفتار ہو تو اسے اس بات سے کچھ تسلی ہوتی ہے کہ وہ اکیلا نہیں بلکہ اس کے ساتھ اور لوگ بھی اس مصیبت میں گرفتار ہیں۔ اس کے علاوہ دوستوں کی صحبت کے احساس سے بھی تکلیف میں کچھ کمی ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ مصیبت میں ایک دوسرے کی مدد کرتے اور حوصلہ دلاتے ہیں۔ عام مقولہ ہے: ”ہمہ یاراں دوزخ، ہمہ یاراں بہشت“ کہ دوزخ میں گئے تو سب دوست اکٹھے جائیں گے اور بہشت میں گئے تو بھی اکٹھے جائیں گے۔ قرین کی مناسبت سے فرمایا کہ اگر تم اس بات سے کچھ تسلی حاصل کرنا چاہو کہ میں عذاب میں ہوں تو میرا قرین بھی تو عذاب میں ہے تو تمھارا یہ خیال غلط ہے، جب تم دنیا میں ظلم کرتے رہے تو آج تمھیں اس بات سے ہر گز کوئی فائدہ نہیں ہو گا کہ تم عذاب میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہو، کیونکہ وہ عذاب ہی اتنا سخت ہے کہ کسی کو کسی کی ہوش نہیں ہو گی، بلکہ مجرم اپنے تمام خویش و اقارب فدیے میں دے کر اس عذاب سے نجات پانے کی خواہش کرے گا۔ (دیکھیے معارج: ۱۱ تا ۱۴) شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”یعنی کافر کہیں گے خوب ہوا کہ انھوں نے ہمیں عذاب میں ڈلوایا، یہ بھی نہ بچے، لیکن اس کا کیا فائدہ اگر دوسرا پکڑا گیا۔“ (موضح)
اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ اَوۡ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَ مَنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب کیا اے نبیؐ، تم بہروں کو سناؤ گے؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاؤ گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا پس تو بہرے کو سنا سکتا ہے یا اندھے کو راه دکھا سکتا ہے اور اسے جو کھلی گمراہی میں ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا تم بہروں کو سناؤ گے یا اندھوں کو راہ دکھاؤ گے اور انہیں جو کھلی گمراہی میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا آپ(ص) بہروں کو سنائیں گےیا اندھوں کو راہ دکھائیں گے اور ان کو جو کھلی ہوئی گمراہی میں ہیں؟
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا تو بہروں کو سنائے گا، یا اندھوں کو راہ دکھائے گا اور ان کو جو صاف گمراہی میں پڑے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شیطان سے بچو ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو شخص اللہ تعالیٰ رحیم و کریم کے ذکر سے غفلت و بے رغبتی کرے اس پر شیطان قابو پا لیتا ہے اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے ‘۔ آنکھ کی بینائی کی کمی کو عربی زبان میں «عَشْیٌ فِیْ الْعَیْنِ» کہتے ہیں۔ یہی مضمون قرآن کریم کی اور بھی بہت سی آیتوں میں ہے جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاءَتْ مَصِيْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:115] ‏‏‏‏، یعنی ’ جو شخص ہدایت ظاہر کر چکنے کے بعد مخالفت رسول کر کے مومنوں کی راہ کے سوا دوسری راہ کی پیروی کرے ہم اسے وہیں چھوڑیں گے اور جہنم واصل کریں گے جو بڑی بری جگہ ہے ‘۔ اور آیت میں ارشاد ہے «فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ» ۱؎ [61-الصف:5] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب وہی ٹیڑھے ہو گئے اللہ نے ان کے دل بھی کج کر دئیے ‘۔ اور آیت میں فرمایا «‏‏‏‏وَقَيَّضْنَا لَهُمْ قُرَ‌نَاءَ فَزَيَّنُوا لَهُم مَّا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَحَقَّ عَلَيْهِمُ الْقَوْلُ فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِم مِّنَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ إِنَّهُمْ كَانُوا خَاسِرِ‌ينَ» ۱؎ [41-فصلت:25] ‏‏‏‏، یعنی ’ ان کے جو ہم نشین ہم نے مقرر کر دئیے ہیں وہ ان کے آگے پیچھے کی چیزوں کو زینت والی بنا کر انہیں دکھاتے ہیں ‘، یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ایسے غافل لوگوں پر شیطان اپنا قابو کر لیتا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتا ہے اور ان کے دل میں یہ خیال جما دیتا ہے کہ ان کی روش بہت اچھی ہے یہ بالکل صحیح دین پر قائم ہیں قیامت کے دن جب اللہ کے سامنے حاضر ہوں گے اور معاملہ کھل جائے گا تو اپنے اس شیطان سے جو ان کے ساتھ تھا برات ظاہر کرے گا اور کہے گا کاش کے میرے اور تمہارے درمیان اتنا فاصلہ ہوتا جتنا مشرق اور مغرب میں ہے۔ ‘ یہاں بہ اعتبار غلبے کے مشرقین یعنی دو مشرقوں کا لفظ کہدیا گیا ہے جیسے سورج چاند کو «قمرین» یعنی دو چاند کہہ دیا جاتا ہے اور ماں باپ کو «ابوین» یعنی دو باپ کہہ دیا جاتا ہے۔

ایک قرأت میں «جَاۤءَ انَا» بھی ہے یعنی ’ شیطان اور یہ غافل انسان دونوں جب ہمارے پاس آئیں گے ‘۔ سعید جریری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”کافر کے اپنی قبر سے اٹھتے ہی شیطان آ کر اس کے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیتا ہے پھر جدا نہیں ہوتا یہاں تک کہ جہنم میں بھی دونوں کو ساتھ ہی ڈالا جاتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے کہ ’ جہنم میں تم سب کا جمع ہونا اور وہاں کے عذابوں میں سب کا شریک ہونا تمہارے لیے نفع دینے والا نہیں ‘، اس کے بعد اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ’ ازلی بہروں کے کان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہدایت کی آواز نہیں ڈال سکتے مادر زاد اندھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم راہ نہیں دکھا سکتے صریح گمراہی میں پڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت قبول نہیں کر سکتے ‘۔ یعنی تجھ پر ہماری جانب سے یہ فرض نہیں کہ خواہ مخواہ ہر ہر شخص مسلمان ہو ہی جائے ہدایت تیرے قبضے کی چیز نہیں جو حق کی طرف کان ہی نہ لگائے جو سیدھی راہ کی طرف آنکھ ہی نہ اٹھائے جو بہکے اور اسی میں خوش رہو تجھے ان کی بابت کیوں اتنا خیال ہے؟ تجھ پر ضروری کام صرف تبلیغ کرنا ہے ہدایت و ضلالت ہمارے ہاتھ کی چیزیں ہیں عادل ہیں ہم حکیم ہیں ہم جو چاہیں گے کریں گے تم تنگ دل نہ ہو جایا کرو۔
40۔ 1 یعنی جس کے لئے شقاوت ابدی لکھ دی گئی، وہ وعظ نصیحت کے اعتبار سے بہرہ اور اندھا ہے دعوت و تبلیغ سے وہ راہ راست پر نہیں آسکتا۔
(آیت 40){ اَفَاَنْتَ تُسْمِعُ الصُّمَّ …: } رحمن کے ذکر سے دانستہ آنکھیں بند کرنے کی سزا شیطان کو ایسے لوگوں کا ساتھی بنانے کی صورت میں دی جاتی ہے جو انھیں راہِ حق سے اس طرح روکتے ہیں کہ وہ حق سننے سے بہرے اور اس کی نشانیاں دیکھنے سے اندھے ہو جاتے ہیں۔ اس آیت سے مقصود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دینا ہے کہ ان کافروں کے ایمان نہ لانے پر آپ غمزدہ نہ ہوں، کیونکہ ایسے لوگوں کو راہِ راست پر لے آنا آپ کے بس میں نہیں، آپ ان تک اللہ کا پیغام پہنچاتے رہیں اور ہدایت کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔
فَاِمَّا نَذۡہَبَنَّ بِکَ فَاِنَّا مِنۡہُمۡ مُّنۡتَقِمُوۡنَ ﴿ۙ۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اب تو ہمیں اِن کو سزا دینی ہے خواہ تمہیں دنیا سے اٹھا لیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اگر ہم تجھے یہاں سے لے بھی جائیں تو بھی ہم ان سے بدلہ لینے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو اگر ہم تمہیں لے جائیں تو ان سے ہم ضرور بدلہ لیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
پس اگر ہم آپ کو (دنیا سے) اٹھائیں تو پھر بھی ہم ان لوگوں سے بدلہ لینے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس اگر کبھی ہم تجھے لے ہی جائیں تو بے شک ہم ان سے انتقام لینے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں ‘۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔ لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے { ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں }۔۱؎ [صحیح مسلم:2531] ‏‏‏‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے ‘ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔

بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ امر (‏‏‏‏یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7139] ‏‏‏‏ اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔ ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:214] ‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے ‘۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں ‘۔ کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو ‘۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔
41۔ 1 یعنی تجھے موت آجائے، قبل اس کے کہ ان پر عذاب آئے، یا تجھے مکہ سے نکال لے جائیں۔ 41۔ 2 دنیا میں اگر ہماری مشیت طلب کرنے والی ہوئی، بصورت دیگر عذاب آخروی سے تو وہ کسی صورت نہیں بچ سکتے۔
(آیت 42،41) {فَاِمَّا نَذْهَبَنَّ بِكَ فَاِنَّا مِنْهُمْ …:} یہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اور طرح سے تسلی دلائی ہے کہ یہ کفار جو آپ کی موت کے منتظر ہیں اور ہر وقت آپ کو کسی نہ کسی طرح قتل کرنے کی کوشش اور مشورہ کرتے رہتے ہیں، ان کا خیال ہے کہ آپ کی موت سے ان کی مشکل ختم ہو جائے گی اور سب کچھ ان کے حق میں ہو جائے گا۔ فرمایا ان کا یہ خیال غلط ہے، کیونکہ اگر ہم آپ کو اپنے پاس لے جائیں تو پھر بھی یہ لوگ سزا سے بچ نہیں سکیں گے، بلکہ ہم ہر حال میں ان سے انتقام لینے والے ہیں، یا آپ کی زندگی میں آپ کو اس سزا کا کچھ حصہ دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو یہ بھی کچھ بعید نہیں، کیونکہ ہم ان پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا، اللہ تعالیٰ نے بدر اور دوسرے معرکوں میں کفار کو ملنے والی سزا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آنکھوں سے دکھا دی۔ مزید دیکھیے سورۂ مومن (۷۷)۔
اَوۡ نُرِیَنَّکَ الَّذِیۡ وَعَدۡنٰہُمۡ فَاِنَّا عَلَیۡہِمۡ مُّقۡتَدِرُوۡنَ ﴿۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یا تم کو آنکھوں سے اِن کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے اِن سے وعدہ کیا ہے، ہمیں اِن پر پوری قدرت حاصل ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یا جو کچھ ان سے وعده کیا ہے وه تجھے دکھا دیں ہم ان پر بھی قدرت رکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
یا تمہیں دکھادیں جس کا انہیں ہم نے وعدہ دیا ہے تو ہم ان پر بڑی قدرت والے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یا ہم ان کو (آپ کے عینِ حیات) وہ (عذاب) دکھا دیں گے جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے سو ہم ان پر پوری طرح قادر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا ہم واقعی تجھے وہ ( عذاب) دکھا دیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے تو بے شک ہم ان پر پوری قدرت رکھنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں ‘۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔ لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے { ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں }۔۱؎ [صحیح مسلم:2531] ‏‏‏‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے ‘ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔

بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ امر (‏‏‏‏یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7139] ‏‏‏‏ اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔ ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:214] ‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے ‘۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں ‘۔ کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو ‘۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔
42۔ 1 یعنی تیری موت سے قبل ہی، یا مکہ میں ہی تیرے رہتے ہوئے عذاب بھیج دیں۔ 42۔ 2 یعنی ہم جب چاہیں ان پر عذاب نازل کرسکتے ہیں، کیونکہ ہم ان پر قادر ہیں۔ چناچہ آپ کی زندگی میں ہی بدر کی جنگ میں کافر عبرت ناک شکست اور ذلت سے دو چار ہوئے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاسۡتَمۡسِکۡ بِالَّذِیۡۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ ۚ اِنَّکَ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم بہر حال اُس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جو وحی آپ کی طرف کی گئی ہے اسے مضبوط تھامے رہیں بیشک آپ راه راست پر ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو مضبوط تھامے رہو اسے جو تمہاری طرف وحی کی گئی بیشک تم سیدھی راہ پر ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
پس آپ(ص) مضبوطی سے اسے تھامے رہیں جس کی آپ(ص) کی طرف وحی کی گئی ہے۔ یقیناً آپ سیدھے راستہ پر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پس تو اس کو مضبوطی سے پکڑے رکھ جو تیری طرف وحی کیا گیا ہے، یقینا تو سیدھے راستے پر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں ‘۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔ لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے { ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں }۔۱؎ [صحیح مسلم:2531] ‏‏‏‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے ‘ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔

بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ امر (‏‏‏‏یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7139] ‏‏‏‏ اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔ ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:214] ‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے ‘۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں ‘۔ کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو ‘۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔
43۔ 1 یعنی قرآن کریم کو، چاہے کوئی بھی اسے جھٹلاتا رہے۔
(آیت 43) {فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِيْۤ اُوْحِيَ اِلَيْكَ …:} یعنی آپ کو ان کافروں کی مخالفت سے دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے، آپ کے لیے یہ اطمینان کافی ہے کہ آپ راہِ حق پر ہیں، اس لیے نتائج سے بے فکر ہو کر دعوت کا کام جاری رکھیں اور خود اس پر پوری طرح کاربند رہیں۔
وَ اِنَّہٗ لَذِکۡرٌ لَّکَ وَ لِقَوۡمِکَ ۚ وَ سَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہو گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک وہ شرف ہے تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےشک وہ (قرآن) آپ(ص) کیلئے اور آپ(ص) کی قوم کیلئے بڑا شرف اور اعزاز ہے اور عنقریب تم لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ وہ یقینا تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں ‘۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔ لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے { ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں }۔۱؎ [صحیح مسلم:2531] ‏‏‏‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے ‘ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔

بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ امر (‏‏‏‏یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7139] ‏‏‏‏ اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔ ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:214] ‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے ‘۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں ‘۔ کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو ‘۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔
44۔ 1 یعنی یہ قرآن تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے شرف و عزت کا باعث ہے کہ یہ ان کی زبان میں اترا، اس کو وہ سب سے زیادہ سمجھنے والے ہیں اور اس کے ذریعے سے وہ پوری دنیا پر فضل و برتری پاسکتے ہیں اس لئے ہم کو چاہیے کہ اس کو اپنائیں اور اس پر سب سے زیادہ عمل کریں۔
(آیت 44) ➊ {وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ:} ذکر کا معنی نصیحت و یاد دہانی بھی ہے اور عز و شرف اور شہرت و ناموری بھی، یہاں دونوں مراد ہیں۔ یعنی یہ قرآن آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہے اور آپ کے لیے اور آپ کی قوم قریش اور عرب کے لیے عز و شرف کا باعث بھی ہے۔ یہ عربی زبان میں نازل ہوا اور اس کے اوّلین مخاطب اور سب سے پہلے عمل کرنے والے قریش اور عرب ہیں۔ جو عجمی قومیں اس پر ایمان لائیں گی ان کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے عربی زبان سیکھنا پڑے گی اور عربوں کا شاگرد بننا پڑے گا۔ قریش اور عربوں کے لیے یہ عز و شرف کیا کم ہے کہ بعد میں آنے والے تمام لوگ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ زمین کے مشرق و مغرب ان کے جہاد کے ساتھ فتح اور حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی خلافت ان میں رکھی جب تک انھوں نے دین کو قائم رکھا، کیونکہ قرآن شرف کا باعث اسی کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے، اس کے لیے محض عرب یا قریشی ہونا کافی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ ] [مسلم، الطھارۃ، باب فضل الوضوء: ۲۲۳، عن أبي مالک الأشعري رضی اللہ عنہ ] ”قرآن تیرے حق میں حجت ہے یا تیرے خلاف حجت ہے۔“ آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ نیک نامی کی خواہش اچھی چیز ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ اس کا ذکر اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان کے طور پر نہ فرماتے اور ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے یہ دعا نہ کرتے: «‏‏‏‏وَ اجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ» [الشعراء: ۸۴ ] ”اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔“ ➋ { وَ سَوْفَ تُسْـَٔلُوْنَ:} یعنی قیامت کے دن تم سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے اپنے عز و شرف کا باعث بننے والی نصیحت کی اس کتاب کی کیا قدر کی، اس پر کہاں تک عمل کیا اور اسے تمام اقوامِ عالم تک پہنچانے کی ذمہ داری کہاں تک ادا کی؟
وَ سۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعۡبَدُوۡنَ ﴿٪۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم سے پہلے ہم نے جتنے رسول بھیجے تھے اُن سب سے پوچھ دیکھو، کیا ہم نے خدائے رحمان کے سوا کچھ دوسرے معبود بھی مقرر کیے تھے کہ اُن کی بندگی کی جائے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور ان سے پوچھو جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے کیا ہم نے رحمان کے سوا کچھ اور خدا ٹھہرائے جن کو پوجا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) پیغمبروں(ع) سے پوچھیں جنہیں ہم نے آپ(ص) سے پہلے بھیجا تھا کہایا ہم نے خدائے رحمٰن کے علاوہ بھی کوئی ایسے خدا مقرر کئے تھے جن کی عبادت کی جائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ان سے پوچھ جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا، کیاہم نے رحمان کے سوا کوئی معبود بنائے ہیں، جن کی عبادت کی جائے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ ’ اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں ‘۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔ لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے { ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں }۔۱؎ [صحیح مسلم:2531] ‏‏‏‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے ‘ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔

بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ امر (‏‏‏‏یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7139] ‏‏‏‏ اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔ ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:214] ‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے ‘۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں ‘۔ کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو ‘۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔
45۔ 1 جواب یقینا نفی میں ہے۔ اللہ نے کسی بھی نبی کو یہ حکم نہیں دیا۔ بلکہ اس کے برعکس ہر نبی کو دعوت توحید کا حکم دیا گیا۔
(آیت 45) ➊ { وَ سْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ پہلے رسول تو فوت ہو چکے، ان سے کس طرح پوچھا جا سکتا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ رسولوں سے پوچھنے سے مراد ان کی کتابوں سے معلوم کرنا ہے، جیسا کہ اللہ کے فرمان: «‏‏‏‏فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ» [ النساء: ۵۹ ] (پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ) کا مطلب اب یہ نہیں کہ اگر تمھارا کسی معاملے میں تنازع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کے پاس لے جاؤ، بلکہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول کی طرف رجوع کرو۔ اسی طرح اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تمام رسولوں کی تعلیمات کا مطالعہ کرکے دیکھ لو، کیا کسی میں یہ بات ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحمان کے سوا بھی کوئی ہستیاں مقرر کی ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے اور کیا کسی بھی پیغمبر نے شرک کی اجازت دی ہے؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے۔ شرک کے حق میں نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے نہ نقلی۔ (دیکھیے احقاف: ۴) آیت سے مقصود قریش کو باور کروانا ہے کہ تمام انبیاء اللہ واحد کی عبادت کے داعی تھے، شرک کسی بھی شریعت میں جائز نہیں رہا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [ الأنبیاء: ۲۵ ] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ اور جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» ‏‏‏‏ [ النحل: ۳۶ ] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔“ ➋ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب آپ کی انبیاء سے ملاقات ہو، جیسے معراج کی رات ہوئی تو آپ ان سے یہ سوال کریں۔ مگر قرآن یا حدیث میں کہیں ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج یا کسی اور موقع پر کسی پیغمبر سے یہ سوال کیا ہو۔ اگر آیت کا یہ مطلب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ضرور سوال کرتے۔ کسی ضعیف روایت میں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبروں سے اس سوال کا ذکر مل بھی جائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا مُوۡسٰی بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ فَقَالَ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۴۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اُس کے اعیان سلطنت کے پاس بھیجا، اور اس نے جا کر کہا کہ میں رب العالمین کا رسول ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں دے کر فرعون اور اس کے امراء کے پاس بھیجا تو (موسیٰ علیہ السلام نے جاکر) کہا کہ میں تمام جہانوں کے رب کا رسول ہوں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے موسیٰ کو اپنی نشایوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا تو اس نے فرمایا بیشک میں اس کا رسول ہوں جو سارے جہاں کا مالک ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور بےشک ہم نے موسیٰ (ع) کو اپنی نشانیاں (معجزے) دے کر فرعون اور اس کے عمائدِ سلطنت کے پاس بھیجا۔ پس آپ(ع) نے (ان سے) کہا کہ میں عالمین کے پروردگار کا رسول(ع) ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس بھیجا تو اس نے کہا بے شک میں تمام جہانوں کے رب کا بھیجا ہوا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قلاباز بنی اسرائیل ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ ۱؎ [7-الأعراف:133-135] ‏‏‏‏ میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 46) ➊ {وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰيٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ:} یہاں موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کی مناسبت کئی طرح سے ہے، جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سے پہلے رسولوں سے سوال کا حکم دیا کہ کیا اس نے اپنے سوا کوئی معبود مقرر کیے ہیں جن کی عبادت کی جائے، تو جن رسولوں کی کتابوں یا پیروکاروں سے یہ معلومات حاصل کی جا سکتی تھیں ان میں سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام تھے، کیونکہ ان کی کتاب موجود تھی اور ان کی امت کے لوگ بھی موجود تھے۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے قوم کے سردار تھے، جو حق واضح ہونے کے باوجود اپنے مال و جاہ کی وجہ سے آپ کو حقیر کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رسالت کا اہل ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دلانے کے لیے یہ واقعہ ذکر فرمایا کہ یہی معاملہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کا تھا۔ فرعون نے بھی معجزات دیکھنے اور موسیٰ علیہ السلام کی نبوت دل سے ماننے کے باوجود ملک مصر کا مالک ہونے پر فخر کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو ذلیل و حقیر قرار دے کر ان پر ایمان لانے سے انکار کر دیا۔ جس کے نتیجے میں وہ اللہ کے غضب کا نشانہ بنا اور اپنے لشکروں سمیت سمندر میں غرق کر دیا گیا۔ مقصد قریش اور عربوں کو فرعون جیسے برے انجام سے ڈرانا ہے۔ ➋ { ” بِاٰيٰتِنَاۤ “} میں آیات سے مراد عصا اور یدِ بیضا ہیں، کیونکہ سب سے پہلے موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس گئے تو ان کے پاس یہی نشانیاں تھیں۔ ➌ { فَقَالَ اِنِّيْ رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ:} موسیٰ علیہ السلام نے وہ نشانیاں پیش کرکے فرعون کو رب ہونے کے دعوے سے منع کیا، اسے تمام پیغمبروں کی طرح توحید کی دعوت دی اور اکیلے رب العالمین پر ایمان لانے کا حکم دیا۔
فَلَمَّا جَآءَہُمۡ بِاٰیٰتِنَاۤ اِذَا ہُمۡ مِّنۡہَا یَضۡحَکُوۡنَ ﴿۴۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جب وه ہماری نشانیاں لے کر ان کے پاس آئے تو وه بےساختہ ان پر ہنسنے لگے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لایا جبھی وہ ان پر ہنسنے لگے
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب وہ ہماری نشانیوں کے ساتھ ان کے پاس آئے تو وہ لوگ ان (نشانیوں) پر ہنسنے لگے (مذاق اڑا نے لگے)۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب وہ ان کے پاس ہماری نشانیاں لے کر آیا، اچانک وہ ان کے بارے میں ہنس رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قلاباز بنی اسرائیل ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ ۱؎ [7-الأعراف:133-135] ‏‏‏‏ میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔
47۔ 1 یعنی جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کے درباریوں کو دعوت توحید دی تو انہوں نے ان کے رسول ہونے کی دلیل طلب کی، جس پر انہوں نے وہ دلائل و معجزات پیش کئے جو اللہ نے انہیں عطا فرمائے تھے، جنہیں دیکھ کر انہوں نے مذاق کیا اور کہا یہ کون سی چیزیں ہیں۔ یہ تو جادو کے ذریعے ہم بھی پیش کرسکتے ہیں۔
(آیت 47) {فَلَمَّا جَآءَهُمْ بِاٰيٰتِنَاۤ اِذَا هُمْ مِّنْهَا يَضْحَكُوْنَ:اِذَا “} اچانک کے معنی میں ہے۔ یہاں کچھ عبارت محذوف ہے جو خود سمجھ میں آ رہی ہے کہ جب موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کے سرداروں کو رب العالمین کی توحید اور اپنی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی تو انھوں نے کوئی نشانی پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ جب انھوں نے ان کے سامنے ہماری عطا کردہ نشانیاں عصا اور ید بیضا پیش کیں تو بجائے اس کے کہ وہ ان پر غور و فکر کرتے اور ایمان لے آتے، فوراً ہی ان پر ہنسنے اور ان کا مذاق اڑانے لگے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے، کیونکہ قریش کے سردار بھی آپ کی پیش کردہ نشانیاں دیکھ کر مذاق اڑاتے تھے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏بَلْ عَجِبْتَ وَ يَسْخَرُوْنَ (12) وَ اِذَا ذُكِّرُوْا لَا يَذْكُرُوْنَ (13) وَ اِذَا رَاَوْا اٰيَةً يَّسْتَسْخِرُوْنَ» ‏‏‏‏ [الصافات: ۱۲ تا ۱۴ ] ”بلکہ تو نے تعجب کیا اور وہ مذاق اڑاتے ہیں۔ اور جب انھیں نصیحت کی جائے وہ قبول نہیں کرتے۔ اور جب کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو خوب مذاق اڑاتے ہیں۔“
وَ مَا نُرِیۡہِمۡ مِّنۡ اٰیَۃٍ اِلَّا ہِیَ اَکۡبَرُ مِنۡ اُخۡتِہَا ۫ وَ اَخَذۡنٰہُمۡ بِالۡعَذَابِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۴۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم ایک پر ایک ایسی نشانی اُن کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آئیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے تھے وه دوسری سے بڑھی چڑھی ہوتی تھی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وه باز آجائیں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم انہیں جو نشانی دکھاتے وہ پہلے سے بڑی ہوتی اور ہم نے انہیں مصیبت میں گرفتار کیا کہ وہ بام آئیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم انہیں کوئی نشانی نہیں دکھاتے تھے مگر وہ پہلی سے بڑی ہوتی تھی اور ہم نے انہیں عذاب میں پکڑا تاکہ وہ (اپنی روش سے) باز آئیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم انھیں کوئی نشانی نہیں دکھلاتے تھے مگر وہ اپنے جیسی (پہلی نشانی) سے بڑی ہوتی اور ہم نے انھیں عذاب میں پکڑا، تاکہ وہ لوٹ آئیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قلاباز بنی اسرائیل ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ ۱؎ [7-الأعراف:133-135] ‏‏‏‏ میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔
48۔ 1 ان نشانیوں سے وہ نشانیاں مراد ہیں جو طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون وغیرہ کی شکل میں یکے بعد دیگرے انہیں دکھائیں گئیں، جن کا تذکرہ سورة اعراف، آیات۔ (فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ 133؁ وَلَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ 134؀ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ يَنْكُثُوْنَ 135؁) 7۔ الاعراف:135-133) میں گزر چکا ہے۔ بعد میں آنے والی ہر نشانی پہلی نشانی سے بڑی چڑھی ہوتی، جس سے حضرت موسیٰ ؑ کی صداقت واضح سے واضح تر ہوجاتی۔ 48۔ 2 مقصد ان نشانیوں یا عذاب سے یہ ہوتا تھا کہ شاید وہ تکذیب سے باز آجائیں۔
(آیت 48) {وَ مَا نُرِيْهِمْ مِّنْ اٰيَةٍ اِلَّا هِيَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا …:} فرعون اور اس کے سرداروں نے جب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہا اور ان کے معجزوں کو جادو قرار دے کر اپنے تمام ماہر جادوگر جمع کرکے ان کا مقابلہ کیا اور صاف شکست کے باوجود اپنے کفر پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر قحط مسلط کر دیا۔ اس پر انھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے عذاب ہٹانے کی دعا کی درخواست کی اور قحط دور ہونے پر ایمان لانے کا اور بنی اسرائیل کو آزادی دینے کا وعدہ کیا۔ جب قحط دور ہوا تو وعدے سے مکر گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر یکے بعد دیگرے کئی عذاب بھیجے، جن میں سے ہر ایک پہلے سے بڑی نشانی تھا اور ان عذابوں کا مقصد یہ تھا کہ وہ کفر و تکبر سے پلٹ آئیں اور ایمان قبول کر لیں۔ تفصیل اس کی سورۂ اعراف (۱۳۳) میں ملاحظہ فرمائیں۔
وَ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَ السّٰحِرُ ادۡعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنۡدَکَ ۚ اِنَّنَا لَمُہۡتَدُوۡنَ ﴿۴۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے، اے ساحر، اپنے رب کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بنا پر ہمارے لیے اُس سے دعا کر، ہم ضرور راہ راست پر آ جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہوں نے کہا اے جادوگر! ہمارے لیے اپنے رب سے اس کی دعا کر جس کا اس نے تجھ سے وعده کر رکھا ہے، یقین مان کہ ہم راه پر لگ جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور بولے کہ اے جادوگر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر کہ اس عہد کے سبب جو اس کا تیرے پاس ہے بیشک ہم ہدایت پر آئیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہوں نے کہا کہ اے جادوگر! اپنے پروردگار سے ہمارے لئے دعا کرو۔ہم ضرور ہدایت پا جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا اے جادوگر! ہمارے لیے اپنے رب سے اس کے ذریعے دعا کر جو اس نے تجھ سے عہد کر رکھا ہے، بے شک ہم ضرور ہی سیدھی راہ پر آنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قلاباز بنی اسرائیل ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ ۱؎ [7-الأعراف:133-135] ‏‏‏‏ میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔
49۔ 1 ' اپنے رب سے ' کے الفاظ اپنی مشرکانہ ذہنیت کی وجہ سے کہے کیونکہ مشرکوں میں مختلف رب اور اللہ ہوتے تھے، موسیٰ ؑ اپنے رب سے یہ کام کروا لو! 49۔ 2 یعنی ہمارے ایمان لانے پر عذاب ٹالنے کا وعدہ۔ 49۔ 3 اگر عذاب ٹل گیا تو ہم تجھے اللہ کا سچا رسول مان لیں گے اور تیرے ہی رب کی عبادت کریں گے لیکن ہر دفعہ وہ اپنا یہ عہد توڑ دیتے، جیسا کہ اگلی آیت میں ہے اور سورة اعراف میں بھی گزرا۔
(آیت 49) ➊ { وَ قَالُوْا يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ ادْعُ لَنَا رَبَّكَ …:} یہاں یہ بات اختصار کے ساتھ ذکر ہوئی ہے، سورۂ اعراف میں تفصیل کے ساتھ ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَمَّا وَقَعَ عَلَيْهِمُ الرِّجْزُ قَالُوْا يٰمُوْسَى ادْعُ لَنَا رَبَّكَ بِمَا عَهِدَ عِنْدَكَ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَ لَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۱۳۴ ] ”اور جب ان پر عذاب آتا تو کہتے اے موسیٰ! اپنے رب سے ہمارے لیے اس عہد کے واسطے سے دعا کر جو اس نے تیرے ہاں دے رکھا ہے، یقینا اگر تو ہم سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ضرور ہی تجھ پر ایمان لے آئیں گے اور تیرے ساتھ بنی اسرائیل کو ضرور ہی بھیج دیں گے۔“ ➋ یہاں ایک سوال ہے کہ اتنی مشکل گھڑی میں جب وہ عذاب میں گرفتار تھے اور موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کر رہے تھے اس وقت بھی وہ موسیٰ علیہ السلام کو {” يٰۤاَيُّهَ السّٰحِرُ “} (اے جادوگر!) کے ساتھ مخاطب کر رہے ہیں، حالانکہ اس وقت تو انھیں کسی اچھے لفظ سے مخاطب کرنا چاہیے تھا۔ پھر موسیٰ علیہ السلام یہ صریح بہتان سن کر بھی انھیں کچھ نہیں کہتے، بلکہ ان کے لیے دعا کرکے انھیں عذاب سے نجات دلواتے ہیں۔ مفسرین نے اس کے کئی جواب دیے ہیں، یہاں ان میں سے دو جواب ذکر کیے جاتے ہیں۔ ابن کثیر نے فرمایا: ”ساحر سے مراد عالم ہے، یہی ابن جریر نے فرمایا ہے۔ ان کے زمانے کے علماء جادوگر ہی تھے اور ان کے ہاں جادو بری چیز نہ تھا، اس لیے انھوں نے یہ الفاظ تنقیص کے لیے نہیں کہے، کیونکہ ان کی مجبوری کی حالت اس سے مناسبت نہیں رکھتی، بلکہ ان کے گمان کے مطابق یہ تعظیم کا لفظ تھا۔“ (ابن کثیر) دوسرا جواب یہ ہے کہ انھوں نے خطاب {” يَا مُوْسٰي “} کے الفاظ کے ساتھ ہی کیا تھا، جیسا کہ سورۂ اعراف کی آیت (۱۳۴) میں ہے، مگر وہ دل سے انھیں جادوگر سمجھتے تھے اور وہ جادو اور جادوگروں کو مذموم ہی سمجھتے تھے، جیسا کہ اس سے پہلے فرعون اور اس کے درباریوں نے صاف الفاظ میں کہا تھا: «‏‏‏‏فَقَالُوْا سٰحِرٌ كَذَّابٌ» ‏‏‏‏ [ المؤمن: ۲۴ ] ”تو انھوں نے کہا جادو گر ہے، بہت جھوٹا ہے۔“ اب ان کا حال دیکھیے کہ وہی شخص جسے وہ جادوگر سمجھتے تھے نہایت عاجزی کے ساتھ اسی سے دعا کی درخواست کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست کا ذکر فرماتے ہوئے ان کے دل کی حالت کا ذکر اپنے الفاظ میں فرمایا ہے۔ مقصود ان پر طعن ہے کہ جب جادوگر سمجھتے ہو اور ہمیشہ اسے اسی لفظ سے یاد کرتے ہو تو اس سے دعا کی درخواست کیسی؟ اور اگر مستجاب الدعاء کہتے ہو تو جادوگر کیوں سمجھتے ہو؟ یہ ایسے ہی ہے کہ قریش جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جادوگر کہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑاتے تھے، مشکل وقت میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کی درخواست بھی کیا کرتے تھے، جیسا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا حال بیان کیا ہے، فرماتے ہیں: [ وَ إِنَّ قُرَيْشًا أَبْطَئُوْا عَنِ الْإِسْلاَمِ فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللّٰهُمَّ أَعِنِّيْ عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوْسُفَ، فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَتّٰی هَلَكُوْا فِيْهَا، وَأَكَلُوا الْمَيْتَةَ وَالْعِظَامَ وَ يَرَی الرَّجُلُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ، فَجَاءَهُ أَبُوْ سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! جِئْتَ تَأْمُرُنَا بِصِلَةِ الرَّحِمِ، وَ إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوْا فَادْعُ اللّٰهَ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ الروم: ۴۷۷۴ ] ”قریش نے اسلام قبول کرنے میں دیر کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر بددعا کی: ”اے اللہ! ان کے خلاف یوسف(علیہ السلام) کے قحط والے سات سالوں جیسے سات سالوں کے ساتھ میری مدد فرما۔“ تو انھیں قحط نے آ لیا، یہاں تک کہ وہ اس میں برباد ہو گئے اور مردار اور ہڈیاں کھا گئے اور آدمی کو آسمان و زمین کے درمیان دھواں سا نظر آتا تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ابوسفیان آیا اور کہنے لگا: ”اے محمد! آپ ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں اور حال یہ ہے کہ آپ کی قوم برباد ہو گئی ہے، اس لیے اللہ سے دعا کیجیے۔“ اس حدیث میں ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے قحط دور ہوا تو پھر منکر ہو گئے۔ مجھے یہ دوسرا جواب بہتر معلوم ہوتا ہے۔ (واللہ اعلم)
فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُمُ الۡعَذَابَ اِذَا ہُمۡ یَنۡکُثُوۡنَ ﴿۵۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر جوں ہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب ہم نے وه عذاب ان سے ہٹالیا انہوں نے اسی وقت اپنا قول وقرار توڑ دیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب ہم نے ان سے وہ مصیبت ٹال دی جبھی وہ عہد توڑ گئے
علامہ محمد حسین نجفی
تو جب ہم نے ان سے عذاب دور کر دیا تو ایکدم وہ عہد توڑ دیتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب ہم ان سے عذاب ہٹالیتے، اچانک وہ عہد توڑ دیتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قلاباز بنی اسرائیل ٭٭

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جناب باری نے اپنا رسول و نبی فرما کر فرعون اور اس کے امراء اور اس کی رعایا قبطیوں اور بنی اسرائیل کی طرف بھیجا تاکہ آپ علیہ السلام انہیں توحید سکھائیں اور شرک سے بچائیں۔ آپ علیہ السلام کو بڑے بڑے معجزے بھی عطا فرمائے جیسے ہاتھ کا روشن ہو جانا لکڑی کا اژدھابن جانا وغیرہ۔ لیکن فرعونیوں نے اپنے نبی کی کوئی قدر نہ کی بلکہ تکذیب کی اور تمسخر اڑایا۔ اس پر اللہ کا عذاب آیا تاکہ انہیں عبرت بھی ہو۔ اور نبوت موسیٰ علیہ السلام پر دلیل بھی ہو پس طوفان آیا ٹڈیاں آئیں جوئیں آئیں، مینڈک آئے اور کھیت، مال، جان اور پھل وغیرہ کی کمی میں مبتلا ہوئے۔ جب کوئی عذاب آتا تو تلملا اٹھتے موسیٰ علیہ السلام کی خوشامد کرتے انہیں رضامند کرتے ان سے قول قرار کرتے آپ علیہ السلام دعا مانگتے عذاب ہٹ جاتا۔ یہ پھر سرکشی پر اتر آتے پھر عذاب آتا پھر یہی ہوتا۔ ساحر یعنی جادوگر سے وہ بڑا عالم مراد لیتے تھے ان کے زمانے کے علماء کا یہی لقب تھا اور انہی لوگوں میں علم تھا اور ان کے زمانے میں یہ علم مذموم نہیں سمجھا جاتا تھا بلکہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پس ان کا جناب موسیٰ علیہ السلام کو جادوگر کہہ کر خطاب کرنا بطور عزت کے تھا اعتراض کے طور پر نہ تھا کیونکہ انہیں تو اپنا کام نکالنا تھا۔ ہر بار اقرار کرتے تھے کہ مسلمان ہو جائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کر دیں گے پھر جب عذاب ہٹ جاتا تو وعدہ شکنی کرتے اور قول توڑ دیتے۔ اور آیت «فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ فَاسْتَكْبَرُوْا وَكَانُوْاقَوْمًا مُّجْرِمِيْنَ» الخ ۱؎ [7-الأعراف:133-135] ‏‏‏‏ میں اس پورے واقعہ کو بیان فرمایا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 50) {فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ اِذَا هُمْ يَنْكُثُوْنَ:اِذَا “} مفاجاتیہ ہے، جس کا معنی ”اچانک“ ہے، یعنی عذاب ہٹتے ہی فوراً عہد توڑ دیتے۔ نہ سوچنے کی زحمت کرتے، نہ عہد توڑنے میں انھیں کوئی حیا مانع ہوتی تھی۔