بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 19
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
وَ جَعَلُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عِبٰدُ الرَّحۡمٰنِ اِنَاثًا ؕ اَشَہِدُوۡا خَلۡقَہُمۡ ؕ سَتُکۡتَبُ شَہَادَتُہُمۡ وَ یُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۱۹﴾
انہوں نے فرشتوں کو، جو خدائے رحمان کے خاص بندے ہیں، عورتیں قرار دے لیا کیا اُن کے جسم کی ساخت اِنہوں نے دیکھی ہے؟ اِن کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جوابدہی کرنی ہو گی
اور انہوں نے فرشتوں کو جو رحمٰن کے عبادت گزار ہیں عورتیں قرار دے لیا۔ کیا ان کی پیدائش کے موقع پر یہ موجود تھے؟ ان کی یہ گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے (اس چیز کی) باز پرس کی جائے گی
اور انہوں نے فرشتوں کو، کہ رحمٰن کے بندے ہیں عورتیں ٹھہرایا کیا ان کے بناتے وقت یہ حاضر تھے اب لکھ لی جائے گی ان کی گواہی اور ان سے جواب طلب ہوگا
اور انہوں نے فرشتوں کو جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں عورتیں قرار دے رکھا ہے کیا وہ ان کی پیدائش (اور جسمانی ساخت) کے وقت موجود تھے ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور ان سے بازپرس کی جائے گی۔
اور انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو رحمان کے بندے ہیں، عورتیں بنا دیا، کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے؟ ان کی گواہی ضرور لکھی جائے گی اور وہ پوچھے جائیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین کا بدترین فعل ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکوں کے اس افترا اور کذب کا بیان فرماتا ہے جو انہوں نے اللہ کے نام منسوب کر رکھا ہے جس کا ذکر سورۃ الانعام کی آیت «وَجَعَلُوا لِلَّـهِ مِمَّا ذَرَ‌أَ مِنَ الْحَرْ‌ثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَـٰذَا لِلَّـهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَـٰذَا لِشُرَ‌كَائِنَا فَمَا كَانَ لِشُرَ‌كَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّـهِ وَمَا كَانَ لِلَّـهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَ‌كَائِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:136] ‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ نے جو کھیتی اور مویشی پیدا کئے ہیں ان مشرکین نے ان میں سے کچھ حصہ تو اللہ کا مقرر کیا اور اپنے طور پر کہہ دیا کہ یہ تو اللہ کا ہے اور یہ ہمارے معبودوں کا اب جو ان کے معبودوں کے نام کا ہے وہ تو اللہ کی طرف نہیں پہنچتا اور جو ہر چیز اللہ کی ہوتی ہے وہ ان کے معبودوں کو پہنچ جاتی ہے ان کی یہ تجویز کیسی بری ہے؟ ‘ اسی طرح مشرکین نے لڑکے لڑکیوں کی تقسیم کر کے لڑکیاں تو اللہ سے متعلق کر دیں جو ان کے خیال میں ذلیل و خوار تھیں اور لڑکے اپنے لیے پسند کئے جیسے کہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے «اَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الْاُنْثٰى تِلْكَ إِذًا قِسْمَةٌ ضِيزَىٰ» ۱؎ [53-النجم:22-21] ‏‏‏‏، ’ کیا تمہارے لیے تو بیٹے ہوں اور اللہ کے لیے بیٹیاں؟ یہ تو بڑی بےڈھنگی تقسیم ہے۔ ‘ پس یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان مشرکین نے اللہ کے بندوں کو اللہ کا جزء قرار دے لیا ہے۔ ‘ پھر فرماتا ہے کہ ’ ان کی اس بدتمیزی کو دیکھو کہ جب یہ لڑکیوں کو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ کے لیے کیسے پسند کرتے ہیں؟ ان کی یہ حالت ہے کہ جب ان میں سے کسی کو یہ خبر پہنچتی ہے کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی تو منہ بسور لیتا ہے گویا ایک شرمناک اندوہ ناک خبر سنی۔ ‘ کسی سے ذکر تک نہیں کرتا اندر ہی اندر کڑھتا رہتا ہے ذرا سا منہ نکل آتا ہے۔ لیکن پھر اپنی کامل حماقت کا مظاہرہ کرنے بیٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اللہ کی لڑکیاں ہیں یہ خوب مزے کی بات ہے کہ خود جس چیز سے گھبرائیں اللہ کے لیے وہ ثابت کریں۔ پھر فرماتا ہے عورتیں ناقص سمجھی جاتی ہیں جن کے نقصانات کی تلافی زیورات اور آرائش سے کی جاتی ہے اور بچپن سے مرتے دم تک وہ بناؤ سنگھار کی محتاج سمجھی جاتی ہیں پھر بحث مباحثے اور لڑائی جھگڑے کے وقت ان کی زبان نہیں چلتی دلیل نہیں دے سکتیں عاجز رہ جاتی ہیں مغلوب ہو جاتی ہیں ایسی چیز کو جناب باری علی و عظیم کی طرف منسوب کرتے ہیں جو ظاہری اور باطنی نقصان اپنے اندر رکھتی ہیں۔ جس کے ظاہری نقصان کو زینت اور زیورات سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی جیسے کہ بعض عرب شاعروں کے اشعار ہیں «وَمَا الْحُلِيّ إِلَّا زِينَة مِنْ نَقِيصَة» ‏‏‏‏ «يُتَمِّم مِنْ حُسْن إِذَا الْحُسْن قَصَّرَا» ‏‏‏‏ «وَأَمَّا إِذَا كَانَ الْجَمَال مُوَفَّرًا» ‏‏‏‏ «كَحُسْنِك لَمْ يَحْتَجْ إِلَى أَنْ يُزَوَّرَا» ‏‏‏‏ یعنی زیورات کمی حسن کو پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ بھرپور جمال کو زیورات کی کیا ضرورت؟ اور باطنی نقصان بھی ہیں جیسے بدلہ نہ لے سکنا نہ زبان سے نہ ہمت سے۔ ان مضمون کو بھی عربوں نے ادا کیا ہے جبکہ یہ صرف رونے دھونے سے ہی مدد کر سکتی ہے اور چوری چھپے کوئی بھلائی کر سکتی ہے۔

پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے فرشتوں کو عورتیں سمجھ رکھا ہے ان سے پوچھو کہ کیا جب وہ پیدا ہوئے تو تم وہاں موجود تھے؟ تم یہ نہ سمجھو کہ ہم تمہاری ان باتوں سے بے خبر ہیں سب ہمارے پاس لکھی ہوئی ہیں اور قیامت کے دن تم سے ان کا سوال بھی ہو گا جس سے تمہیں ڈرنا چاہیئے اور ہوشیار رہنا چاہیئے۔ ‘ پھر ان کی مزید حماقت بیان فرماتا ہے کہ ’ کہتے ہیں ہم نے فرشتوں کو عورتیں سمجھا پھر ان کی مورتیں بنائیں اور پھر انہیں پوج رہے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم میں ان میں حائل ہو جاتا اور ہم انہیں نہ پوج سکتے۔ ‘ پس جبکہ ہم انہیں پوج رہے ہیں اور اللہ ہم میں اور ان میں حائل نہیں ہوتا تو ظاہر ہے کہ ہماری یہ پوجا غلط نہیں بلکہ صحیح ہے۔

پس پہلی خطا تو ان کی یہ کہ اللہ کے لیے اولاد ثابت کی دوسری خطا یہ کہ فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں قرار دیں تیسری خطا یہ کہ کہ انہی کی پوجا پاٹ شروع کر دی۔ جس پر کوئی دلیل و حجت نہیں صرف اپنے بڑوں اور اگلوں اور باپ دادوں کی کورانہ تقلید ہے چوتھی خطا یہ کہ اسے اللہ کی طرف سے مقدر مانا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ اگر رب اس سے ناخوش ہوتا تو ہمیں اتنی طاقت ہی نہ دیتا کہ ہم ان کی پرستش کریں اور یہ ان کی صریح جہالت و خباثت ہے اللہ تعالیٰ اس سے سراسر ناخوش ہے۔ ایک ایک پیغمبر اس کی تردید کرتا رہا ایک ایک کتاب اس کی برائی بیان کرتی رہی جیسے فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللّٰهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلٰلَةُ ۭ فَسِيْرُوْا فِي الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ» ۱؎ [16-النحل:36] ‏‏‏‏، یعنی ’ ہر امت میں ہم نے رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا دوسرے کی عبادت سے بچو۔ پھر بعض تو ایسے نکلے جنہیں اللہ نے ہدایت کی اور بعض ایسے بھی نکلے جن پر گمراہی کی بات ثابت ہو چکی تم زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا برا حشر ہوا؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَسْـَٔـلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَآ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» [43-الزخرف:45] ‏‏‏‏ ۱؎، یعنی ’ تو ان رسولوں سے پوچھ لے جنہیں ہم نے تجھ سے پہلے بھیجا تھا کیا ہم نے اپنے سوا دوسروں کی پرستش کی انہیں اجازت دی تھی؟‘ پھر فرماتا ہے ’ یہ دلیل تو ان کی بڑی بودی ہے اور بودی یوں ہے کہ یہ بےعلم ہیں، باتیں بنا لیتے ہیں اور جھوٹ بول لیتے ہیں۔ ‘ یعنی یہ اللہ کی اس پر قدرت کو نہیں جانتے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:175/11] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

19۔ 1 یعنی جزا کے لئے۔ کیونکہ فرشتوں کے اللہ کی بیٹیاں ہونے کی کوئی دلیل ان کے پاس نہیں ہوگی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) ➊ { وَ جَعَلُوا الْمَلٰٓىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا:} فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دینے میں انھوں نے دو ظلم کیے، ایک یہ کہ فرشتے جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں انھیں ان کے مرتبے سے بڑھا کر اللہ تعالیٰ کی اولاد بنا دیا جو صریح شرک ہے اور عبودیت اور ولدیت کسی صورت جمع نہیں ہو سکتیں۔ دوسرا ظلم یہ کہ فرشتے جو تذکیر و تانیث سے بلند و برتر ہیں اور جن کی پیدائش ہی انسانوں سے مختلف ہے، انھیں اتنا گرایا کہ ان کے لیے برتر جنس مرد کے بجائے کمزور جنس عورت ہونا تجویز کیا۔ جھوٹے اور بہتان باز لوگوں کا جھوٹ ایسے ہی تناقض سے ظاہر ہوا کرتا ہے۔ ➋ {اَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ:} اس کے دو معانی ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو پیدا کیا، کیا اس وقت یہ لوگ حاضر تھے کہ انھیں ان کا مؤنث ہونا معلوم ہو گیا۔ دوسرا یہ کہ کیا انھوں نے ان کے جسم کی ساخت کو دیکھا ہے کہ انھیں عورت قرار دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تو پھر ان کے پاس اس دعویٰ کی کیا دلیل ہے؟ ➌ { سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَ يُسْـَٔلُوْنَ:} یعنی یہ جو فرشتوں کے عورت ذات ہونے کی جھوٹی شہادت دے رہے ہیں اسے ان کے نامۂ اعمال میں لکھ لیا جائے گا اور قیامت کے دن ان سے ان کی جھوٹی شہادت کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔ ➍ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”یہ جو فرمایا کہ بندے رحمان کے ہیں یعنی بیٹیاں نہیں اور معلوم ہوا کہ فرشتے اگرچہ نہ مرد نہ عورت مگر ان کے لیے الفاظ مردوں والے بولنے چاہییں۔“ (موضح)
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →