بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 5
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 5
آیت نمبر: 5 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
اَفَنَضۡرِبُ عَنۡکُمُ الذِّکۡرَ صَفۡحًا اَنۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّسۡرِفِیۡنَ ﴿۵﴾
اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درس نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا چھوڑ دیں صرف اِس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو؟
کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو
تو کیا ہم تم سے ذکر کا پہلو پھیردیں اس پر کہ تم لوگ حد سے بڑھنے والے ہو
کیا ہم محض اس لئے نصیحت سے منہ پھیرلیں کہ تم حد سے تجاوز کرنے والے لوگ ہو۔
تو کیا ہم تم سے اس نصیحت کو ہٹا لیں، اعراض کرتے ہوئے، اس وجہ سے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

قرآن لوح محفوظ میں ہے ٭٭

قرآن کی قسم کھائی جو واضح ہے جس کے معانی روشن ہیں۔ جس کے الفاظ نورانی ہیں، جو سب سے زیادہ فصیح و بلیغ عربی زبان میں نازل ہوا ہے۔ یہ اس لیے کہ لوگ سوچیں سمجھیں اور وعظ و پند نصیحت و عبرت حاصل کریں۔ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل فرمایا ہے جیسے اور جگہ ہے ۱؎ «بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ» [26-الشعراء:195] ‏‏‏‏ ’ عربی واضح زبان میں اسے نازل فرمایا ہے۔ ‘ اس کی شرافت و مرتبت جو عالم بالا میں ہے اسے بیان فرمایا تا کہ زمین والے اس کی منزلت و توقیر معلوم کر لیں۔ فرمایا کہ ’ یہ لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ ‘ «لَدَيْنَا» سے مراد ہمارے پاس۔ «لَعَلِيٌّ» سے مراد مرتبے والا عزت ولا شرافت اور فضیلت والا ہے۔ «حَكِيمٌ» سے مراد محکم، مضبوط جو باطل کے ملنے اور ناحق سے خلط ملط ہو جانے سے پاک ہے۔

اور آیت میں اس پاک کلام کی بزرگی کا بیان ان الفاظ میں ہے آیت «‏‏‏‏اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِيْمٌ» ‏‏‏‏ الخ ۱؎ [56-الواقعة:77] ‏‏‏‏، یعنی ’ یہ قرآن کریم لوح محفوظ میں درج ہے اسے بجز پاک فرشتوں کے اور کوئی ہاتھ لگا نہیں پاتا یہ رب العالمین کی طرف سے اترا ہوا ہے۔ ‘ اور جگہ ہے آیت «كَلَّآ اِنَّهَا تَذْكِرَةٌ فَمَن شَاءَ ذَكَرَهُ فِي صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍ مَّرْفُوعَةٍ مُّطَهَّرَةٍ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرَامٍ بَرَرَةٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [80-عبس:16-11] ‏‏‏‏، ’ قرآن نصیحت کی چیز ہے جس کا جی چاہے اسے قبول کرے وہ ایسے صحیفوں میں سے ہے جو معزز ہیں بلند مرتبہ ہیں اور مقدس ہیں جو ایسے لکھنے والوں کے ہاتھوں میں ہیں جو ذی عزت اور پاک ہیں۔ ‘ ان دونوں آیتوں سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ میں نہیں لینا چاہیئے جیسے کہ ایک حدیث میں بھی آیا ہے بشرطیکہ وہ صحیح ثابت ہو جائے۔ اس لیے کہ عالم بالا میں فرشتے اس کتاب کی عزت و تعظیم کرتے ہیں جس میں یہ قرآن لکھا ہوا ہے۔ پس اس عالم میں ہمیں بطور اولیٰ اس کی بہت زیادہ تکریم و تعظیم کرنی چاہیئے کیونکہ یہ زمین والوں کی طرف ہی بھیجا گیا ہے اور اس کا خطاب انہی سے ہے تو انہیں اس کی بہت زیادہ تعظیم اور ادب کرنا چاہیئے اور ساتھ ہی اس کے احکام کو تسلیم کر کے ان پر عامل بن جانا چاہیئے کیونکہ رب کا فرمان ہے کہ یہ ہمارے ہاں ام الکتاب میں ہے اور بلند پایہ اور باحکمت ہے۔ اس کے بعد کی آیت کے ایک معنی تو یہ کئے گئے ہیں کہ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ باوجود اطاعت گذاری اور فرمانبرداری نہ کرنے کے ہم تم کو چھوڑ دیں گے اور تمہیں عذاب نہ کریں گے؟ ‘ دوسرے معنی یہ ہیں کہ ’ اس امت کے پہلے گزرنے والوں نے جب اس قرآن کو جھٹلایا اسی وقت اگر یہ اٹھا لیا جاتا تو تمام دنیا ہلاک کر دی جاتی۔ ‘ لیکن اللہ کی وسیع رحمت نے اسے پسند نہ فرمایا اور برابر بیس سال سے زیادہ تک یہ قرآن اترتا رہا اس قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کی لطف و رحمت ہے کہ وہ نہ ماننے والوں کے انکار اور بد باطن لوگوں کی شرارت کی وجہ سے انہیں نصیحت و موعظت کرنی نہیں چھوڑتا تاکہ جو ان میں نیکی والے ہیں وہ درست ہو جائیں اور جو درست نہیں ہوتے ان پر حجت تمام ہو جائے۔

پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’ آپ اپنی قوم کی تکذیب پر گھبرائیں نہیں۔ صبر و برداشت کیجئے۔ ان سے پہلے کی جو قومیں تھیں ان کے پاس بھی ہم نے اپنے رسول و نبی بھیجے تھے اور انہیں ہلاک کر دیا وہ آپ کے زمانے کے لوگوں سے زیادہ زور اور اور باہمت اور توانا ہاتھوں والے تھے۔ ‘ جیسے اور آیت میں ہے «‏‏‏‏أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً» ۱؎ [40-غافر:82] ‏‏‏‏، ’ کیا انہوں نے زمین میں چل پھر کر نہیں؟ کہ ان سے پہلے کے لوگوں کا کیا انجام ہوا؟ جو ان سے تعداد میں اور قوت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔ ‘ اور بھی آیتیں اس مضمون کی بہت سی ہیں۔ پھر فرماتا ہے ’ اگلوں کی مثالیں گزر چکیں ‘ یعنی عادتیں، سزائیں، عبرتیں۔ جیسے اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے «فَجَعَلْنَاهُمْ سَلَفًا وَمَثَلًا لِّلْآخِرِينَ» ۱؎ [43-الزخرف:56] ‏‏‏‏ ’ ہم نے انہیں گذرے ہوئے اور بعد والوں کے لیے عبرتیں بنا دیا۔‘ اور جیسے فرمان ہے آیت «سُـنَّةَ اللّٰهِ الَّتِيْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَلَنْ تَجِدَ لِسُـنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِيْلًا» ۱؎ [40-غافر:85] ‏‏‏‏، یعنی ’ اللہ کا طریقہ جو اپنے بندوں میں پہلے سے چلا آیا ہے اور تو اسے بدلتا ہوا نہ پائے گا۔‘

📖 احسن البیان

5۔ 1 اس کے مختلف معنی کئے گئے ہیں مثلاً 1۔ تم چونکہ گناہوں میں بہت بڑھ چکے ہو اور ان پر مصر ہو، اس لئے کہ یہ گمان کرتے ہو کہ ہم وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیں گے؟ 2۔ یا تمہارے کفر اور اسراف پر ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے اور تم سے درگزر کرلیں گے 3۔ یا تمہیں ہلاک کردیں گے اور کسی چیز کا تمہیں حکم دیں نہ منع کریں، 4۔ چونکہ تم قرآن پر ایمان لانے والے نہیں ہو۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 5) ➊ {اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا: ”ضَرَبَ“} کا صلہ جب {”عَنْ“} آئے تو اس کا معنی {”صَرَفَ عَنْهُ“} (پھرنا، اعراض کرنا) آتا ہے۔ {” صَفْحًا”صَفَحَ عَنْهُ“} کا مصدر ہے، اس کا معنی بھی اعراض کرنا ہے۔ اب {” اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا “ } کی کئی ترکیبیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ مصدر مفعول مطلق ہے تاکید کے لیے، کیونکہ {” اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمْ “} کا معنی بھی اعراض کرنا ہے اور{ ” صَفْحًا “ } کا بھی یہی معنی ہے۔ گویا یہ مصدر مفعول مطلق فعل کے ہم معنی لفظ کے ساتھ ہے، جیسے {”قَعَدْتُ جُلُوْسًا“} ہے۔ معنی یہ ہو گا کہ ”کیا ہم یہ نصیحت تم سے ہٹا لیں، بالکل ہٹا لینا؟“ اور ایک یہ کہ {” صَفْحًا “} مفعول لہ یا حال ہے، یعنی ”کیا ہم تم سے یہ نصیحت اپنے اعراض کی وجہ سے یا اعراض کرتے ہوئے ہٹا لیں؟“ ➋ { اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِيْنَ:اَنْ “} سے پہلے لام جارہ محذوف ہے اور {” كُنْتُمْ “} میں استمرار ہے: {”أَيْ لِأَنْ كُنْتُمْ“} ”اس لیے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ چلے آئے ہو۔“ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اتنا بلند مرتبہ قرآن تمھاری زبان میں تمھارے سمجھانے کے لیے نازل کیا، مگر تم زیادتی اور اسراف پر ڈٹے رہے اور مسلسل انکار کرتے رہے، تو کیا تمھارے اس مسلسل اسراف و انکار کی وجہ سے ہم اعراض کرتے ہوئے تم سے اس نصیحت کو ہٹا لیں اور تمھیں سمجھانا چھوڑ دیں؟ یعنی ہم ایسا نہیں کریں گے اور نہ یہ ہماری رحمت کا تقاضا ہے، کیونکہ تمھارا اسراف اور گمراہی تو قرآن اتارے جانے کا اصل سبب ہے۔ چنانچہ ان کے انکار کے باوجود قرآن تیئیس برس تک اترتا رہا، بے شمار سعید روحیں اس پر ایمان لائیں اور جو کفر پر ڈٹے رہے ان پر حجت قائم ہو گئی اور ان کی پشتوں سے بھی لا تعداد لوگ اسلام کے حلقۂ گوش بنے۔
← پچھلی آیت (4) پوری سورۃ اگلی آیت (6) →