بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 44
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 44
آیت نمبر: 44 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّہٗ لَذِکۡرٌ لَّکَ وَ لِقَوۡمِکَ ۚ وَ سَوۡفَ تُسۡـَٔلُوۡنَ ﴿۴۴﴾
حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہو گی
اور یقیناً یہ (خود) آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت ہے اور عنقریب تم لوگ پوچھے جاؤ گے
اور بیشک وہ شرف ہے تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا
اور بےشک وہ (قرآن) آپ(ص) کیلئے اور آپ(ص) کی قوم کیلئے بڑا شرف اور اعزاز ہے اور عنقریب تم لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔
اور بلاشبہ وہ یقینا تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ایک نصیحت ہے اور عنقریب تم سے پوچھا جائے گا ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرماتا ہے کہ ’ اگرچہ ہم تجھے یہاں سے لے جائیں پھر بھی ہم ان ظالموں سے بدلہ لیے بغیر تو رہیں گے نہیں اگر ہم تجھے تیری آنکھوں سے وہ دکھا دیں جس کا وعدہ ہم نے ان سے کیا ہے تو ہم اس سے عاجز نہیں ‘۔ غرض اس طرح اور اسطرح دونوں صورتوں میں کفار پر عذاب تو آئے گا ہی۔ لیکن پھر وہ صورت پسند کی گئی جس میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت زیادہ تھی۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فوت نہ کیا جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو مغلوب نہ کر دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں ٹھنڈی نہ کر دیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جانوں اور مالوں اور ملکیتوں کے مالک نہ بن گئے۔ یہ تو ہے تفسیر سدی رحمہ اللہ وغیرہ کی۔ لیکن قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اٹھا لیے گئے اور انتقام باقی رہ گیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں امت میں وہ معاملات نہ دکھائے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدہ تھے بجز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اور تمام انبیاء علیہ السلام کے سامنے ان کی امتوں پر عذاب آئے ہم سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم کرا دیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت پر کیا کیا وبال آئیں گے اس وقت سے لے کر وصال کے وقت تک کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنستے ہوئے دیکھے نہیں گئے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:30872:مرسل و ضعیف] ‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح کی روایت ہے ایک حدیث میں ہے { ستارے آسمان کے بچاؤ کا سبب ہیں جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان پر مصیبت آ جائے گی میں اپنے اصحاب کا ذریعہ امن ہوں میرے جانے کے بعد میرے اصحاب پر وہ آ جائے گا جس کا یہ وعدہ دئیے جاتے ہیں }۔۱؎ [صحیح مسلم:2531] ‏‏‏‏

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ جو قرآن تجھ پر نازل کیا گیا ہے جو سراسر حق و صدق ہے جو حقانیت کی سیدھی اور صاف راہ کی راہنمائی کرتا ہے تو اسے مضبوطی کے ساتھ لیے رہ۔ یہی جنت نعیم اور راہ مستقیم کا رہبر ہے اس پر چلنے والا اس کے احکام کو تھامنے والا بہک اور بھٹک نہیں سکتا یہ تیرے لیے اور تیری قوم کے لیے ذکر ہے ‘ یعنی شرف اور بزرگی ہے۔

بخاری شریف میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { یہ امر (‏‏‏‏یعنی خلافت و امامت) قریش میں ہی رہے گا جو ان سے جھگڑے گا اور چھینے گا اسے اللہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا جب تک دین کو قائم رکھیں }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7139] ‏‏‏‏ اس لیے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرافت قومی اس میں ہے کہ یہ قرآن آپ ہی کی زبان میں اترا ہے۔ لغت قریش میں ہی نازل ہوا ہے تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ اسے یہی سمجھیں گے۔ انہیں لائق ہے کہ سب سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ عمل بھی انہی کا اس پر رہے بالخصوص اس میں بڑی بھاری بزرگی ہے ان مہاجرین کرام رضی اللہ عنہم کی جنہوں نے اول اول سبقت کر کے اسلام قبول کیا۔ اور ہجرت میں بھی سب سے پیش پیش رہے اور جو ان کے قدم بہ قدم چلے۔ ذکر کے معنی نصیحت کے بھی کئے گئے ہیں۔ اس صورت میں یہ یاد رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لئے اس کا نصیحت ہونا دوسروں کے لئے نصیحت نہ ہونے کے معنی میں نہیں۔ جیسے فرمان ہے آیت «لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:10] ‏‏‏‏ یعنی ’ بالیقین ہم نے تمہاری طرف کتاب نازل فرمائی جس میں تمہارے لیے نصیحت ہے کیا پس تم عقل نہیں رکھتے؟ ‘ اور آیت میں ہے «وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:214] ‏‏‏‏ یعنی ’ اپنے خاندانی قرابت داروں کو ہوشیار کر دے ‘۔ غرض نصیحت قرآنی رسالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم عام ہے کنبہ والوں کو قوم کو اور دنیا کے کل لوگوں کو شامل ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ تم سے عنقریب سوال ہو گا کہ کہاں تک اس کلام اللہ شریف پر عمل کیا اور کہاں تک اسے مانا؟ تمام رسولوں نے اپنی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اے آخرالزمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو دے رہے ہیں ‘۔ کل انبیاء کے دعوت ناموں کا خلاصہ صرف اس قدر ہے کہ انہوں نے توحید پھیلائی اور شرک کو ختم کیا جیسے خود قرآن میں ہے کہ ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کی عبادت نہ کرو ‘۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں یہ آیت اس طرح ہے «وَاسْأَلْ الَّذِينَ أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلك رُسُلنَا» پس یہ مثل تفسیر کے ہے نہ تلاوت کے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ تو مطلب یہ ہوا کہ ان سے دریافت کر لے جن میں تجھ سے پہلے ہم اپنے اور رسولوں کو بھیج چکے ہیں۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبیوں سے پوچھ لے یعنی معراج والی رات کو جب کہ انبیاء علیہم السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جمع تھے کہ ہر نبی علیہ السلام توحید سکھانے اور شرک مٹانے کی ہی تعلیم لے کر ہماری جانب سے مبعوث ہوتا رہا۔

📖 احسن البیان

44۔ 1 یعنی یہ قرآن تیرے لئے اور تیری قوم کے لئے شرف و عزت کا باعث ہے کہ یہ ان کی زبان میں اترا، اس کو وہ سب سے زیادہ سمجھنے والے ہیں اور اس کے ذریعے سے وہ پوری دنیا پر فضل و برتری پاسکتے ہیں اس لئے ہم کو چاہیے کہ اس کو اپنائیں اور اس پر سب سے زیادہ عمل کریں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 44) ➊ {وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ:} ذکر کا معنی نصیحت و یاد دہانی بھی ہے اور عز و شرف اور شہرت و ناموری بھی، یہاں دونوں مراد ہیں۔ یعنی یہ قرآن آپ کے لیے اور آپ کی قوم کے لیے نصیحت اور یاد دہانی ہے اور آپ کے لیے اور آپ کی قوم قریش اور عرب کے لیے عز و شرف کا باعث بھی ہے۔ یہ عربی زبان میں نازل ہوا اور اس کے اوّلین مخاطب اور سب سے پہلے عمل کرنے والے قریش اور عرب ہیں۔ جو عجمی قومیں اس پر ایمان لائیں گی ان کو قرآن کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے عربی زبان سیکھنا پڑے گی اور عربوں کا شاگرد بننا پڑے گا۔ قریش اور عربوں کے لیے یہ عز و شرف کیا کم ہے کہ بعد میں آنے والے تمام لوگ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے۔ زمین کے مشرق و مغرب ان کے جہاد کے ساتھ فتح اور حلقہ بگوش اسلام ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی خلافت ان میں رکھی جب تک انھوں نے دین کو قائم رکھا، کیونکہ قرآن شرف کا باعث اسی کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے، اس کے لیے محض عرب یا قریشی ہونا کافی نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ ] [مسلم، الطھارۃ، باب فضل الوضوء: ۲۲۳، عن أبي مالک الأشعري رضی اللہ عنہ ] ”قرآن تیرے حق میں حجت ہے یا تیرے خلاف حجت ہے۔“ آیت سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ نیک نامی کی خواہش اچھی چیز ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ اس کا ذکر اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر احسان کے طور پر نہ فرماتے اور ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے یہ دعا نہ کرتے: «‏‏‏‏وَ اجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ» [الشعراء: ۸۴ ] ”اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔“ ➋ { وَ سَوْفَ تُسْـَٔلُوْنَ:} یعنی قیامت کے دن تم سے سوال کیا جائے گا کہ تم نے اپنے عز و شرف کا باعث بننے والی نصیحت کی اس کتاب کی کیا قدر کی، اس پر کہاں تک عمل کیا اور اسے تمام اقوامِ عالم تک پہنچانے کی ذمہ داری کہاں تک ادا کی؟
← پچھلی آیت (43) پوری سورۃ اگلی آیت (45) →