بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 30
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 30
آیت نمبر: 30 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ وَّ اِنَّا بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۰﴾
مگر جب وہ حق اِن کے پاس آیا تو اِنہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں
اور حق کے پہنچتے ہی یہ بول پڑے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں
اور جب ان کے پاس حق آیا بولے یہ جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں،
اور جب ان کے پاس حق آگیا تو انہوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں۔
اور جب ان کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ جادو ہے اور بے شک ہم اس سے منکر ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

امام الموحدین کا ذکر اور دنیا کی قیمت ٭٭

قریشی کفار نسب اور دین کے اعتبار سے چونکہ خلیل اللہ امام الحنفاء سیدنا ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف منسوب تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے سنت ابراہیمی ان کے سامنے رکھی کہ دیکھو جو اپنے بندے آنے والے تمام نبیوں کے باپ، اللہ کے رسول امام الموحدین تھے انہوں نے کھلے لفظوں میں نہ صرف اپنی قوم سے بلکہ اپنے سگے باپ سے بھی کہہ دیا کہ مجھ میں تم میں کوئی تعلق نہیں۔ میں سوائے اپنے سچے اللہ کے جو میرا خالق اور ہادی ہے تمہارے ان معبودوں سے بیزار ہوں سب سے بے تعلق ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کی اس جرأت ‘ حق گوئی اور جوش توحید کا بدلہ یہ دیا کہ کلمہ توحید کو ان کی اولاد میں ہمیشہ کے لیے باقی رکھ لیا۔ ناممکن ہے کہ آپ علیہ السلام کی اولاد میں اس پاک کلمے کے قائل نہ ہوں۔ انہی کی اولاد اس توحید کلمہ کی اشاعت کرے گی اور سعید روحیں اور نیک نصیب لوگ اسی گھرانے سے توحید سیکھیں گے۔ غرض اسلام اور توحید کا معلم یہ گھرانہ قرار پا گیا۔

پھر فرماتا ہے بات یہ ہے کہ یہ کفار کفر کرتے رہے اور میں انہیں متاع دنیا دیتا رہا یہ اور بہکتے گئے اور اس قدر بد مست بن گئے کہ جب ان کے پاس دین حق اور رسول حق آئے تو انہوں نے جھٹلانا شروع کر دیا کہ کلام اللہ اور معجزات انبیاء علیہم السلام جادو ہیں اور ہم ان کے منکر ہیں۔ سرکشی اور ضد میں آ کر کفر کر بیٹھے۔ عناد اور بغض سے حق کے مقابلے پر اتر آئے اور باتیں بنانے لگے کہ کیوں صاحب اگر یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کا کلام ہے تو پھر مکے اور طائف کے کسی رئیس پر ‘ کسی بڑے آدمی پر‘ کسی دنیوی وجاہت والے پر کیوں نہ اترا؟ اور بڑے آدمی سے ان کی مراد ولید بن مغیرہ، عروہ بن مسعود، عمیر بن عمرو، عتبہ بن ربیعہ، حبیب بن عمرو ابن عبد یا لیل، کنانہ بن عمرو وغیرہ سے تھی۔ غرض یہ تھی کہ ان دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے مرتبے کے آدمی پر قرآن نازل ہونا چاہیئے تھا۔

📖 احسن البیان

30۔ 1 قرآن کو جادو قرار دے کر اس کا انکار کردیا اور اگلے الفاظ میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر و تنقیص کی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 30) {وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ …:} جب ان کے پاس حق یعنی قرآن آیا تو کہنے لگے، یہ جادو ہے اور ہم اسے نہیں مانتے۔ قرآن مجید کی دلوں پر زبردست تاثیر کا جب وہ کوئی توڑ نہ کر سکے، جس کی وجہ سے اس پر ایمان لانے والا اپنے رشتہ داروں کو تو چھوڑ سکتا تھا مگر ایمان سے کبھی پیچھے نہ ہٹتا تھا اور نہ ہی وہ اس پر ایمان لانے والوں کو روک سکے، تو بجائے اس کے کہ اس پر ایمان لے آتے اسے جادو کہہ کر جھٹلا دیا کہ یہ سب اثر جادو کا ہے۔ حالانکہ ظالم جانتے تھے کہ کہاں جادو جیسی پلید چیز اور جادوگروں جیسے خبیث لوگ اور کہاں اللہ کا پاکیزہ کلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاکیزہ اور بلند اخلاق والا شخص۔ محض عناد اور ضد کی وجہ سے انھوں نے یہ بات کہی۔
← پچھلی آیت (29) پوری سورۃ اگلی آیت (31) →