بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
الزخرف
سورۃ الزخرف — 89 آیات — صفحہ 2 از 2
قرآن کریم Surah 43
وَ نَادٰی فِرۡعَوۡنُ فِیۡ قَوۡمِہٖ قَالَ یٰقَوۡمِ اَلَیۡسَ لِیۡ مُلۡکُ مِصۡرَ وَ ہٰذِہِ الۡاَنۡہٰرُ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِیۡ ۚ اَفَلَا تُبۡصِرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایک روز فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کر کہا، "لوگو، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اور کہا اے میری قوم! کیا مصر کا ملک میرا نہیں؟ اور میرے (محلوں کے) نیچے یہ نہریں بہہ رہی ہیں، کیا تم دیکھتے نہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
اور فرعون اپنی قوم میں پکارا کہ اے میری قوم! کیا میرے لیے مصر کی سلطنت نہیں اور یہ نہریں کہ میرے نیچے بہتی ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کرائی اے میری قوم! کیا مصر کی سلطنت میری نہیں ہے؟ اور یہ نہریں جو میرے نیچے بہہ رہی ہیں تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟
عبدالسلام بن محمد
اور فرعون نے اپنی قوم میں منادی کی، اس نے کہا اے میری قوم! کیا میرے پاس مصر کی بادشاہی نہیں ہے ؟ اور یہ نہریں میرے تحت نہیں چل رہیں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون کے دعوے ٭٭

فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔‏‏‏‏“ کلام پاک میں اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَحَشَرَ‌ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَ‌بُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-25] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا ‘۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «‏‏‏‏اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ’ فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے ‘۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔ پھر کہتا ہے ”موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔

حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔ گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ’ میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ ‘، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔ دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (‏‏‏‏دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔‏‏‏‏“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔ فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] ‏‏‏‏ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔‏‏‏‏“ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں ‘۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
51۔ 1 اس سے مراد دریائے نیل یا اس کی بعض شاخیں ہیں جو اس کے محل کے نیچے سے گزرتی تھیں۔
(آیت 51) ➊ {وَ نَادٰى فِرْعَوْنُ فِيْ قَوْمِهٖ:} فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزات اپنی آنکھوں سے دیکھے، جن سے انھیں ان کی نبوت کا یقین ہو گیا، اس کے باوجود وہ ایمان نہ لائے، بلکہ مقابلے میں جادوگروں کو لے آئے۔ اس میں منہ کی کھائی پھر بھی ایمان نہ لائے، پھر بطور نشانی کتنے عذاب ان پر آئے جو اس وعدے کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام سے دعا کروانے پر دور ہوئے کہ ہم عذاب دور ہونے پر ایمان لے آئیں گے اور تمھارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دیں گے، مگر وہ کسی صورت موسیٰ علیہ السلام کو رسول ماننے پر تیار نہ تھے۔ ادھر انھیں خطرہ تھا کہ عوام ان معجزات کے نتیجے میں ان کی طرف مائل ہو جائیں گے، اس لیے فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کے رسالت کے اہل نہ ہونے کے اپنے خیال میں کئی دلائل گھڑے اور ابلاغ کے جتنے وسائل ہو سکتے تھے ان کے ساتھ پوری قوم میں ان کی منادی کروائی، جیسا کہ اس نے عصائے موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے کے لیے تمام شہروں میں آدمی بھیج کر جادوگر اکٹھے کیے تھے، فرمایا: «‏‏‏‏فَاَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيْنَ» [ الشعراء: ۵۳ ] ” تو فرعون نے شہروں میں اکٹھا کرنے والے بھیج دیے۔“ {” فِيْ قَوْمِهٖ “} کے الفاظ اس منادی کی وسعت پر دلالت کر رہے ہیں۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ قصہ سنانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو تسلیم نہ کرنے کے لیے کفار نے جو دلائل تصنیف کیے ہیں وہ سبھی اس سے پہلے فرعون بھی پیش کر چکا ہے۔ وہ دلائل نہ اسے عذاب سے بچا سکے اور نہ ان لوگوں کو کفر پر اصرار کی صورت میں بچا سکیں گے۔ ➋ {قَالَ يٰقَوْمِ اَلَيْسَ لِيْ مُلْكُ مِصْرَ وَ هٰذِهِ الْاَنْهٰرُ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِيْ:} یعنی برتری اور افضلیت کا پیمانہ دنیاوی مال و دولت اور حکومت و اقتدار ہے، جو موسیٰ کے پاس نہیں میرے پاس ہے۔ کیا میں مصر کے اقتدار کا مالک نہیں ہوں؟ دریائے نیل سے نکالی ہوئی نہروں کے ذریعے سے آب پاشی کا نظام میرے احکام کے تحت چل رہا ہے۔ یہی بات کفارِ مکہ نے کہی تھی: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيْمٍ» ‏‏‏‏ [ الزخرف: ۳۱ ] کہ قرآن ان دو بستیوں میں سے کسی عظیم آدمی پر اترنا چاہیے تھا۔ ➌ { اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ:} مصر کے لوگ جو موسیٰ علیہ السلام کے کمالات اور معجزات دیکھ کر متاثر ہو رہے تھے، فرعون انھیں اپنی مادی اور دنیوی شان و شوکت کی طرف متوجہ کر رہا ہے۔ حقیقت میں یہ اس کی شکست خوردگی کی دلیل ہے، کیونکہ یہ سب کچھ تو وہ مدت سے دیکھتے چلے آ رہے تھے۔
اَمۡ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡ ہٰذَا الَّذِیۡ ہُوَ مَہِیۡنٌ ۬ۙ وَّ لَا یَکَادُ یُبِیۡنُ ﴿۵۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بےتوقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا
احمد رضا خان بریلوی
یا میں بہتر ہوں اس سے کہ ذلیل ہے اور بات صاف کرتا معلوم نہیں ہوتا
علامہ محمد حسین نجفی
(مجھے بتا‎ؤ) کیا میں اس سے بہتر نہیں ہوں جو ذلیل و حقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا تم نہیں دیکھتے؟ بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں، وہ جو حقیر ہے اور قریب نہیں کہ وہ بات واضح کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون کے دعوے ٭٭

فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔‏‏‏‏“ کلام پاک میں اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَحَشَرَ‌ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَ‌بُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-25] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا ‘۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «‏‏‏‏اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ’ فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے ‘۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔ پھر کہتا ہے ”موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔

حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔ گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ’ میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ ‘، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔ دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (‏‏‏‏دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔‏‏‏‏“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔ فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] ‏‏‏‏ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔‏‏‏‏“ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں ‘۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
52۔ 1 یہ حضرت موسیٰ ؑ کی لکنت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ سورة طہ میں گزرا۔
(آیت 52) ➊ {اَمْ اَنَا خَيْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِيْ هُوَ مَهِيْنٌ:مَهُنَ يَمْهُنُ مَهَانَةً “} (ک) کے معنی ہیں {”حَقُرَ وَضَعُفَ۔“ ” مَهِيْنٌ “} بروزن {”فَعِيْلٌ“} حقیر، ضعیف۔ {” اَمْ “} سے پہلے ایک جملہ ہمزہ استفہام پر مشتمل ہوتا ہے، جو یہاں اس مفہوم کا ہو گا کہ ”کیا یہ شخص یعنی موسیٰ(علیہ السلام) بہتر ہے یا میں بہتر ہوں…؟“ {” اَمْ “ ” بَلْ“} کے معنی میں بھی آتا ہے، اس صورت میں معنی یہ ہو گا: ”بلکہ میں بہتر ہوں…۔“ ➋ فرعون موسیٰ علیہ السلام کی تحقیر کے لیے زیادہ سے زیادہ جو الفاظ استعمال کر سکتا تھا اس نے وہ کیے۔ ان میں سے لفظ {” هٰذَا “} بھی حقارت کے اظہار کے لیے ہے، یعنی ”اس شخص سے جو حقیر ہے۔“ وہ موسیٰ علیہ السلام کو اس لیے حقیر کہہ رہا تھا کہ ان کے پاس اس جیسی نہ دولت تھی نہ قوت و سلطنت، بلکہ وہ اس کی غلام قوم کے ایک فرد تھے اور غلام تو حقیر ہی سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ عجیب حقیر شخص تھا جس سے فرعون بھی شدید خوف زدہ تھا، ہر عذاب پر اس کے سامنے دعا کے لیے منت و سماجت کرتا تھا، اپنی ساری شان و شوکت، قوت و اقتدار اور افواجِ قاہرہ کے باوجود اسے اپنے دربار میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا تھا، جب کہ اس کے پاس نہ فوج تھی نہ اسلحہ، صرف ایک عصا ہاتھ میں لیے جب چاہتا اس کے سر پر پہنچ جاتا۔ اور یہ عجیب حقیر شخص تھا جس کے متعلق وہ اپنے سرداروں سے کہتا تھا: ”مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔“ (دیکھیے مومن: ۲۶) حالانکہ کسی نے اسے قتل کرنے سے نہیں روکا تھا اور فرعون میں یہ جرأت نہیں تھی کہ انھیں ہاتھ بھی لگا سکے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا مال یا اقتدار حقارت یا عظمت کا پیمانہ ہے ہی نہیں اور نہ ہی موسیٰ علیہ السلام حقیر تھے، بلکہ وہ ظالم خود ہی حقیر و ذلیل تھا جو دنیا کے عارضی متاع پر مغرور ہو کر حق سے انکار پر اڑا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار بھی دنیا کی دولت نہ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا ہونا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ ➌ {وَ لَا يَكَادُ يُبِيْنُ:} بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کا اشارہ اس لکنت کی طرف تھا جو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں پائی جاتی تھی، مگر یہ بات درست نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دعا کے بعد وہ لکنت دور ہو گئی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ! تمھاری دعا قبول کر لی گئی ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۳۶) قرآن مجید میں فرعون کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام کے کئی مناظرے مذکور ہیں، جن میں انھوں نے نہایت فصیح و بلیغ الفاظ میں اپنا مدعا بیان فرمایا اور ہر موقع پر فرعون کو لاجواب کیا۔ اگرچہ انھوں نے اپنی مدد کے لیے ہارون علیہ السلام کو زیادہ فصیح اللسان ہونے کی وجہ سے مانگ کر لیا تھا، مگر کہیں بھی انھیں اظہار مقصد کے لیے ہارون علیہ السلام کی ضرورت نہیں پڑی۔ رہا فرعون کا ان کے متعلق کہنا کہ ”قریب نہیں کہ وہ اپنی بات واضح کر سکے“ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ کفار و مشرکین کی سمجھ میں پیغمبروں کی بات آتی ہی نہیں، جیسا کہ شعیب علیہ السلام جیسے زبردست خطیب کو ان کی قوم نے کہا: «‏‏‏‏يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا» [ ھود: ۹۱ ] ”اے شعیب! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے اور بے شک ہم تو تجھے اپنے درمیان بہت کمزور دیکھتے ہیں۔“ فرعون موسیٰ علیہ السلام پر وہی دو طعن کر رہا تھا جو اس سے پہلے شعیب علیہ السلام پر ان کی قوم نے کیے تھے کہ بات سمجھ میں نہ آنا اور ان کی نگاہ میں ان کا حقیر اور ضعیف ہونا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بھی مشرکین کی سمجھ میں نہیں آتی تھی، نہ ہی وہ اپنے جیسے دولت مندوں کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ماننے کے لیے تیار تھے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ (4) اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ (5) وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ (6) مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌ (7) ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ (8) اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيْزِ الْوَهَّابِ» [ صٓ: ۴ تا ۹ ] ”اور انھوں نے اس پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ ایک سخت جھوٹا جادوگر ہے۔ کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلاشبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے۔ اور ان کے سرکردہ لوگ چل کھڑے ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقینا یہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔ کیا ہمارے درمیان میں سے اسی پر نصیحت نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ میری نصیحت سے شک میں ہیں، بلکہ انھوں نے ابھی تک میرا عذاب نہیں چکھا۔ کیا انھی کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں، جو سب پر غالب ہے، بہت عطا کر نے والا ہے۔“
فَلَوۡ لَاۤ اُلۡقِیَ عَلَیۡہِ اَسۡوِرَۃٌ مِّنۡ ذَہَبٍ اَوۡ جَآءَ مَعَہُ الۡمَلٰٓئِکَۃُ مُقۡتَرِنِیۡنَ ﴿۵۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اتارے گئے؟ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اچھا اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں آپڑے یا اس کے ساتھ پر باندھ کر فرشتے ہی آجاتے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس پر کیوں نہ ڈالے گئے سونے کے کنگن یا اس کے ساتھ فرشتے آتے کہ اس کے پاس رہتے
علامہ محمد حسین نجفی
(اگر یہ برحق نبی ہے) تو اس پر سو نے کے کنگن کیوں نہیں اتارے گئے؟ یا اس کے ہمراہ فرشتے پر باندھ کر آتے۔
عبدالسلام بن محمد
پس اس پر سونے کے کنگن کیوں نہیں ڈالے گئے، یا اس کے ہمراہ فرشتے مل کر کیوں نہیں آئے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون کے دعوے ٭٭

فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔‏‏‏‏“ کلام پاک میں اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَحَشَرَ‌ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَ‌بُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-25] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا ‘۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «‏‏‏‏اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ’ فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے ‘۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔ پھر کہتا ہے ”موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔

حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔ گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ’ میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ ‘، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔ دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (‏‏‏‏دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔‏‏‏‏“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔ فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] ‏‏‏‏ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔‏‏‏‏“ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں ‘۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
53۔ 1 اس دور میں مصر اور فارس کے بادشاہ اپنی امتیازی شان اور خصوصی حیثیت کو نمایاں کرنے کے لئے سونے کے کڑے پہنتے تھے۔ اسی طرح قبیلوں کے سردار کے ہاتھوں میں بھی سونے کے کڑے اور گلے میں سونے کے طوق اور زنجریں ڈال دی جاتی ہیں۔ اسی اعتبار سے فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں کہا کہ اگر اس کی حیثیت اور امتیازی شان ہوتی تو اس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے ہونے چاہیے تھے۔ 53۔ 2 جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ اللہ کا رسول ہے یا بادشاہوں کی طرح اس کی شان کو نمایاں کرنے کے لئے اس کے ساتھ ہوتے۔
(آیت 53){ فَلَوْ لَاۤ اُلْقِيَ عَلَيْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ …: ” اَسْوِرَةٌ”سِوَارٌ“} کی جمع ہے، کنگن۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ نہ موسیٰ علیہ السلام سونے کے کنگن پہنیں گے، نہ ان کے ساتھ فرشتے آئیں گے اور نہ ہمیں ان پر ایمان لانا پڑے گا۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے بھی کفار نے دوسری بہت سی چیزوں کے ساتھ سونے کے مکان اور اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کو سامنے لانے کی شرط عائد کی تھی، فرمایا: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا (90) اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّ عِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا (91) اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيْلًا (92) اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَآءِ» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل: ۹۰ تا ۹۳ ] ”اور انھوں نے کہا ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہ لائیں گے، یہاں تک کہ تو ہمارے لیے زمین سے کوئی چشمہ جاری کرے۔ یا تیرے لیے کھجوروں اور انگور کا ایک باغ ہو، پس تو اس کے درمیان نہریں جاری کردے، خوب جاری کرنا۔ یا آسمان کو ٹکڑے کر کے ہم پر گرا دے، جیسا کہ تو نے دعویٰ کیا ہے، یا تو اللہ اور فرشتوں کو سامنے لے آئے۔ یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر ہو، یا تو آسمان میں چڑھ جائے۔“ حقیقت یہ ہے کہ تمام انبیاء علیھم السلام کی دعوت ایک تھی اور سبھی کو دعوت کے سلسلے میں ایک جیسے مراحل سے گزرنا پڑا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے پیغمبروں خصوصاً موسیٰ علیہ السلام کے واقعات بار بار بیان فرمائے ہیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہو اور آپ صبر و استقامت سے کام لیں اور آپ کے زمانے کے کفار کو پہلی کافر اقوام کے انجام سے عبرت ہو اور وہ کفر سے باز آ جائیں۔
فَاسۡتَخَفَّ قَوۡمَہٗ فَاَطَاعُوۡہُ ؕ اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا فٰسِقِیۡنَ ﴿۵۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی، در حقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے اپنی قوم کو بہلایا پھسلایا اور انہوں نے اسی کی مان لی، یقیناً یہ سارے ہی نافرمان لوگ تھے
احمد رضا خان بریلوی
پھر اس نے اپنی قوم کو کم عقل کرلیا تو وہ اس کے کہنے پر چلے بیشک وہ بے حکم لوگ تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
اس طرح اس (فرعون) نے اپنی قوم کو احمق بنایا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی۔ بےشک یہ نافرمان قِسم کے لوگ تھے۔
عبدالسلام بن محمد
غرض اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وزن) کر دیا تو انھوں نے اس کی اطاعت کر لی، یقینا وہ نافرمان لوگ تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون کے دعوے ٭٭

فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔‏‏‏‏“ کلام پاک میں اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَحَشَرَ‌ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَ‌بُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-25] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا ‘۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «‏‏‏‏اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ’ فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے ‘۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔ پھر کہتا ہے ”موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔

حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔ گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ’ میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ ‘، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔ دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (‏‏‏‏دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔‏‏‏‏“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔ فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] ‏‏‏‏ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔‏‏‏‏“ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں ‘۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 54) ➊ { فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ:} لفظی معنی ہے ”اس نے اپنی قوم کو ہلکا (بے وزن) کر دیا۔“ یعنی اس نے اپنی قوم کے لوگوں کی رائے کو کوئی وزن نہ دیا اور نہ ہی انھیں اپنی عقل سے سوچنے سمجھنے کا موقع دیا، بلکہ انھیں مجبور کیا کہ وہ اس کی ہاں میں ہاں ملا لیں۔ (دیکھیے مومن: ۲۹) چنانچہ وہ انھیں پھسلانے اور اُلُّو بنانے میں کامیاب ہو گیا اور وہ سب اس کے پیچھے لگ گئے۔ ➋ {اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِيْنَ:”إِنَّ“} تعلیل کے لیے ہوتا ہے، یعنی انھوں نے اس کی اطاعت اس لیے اختیار کی کہ فسق و فجور ان کی سرشت بن چکا تھا۔ وہ گمراہی کے راستے پر ہی چل سکتے تھے، سیدھی راہ پر چلنا ان کے بس کی بات ہی نہ تھی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏سَاَصْرِفُ عَنْ اٰيٰتِيَ الَّذِيْنَ يَتَكَبَّرُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَ اِنْ يَّرَوْا كُلَّ اٰيَةٍ لَّا يُؤْمِنُوْا بِهَا وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الرُّشْدِ لَا يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا وَ اِنْ يَّرَوْا سَبِيْلَ الْغَيِّ يَتَّخِذُوْهُ سَبِيْلًا ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الأعراف: ۱۴۶ ] ”عنقریب میں اپنی آیات سے ان لوگوں کو پھیر دوں گا جو زمین میں حق کے بغیر بڑے بنتے ہیں اور اگر ہر نشانی دیکھ لیں تو بھی اس پر ایمان نہیں لاتے اور اگر بھلائی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے راستہ نہیں بناتے اور اگر گمراہی کا راستہ دیکھیں تو اسے راستہ بنا لیتے ہیں، یہ اس لیے کہ انھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور وہ ان سے غافل تھے۔“
فَلَمَّاۤ اٰسَفُوۡنَا انۡتَقَمۡنَا مِنۡہُمۡ فَاَغۡرَقۡنٰہُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿ۙ۵۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کر دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر جب انہوں نے ہمیں غصہ دﻻیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور سب کو ڈبو دیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر جب انہوں نے وہ کیا جس پر ہمارا غضب ان پر آیا ہم نے ان سے بدلہ لیا تو ہم نے ان سب کو ڈبودیا،
علامہ محمد حسین نجفی
پس انہوں نے ہمیں ناراض کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب انھوں نے ہمیں سخت غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا، پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون کے دعوے ٭٭

فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔‏‏‏‏“ کلام پاک میں اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَحَشَرَ‌ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَ‌بُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-25] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا ‘۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «‏‏‏‏اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ’ فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے ‘۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔ پھر کہتا ہے ”موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔

حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔ گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ’ میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ ‘، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔ دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (‏‏‏‏دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔‏‏‏‏“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔ فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] ‏‏‏‏ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔‏‏‏‏“ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں ‘۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 55) {فَلَمَّاۤ اٰسَفُوْنَا انْتَقَمْنَا مِنْهُمْ …:} اس آیت سے ظاہر ہے کہ غصے ہونا اور انتقام لینا بھی اللہ تعالیٰ کی صفات ہیں، جیسا کہ راضی ہونا اور انعام دینا اس کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی اور عذاب کے ساتھ بھی انھیں ہلاک کر سکتا تھا، مگر فرعون نے نہروں کے اپنے تحت چلنے پر فخر کیا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے اسے پانی ہی میں غرق کرکے انتقام لیا۔ عموماً انسان جس چیز پر فخر کرتا ہے اللہ کی طرف سے وہی چیز اس کی ہلاکت کا سامان بن جاتی ہے۔
فَجَعَلۡنٰہُمۡ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلۡاٰخِرِیۡنَ ﴿٪۵۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور بعد والوں کے لیے پیش رو اور نمونہ عبرت بنا کر رکھ دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس ہم نے انہیں گیا گزرا کردیا اور پچھلوں کے لیے مثال بنادی
احمد رضا خان بریلوی
انہیں ہم نے کردیا اگلی داستان اور کہاوت پچھلوں کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
اور انہیں گیا گزرا اور بعد والوں کیلئے نمونۂ عبرت بنا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
پس ہم نے انھیں پیچھے آنے والوں کے لیے پیش رو اور مثال بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
فرعون کے دعوے ٭٭

فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔‏‏‏‏“ کلام پاک میں اور جگہ ہے «‏‏‏‏فَحَشَرَ‌ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَ‌بُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَ‌ةِ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-25] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا ‘۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «‏‏‏‏اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ’ فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے ‘۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔ پھر کہتا ہے ”موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔‏‏‏‏“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔

حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔ گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔ اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ’ میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ ‘، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔ دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (‏‏‏‏دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔‏‏‏‏“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔ فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔‏‏‏‏“ ۱؎ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] ‏‏‏‏ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔‏‏‏‏“ پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں ‘۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
56۔ 1 یعنی ان کو بعد میں آنے والوں کے لئے نصیحت اور مثال بنادیا۔ کہ وہ اس طرح کفر و ظلم اور علو و فساد نہ کریں جس طرح فرعون نے کیا تاکہ وہ اس جیسے عبرت ناک حشر سے محفوظ رہیں۔
(آیت 56) {فَجَعَلْنٰهُمْ سَلَفًا وَّ مَثَلًا لِّلْاٰخِرِيْنَ:” سَلَفًا “ ” سَالِفٌ “} کی جمع ہے، جیسے {”خَادِمٌ“} اور {”حَارِسٌ“} کی جمع {”خَدَمٌ“} اور {”حَرَسٌ“ } ہے۔ {”سالف“} اسے کہتے ہیں جو وجود میں یا کسی عمل یا کسی جگہ میں دوسرے سے پہلے ہو۔ چونکہ یہاں ذکر انتقام کا آیا ہے، اس لیے {” سَلَفًا “} سے مراد وہ ہیں جو انتقام میں پہلے ہیں، یعنی ان کے بعد والوں کو بھی ان جیسے انتقام کا سامنا کرنا پڑے گا۔ {” مَثَلًا “} کا معنی مشابہ چیز ہے، مراد عبرت ہے جو اپنے جیسے لوگوں کو دیکھ کر لی جاتی ہے کہ اگر ہم نے ان جیسے عمل جاری رکھے تو ہمارا انجام بھی وہی ہو گا۔ {” لِلْاٰخِرِيْنَ “} وہ لوگ جو اس کلام میں مذکور آلِ فرعون کے ساتھ آخری مشابہ ہیں۔ مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والے مشرکین ہیں، کیونکہ بت پرستی اور رسول کو جھٹلانے میں ان کے آخری مشابہ وہی ہیں۔ مطلب یہ کہ ہم نے انھیں ان آخری مشرکوں کے لیے عبرت بنا دیا، اس لیے ان پر لازم ہے کہ ان کے انجام سے نصیحت حاصل کریں۔
وَ لَمَّا ضُرِبَ ابۡنُ مَرۡیَمَ مَثَلًا اِذَا قَوۡمُکَ مِنۡہُ یَصِدُّوۡنَ ﴿۵۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جونہی کہ ابن مریم کی مثال دی گئی، تمہاری قوم کے لوگوں نے اس پر غل مچا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ابن مریم کی مثال بیان کی گئی تو اس سے تیری قوم (خوشی سے) چیخنے لگی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ابنِ مریم کی مثال بیان کی جائے، جبھی تمہاری قوم اس سے ہنسنے لگتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ابنِ مریم (ع) (عیسےٰ(ع)) کی مثال دی گئی تو ایک دم آپ(ص) کی قوم والے چیخنے چلا نے لگے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ابن مریم کو بطور مثال بیان کیا گیا، اچانک تیری قوم (کے لوگ) اس پر شور مچا رہے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ علیہ السلام ٭٭

«يَصِدُّونَ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم نے کئے ہیں کہ ”وہ ہنسنے لگے“ یعنی اس سے ”انہیں تعجب معلوم ہوا۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گھبرا کر بول پڑے۔‏‏‏‏“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے ”منہ پھیرنے لگے۔‏‏‏‏“ اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہو گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی آیت «‏‏‏‏اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98] ‏‏‏‏، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی ’ تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے ‘ }۔

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کر دیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور عزیر اور مسیح علیہم السلام بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر علیہ السلام کی پرستش کرتے ہیں نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں }۔

اس پر آیت «‏‏‏‏إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَـٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏، نازل ہوئی یعنی ”عیسیٰ، عزیر، اور ان کے علاوہ جن احبار و رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بے قصور ہیں۔‏‏‏‏“ اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت «‏‏‏‏وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّ‌حْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَ‌مُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:26] ‏‏‏‏، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کر دی۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ ’ اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کر دیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے ‘۔ سیدنا ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ { مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر کہا کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن مریم علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں }۔ اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بے تکی باتیں کرنے لگے ہیں ‘۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:86/25:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے؟“ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے۔ اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابویحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کون سی آیت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں سنو! { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو }۔‏‏‏‏“ { اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت نہیں کرتے؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ ’ وہ قیامت کا علم ہیں ‘ یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا }۔۱؎ [مسند احمد:318/1:حسن] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر ہیں یہ تو اپنے آپ کو بچوانا چاہتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «اَمْ ھٰذَا» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:202/11:] ‏‏‏‏ اللہ فرماتا ہے ’ یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے ‘، یعنی بے دلیل جھگڑا اور بے وجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لیے اولاً تو آیت میں لفظ «مَــا» ہے جو غیر ذوی العقول کے لیے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح علیہ السلام کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔ ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بیدلیل حجت بازی اس میں نہ آ جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی }۔۱؎ [ترمذي کتاب التفسیر:3253،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے کہ { ہر امت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ { ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: { اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:58] ‏‏‏‏ کی تلاوت فرمائی } }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 57) {وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا …:} رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تمام پیغمبروں کا ذکر عزت و اکرام کے ساتھ کرتے تھے، عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر بھی ہمیشہ عزت و تکریم کے ساتھ کرتے اور ان کی مثال آدم علیہ السلام کے ساتھ دیا کرتے تھے کہ جس طرح ماں باپ کے بغیر آدم علیہ السلام کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی قدرت کا عجیب و غریب کرشمہ ہے اسی طرح باپ کے بغیر عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش بھی اس کی قدرت کا عجیب کرشمہ ہے۔ مدینہ جانے کے بعد وفد نجران کی آمد پر سورۂ آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ» [آل عمران: ۵۹ ] ”بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی طرح ہے کہ اسے تھوڑی سی مٹی سے بنایا، پھر اسے فرمایا ہو جا، سو وہ ہو جاتا ہے۔“ پچھلی آیات میں مشرکین مکہ کے فرشتوں کی عبادت پر ردّ کے بعد فرمایا تھا: «‏‏‏‏وَ سْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلْنَا مِنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ اٰلِهَةً يُّعْبَدُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الزخرف: ۴۵ ] ”اور ان سے پوچھ جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا، کیا ہم نے رحمان کے سوا کوئی معبود بنائے ہیں جن کی عبادت کی جائے؟“ اس پر مشرکین میں سے کسی نے عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام کے معبود ہونے کا اعتراض جڑ دیا۔ ساتھ ہی دوسرے مشرکین نے شور مچانا شروع کر دیا کہ مسیح(علیہ السلام) کو دیکھو! نصرانی ان کی عبادت کرتے ہیں، پھر بھی مسلمان ان کا نام عزت سے لیتے ہیں۔ ہمارے بت اور دیوی دیوتا فرشتے ہیں، کیا ہمارے معبود فرشتے بہتر ہیں یا نصرانیوں کے معبود عیسیٰ علیہ السلام بہتر ہیں؟ پھر ان کا نام عزت کے ساتھ کیوں لیا جاتا ہے اور ہمارے بتوں کو بُرا کیوں کہا جاتا ہے؟ میں نے بہت غور و فکر اور متعدد تفاسیر کے مطالعہ کے بعد آیات کے الفاظ اور سیاق و سباق کو ملحوظ رکھ کر جو تفسیر سمجھی ہے ذکر کر دی ہے۔ (واللہ اعلم) ابن عاشور نے فرمایا: ”یہ مقام قرآن مجید کے مشکل ترین مقامات میں سے ہے۔“ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”یعنی قرآن میں ان کا ذکر آوے تو اعتراض کرتے ہیں کہ ان کو بھی خلق پوجتے ہیں، انھیں کیوں خوبی سے یاد کرتے ہو اور ہمارے پوجوں (معبودوں، بتوں) کو برا کہتے ہو۔“ (موضح)
وَ قَالُوۡۤاءَ اٰلِہَتُنَا خَیۡرٌ اَمۡ ہُوَ ؕ مَا ضَرَبُوۡہُ لَکَ اِلَّا جَدَلًا ؕ بَلۡ ہُمۡ قَوۡمٌ خَصِمُوۡنَ ﴿۵۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور لگے کہنے کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وہ؟ یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لیے لائے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ
مولانا محمد جوناگڑھی
اور انہوں نے کہا کہ ہمارے معبود اچھے ہیں یا وه؟ تجھ سے ان کا یہ کہنا محض جھگڑے کی غرض سے ہے، بلکہ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو
احمد رضا خان بریلوی
اور کہتے ہیں کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ انہوں نے تم سے یہ نہ کہی مگر ناحق جھگڑے کو بلکہ وہ ہیں جھگڑالو لوگ
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہنے لگے کہ ہمارے معبود بہتر ہیں یاوہ(عیسیٰ(ع))؟ وہ یہ بات محض آپ(ص) سے کج بحثی کیلئے کرتے ہیں بلکہ یہ لوگ تو ہیں ہی بڑے جھگڑالو۔
عبدالسلام بن محمد
اور انھوں نے کہا کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ؟ انھوں نے تیرے لیے یہ (مثال) صرف جھگڑنے ہی کے لیے بیان کی ہے، بلکہ وہ جھگڑالو لوگ ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
قیامت کے قریب نزول عیسیٰ علیہ السلام ٭٭

«يَصِدُّونَ» کے معنی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ،مجاہد،عکرمہ اور ضحاک رحمہ اللہ علیہم نے کئے ہیں کہ ”وہ ہنسنے لگے“ یعنی اس سے ”انہیں تعجب معلوم ہوا۔‏‏‏‏“ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”گھبرا کر بول پڑے۔‏‏‏‏“ ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا قول ہے ”منہ پھیرنے لگے۔‏‏‏‏“ اس کی وجہ جو امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ نے اپنی سیرت میں بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولید بن مغیرہ وغیرہ قریشیوں کے پاس تشریف فرما تھے جو نضر بن حارث آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ باتیں کرنے لگا جس میں وہ لاجواب ہو گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کی آیت «‏‏‏‏اِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ ۭ اَنْتُمْ لَهَا وٰرِدُوْنَ» ۱؎ [21-الأنبياء:98] ‏‏‏‏، آیتوں تک پڑھ کر سنائیں یعنی ’ تم اور تمہارے معبود سب جہنم میں جھونک دئیے جاؤ گے ‘ }۔

پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے چلے گئے تھوڑی ہی دیر میں عبداللہ بن زہیری تمیمی آیا تو ولید بن مغیرہ نے اس سے کہا نضر بن حارث تو ابن عبدالمطلب سے ہار گیا اور بالآخر ابن عبدالمطلب ہمیں اور ہمارے معبودوں کو جہنم کا ایندھن کہتے ہوئے چلے گئے۔ اس نے کہا اگر میں ہوتا تو خود انہیں لاجواب کر دیتا جاؤ ذرا ان سے پوچھو تو کہ جب ہم اور ہمارے سارے معبود دوزخی ہیں تو لازم آیا کہ سارے فرشتے اور عزیر اور مسیح علیہم السلام بھی جہنم میں جائیں گے کیونکہ ہم فرشتوں کو پوجتے ہیں یہود عزیر علیہ السلام کی پرستش کرتے ہیں نصرانی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں۔ اس پر مجلس کے کفار بہت خوش ہوئے اور کہا ہاں یہ جواب بہت ٹھیک ہے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ہر وہ شخص جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور ہر وہ شخص جو اپنی عبادت اپنی خوشی سے کرائے یہ دونوں عابد و معبود جہنمی ہیں فرشتوں یا نبیوں نے نہ اپنی عبادت کا حکم دیا نہ وہ اس سے خوش۔ ان کے نام سے دراصل یہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں وہی انہیں شرک کا حکم دیتا ہے۔ اور یہ بجا لاتے ہیں }۔

اس پر آیت «‏‏‏‏إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَـٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [21-الأنبياء:101] ‏‏‏‏، نازل ہوئی یعنی ”عیسیٰ، عزیر، اور ان کے علاوہ جن احبار و رہبان کی پرستش یہ لوگ کرتے ہیں اور خود وہ اللہ کی اطاعت پر تھے شرک سے بیزار اور اس سے روکنے والے تھے اور ان کے بعد گمراہوں جاہلوں نے انہیں معبود بنا لیا تو وہ محض بے قصور ہیں۔‏‏‏‏“ اور فرشتوں کو جو مشرکین اللہ کی بیٹیاں مان کر پوجتے تھے ان کی تردید میں آیت «‏‏‏‏وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّ‌حْمَـٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَهُ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَ‌مُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:26] ‏‏‏‏، سے کئی آیتوں تک نازل ہوئیں اور ان کے اس باطل عقیدے کی پوری تردید کر دی۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس نے جو جواب دیا تھا جس پر مشرکین خوش ہوئے تھے یہ آیتیں اتریں کہ ’ اس قول کو سنتے ہی کہ معبودان باطل بھی اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میں جائیں گے انہوں نے جھٹ سے عیسیٰ کی ذات گرامی کو پیش کر دیا اور یہ سنتے ہی مارے خوشی کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے مشرک اچھل پڑے اور بڑھ بڑھ کر باتیں بنانے لگے کہ ہم نے دبا لیا۔ ان سے کہو کہ عیسیٰ علیہ السلام نے کسی سے اپنی یا کسی اور کی پرستش نہیں کرائی وہ تو خود برابر ہماری غلامی میں لگے رہے اور ہم نے بھی انہیں اپنی بہترین نعمتیں عطا فرمائیں۔ ان کے ہاتھوں جو معجزات دنیا کو دکھائے وہ قیامت کی دلیل تھے ‘۔ سیدنا ابن عباس سے ابن جریر میں ہے کہ { مشرکین نے اپنے معبودوں کا جہنمی ہونا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سن کر کہا کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن مریم علیہ السلام کی نسبت کیا کہتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں }۔ اب کوئی جواب ان کے پاس نہ رہا تو کہنے لگے واللہ یہ تو چاہتے ہیں کہ جس طرح عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ مان لیا ہے ہم بھی انہیں رب مان لیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ یہ تو صرف بکواس ہے کھسیانے ہو کر بے تکی باتیں کرنے لگے ہیں ‘۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:86/25:ضعیف] ‏‏‏‏

مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ”قرآن میں ایک آیت ہے مجھ سے کسی نے اس کی تفسیر نہیں پوچھی۔ میں نہیں جانتا کہ کیا ہر ایک اسے جانتا ہے یا نہ جان کر پھر بھی جاننے کی کوشش نہیں کرتے؟“ پھر اور باتیں بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ مجلس ختم ہوئی اور آپ چلے گئے۔ اب ہمیں بڑا افسوس ہونے لگا کہ وہ آیت تو پھر بھی رہ گئی اور ہم میں سے کسی نے دریافت ہی نہ کیا۔ اس پر ابن عقیل انصاری کے مولیٰ ابویحییٰ نے کہا کہ اچھا کل صبح جب تشریف لائیں گے تو میں پوچھ لوں گا۔ دوسرے دن جو آئے تو میں نے ان کی کل کی بات دہرائی اور ان سے دریافت کیا کہ وہ کون سی آیت ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”ہاں سنو! { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ قریش سے فرمایا کوئی ایسا نہیں جس کی عبادت اللہ کے سوا کی جاتی ہو اور اس میں خیر ہو }۔‏‏‏‏“ { اس پر قریش نے کہا کیا عیسائی عیسیٰ علیہ السلام کی عبادت نہیں کرتے؟ اور کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا نبی اور اس کا برگذیدہ نیک بندہ نہیں مانتے؟ پھر اس کا کیا مطلب ہوا کہ اللہ کے سوا جس کی عبادت کی جاتی ہے وہ خیر سے خالی ہے؟ اس پر یہ آیتیں اتریں۔ کہ جب عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا ذکر آیا تو لوگ ہنسنے لگے۔ ’ وہ قیامت کا علم ہیں ‘ یعنی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت کے دن سے پہلے نکلنا }۔۱؎ [مسند احمد:318/1:حسن] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں بھی یہ روایت پچھلے جملے کے علاوہ ہے۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”ان کے اس قول کا کہ کیا ہمارے معبود بہتر ہیں یا وہ۔ مطلب یہ ہے کہ ہمارے معبود محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہتر ہیں یہ تو اپنے آپ کو بچوانا چاہتے ہیں۔‏‏‏‏“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «اَمْ ھٰذَا» ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:202/11:] ‏‏‏‏ اللہ فرماتا ہے ’ یہ ان کا مناظرہ نہیں بلکہ مجادلہ اور مکابرہ ہے ‘، یعنی بے دلیل جھگڑا اور بے وجہ حجت بازی ہے خود یہ جانتے ہیں کہ نہ یہ مطلب ہے نہ ہمارا یہ اعتراض اس پر وارد ہوتا ہے۔ اس لیے اولاً تو آیت میں لفظ «مَــا» ہے جو غیر ذوی العقول کے لیے ہے دوسرے یہ کہ آیت میں خطاب کفار قریش سے ہے جو اصنام و انداد یعنی بتوں اور پتھروں کو پوجتے تھے وہ مسیح علیہ السلام کے پجاری نہ تھے جو یہ اعتراض برمحل مانا جائے پس یہ صرف جدل ہے یعنی وہ بات کہتے ہیں جس کے غیر صحیح ہونے کو ان کے اپنے دل کو بھی یقین ہے۔ ترمذی وغیرہ میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { کوئی قوم اس وقت تک ہلاک نہیں ہوتی جب تک بیدلیل حجت بازی اس میں نہ آ جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی }۔۱؎ [ترمذي کتاب التفسیر:3253،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں اس حدیث کے شروع میں یہ بھی ہے کہ { ہر امت کی گمراہی کی پہلی بات اپنے نبی کے بعد تقدیر کا انکار کرنا ہے }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ { ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے مجمع میں آئے اس وقت وہ قرآن کی آیتوں میں بحث کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غضبناک ہوئے اور فرمایا: { اس طرح اللہ کی کتاب کی آیتوں کو ایک دوسری کے ساتھ ٹکراؤ نہیں یاد رکھو جھگڑے کی اسی عادت نے اگلے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا ۭ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:58] ‏‏‏‏ کی تلاوت فرمائی } }۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:203/11:ضعیف] ‏‏‏‏
58۔ 1 شرک کی تردید اور جھوٹے معبودوں کی بےوقعتی کی وضاحت کے لئے جب مشرکین مکہ سے کہا جاتا کہ تمہارے ساتھ تمہارے معبود بھی جہنم جائیں گے تو اس سے مراد وہ پتھر کی مورتیاں ہوتی ہیں جن کی وہ عبادت کرتے تھے نہ کہ وہ نیک لوگ جو اپنی زندگیوں میں لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے، مگر ان کی وفات کے بعد ان کے معتقدین نے انہیں بھی معبود سمجھنا شروع کردیا ان کی بابت قرآن کریم نے ہی واضح کردیا ہے کہ یہ جہنم سے دور رہیں گے۔
(آیت 58) ➊ {وَ قَالُوْۤا ءَاٰلِهَتُنَا خَيْرٌ اَمْ هُوَ:} اس جملے کی وضاحت اوپر کی تفسیر میں بیان ہو چکی ہے۔ ➋ {مَا ضَرَبُوْهُ لَكَ اِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُوْنَ:} یعنی ان مشرکین نے مسیح علیہ السلام کا ذکر محض جھگڑے کے لیے کیا ہے، ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ مسلمان ان کا عزت و تکریم سے ذکر معبود ہونے کے لحاظ سے نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا برگزیدہ بندہ ہونے کے لحاظ سے کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ ہیں ہی سخت جھگڑالو کہ متکلم کی مراد اپنے پاس سے گھڑ کر جھگڑنا اور شور مچانا شروع کر دیتے ہیں۔ ➌ اکثر مفسرین نے ان آیات کی شانِ نزول یہ بیان فرمائی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۹۸ ] (بے شک تم اور جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، جہنم کا ایندھن ہیں) تو عبد اللہ بن زِبَعریٰ کہنے لگا کہ اللہ کے سوا تو عیسیٰ ابن مریم کی پوجا بھی کی جاتی ہے، اگر وہ جہنم میں گئے تو ہمیں اپنے معبودوں کا جہنم میں جانا بھی منظور ہے۔ یہ سنتے ہی مشرکین نے بہت شور مچایا کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) لاجواب ہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰۤى اُولٰٓىِٕكَ عَنْهَا مُبْعَدُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۱۰۱ ] ”بے شک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہو چکی وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔“ اور اس سورت کی آیت (۵۷) نازل ہوئی: «‏‏‏‏وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» ‏‏‏‏ ”اور جب ابن مریم کو بطورِ مثال بیان کیا گیا، اچانک تیری قوم کے لوگ اس پر شور مچا رہے تھے۔“ ({”زِبَعْرٰي“} زاء کے کسرہ، باء کے فتحہ اور عین کے سکون کے ساتھ ہے، راء کے بعد الف مقصورہ ہے، یہ عبد اللہ بن زبعری بعد میں مسلمان ہوگئے تھے۔ {رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ }) یہ تفسیر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے حسن سند کے ساتھ مروی ہے۔ [ دیکھیے مشکل الآثار، باب بیان مشکل ما روي عن رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم في المراد بقول اللّٰہ عزوجل: «إنکم و ما تعبدون من دون اللّٰہ حصب جھنم» ‏‏‏‏، ح: ۹۸۶ ] مسند احمد میں یہ روایت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے ان الفاظ میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش سے کہا: [ يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ! إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُعْبَدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فِيْهِ خَيْرٌ ] ”اے جماعتِ قریش! حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کی جاتی جس میں کوئی خیر ہو۔“ انھوں نے کہا: ”اے محمد! کیا تم یہ نہیں کہتے کہ عیسیٰ نبی تھا اور اللہ کے بندوں میں سے نیک بندہ تھا، تو اگر تم سچے ہو تو مسیح اور ان کے معبود ایک جیسے ہو گئے۔“ (یہ کہہ کر انھوں نے شور مچانا شروع کر دیا) تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» ‏‏‏‏ [ الزخرف: ۵۷ ] ”جب ابن مریم کو بطور مثال بیان کیا گیا، اچانک تیری قوم کے لوگ اس پر شور مچا رہے تھے۔“ [ مسند أحمد: 318/1، ح: ۲۹۲۴ ] مسند کے محققین نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔ واضح رہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی یہ تفسیر اس تفسیر کے خلاف نہیں جو آیات کے سیاق کے لحاظ سے اوپر کی گئی ہے، کیونکہ اصولِ تفسیر میں یہ بات مسلّم ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم {”نَزَلَتْ فِيْ كَذَا“} (یہ آیت فلاں کے بارے میں نازل ہوئی) ان واقعات کے متعلق بھی فرما دیتے ہیں جن پر کوئی آیت منطبق ہوتی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے مواقع پر پہلے اتری ہوئی کوئی آیت پڑھ دیتے تھے۔ ظاہر ہے مشرکین جن کی عادت ہی جھگڑنا اور کج بحثی کرنا تھا، جھگڑنے کا کوئی موقع کم ہی ہاتھ سے جانے دیتے تھے۔ ان مواقع میں سے ایک موقع: «‏‏‏‏اِنَّكُمْ وَ مَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۹۸ ] کا نزول بھی تھا، اس پر کفار نے جو شور مچایا، آیت: «‏‏‏‏وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا اِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّوْنَ» اس پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے، جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا۔
اِنۡ ہُوَ اِلَّا عَبۡدٌ اَنۡعَمۡنَا عَلَیۡہِ وَ جَعَلۡنٰہُ مَثَلًا لِّبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ﴿ؕ۵۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ابن مریمؑ اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
عیسیٰ (علیہ السلام) بھی صرف بنده ہی ہے جس پر ہم نے احسان کیا اور اسے بنی اسرائیل کے لیے نشان قدرت بنایا
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو نہیں مگر ایک بندہ جس پر ہم نے احسان فرمایا اور اسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے عجیب نمونہ بنایا
علامہ محمد حسین نجفی
وہ (عیسیٰ (ع)) تو بس ہمارا ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور اسے بنی اسرائیل کیلئے ایک مثال (نمونہ) بنا دیا۔
عبدالسلام بن محمد
نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا اور ہم نے اسے بنی اسرائیل کے لیے ایک مثال بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے ‘۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔‏‏‏‏“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ’ وہ قیامت کی نشانی ہے ‘، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔

یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت «‏‏‏‏وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:159] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا ‘۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ یعنی ’ جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں ‘۔

حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لیے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم سے اور یہی مروی ہے۔ ابو لعالیہ، ابومالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ { قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں}۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:] ‏‏‏‏
59۔ 1 ایک اس اعتبار سے کہ بغیر باپ کے ان کی ولادت ہوئی، دوسرے، خود انہیں جو معجزات دیئے گئے، احیائے موتی وغیرہ، اس لحاظ سے بھی۔
(آیت 59) ➊ { اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ …:} یعنی مسیح علیہ السلام کا اکرام ان کے معبود ہونے کی وجہ سے نہیں، کیونکہ نہ وہ رب تھے نہ رب کے بیٹے، بلکہ صرف عبد بمعنی اللہ کا غلام اور اس کی بندگی کرنے والا ہونے کی وجہ سے ہے۔ یہ قصر قلب ہے، یعنی مسیح وہ کچھ نہیں جو نصاریٰ یا دوسرے مشرک کہہ رہے ہیں، بلکہ وہ صرف بندہ ہے جس پر ہم نے انعام کیا ہے۔ ➋ { اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ:} ان انعامات میں سے چند انعامات کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ مائدہ کی آیات (۱۱۰ تا ۱۱۵) میں اور سورۂ آلِ عمران کی آیات (۴۵، ۴۶) میں اور دوسری آیات میں فرمایا ہے۔ ➌ {وَ جَعَلْنٰهُ مَثَلًا لِّبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ:} بنی اسرائیل کے لیے مثال بنانے سے مراد ان کے لیے نمونۂ قدرت بنانا ہے کہ انھیں باپ کے بغیر پیدا کیا اور انھیں ایسے معجزات عطا فرمائے جو ان کے زمانے میں کسی کو نہیں ملے، جنھیں دیکھ کر لوگوں کو ان کی نبوت کا یقین ہوتا تھا۔
وَ لَوۡ نَشَآءُ لَجَعَلۡنَا مِنۡکُمۡ مَّلٰٓئِکَۃً فِی الۡاَرۡضِ یَخۡلُفُوۡنَ ﴿۶۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کر دیں جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر ہم چاہتے تو تمہارے عوض فرشتے کردیتے جو زمین میں جانشینی کرتے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر ہم چاہتے تو زمین میں تمہارے بدلے فرشتے بساتے
علامہ محمد حسین نجفی
اگر ہم چاہیں تو تمہارے بدلے زمین میں فرشتے بسا دیں جو تمہارے جانشین ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور اگر ہم چاہیں تو ضرور تمھارے عوض فرشتے بنا دیں، جو زمین میں جانشین ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے ‘۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔‏‏‏‏“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ’ وہ قیامت کی نشانی ہے ‘، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔

یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت «‏‏‏‏وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:159] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا ‘۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ یعنی ’ جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں ‘۔

حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لیے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم سے اور یہی مروی ہے۔ ابو لعالیہ، ابومالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ { قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں}۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:] ‏‏‏‏
60۔ 1 یعنی تمہیں ختم کرکے تمہاری جگہ زمین پر فرشتوں کو آباد کردیتے، جو تمہاری ہی طرح ایک دوسرے کی جانشینی کرتے، مطلب یہ ہے کہ فرشتوں کا آسمان پر رہنا اشرف نہیں ہے کہ ان کی عبادت کی جائے یہ تو ہماری مشیت ہے اور قضا ہے کہ فرشتوں کو آسمان اور انسانوں کو زمین پر آباد کیا، ہم چاہیں تو فرشتوں کو زمین پر بھی آباد کرسکتے ہیں۔
(آیت 60) {وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ …:} یعنی اس زمین پر انسان باپ اور ماں سے پیدا ہوتے ہیں، عیسیٰ علیہ السلام باپ کے بغیر پیدا ہوئے تو اس سے وہ معبود نہیں بن گئے، بلکہ وہ دوسرے انسانوں کی طرح مخلوق ہیں، جیسا کہ فرشتے ماں باپ کے بغیر پیدا ہونے اور آسمانوں پر رہنے کے باوجود مخلوق ہیں، معبود نہیں بن گئے۔ بلکہ اگر ہم چاہیں تو تمھاری جگہ ان کو زمین پر لا کر تمھارے جانشین بنا دیں، نہ تم انکار کر سکتے ہو نہ انھیں انکار کی مجال ہے، تو وہ معبود کیسے بن گئے۔ اس آیت کی ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اگر ہم چاہیں تو تمھیں ہلاک کر دیں اور تمھاری جگہ فرشتوں کو لے آئیں جو زمین کو آباد کریں اور ہماری عبادت کریں۔
وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور وہ دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے، پس تم اُس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے پس تم (قیامت) کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو، یہی سیدھی راه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک عیسی ٰ قیامت کی خبر ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میرے پیرو ہونا یہ سیدھی راہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ(عیسیٰ(ع)) تو صرف قیامت کی ایک نشانی ہے تم لوگ اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ وہ یقینا قیامت کی ایک نشانی ہے تو تم اس میں ہرگز شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو، یہ سیدھاراستہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے ‘۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔‏‏‏‏“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ’ وہ قیامت کی نشانی ہے ‘، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔

یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت «‏‏‏‏وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:159] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا ‘۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ یعنی ’ جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں ‘۔

حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لیے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم سے اور یہی مروی ہے۔ ابو لعالیہ، ابومالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ { قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں}۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:] ‏‏‏‏
61۔ 1 اکثر مفسرین کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نزول ہوگا، جیسا کہ، صحیح متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ یہ نزول اس بات کی علامت ہوگا کہ اب قیامت قریب ہے اس لئے بعض نے اسے عین اور لام کے زبر کے ساتھ (عَلَم) پڑھا ہے، جس کے معنی نشانی اور علامت کے۔
(آیت 61) ➊ { وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ: ”عِلْمٌ“} سے مراد علم کا ذریعہ اور نشانی ہے، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور پہلی مرتبہ دنیا میں آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لیے ایک نشان تھا، دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہو گا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کریں گے کہ اب قیامت بالکل قریب آ لگی ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے مراد قیامت سے پہلے ان کا نزول ہے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا» [ النساء: ۱۵۹ ] ”اور اہلِ کتاب میں سے کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہو گا۔“ اس معنی کی تائید دوسری قراء ت {”وَ إِنَّهُ لَعَلَمٌ لِلسَّاعَةِ “} سے بھی ہوتی ہے، یعنی وہ قیامت واقع ہونے کا ایک نشان اور دلیل ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا، {” وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ “} یعنی قیامت کی ایک نشانی عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام کا قیامت سے پہلے نکلنا ہے۔ ایسے ہی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنھما، ابوالعالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ اور ضحاک رحمھم اللہ وغیرہ سے مروی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث آئی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام کے عادل و منصف امام بن کر نازل ہونے کی خبر دی۔“ (ابن کثیر) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ، لَيُوْشِكَنَّ أَنْ يَّنْزِلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلاً، فَيَكْسِرَ الصَّلِيْبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيْرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَ يَفِيْضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ، حَتّٰی تَكُوْنَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا، ثُمَّ يَقُوْلُ أَبُوْ هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوْا إِنْ شِئْتُمْ: «‏‏‏‏وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا» ‏‏‏‏ (النساء:۱۵۹)] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسی ابن مریم علیہما السلام: ۳۴۴۸ ] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا قریب ہے کہ تم میں ابن مریم(علیھما السلام) انصاف کرنے والا حاکم بن کر نازل ہو، پھر وہ صلیب توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ ختم کرے گا اور مال عام ہو جائے گا، حتیٰ کہ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا، حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہو گا۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ”اور اہلِ کتاب میں کوئی نہیں مگر وہ اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔“ سورۂ نساء کی آیت (۱۵۸، ۱۵۹) کی تفسیر پر بھی نگاہ ڈال لیں۔ ➋ {” وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ “} کا مطلب یہ بھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا وجود قیامت قائم ہونے کی نشانی اور دلیل ہے، کیونکہ وہ عام دستور کے خلاف باپ کے بغیر پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کے اذن سے مُردوں کو زندہ کرتے تھے۔ یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت کا نشان ہیں کہ وہ قیامت برپا کرنے پر بھی یقینا قادر ہے۔ ➌ بعض مفسرین نے {” هٗ “} ضمیر سے مراد قرآن لیا ہے۔ ابن عاشور نے فرمایا: {” وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ “} کا عطف {” وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ “} پر ہے، یعنی یہ قرآن تمھارے لیے قیامت کا علم حاصل ہونے کا ذریعہ ہے، جس سے تمھیں اس کے قیام اور اس میں پیش آنے والے معاملات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔“ ابن کثیر نے قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمھم اللہ کا یہی قول بیان کیا ہے کہ {” هٗ “} ضمیر سے مراد قرآن ہے۔ ➍ {فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا …:} یعنی قرآن تمھیں قیامت کے وقوع سے آگاہ کرتا ہے، اس لیے تم اس میں ہر گز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو، یہ صراط مستقیم ہے جس کی میں تمھیں دعوت دیتا ہوں۔
وَ لَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۶۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ایسا نہ ہو شیطان تم کو اُس سے روک دے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور شیطان تمہیں روک نہ دے، یقیناً وه تمہارا صریح دشمن ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہرگز شیطان تمہیں نہ روک دے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(دیکھو خیال رکھنا کہیں) شیطان تمہیں اس سے روک نہ دے۔ بےشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کہیں شیطان تمھیں روک نہ دے، بے شک وہ تمھارے لیے کھلا دشمن ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے ‘۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔‏‏‏‏“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ’ وہ قیامت کی نشانی ہے ‘، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔

یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت «‏‏‏‏وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:159] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا ‘۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ یعنی ’ جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں ‘۔

حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لیے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم سے اور یہی مروی ہے۔ ابو لعالیہ، ابومالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ { قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں}۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 62) {وَ لَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ …:} یعنی دیکھنا شیطان اپنے ہتھکنڈوں کے ساتھ تمھیں قیامت پر ایمان سے روک نہ دے، کیونکہ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ اس نے کبھی اپنی عداوت کو چھپایا نہیں، بلکہ ڈنکے کی چوٹ آدم(علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو گمراہ کرتے رہنے کا اعلان کیا، اس لیے تم بھی اسے دشمن سمجھو اور اس سے خبردار رہو۔ (دیکھیے فاطر: ۶۔ کہف: ۵۰) معلوم ہوا جو شخص قیامت کے بارے میں شک کرتا ہے وہ شیطان کے ہتھے چڑھ چکا ہے۔ شیطان کی بہت بڑی دشمنی اور گمراہ کرنا یہ ہے کہ وہ کسی شخص کو قیامت پر یقین سے محروم کر دے۔ شیطان سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات پر سیدھا چلتا جائے، ادھر ادھر بالکل توجہ نہ دے۔ موسیٰ علیہ السلام کی طرف پہلی وحی میں اللہ تعالیٰ نے انھیں قیامت کے آنے سے آگاہ کرنے کے ساتھ ہی تاکید فرمائی کہ دیکھنا، وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے تمھیں اس پر ایمان سے روک نہ دیں، ورنہ انجام ہلاکت ہو گا۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۵، ۱۶)۔
وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۶۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جب عیسیٰؑ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ "میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے کو ﻻئے تو کہا۔ کہ میں تمہارے پاس حکمت ﻻیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ جن بعض چیزوں میں تم مختلف ہو، انہیں واضح کردوں، پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
احمد رضا خان بریلوی
اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب عیسیٰ(ع) کھلی نشانیاں (معجزے)لے کر آئے تو کہا میں تمہارے پاس حکمتلے کرایا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ باتیں واضح کردوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو سو تم اللہ سے (آپ(ع) کی نافرمانی سے) ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب عیسیٰ واضح دلیلیں لے کر آیا تو اس نے کہا بے شک میں تمھارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور تاکہ میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں واضح کر دوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو، سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ”بعض“ کا لفظ یہاں پر ”کل“ کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔ پھر فرمایا { جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہے }۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی ‘۔
63۔ 1 اس کے لئے دیکھئے آل عمران (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ ۝ۭ) 3۔ آل عمران:5) کا حاشیہ۔
(آیت 63) ➊ { وَ لَمَّا جَآءَ عِيْسٰى بِالْبَيِّنٰتِ: ”اَلْبَيِّنَاتُ“ ”بَيِّنَةٌ“} کی جمع ہے، واضح، روشن چیز۔ یہ محذوف موصوف کی صفت ہے جو معجزات بھی ہیں، دلائل بھی اور آیات بھی۔ یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام واضح اور روشن معجزات، توحیدِ الٰہی اور اپنی رسالت کے واضح دلائل اور اللہ تعالیٰ کی واضح اور روشن آیات لے کر آئے۔ ➋ { قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ: ”اَلْحِكْمَةُ“} محکم اور پکی بات، دانائی کی بات جو صحیح عقل کے عین مطابق ہو۔ ➌ { وَ لِاُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ …:} یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام بینات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے تو انھیں بتایا کہ میں تمھارے پاس اللہ کی شریعت لے کر آیا ہوں، جو نہایت محکم اور مضبوط ہے اور سراسر دانائی پر مشتمل ہے، تاکہ وہ تمھیں سکھاؤں اور تاکہ بعض باتیں جن میں تمھارے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے ان میں محکم اور پختہ بات کے ساتھ حق واضح کر دوں۔ بعض اس لیے فرمایا کہ پیغمبر کا کام دینی احکام کی رہنمائی ہے، دنیوی معاملات مثلاً تجارت، زراعت اور صنعت وغیرہ کو لوگوں کے تجربہ و عقل پر رہنے دیا گیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ ] [ مسلم، الفضائل، باب وجوب امتثال ما قالہ شرعا…: ۲۳۶۳ ] ”اپنا دنیاوی معاملہ تم بہتر جانتے ہو۔“ یا بعض اس لیے فرمایا کہ بعض کا فیصلہ آخری پیغمبر کے آنے پر چھوڑ دیا گیا۔ واضح رہے کہ بنی اسرائیل میں توحید، قیامت اور مختلف اشیاء کی حلت و حرمت کے بارے میں کئی طرح کا اختلاف پیدا ہو گیا تھا، مثلاً ان میں سے کچھ حق پر قائم تھے تو بعض عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہنے لگ گئے تھے۔ قیامت کے متعلق انھوں نے ایسے عقائد گھڑ لیے تھے جن سے اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہی کا معاملہ ہی ختم ہو جاتا تھا۔ مثلاً ان کا کہنا: «نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۱۸ ] ”ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔“ یعنی ہم بنی اسرائیل اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں (جس طرح مسلمانوں میں کئی سید بادشاہ اپنے بارے میں باور کرواتے ہیں) اور یہ کہ جنت ہمارا حق ہے، اگر جہنم میں گئے بھی تو چند روز کے لیے جائیں گے۔ کچھ چیزیں ان کی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے ان پر حرام کی گئی تھیں، کچھ ان کے احبار و رہبان نے حرام کر دی تھیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمھارے ان اختلافات میں حق واضح کرنے کے لیے آیا ہوں، اس لیے تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی اُسی کی تم عبادت کرو، یہی سیدھا راستہ ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
میرا اور تمہارا رب فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ پس تم سب اس کی عبادت کرو۔ راه راست (یہی) ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ میرا رب اور تمہارا رب تو اسے پوجو، یہ سیدھی راہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اللہ ہی میرا پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ تو تم اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا راستہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک اللہ ہی میرا رب اور تمھارا رب ہے، پس اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ”بعض“ کا لفظ یہاں پر ”کل“ کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔ پھر فرمایا { جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہے }۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 64) ➊ {اِنَّ اللّٰهَ هُوَ رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ:} یہ ہے وہ حکمت جس کے لیے تمام انبیاء مبعوث ہوئے۔ {” رَبِّيْ وَ رَبُّكُمْ “} خبر معرفہ ہونے کی وجہ سے حصر پیدا ہو رہا ہے اور ضمیر فصل {” هُوَ “} لانے سے تاکید مزید ہو گئی ہے کہ میرا رب اور تمھارا رب صرف اللہ ہے، کوئی فرشتہ یا پیغمبر یا کوئی اور رب نہیں۔ ➋ { فَاعْبُدُوْهُ:} فاء تعلیل کے لیے ہے، یعنی جب ”رب“ (پرورش کرنے والا) صرف اللہ تعالیٰ ہے تو عبادت بھی اسی کی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام کا یہ کلام نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ میں خود اللہ ہوں یا اللہ تعالیٰ کا بیٹا ہوں، اس لیے تم میری عبادت کرو، بلکہ ان کی دعوت وہی تھی جو تمام انبیاء(علیھم السلام) کی تھی اور جس کی طرف محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) تمھیں بلا رہے ہیں۔
فَاخۡتَلَفَ الۡاَحۡزَابُ مِنۡۢ بَیۡنِہِمۡ ۚ فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡ عَذَابِ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۶۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر (اُس کی اِس صاف تعلیم کے باوجود) گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر (بنی اسرائیل کی) جماعتوں نے آپس میں اختلاف کیا، پس ﻇالموں کے لیے خرابی ہے دکھ والے دن کی آفت سے
احمد رضا خان بریلوی
پھر وہ گروہ آپس میں مختلف ہوگئے تو ظالموں کی خرابی ہے ایک درد ناک دن کے عذاب سے
علامہ محمد حسین نجفی
پس مختلف گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا پس تباہی ظالموں کیلئے ایک بڑے دردناک دن (قیامت) کے عذاب سے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کئی گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا، سو ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے بڑی ہلاکت ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ”بعض“ کا لفظ یہاں پر ”کل“ کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔ پھر فرمایا { جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہے }۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی ‘۔
65۔ 1 اس سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں، یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ میں نقص نکالا اور انہیں نعوذ باللہ ولد الزنا قرار دیا، جب کہ عیسائیوں نے غلو سے کام لے کر انہیں معبود بنا لیا۔ یا مراد عیسائیوں ہی کے مختلف فرقے ہیں جو حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں ایک دوسرے سے شدید اختلاف رکھتے ہیں، ایک انہیں ابن اللہ، دوسرا اللہ اور ثالث ثلاثہ کہتا اور ایک فرقہ مسلمانوں ہی کی طرح انہیں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول تسلیم کرتا ہے۔
(آیت 65) ➊ { فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَيْنِهِمْ:} عیسیٰ علیہ السلام کے اس ارشاد کے باوجود بنی اسرائیل اختلاف سے باز نہیں آئے، بلکہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کے بارے میں مزید گروہوں میں بٹ گئے۔ بعض نے انھیں سچا رسول تسلیم کر لیا اور بعض نے انھیں جھوٹا اور مکار قرار دیا۔ پھر انکار کرنے والے کئی اس حد تک جا پہنچے کہ ان کی والدہ پر تہمت لگا کر انھیں ولد الزنا قرار دیا اور اس قدر مخالفت کی کہ اپنے گمان میں صلیب پر چڑھا کر دم لیا۔ اور ایمان لانے والے اگر کچھ راہِ راست پر رہے تو بعض نے انھیں اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بعض نے تین خداؤں میں سے ایک اور بعض نے اللہ ہی قرار دے لیا اور ہر فرقے نے ایسی ہٹ دھرمی سے کام لیا کہ بے شمار فرقے وجود میں آ کر ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے۔ {” مِنْۢ بَيْنِهِمْ “} کا مطلب یہ ہے کہ اختلاف کا باعث بیرونی نہیں تھا بلکہ وہ خود ہی تھے۔ ➋ { فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ ظَلَمُوْا مِنْ عَذَابِ يَوْمٍ اَلِيْمٍ:} ظلم کرنے والوں سے مراد وہ گروہ ہیں جنھوں نے انھیں جھوٹا قرار دیا اور وہ بھی جنھوں نے ان کی عقیدت میں غلو اختیار کرتے ہوئے انھیں اللہ کا بیٹا یا خود اللہ قرار دے کر شرک کا ارتکاب کیا۔ {” يَوْمٍ اَلِيْمٍ “} سے مراد قیامت کا دن ہے۔
ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۶۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آ جائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو؟
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ لوگ صرف قیامت کے منتظر ہیں کہ وه اچانک ان پر آپڑے اور انہیں خبر بھی نہ ہو
احمد رضا خان بریلوی
کاہے کے انتظار میں ہیں مگر قیامت کے کہ ان پر اچانک آجائے اور انہیں خبر نہ ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا یہ لوگ بس قیامت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے کہ انہیں خبر بھی نہ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
وہ قیامت کے سوا کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ ان پر اچانک آجائے اور وہ سوچتے بھی نہ ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت میں جنت کے حقدار ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی ‘۔ جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 29-العنكبوت: 25 ] ‏‏‏‏ ’ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے ‘۔

ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ’ تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا ‘۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ’ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو ‘، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ’ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو ‘، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ’ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا ‘۔۱؎ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ’ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ ‘۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ’ اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف ‘، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ’ وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے ‘، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔‏‏‏‏“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 66) ➊ {هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِيَهُمْ بَغْتَةً:} یہ اس سوال کا جواب ہے جو پچھلی آیت کے آخری جملے سے پیدا ہو سکتا ہے کہ ظالموں کے لیے ”ويل“ (ہلاکت) کا وہ دن کب ہو گا اور اس عذابِ الیم کی کیفیت کیا ہو گی؟ جواب یہ ہے کہ اس کا آنا یقینی ہے، جلدی آئے یا دیر سے، اس لیے اس کی تیاری کرو، اس بحث میں مت پڑو کہ وہ کب آئے گی۔ {” بَغْتَةً “} (اچانک) کا مطلب ہی یہ ہے کہ تمھیں اس کے آنے کا وقت معلوم نہیں ہو سکتا، کیونکہ جس کے آنے کا وقت معلوم ہو جائے وہ اچانک نہیں ہوتی۔ دیکھیے سورۂ اعراف (۱۸۷) اور سورۂ یس (۴۹، ۵۰)۔ ➋ { وَ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ:} یہاں ایک سوال ہے کہ {” بَغْتَةً “} (اچانک) کے لفظ کے بعد {” وَ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ “} کی کیا ضرورت ہے؟ جواب یہ ہے کہ بعض اوقات ایسی چیزیں بھی اچانک آ جاتی ہیں جن کے متعلق انسان سوچ رہا ہوتا ہے اور ایک جواب یہ ہے کہ یہ {” بَغْتَةً “} کی تاکید ہے۔
اَلۡاَخِلَّآءُ یَوۡمَئِذٍۭ بَعۡضُہُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿ؕ٪۶۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ دن جب آئے گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن (گہرے) دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگاروں کے
احمد رضا خان بریلوی
گہرے دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر پرہیزگار
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن سب دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے سوائے پرہیزگاروں کے۔
عبدالسلام بن محمد
سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت میں جنت کے حقدار ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی ‘۔ جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 29-العنكبوت: 25 ] ‏‏‏‏ ’ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے ‘۔

ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ’ تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا ‘۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ’ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو ‘، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ’ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو ‘، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ’ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا ‘۔۱؎ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ’ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ ‘۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ’ اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف ‘، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ’ وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے ‘، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔‏‏‏‏“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 67) ➊ {اَلْاَخِلَّآءُ يَوْمَىِٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ:} یہ اس دن کے عذابِ الیم کی ہولناکی کا کچھ بیان ہے۔ اس دن متقین کے سوا تمام دلی دوستوں کے ایک دوسرے کے دشمن ہو جانے کا خاص طور پر ذکر کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ مشرکین نے دنیا میں ایک دوسرے کی دوستی ہی کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمنی میں ایکا کیا ہوا تھا اور باہمی گٹھ جوڑ ہی کی وجہ سے شرک پر جمے ہوئے تھے۔ یہی دوستی قیامت کے دن دشمنی میں بدل جائے گی اور ہر شخص دوسرے کو اپنی بربادی کا باعث قرار دے گا اور کہے گا: «‏‏‏‏يٰوَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا» ‏‏‏‏ [ الفرقان: ۲۸ ] ”ہائے میری بربادی! کاش کہ میں فلاں کو دلی دوست نہ بناتا۔“ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم سے خطاب نقل فرمایا: «وَ قَالَ اِنَّمَا اتَّخَذْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُمْ بِبَعْضٍ وَّ يَلْعَنُ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَّ مَاْوٰىكُمُ النَّارُ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ» ‏‏‏‏ [ العنکبوت: ۲۵ ] ”اور اس نے کہا بات یہی ہے کہ تم نے اللہ کے سوا بت بنائے ہیں، دنیا کی زندگی میں آپس کی دوستی کی وجہ سے، پھر قیامت کے دن تم میں سے بعض بعض کا انکار کرے گا اور تم میں سے بعض بعض پر لعنت کرے گا اور تمھارا ٹھکانا آگ ہی ہے اور تمھارے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں۔“ ➋ { اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ:} متقین کی دوستی اس دن بھی قائم رہے گی، کیونکہ اس کا باعث اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی چیز ہے۔ دوسرے تمام دوستوں کی دوستی کا باعث کوئی نہ کوئی دنیوی مفاد ہوتا ہے جس کے ختم ہونے کے ساتھ دوستی بھی ختم ہو جائے گی بلکہ دشمنی میں بدل جائے گی، کیونکہ وہ دوستی ہی اس دن کے عذاب کا باعث بنی۔
یٰعِبَادِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚ۶۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس روز اُن لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع فرمان بن کر رہے تھے
مولانا محمد جوناگڑھی
میرے بندو! آج تو تم پر کوئی خوف (و ہراس) ہے اور نہ تم (بد دل اور) غمزده ہوگے
احمد رضا خان بریلوی
ان سے فرمایا جائے گا اے میرے بندو آج نہ تم پر خوف نہ تم کو غم ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
(خدا ان سے فرمائے گا) اے میرے بندو! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ ہی تم غمگین ہو گے۔
عبدالسلام بن محمد
اے میرے بندو ! آج نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم غمگین ہو گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت میں جنت کے حقدار ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی ‘۔ جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 29-العنكبوت: 25 ] ‏‏‏‏ ’ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے ‘۔

ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ’ تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا ‘۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ’ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو ‘، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ’ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو ‘، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ’ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا ‘۔۱؎ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ’ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ ‘۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ’ اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف ‘، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ’ وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے ‘، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔‏‏‏‏“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
68۔ 2 یہ قیامت والے دن ان متقین کو کہا جائے گا جو دنیا میں صرف اللہ کی رضا کے لئے ایک دوسرے سے محبت رکھتے تھے۔ جیسا کہ حدیث میں بھی اس کی فضیلت ہے۔ بلکہ اللہ کے لئے بغض اور اللہ کے لئے محبت کو کمال ایمان کی بنیاد بتلایا گیا ہے۔
(آیت 68) {يٰعِبَادِ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ …:} قیامت کے دن باہمی محبت کرنے والے متقین کو ملنے والی نعمتوں کا ذکر ہے، جن میں سے سب سے پہلی اللہ تعالیٰ کا ”اے میرے بندو!“ کہہ کر محبت سے خطاب ہے، پھر خوف اور غم سے مکمل نجات ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۶۲)۔
اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا مُسۡلِمِیۡنَ ﴿ۚ۶۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کہا جائے گا کہ "اے میرے بندو، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
جو ہماری آیتوں پر ایمان ﻻئے اور تھے بھی وه (فرماں بردار) مسلمان
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مسلمان تھے،
علامہ محمد حسین نجفی
(یہ وہ لوگ ہیں) جو ہماری آیتوں پر ایمان لائے اور مطیع و فرمانبردار بن کر رہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو ہماری آیات پر ایمان لائے اور وہ فرماں بردار تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت میں جنت کے حقدار ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی ‘۔ جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 29-العنكبوت: 25 ] ‏‏‏‏ ’ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے ‘۔

ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ’ تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا ‘۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ’ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو ‘، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ’ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو ‘، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ’ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا ‘۔۱؎ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ’ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ ‘۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ’ اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف ‘، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ’ وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے ‘، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔‏‏‏‏“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 69){ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاٰيٰتِنَا …:} اس میں ان لوگوں کی چند صفات بیان فرمائیں جو قیامت کے دن خوف اور غم سے آزاد ہوں گے۔ آیت کے الفاظ سے یہاں ایمان اور اسلام کا الگ الگ ہونا ظاہر ہے۔ (دیکھیے حجرات: ۱۴) البتہ جب کہیں اکیلے ایمان یا اسلام کا ذکر آئے تو دونوں ایک ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ ہماری آیات پر یقین کے ساتھ ساتھ عملی طور پر بھی پوری طرح تابع فرمان تھے۔
اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ اَنۡتُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ تُحۡبَرُوۡنَ ﴿۷۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
داخل ہو جاؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں، تمہیں خوش کر دیا جائے گا"
مولانا محمد جوناگڑھی
تم اور تمہاری بیویاں ہشاش بشاش (راضی خوشی) جنت میں چلے جاؤ
احمد رضا خان بریلوی
داخل ہو جنت میں تم اور تمہاری بیبیاں اور تمہاری خاطریں ہوتیں
علامہ محمد حسین نجفی
(حکم ہوگا) تم اور تمہاری بیویاں جنت میں داخل ہو جاؤ تم خوش کئے جاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
جنت میں داخل ہو جاؤ تم اور تمھاری بیویاں، تم خوش کیے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت میں جنت کے حقدار ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ دیکھو تو یہ مشرک قیامت کا انتظار کر رہے ہیں جو محض بےسود ہے اس لیے کہ اس کے آنے کا کسی کو صحیح وقت تو معلوم نہیں وہ اچانک یونہی بے خبری کی حالت میں آ جائے گی اس وقت گو نادم ہوں لیکن اس سے کیا فائدہ؟ یہ اسے ناممکن سمجھے ہوئے ہیں لیکن وہ نہ صرف ممکن بلکہ یقیناً آنے ہی والی ہے اور اس وقت کا یا اس کے بعد کا کوئی عمل کسی کو کچھ نفع نہ دے گا اس دن تو جن کی دوستیاں غیر اللہ کے لیے تھیں وہ سب عدوات سے بدل جائیں گی یہاں جو دوستی اللہ کے واسطے تھی وہ باقی اور دائم رہے گی ‘۔ جیسے خلیل الرحمن علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّـهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [ 29-العنكبوت: 25 ] ‏‏‏‏ ’ تم نے بتوں سے جو دوستیاں کر رکھی ہیں یہ صرف دنیا کے رہنے تک ہی ہیں قیامت کے دن تو ایک دوسرے کا نہ صرف انکار کریں گے بلکہ ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے اور تمہارا ٹھکانہ جہنم ہو گا اور کوئی نہ ہو گا جو تمہاری امداد پر آئے ‘۔

ابن ابی حاتم میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ”دو ایماندار جو آپس میں دوست ہوتے ہیں جب ان میں سے ایک کا انتقال ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جنت کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اپنے دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے اے اللہ فلاں شخص میرا دلی دوست تھا جو مجھے تیرے اور تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا تھا بھلائی کی ہدایت کرتا تھا برائی سے روکتا تھا اور مجھے یقین دلایا کرتا تھا کہ ایک روز اللہ سے ملنا ہے، پس اے باری تعالیٰ تو اسے راہ حق پر ثابت قدر رکھ یہاں تک کہ اسے بھی تو وہ دکھائے جو تو نے مجھے دکھایا ہے اور اس سے بھی اسی طرح راضی ہو جائے جس طرح مجھ سے راضی ہوا ہے۔ اللہ کی طرف سے جواب ملتا ہے ’ تو ٹھنڈے کلیجوں چلا جا اس کے لیے جو کچھ میں نے تیار کیا ہے اگر تو اسے دیکھ لیتا تو تو بہت ہنستا اور بالکل آزردہ نہ ہوتا ‘۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں ملتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ’ تم آپس میں ایک دوسرے کا تعلق بیان کرو ‘، پس ہر ایک دوسرے سے کہتا ہے کہ یہ میرا بڑا اچھا بھائی تھا اور نہایت نیک ساتھی تھا اور بہت بہتر دوست تھا۔ دو کافر جو آپس میں ایک دوسرے کے دوست تھے جب ان میں سے ایک مرتا ہے اور جہنم کی خبر دیا جاتا ہے تو اسے بھی اپنا دوست یاد آتا ہے اور کہتا ہے باری تعالیٰ فلاں شخص میرا دوست تھا تیری اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی مجھے تعلیم دیتا تھا برائیوں کی رغبت دلاتا تھا بھلائیوں سے روکتا تھا اور تیری ملاقات نہ ہونے کا مجھے یقین دلاتا تھا پس تو اسے میرے بعد ہدایت نہ کرتا کہ وہ بھی وہی دیکھے جو میں نے دیکھا اور اس پر تو اسی طرح ناراض ہو جس طرح مجھ پر غضب ناک ہوا۔ پھر جب دوسرا دوست مرتا ہے اور ان کی روحیں جمع کی جاتی ہیں تو کہا جاتا ہے کہ ’ تم دونوں ایک دوسرے کے اوصاف بیان کرو ‘، تو ہر ایک کہتا ہے تو بڑا برا بھائی تھا اور بدترین دوست تھا۔‏‏‏‏“

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اور مجاہد، قتادہ رحمہ اللہ علیہم فرماتے ہیں ”ہر دوستی قیامت کے دن دشمنی سے بدل جائے گی مگر پرہیزگاروں کی دوستی۔ ابن عساکر میں ہے کہ جن دو شخصوں نے اللہ کے لیے آپس میں دوستانہ کر رکھا ہے خواہ ایک مشرق میں ہو اور دوسرا مغرب میں لیکن قیامت کے دن اللہ انہیں جمع کر کے فرمائے گا کہ ’ یہ جسے تو میری وجہ سے چاہتا تھا ‘۔۱؎ [مختصر تاریخ دمشق:79/27:اسنادہ ضعیف] ‏‏‏‏

پھر فرمایا کہ ان متقیوں سے روز قیامت میں کہا جائے گا کہ ’ تم خوف و ہراس سے دور ہو۔ ہر طرح امن چین سے رہو سہو یہ ہے تمہارے ایمان و اسلام کا بدلہ ‘۔ یعنی باطن میں یقین و اعتقاد کامل۔ اور ظاہر میں شریعت پر عمل۔ معتمر بن سلیمان رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ”قیامت کے دن جب کہ لوگ اپنی اپنی قبروں سے کھڑے کئے جائیں گے۔ تو سب کے سب گھبراہٹ اور بے چینی میں ہوں گے اس وقت ایک منادی ندا کرے گا کہ ’ اے میرے بندو! آج کے دن نہ تم پر خوشہ ہے نہ خوف ‘، تو تمام کے تمام اسے عام سمجھ کر خوش ہو جائیں گے وہیں منادی کہے گا ’ وہ لوگ جو دل سے ایمان لائے تھے اور جسم سے نیک کام کئے تھے ‘، اس وقت سوائے سچے پکے مسلمانوں کے باقی سب مایوس ہو جائیں گے پھر ان سے کہا جائے گا کہ تم نعمت وسعادت کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ۔‏‏‏‏“ سورۃ الروم میں اس کی تفسیر گذر چکی ہے۔
70۔ 1 اَ زْوَاجُکُمْ سے بعض نے مومن بیویاں، بعض نے مومن ساتھی اور بعض نے جنت میں ملنے والی حورعین بیویاں مراد لی ہیں۔ یہ سارے ہی مفہوم صحیح ہیں کیونکہ جنت میں یہ سب کچھ ہی ہوگا۔ تُحْبَرُونَ حَبْر سے ماخوذ ہے یعنی وہ فرحت و مسرت جو انہیں جنت کی نعمت و عزت کی وجہ سے ہوگی۔
(آیت 70) ➊ { اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ اَنْتُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ:اَزْوَاجُكُمْ “} کی تفسیر میں دو وجہیں ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جو دنیا میں ان کے ہم مشرب اور ساتھی رہے۔ دوسری یہ کہ مراد ان کی بیویاں ہیں جنھوں نے نیک اعمال میں ان کا ساتھ دیا تھا۔ دونوں بیک وقت بھی مراد ہو سکتے ہیں، مگر بیویاں مراد لینا زیادہ قریب ہے، کیونکہ قرآن مجید میں ان کا بار بار ذکر ہے اور ان کے ساتھ مل کر جانے میں جو لذت اور خوشی ہے وہ دوسرے ہم مشرب ساتھیوں کے ساتھ نہیں۔ دیکھیے سورۂ یس (۵۵، ۵۶)، دخان (۵۴)، واقعہ (۲۲، ۲۳)، رحمان (۷۰ تا ۷۲)، صافات (۴۸) اور سورۂ ص (۵۲)۔ ➋ { تُحْبَرُوْنَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ روم کی آیت (۱۵) کی تفسیر۔
یُطَافُ عَلَیۡہِمۡ بِصِحَافٍ مِّنۡ ذَہَبٍ وَّ اَکۡوَابٍ ۚ وَ فِیۡہَا مَا تَشۡتَہِیۡہِ الۡاَنۡفُسُ وَ تَلَذُّ الۡاَعۡیُنُ ۚ وَ اَنۡتُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚ۷۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہر من بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیز وہاں موجود ہو گی ان سے کہا جائے گا، "تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے چاروں طرف سے سونے کی رکابیاں اور سونے کے گلاسوں کا دور چلایا جائے گا، ان کے جی جس چیز کی خواہش کریں اور جس سے ان کی آنکھیں لذت پائیں، سب وہاں ہوگا اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے
احمد رضا خان بریلوی
ان پر دورہ ہوگا سونے کے پیالوں اور جاموں کا اور اس میں جو جی چاہے اور جس سے آنکھ کو لذت پہنچے اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے،
علامہ محمد حسین نجفی
ان پر سو نے کے تھال اور جام گردش میں ہوں گے اور وہاں ہر وہ چیز موجود ہوگی جو دل چاہیں گے اور آنکھوں کو لذت ملے گی اور تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے گرد سونے کے تھال اور پیالے لے کر پھرا جائے گا اور اس میں وہ چیز ہو گی جس کی دل خواہش کریں گے اور آنکھیں لذت پائیں گی اورتم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لیے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے۔ «تَشْـتَهیْـهِ الْاَنْفُسُ» اور «تَشْتَهِی الْاَنْفُسُ» دونوں قرأتیں ہیں۔ یعنی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہو گی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہو گا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہو جائے اور کچھ نہ گھٹے }۔ ۱؎ [تفسیر عبدالرزاق:2785:مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ { جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چنانچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالاخانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہو گا اور اس کے اوپر ساتویں ہو گی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہو گا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہو گی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آ سکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے }۔ ۱؎ [مسند احمد:537/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ ’ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے ‘۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جا سکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہو گا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہو گا۔

ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے «أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ» ۱؎ [39-الزمر:57] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہو جاتا ‘۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ ’ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا ‘ }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہو گا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہو گا } یہی فرمان باری ہے ’ اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو ‘۔ کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو ‘۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضا مندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔
71۔ 1 مطلب ہے اہل جنت کو جو کھانے ملیں گے، وہ سونے کی رکابیوں میں ہوں گے (فتح القدیر)
(آیت 71) ➊ { يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِصِحَافٍ مِّنْ ذَهَبٍ وَّ اَكْوَابٍ: ”صِحَافٌ“ ”صَحْفَةٌ“} کی جمع ہے، تھال جو بہت بڑا نہ ہو، رکابیاں۔ {” اَكْوَابٍ”كُوْبٌ“} کی جمع ہے، پینے کا برتن جس کی دستی نہ ہو، ایسے برتن دستی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ صاف ہوتے ہیں۔ تھالوں میں طرح طرح کے کھانے اور میوے ہوں گے اور پیالوں میں طرح طرح کی پینے کی چیزیں۔ بعض مفسرین نے فرمایا: {”صِحَافٌ“} جمع کثرت ہے اور {” اَكْوَابٍ “} جمع قلت، کیونکہ کھانے کے برتن پینے کے برتنوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔ ➋ { وَ فِيْهَا مَا تَشْتَهِيْهِ الْاَنْفُسُ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حم سجدہ (۳۱) اور سورۂ سجدہ (۱۷)۔ ➌ { وَ تَلَذُّ الْاَعْيُنُ:} آنکھوں کی لذت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار جنت کی تمام نعمتوں سے بڑی نعمت ہے۔
وَ تِلۡکَ الۡجَنَّۃُ الَّتِیۡۤ اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۷۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم اِس جنت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جو تم دنیا میں کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه بہشت ہے کہ تم اپنے اعمال کے بدلے اس کے وارث بنائے گئے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کیے گئے اپنے اعمال سے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہواپنے ان اعمال کے صلہ میں جو تم کرتے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہی وہ جنت ہے جس کے تم وارث بنائے گئے ہو، اس کی وجہ سے جو تم عمل کرتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لیے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے۔ «تَشْـتَهیْـهِ الْاَنْفُسُ» اور «تَشْتَهِی الْاَنْفُسُ» دونوں قرأتیں ہیں۔ یعنی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہو گی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہو گا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہو جائے اور کچھ نہ گھٹے }۔ ۱؎ [تفسیر عبدالرزاق:2785:مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ { جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چنانچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالاخانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہو گا اور اس کے اوپر ساتویں ہو گی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہو گا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہو گی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آ سکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے }۔ ۱؎ [مسند احمد:537/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ ’ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے ‘۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جا سکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہو گا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہو گا۔

ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے «أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ» ۱؎ [39-الزمر:57] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہو جاتا ‘۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ ’ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا ‘ }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہو گا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہو گا } یہی فرمان باری ہے ’ اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو ‘۔ کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو ‘۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضا مندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 72) {وَ تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِيْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا …:} اس آیت کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۴۳)، مومنون (۱۰، ۱۱) اور سورۂ مریم (۶۳)۔
لَکُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیۡرَۃٌ مِّنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے"
مولانا محمد جوناگڑھی
یہاں تمہارے لیے بکثرت میوے ہیں جنہیں تم کھاتے رہو گے
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے لیے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہیں جن سے تم کھاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے لیے اس میں بہت سے میوے ہیں، جن سے تم کھاتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جنت کی نعمتیں ٭٭

چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لیے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے۔ «تَشْـتَهیْـهِ الْاَنْفُسُ» اور «تَشْتَهِی الْاَنْفُسُ» دونوں قرأتیں ہیں۔ یعنی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہو گی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہو گا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہو جائے اور کچھ نہ گھٹے }۔ ۱؎ [تفسیر عبدالرزاق:2785:مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ { جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چنانچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالاخانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہو گا اور اس کے اوپر ساتویں ہو گی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہو گا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہو گی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آ سکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے }۔ ۱؎ [مسند احمد:537/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ ’ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے ‘۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جا سکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہو گا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہو گا۔

ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے «أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ» ۱؎ [39-الزمر:57] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہو جاتا ‘۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ ’ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا ‘ }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہو گا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہو گا } یہی فرمان باری ہے ’ اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو ‘۔ کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو ‘۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضا مندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 73){ لَكُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ:} انسان کی مطلوبہ چیزوں یعنی کھانے پینے، نکاح اور آرام و آسائش وغیرہ میں سب سے عام ضرورت اور طلب کھانے کی چیزوں کی ہوتی ہے، جن میں پھلوں کو خاص مقام حاصل ہے، کیونکہ لذت میں انھیں بہت برتری حاصل ہے۔ {” فَاكِهَةٌ “} کے لفظ ہی میں لذت کا مفہوم شامل ہے۔ دنیا میں فواکہ جتنے بھی ہوں کم ہیں، جبکہ آخرت میں مسلمانوں کے لیے فواکہ کثیر تعداد میں ہوں گے، جو اتنے وافر ہوں گے کہ وہ ان میں سے کچھ ہی کھا سکیں گے، یعنی {” مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ “} اور وہ کبھی ختم نہیں ہوں گے، فرمایا: «‏‏‏‏لَا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍ» ‏‏‏‏ [ الواقعۃ: ۳۳ ] ”جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہو گی۔“
اِنَّ الۡمُجۡرِمِیۡنَ فِیۡ عَذَابِ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ ﴿ۚۖ۷۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
رہے مجرمین، تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک گنہگار لوگ عذاب دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک مجرم جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک مجرم لوگ دوزخ کے عذاب میں ہمیشہ رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک مجر م لوگ جہنم کے عذاب میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭

اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے ‘۔

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:36] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی‘۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [87-الأعلى:-13-11] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا ‘ }۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ’ نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے ‘۔ پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا ‘۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 74){ اِنَّ الْمُجْرِمِيْنَ فِيْ عَذَابِ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَ:} ایمان والوں کا حسنِ انجام بیان کرنے کے بعد کفار کا انجام بد بیان فرمایا۔ یہاں {” الْمُجْرِمِيْنَ “} سے مراد کفار ہیں، کیونکہ ان کا ذکر {” مُسْلِمِيْنَ “} کے مقابلے میں آیا ہے اور جہنم میں ہمیشہ رہنے والے کفار ہی ہیں۔ سورۂ مطففین میں بھی کفار کے لیے {” الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا “} کا لفظ استعمال ہوا ہے، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الَّذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يَضْحَكُوْنَ» ‏‏‏‏ [ المطففین: ۲۹ ] ”بے شک وہ لوگ جنھوں نے جرم کیے، ان لوگوں پر جو ایمان لائے، ہنسا کرتے تھے۔“
لَا یُفَتَّرُ عَنۡہُمۡ وَ ہُمۡ فِیۡہِ مُبۡلِسُوۡنَ ﴿ۚ۷۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کبھی اُن کے عذاب میں کمی نہ ہو گی، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ عذاب کبھی بھی ان سے ہلکا نہ کیا جائے گا اور وه اسی میں مایوس پڑے رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
وہ کبھی ان پر سے ہلکا نہ پڑے گا اور وہ اس میں بے آ س رہیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ عذاب کبھی ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس ہو کر پڑے رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ ان سے ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اسی میں نا امید ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭

اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے ‘۔

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:36] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی‘۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [87-الأعلى:-13-11] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا ‘ }۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ’ نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے ‘۔ پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا ‘۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں ‘۔
75۔ 1 یعنی نجات سے مایوس۔
(آیت 75) ➊ { لَا يُفَتَّرُ عَنْهُمْ: ”فُتُوْرٌ“} کسی چیز میں وقفہ یا ٹھہراؤ آنا، یا اس کی قوت یا رفتار میں آہستہ آہستہ کمی آتے جانا، جیسے کہا جاتا ہے: {”فَتَرَتِ الْحُمّٰي“} ”بخار میں کمی یا وقفہ ا ٓ گیا۔“ {” لَا يُفَتَّرُ “} (باب تفعیل) کا مطلب یہ ہے کہ ان کے عذاب میں کسی قسم کا وقفہ یا کمی نہیں آنے دی جائے گی۔ ➋ { وَ هُمْ فِيْهِ مُبْلِسُوْنَ:} مصیبت سے نجات کی امید بھی کچھ نہ کچھ راحت کا باعث ہوتی ہے، یہ کہہ کر امید کی بھی نفی فرما دی کہ وہ اسی جہنم میں مایوس اور ناامید ہو کر رہنے والے ہیں۔
وَ مَا ظَلَمۡنٰہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡا ہُمُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۷۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے ان پر ﻇلم نہیں کیا بلکہ یہ خود ہی ﻇالم تھے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہ کیا، ہاں وہ خود ہی ظالم تھے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا لیکن وہ خود (اپنے اوپر) ظلم کرنے والے تھے۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا اور لیکن وہ خود ہی ظالم تھے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭

اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے ‘۔

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:36] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی‘۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [87-الأعلى:-13-11] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا ‘ }۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ’ نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے ‘۔ پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا ‘۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 76) {وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْا …:} یہاں خیال ہو سکتا تھا کہ اتنی بڑی اور دائمی سزا تو ظلم ہے، اس لیے فرمایا کہ ہم نے ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا، کیونکہ یہ محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم کرے، بلکہ وہ خود ہی ظلم کرنے والے تھے، حتیٰ کہ ظالم ہونا ان کی صفت اور پہچان بن گیا، کیونکہ ظلم ان کا دائمی عمل اور ان کی عادت اور جبلت بن چکا تھا، ان کی نیت اور ارادہ یہی تھا کہ جب تک رہیں گے اسی پر قائم رہیں گے، اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ کبھی نہ مرتے اور ہمیشہ ظلم و شرک پر جمے رہتے۔ چونکہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اس لیے انھیں ہمیشہ ظلم کی نیت پر ہمیشہ کا عذاب دیا گیا اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ظالم تھے۔
وَ نَادَوۡا یٰمٰلِکُ لِیَقۡضِ عَلَیۡنَا رَبُّکَ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ مّٰکِثُوۡنَ ﴿۷۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ پکاریں گے، "اے مالک، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے" وہ جواب دے گا، "تم یوں ہی پڑے رہو گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے، وه کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ پکاریں گے اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کرچکے وہ فرمائے گا تمہیں تو ٹھہرنا
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک! تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے (تو بہتر) وہ کہے گا کہ تم یوں ہی پڑے رہو گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ پکاریں گے اے مالک! تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کردے۔ وہ کہے گا بے شک تم (یہیں) ٹھہرنے والے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭

اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے ‘۔

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:36] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی‘۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [87-الأعلى:-13-11] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا ‘ }۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ’ نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے ‘۔ پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا ‘۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں ‘۔
77۔ 1 مالک، دروغہ جہنم کا نام ہے۔ 77۔ 2 یعنی ہمیں موت ہی دے دے تاکہ عذاب سے جان چھوٹ جائے۔ 77۔ 3 یعنی وہاں موت کہاں؟ لیکن یہ عذاب کی زندگی موت سے بھی بدتر ہوگی، تاہم اس کے بغیر بھی چارہ نہیں ہوگا۔
(آیت 77) {وَ نَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ …: ” قَضٰي عَلَيْهِ “} کا معنی کام تمام کرنا، یعنی موت دے دینا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ» [ القصص: ۱۵ ] ”تو موسیٰ نے اسے گھونسا مارا تو اس کا کام تمام کر دیا۔“ {”مالك“} جہنم کے خازن (دربان) فرشتے کا نام ہے۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث میں ہے کہ خواب میں جبریل اور میکائیل علیھما السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کروایا اور بعد میں ان کی حقیقت بیان کی۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلٰی رَجُلٍ كَرِيْهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلاً مَرْآةً، فَإِذَا عِنْدَهُ نَارٌ يَحُشُّهَا وَيَسْعٰي حَوْلَهَا، قَالَ قُلْتُ لَهُمَا مَا هٰذَا؟ ] ”پھر ہم آگے بڑھے تو ایک آدمی کے پاس پہنچے جو دیکھنے میں بہت بد صورت تھا، اتنا جتنا کہ کوئی دیکھنے میں زیادہ سے زیادہ بدصورت ہو سکتا ہے۔ اس کے پاس آگ ہے، وہ اسے بھڑکا رہا ہے اور اس کے اردگرد دوڑ رہا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ حدیث کے آخر میں جب فرشتے نے سب چیزوں کے متعلق بتایا تو کہا: [ وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيْهُ الْمَرْآةِ الَّذِيْ عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا وَيَسْعٰی حَوْلَهَا فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ ] [ بخاري، التعبیر، باب تعبیر الرؤیا بعد صلاۃ الصبح: ۷۰۴۷ ] ”آگ کے پاس دیکھنے میں جو بدصورت آدمی تم نے دیکھا جو اسے بھڑکا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑ رہا تھا وہ جہنم کا خازن مالک ہے۔“ کفار جہنم کے فرشتوں کو اللہ سے ان کے عذاب میں کچھ نہ کچھ تخفیف کرنے کی دعا کے لیے کہیں گے۔ جب اس سے ناامید ہوں گے تو جہنم کے خازن مالک کو آواز دیں گے کہ اپنے رب سے دعا کر کہ ہمیں موت دے دے۔ وہ کہے گا، تم یہیں رہنے والے ہو۔ غرض وہ اس عذاب سے کسی طرح نجات نہیں پائیں گے۔ دوسری جگہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ» [ فاطر: ۳۶ ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، نہ ان کا کام تمام کیا جائے گا کہ وہ مر جائیں اور نہ ان سے اس کا کچھ عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ایسے ہی ہر ناشکرے کو بدلا دیا کرتے ہیں۔“
لَقَدۡ جِئۡنٰکُمۡ بِالۡحَقِّ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَکُمۡ لِلۡحَقِّ کٰرِہُوۡنَ ﴿۷۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا"
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم تو تمہارے پاس حق لے آئے لیکن تم میں سے اکثر لوگ حق سے نفرت رکھنے والے تھے؟
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم تمہارے پاس حق لائے مگر تم میں اکثر کو حق ناگوار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم تمہارے پاس (دین) حقلے کر آئے مگر تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرتے رہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ ہم تو تمھارے پاس حق لے کر آئے ہیں اور لیکن تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭

اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے ‘۔

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:36] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی‘۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [87-الأعلى:-13-11] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا ‘ }۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ’ نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے ‘۔ پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا ‘۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں ‘۔
78۔ 1 یہ اللہ کا ارشاد ہے یا فرشتوں کا ہی قول بطور نیابت الٰہی ہے۔ جیسے کوئی افسر مجاز ' ہم ' کا استعمال حکومت کے مفہوم میں کرتا ہے۔ اکثر سے مراد کل ہے یعنی سارے ہی جہنمی، یا پھر اکثر سے مراد رؤسا اور لیڈر ہیں۔ باقی جہنمی ان کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے اس میں شامل ہونگے۔ حق سے مراد، اللہ کا وہ دین اور پیغام ہے جو وہ پیغمبروں کے ذریعے سے ارسال کرتا رہا۔ آخری حق قرآن اور دین اسلام ہے۔
(آیت 78) {لَقَدْ جِئْنٰكُمْ بِالْحَقِّ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَكُمْ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا خطاب اہلِ جہنم سے بھی مراد ہو سکتا ہے اور دنیا میں قریش اور دوسرے کفار سے بھی۔ پہلی صورت میں جو فرمایا کہ تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے تھے تو اس لیے کہ ان کے قلیل لوگ حق کو ناپسند کرنے والے نہیں تھے، وہ تو اپنے اکابر و سادات کی اندھا دھند پیروی کرنے کی وجہ سے کفر پر قائم رہنے والے تھے۔ اکثر وہی تھے جو حق کو پہچانتے تھے مگر اپنے مفادات اور خواہشات سے متصادم ہونے کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے تھے۔ دوسری صورت میں دنیا میں کفار کا حال بیان فرمایا کہ ان کے اکثر حق آنے کے بعد اپنی خواہشات کے خلاف ہونے کی وجہ سے اسے ناپسند کرنے والے ہوتے ہیں۔ رہے کم لوگ تو وہ پسند یا ناپسند کی وجہ سے نہیں بلکہ تقلید کی وجہ سے کفر پر جمے رہتے ہیں۔
اَمۡ اَبۡرَمُوۡۤا اَمۡرًا فَاِنَّا مُبۡرِمُوۡنَ ﴿ۚ۷۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اِن لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ اچھا تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کیے لیتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہوں نے کسی کام کا پختہ اراده کرلیا ہے تو یقین مانو کہ ہم بھی پختہ کام کرنے والے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا انہوں نے اپنے خیال میں کوئی کام پکا کرلیا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انہوں نے کوئی قطعی فیصلہ کر لیا ہے تو ہم بھی کوئی فیصلہ کر لیتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا انھوں نے کسی کام کی پختہ تدبیر کر لی ہے؟ تو بے شک ہم بھی پختہ تدبیر کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭

اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے ‘۔

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:36] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی‘۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [87-الأعلى:-13-11] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا ‘ }۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ’ نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے ‘۔ پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا ‘۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں ‘۔
79۔ 1 یعنی ان جہنمیوں نے حق کو ناپسند ہی نہیں کیا بلکہ یہ اس کے خلاف منظم تدبیریں اور سازشیں کرتے رہے۔ جس کے مقابلے میں پھر ہم نے بھی اپنی تدبیر کی اور ہم سے زیادہ مضبوط تدبیر کس کی ہوسکتی ہے؟
(آیت 79){ اَمْ اَبْرَمُوْۤا اَمْرًا فَاِنَّا مُبْرِمُوْنَ: ”إِبْرَامٌ“} کا معنی کسی چیز کو پختہ اور مضبوط کرنا ہے۔ اصل میں یہ رسی کو مضبوطی کے ساتھ بٹنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے: {”أَبْرَمَ فُلَانٌ الْحَبْلَ“} ”فلاں نے رسی کو خوب مضبوط کیا۔“ یعنی یا انھوں نے کسی کام کی پختہ تدبیر اور اس کا پکا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سے مراد کفار کی خفیہ مجلسوں میں ان کے طے کردہ فیصلے ہیں جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کرتے تھے، حتیٰ کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قید یا قتل کرنے یا مکہ سے نکالنے کا پکا فیصلہ کر لیا۔ (دیکھیے انفال: ۳۰) فرمایا، انھوں نے ایسے کسی کام کا پختہ ارادہ کر لیا ہے تو ہم بھی پکی تدیبر کرنے والے ہیں۔ پھر سب نے دیکھا کہ وہ کس طرح ناکام و نامراد ہوئے اور اللہ کا دین کس طرح غالب رہا۔
اَمۡ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّا لَا نَسۡمَعُ سِرَّہُمۡ وَ نَجۡوٰىہُمۡ ؕ بَلٰی وَ رُسُلُنَا لَدَیۡہِمۡ یَکۡتُبُوۡنَ ﴿۸۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا اِنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم اِن کی راز کی باتیں اور اِن کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں؟ ہم سب کچھ سن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے اِن کے پاس ہی لکھ رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ان کا یہ خیال ہے کہ ہم ان کی پوشیده باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے، (یقیناً ہم برابر سن رہے ہیں) بلکہ ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو ہم اپنا کام پکا کرنے والے ہیں کیا اس گھمنڈ میں ہیں کہ ہم ان کی آہستہ بات اور ان کی مشورت نہیں سنتے، ہاں کیوں نہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کے رازوں اور ان کی سرگوشیوں کو نہیں سنتے؟ ہاں (ہم سنتے ہیں) اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھتے بھی جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کا راز اور ان کی سرگوشی نہیں سنتے، کیوں نہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس لکھتے رہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭

اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے ‘۔

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:36] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی‘۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [87-الأعلى:-13-11] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا ‘ }۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ’ نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے ‘۔ پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا ‘۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں ‘۔
80۔ 1 یعنی جو پوشیدہ باتیں وہ اپنے نفسوں میں چھپائے پھرتے ہیں یا خلوت میں آہستگی سے کرتے ہیں یا آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں، کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم وہ نہیں سنتے؟ 80۔ 2 یعنی یقینا سنتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے الگ ان کی ساری باتیں نوٹ کرتے ہیں۔
(آیت 80) ➊ { اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ:} یہاں {” سِرَّهُمْ “} سے مراد وہ باتیں ہیں جو وہ راز کے طور پر ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ طور پر آہستہ آواز میں کرتے ہیں، کیونکہ اگر {”سِرٌّ“} سے دل میں موجود بات مراد ہو تو وہ سنی نہیں جاتی، بلکہ اس کا علم ہوتا ہے اور {” نَجْوٰىهُمْ “} سے مراد ان کی مجلس مشاورت کی باتیں ہیں۔ ➋ {بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ:} یعنی صرف یہی نہیں کہ ہم سنتے ہیں، بلکہ ہمارے فرشتے ثبوت کے طور پر لکھ بھی لیتے ہیں۔ (دیکھیے ق: ۱۷، ۱۸) یعنی ان کی خفیہ تدبیریں تو ہم سن رہے ہوتے ہیں، پھر وہ ان کی کامیابی کی کیا توقع رکھ سکتے ہیں۔
قُلۡ اِنۡ کَانَ لِلرَّحۡمٰنِ وَلَدٌ ٭ۖ فَاَنَا اَوَّلُ الۡعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے کہو، "اگر واقعی رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا"
مولانا محمد جوناگڑھی
آپ کہہ دیجئے! کہ اگر بالفرض رحمٰن کی اوﻻد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے واﻻ ہوتا
احمد رضا خان بریلوی
تم فرماؤ بفرض محال رحمٰن کے کوئی بچہ ہوتا، تو سب سے پہلے میں پوجتا
علامہ محمد حسین نجفی
آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ اگر خدائے رحمٰن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلا عبادت گزار میں ہوتا۔
عبدالسلام بن محمد
کہہ دے اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے عبادت کرنے والا ہوں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک ہے ٭٭

’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے؟ ‘ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو۔ یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «‏‏‏‏لَّوْ أَرَ‌ادَ اللَّـهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ‌» ‏‏‏‏ ۱؎ [39-الزمر:4] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے ‘۔ بعض مفسریں نے «عَابِدِیْنَ» کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری رحمہ اللہ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ «عَابِدِیْنَ» سے مراد یہاں «اَوَّلُ الْجَاحِدِیْـنَ» ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ «عَبْدَ یَعْبَدُ» کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ «عَـبَدَ یَـعْـبُدُ» سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے ‘۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] ‏‏‏‏ ’ دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے ‘۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کا انکار نہ کر سکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو۔ یہاں بھی لفظ «عَـبِدَ» ہے یعنی انکار نہ کر سکے۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں «عَـبِدَ» کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی «عَـبِدَ» انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہو گا کہ ”اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔‏‏‏‏“ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ «اِنْ» شرط کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لیے ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہو گا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی ”نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔‏‏‏‏“

ابو صخر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔‏‏‏‏“ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں پہلا انکاری ہوں۔‏‏‏‏“ یہ دونوں لغت میں «عَابِد» اور «عَبِدَ» اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے۔‏‏‏‏“ ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ «اِنْ» کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں، اسی لیے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ’ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ‘۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کر لیں ‘۔ پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ ’ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر و علیم ہے ‘۔
81۔ 1 کیونکہ اللہ کا مطیع اور فرماں بردار ہوں اگر واقع اس کی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں ان کی عبادت کرنے والا ہوتا۔ مطلب مشرکین کے عقیدے میں اللہ کی اولاد ثابت کرتے ہیں۔
(آیت 81) {قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ …:} کفار فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، پچھلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس کا ردّ فرمایا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان سے کہہ دیں کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو تو میں سب سے پہلے اس کی عبادت کرنے والا ہوں۔ مطلب یہ کہ میرا اللہ تعالیٰ کی اولاد نہ ماننا اور جنھیں تم اللہ کی اولاد قرار دیتے ہو ان کی عبادت سے انکار کسی ضد یا ہٹ دھرمی کی بنا پر نہیں، بلکہ اس وجہ سے ہے کہ ممکن ہی نہیں کہ اس ذات پاک کی اولاد ہو جس کا نام رحمان ہے۔ تفصیل کے لیے سورۂ مریم کی آیات (۸۸ تا ۹۸) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر رحمان کی کوئی اولاد ہو، جیسا کہ کفار کہتے ہیں، تو سب سے پہلے اس اولاد کی عبادت کرنے والا میں ہوں، کیونکہ میرا اس کے ساتھ بندگی کا تعلق سب سے زیادہ ہے، جیسا کہ بادشاہ کے نوکر چاکر بادشاہ کی اولاد کی تعظیم ان کے والد کی تعظیم کی وجہ سے کرتے ہیں، لیکن رحمان کی اولاد ہے ہی نہیں، اس لیے میں اللہ واحد کے سوا کسی کی عبادت کرنے والا نہیں۔ یاد رہے کہ یہ جملہ شرطیہ ہے، اس میں شرط کا وجود بلکہ اس کا امکان بھی ضروری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ناممکن چیز کو بھی بفرض محال شرط کے طور پر ذکر کر دیا جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ يَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ سُبْحٰنَهٗ هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ» [ الزمر: ۴ ] ”اگر اللہ چاہتا کہ (کسی کو) اولاد بنائے تو ان میں سے جنھیں وہ پیدا کرتا ہے جسے چاہتا ضرور چن لیتا، وہ پاک ہے۔ وہ تو اللہ ہے، جو اکیلا ہے، بہت غلبے والا ہے۔“ اور فرمایا: «لَوْ كَانَ فِيْهِمَاۤ اٰلِهَةٌ اِلَّا اللّٰهُ لَفَسَدَتَا» ‏‏‏‏ [ الأنبیاء: ۲۲ ] ”اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔“
سُبۡحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ رَبِّ الۡعَرۡشِ عَمَّا یَصِفُوۡنَ ﴿۸۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرماں روا عرش کا مالک، اُن ساری باتوں سے جو یہ لوگ اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
آسمانوں اور زمین اور عرش کا رب جو کچھ یہ بیان کرتے ہیں اس سے (بہت) پاک ہے
احمد رضا خان بریلوی
پاکی ہے آسمانوں اور زمین کے رب کو، عرش کے رب کو ان باتوں سے جو یہ بناتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
پاک ہے آسمانوں اور زمین کا پروردگار جو عرش کامالک ہے اس سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
پاک ہے آسمانوں اور زمین کا رب، جو عرش کا رب ہے، اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک ہے ٭٭

’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے؟ ‘ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو۔ یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «‏‏‏‏لَّوْ أَرَ‌ادَ اللَّـهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ‌» ‏‏‏‏ ۱؎ [39-الزمر:4] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے ‘۔ بعض مفسریں نے «عَابِدِیْنَ» کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری رحمہ اللہ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ «عَابِدِیْنَ» سے مراد یہاں «اَوَّلُ الْجَاحِدِیْـنَ» ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ «عَبْدَ یَعْبَدُ» کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ «عَـبَدَ یَـعْـبُدُ» سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے ‘۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] ‏‏‏‏ ’ دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے ‘۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کا انکار نہ کر سکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو۔ یہاں بھی لفظ «عَـبِدَ» ہے یعنی انکار نہ کر سکے۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں «عَـبِدَ» کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی «عَـبِدَ» انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہو گا کہ ”اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔‏‏‏‏“ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ «اِنْ» شرط کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لیے ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہو گا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی ”نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔‏‏‏‏“

ابو صخر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔‏‏‏‏“ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں پہلا انکاری ہوں۔‏‏‏‏“ یہ دونوں لغت میں «عَابِد» اور «عَبِدَ» اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے۔‏‏‏‏“ ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ «اِنْ» کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں، اسی لیے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ’ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ‘۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کر لیں ‘۔ پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ ’ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر و علیم ہے ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 82) {سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُوْنَ:} یعنی اولاد ہونا کمزوری، محتاجی اور عجز کی دلیل ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۱۱۱) جب کہ اللہ تعالیٰ عجز اور احتیاج سے پاک ہے۔ وہ آسمانوں کا، زمین کا اور عرش کا مالک اور پروردگار اولاد سے اور ان تمام کمزوریوں اور عیبوں سے پاک ہے جو مشرک لوگ اس کے لیے بیان کرتے ہیں۔
فَذَرۡہُمۡ یَخُوۡضُوۡا وَ یَلۡعَبُوۡا حَتّٰی یُلٰقُوۡا یَوۡمَہُمُ الَّذِیۡ یُوۡعَدُوۡنَ ﴿۸۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اچھا، اِنہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو، یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اب آپ انہیں اسی بحﺚ مباحثہ اور کھیل کود میں چھوڑ دیجئے، یہاں تک کہ انہیں اس دن سے سابقہ پڑجائے جن کا یہ وعده دیے جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو تم انہیں چھوڑو کہ بیہودہ باتیں کریں اور کھیلیں یہاں تک کہ اپنے اس دن کو پائیں جس کا ان سے وعدہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
آپ ان کو چھوڑیں کہ وہ بحث کریں اور تفریح کریں (کھیلیں) یہاں تک کہ ان کو اس دن سے سابقہ پڑے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پس انھیں چھوڑ دے فضول بحث کرتے رہیں اور کھیلتے رہیں، یہاں تک کہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک ہے ٭٭

’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے؟ ‘ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو۔ یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «‏‏‏‏لَّوْ أَرَ‌ادَ اللَّـهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ‌» ‏‏‏‏ ۱؎ [39-الزمر:4] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے ‘۔ بعض مفسریں نے «عَابِدِیْنَ» کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری رحمہ اللہ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ «عَابِدِیْنَ» سے مراد یہاں «اَوَّلُ الْجَاحِدِیْـنَ» ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ «عَبْدَ یَعْبَدُ» کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ «عَـبَدَ یَـعْـبُدُ» سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے ‘۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] ‏‏‏‏ ’ دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے ‘۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کا انکار نہ کر سکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو۔ یہاں بھی لفظ «عَـبِدَ» ہے یعنی انکار نہ کر سکے۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں «عَـبِدَ» کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی «عَـبِدَ» انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہو گا کہ ”اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔‏‏‏‏“ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ «اِنْ» شرط کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لیے ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہو گا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی ”نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔‏‏‏‏“

ابو صخر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔‏‏‏‏“ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں پہلا انکاری ہوں۔‏‏‏‏“ یہ دونوں لغت میں «عَابِد» اور «عَبِدَ» اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے۔‏‏‏‏“ ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ «اِنْ» کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں، اسی لیے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ’ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ‘۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کر لیں ‘۔ پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ ’ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر و علیم ہے ‘۔
83۔ 1 یعنی اگر یہ ہدایت کا راستہ نہیں اپناتے تو اب انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیں اور دنیا کے کھیل کود میں لگا رہنے دیں۔ 83۔ 2 ان کی آنکھیں اس دن کھلیں گی جب ان کے اس رویے کا انجام ان کے سامنے آئے گا۔
(آیت 83) {فَذَرْهُمْ يَخُوْضُوْا وَ يَلْعَبُوْا …:} یعنی اگر یہ ہدایت کا راستہ اختیار نہیں کرتے تو انھیں ان کی فضول بحث اور کھیل کود میں لگا رہنے دیں، یہاں تک کہ وہ اپنے اس دن کو جا ملیں جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے۔ اس وقت ان پر سب حقیقت کھل جائے گی۔ اس دن سے مراد قیامت کا دن ہے یا موت کا دن یا دنیا میں عذاب کا دن۔
وَ ہُوَ الَّذِیۡ فِی السَّمَآءِ اِلٰہٌ وَّ فِی الۡاَرۡضِ اِلٰہٌ ؕ وَ ہُوَ الۡحَکِیۡمُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۸۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہی ایک آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا، اور وہی حکیم و علیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وہی آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی وہی قابل عبادت ہے اور وه بڑی حکمت واﻻ اور پورے علم واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہی آسمان والوں کا خدا اور زمین والوں کا خدا اور وہی حکمت و علم والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ وہی ہے جو آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی وہی خدا ہے اور وہ بڑا حکمت والا، بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہی ہے جو آسمانوں میں معبود ہے اور زمین میں بھی معبود ہے اور وہی کمال حکمت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جہالت و خباثت کی انتہاء اللہ تعالٰی کے ساتھ شرک ہے ٭٭

’ اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر بالفرض اللہ تعالیٰ کی اولاد ہو تو مجھے سر جھکانے میں کیا تامل ہے؟ ‘ نہ میں اس کے فرمان سے سرتابی کروں نہ اس کے حکم کو ٹالوں اگر ایسا ہوتا تو سب سے پہلے میں اسے مانتا اور اس کا اقرار کرتا لیکن اللہ کی ذات ایسی نہیں جس کا کوئی ہمسر اور جس کا کوئی کفو ہو۔ یاد رہے کہ بطور شرط کے جو کلام وارد کیا جائے اس کا وقوع ضروری نہیں بلکہ امکان بھی ضروری نہیں۔ جیسے فرمان باری ہے آیت «‏‏‏‏لَّوْ أَرَ‌ادَ اللَّـهُ أَن يَتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفَىٰ مِمَّا يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ سُبْحَانَهُ هُوَ اللَّـهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ‌» ‏‏‏‏ ۱؎ [39-الزمر:4] ‏‏‏‏، یعنی ’ اگر حق جل و علا اولاد کی خواہش کرتا تو اپنی مخلوق میں سے جسے چاہتا چن لیتا لیکن وہ اس سے پاک ہے اس کی شان وحدانیت اس کے خلاف ہے اس کا تنہا غلبہ اور قہاریت اس کی صریح منافی ہے ‘۔ بعض مفسریں نے «عَابِدِیْنَ» کے معنی انکاری کے بھی کئے ہیں جیسے سفیان ثوری رحمہ اللہ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ «عَابِدِیْنَ» سے مراد یہاں «اَوَّلُ الْجَاحِدِیْـنَ» ہے یعنی پہلا انکار کرنے والا اور یہ «عَبْدَ یَعْبَدُ» کے باب سے ہے اور جو عبادت کے معنی میں ہوتا ہے۔ وہ «عَـبَدَ یَـعْـبُدُ» سے ہوتا ہے۔ اسی کی شہادت میں یہ واقعہ بھی ہے کہ ایک عورت کے نکاح کے چھ ماہ بعد بچہ ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہما نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کی مخالفت کی اور فرمایا ”اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے آیت «وَحَمْلُهٗ وَفِصٰلُهٗ ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا» ۱؎ [46-الأحقاف:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ حمل کی اور دودھ کی چھٹائی کی مدت ڈھائی سال کی ہے ‘۔ اور جگہ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت «وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ وَفِصَالُهُ فِي عَامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ» ۱؎ [31-لقمان:14] ‏‏‏‏ ’ دو سال کے اندر اندر دودھ چھڑانے کی مدت ہے ‘۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ان کا انکار نہ کر سکے اور فوراً آدمی بھیجا کہ اس عورت کو واپس کرو۔ یہاں بھی لفظ «عَـبِدَ» ہے یعنی انکار نہ کر سکے۔ ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں «عَـبِدَ» کے معنی نہ ماننا انکار کرنا ہے۔ شاعر کے شعر میں بھی «عَـبِدَ» انکار کے اور نہ ماننے کے معنی میں ہے۔ لیکن اس قول میں نظر ہے اس لیے کہ شرط کے جواب میں یہ کچھ ٹھیک طور پر لگتا نہیں اسے ماننے کے بعد مطلب یہ ہو گا کہ ”اگر رحمان کی اولاد ہے تو میں پہلا منکر ہوں۔‏‏‏‏“ اور اس میں کلام کی خوبصورتی قائم نہیں رہتی۔ ہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ «اِنْ» شرط کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ نفی کے لیے ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول بھی ہے۔ تو اب مضمون کلام یہ ہو گا کہ چونکہ رحمان کی اولاد نہیں پس میں اس کا پہلا گواہ ہوں۔ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ کلام عرب کے محاورے کے مطابق ہے یعنی ”نہ رحمان کی اولاد نہ میں اس کا قائل و عابد۔‏‏‏‏“

ابو صخر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ ”میں تو پہلے ہی اس کا عابد ہوں کہ اس کی اولاد ہے ہی نہیں اور میں اس کی توحید کو ماننے میں بھی آگے آگے ہوں۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں اس کا پہلا عبادت گذار ہوں اور موحد ہوں اور تمہاری تکذیب کرنے والا ہوں۔‏‏‏‏“ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”میں پہلا انکاری ہوں۔‏‏‏‏“ یہ دونوں لغت میں «عَابِد» اور «عَبِدَ» اور اول ہی زیادہ قریب ہے اس وجہ سے کہ یہ شرط و جزا ہے لیکن یہ ممتنع اور محال محض ناممکن۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اگر اس کی اولاد ہوتی تو میں اسے پہلے مان لیتا کہ اس کی اولاد ہے لیکن وہ اس سے پاک ہے۔‏‏‏‏“ ابن جریر اسی کو پسند فرماتے ہیں اور جو لوگ «اِنْ» کو نافیہ بتلاتے ہیں ان کے قول کی تردید کرتے ہیں، اسی لیے باری تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ ’ آسمان و زمین اور تمام چیزوں کا حال اس سے پاک بہت دور اور بالکل منزہ ہے کہ اس کی اولاد ہو وہ فرد احمد صمد ہے اس کی نظیر کفو اولاد کوئی نہیں ‘۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ’ نبی صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی جہالت میں غوطے کھاتے چھوڑو اور دنیا کے کھیل تماشوں میں مشغول رہنے دو اسی غفلت میں ان پر قیامت ٹوٹ پڑے گی۔ اس وقت اپنا انجام معلوم کر لیں ‘۔ پھر ذات حق کی بزرگی اور عظمت اور جلال کا مزید بیان ہوتا ہے کہ ’ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات اس کی عابد ہے اس کے سامنے پست اور عاجز ہے۔ وہ خبیر و علیم ہے ‘۔
84۔ 1 یہ نہیں ہے کہ آسمانوں کا معبود کوئی اور بلکہ جس طرح ان دونوں کا خالق ایک ہی معبود بھی ایک ہی ہے۔
(آیت 84) ➊ {وَ هُوَ الَّذِيْ فِي السَّمَآءِ اِلٰهٌ …:} مشرکوں نے کچھ معبود آسمان میں بنا رکھے تھے، مثلاً فرشتے، سورج، چاند اور بعض ستارے اور کچھ زمین میں، جیسے انبیاء، اولیاء، ان کی قبریں اور بت، درخت اور پتھر وغیرہ۔ فرمایا، زمین اور آسمان میں الگ الگ معبود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہی دونوں کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔ دونوں جگہ اسی کی عبادت ہوتی ہے اور دونوں جگہ عبادت اسی کا حق ہے۔ ➋ { وَ هُوَ الْحَكِيْمُ الْعَلِيْمُ:الْحَكِيْمُ “} کمال حکمت والا، جس نے ہر چیز محکم و مضبوط اور حکمت و دانائی کے ساتھ بنائی ہے اور ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ یہ معبود واحد ہونے کی دلیل ہے کہ کوئی دوسرا نہ حکیم ہے نہ علیم، تو پھر اس کی عبادت کیوں ہو؟
وَ تَبٰرَکَ الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَیۡنَہُمَا ۚ وَ عِنۡدَہٗ عِلۡمُ السَّاعَۃِ ۚ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۸۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بہت بالا و برتر ہے وہ جس کے قبضے میں زمین اور آسمانوں اور ہر اُس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے اور وہی قیامت کی گھڑی کا علم رکھتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه بہت برکتوں واﻻ ہے جس کے پاس آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی بادشاہت ہے، اور قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور اسی کی جانب تم سب لوٹائے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اور بڑی برکت والا ہے وہ کہ اسی کے لیے ہے سلطنت آسمانوں اور زمین کی اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اور اسی کے پاس ہے قیامت کا علم، اور تمہیں اس کی طرف پھرنا،
علامہ محمد حسین نجفی
بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں آسمانوں اور زمین اور ہر اس چیز کی بادشاہی ہے جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اسی کے پاس قیامت کا عِلم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور بہت برکت والا ہے وہ جس کے پاس آسمانوں کی اور زمین کی بادشاہی ہے اور اس کی بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے اور اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کی چند صفات ٭٭

جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَهُوَ اللَّـهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْ‌ضِ يَعْلَمُ سِرَّ‌كُمْ وَجَهْرَ‌كُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:3] ‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے ‘۔ وہ سب کا خالق و مالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لیے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی ‘۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہو گی۔
85۔ 1 جس کو اپنے وقت پر ظاہر فرمائے گا۔ 85۔ 2 جہاں وہ ہر ایک کو اس کے عملوں کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
(آیت 85) {وَ تَبٰرَكَ الَّذِيْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …:} یہ بھی اللہ تعالیٰ کے اکیلا معبود ہونے کی دلیل ہے کہ بے شمار خیر و خوبی کا مالک ہے وہ کہ آسمانوں میں اور زمین میں ہر جگہ اسی کی بادشاہی ہے۔ قیامت کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے، نہ کہ کسی اور کی طرف۔ لہٰذا وہی ہے جو تمھیں تمھارے نیک یا بد اعمال کا بدلا دے گا۔
وَ لَا یَمۡلِکُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِ الشَّفَاعَۃَ اِلَّا مَنۡ شَہِدَ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، الا یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے
مولانا محمد جوناگڑھی
جنہیں یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وه شفاعت کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں (مستحق شفاعت وه ہیں) جو حق بات کا اقرار کریں اور انہیں علم بھی ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور جن کو یہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، ہاں شفاعت کا اختیار انہیں ہے جو حق کی گواہی دیں اور علم رکھیں
علامہ محمد حسین نجفی
اورجن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ سفارش کرنے کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ سوائے ان کے جو حق کی گواہی دیں اور وہ جانتے بھی ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھیں یہ اس کے سوا پکارتے ہیں، وہ سفارش کا اختیار نہیں رکھتے مگر جس نے حق کے ساتھ شہادت دی اور وہ جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ تعالیٰ کی چند صفات ٭٭

جیسے اور آیت میں ہے کہ «وَهُوَ اللَّـهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْ‌ضِ يَعْلَمُ سِرَّ‌كُمْ وَجَهْرَ‌كُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ» ۱؎ [6-الأنعام:3] ‏‏‏‏ ’ زمین و آسمان میں اللہ وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کو اور تمہارے ہر ہر عمل کو جانتا ہے ‘۔ وہ سب کا خالق و مالک سب کو بسانے اور بنانے والا سب پر حکومت اور سلطنت رکھنے والا بڑی برکتوں والا ہے۔ وہ تمام عیبوں سے کل نقصانات سے پاک ہے وہ سب کا مالک ہے بلندیوں اور عظمتوں والا ہے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے کوئی نہیں جو اس کی مرضی بدل سکے ہر ایک پر قابض وہی ہے ہر ایک کام اس کی قدرت کے ماتحت ہے قیامت آنے کے وقت کو وہی جانتا ہے اس کے سوا کسی کو اس کے آنے کے ٹھیک وقت کا علم نہیں ساری مخلوق اسی کی طرف لوٹائی جائے گی وہ ہر ایک کو اپنے اپنے اعمال کا بدلہ دے گا۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کے معبودان باطل جنہیں یہ اپنا سفارشی خیال کئے بیٹھے ہیں ان میں سے کوئی بھی سفارش کے لیے آگے بڑھ نہیں سکتا کسی کی شفاعت انہیں کام نہ آئے گی ‘۔ اس کے بعد استثناء منقطع ہے یعنی لیکن جو شخص حق کا اقراری اور شاہد ہو اور وہ خود بھی بصیرت و بصارت پر یعنی علم و معرفت والا ہو اسے اللہ کے حکم سے نیک لوگوں کی شفاعت کار آمد ہو گی۔
86۔ 1 یعنی دنیا میں جن بتوں کی عبادت کرتے ہیں، یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے ان معبودوں کو شفاعت کا قطعًا کوئی اختیار نہیں ہوگا۔ 86۔ 2 حق بات سے مراد کلمہ توحید لا الٰہ الا اللہ ہے اور یہ اقرار بھی علم و بصیرت کی بنیاد ہو، محض رسمی اور تقلیدی نہ ہو یعنی زبان سے کلمہ توحید ادا کرنے والے کو پتہ ہو کہ اس میں صرف ایک اللہ کا اثبات اور دیگر تمام معبودوں کی نفی ہے۔
(آیت 86) ➊ { وَ لَا يَمْلِكُ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ …:} پچھلی آیت میں ”من دون الله“ کے پاس آسمانوں اور زمین کی اور ان کے درمیان کی کسی بھی چیز کی ملک ہونے کی نفی تھی، اس آیت میں ان سے شفاعت کی ملکیت کی بھی نفی فرما دی۔ ➋ اس آیت کی دو تفسیریں ہیں، دونوں مراد ہو سکتی ہیں اور یہ قرآن کا اعجاز ہے۔ پہلی یہ کہ مشرکین جن ہستیوں کو یہ سمجھ کر پکارتے ہیں کہ وہ ان کی شفاعت کریں گی ان کے پاس شفاعت کا کوئی اختیار نہیں، مگر وہ لوگ جنھوں نے کلمۂ حق یعنی ”لا الٰہ الا الله“ کی شہادت دی اور صرف زبانی نہیں بلکہ وہ اس کا یقین رکھتے تھے، مثلاً فرشتے، عیسیٰ علیہ السلام اور اللہ کے دوسرے مقرب بندے۔ وہ چونکہ حق (توحید) کا یقین رکھ کر اس کی گواہی دیتے تھے اور انھوں نے کبھی لوگوں کو اپنی عبادت کا حکم نہیں دیا، اس لیے وہ اللہ کے اذن سے سفارش کر سکیں گے۔ رہے بت اور دوسرے جھوٹے مشکل کشا اور حاجت روا، جن کی مشرکین پوجا کرتے ہیں، وہ تو اپنے آپ کو نہیں بچا سکیں گے بلکہ دوزخ کا ایندھن بنیں گے، کسی کی سفارش کیا کریں گے؟ دوسری تفسیر یہ ہے کہ {” مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ “} سے پہلے لام جارہ محذوف ہے: {”أَيْ إِلَّا لِمَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ“} یعنی سفارش کرنے والوں کو صرف ان لوگوں کے حق میں سفارش کا اختیار دیا جائے گا جنھوں نے حق یعنی کلمہ ”لا الٰہ الا الله“ کی شہادت دی اور صرف زبانی نہیں بلکہ اس کا علم اور یقین بھی رکھتے تھے۔ رہے کفار یا منافقین، تو ان کے حق میں کوئی شفاعت نہیں کرے گا۔ شفاعت کی مزید تفصیل کے لیے دیکھیے آیت الکرسی، سورۂ مریم (۸۷)، انبیاء (۲۸)، سبا (۲۳)، نجم (۲۶) اور سورۂ نبا (۳۸)۔ ➌ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہادت وہی معتبر ہے جو علم کے ساتھ دی جائے۔ دنیا میں اگرچہ ہر اس شخص کو مسلمان تصور کر لیا جاتا ہے جو زبانی کلمہ ”لا الٰہ الا الله“ کی شہادت دے، مگر قیامت کے دن اسی کی شہادت معتبر ہو گی جس نے دل کے یقین کے ساتھ یہ شہادت دی ہو گی۔
وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ فَاَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿ۙ۸۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ اِنہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے پھر کہاں سے یہ دھوکا کھا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر آپ ان سے دریافت کریں کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً یہ جواب دیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کہاں الٹے جاتے ہیں؟
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر تم ان سے پوچھو انہیں کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے اللہ نے تو کہاں اوندھے جاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور اگر آپ(ص) ان سے پوچھیں کہ انہیں کس نے پیدا کیا؟ تو وہ کہیں گے کہ اللہ نے تو وہ کہاں بھٹکتے پھرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور یقینا اگر تو ان سے پوچھے کہ انھیں کس نے پیدا کیا تو بلاشبہ ضرور کہیںگے کہ اللہ نے ،پھر کہاں بہکائے جاتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی کم عقلی ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے ‘۔ افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بے قدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بیوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا۔ اسی لیے تعجب سے ارشاد ہوا کہ ’ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہو جاتے ہو؟ ‘ پھر ارشاد ہے کہ ’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ کہنا کہا ‘، یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:30] ‏‏‏‏ یعنی ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہو گی کہ میری امت نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا ‘۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ» الخ ہے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آیت «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:80] ‏‏‏‏ پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی «قَالَ» کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کے ساتھ جب ہو تو یہ عجب ہو گا آیت «وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:85] ‏‏‏‏ پر تو تقدیر یوں ہو گی کہ ’ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ‘۔ ختم سورۃ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بد زبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی ‘۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند و بالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کر دیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کر دیا اللہ کے دین میں بےشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 87) ➊ { وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ …:} اس آیت میں مشرکین کے قول و فعل کا تضاد واضح فرمایا ہے، یعنی جب مانتے ہیں کہ انھیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے تو پیدا کرنے والے کو چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کیوں کر کرتے ہیں؟ مالک کو چھوڑ کر ان کو مشکل کشا اور حاجت روا کیسے مان بیٹھے ہیں جنھوں نے کچھ پیدا ہی نہیں کیا؟ ➋ { فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ:} یعنی پھر بہکانے والے انھیں بہکا کر کہاں لے جا رہے ہیں؟ ایک معنی {” فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ “} کا یہ بھی ہے: {” مِنْ أَيْنَ يُؤْفَكُوْنَ “} کہ پھر وہ کہاں سے بہکائے جاتے ہیں، کون سی دلیل یا کیا سبب ہے جس کی وجہ سے یہ بہکائے جاتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان اصل میں توحید پر ہوتا ہے، پھر شیاطین انسان ہوں یا جن اسے توحید سے بہکا کر شرک میں مبتلا کر دیتے ہیں۔ اس لیے ایسے لوگوں سے بہت ہوشیار اور خبردار رہنا چاہیے، جیسا کہ عیاض بن حمار المجاشعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اپنے خطبہ میں فرمایا: [ أَلَا! إِنَّ رَبِّيْ أَمَرَنِيْ أَنْ أُعَلِّمَكُمْ مَا جَهِلْتُمْ مِمَّا عَلَّمَنِيْ يَوْمِيْ هٰذَا، كُلُّ مَالٍ نَحَلْتُهُ عَبْدًا حَلَالٌ وَ إِنِّيْ خَلَقْتُ عِبَادِيْ حُنَفَاءَ كُلَّهُمْ وَإِنَّهُمْ أَتَتْهُمُ الشَّيَاطِيْنُ فَاجْتَالَتْهُمْ عَنْ دِيْنِهِمْ وَ حَرَّمَتْ عَلَيْهِمْ مَا أَحْلَلْتُ لَهُمْ وَأَمَرَتْهُمْ أَنْ يُشْرِكُوْا بِيْ مَا لَمْ أُنْزِلْ بِهِ سُلْطَانًا ] [ مسلم، الجنۃ و صفۃ نعیمھا و أہلہا، باب الصفات التي یعرف بہا في الدنیا أھل الجنۃ و أھل النار: ۲۸۶۵ ] ”سنو! میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمھیں وہ باتیں سکھاؤں جن سے تم ناواقف ہو، ان باتوں میں سے جو اس نے مجھے آج سکھائی ہیں۔ (وہ فرماتا ہے کہ) ہر وہ مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا (وہ اس کے لیے) حلال ہے اورمیں نے اپنے تمام بندوں کو حُنفاء (ایک اللہ کی طرف ہو جانے والے) پیدا کیا، لیکن ان کے پاس شیاطین آئے تو انھوں نے انھیں ان کے دین سے بہکا دیا اور ان پر وہ چیزیں حرام کر دیں جو میں نے ان کے لیے حلال کی تھیں اور انھیں حکم دیا کہ میرے ساتھ ان چیزوں کو شریک بنائیں جن کی میں نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔“
وَ قِیۡلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ قَوۡمٌ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۘ۸۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
قسم ہے رسولؐ کے اِس قول کی کہ اے رب، یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان کا (پیغمبر کا اکثر) یہ کہنا کہ اے میرے رب! یقیناً یہ وه لوگ ہیں جو ایمان نہیں ﻻتے
احمد رضا خان بریلوی
مجھے رسول کے اس کہنے کی قسم کہ اے میرے رب! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اسی (اللہ) کو رسول(ص) کے اس قول کا عِلم ہے کہ اے میرے پروردگار! یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔
عبدالسلام بن محمد
قسم ہے رسول کے ’’یا رب ‘‘کہنے کی! کہ بے شک یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی کم عقلی ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے ‘۔ افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بے قدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بیوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا۔ اسی لیے تعجب سے ارشاد ہوا کہ ’ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہو جاتے ہو؟ ‘ پھر ارشاد ہے کہ ’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ کہنا کہا ‘، یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:30] ‏‏‏‏ یعنی ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہو گی کہ میری امت نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا ‘۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ» الخ ہے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آیت «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:80] ‏‏‏‏ پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی «قَالَ» کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کے ساتھ جب ہو تو یہ عجب ہو گا آیت «وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:85] ‏‏‏‏ پر تو تقدیر یوں ہو گی کہ ’ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ‘۔ ختم سورۃ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بد زبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی ‘۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند و بالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کر دیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کر دیا اللہ کے دین میں بےشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
88۔ 1 اللہ کے پاس ہی قیامت اور اپنے پیغمبر کے شکوہ کا علم ہے۔
(آیت 88) {وَ قِيْلِهٖ يٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ …: ” قِيْلٌ، قَالٌ“} اور {” قَوْلٌ“} تینوں {” قَالَ يَقُوْلُ“} کے مصدر ہیں، معنی ہے کہنا۔ {” قِيْلِهٖ “} میں ضمیر {”هٖ“ } رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹ رہی ہے۔ اس آیت کی متعدد تفسیریں کی گئی ہیں، ان میں سب سے واضح تین ہیں۔ پہلی یہ کہ {” وَ قِيْلِهٖ يٰرَبِّ “} قسم ہے: {”أَيْ أُقْسِمُ بِقَوْلِهِ يَا رَبِّ“} اور {” اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا يُؤْمِنُوْنَ “} جواب قسم ہے۔ یہ تفسیر زمخشری نے کی ہے اور ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں رسول کے {”يَا رَبِّ يَا رَبِّ “} کہنے کی قسم کھاتا ہوں کہ یقینا یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے۔ اگلی آیت میں فرمایا: «‏‏‏‏فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ» ‏‏‏‏ اس لیے ان سے درگزر کر اور کہہ سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ ساری آیت قسم ہے، جواب اس کا محذوف ہے جو قرینے سے معلوم ہو رہا ہے۔ قرینے کے پیشِ نظر قسم کا جواب حذف کرنا کلامِ عرب میں عام ہے۔ یعنی میں رسول کے ”اے میرے رب! یہ تو ایسے لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہی نہیں“ کہنے کی قسم کھاتا ہوں کہ میں ضرور کافروں کے اس رویے کے خلاف اس کی مدد کروں گا۔ قرینہ اگلی آیت ہے کہ پس تو ان سے درگزر کر اور کہہ سلام ہے، کیونکہ وہ بہت جلد جان لیں گے کہ رسول کی مدد کیسے ہوتی ہے اور ان لوگوں سے انتقام کیسے لیا جاتا ہے۔ تیسری تفسیر یہ ہے کہ واؤ بمعنی {”رُبَّ“} ہے جو حرف جار ہے، {” قِيْلِهٖ “} اس کے ساتھ مجرور ہے۔ یعنی کئی دفعہ رسول کا حسرت و افسوس کے ساتھ کہنا یہ ہوتا ہے کہ اے میرے رب! یہ تو ایسے لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہی نہیں۔ ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ {” وَ قِيْلِهٖ “} میں {”قِيْلٌ“} کا عطف اوپر گزری ہوئی آیت {” وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ “} میں لفظ {” السَّاعَةِ “} پر ہے، یعنی {” وَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ عِلْمُ قِيْلِهِ يَا رَبِّ هٰؤُلَاء قَوْمٌ لَا يُؤْمِنُوْنَ“} یعنی ”اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور رسول کے اس قول کا بھی کہ اے میرے رب! یہ تو ایسے لوگ ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔“ مگر معطوف علیہ اور معطوف کے درمیان اتنا لمبا فاصلہ بعید بات ہے۔
فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۸۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اچھا، اے نبیؐ، اِن سے درگزر کرو اور کہہ دو کہ سلام ہے تمہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس آپ ان سے منھ پھیر لیں اور کہہ دیں۔ (اچھا بھائی) سلام! انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہوجائے گا
احمد رضا خان بریلوی
تو ان سے درگزر کرو اور فرماؤ بس سلام ہے کہ آگے جان جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) درگزر کرو۔اور کہو سلام ہو (خداحافظ) عنقریب انہیں (اپنا انجام) معلوم ہو جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
پس ان سے درگزر کر اورکہہ سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مشرکین کی کم عقلی ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے ‘۔ افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بے قدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بیوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا۔ اسی لیے تعجب سے ارشاد ہوا کہ ’ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہو جاتے ہو؟ ‘ پھر ارشاد ہے کہ ’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ کہنا کہا ‘، یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:30] ‏‏‏‏ یعنی ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہو گی کہ میری امت نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا ‘۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ» الخ ہے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آیت «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:80] ‏‏‏‏ پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی «قَالَ» کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کے ساتھ جب ہو تو یہ عجب ہو گا آیت «وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:85] ‏‏‏‏ پر تو تقدیر یوں ہو گی کہ ’ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ‘۔ ختم سورۃ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بد زبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی ‘۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند و بالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کر دیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کر دیا اللہ کے دین میں بےشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
89۔ 1 یعنی دین کے معاملے میں میری اور تمہاری راہ الگ الگ ہے، تم اگر باز نہیں آتے تو اپنا عمل کئے جاؤ، میں اپنا کام کئے جا رہا ہوں، عنقریب معلوم ہوجائے گا سچا کون ہے اور جھوٹا کون؟
(آیت 89) {فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ …:} یعنی آپ کی فریاد ہم نے سن لی، اب ہم جانیں اور وہ، آپ ان سے درگزر کریں اور ان سے براء ت اور قطع تعلق کے اظہار کے لیے کہہ دیں کہ سلام ہے۔ چنانچہ وہ بہت جلد جان لیں گے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔