بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 62
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 62
آیت نمبر: 62 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ ۚ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۶۲﴾
ایسا نہ ہو شیطان تم کو اُس سے روک دے کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے
اور شیطان تمہیں روک نہ دے، یقیناً وه تمہارا صریح دشمن ہے
اور ہرگز شیطان تمہیں نہ روک دے بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
(دیکھو خیال رکھنا کہیں) شیطان تمہیں اس سے روک نہ دے۔ بےشک وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔
اور کہیں شیطان تمھیں روک نہ دے، بے شک وہ تمھارے لیے کھلا دشمن ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے ‘۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔‏‏‏‏“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ’ وہ قیامت کی نشانی ہے ‘، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔

یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت «‏‏‏‏وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:159] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا ‘۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ یعنی ’ جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں ‘۔

حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لیے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم سے اور یہی مروی ہے۔ ابو لعالیہ، ابومالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ { قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں}۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 62) {وَ لَا يَصُدَّنَّكُمُ الشَّيْطٰنُ …:} یعنی دیکھنا شیطان اپنے ہتھکنڈوں کے ساتھ تمھیں قیامت پر ایمان سے روک نہ دے، کیونکہ وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ اس نے کبھی اپنی عداوت کو چھپایا نہیں، بلکہ ڈنکے کی چوٹ آدم(علیہ السلام) اور اس کی اولاد کو گمراہ کرتے رہنے کا اعلان کیا، اس لیے تم بھی اسے دشمن سمجھو اور اس سے خبردار رہو۔ (دیکھیے فاطر: ۶۔ کہف: ۵۰) معلوم ہوا جو شخص قیامت کے بارے میں شک کرتا ہے وہ شیطان کے ہتھے چڑھ چکا ہے۔ شیطان کی بہت بڑی دشمنی اور گمراہ کرنا یہ ہے کہ وہ کسی شخص کو قیامت پر یقین سے محروم کر دے۔ شیطان سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایات پر سیدھا چلتا جائے، ادھر ادھر بالکل توجہ نہ دے۔ موسیٰ علیہ السلام کی طرف پہلی وحی میں اللہ تعالیٰ نے انھیں قیامت کے آنے سے آگاہ کرنے کے ساتھ ہی تاکید فرمائی کہ دیکھنا، وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے تمھیں اس پر ایمان سے روک نہ دیں، ورنہ انجام ہلاکت ہو گا۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۱۵، ۱۶)۔
← پچھلی آیت (61) پوری سورۃ اگلی آیت (63) →