بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 61
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 61
آیت نمبر: 61 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنَّہٗ لَعِلۡمٌ لِّلسَّاعَۃِ فَلَا تَمۡتَرُنَّ بِہَا وَ اتَّبِعُوۡنِ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۶۱﴾
اور وہ دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے، پس تم اُس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے
اور یقیناً عیسیٰ (علیہ السلام) قیامت کی علامت ہے پس تم (قیامت) کے بارے میں شک نہ کرو اور میری تابعداری کرو، یہی سیدھی راه ہے
اور بیشک عیسی ٰ قیامت کی خبر ہے تو ہرگز قیامت میں شک نہ کرنا اور میرے پیرو ہونا یہ سیدھی راہ ہے،
وہ(عیسیٰ(ع)) تو صرف قیامت کی ایک نشانی ہے تم لوگ اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو۔ یہی سیدھا راستہ ہے۔
اور بلاشبہ وہ یقینا قیامت کی ایک نشانی ہے تو تم اس میں ہرگز شک نہ کرو اور میرے پیچھے چلو، یہ سیدھاراستہ ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ عیسیٰ علیہ السلام اللہ عزوجل کے بندوں میں سے ایک بندے تھے۔ جن پر نبوت و رسالت کا انعام باری تعالیٰ ہوا تھا اور انہیں اللہ کی قدرت کی نشانی بنا کر بنی اسرائیل کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ جان لیں کہ اللہ جو چاہے اس پر قادر ہے ‘۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اگر ہم چاہتے تو تمہارے جانشین بنا کر فرشتوں کو اس زمین میں آباد کر دیتے ‘۔ یا یہ کہ جس طرح تم ایک دوسرے کے جانشین ہوتے ہو یہی بات ان میں کر دیتے مطلب دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یعنی بجائے تمہارے زمین کی آبادی ان سے ہوتی ہے۔‏‏‏‏“ اس کے بعد جو فرمایا ہے کہ ’ وہ قیامت کی نشانی ہے ‘، اس کا مطلب جو ابن اسحاق رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے وہ کچھ ٹھیک نہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ دور کی بات یہ ہے کہ بقول قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ علیہم کہتے ہیں کہہ کی ضمیر کا مرجع عائد ہے عیسیٰ علیہ السلام پر۔

یعنی عیسیٰ علیہ السلام قیامت کی ایک نشانی ہیں۔ اس لیے کہ اوپر سے ہی آپ علیہ السلام کا بیان چلا آ رہا ہے اور یہ بھی واضح رہے کہ مراد یہاں عیسیٰ علیہ السلام کا قیامت سے پہلے کا نازل ہونا ہے جیسے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا آیت «‏‏‏‏وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [4-النساء:159] ‏‏‏‏ یعنی ’ ان کی موت سے پہلے ایک ایک اہل کتاب ان پر ایمان لائے گا ‘۔ یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی موت سے پہلے قیامت کے دن یہ ان پر گواہ ہوں گے۔ اس مطلب کی پوری وضاحت اسی آیت کی دوسری قرأت سے ہوتی ہے جس میں ہے «وَاِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُوْنِ ۭ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيْمٌ» ۱؎ [43-الزخرف:61] ‏‏‏‏ یعنی ’ جناب روح اللہ قیامت کے قائم ہونے کا نشان اور علامت ہیں ‘۔

حضرت مجاہدرحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نشان ہیں قیامت کے لیے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا قیامت سے پہلے آنا۔ اسی طرح روایت کی گئی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ سے اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہم سے اور یہی مروی ہے۔ ابو لعالیہ، ابومالک، عکرمہ، حسن، قتادہ، ضحاک رحمہ اللہ علیہم وغیرہ سے۔ اور متواتر احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ { قیامت کے دن سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام امام عادل اور حاکم باانصاف ہو کر نازل ہوں گے۔ پس تم قیامت کا آنا یقینی جانو اس میں شک شبہ نہ کرو اور جو خبریں تمہیں دے رہا ہوں اس میں میری تابعداری کرو یہی صراط مستقیم ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان جو تمہارا کھلا دشمن ہے تمہیں صحیح راہ سے اور میری واجب اتباع سے روک دے حضرت عیسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ میں حکمت یعنی نبوت لے کر تمہارے پاس آیا ہوں اور دینی امور میں جو اختلافات تم نے ڈال رکھے ہیں۔ میں اس میں جو حق ہے اسے ظاہر کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں}۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:207/11:] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

61۔ 1 اکثر مفسرین کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے قریب ان کا آسمان سے نزول ہوگا، جیسا کہ، صحیح متواتر احادیث سے ثابت ہے۔ یہ نزول اس بات کی علامت ہوگا کہ اب قیامت قریب ہے اس لئے بعض نے اسے عین اور لام کے زبر کے ساتھ (عَلَم) پڑھا ہے، جس کے معنی نشانی اور علامت کے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 61) ➊ { وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ: ”عِلْمٌ“} سے مراد علم کا ذریعہ اور نشانی ہے، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش اور پہلی مرتبہ دنیا میں آنا تو خاص بنی اسرائیل کے لیے ایک نشان تھا، دوبارہ آنا قیامت کا نشان ہو گا۔ ان کے نزول سے لوگ معلوم کریں گے کہ اب قیامت بالکل قریب آ لگی ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اس سے مراد قیامت سے پہلے ان کا نزول ہے، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا» [ النساء: ۱۵۹ ] ”اور اہلِ کتاب میں سے کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہو گا۔“ اس معنی کی تائید دوسری قراء ت {”وَ إِنَّهُ لَعَلَمٌ لِلسَّاعَةِ “} سے بھی ہوتی ہے، یعنی وہ قیامت واقع ہونے کا ایک نشان اور دلیل ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا، {” وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ “} یعنی قیامت کی ایک نشانی عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام کا قیامت سے پہلے نکلنا ہے۔ ایسے ہی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، ابن عباس رضی اللہ عنھما، ابوالعالیہ، ابو مالک، عکرمہ، حسن، قتادہ اور ضحاک رحمھم اللہ وغیرہ سے مروی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث آئی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت سے پہلے عیسیٰ ابن مریم علیھما السلام کے عادل و منصف امام بن کر نازل ہونے کی خبر دی۔“ (ابن کثیر) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ، لَيُوْشِكَنَّ أَنْ يَّنْزِلَ فِيْكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا عَدْلاً، فَيَكْسِرَ الصَّلِيْبَ، وَيَقْتُلَ الْخِنْزِيْرَ، وَيَضَعَ الْجِزْيَةَ، وَ يَفِيْضَ الْمَالُ حَتّٰی لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ، حَتّٰی تَكُوْنَ السَّجْدَةُ الْوَاحِدَةُ خَيْرًا مِّنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيْهَا، ثُمَّ يَقُوْلُ أَبُوْ هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوْا إِنْ شِئْتُمْ: «‏‏‏‏وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا» ‏‏‏‏ (النساء:۱۵۹)] [ بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب نزول عیسی ابن مریم علیہما السلام: ۳۴۴۸ ] ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یقینا قریب ہے کہ تم میں ابن مریم(علیھما السلام) انصاف کرنے والا حاکم بن کر نازل ہو، پھر وہ صلیب توڑ دے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جزیہ ختم کرے گا اور مال عام ہو جائے گا، حتیٰ کہ اسے کوئی قبول نہیں کرے گا، حتیٰ کہ ایک سجدہ دنیا و ما فیہا سے بہتر ہو گا۔“ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو: ”اور اہلِ کتاب میں کوئی نہیں مگر وہ اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔“ سورۂ نساء کی آیت (۱۵۸، ۱۵۹) کی تفسیر پر بھی نگاہ ڈال لیں۔ ➋ {” وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ “} کا مطلب یہ بھی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کا وجود قیامت قائم ہونے کی نشانی اور دلیل ہے، کیونکہ وہ عام دستور کے خلاف باپ کے بغیر پیدا ہوئے، پھر وہ اللہ کے اذن سے مُردوں کو زندہ کرتے تھے۔ یہ دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی زبردست قدرت کا نشان ہیں کہ وہ قیامت برپا کرنے پر بھی یقینا قادر ہے۔ ➌ بعض مفسرین نے {” هٗ “} ضمیر سے مراد قرآن لیا ہے۔ ابن عاشور نے فرمایا: {” وَ اِنَّهٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ “} کا عطف {” وَ اِنَّهٗ لَذِكْرٌ لَّكَ وَ لِقَوْمِكَ “} پر ہے، یعنی یہ قرآن تمھارے لیے قیامت کا علم حاصل ہونے کا ذریعہ ہے، جس سے تمھیں اس کے قیام اور اس میں پیش آنے والے معاملات سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔“ ابن کثیر نے قتادہ، حسن بصری اور سعید بن جبیر رحمھم اللہ کا یہی قول بیان کیا ہے کہ {” هٗ “} ضمیر سے مراد قرآن ہے۔ ➍ {فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا …:} یعنی قرآن تمھیں قیامت کے وقوع سے آگاہ کرتا ہے، اس لیے تم اس میں ہر گز شک نہ کرو اور میری پیروی کرو، یہ صراط مستقیم ہے جس کی میں تمھیں دعوت دیتا ہوں۔
← پچھلی آیت (60) پوری سورۃ اگلی آیت (62) →