بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 63
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 63
آیت نمبر: 63 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
وَ لَمَّا جَآءَ عِیۡسٰی بِالۡبَیِّنٰتِ قَالَ قَدۡ جِئۡتُکُمۡ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ لِاُبَیِّنَ لَکُمۡ بَعۡضَ الَّذِیۡ تَخۡتَلِفُوۡنَ فِیۡہِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿۶۳﴾
اور جب عیسیٰؑ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ "میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو
اور جب عیسیٰ (علیہ السلام) معجزے کو ﻻئے تو کہا۔ کہ میں تمہارے پاس حکمت ﻻیا ہوں اور اس لیے آیا ہوں کہ جن بعض چیزوں میں تم مختلف ہو، انہیں واضح کردوں، پس تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میرا کہا مانو
اور جب عیسیٰ روشن نشانیاں لایا اس نے فرمایا میں تمہارے پاس حکمت لے کر آیا اور اس لیے میں تم سے بیان کردوں بعض وہ باتیں جن میں تم اختلاف رکھتے ہو تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو،
اور جب عیسیٰ(ع) کھلی نشانیاں (معجزے)لے کر آئے تو کہا میں تمہارے پاس حکمتلے کرایا ہوں تاکہ تم پر بعض وہ باتیں واضح کردوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو سو تم اللہ سے (آپ(ع) کی نافرمانی سے) ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
اور جب عیسیٰ واضح دلیلیں لے کر آیا تو اس نے کہا بے شک میں تمھارے پاس حکمت لے کر آیا ہوں اور تاکہ میں تمھارے لیے بعض وہ باتیں واضح کر دوں جن میں تم اختلاف کرتے ہو، سو اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ابن جریر رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں اور یہی قول بہتر اور پختہ ہے۔ پھر امام صاحب نے ان لوگوں کے قول کی تردید کی ہے جو کہتے ہیں کہ ”بعض“ کا لفظ یہاں پر ”کل“ کے معنی میں ہے اور اس کی دلیل میں لبید شاعر کا ایک شعر پیش کرتے ہیں۔ لیکن وہاں بھی بعض سے مراد قائل کا خود اپنا نفس ہے نہ کہ سب نفس۔ امام صاحب نے شعر کا جو مطلب بیان کیا ہے یہ بھی ممکن ہے۔ پھر فرمایا { جو میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس میں اللہ کا لحاظ رکھو اس سے ڈرتے رہو اور میری اطاعت گذاری کرو جو لایا ہوں اسے مانو یقین مانو کہ تم سب اور خود میں اس کے غلام ہیں اس کے محتاج ہیں اس کے در کے فقیر ہیں اس کی عبادت ہم سب پر فرض ہے وہ «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہے }۔ بس یہی توحید کی راہ راہ مستقیم ہے اب لوگ آپس میں متفرق ہو گئے بعض تو کلمۃ اللہ کو اللہ کا بندہ اور رسول ہی کہتے تھے اور یہی حق والی جماعت تھی اور بعض نے ان کی نسبت دعویٰ کیا کہ وہ اللہ کے فرزند ہیں۔ اور بعض نے کہا آپ علیہ السلام ہی اللہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں دعوں سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے۔ اسی لیے ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ان ظالموں کے لیے خرابی ہے قیامت والے دن انہیں المناک عذاب اور درد ناک سزائیں ہوں گی ‘۔

📖 احسن البیان

63۔ 1 اس کے لئے دیکھئے آل عمران (اِنَّ اللّٰهَ لَا يَخْفٰى عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْاَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاۗءِ ۝ۭ) 3۔ آل عمران:5) کا حاشیہ۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 63) ➊ { وَ لَمَّا جَآءَ عِيْسٰى بِالْبَيِّنٰتِ: ”اَلْبَيِّنَاتُ“ ”بَيِّنَةٌ“} کی جمع ہے، واضح، روشن چیز۔ یہ محذوف موصوف کی صفت ہے جو معجزات بھی ہیں، دلائل بھی اور آیات بھی۔ یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام واضح اور روشن معجزات، توحیدِ الٰہی اور اپنی رسالت کے واضح دلائل اور اللہ تعالیٰ کی واضح اور روشن آیات لے کر آئے۔ ➋ { قَالَ قَدْ جِئْتُكُمْ بِالْحِكْمَةِ: ”اَلْحِكْمَةُ“} محکم اور پکی بات، دانائی کی بات جو صحیح عقل کے عین مطابق ہو۔ ➌ { وَ لِاُبَيِّنَ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِيْ تَخْتَلِفُوْنَ فِيْهِ …:} یعنی جب عیسیٰ علیہ السلام بینات لے کر بنی اسرائیل کے پاس آئے تو انھیں بتایا کہ میں تمھارے پاس اللہ کی شریعت لے کر آیا ہوں، جو نہایت محکم اور مضبوط ہے اور سراسر دانائی پر مشتمل ہے، تاکہ وہ تمھیں سکھاؤں اور تاکہ بعض باتیں جن میں تمھارے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا ہے ان میں محکم اور پختہ بات کے ساتھ حق واضح کر دوں۔ بعض اس لیے فرمایا کہ پیغمبر کا کام دینی احکام کی رہنمائی ہے، دنیوی معاملات مثلاً تجارت، زراعت اور صنعت وغیرہ کو لوگوں کے تجربہ و عقل پر رہنے دیا گیا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَنْتُمْ أَعْلَمُ بِأَمْرِ دُنْيَاكُمْ ] [ مسلم، الفضائل، باب وجوب امتثال ما قالہ شرعا…: ۲۳۶۳ ] ”اپنا دنیاوی معاملہ تم بہتر جانتے ہو۔“ یا بعض اس لیے فرمایا کہ بعض کا فیصلہ آخری پیغمبر کے آنے پر چھوڑ دیا گیا۔ واضح رہے کہ بنی اسرائیل میں توحید، قیامت اور مختلف اشیاء کی حلت و حرمت کے بارے میں کئی طرح کا اختلاف پیدا ہو گیا تھا، مثلاً ان میں سے کچھ حق پر قائم تھے تو بعض عزیر علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہنے لگ گئے تھے۔ قیامت کے متعلق انھوں نے ایسے عقائد گھڑ لیے تھے جن سے اللہ تعالیٰ کے ہاں جواب دہی کا معاملہ ہی ختم ہو جاتا تھا۔ مثلاً ان کا کہنا: «نَحْنُ اَبْنٰٓؤُا اللّٰهِ وَ اَحِبَّآؤُهٗ» ‏‏‏‏ [ المائدۃ: ۱۸ ] ”ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں۔“ یعنی ہم بنی اسرائیل اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں (جس طرح مسلمانوں میں کئی سید بادشاہ اپنے بارے میں باور کرواتے ہیں) اور یہ کہ جنت ہمارا حق ہے، اگر جہنم میں گئے بھی تو چند روز کے لیے جائیں گے۔ کچھ چیزیں ان کی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے ان پر حرام کی گئی تھیں، کچھ ان کے احبار و رہبان نے حرام کر دی تھیں۔ عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تمھارے ان اختلافات میں حق واضح کرنے کے لیے آیا ہوں، اس لیے تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
← پچھلی آیت (62) پوری سورۃ اگلی آیت (64) →