بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 73
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 73
آیت نمبر: 73 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
لَکُمۡ فِیۡہَا فَاکِہَۃٌ کَثِیۡرَۃٌ مِّنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۷۳﴾
تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاؤ گے"
یہاں تمہارے لیے بکثرت میوے ہیں جنہیں تم کھاتے رہو گے
تمہارے لیے اس میں بہت میوے ہیں کہ ان میں سے کھاؤ
تمہارے لئے اس میں بہت سے میوے ہیں جن سے تم کھاؤ گے۔
تمھارے لیے اس میں بہت سے میوے ہیں، جن سے تم کھاتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جنت کی نعمتیں ٭٭

چاروں طرف سے ان کے سامنے طرح طرح کے ملذذ مرغن خوش ذائقہ مرغوب کھانوں کی طشتریاں رکابیاں اور پیالیاں پیش ہوں گی اور چھلکتے ہوئے جام ہاتھوں میں لیے غلمان ادھر ادھر گردش کر رہے ہوں گے۔ «تَشْـتَهیْـهِ الْاَنْفُسُ» اور «تَشْتَهِی الْاَنْفُسُ» دونوں قرأتیں ہیں۔ یعنی انہیں مزیدار خوشبو والے اچھی رنگت والے من مانے کھانے پینے ملیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے نیچے درجے کا جنتی جو سب سے آخر میں جنت میں جائے گا اس کی نگاہ سو سال کے راستے تک جاتی ہو گی لیکن برابر وہاں تک اسے اپنے ہی ڈیرے اور محل سونے کے زمرد کے نظر آئیں گے جو تمام کے تمام قسم قسم اور رنگ برنگ کے سازو سامان سے پر ہوں گے صبح شام ستر ستر ہزار رکابیاں پیالے الگ الگ وضع کے کھانے سے پر اس کے سامنے رکھے جائیں گے جن میں سے ہر ایک اس کی خواہش کے مطابق ہو گا۔ اور اول سے آخر تک اس کے اشتہاء برابر اور یکساں رہے گی۔ اگر وہ روئے زمین والوں کی دعوت کر دے تو سب کو کفایت ہو جائے اور کچھ نہ گھٹے }۔ ۱؎ [تفسیر عبدالرزاق:2785:مرسل] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ { جنتی ایک لقمہ اٹھائے گا اور اس کے دل میں خیال آئے گا کہ فلاں قسم کا کھانا ہوتا تو اچھا ہوتا چنانچہ وہ نوالہ اس کے منہ میں وہ چیز بن جائے گا جس کی اس نے خواہش کی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی آیت کی تلاوت کی } }۔ ۱؎ [ضعیف] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے ادنیٰ مرتبے کے جنتی کے بالاخانے کی سات منزلیں ہوں گی یہ چھٹی منزل میں ہو گا اور اس کے اوپر ساتویں ہو گی اس کے تیس خادم ہوں گے جو صبح شام تین سو سونے کے برتنوں میں اس کے طعام و شراب پیش کریں گے ہر ایک میں الگ الگ قسم کا عجیب و غریب اور نہایت لذیز کھانا ہو گا اول سے آخر تک اسے کھانے کی اشتہاء ویسی ہی رہے گی۔ اسی طرح تین سو سونے کے پیالوں اور کٹوروں اور گلاسوں میں اسے پینے کی چیزیں دی جائیں گی۔ وہ بھی ایک سے ایک سوا ہو گی یہ کہے گا کہ اے اللہ اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام جنتیوں کی دعوت کروں۔ سب بھی اگر میرے ہاں کھا جائیں تو بھی میرے کھانے میں کمی نہیں آ سکتی اور اس کی بہتر بیویاں حور عین میں سے ہوں گی۔ اور دنیا کی بیویاں الگ ہوں گی۔ ان میں سے ایک ایک میل میل بھر کی جگہ میں بیٹھے گی پھر ساتھ ہی ان سے کہا جائے گا کہ یہ نعمتیں بھی ہمیشہ رہنے والی ہیں اور تم بھی یہاں ہمیشہ رہو گے۔ نہ موت آئے نہ گھاٹا آئے نہ جگہ بدلے نہ تکلیف پہنچے }۔ ۱؎ [مسند احمد:537/2:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر ان پر اپنا فضل و احسان بتایا جاتا ہے کہ ’ تمہارے اعمال کا بدلہ میں نے اپنی وسیع رحمت سے تمہیں یہ دیا ہے ‘۔ کیونکہ کوئی شخص بغیر رحمت اللہ کے صرف اپنے اعمال کی بناء پر جنت میں نہیں جا سکتا۔ البتہ جنت کے درجوں میں تفاوت جو ہو گا وہ نیک اعمال کے تفاوت کی وجہ سے ہو گا۔

ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { جہنمی اپنی جنت کی جگہ جہنم میں دیکھیں گے اور حسرت و افسوس سے کہیں گے «أَوْ تَقُولَ لَوْ أَنَّ اللَّـهَ هَدَانِي لَكُنتُ مِنَ الْمُتَّقِينَ» ۱؎ [39-الزمر:57] ‏‏‏‏ ’ اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی ہدایت کرتا تو میں بھی متقیوں میں ہو جاتا ‘۔ اور ہر ایک جنتی بھی اپنی جہنم کی جگہ جنت میں سے دیکھے گا اور اللہ کا شکر کرتے ہوئے کہے گا کہ «الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي هَدَانَا لِهَـٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِيَ لَوْلَا أَنْ هَدَانَا اللَّـهُ» ۱؎ [7-الأعراف:43] ‏‏‏‏ ’ ہم خود اپنے طور پر راہ راست کے حاصل کرنے پر قادر نہ تھے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے خود ہماری رہنمائی نہ کرتا ‘ }۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { ہر ہر شخص کی ایک جگہ جنت میں ہے اور ایک جگہ جہنم میں۔ پس کافر مومن کی جہنم کی جگہ کا وارث ہو گا۔ اور مومن کافر کی جنت کی جگہ کا وارث ہو گا } یہی فرمان باری ہے ’ اس جنت کے وارث تم بہ سبب اپنے اعمال کے بنائے گئے ہو ‘۔ کھانے پینے کے ذکر کے بعد اب میووں اور ترکاریوں کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ بھی بہ کثرت مرغوب طبع انہیں ملیں گی۔ جس قسم کی یہ چاہیں اور ان کی خواہش ہو ‘۔ غرض بھرپور نعمتوں کے ساتھ رب کے رضا مندی کے گھر میں ہمیشہ رہیں گے اللہ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 73){ لَكُمْ فِيْهَا فَاكِهَةٌ كَثِيْرَةٌ مِّنْهَا تَاْكُلُوْنَ:} انسان کی مطلوبہ چیزوں یعنی کھانے پینے، نکاح اور آرام و آسائش وغیرہ میں سب سے عام ضرورت اور طلب کھانے کی چیزوں کی ہوتی ہے، جن میں پھلوں کو خاص مقام حاصل ہے، کیونکہ لذت میں انھیں بہت برتری حاصل ہے۔ {” فَاكِهَةٌ “} کے لفظ ہی میں لذت کا مفہوم شامل ہے۔ دنیا میں فواکہ جتنے بھی ہوں کم ہیں، جبکہ آخرت میں مسلمانوں کے لیے فواکہ کثیر تعداد میں ہوں گے، جو اتنے وافر ہوں گے کہ وہ ان میں سے کچھ ہی کھا سکیں گے، یعنی {” مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ “} اور وہ کبھی ختم نہیں ہوں گے، فرمایا: «‏‏‏‏لَا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍ» ‏‏‏‏ [ الواقعۃ: ۳۳ ] ”جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہو گی۔“
← پچھلی آیت (72) پوری سورۃ اگلی آیت (74) →