بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 89
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 89
آیت نمبر: 89 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۸۹﴾
اچھا، اے نبیؐ، اِن سے درگزر کرو اور کہہ دو کہ سلام ہے تمہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
پس آپ ان سے منھ پھیر لیں اور کہہ دیں۔ (اچھا بھائی) سلام! انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہوجائے گا
تو ان سے درگزر کرو اور فرماؤ بس سلام ہے کہ آگے جان جائیں گے
(اے رسول(ص)) درگزر کرو۔اور کہو سلام ہو (خداحافظ) عنقریب انہیں (اپنا انجام) معلوم ہو جائے گا۔
پس ان سے درگزر کر اورکہہ سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مشرکین کی کم عقلی ٭٭

پھر فرماتا ہے کہ ’ ان سے اگر تو پوچھے کہ ان کا خالق کون ہے؟ تو یہ اقرار کریں گے کہ اللہ ہی ہے ‘۔ افسوس کہ خالق اسی ایک کو مان کر پھر عبادت دوسروں کی بھی کرتے ہیں جو محض مجبور اور بالکل بے قدرت ہیں اور کبھی اپنی عقل کو کام میں نہیں لاتے کہ جب پیدا اسی ایک نے کیا تو ہم دوسرے کی عبادت کیوں کریں؟ جہالت و خباثت کند ذہنی اور بیوقوفی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ایسی سیدھی سی بات مرتے دم تک سمجھ نہ آئی۔ بلکہ سمجھانے سے بھی نہ سمجھا۔ اسی لیے تعجب سے ارشاد ہوا کہ ’ اتنا مانتے ہوئے پھر کیوں اندھے ہو جاتے ہو؟ ‘ پھر ارشاد ہے کہ ’ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ کہنا کہا ‘، یعنی اپنے رب کی طرف شکایت کی اور اپنی قوم کی تکذیب کا بیان کیا کہ یہ ایمان قبول نہیں کرتے۔

جیسے اور آیت میں ہے «وَقَال الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [25-الفرقان:30] ‏‏‏‏ یعنی ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شکایت اللہ کے سامنے ہو گی کہ میری امت نے اس قران کو چھوڑ رکھا تھا ‘۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی یہی تفسیر بیان کرتے ہیں۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت «وَقَالَ الرَّسُوْلُ يَا رَبِّ هَؤُلَاءِ» الخ ہے۔ اس کی ایک توجیہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ آیت «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:80] ‏‏‏‏ پر معطوف ہے دوسرے یہ کہ یہاں فعل مقدر مانا جائے یعنی «قَالَ» کو مقدر مانا جائے۔ دوسری قرأت یعنی لام کے زیر کے ساتھ جب ہو تو یہ عجب ہو گا آیت «وَعِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَاِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ۱؎ [43-الزخرف:85] ‏‏‏‏ پر تو تقدیر یوں ہو گی کہ ’ قیامت کا علم اور اس قول کا علم اس کے پاس ہے ‘۔ ختم سورۃ پر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ مشرکین سے منہ موڑ لے اور ان کی بد زبانی کا بد کالمی سے جواب نہ دو بلکہ ان کے دل پر چانے کی خاطر قول میں اور فعل میں دونوں میں نرمی برتو کہہ دو کہ سلام ہے۔ انہیں ابھی حقیقت حال معلوم ہو جائے گی ‘۔ اس میں رب قدوس کی طرف سے مشرکین کو بڑی دھمکی ہے اور یہی ہو کر بھی رہا کہ ان پر وہ عذاب آیا جو ان سے ٹل نہ سکا حق جل و علا نے اپنے دین کو بلند و بالا کیا اپنے کلمہ کو چاروں طرف پھیلا دیا اپنے موحد مومن اور مسلم بندوں کو قوی کر دیا اور پھر انہیں جہاد کے اور جلا وطن کرنے کے احکام دے کر اس طرح دنیا میں غالب کر دیا اللہ کے دین میں بےشمار آدمی داخل ہوئے اور مشرق و مغرب میں اسلام پھیل گیا «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

📖 احسن البیان

89۔ 1 یعنی دین کے معاملے میں میری اور تمہاری راہ الگ الگ ہے، تم اگر باز نہیں آتے تو اپنا عمل کئے جاؤ، میں اپنا کام کئے جا رہا ہوں، عنقریب معلوم ہوجائے گا سچا کون ہے اور جھوٹا کون؟

📖 القرآن الکریم

(آیت 89) {فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ …:} یعنی آپ کی فریاد ہم نے سن لی، اب ہم جانیں اور وہ، آپ ان سے درگزر کریں اور ان سے براء ت اور قطع تعلق کے اظہار کے لیے کہہ دیں کہ سلام ہے۔ چنانچہ وہ بہت جلد جان لیں گے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔
← پچھلی آیت (88) پوری سورۃ اگلی آیت →