بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الزخرف — Surah Zukhruf
آیت نمبر 77
کل آیات: 89
قرآن کریم الزخرف آیت 77
آیت نمبر: 77 — سورۃ الزخرف islamicurdubooks.com ↗
وَ نَادَوۡا یٰمٰلِکُ لِیَقۡضِ عَلَیۡنَا رَبُّکَ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ مّٰکِثُوۡنَ ﴿۷۷﴾
وہ پکاریں گے، "اے مالک، تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے" وہ جواب دے گا، "تم یوں ہی پڑے رہو گے
اور پکار پکار کر کہیں گے کہ اے مالک! تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کردے، وه کہے گا کہ تمہیں تو (ہمیشہ) رہنا ہے
اور وہ پکاریں گے اے مالک تیرا رب ہمیں تمام کرچکے وہ فرمائے گا تمہیں تو ٹھہرنا
اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک! تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے (تو بہتر) وہ کہے گا کہ تم یوں ہی پڑے رہو گے۔
اور وہ پکاریں گے اے مالک! تیرا رب ہمارا کام تمام ہی کردے۔ وہ کہے گا بے شک تم (یہیں) ٹھہرنے والے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دوزخ اور دوزخیوں کی درگت ٭٭

اوپر چونکہ نیک لوگوں کا حال بیان ہوا تھا اس لیے یہاں بدبختوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ یہ گنہگار جہنم کے عذابوں میں ہمیشہ رہیں گے ایک ساعت بھی انہیں ان عذابوں میں تخفیف نہ ہو گی اور اس میں وہ ناامید محض ہو کر پڑے رہیں گے ہر بھلائی سے وہ مایوس ہو جائیں گے ہم ظلم کرنے والے نہیں بلکہ انہوں نے خود اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے اپنی جان پر آپ ہی ظلم کیا ہم نے رسول بھیجے کتابیں نازل فرمائیں حجت قائم کر دی لیکن یہ اپنی سرکشی سے عصیان سے طغیان سے باز نہ آئے اس پر یہ بدلہ پایا اس میں اللہ کا کوئی ظلم نہیں اور نہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرتا ہے یہ جہنمی مالک کو یعنی داروغہ جہنم کو پکاریں گے ‘۔

صحیح بخاری میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا: { یہ موت کی آرزو کریں گے تاکہ عذاب سے چھوٹ جائیں لیکن اللہ کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ «وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُم مِّنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ» ‏‏‏‏ ۱؎ [35-فاطر:36] ‏‏‏‏ یعنی ’ نہ تو انہیں موت آئے گی اور نہ عذاب کی تخفیف ہو گی‘۔ اور فرمان باری ہے آیت «وَيَتَجَنَّبُهَا الْأَشْقَى الَّذِي يَصْلَى النَّارَ الْكُبْرَىٰ ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [87-الأعلى:-13-11] ‏‏‏‏ یعنی ’ وہ بدبخت اس نصیحت سے علیحدہ ہو جائے گا جو بڑی سخت آگ میں پڑے گا پھر وہاں نہ مرے گا اور نہ جئے گا ‘ }۔ پس جب یہ داروغہ جہنم سے نہایت لجاجت سے کہیں گے کہ آپ ہماری موت کی دعا اللہ سے کیجئے تو وہ جواب دے گا کہ تم اسی میں پڑے رہنے والے ہو مرو گے نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مکث ایک ہزار سال ہے۔ یعنی ’ نہ مرو گے نہ چھٹکارا پاؤ گے نہ بھاگ سکو گے ‘۔ پھر ان کی سیاہ کاری کا بیان ہو رہا ہے کہ ’ جب ہم نے ان کے سامنے حق کو پیش کر دیا واضح کر دیا تو انہوں نے اسے ماننا تو ایک طرف اس سے نفرت کی۔ ان کی طبیعت ہی اس طرف مائل نہ ہوئی حق اور حق والوں سے نفرت کرتے رہے اس سے رکتے رہے ہاں ناحق کی طرف مائل رہے ناحق والوں سے ان کی خوب بنتی رہی۔ پس تم اپنے نفس کو یہی ملامت کرو اور اپنے ہی اوپر افسوس کرو لیکن آج کا افسوس بھی بے فائدہ ہے ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ انہوں نے بدترین مکر اور زبردست داؤ کھیلنا چاہا تو ہم نے بھی ان کے ساتھ یہی کیا ‘۔ مجاہد رحمہ اللہ کی یہی تفسیر ہے اور اس کی شہادت اس آیت میں ہے «وَمَكَرُوْا مَكْرًا وَّمَكَرْنَا مَكْرًا وَّهُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ» [ 27- النمل: 50 ] ‏‏‏‏ یعنی ’ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے بھی اس طرح مکر کیا کہ انہیں پتہ بھی نہ چلا ‘۔ مشرکین حق کو ٹالنے کے لیے طرح طرح کی حیلہ سازی کرتے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انہیں دھوکے میں ہی رکھا اور ان کا وبال جب تک ان کے سروں پر نہ آ گیا اور ان کی آنکھیں نہ کھلیں۔ اسی لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ ’ کیا ان کا گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور خفیہ سرگوشیاں سن نہیں رہے؟ ان کا گمان بالکل غلط ہے ہم تو ان کی سرشت تک سے واقف ہیں بلکہ ہمارے مقرر کردہ فرشتے بھی ان کے پاس بلکہ ان کے ساتھ ہیں جو نہ صرف دیکھ ہی رہے ہیں بلکہ لکھ بھی رہے ہیں ‘۔

📖 احسن البیان

77۔ 1 مالک، دروغہ جہنم کا نام ہے۔ 77۔ 2 یعنی ہمیں موت ہی دے دے تاکہ عذاب سے جان چھوٹ جائے۔ 77۔ 3 یعنی وہاں موت کہاں؟ لیکن یہ عذاب کی زندگی موت سے بھی بدتر ہوگی، تاہم اس کے بغیر بھی چارہ نہیں ہوگا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 77) {وَ نَادَوْا يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ …: ” قَضٰي عَلَيْهِ “} کا معنی کام تمام کرنا، یعنی موت دے دینا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ» [ القصص: ۱۵ ] ”تو موسیٰ نے اسے گھونسا مارا تو اس کا کام تمام کر دیا۔“ {”مالك“} جہنم کے خازن (دربان) فرشتے کا نام ہے۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث میں ہے کہ خواب میں جبریل اور میکائیل علیھما السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کروایا اور بعد میں ان کی حقیقت بیان کی۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلٰی رَجُلٍ كَرِيْهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلاً مَرْآةً، فَإِذَا عِنْدَهُ نَارٌ يَحُشُّهَا وَيَسْعٰي حَوْلَهَا، قَالَ قُلْتُ لَهُمَا مَا هٰذَا؟ ] ”پھر ہم آگے بڑھے تو ایک آدمی کے پاس پہنچے جو دیکھنے میں بہت بد صورت تھا، اتنا جتنا کہ کوئی دیکھنے میں زیادہ سے زیادہ بدصورت ہو سکتا ہے۔ اس کے پاس آگ ہے، وہ اسے بھڑکا رہا ہے اور اس کے اردگرد دوڑ رہا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ حدیث کے آخر میں جب فرشتے نے سب چیزوں کے متعلق بتایا تو کہا: [ وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيْهُ الْمَرْآةِ الَّذِيْ عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا وَيَسْعٰی حَوْلَهَا فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ ] [ بخاري، التعبیر، باب تعبیر الرؤیا بعد صلاۃ الصبح: ۷۰۴۷ ] ”آگ کے پاس دیکھنے میں جو بدصورت آدمی تم نے دیکھا جو اسے بھڑکا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑ رہا تھا وہ جہنم کا خازن مالک ہے۔“ کفار جہنم کے فرشتوں کو اللہ سے ان کے عذاب میں کچھ نہ کچھ تخفیف کرنے کی دعا کے لیے کہیں گے۔ جب اس سے ناامید ہوں گے تو جہنم کے خازن مالک کو آواز دیں گے کہ اپنے رب سے دعا کر کہ ہمیں موت دے دے۔ وہ کہے گا، تم یہیں رہنے والے ہو۔ غرض وہ اس عذاب سے کسی طرح نجات نہیں پائیں گے۔ دوسری جگہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضٰى عَلَيْهِمْ فَيَمُوْتُوْا وَ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِّنْ عَذَابِهَا كَذٰلِكَ نَجْزِيْ كُلَّ كَفُوْرٍ» [ فاطر: ۳۶ ] ”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، نہ ان کا کام تمام کیا جائے گا کہ وہ مر جائیں اور نہ ان سے اس کا کچھ عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ایسے ہی ہر ناشکرے کو بدلا دیا کرتے ہیں۔“
← پچھلی آیت (76) پوری سورۃ اگلی آیت (78) →